Al-Ghaafir 40:5

Al-Ghaafir · from ayah 5

40:5

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّالْاَحْزَابُ مِنْ بَعْدِهِمْ ۪— وَهَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَجٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ ۫— فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ ۟كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡۖ وَهَمَّتۡ كُلُّ اُمَّةٍۢ بِرَسُوۡلِهِمۡ لِيَاۡخُذُوۡهُ ؕ وَجَادَلُوۡا بِالۡبَاطِلِ لِيُدۡحِضُوۡا بِهِ الۡحَقَّ فَاَخَذۡتُهُمۡ فَكَيۡفَ كَانَ عِقَابِ

ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد اور اُمتوں نے بھی (پیغمبروں کی) تکذیب کی۔ اور ہر اُمت نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہی قصد کیا کہ اس کو پکڑ لیں اور بیہودہ (شہبات سے) جھگڑتے رہے کہ اس سے حق کو زائل کردیں تو میں نے ان کو پکڑ لیا (سو دیکھ لو) میرا عذاب کیسا ہوا

— Fateh Muhammad Jalandhari

The people of Noah denied before them and the [disbelieving] factions after them, and every nation intended [a plot] for their messenger to seize him, and they disputed by [using] falsehood to [attempt to] invalidate thereby the truth. So I seized them, and how [terrible] was My penalty.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:5

اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم بھی جھٹلا چکی ہے، اور اُس کے بعد بہت سے دوسرے جتھوں نے بھی یہ کام کیا ہے ہر قوم اپنے رسول پر جھپٹی تاکہ اُسے گرفتار کرے اُن سب نے باطل کے ہتھیاروں سے حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کی مگر آخر کار میں نے ان کو پکڑ لیا، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد اور اُمتوں نے بھی (پیغمبروں کی) تکذیب کی۔ اور ہر اُمت نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہی قصد کیا کہ اس کو پکڑ لیں اور بیہودہ (شہبات سے) جھگڑتے رہے کہ اس سے حق کو زائل کردیں تو میں نے ان کو پکڑ لیا (سو دیکھ لو) میرا عذاب کیسا ہوا

— مولانا فتح محمد جالندہری

قوم نوح نے اور ان کے بعد کے گروہوں نے بھی جھٹلایا تھا۔ اور ہر امت نے اپنے رسول کو گرفتار کر لینے کا اراده کیا اور باطل کے ذریعہ کج بحثیاں کیں، تاکہ ان سے حق کو بگاڑ دیں پس میں نے ان کو پکڑ لیا، سو میری طرف سے کیسی سزا ہوئی

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد بہت سے گروہوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا اور ہر قوم نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہ ارادہ کیا تھا کہ انہیں گرفتار کرلے، اور انہوں نے باطل کا سہارا لے کر جھگڑے کیے تھے تاکہ اس کے ذریعے حق کو مٹا دیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے ان کو پکڑ میں لے لیا۔ اب (دیکھ لو کہ) میری سزا کسی (سخت) تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد کے گروہوں نے جھٹلایا، اور ہر امت نے یہ قصد کیا کہ اپنے رسول کو پکڑ لیں اور باطل کے ساتھ جھگڑے کہ اس سے حق کو ٹال دیں تو میں نے انہیں پکڑا، پھر کیسا ہوا میرا عذاب

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اِن سے پہلے قومِ نوح نے اور اُن کے بعد (اور) بہت سی امتّوں نے (اپنے رسولوں کو) جھٹلایا اور ہر امّت نے اپنے رسول کے بارے میں ارادہ کیا کہ اسے پکڑ (کر قتل کر دیں یا قید کر) لیں اور بے بنیاد باتوں کے ذریعے جھگڑا کیا تاکہ اس (جھگڑے) کے ذریعے حق (کا اثر) زائل کر دیں سو میں نے انہیں (عذاب میں) پکڑ لیا، پس (میرا) عذاب کیسا تھا؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور ان کے بعد بھی کئی جماعتوں نے اور ہر امت نے اپنے رسول کے متعلق ارادہ کیا کہ اسے گرفتار کرلیں اور انھوں نے باطل کے ساتھ جھگڑا کیا، تاکہ اس کے ذریعے حق کو پھسلا دیں، تو میں نے انھیں پکڑ لیا، پھر میری سزا کیسی تھی ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان سے پہلے قوم نوح اور (رسولوں کے مخالف) کئی جتھوں نے انہیں جھٹلایا اور ہر قوم نے اپنے رسول کو گرفتار کرنے کا ارادہ کیا اور باطل کے ساتھ جھگڑا کیا تاکہ باطل سے حق کو شکست دے سکیں، پھر میں نے انہیں پکڑ لیا تو دیکھ لو میری سزا کیسی تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے پہلے نوح کی قوم نے تکذیب کی اور ان کے بعد کے گروہوں نے بھی اور ہر امت نے اپنے رسول پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کیا اور باطل کے ذریعہ سے کج بحثیاں کیں تاکہ اس سے حق کو پسپا کردیں تو میں نے ان کو دھر لیا تو دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان سے پہلے قوم نوح نے بھی جھٹلایا (حق اور حقیقت کو) اور ان کے بعد کی کئی جماعتوں نے بھی ہر امت نے اپنے پیغمبر کو پکڑنے (اور قتل کر ڈالنے تک کا خبیث) ارادہ کیا اور انہوں نے باطل (کے طرح طرح ہتھیاروں) سے کام لیا تاکہ اس طرح وہ نیچا دکھا سکیں حق کو آخرکار میں نے پکڑا ان سب کو (اس عذاب میں جس کا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو بنا لیا تھا) سو (دیکھ لو) کیسا تھا میرا عذاب ؟

— مولانا اسحاق مدنی

ان سے قبل قوم نوح تکذیب کرچکی ہے اور ان کے بعد کے گروہ بھی اور ہر امت نے اپنے پیغمبر کے گرفتار کرنے کا قصد کیا اور ناحق کے جھگڑے نکالے تاکہ اس ناحق سے حق کو دبالیں سو میں نے ان کی گرفت کی سو میری طرف سے انہیں کیسی سزا ملی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان سے پہلے نوح ؑ کی قوم نے جھٹلایا تھا اور ان کے بعد بہت سی دوسری قوموں نے بھی اور ہر قوم نے اپنے رسول کے متعلق ارادہ کیا کہ اسے پکڑ لے (اور قتل کر دے اور وہ باطل (دلیلوں) کے ساتھ جھگڑتے رہے تاکہ اس کے ذریعے حق کو پسپا کردیں بالآخر میں نے انہیں پکڑ لیا تو کیسی رہی میری سزا ؟)

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد اور امتوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی اور ہر امت نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہی ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لیں اور فضول شبہات سے جھگڑتے رہیں تاکہ اس سے حق کو مٹا دیں تو میں نے ان کو پکڑ لیا سو دیکھ لو میرا عذاب کیسا ہوا ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Before them the people of Noah also gave the lie (to Messengers), and so did many parties after them. Each nation sallied forth against its Messenger to seize him, and they disputed with false arguments seeking therewith to repudiate the Truth. Then I seized them; and behold, how woeful was My retribution!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Before these, the people of NuH and the groups after them had rejected (the messengers). Every group intended to seize their messenger, and raised disputes on the basis of falsehood, so that they might refute the truth with it, hence I seized them. So, how was My punishment?

— Muhammad Taqi Usmani

Before these, the people of NuH and the groups after them had rejected (the messengers). Every group intended to seize their messenger, and raised disputes on the basis of falsehood, so that they might refute the truth with it, hence I seized them. So, how was My punishment?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The people of Nuh and the groups after them denied before these; and every nation plotted against their Messenger to seize him, and disputed by means of falsehood to refute therewith the truth. So I seized them, and how was My punishment!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The folk of Noah and the factions after them denied (their messengers) before these, and every nation purposed to seize their messenger and argued falsely, (thinking) thereby to refute the Truth. Then I seized them, and how (awful) was My punishment.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The people of Noah denied before them and the [disbelieving] factions after them, and every nation intended [a plot] for their messenger to seize him, and they disputed by [using] falsehood to [attempt to] invalidate thereby the truth. So I seized them, and how [terrible] was My penalty.

— Saheeh International

The people of Noah who lived before and the Confederate tribes who lived after them rejected Our revelations. Every nation schemed against its Messengers to seize them and disputed against them to defeat the truth. But torment struck them and how terrible was their retribution!

— Muhammad Sarwar

The people of Nuh and the parties after them rejected (prophets) before them, and every nation purposed against their apostle to destroy him, and they disputed by means of the falsehood that they might thereby render null the truth, therefore I destroyed them; how was then My retribution!

— Muhammad Habib Shakir

The people of Nuh and the confederates after them belied their apostles before these, and each disbelieving community advanced toward their apostle that they may lay hold of him and disputed with vain speech that they may confute the truth thereby. Wherefore I laid hold of them; and how terrible was My chastisement!

— Abdul Majid Daryabadi

But (there were people) before them, who denied (the Signs),- the People of Noah, and the Confederates (of Evil) after them; and every People plotted against their prophet, to seize him, and disputed by means of vanities, therewith to condemn the Truth; but it was I that seized them! and how (terrible) was My Requital!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–6

انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حق کے ظاہر ہوچکنے کے بعد اسے نہ ماننا اور اس میں نقصانات پیدا کرنے کی کوشش کرنا کافروں کا ہی کام ہے۔ یہ لوگ اگر مال دار اور ذی عزت ہوں تو تم کسی دھوکے میں نہ پڑجانا کہ اگر یہ اللہ کے نزدیک برے ہوتے تو اللہ انہیں اپنی یہ نعمتیں کیوں عطا فرماتا ؟ جیسے اور جگہ ہے کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے یہ تو کچھ یونہی سا فائدہ ہے آخری انجام تو ان کا جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے ہم انہیں بہت کم فائدہ دے رہے ہیں بالآخر انہیں سخت عذاب کی طرف بےبس کردیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 5–6

سورة الْمُؤْمِن 5 یعنی دنیا میں جو عذاب ان پر آیا وہ ان کی آخری سزا نہ تھی بلکہ اللہ نے یہ فیصلہ بھی ان کے حق میں کردیا ہے کہ ان کو واصل بجہنم ہونا ہے۔ ایک دوسرا مطلب اس آیت کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح پچھلی قوموں کی شامت آچکی ہے اسی طرح اب جو لوگ کفر کر رہے ہیں ان کے حق میں بھی اللہ کا یہ فیصلہ طے شدہ ہے کہ واصل بجہنم ہونے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–6

(آیت) مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔ اس آیت نے جدال فی القرآن کو کفر قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان جدالاً فی القرآن کفر یعنی بعض جدال قرآن میں کفر ہوتے ہیں (رواہ البغوی والبیہقی فی الشعب عن ابی ہریرة ورواہ ابو داؤد والحاکم وصححہ، مظہری) اور حدیث میں ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے دو شخصوں کی آواز سنی جو کسی آیت قرآن کے متعلق جھگڑ رہے تھے، آپ غضبناک ہو کر باہر تشریف لائے کہ آپ کے چہرہ مبارک سے غصہ کے آثار محسوس ہو رہے تھے اور فرمایا کہ تم سے پہلی امتیں اسی سے ہلاک ہوئیں کہ وہ اللہ کی کتاب میں جدال کرنے لگی تھیں (رواہ مسلم عن عبداللہ بن عمرو بن شعیب۔…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

کذبت قبلھم قوم نوح والاحزاب من بعدھم وھمت کل امۃ، برسولھم لیاخذوہ و جادلوا بالباطل لیدحضوا بہ الحق فاخذتھم قف فکیف کان عقاب (5) مذکورہ وعدے پر تاریخ سے دلیل یہ اوپر والی بات ’ فلا یغدرک تقلبھم فی البلاد ‘ کی دلیل تاریخ سے پیش کی گئی ہے کہ ان سے (قریش سے) پہلے قوم نوح اور ان کے بعد آنے والی قوموں (اشارہ عاد و ثمور وغیرہ کی طرف ہے) نے بھی اسی طرح اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور ہر قوم نے اپنے رسول کو پکڑ لینا چاہا اور اپنی کٹ حجتیوں سے اس کے حق کو پسپا کرنے کی کوشش کی لیکن قبل اس کے کہ وہ رسول پر ہاتھ ڈالیں اللہ نے انہیں کو پکڑ لیا، پھر دیکھو کہ خدا نے ان کے عمل کی پاداش میں ان کو کیسا سخت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 تاکہ اسے قید یا قتل کردیں یا سزا دیں۔ 5۔ 2 یعنی اپنے رسولوں سے انہوں نے جھگڑا کیا، جس سے مقصود حق بات میں کیڑے نکالنا اور اسے کمزور کرنا تھا۔ 5۔ 3 چناچہ میں نے ان حامیان باطل کو اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس تم دیکھ لو ان کے حق میں میرا عذاب کس طرح آیا اور کیسے انہیں حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا یا انہیں نشان عبرت بنادیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–8

1: یعنی کافر لوگ اپنے کفر کے باوجود جس طرح خوش حال نظر آتے ہیں، اس سے کسی کو یہ دھوکا نہ ہو کہ انہیں اپنے کیے کی سزا نہیں ملے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–6

آیت نمبر 4 تا 6 اس فیصلے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی صفات رکھتا ہے اور وہ وحدہ لاشریک ہے ، اب یہ کہا جاتا ہے کہ یہ حقائق ، اس کائنات کی ہر چیز کی طرف سے مسلم ہیں کیونکہ اس کائنات کی فطرت ان حقائق کے ساتھ مربوط ہے اور یہ تعلق براہ راست ہے جس میں تنازعہ اور کوئی مجادلہ نہیں ہے۔ یہ پوری کائنات بڑے اطمینان سے آیات الہیہ کو تسلیم کرتی ہے ، اللہ کی وحدانیت پر شاہد عادل ہے ۔ اور اس میں مجادلہ وہی لوگ کرتے ہیں جو کفر پر تلے ہوئے ہیں اور یہ لوگ اس کائنات سے منحرف ہیں۔ مایجادل۔۔۔۔ کفروا (40: 4) ” اللہ کی آیات میں جھگڑے نہیں کرتے مگر وہی لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے “۔” یہی لوگ “ یعنی اس کائنات میں سے وہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی ہر ایک امت کے شریروں نے اپنے پیغمبر کو پکڑ کر قتل کرنے یا ستانے کا ارادہ کیا اور چاہا کہ جھوٹے ڈھکوسلے کھڑے کر کے سچے دین کو شکست دیں، اور حق کی آواز کو بھرنے نہ دیں، لیکن ہم نے ان کا داؤ چلنے نہ دیا اور اس کے بجائے کہ وہ پیغمبروں کو پکڑتے ہم نے ان کو پکڑ کر سخت سزائیں دیں، پھر دیکھ لو ہماری سزا کیسی ہوئی کہ ان کی بیخ و بنیاد باقی نہ چھوڑی۔ آج بھی ان تباہ شدہ قوموں کے کچھ آثار کہیں کہیں موجود ہیں، ان ہی کو دیکھ کر انسان ان کی تباہی کا تصور کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5 { کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّالْاَحْزَابُ مِنْم بَعْدِہِمْ } ”ان سے پہلے نوح علیہ السلام کی قوم نے جھٹلایا تھا اور ان کے بعد بہت سی دوسری قوموں نے بھی۔“ { وَہَمَّتْ کُلُّ اُمَّۃٍم بِرَسُوْلِہِمْ لِیَاْخُذُوْہُ } ”اور ہر قوم نے اپنے رسول کے متعلق ارادہ کیا کہ اسے پکڑ لے اور قتل کر دے“ { وَجٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِہِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُہُمْ قف فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِ } ”اور وہ باطل دلیلوں کے ساتھ جھگڑتے رہے تاکہ اس کے ذریعے حق کو پسپا کردیں ‘ بالآخر میں نے انہیں پکڑ لیا ‘ تو کیسی رہی میری سزا ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 حزب کا مفہوم : احزاب، حزب کی جمع ہے اور ان سے مرادایسی جماعتیں، گروہ یا پارٹیاں ہیں جن میں سختی اور شدت پائی جائے۔ وہ آپس میں ہم خیال ہوں اور ان کا مقصد اقتدار میں عمل دخل حاصل کرنا ہو۔ یا اس سے چمٹے رہنا ہو اور اس سے مرادوہ اقوام سابقہ ہیں جن پر رسولوں کی دعوت کو جھٹلانے کی بنا پر اللہ کا عذاب آیا تھا۔ 4 انبیاء کی مخالفت کرنے والی قوموں کا انجام تاریخی شواہد کی روشنی میں :۔ یہ کفار مکہ اس لئے اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے کہ ان سے پہلے کئی قومیں ان جیسی گزر چکی ہیں۔ مثلاً قوم نوح اور اس کے بعد قوم عاد، قوم ثمود، قوم ابراہیم، اور قوم لوط اور آل فرعون وغیرہ۔ یہ سب لوگ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ (سو یہ ساری پچھلی تاریخ انبیاء عبرت اور سبق حاصل کرنے کے لیے ہے) (آیت) ” وھمت ...... لیاخذوہ “۔ یعنی ہر قوم نے یہی چاہا کہ اپنے پیغمبر کو پکڑ کر قید یا قتل یا جلاوطن کردے۔ (آیت) ” امۃ “۔ امت سے یہاں ظاہر ہے کہ منکرین امت مراد ہیں۔ (آیت) ” الاحزاب من بعدھم “۔ مراد منکرین کے وہ گروہ اور جتھے ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے کے بعد گزرے ہیں۔ قوم عاد، قوم ثمود وغیرہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، حٰمٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے ؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ کتاب قرآن اس اللہ کی جانب سے نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب ہے اور اپنی مخلوق سے واقف ہے تَنزِیلُ الکتابِ مبتداء ہے، مِنَ اللہِ خبر، مومنوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ان کی توبہ کو قبول کرنے والا التوب مصدر ہے، کافروں پر سخت عذاب والا ہے شدیدٌ بمعنی مُشدِّدٌ ہے، بڑے وسیع انعام والا ہے، وہ ان صفات کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے، لہٰذا ان صفات (ثلٰثہ) مشتقات کی اضافت تعریف کے لئے ہوگی، جیسا کہ آخری صفت (ذی الطول) میں (ہے) جس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کذبت قبلھم قوم نوح والاحزاب من بعدھم وھمت کل امۃ برسولھم لیاخذوہ وجدلوا بالباطل لید حضوا بہ الحق فاخذتھم فکیف کان عقاب ان سے پہلے قوم نوح نے اور ان کے بعد دوسرے گروہوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا ‘ اور ہر امت (کے کافروں) نے (اپنے) پیغمبر کو گرفتار کرنے کا ارادہ کیا تھا اور ناحق جھگڑے برپا کئے تاکہ اس ناحق سے حق کو باطل کردیں۔ آخر میں نے ان کو دھر پکڑا (سو دیکھ لو) میری طرف سے (ان کو) کیسی سزا ہوئی۔ وَالْاَحْزَابُ مِنْم بَعْدِھِمْ یعنی قوم نوح کے بعد وہ کافر امتیں جو پیغمبروں کے خلاف جتھا بند ہوگئیں اور مقابلہ پر آگئیں ‘ جیسے قوم عاد وثمود۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے نوح کی بھی تکذیب کی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور آپ کی قوم سے پہلے حضرت نوح کی قوم نے نوح ؑ کو اور اسی طرح ان کافروں نے جو کہ قوم نوح کے بعد ہوئے انبیاء کرام کو جھٹلایا تھا جبکہ آپ کی قوم آپ کو جھٹلا رہی ہے۔ اور ہر ایک قوم نے اپنے رسول کو قتل کرنے کی سکیم بنائی تھی اور شرک کے ساتھ رسولوں سے جھگڑے کیے تاکہ شرک کے ذریعے سے اس حق بات کو جس کو انبیاء کرام لے کر آئے ہیں جھوٹ کردیں تو میں نے اس تکذیب کے وقت ان کی پکڑ کی۔ سو اے نبی کریم آپ دیکھیے کہ تکذیب کے وقت میری طرف سے ان کو کیسی سزا ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) کذبت قبلھم قوم نوح …”الاحزاب“ (حزب“ کی جمع ہے، وہ جماعت جو اپنے عقیدے، عمل اور عادت میں ایک جیسی ہو۔ پچھلی آیت کے ساتھ اس کا تعلق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو رد کرنے کے لئے جو لوگ بھی جھگڑ رہے ہیں انہیں پہلی قوموں کا انجام یاد رکھنا چاہیے۔ ان سے پہلے نوح ؑ کی قوم نے اور ان کے بعد عقیدہ، عمل اور عادات میں ان کے ساتھ شامل بہت سی قوموں نے اپنے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ مثلاً عاد، ثمود، اصحاب الایکہ، قوم لوط اور آل فرعون وغیرہ یہ تمام اقوام اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے، آخرت کا انکار کرنے اور اپنے نبی کو جھٹلانے میں ایک جیسی تھیں۔ (2) وھمت کل امۃ برسولھم لیاخذوہ : یعنی ہر امت نے صرف…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 5–9

( کذبت قبلھم قوم نوح۔۔۔۔۔ ) کذبت قبلھم قوم نوح جماعت کے مونث ہونے کے اعتبار سے فعل مونث ذکر کیا یعنی کذبت الرسل۔ والا حزاب من بعدھم یعنی وہ قومیں جنہوں نے انبیاء کو جھٹلانے میں اجتماعیت کو اپنایا جس طرح قوم عاد اور قوم شمود اور ان کے بعد جو قومیں ہوئیں۔ لیا خذوہٗ یعنی نبی کو محسوس کردیں اور اسے اذیتیں دیں۔ قتادہ اور سدی نے کہا : وہ اسے قتل کردیں (1) اخذ کا لفظ ہلاک کرنے کے معنی میں آتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” ثم اخذ تھم فکیف کان نکیر۔ “ ( الحج) عرب اسیر کو اخیذ کہتے ہیں کیونکہ وہ قتل کے لیے ماسور ہوتا ہے۔ قطرب نے ایک شاعر کا یہ شعر پڑھا : فاما تاخذونی تقتلون فکم من اخذ یھوی خلودی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–6

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابوبالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مایجادل فی ایت اللہ الا الذین کفروا “ اللہ کی آیات میں جھگڑا نہیں کرتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں) اور (یہ آیت حرث بن قیس سلمی کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابو جہیم ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے دو آدمیوں نے ایک آیت کے بارے میں جھگڑا کیا ان میں سے ایک نے کہا میں نے اسے رسول اللہ ﷺ کی زبان سے سیکھا ہے۔ اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ [ جھٹلایا ان سے پہلے ] قَوْمُ نُوْحٍ [ نوح کی قوم نے ] وَّالْاَحْزَابُ [ اور مضبوط جتھوں نے ] مِنْۢ بَعْدِهِمْ ۠ [ ان کے بعد سے ] وَهَمَّتْ [ اور ارادہ کیا ] كُلُّ اُمَّةٍۢ [ ہر ایک امت نے ] بِرَسُوْلِهِمْ [ اپنے رسول کے بارے میں ] لِيَاْخُذُوْهُ [ کہ وہ پکڑیں اس (رسول ) کو ] وَجٰدَلُوْا [ اور کٹ حجتی کریں ] بِالْبَاطِلِ [ باطل کے ذریعہ ] لِيُدْحِضُوْا بِهِ [ تاکہ وہ رد کریں اس سے ] الْحَقَّ [ حق کو ] فَاَخَذْتُهُمْ ۣ [ تو میں نے پکڑا ان لوگوں کو ] فَكَيْفَ كَانَ [ تو کیسا تھا ] عِقَابِ [ میرا سزادینا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–6

کافر لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں، شہروں میں ان کا چلنا پھرنا دھوکہ میں نہ ڈالے، سابقہ امتوں اور جماعتوں نے جھٹلایا جس کی وجہ سے ان کی گرفت کرلی گئی قرآن مجید کی آیات نازل ہوتی تھیں تو جو لوگ ایمان نہیں لاتے تھے اور اپنے کفر پر جمے رہتے تھے ان آیات کے بارے میں یہ لوگ طرح طرح کی باتیں نکالتے تھے اور جھگڑے کی باتیں کرتے تھے ان لوگوں کی باتوں سے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچتی تھی یہ لوگ دنیاوی اعتبار سے کھاتے پیتے اور مالدار تھے ان کے پاس سواریاں بھی تھیں اس شہر سے دوسرے شہر میں جاتے تھے اور زمین میں گھومتے پھرتے تھے، جو لوگ آپ کے ساتھی تھے ان کو خیال ہوسکتا تھا کہ ہم اہل ایمان ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6:۔ ” کذبت الخ “ یہ اصلاح منکرین کا دوسرا طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ جدال کی وجہ سے ہمیشہ معاندین کو دنیا ہی میں عذاب دیتا رہا ہے مثلاً قوم نوح اور اس کے بعد دوسری قومیں جنہوں نے حق کو جھٹلایا۔ لیکن صرف تکذیب (جھٹلانا) اگرچہ غضب الٰہی کا موجب ہے، لیکن دنیوی عذاب کا موجب نہیں بن سکتی تھی۔ ان قوموں نے دو اور بڑے جرموں کا ارتکاب کیا جس کی وجہ سے وہ دنیا ہی میں مورد عذاب ٹھہرے۔ اول ہر امت کے معاندین نے پیغام حق لانے والے رسول کی ایذا رسانی بلکہ اس کے قتل تک کی کوشش کی۔ دوم انہوں نے باطل کے ذریعے سے حق کو گرانے اور اس کو مغلوب کرنے کی کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے دنیا ہی ان کو پکڑا لیا اور ایسا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

(نام اور کوائف) اس سورة مبارکہ کا نام سورة المؤمن ہے ، سورة کے آخری حصے میں فرعون کے خاندان کے ایک مومن آدمی کا تذکرہ ہے جس سے اس سورة کا یہ نام تجویز کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ سورة الغافر اور سورة الطول بھی اسی سورة کے نام ذکر کیے جاتے ہیں یہ دونوں نام سورة ہذا کی تیسری آیت میں آمدہ الفاظ سے ماخوذ ہیں یہ سورة مکی زندگی کے درمیانہ عرصہ میں سورة الزمر کے بعد نازل ہوئی اس کی پچاسی آیت اور نو رکوع ہیں ۔ یہ سورة 1192 الفاظ اور چار ہزار حروف پر مشتمل ہے ۔ (مضامین سورة ) اس سورة مبارکہ سے حوامیم سبعہ یعنی حم والی سات سورتوں کی ابتداء ہو رہی ہے مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ یہ سات سورتیں پورے قرآن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّالْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِہِمْ۝ 0 ۠ وَہَمَّتْ كُلُّ اُمَّۃٍؚ بِرَسُوْلِہِمْ لِيَاْخُذُوْہُ وَجٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوْا بِہِ الْحَــقَّ فَاَخَذْتُہُمْ۝ 0 ۣ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ۝ 5 كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب : حم تنزیل الکتاب مثل الم تنزیل الکتاب، غافر الذنب و قابل التوب صفۃ قال الاخفش التوب جمع توبۃ کدوم ودومۃ واد خال الواوفی ھذا الوصف لافادۃ الجمع المذنب التائب بین قبول توبتہ و محو حوبتہ اولتغائر الوصفین اذر بما یتوھم الاتحاد، بیضاوی، شدید العقاب نکرۃ لان التقدیر شدید عقابہ فیکون بدلا و یجوزان یکون شدید بمعنی مشدد فیتعرف ذی الطّول بالفتح المن (الجوہری) صفۃ لا الہ الخ صفۃ و یمکن ان تکون مستانفا۔ تفسیر : اس سورة کا نام سورة غافر اور سورة مومن بھی ہے۔ قرطبی کہتے ہیں کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے اور یہی قول عطا و جابر و عکرمہ کا ہے۔ حسن کہتے ہیں، مگر یہ قول و سبح بحمد ربک کس لیے کہ نماز…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نْوْحٍ وَّالْاَحْزَابُ مِنْ م بَعْدِھِمْ ص وَھَمَّتْ کُلُّ اُمَّۃٍ م بِرَسُوْلِہِمْ لِیَاْخُذُوْہُ ھوَجٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِہِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُہُمْ قف فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِ ۔ (المؤمن : 5) (ان سے پہلے نوح کی قوم بھی جھٹلا چکی ہے اور ان کے بعد کئی گروہ بھی جھٹلا چکے ہیں اور ہر امت نے اپنے رسول پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کیا، اور انھوں نے کوشش کی باطل کے ذریعے سے تاکہ اس سے حق کو پسپا کردیں، تو میں نے ان کو پکڑ لیا، پھر کیسا تھا میرا عذاب۔ ) مخالفین کے انجام پر تاریخ سے استشہاد اوپر کی آیت میں جو فرمایا گیا ہے کہ شہروں اور ملکوں میں ان کی چلت پھرت،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–6

فہم القرآن ربط کلام : عظیم ترین صفات رکھنے والے ایک الٰہ کو اس کی پوری مخلوق مانتی ہے لیکن صرف کافر نہیں مانتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة کی ابتداء میں اپنی سات صفات کا حوالہ دے کر یہ بات واضح فرمائی ہے کہ قرآن مجید کو اسی ذات نے نازل فرمایا ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ لیکن قرآن مجید اور ” اللہ “ کو ایک الٰہ نہ ماننے والے اس کی آیات یعنی دلائل کے بارے میں بحث و تکرار کرتے ہیں۔ اے رسول ﷺ ! کفار کا شہروں میں چلنا پھرنا اور ان کی ترقی سے آپ کو دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔ اگر یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اور ان کے بعد کئی گروہوں نے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی ہے۔ جس طرح…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نمونہ جدال : كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ ، ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا، نوح (علیہ السلام) کو، وَّالْاَحْزَابُ ، اور دوسرے گروہوں نے، جنہوں نے رسولوں کی مخالفت میں جتھہ بندی اختیار کی اور ان کو دکھ پہنچائے وہ عاد، ثمود، قوم لوط، وغیرہ ہیں۔ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ، ان کے بعد، قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد، وَهَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍ ، اور ہر امت نے ارادہ کیا، ان امتوں میں سے جو قوم نوح اور احزاب ہیں۔ بِرَسُوْلِهِمْ لِيَاْخُذُوْهُ ، اپنے رسول کے متعلق کہ اس کو گرفتار کرلیں، کہ اس کو پکڑ کر قتل کردیں۔ الاخیذ، قیدی۔ وَجٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ ، اور انہوں نے ناحق جھگڑے پیدا کیے، باطل سے کفر مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 4۔ ، مایجادل فی آیا ت اللہ ، تکذیب و انکار کے ذریعے اللہ کی آیات مقابلہ کرنے میں ، الا الذین کفروا، ابوالعالیہ رحمہ فرماتے ہیں کہ دوآیتیں ان لوگوں کے بارے میں سخت ہیں جو قرآن کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں ۔ ، مایجادل فی آیات اللہ الا الذین کفروا، اور، ان الذین اختلفوافی الکتاب لفی شقاق بعید، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بیشک دجال نے قرآن میں کفر کیا ۔ حضرت عمر وبن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے چندلوگوں کوسنا کہ وہ قرآن میں جھگڑاکر رہے ہیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–9

4۔ 9۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی 3 ؎ حاتم میں ابی مالک سے روایت ہے کہ حارث بن قیس سہیمی وغیرہ مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے آکر جھگڑا کیا کرتے تھے اور قرآن شریف کے باب میں طرح طرح کی بےادبی کے لفظ منہ سے نکالا کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول اور اللہ کے کلام سے مخالفت کر کے ابھی تک جو کسی وبال اور عذاب الٰہی میں نہیں پکڑے گئے اور چین سے شہر بشہر تندرستی اور آرام سے گزر کر رہے ہیں اے نبی اللہ کے ان لوگوں کے اس حال پر کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ان لوگوں کی اس طرح کی باتوں سے ان کا کفر تو اللہ کے نزدیک ثابت ہوچکا ہے مگر اللہ کی درگاہ میں ہر کام کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–6

آیت 4 اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ (مایجادل فی ایت اللہ الا الذین کفروا) ” اللہ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں۔ “ یہاں مجادلہ سے مراد ہے، آیات الٰہی کو رد کرنا اور باطل کے ذریعے سے ان کا مقابلہ کرنے کے لئے جھگڑا کرنا اور یہ کفار کا کام ہے، رہے اہل ایمان تو وہ حق کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے باطل کو نیچا دکھائیں۔ اناسن کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اپنے دنیاوی احوال سے دھوکہ کھائے اور یہ سمجھنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کا دنیا میں اس کو اپنی نعمتوں سے نوازنا، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت کی دلیل ہے اور وہ حق ہے۔ بنا بریں ارشاد فرمایا : (فلا یغرک تقلبھم فی البلاد)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

7 تاریخ سے درس عبرت و بصیرت کا سامان : سو اب ان تاریخی حوالوں سے دعاۃِ حق کیلئے تسلیہ و تسکین کا سامان اور منکرین کیلئے تنبیہ و تذکیر اور درسہائے عبرت و بصیرت کا انتظام فرمایا گیا ہے۔ پس اس میں ایک طرف تو آنحضرت ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کے توسط سے ہر داعی حق کے لئے تسلی و تسکین کا سامان ہے کہ جو کچھ کفار قریش اور دوسرے دشمنان دین اور مخالفانِ حق آج آپ ﷺ کے ساتھ کر رہے ہیں یہ کوئی نئی اور نرالی بات نہیں۔ بلکہ اس سے پہلے کے انبیائے کرام کے ساتھ ان کی امتوں نے بھی یہی کچھ کیا۔ اور دوسری طرف اس میں دشمنان دین اور مخالفینِ حق کفار و مشرکین کے لئے ایک تنبیہ اور وارننگ بھی ہے کہ تم سے پہلے جن جن امتوں اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–22

کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

تمت سورة زمر ۔ الحمد للہ۔ سورۃ المومن رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 9: اسرار و معارف : اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے کتاب نازل فرما کر ہدایت کی راہ دکھائی کہ وہ بہت طاقت وقدرت رکھنے والا ہے اور ہر بات کو جانتا بھی ہے اسے انسانوں سے کسی مدد کی جرورت نہیں بلکہ وہ تو ایسا کریم ہے کہ اگر لوگ اس کی کتاب پر ایمان لا کر اس کے احکام کی پیروی کریں تو وہ ان کے گناہ معاف فرما دے اور ان کی توبہ قبول فرمائے بصورت دیگر اس کے عذاب بھی بہت سخت ہیں اور وہی صاحب اقتدار بھی ہے کوئی اس کے عذاب سے بھاگ نہیں سکتا اور اس کے علاوہ کوئی ایسی ہستی نہیں جس کی عبادت کی جائے نیز سب کو ہر حال میں لوٹ کر اسی کی بارگاہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی دین حق کو مٹانے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے اور غلط باتوں کو دلیل بنا کر اہل حق سے کج بحثیاں کرتے رہے۔2 کہ ” آج دنیا میں ان کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا “۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:5) قبلہم : ای قبل کفار قریش۔ کفار قریش سے پہلے۔ والاحزاب من بعدہم : الاحزاب حزب کی جمع ہے جس کے معنی جماعت ، گروہ کے ہیں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع قوم نوح ہے۔ مطلب :۔ قوم نوح کے بوعد وہ کافر امتیں جو کہ پیغمبروں کے خلاف جتھ بند ہوگئی تھیں اور مقابلہ پر آگئیں جیسے قوم عاد وثمود و قوم لوط۔ وھمت کل امۃ برسولہم : ھمت ماضی واحد مؤنث غائب ہم باب نصر مصدر سے۔ ہم ب کسی چیز کا ارادہ کرنا۔ چاہنا۔ اور ہر امت نے اپنے رسول کا ارادہ کرلیا۔ لیاخذوہ۔ لام تعلیل کا یاخذوا مضارع جمع مذکر غائب (منصوب بوجہ عمل لام) اخذ باب نصر مصدر سے۔ کہ وہ اس کو پکڑ لیں۔ حضرت ابن عباس رحی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا ترجمہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 4–6

لغات القرآن آیت نمبر 4 تا 6 :۔ ما یجادل ( وہ جھگڑتا نہیں ہے) لا یغرر ( دھوکا نہیں دیتا) تقلب (الٹنا پلٹنا، آنا جانا) البلاد ( بلد) ( شہر ، ملک) ھمت (ارادہ کیا) ید حضوا (وہ پھیلاتے ہیں ، ڈگمگا دیتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 4 تا 6 :۔ قریش مکہ بےتکی باتوں ، غیر متعلق جھگڑوں اور الٹے سیدھے اعتراضات کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں شک و شبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے تا کہ ہر شخص یہ سمجھنے لگے کہ نبی کریم ﷺ جس سچے پیغام اور دعوت حق کی طرف بلا رہے ہیں اس میں ان کی ذاتی غرض اور سارے عرب پر برتری قائم کرنے کے جذبے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ چونکہ بنو قریش بیت اللہ کے رکھوالے اور محافظ کہلاتے تھے اس لئے اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–6

منکرین اسلام کا انجام۔ (ف 1) شان نزول : مشرک لوگ نبی کریم ﷺ سے آن کر جھگڑا کیا کرتے تھے اور قرآن شریف کے باب میں طرح طرح کے بےادبی کے لفظ منہ سے نکالا کرتے تھے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول اور اللہ کے کلام کی مخالفت کرتے ہیں ابھی تک جو کسی وبال اور عذاب الٰہی میں نہیں پکڑے گئے اور چین سے شہر شہر تجارتیں اور تندرستی اور آرام سے گذرکر رہے ہیں ان لوگوں کے اس حال پر کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان لوگوں کی اس طرح کی باتوں سے ان کا کفر تو اللہ کے نزدیک ثابت ہوچکا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ہر کام کا وقت مقرر ہے وقت آتے ہی حضرت نوح کے زمانہ سے لے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–7

[1] اس آیت میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو اس وقت مشرکین مکہ کے ظلم و ستم اور استہزا اور ان کے مقابلے میں اپنی بےبسی دیکھ کر دل شکستہ ہو رہے تھے اس پر ارشاد ہوا کہ ان لوگوں کی باتوں پر رنجیدہ کیوں ہوتے ہو۔ تمہارا مرتبہ وہ ہے کہ عرش الٰہی کے حامل فرشتے اور اس کے اردگرد حاضر رہنے والے فرشتے تک تمہارے حامی ہیں اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائے مغفرت مانگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–5

ف 1: فرمایا ۔ کہ ان لوگوں کی تکذیب محض کفر وعناد پر مبنی ہے ۔ اور یہ اگر آسودگی اور آسائش سے شہروں اور ملکوں میں گھومتے پھرتے ہیں ۔ تو آپ یہ نہ سمجھ لیں ۔ کہ یہ لوگ اللہ کی گرفت سے بچ گئے ہیں ۔ ان سے پہلے بھی قوموں نے تکذیب کی ہے ۔ اور اپنے انبیاء کی مخالفت کی ہے ۔ اور ان کے خلاف سازشیں کی ہیں ۔ تاکہ حق کی آواز کو دبا لیں ۔ مگر ہمارے عذاب نے انہیں ہمیشہ اپنے ارادوں میں ناکام رکھا ۔ اسی طرح ان کے لئے بھی مقدر ہے ۔ کہ اللہ کے عذاب کو چکھیں ۔ اور جہنم میں اپنا ٹھکانا بتائیں ۔ عارضی طور پر ہم نے ان کو چلنے پھرنے کی مہلت دے رکھی ہے ۔ اس سے آپ اشتباہ میں نہ پڑیں ۔ آپ یقین رکھیں ۔ کہ ان لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) ان لوگوں سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد اور مختلف گروہ اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کرچکے ہیں اور ہر امت نے اپنے رسولوں کے ساتھ یہی ارادہ کیا کہ اس رسول کو گرفتار کرلیں اور قیدی بنالیں اور بےاصل باتوں اور بیہودہ شبہات کا سہارا لے کر جھگڑا کرنے لگے تاکہ اس ناحق کے جھگڑے کی وجہ سے حق کو اس کی جگہ سے ہٹا دیں آخرکار میں نے ان لوگوں کو جو باطل سے حق کو مٹانا چاہتے تھے پکڑ لیا اور ان کی گرفت کی پھر دیکھا کہ میرا عذاب کیسا ہوا۔ یعنی نوح (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور ان کے بعد اور بھی بہت سی جماعتوں نے جیسے عادوثمود وغیرہ نے اپنے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر آج ان کو تسلیم نہیں ہے تو قبل ازیں نوح کی قوم اور بعد کی قومیں بھی جھٹلا چکی ہیں 5۔ گزشتہ آیت میں جو مضمون بیان ہوا ہے اس کی دلیل پیش کی جا رہی ہے کہ اگر آج قوم قریش کے لوگ اس حقیقت کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں یہ جھٹلا دینے کی بیماری بہت پرانی ہے قوم نوح اور اس کے بعد بہت سی دوسری قومیں بھی اسی طرح جھٹلا چکی ہیں اور اپنے اپنے رسولوں اور نبیوں کی تکذیب کرچکی ہیں ہر قوم نے اپنے رسول کی مخالفت کی اور مخالفت بھی بےانداز کی یہاں تک کہ پورا زور لگا کر ان کو حق سے جدا کرنے کی کوشش کی لیکن انجام سب قوموں کا آپ پیچھے پڑھتے چلے آرہے ہیں کہ کیا ہوا ؟ یہی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–7

In verse 7, it was said: الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْ‌شَ وَمَنْ حَوْلَهُ (Those who are bearing the Throne and those who are around it). The present count of angels who bear the Throne (arsh) is four and, on the day of Qiyamah (the Day of Judgment), they will be eight, and only Allah knows the number of angels around the ` arsh. Some Hadith narrations give the number of their rows that reaches several hundred thousand. They are called: کرّوبِی (karrubi, [ Heb. Kerubh or kerub ], plural: [ Eng. Cherubin, or Cherubim, Heb. Cherubim ]). They are angels close to Allah. In this verse, it has been…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–6

5 That is, `The torment that seized them in the world was not their final punishment, but Allah has also decreed that they shall go to Hell.' Another meaning can be: "Just as the nations of the past have gone to their doom, so will those people also who arc committing disbelief go to Hell, according to the fixed decree of Allah."

Read the full tafseer →