Yaseen 36:9

Yaseen · from ayah 9

36:9

وَجَعَلْنَا مِنْ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ ۟وَجَعَلۡنَا مِنۡۢ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ سَدًّا وَّمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدًّا فَاَغۡشَيۡنٰهُمۡ فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ

اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنا دی اور ان کے پیچھے بھی۔ پھر ان پر پردہ ڈال دیا تو یہ دیکھ نہیں سکتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have put before them a barrier and behind them a barrier and covered them, so they do not see.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:9

ہم نے ایک دیوار اُن کے آگے کھڑی کر دی ہے اور ایک دیوار اُن کے پیچھے ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے، انہیں اب کچھ نہیں سوجھتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنا دی اور ان کے پیچھے بھی۔ پھر ان پر پردہ ڈال دیا تو یہ دیکھ نہیں سکتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے ایک آڑ ان کے سامنے کردی اورایک آڑ ان کے پیچھے کردی، جس سے ہم نے ان کو ڈھانک دیا سو وه نہیں دیکھ سکتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے ایک آڑ ان کے آگے کھڑی کردی ہے، اور ایک آڑ ان کے پیچھے کھڑی کردی ہے، اور اس طرح انہیں ہر طرف سے ڈھانک لیا ہے جس کے نتیجے میں انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے ان کے آگے دیوار بنادی اور ان کے پیچھے ایک دیوار اور انہیں اوپر سے ڈھانک دیا تو انہیں کچھ نہیں سوجھتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے اُن کے آگے سے (بھی) ایک دیوار اور اُن کے پیچھے سے (بھی) ایک دیوار بنا دی ہے، پھر ہم نے اُن (کی آنکھوں) پر پردہ ڈال دیا ہے سو وہ کچھ نہیں دیکھتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے ان کے آگے سے ایک دیوار کردی اور ان کے پیچھے سے ایک دیوار، پھر ہم نے انھیں ڈھانپ دیا تو وہ نہیں دیکھتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز ہم نے ایک دیوار تو ان کے سامنے کھڑی کردی ہے اور ایک ان کے پیچھے۔ (اس طرح) ہم نے ان پر پردہ ڈال رکھا ہے کہ وہ کچھ دیکھ نہیں سکتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے ان کے آگے سے بھی ایک روک کھڑی کردی ہے اور ان کے پیھچے سے بھی ایک روک کھڑی کردی ہے۔ اس طرح ہم نے ان کو ڈھانک دیا ہے پس ان کو سمجھائی نہیں دے رہا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے ان کے آگے بھی ایک دیوار کھڑی کردی ہے اور ان کے پیچھے بھی ایک دیوار کھڑی کردی ہے پھر (اوپر سے بھی) ان کو ایسا ڈھانک دیا ہے کہ انہیں کچھ سوجھ کے ہی نہیں دیتا

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے ایک آڑ ان کے سامنے کردی ہے اور ایک آڑ ان کے پیچھے کردی ہے جس سے ہم نے ان کو گھیر دیا ہے سو وہ دیکھ نہیں سکتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے ایک دیوار کھڑی کردی ہے ان کے آگے اور ایک ان کے پیچھے اس طرح ہم نے انہیں ڈھانپ دیا ہے پس اب وہ دیکھ نہیں سکتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنا دی اور ان کے پیچھے بھی پھر ان پر پردہ ڈال دیا تو یہ دیکھ نہیں سکتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and We have put a barrier before them and a barrier behind them, and have covered them up, so they are unable to see.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We have placed a barrier in front of them and a barrier behind them, and (thus) they are encircled by Us; so they do not see.

— Muhammad Taqi Usmani

And We have placed a barrier in front of them and a barrier behind them, and (thus) they are encircled by Us; so they do not see.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We have put a barrier before them, and a barrier behind them, and We have covered them up, so that they cannot see.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We have set a bar before them and a bar behind them, and (thus) have covered them so that they see not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have put before them a barrier and behind them a barrier and covered them, so they do not see.

— Saheeh International

We have set-up a barrier in front of and behind them and have made them blind. Thus, they cannot see.

— Muhammad Sarwar

And We have made before them a barrier and a barrier behind them, then We have covered them over so that they do not see.

— Muhammad Habib Shakir

And We have placed before them a barrier and behind them a barrier, so We have covered them, so that they see not.

— Abdul Majid Daryabadi

And We have put a bar in front of them and a bar behind them, and further, We have covered them up; so that they cannot see.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–12

شب ہجرت اور کفار کے سرخاک۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان بدنصیبوں کا ہدایت تک پہنچنا بہت مشکل بلکہ محال ہے۔ یہ تو ان لوگوں کی طرح ہیں جن کے ہاتھ گردن پر باندھ دیئے جائیں اور ان کا سر اونچا جا رہا ہو۔ گردن کے ذکر کے بعد ہاتھ کا ذکر چھوڑ دیا لیکن مراد یہی ہے کہ گردن سے ملا کر ہاتھ باندھ دیئے گئے ہیں اور سر اونچے ہیں اور ایسا ہوتا ہے کہ بولنے میں ایک چیز کا ذکر کر کے دوسری چیز کو جو اسی سے سمجھ لی جاتی ہے اس کا ذکر چھوڑ دیتے ہیں عرب شاعروں کے شعر میں بھی یہ بات موجود ہے۔ غل کہتے ہی ہیں دونوں ہاتھوں کو گردن تک پہنچا کر گردن کے ساتھ جکڑ بند کردینے کو۔ اسی لئے گردن کا ذکر کیا اور ہاتھوں کا ذکر چھوڑ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یٰسٓ 7 ایک دیوار آگے اور ایک پیچھے کھڑی کردینے سے مراد یہ ہے کہ اسی ہٹ دھرمی اور استکبار کا فطری نتیجہ یہ ہوا ہے کہ یہ لوگ نہ پچھلی تاریخ سے کوئی سبق لیتے ہیں، اور نہ مستقبل کے نتائج پر کبھی غور کرتے ہیں۔ ان کے تعصبات نے ان کو ہر طرف سے اس طرح ڈھانک لیا ہے اور ان کی غلط فہمیوں نے ان کی آنکھوں پر ایسے پردے ڈال دیے ہیں کہ انہیں وہ کھلے کھلے حقائق نظر نہیں آتے جو ہر سلیم الطبع اور بےتعصب انسان کو نظر آ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–11

(آیت) لقد حق القول علیٰ اکثرہم فہم لا یومنون، انا جعلنا فی اعنا قہم اغلاً الایة، مراد یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے کفر و ایمان اور جنت و دوزخ کے دونوں راستے انسان کے سامنے کردیئے، اور ایمان کی دعوت کے لئے انبیاء اور کتابیں بھی بھیج دیں، پھر انسان کو اتنا اختیار بھی دے دیا کہ وہ اپنے بھلے برے کو پہچان کر کوئی رستہ اختیار کرے۔ جو بدنصیب نہ غور و فکر سے کام لے نہ دلائل قدرت میں غور کرے، نہ انبیاء کی دعوت پر کان دھرے نہ اللہ کی کتاب میں غور و تدبر کرے تو اس نے اپنے اختیار سے جو راہ اختیار کرلی تو حق تعالیٰ .... اسی کے سامان اس کے لئے جمع فرما دیتے ہیں، جو کفر میں لگ گیا پھر اس کے واسطے کفر بڑھانے ہی کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وجعلنا من بین ایدیھم سدا ومن خلفھم سدا فاغشینھم فھم لا یبصرون (9) یہ اوپر والے مضمون ہی کی وضاحت ہے کہ اس طرح ہم نے ان کے آگے اور پیچھے دونوں طرف سے اوٹ کھڑی کردی ہے اور ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے جس کے سبب سے انہیں کچھ سمجھائی نہیں دے رہا ہے۔ ان کی اسی حالت پر سورة سبا میں اظہارِ تعجب فرمایا ہے : افلم یروا الی مابین ایدھیم وما خلفھم من السماء والارض (9) (کیا ان لوگوں نے ان کے آگے اور پیچھے جو آسمان و زمین ہیں ان پر نگاہ نہیں ڈالی ؟) اس طرح کے متکبرین کے متعلق یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ اپنی پچھلی روایات اور اپنے مستقبل کے مطالع کے غلام ہوتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں ان کی راہ میں اس طرح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 یعنی دنیا کی زندگی ان کے لئے مزین کردی گئی، یہ گویا ان کے سامنے کی آڑ ہے، جس کی وجہ سے وہ لذائذ دنیا کے علاوہ کچھ نہیں دیکھتے اور یہی چیز ان کے اور ایمان کے درمیان مانع اور حجاب ہے اور آخرت کا تصور ان کے ذہنوں میں ناممکن الواقع کردیا گیا، یہ گویا ان کے پیچھے کی آڑ ہے جس کی وجہ سے وہ توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت حاصل کرتے ہیں کیونکہ آخرت کا کوئی خوف ہی ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ 9۔ 2 یا ان کی آنکھوں کو ڈھانک دیا یعنی رسول اللہ ﷺ سے عداوت اور اس کی دعوت حق سے نفرت نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ گی، یا انہیں اندھا کردیا ہے جس سے وہ دیکھ نہیں سکتے یہ ان کے حال کی دوسری تمثیل ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–11

3: یہ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو بیان کرنے کے لئے ایک استعارہ اور مجازی تعبیر ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ حق کے صاف صاف ظاہر ہونے کے باوجود ان لوگوں نے اس طرح ہٹ دھرمی کی روش اختیار کی ہے کہ اپنے آپ کو حق کے دیکھنے سے محروم کرلیا ہے، جیسے ان کے گلوں میں طوق پڑے ہوئے ہوں، اور ان کے ہر طرف ایسی دیواریں کھڑی ہوں کہ ان کو کچھ سمجھائی نہ دے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

انا جعلنا فی اعناقھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فھم لا یبصرون (36: 8 – 9) ” ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے ہیں جن سے وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے گئے ہیں ، اس لیے وہ سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کردی ہے اور ایک دیوار ان کے پیچھے۔ ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے۔ انہیں اب کچھ نہیں سوجھتا “۔ ان کے ہاتھ طوقوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ پھر یہ ان کی گردنوں کے ساتھ بندھے ہیں اور ان کی ٹھوڑیوں کے نیچے جکڑ دئے گئے ہیں۔ اس طرح ان کے سر مجبوراً اوپر کی طرف اٹھ گئے ہیں ۔ اس لیے وہ اپنے سامنے کی طرف نیچے راستے کو دیکھنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ چونکہ وہ اس بری حالت میں ہیں۔ اس لیے نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ کچھ کرسکتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 نبی کی عداوت نے ان کے اور قبول ہدایت کے درمیان دیواریں کھڑی کردی تھیں۔ جاہلانہ رسوم واطوار اور اہواء و آرائے فاسدہ کی اندھیریوں میں اس طرح بند تھے کہ اگلا پیچھا اور نشیب و فراز کچھ نظر نہ آتا تھا۔ نہ ماضی پر نظر تھی نہ مستقبل پر، باقی ان افعال کی نسبت حق تعالیٰ کی طرف سے اس لیے کہ گئی کہ خالق خیر و شر کا وہی ہے اور اسباب پر مسببات کا ترتب اسی کی مشیت سے ہوتا ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت سے دلائل آفاقیہ میں غور کرنے کی نفی ہوئی جیسا کہ " فہم مقمحون " میں دلائل انفسیہ کی طرف ملتفت نہ ہونے کا اشارہ تھا۔ کیونکہ سر اوپر کو اٹھ رہا ہو جھک نہ سکے تو اپنے بدن پر نظر نہیں پڑ سکتی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9 { وَجَعَلْنَا مِنْم بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ سَدًّا وَّمِنْ خَلْفِہِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰہُمْ فَہُمْ لاَ یُبْصِرُوْنَ } ”اور ہم نے ایک دیوار کھڑی کردی ہے ان کے آگے اور ایک ان کے پیچھے ‘ اس طرح ہم نے انہیں ڈھانپ دیا ہے ‘ پس اب وہ دیکھ نہیں سکتے۔“ یہ مضمون آگے چل کر آیت 45 میں پھر آئے گا۔ -۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور حق کی پہچان کے لیے اگر انسان کو راہنمائی چاہیے تو اس مقصد کے لیے بیشمار آفاقی آیات آلاء اللہ ہر وقت ہر جگہ اس کے سامنے ہیں۔ قرآن حکیم بار بار انسان کو ان آیات کے مشاہدے کی دعوت دیتا ہے۔ جیسے سورة البقرۃ کی آیت 164 میں بہت سی آفاقی نشانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہر انسان اپنی ذہنی سطح…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

9 آگے بھی دیوار ہو، پیچھے بھی دیوار ہو اور جس جس طرف دیوار نہ ہو، وہاں کوئی پردہ ڈال کر ڈھانپ دیا جائے تو کوئی شخص دیکھ بھی کیسے سکتا ہے۔ ان کی یہ حالت اس لئے ہوگئی ہے کہ وہ اپنی ان جاہلانہ اور مشرکانہ رسوم ہی سے چمٹا رہنا پسند کرتے ہیں۔ اور ان باتوں کے باطل ہونے پر جو دلیل بھی پیش کی جائے اس پر غور کرنا تو درکنار اسے سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ اس مقام پر مختصراً یہ اشارہ کردینا ضروری ہے کہ اسباب کو اختیار کرنا انسان کے اپنے بس میں ہوتا ہے بالفاظ دیگر حق کو قبول نہ کرنے یا سرکشی کی راہ اختیار کرنے کی ابتدا ہمیشہ انسان کی طرف سے ہوتی ہے۔ پھر جو راہ انسان اختیار کرتا ہے اسے اللہ کی طرف سے اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–9

4۔ یعنی نہ آگے دیکھ سکتے ہیں نہ پیچھے۔ یہ ساری تمثیل ان لوگوں کے بعد عن الایمان کی ہے۔ یعنی چونکہ انہوں نے خود قوت ارادی سے صحیح کام نہیں لیا، توفیق ہدایت بھی ان سے مطلق سلب ہوگئی۔ فی ان لاتامل لھم ولا تبصروا نھم متعامون عن النظر فی ایات اللہ (مدارک) غفلت ان لوگوں کی ارادی اور مجرمانہ تھی، لیکن یہاں بحیثیت مسبب الاسباب کے ان حالات کو حق تعالیٰ نے منسوب اپنی ہی جانب کیا ہے۔ (آیت) ” اناجعلنا۔ وجعلنا۔ فاغشینھم “۔ صیغہ متکلم ان سب مقامات پر حق تعالیٰ کی جانب محض نظام تکوینی کے علت العلل کی حیثیت سے استعمال ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–12

آیت نمبر 1 تا 12 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یسٓن اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے محکم قرآن کی جو عجیب نظم اور انوکھے معانی سے محکم ہے بلاشبہ اے محمد آپ مرسلین میں سے ہیں (اور) سیدھے راستہ پر ہیں علیٰ اپنے ماقبل (مرسلین) سے متعلق ہے (اور طریق مستقیم سے مراد) انبیاء سابقین کا طریقہ ہے، جو کہ توحید اور ہدایت کا راستہ ہے، اور قسم وغیرہ کے ذریعہ تاکید کافروں کے قول لَسْتَ مُرسَلاً کو رد کرنے کے لئے ہے یہ قرآن اس (خدا) کا نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب اور اپنی مخلوق پر مہربان ہے (تنزیل العزیز) مبتداء محذوف یعنی القرآن کی خبر ہے تاکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وجعلنا من بین ایدیھم سدًا ومن خلفھم سدًا فاغشینھم فھم لا یبصرون . اور ہم نے ان کے سامنے ایک آڑ کردی اور ایک آڑ ان کے پیچھے سے ‘ پھر ہم نے ان کو (ہر طرف سے پردوں سے) گھیر دیا جس کی وجہ سے وہ نہیں دیکھ سکتے۔ فَاَغْشَیْنٰھُمْ یعنی ہم نے ان کو اندھا کردیا۔ تغشیۃٌ پردہ سے ڈھانک دینا۔ اہل معنی کہتے ہیں : یہ ایک تشبیہ ہے ‘ حقیقت میں نہ طوق تھا نہ آڑ ‘ بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ نے ان کیلئے چند مواقع پیدا کر دئیے جن کی وجہ سے وہ ایمان لانے سے محروم ہیں۔ مواقع پیدا کرنے کو طوق اور آڑ پیدا کرنے سے تشبیہ دی۔ ان کو کفر پر اتنا پختہ کردیا اور ان کے دلوں پر ایسی چھاپ لگ گئی کہ کوئی نصیحت اور آیت ان کیلئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یا یہ کہ جب انہوں نے رسول اکرم کو پتھر مار کر حالت نماز میں تکلیف پہچانی چاہی تو ہم نے ان کی گردنوں کو ٹھوڑیوں تک کردیا اور یہ ہر ایک خیر و بھلائی سے محروم کے محروم رہ گئے اور ہم نے امور آخرت کے بارے میں ایک پردہ ان کے آگے ڈال دیا اور امور دنیا کے متعلق ایک پردہ ان کے پیچھے ڈال دیا اور ہم نے ان کے دلوں کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا جس سے وہ حق و ہدایت کو نہیں دیکھ سکتے۔ یا یہ کہ جس وقت انہوں نے رسول اکرم کو حالت نماز میں پتھر سے تکلیف پہچانی چاہی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے ایک پردہ کی آڑ کردی کہ آپ کے اصحاب ان کو نظر نہ آئے غرض کہ ہم نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا کہ نبی اکرم ان کو نظر ہی نہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَجَعَلْنَا مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ سَدًّا : یعنی ہم نے ان کی گردنوں میں بھاری طوق ڈالنے کے علاوہ ان کے آگے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار کردی ہے، پھر انھیں اوپر سے پردے کے ساتھ ڈھانک دیا ہے، جس کے نتیجے میں انھیں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ یہ مثال ہے ان لوگوں کی جو اپنی جاہلانہ اور مشرکانہ رسوم پر اڑے ہوئے ہیں۔ ان کے غلط ہونے کی کھلی سے کھلی دلیل بھی نہ انھیں دکھائی دیتی ہے نہ اسے سنتے ہیں۔ اب یہ لوگ حق پر ایمان لائیں تو کیسے لائیں ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–11

و جعلنا من بین ایدیھم سداو من خلفھم سدا مقاتل نے کہا : جب ابو جہل اپنے ساتھیوں کے پاس گیا جب کہ وہ نبی کریم ﷺ تک نہیں پہنچ پایا تھا اور پتھر اس کے ہاتھ سے گرگیا تو بنی مخزوم کے ایک اور آدمی نے پتھر اٹھایا اور کہا : میں اسے اس پتھر کے ساتھ قتل کروں گا جب وہ نبی کریم ﷺ کے قریب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر کو بےنور کردیا تو وہ نبی کریم ﷺ کو نہ دیکھ سکا وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا تو وہ اپنے ساتھیوں کو بھی نہ دیکھ سکا یہاں تک کہ ساتھیوں نے اسے ندا دی ‘ آیت کا یہ معنی ہے۔ محمد بن اسحاق نے اپنی روایت میں کہا : عتبہ اور شیبہ جو ربیعہ کے بیٹے تھے اوجہل اور امیہ بن خلف بیٹھے وہ نبی کریم ﷺ کی تاڑ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–11

رسول اللہ ﷺ کے قتل کی سازش : 15:۔ بیہقی (رح) نے دلائل میں السدی الصغیر کے طریق سے الکلبی سے اور انہوں نے ابی صالح سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا من بین ایدیھم سدا “ (اور ہم نے ان کے آگے ایک آڑ کردی) یعنی کفار قریش اور سدا سے مراد ہے پردہ (آیت) ” فاغشینہم “ یعنی ہم نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا (آیت) ” فھم لا یبصرون “ (اب وہ نہیں دیکھتے ہیں) یعنی نبی کریم ﷺ کو کہ وہ ان کو تکلیف پہنچا سکیں اور یہ اس وجہ سے کہ قبیلہ بنو مخزوم کے کچھ لوگوں باہم متفق ہوئے کہ نبی کریم ﷺ کو قتل کردیں ان میں ابوجہل اور ولید بن مغیرہ بھی تھے اسی اثناء میں کہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَجَعَلْنَا مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ [اور ہم نے بنائی ان کے سامنے سے ] سَدًّا [ایک آڑ ] وَّمِنْ خَلْفِهِمْ [اور ان کے پیچھے سے ] سَدًّا [ایک آڑ ] فَاَغْشَيْنٰهُمْ [پھر ہم نے ڈھانپ دیا ان کو ] فَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ [تو وہ لوگ بصیرت نہیں رکھتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–11

اس کے بعد فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے ان کو ایمان لانا نہیں ہے یعنی یہ لوگ آپ کے انذار کا اثر نہ لیں گے، جو لوگ انذار کا اثر لیتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کا نصیحت قبول کرنے کا مزاج ہے جو حق بات سنتے ہیں اور فکر کرتے ہیں اور وضوح حق کے بعد حق کو مان لیتے ہیں : (ھٰذا علی احد القولین) اور بعض حضرات نے فرمایا کہ (مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ ) سے مومنین مراد ہیں اور (ویؤید ما بعدہ) جو بن دیکھے رحمان سے ڈرتے ہیں، وہ رحمان کو رحمن بھی مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی نافرمانی اور تقصیر اور کوتاہی کے سبب سے اس کی گرفت سے بھی ڈرتے ہیں۔ (فَبَشِّرْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَّ اَجْرٍ کَرِیْمٍ ) (سو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–12

اثبات رسالت محمد موکد بقسمے کہ آں دلیل نبوت است ومقرون بہ بیان تفاوت استعداد درقبول حق وہدایت وتہدید مکذبین نبوت ومنکرین قیامت قال اللہ تعالی۔ یس والقران الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین۔ (ربط) گزشتہ سورت میں کفار کے استکبار اور انکار کا ذکر تھا کہ وہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کے منکر ہیں اور آپ ﷺ کو جھوٹا بتلاتے ہیں اب اس سورت میں آپ کی نبوت و رسالت کو قسم کے ساتھ بیان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ یٰسین۔ اس کی مراد اور اس کے معنی کو اللہ ہی خوب جانتا ہے یٰسین حروف مقطعہ میں سے ہے جو خزانہ غیب کا ایک سرمکتوم ہے۔ جمہور صحابہ وتابعین کے نزدیک اس کی مراد سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–10

6:۔ وسواء الخ : یہ ماقبل ہی کی توضیح و تنویر ہے۔ جب ان کے دلوں پر مہر جباریت و ثبت ہوچکی ہے تو ان کے لیے آپ کا وعظ و انداز بےسود ہے آپ کا ان کو ڈرانا، اور نہ ڈرانا برابر ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–12

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا اور پھر ساتھ نبوت و رسالت کی تصدیق کی کہ حضور خاتم النبیین ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ پھر اللہ نے قرآن حکیم کے نزول کی غایت یہ بیان کی کہ تاکہ آپ اپنے اولین مخاطبین مشرکین مکہ کو ڈرا دیں جن کے آبائو اجداد کے پاس قریبی زمانہ میں کوئی ڈرانے والا نہیں آیا مگر ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ آپ کی تمام تر مساعی کے باوجود ان لوگوں کی اکثریت ایمان سے محروم رہے گی۔ گلے کے طوق اب آج کی آیات میں ایمان نہ لانے والوں کی حالت کا تذکرہ کیا گیا ہے اور خوف خدا رکھنے والوں کے بعض اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ اس کمے بعد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَجَعَلْنَا مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْہِمْ سَدًّا وَّمِنْ خَلْفِہِمْ سَدًّا فَاَغْشَيْنٰہُمْ فَہُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ۝ 9 سد السَّدُّ والسُّدُّ قيل هما واحد، وقیل : السُّدُّ : ما کان خلقة، والسَّدُّ : ما کان صنعة «1» ، وأصل السَّدِّ مصدر سَدَدْتُهُ ، قال تعالی: بَيْنَنا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا، [ الكهف/ 94] ، وشبّه به الموانع، نحو : وَجَعَلْنا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا [يس/ 9] ، وقرئ سدا «2» السُّدَّةُ : کا لظُّلَّة علی الباب تقية من المطر، وقد يعبّر بها عن الباب، كما قيل : ( الفقیر الذي لا يفتح له سُدَدُ السّلطان) «3» ، والسَّدَادُ والسَّدَدُ : الاستقامة، والسِّدَادُ : ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–10

وجعلنا من بین ایدیہم سدا و من خلفہم سدا یعنی آگے اور پیچھے ہر طرف سے بدبختی اور ازلی گمراہی کی دیواریں کھڑی ہیں۔ فاغشیناھم فہم لایبصرون کہ جنہوں نے ان کو چاروں طرف سے ڈھانک لیا جس لیے وہ کچھ حق و باطل میں تمیز نہیں کرتے۔ یہ بھی بطور تمثیل کے ہے۔ محاورہ کی بات ہے۔ کہا کرتے ہیں ہمارے اس کے درمیان دیواریں کھڑی ہوگئیں، یعنی آڑ اور حجاب رنج پیدا ہوگئے۔ پھر فرماتا ہے سواء علیہم الخ کہ اے محمد ﷺ آپ کا وعظ کرنا نہ کرنا ان کے حق میں یکساں ہے، ان کو کچھ فائدہ نہ دے گا۔ ان آیات میں مکہ کے سخت بدکیش اور سرکش کفار کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ ابوجہل و ابی بن خلف تھا اور یہ طوق اور یہ دیواریں ازلی بدبختی اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَجَعَلْنَا مِنْ م بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ سَدًّاوَّمِنْ خَلْفِھِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰـھُمْ فَھُمْ لاَ یُبْصِرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 9) (ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کردی اور ایک دیوار ان کے پیچھے، اس طرح ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے، پس ان کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے۔ ) گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت یہ گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت ہے کہ جن لوگوں کی ہٹ دھرمی اور استکبار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی محرومی کا فیصلہ کردیا ہے اور اس کی صورت یہ ہوئی ہے کہ وہ زمین و آسمان کی نشانیاں دیکھنے سے محروم کردیے گئے ہیں۔ اب اگر کوئی روشن سے روشن حقیقت بھی ان کے سامنے آجائے تو وہ اپنی بےبصیرتی اور صلاحیتوں کے کھو جانے کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–11

فہم القرآن ربط کلام : بیشک لوگوں کی اکثریت ایمان کے بارے میں اندھی ہوچکی ہے لیکن آپ ﷺ لوگوں کو ضرور انتباہ فرمائیں کیونکہ جو شخص اپنے رب سے غیب میں ڈرنے والا ہے وہ ضرور ہدایت پالے گا۔ ہدایت پانے والے کو جنت کی خوشخبری دیجیے۔ بیشک گمراہ لوگ آپ کی محنت کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور حق کے معاملے میں اندھے ہوچکے ہیں لیکن آپ سلیم الفطرت لوگوں کو سمجھاتے رہیں کیوں کہ ” اللہ “ سے ڈرنے والے نصیحت حاصل کیا کرتے ہیں۔ جو انسان آخرت کی جواب دہی کو بھول جائے حقیقت میں وہ اندھا ہوجاتا ہے۔ ایسے شخص کی آنکھوں سے غفلت کا پردہ اٹھانے اور آخرت کی جواب دہی کا احساس دلانے کے لیے اسے حقیقت حال سے آگاہ کیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9: وَجَعَلْنَا مِنْ بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِھِمْ سَدًّا۔ (اور ہم نے ایک آڑ ان کے پیچھے اور ایک ان کے سامنے کردی) قراءت : سَدًّا حمزہ، علی، حفص نے سین کے فتحہ سے پڑھا۔ ایک قول : یہ ہے کہ جو لوگوں نے روک بنائی ہو اس کے لئے سین مفتوح ہوگی اور جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے بنائی مثلاً پہاڑ وغیرہ وہ سُدًّا ضمہ سے آتا ہے۔ فَاَغْشَیْنٰھُمْ (جس سے ہم نے ان کو ڈھانک دیا) یعنی ان کی آنکھوں کو ڈھانپ دیا یعنی ہم نے ان کو ڈھانپ کر ان پر پردہ ڈال دیا۔ فَھُمْ لَایُبْصِرُوْنَ (پس وہ دیکھ نہیں سکتے) حق و ہدایت کو۔ ابوجہل کی بدترین حرکت : ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت بنو مخزوم کے متعلق اتری۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 9–10

9، وجعلنا من بین اید یھم سدا ومن خلفھم سدا، فتحہ کے ساتھ حمزہ کسائی اور حفص کے نزدیک ہے اور دوسرے قراء نے اس کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ، سدا،۔۔۔۔۔۔۔ فاغشیناھم، ہم نے ان کو اندھا کردیا۔ ، تغشیہ، پردہ ڈھا نک دینے کو کہاجاتا ہے۔ ، فھم لا یبصرون، ہدایت کا راستہ نہیں دیکھ سکتے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–11

5 تا 11۔ اوپر قرآن شریف کی قسم کھا کر یہ اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ جس قرآن کی قسم کھائی ہے وہ قرآن ایسے اللہ کا اتارا ہوا ہے جو قرآن کے جھٹلانے والوں کو سزا دینے میں بڑا زبردست اور قرآن کے ماننے والوں کے حق میں بڑا صاحب رحم ہے پھر قرآن کے نازل کرنے کا سبب بیان فرمایا کہ قرآن ایسے لوگوں کو عذاب آخرت سے ڈرانے کے لیے اتارا گیا ہے کہ جن میں بہت مدت سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اس واسطے ان میں موروثی غفلت چلی آتی ہے پھر فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے جو لوگ اللہ کے علم میں نافرمان ٹھہر چکے ہیں وہ اس قرآن کو نہیں مانیں گے اس لیے اے رسول اللہ کے ایسے لوگوں کے حال پر تم کو کچھ افسوس نہ کرنا چاہئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–20

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

11 منکرین محرومی کی دیواروں کے اندر ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے آگے اور ان کے پیچھے ان کی محرومی کی دیواریں ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے انکے آگے بھی ایک دیوار کھڑی کردی ہے اور انکے پیچھے بھی ایک دیوار کھڑی کردی ہے "۔ یہ دوسری تمثیل ہے کہ جس طرح کسی شخص کے آگے پیچھے ہر طرف دیوار ہو اور اوپر سے بھی اس کو ڈھانک دیا جائے تو اس کے لئے راستہ دیکھنا اور معلوم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی طرح ان لوگوں کا حال ہے۔ اور چاروں طرف کی یہ دیوار اور اوپر کی یہ چھت دراصل ان کی اپنی ضد وعناد اور ہٹ دھرمی کی وہ غیر مرئی دیواریں ہیں جو انہوں نے اپنے اردگرد خود…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

رسول کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : اللہ نے قرآن کی قسم قرآن کی فضیلت کے لیے کھائی ہے۔ جیسا کہ کئی دفعہ بیان کیا جا چکا ہے کہ قرآن اتنی مکمل اور بہترین کتاب ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رہ گئی کہ اب کوئی اور کتاب بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے بھیجی جائے۔ پھر اس کو بھیجنے والا غالب اور مہربان ہے۔ غالب اس طرح کہ اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں کہ جس کو بیان کرنا رہ گیا ہو۔ بلکہ اس میں تو ان تمام چھپی ہوئی اور آنیوالے زمانے کی باتیں بھی بڑی وضاحت اور آسان الفاظ میں بیان کردی گئی ہیں۔ مثلاً فرشتوں کے بارے میں، آخرت کے بارے میں، قیامت کے بارے میں، یہ سب علم الغیب ہے۔ مہربان اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–13

رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 12: اسرار و معارف : سورة یس کے بیشمار فضائل ہیں جو مفسرین کرام نے لکھ دئیے ہیں اور احادیث مبارکہ میں ارشاد ہیں اسی کو قرآن حکیم کا دل قرار دیا گیا ہے کسی بھی ضرورت یا مصیبت میں پڑھ کر دعا کرنا اس سے رہائی کا باعچ ہوتا ہے۔ یس حروف مقطعات میں سے ہے۔ قسم ہے قرآن حکیم کی یعنی یہ پر از حکمت کتاب کہ انسانی زندگی کے بہترین انداز میں بسر کرنے کا پورا طریقہ و سلیقہ موجود۔ طب و حکمت۔ عقل و دانش۔ سائنس و ایجادات۔ کیمیا و مرکبات۔ تاریخ و حقائق اور آئندہ کی پیشگوئیاں سب کچھ اس ایک کتاب میں موجود جس کا ایک ایک لفظ حق۔ سچ اور کھرا ہے یہی سب سے بڑا گواہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 یعنی جب وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں دن بدن پختہ ہی ہوتے چلے گئے تو اس کا نتیجہ یہ نکالا ہم نے انہیں یہ سزا دی کہ انکے آگے پیچھے ایسے اسباب۔ نسلی تعصبات، باپ دادا کی اندھی تقلید اور قومی رسوم و عادات کی بےجا پابندی وغیرہ۔ پیدا کردیئے جو انکے لانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور انکی آنکھوں پر غلط فہمیوں کی پٹی باندھ دی جسکی وجہ سے انہیں حق بات سوجھ ہی نہیں سکتی۔ اب انکے سامنے کوئی کھلی سے کھلی دلیل بھی آجائے تو وہ اسکی طرف توجہ نہیں دے سکتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 9–10

(36:9) من بین ایدیہم ان کے سامنے۔ سدا۔ دیوار۔ آڑ۔ بند۔ اغشیناہم۔ ماضی جمع متکلم۔ اغشاء (افعال) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہم نے ان کو اوپر سے ڈھانک دیا۔ یعنی ہم نے ان کو اندھا کردیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–12

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ الحکیم (پختہ اور مستحکم) حق القول ( بات پکی ہوچکی ہے ( عذاب ثابت ہوچکا ہے) اغناق ( عنق) (گردنیں) اغلال (طوق) الاذقان (ذقن) (ٹھوڑیاں) مقمحون ( مقمح) ( سر اونچا کرنے والے ( جو آگے نہیں جھکا سکتے) سد (دیوار) اغشینا ( ہم نے ڈھانپ دیا) خشی ( ڈرا) نکتب ( ہم لکھتے ہیں) قدموا ( آگے بھیجا) اثار ( اثر) پیچھے چھوڑی ہوئی نشانیاں ( اعمال) احصینا (ہم نے گھیر لیا) امام مبین ( کھلی کتاب) تشریح : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ اس سورت کا آغاز بھی ایسے حروف سے کیا گیا ہے جن کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے یعنی وہ حروف جو معنی سے کٹے ہوئے ہیں اور ان کے معنی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن اس جگہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–10

قرآن کے جھٹلانے والوں کا انجام۔ (ف 1) اوپر قرآن کی قسم کھاکریہ اسکی تفصیل بیان فرمائی کہ جس قرآن کی قسم کھائی گئی ہے وہ قرآن ایسے کا اتارا ہوا ہے جو قرآن کے جھٹلانے والے کو سزا دینے میں بڑازبردست اور قرآن کے ماننے والوں کے حق میں بڑاصاحب رحم ہے پھر قرآن کے نازل کرنے کا سبب بیان فرمایا کہ قرآن ایسے لوگوں کو عذاب آخرت سے ڈرانے کے لیے اتارا گیا ہے کہ جن میں بہت مدت سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اس واسطے ان میں موروثی غفلت چلی آتی ہے پھر فرمایا ان میں سے اکثر لوگوں پر بات تقدیری ثابت ہوچکی ہے اس لیے اے محبوب ﷺ ایسے لوگوں کے حال پر تم کو کچھ افسوس نہ کرنا چاہیے اب آگے ان نافرمان لوگوں کی مثال بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[5] نبی کی عداوت نے ان کے اور قبول حق کے درمیان دیواریں کھڑی کردی تھیں۔ وہ جاہلانہ رسوم واطوار اور خیالات فاسدہ کے اندھیروں میں اس طرح بند تھے کہ انہیں آگا پیچھا اور نشیب و فراز کچھ نظر نہ آتا تھا۔ نہ ماضی پر نظر تھی نہ مستقبل پر۔ باقی ان افعال کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اس لئے کی گئی کہ خالق خیر وشر وہی ہے۔ اس ضمن میں ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 8 صفحہ 93 اور سورة اعراف حاشیہ 55 صفحہ 385۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–11

ف 1: یہ سورة مکی ہے ۔ اس میں وہی مضامین ہیں جو تمام مکی سورتوں میں پائے جاتے ہیں ۔ یعنی قرآن کے فضائل اور محسامد رسالت کا ذکر اور توحید کا تذکرہ یا حسر ونشر کے متعلق شکوک و شبہات کا بیان اور ان کا ازالہ ۔ قرآن میں جہاں جہاں قسمیں آئی ہیں ۔ وہاں ان سے مراد ایک قسم کا استشہاد اور استدلال ہوتا ہے ۔ مثلاً یہاں قرآن حکیم کو بطور مقسم بہ کے ذکر کیا ہے ۔ اور اس کے بعد فرمایا ہے کہ آپ بلاشبہ اللہ کے رسول ہیں ۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی نبوت اور رسالت پر بہترین دلیل خودیہ صحیفہ حکمت ہے ۔ اس میں جنتا غور کیجئے گا ۔ آپ کو معلوم ہوگا ۔ کہ یہ حیرت انگیز کتاب ہے ۔ اس کی بلاغت اس کا معارف سے معمور ہونا ۔ اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) اور ہم نے ایک دیوار ان کے آگے اور ایک دیوار ان کے پیچھے کھڑی کردی ہے اور اوپر سے ان کو ڈھانک دیا ہے لہٰذا وہ کسی چیز کو دیکھ نہیں سکتے۔ یہ بھی ان کے کفروعناد اور مخالفانہ جدوجہد کی تصویر و تمثیل ہے۔ یہی منکروں کی وہ باتیں ہیں جو دین حق کو قبول کرنے سے آڑ بن گئی ہیں اور ان کی آنکھوں پر پردہ بن کر ان کو حق کے دیکھنے سے اندھا بنادیا ہے اور ان کو کچھ سوجھتا نہیں۔ یہ تمام ان کی ناشائستہ حرکات کی مثال ہے۔ کوئی حرکت گلے کا طوق بن گئی ہے اور ان کی بعض حرکات ان کی محرومی کیلئے آڑ اور دیوار اور پردہ بن گئی ہیں۔ اسی لئے ان کی شقاوت و بدبختی کا آگے کی آیت میں اظہار فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہمارے قانون مشیت نے ان کو آگے اور پیچھے سے روک کر اوپر چادر ڈال دی ہے : 9۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ان کو اپنی وقتی حالت پر اتنا نشہ ہے کہ وہ نہ آگے کو دیکھنے کے لئے تیار ہیں اور نہ پیچھے کو بلکہ یہ بدحال اپنے حال میں مست ہیں اور موجودہ حالت میں وہ نہ اس بات کو دیکھنے کے لئے تیار ہیں کہ وہ کس حقیر پانی سے تخلیق کیے گئے ہیں اور نہ اپنے طریقہ تخلیق کی طرف کبھی ان کو دھیان آیا ہے اور نہ ہی ان کو وہ وقت یاد ہے جو اس دنیا میں قدم رکھنے کا تھا گویا غفلت نے ان پر اس طرح پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ ساری طرفوں سے اس وقت رکے پڑے ہیں اور اپنی موجودہ حالت میں مگن ہیں نہ بڑھاپا ان کو یاد ہے اور نہ موت ۔ بس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–11

Verses 7 and 8 لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِ‌هِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا (The word has indeed come true about most of them, so they will not believe. Surely We have placed iron collars on their necks, so they are reaching up to their chins, and their heads are forced to remain upraised.) mean that Allah Ta’ ala has already placed before human beings two alternate ways of life - the way of kufr (disbelief) and 'Iman (faith) and the way of Jannah (Paradise) and Jahannam (the Hell) - and to give direction and substance to this call of faith,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

7 Set a barrier before them and a barrier behind them" means that the natural result of their stubbornness and pride is that they neither learn any lesson from their past history nor ever consider the consequences of the fixture. Their prejudices have so covered them from every side and their misconceptions have so blinded them that they cannot see even those glaring realities which are visible to every right-thinking and unbiased person.

Read the full tafseer →