Yaseen 36:8

Yaseen · from ayah 8

36:8

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَی الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ ۟اِنَّا جَعَلۡنَا فِىۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ اَغۡلٰلًا فَهِىَ اِلَى الۡاَ ذۡقَانِ فَهُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال رکھے ہیں اور وہ ٹھوڑیوں تک (پھنسے ہوئے ہیں) تو ان کے سر اُلل رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, We have put shackles on their necks, and they are to their chins, so they are with heads [kept] aloft.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:8

ہم نے اُن کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں جن سے وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے گئے ہیں، اس لیے وہ سر اٹھائے کھڑے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال رکھے ہیں اور وہ ٹھوڑیوں تک (پھنسے ہوئے ہیں) تو ان کے سر اُلل رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں پھر وه ٹھوڑیوں تک ہیں، جس سے ان کے سر اوپر کو الٹ گئے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے ان کے گلوں میں طوق ڈال رکھے ہیں، جو ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہیں، اور اس وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے رہ گئے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم نے ان کی گردنو ں میں طوق کردیے ہیں کہ وہ ٹھوڑیوں تک ہیں تو یہ اوپر کو منہ اٹھائے رہ گئے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ہم نے اُن کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں تو وہ اُن کی ٹھوڑیوں تک ہیں، پس وہ سر اوپر اٹھائے ہوئے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک ہم نے ان کی گردنوں میں کئی طوق ڈال دیے ہیں، پس وہ ٹھوڑیوں تک ہیں، سو ان کے سر اوپر کو اٹھا دیے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے ان کے گلوں میں طوق ڈال دیئے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک پہنچ گئے ہیں۔ لہذا وہ سر اٹھائے ہی رہتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک ہیں پس ان کے سر اٹھے رہ گئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک ہم نے ڈال دئیے ان کی گردنوں میں ایسے بھاری بھر کم طوق جو ان کی ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہیں جن میں یہ (بری طرح) جکڑے ہوئے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں سو وہ ان کی ٹھوڑیوں تک آگئے ہیں جن سے ان کے سراوپر کو اٹھے رہ گئے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں اور وہ ان کی ٹھوڑیوں تک ہیں پس ان کے سر اونچے اٹھے رہ گئے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال رکھے ہیں اور وہ ٹھوڑیوں تک پھنسے ہوئے ہیں تو ان کے سراوپر کو اٹھا دیے ہوئے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We have put fetters around their necks which reach up to their chins so that they are standing with their heads upright,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We have placed iron collars on their necks, so they are reaching up to their chins, and their heads are forced to remain upwards.

— Muhammad Taqi Usmani

We have placed iron collars on their necks, so they are reaching up to their chins, and their heads are forced to remain upwards.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, We have put on their necks iron collars reaching to the chins, so that their heads are raised up.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! We have put on their necks carcans reaching unto the chins, so that they are made stiff-necked.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, We have put shackles on their necks, and they are to their chins, so they are with heads [kept] aloft.

— Saheeh International

We have enchained their necks up to their chins. Thus, they cannot bend their heads (to find their way).

— Muhammad Sarwar

Surely We have placed chains on their necks, and these reach up to their chins, so they have their heads raised aloft.

— Muhammad Habib Shakir

Verily We have placed on their necks shackles which are up to the chins; so that their heads are forced up.

— Abdul Majid Daryabadi

We have put yokes round their necks right up to their chins, so that their heads are forced up (and they cannot see).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–12

شب ہجرت اور کفار کے سرخاک۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان بدنصیبوں کا ہدایت تک پہنچنا بہت مشکل بلکہ محال ہے۔ یہ تو ان لوگوں کی طرح ہیں جن کے ہاتھ گردن پر باندھ دیئے جائیں اور ان کا سر اونچا جا رہا ہو۔ گردن کے ذکر کے بعد ہاتھ کا ذکر چھوڑ دیا لیکن مراد یہی ہے کہ گردن سے ملا کر ہاتھ باندھ دیئے گئے ہیں اور سر اونچے ہیں اور ایسا ہوتا ہے کہ بولنے میں ایک چیز کا ذکر کر کے دوسری چیز کو جو اسی سے سمجھ لی جاتی ہے اس کا ذکر چھوڑ دیتے ہیں عرب شاعروں کے شعر میں بھی یہ بات موجود ہے۔ غل کہتے ہی ہیں دونوں ہاتھوں کو گردن تک پہنچا کر گردن کے ساتھ جکڑ بند کردینے کو۔ اسی لئے گردن کا ذکر کیا اور ہاتھوں کا ذکر چھوڑ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یٰسٓ 6 اس آیت میں " طوق " سے مراد ان کی اپنی ہٹ دھرمی ہے جو ان کے لیے قبول حق میں مانع ہو رہی تھی۔ " ٹھوڑیوں تک جکڑے جانے " اور سر اٹھائے کھڑے ہونے " سے مراد وہ گردن کی اکڑ ہے جو تکبر اور نخوت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ ہم نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو ان کی گردن کا طوق بنادیا ہے، اور جس کبر و نخوت میں یہ مبتلا ہیں اس کی وجہ سے ان کی گردنیں اس طرح اکڑ گئی ہیں کہ اب خواہ کوئی روشن حقیقت بھی ان کے سامنے آجائے، یہ اس کی طرف التفات کر کے نہ دیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–11

(آیت) لقد حق القول علیٰ اکثرہم فہم لا یومنون، انا جعلنا فی اعنا قہم اغلاً الایة، مراد یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے کفر و ایمان اور جنت و دوزخ کے دونوں راستے انسان کے سامنے کردیئے، اور ایمان کی دعوت کے لئے انبیاء اور کتابیں بھی بھیج دیں، پھر انسان کو اتنا اختیار بھی دے دیا کہ وہ اپنے بھلے برے کو پہچان کر کوئی رستہ اختیار کرے۔ جو بدنصیب نہ غور و فکر سے کام لے نہ دلائل قدرت میں غور کرے، نہ انبیاء کی دعوت پر کان دھرے نہ اللہ کی کتاب میں غور و تدبر کرے تو اس نے اپنے اختیار سے جو راہ اختیار کرلی تو حق تعالیٰ .... اسی کے سامان اس کے لئے جمع فرما دیتے ہیں، جو کفر میں لگ گیا پھر اس کے واسطے کفر بڑھانے ہی کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

انا جعلنا فی اعناقھم اغللال فھی الی الازقان فھم مقمحون (8) یہ ان ایمان نہ لانے والوں کے استکبار کی تصویر ہے کہ گویا ان کی گردنوں میں ایسے طوق پڑے ہوئے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک پہنچتے ہیں جس کے سبب سے ان کے سر اس طرح اٹھے ہوئے رہ گئے ہیں کہ نہ وہ نیچے کی طرف جھک سکتے ہیں اور نہ اوپر ہی کی طرف اٹھ سکتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ و زمین کی نشانیاں دیکھ سکتے اور نہ آسمان کے عجائب ہی پر نگاہ ڈال سکتے۔ ان کی اس حالت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو ایسا بنا دیا ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم جگہ جگہ ارشاد کرتے آرہے ہیں، یہ ہے کہ کسی فرد یا گروہ کی یہ حالت اللہ تعالیٰ کی سنت کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 جس کی وجہ سے وہ ادھر ادھر دیکھ سکتے ہیں۔ نہ سر جھکا سکتے ہیں، بلکہ وہ سر اوپر اٹھائے اور نگاہیں نیچے کئے ہوئے ہیں۔ یہ ان کے عدم قبول حق کی اور عدم انفاق کی تمثیل ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ان کی سزا جہنم کی کیفیت کا بیان ہو۔ (ایسر التفاسیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–11

3: یہ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو بیان کرنے کے لئے ایک استعارہ اور مجازی تعبیر ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ حق کے صاف صاف ظاہر ہونے کے باوجود ان لوگوں نے اس طرح ہٹ دھرمی کی روش اختیار کی ہے کہ اپنے آپ کو حق کے دیکھنے سے محروم کرلیا ہے، جیسے ان کے گلوں میں طوق پڑے ہوئے ہوں، اور ان کے ہر طرف ایسی دیواریں کھڑی ہوں کہ ان کو کچھ سمجھائی نہ دے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

انا جعلنا فی اعناقھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فھم لا یبصرون (36: 8 – 9) ” ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے ہیں جن سے وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے گئے ہیں ، اس لیے وہ سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کردی ہے اور ایک دیوار ان کے پیچھے۔ ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے۔ انہیں اب کچھ نہیں سوجھتا “۔ ان کے ہاتھ طوقوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ پھر یہ ان کی گردنوں کے ساتھ بندھے ہیں اور ان کی ٹھوڑیوں کے نیچے جکڑ دئے گئے ہیں۔ اس طرح ان کے سر مجبوراً اوپر کی طرف اٹھ گئے ہیں ۔ اس لیے وہ اپنے سامنے کی طرف نیچے راستے کو دیکھنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ چونکہ وہ اس بری حالت میں ہیں۔ اس لیے نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ کچھ کرسکتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یہ ان ہی لوگوں کے حق میں ہے جن کا ذکر گزشتہ فائدہ میں ہوا۔ یہ طوق عادات و رسوم حب جاہ و مال اور تقلید آباء و اجداد کے تھے جنہوں نے ان کے گلے سختی سے دبا رکھے تھے اور نخوت وتکبر کی وجہ سے ان کے سر نیچے نہیں جھکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 { اِنَّا جَعَلْنَا فِیْٓ اَعْنَاقِہِمْ اَغْلٰلاً فَہِیَ اِلَی الْاَذْقَانِ فَہُمْ مُّقْمَحُوْنَ } ”ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں اور وہ ان کی ٹھوڑیوں تک ہیں ‘ پس ان کے سر اونچے اٹھے رہ گئے ہیں۔“ یعنی ان کی کیفیت اس شخص کی سی ہے جس کی گردن میں طوق پڑا ہو اور وہ طوق اس کی ٹھوڑی کے نیچے جاپھنسا ہو۔ ایسے شخص کے چہرے کا رخ مستقل طور پر اوپر کی طرف ہوجاتا ہے اور وہ اپنے سامنے کی چیزوں کو نہیں دیکھ سکتا۔ مطلب یہ کہ تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ لوگ واضح حقائق کو بھی دیکھنے اور سمجھنے سے قاصر ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 تقلید آباء اور رسم و رواج کے طوق :۔ یہ طوق ان کی تقلید آباء کے طوق تھے، ان کی جاہلانہ اور مشرکانہ رسوم کے طوق تھے، ان کے کبرونخوت کے طوق تھے جنہوں نے ان کے گلوں کو اس حد تک دبا رکھا تھا اور ان کے سر اس قدر جکڑے ہوئے تھے کہ وہ کسی دوسری طرف دیکھ ہی نہ سکتے تھے۔ نہ ہی ان کی نگاہیں نیچے اپنی طرف دیکھ سکتی تھیں کہ وہ کم از کم اپنے اندر ہی موجود اللہ کی نشانیوں اور قدرتوں کو دیکھ کر کچھ سبق حاصل کرسکیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–9

4۔ یعنی نہ آگے دیکھ سکتے ہیں نہ پیچھے۔ یہ ساری تمثیل ان لوگوں کے بعد عن الایمان کی ہے۔ یعنی چونکہ انہوں نے خود قوت ارادی سے صحیح کام نہیں لیا، توفیق ہدایت بھی ان سے مطلق سلب ہوگئی۔ فی ان لاتامل لھم ولا تبصروا نھم متعامون عن النظر فی ایات اللہ (مدارک) غفلت ان لوگوں کی ارادی اور مجرمانہ تھی، لیکن یہاں بحیثیت مسبب الاسباب کے ان حالات کو حق تعالیٰ نے منسوب اپنی ہی جانب کیا ہے۔ (آیت) ” اناجعلنا۔ وجعلنا۔ فاغشینھم “۔ صیغہ متکلم ان سب مقامات پر حق تعالیٰ کی جانب محض نظام تکوینی کے علت العلل کی حیثیت سے استعمال ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–12

آیت نمبر 1 تا 12 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یسٓن اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے محکم قرآن کی جو عجیب نظم اور انوکھے معانی سے محکم ہے بلاشبہ اے محمد آپ مرسلین میں سے ہیں (اور) سیدھے راستہ پر ہیں علیٰ اپنے ماقبل (مرسلین) سے متعلق ہے (اور طریق مستقیم سے مراد) انبیاء سابقین کا طریقہ ہے، جو کہ توحید اور ہدایت کا راستہ ہے، اور قسم وغیرہ کے ذریعہ تاکید کافروں کے قول لَسْتَ مُرسَلاً کو رد کرنے کے لئے ہے یہ قرآن اس (خدا) کا نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب اور اپنی مخلوق پر مہربان ہے (تنزیل العزیز) مبتداء محذوف یعنی القرآن کی خبر ہے تاکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انا جعلنا فی اعناقھم اغللاً فھی الی الاذقان فھم مقمحون . ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے ہیں ‘ پھر وہ ٹھوڑیوں تک اڑ گئے ہیں ‘ سو ان کے سر اوپر کو اُ چکے ہوئے ہیں۔ مذکورہ آیت ابوجہل کے حق میں لاَ یُبْصِرُوْنَ تک نازل ہوئی۔ چناچہ لوگ ابوجہل سے کہتے تھے : یہ محمد ﷺ موجود ہیں (اب تم جو کہتے تھے ‘ وہ کر دکھاؤ) تو ابوجہل کہتا تھا : کہاں ہیں ‘ مجھے تو دکھائی نہیں دیتے۔ بغوی نے لکھا ہے : اس آیت کا نزول ابوجہل اور اس کے ایک مخزومی ساتھی کے حق میں ہوا۔ ابوجہل نے قسم کھا کر کہا تھا کہ میں نے جہاں بھی محمد ﷺ کو دیکھ پایا ‘ پتھر سے ان کا سر کچل دوں گا۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کو نماز کی حالت میں اس نے دیکھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ہم نے ان کی گردنوں میں لوہے کے طوق ڈال دیے ہیں، پھر وہ ان کی ٹھوڑیوں تک اڑ گئے ہیں جس سے ان کے سر اوپر ہی کو اٹھے رہ گئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّا جَعَلْنَا فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا : ”اَغْلٰلًا“ ”غُلٌّ“ (غین کے ضمّہ کے ساتھ) کی جمع ہے، لوہے کا کڑا یا زنجیر جو مجرم کے گلے میں ڈال کر اسے باندھا جاتا ہے، بعض اوقات اس کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ بھی گردن کے ساتھ باندھ دیے جاتے ہیں۔ یہ قید کی سخت ترین صورت ہے۔ ”الْاَذْقَانِ“ ”ذَقَنٌ“ کی جمع ہے، ٹھوڑیاں۔ ”مُّقْمَحُوْنَ“ ”قَمَحَ الْبَعِیْرُ“ جب اونٹ حوض سے سر اٹھائے اور پانی نہ پیے۔ ”فُلَانٌ أَقْمَحَ الْبَعِیْرَ“ ”فلاں نے اونٹ کا سر اٹھا دیا۔“ ”مُقْمَحٌ“ اسم مفعول، جس کا سر اوپر اٹھا دیا گیا ہو اور وہ اسے نیچے نہ جھکا سکتا ہو۔ اس آیت میں ان کے کفر پر اصرار اور اڑے رہنے کی نہایت مؤثر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–8

لتنذر قوما ما انذر ابائوہم اکثر علماء تفسیر کے نزدیک ما کا اعراب میں کوئی محل نہیں ‘ ان میں سے قتادہ بھی ہیں کیونکہ یہ نافیہ ہے (1) تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جسے آپ سے قبل کسی ڈرانے والے نے نہیں ڈرایا ‘ یہ حضرت ابن عباس ‘ عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : ما اور فعل مصدر ہیں تقدیر کلام یہ ہوئی لتنذر قوما ما انذار آبائہم۔ ایک قول یہ کیا گیا : ما ‘ الذی کے معنی میں ہے (2) معنی یہ ہوگا آپ انہیں ڈرائیں جس طرح ان کے آبا کو ڈرایا گیا۔ یہ حضرت ابن عباس ‘ عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ عربوں کو تواتر سے انبیاء کی خبریں پہنچی ہوں معنی یہ ہوگا انہیں میں سے کسی رسول میں سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

14:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ابو جہل نے کہا اگر میں محمد ﷺ کو دیکھ لوں تو میں البتہ ضرور ایسا کروں گا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” انا جعلنا فی اعناقھم اغللا “ (کہ ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے) سے لے کر ” لا یبصرون “ تک (کہ وہ نہیں دیکھیں گے) اور لوگ کہتے تھے کہ یہ محمد ﷺ ہیں اور وہ کہتا ہے وہ کہاں ہیں، وہ کہاں ہیں کہ وہ ان کو نہ دیکھ سکیں۔ 17:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” اغللا “ سے مراد ہے طوق پہننے سے لے کر تھوڑی تک (آیت) ” فھم مقمحون “ (تو ان کے سراوپر کو اٹھے ہوں گے) جیسے جانور کا سرلگام (کے کھینچنے) سے اوپر کو اٹھ جاتا ہے۔ 18:۔ سعید بن منصور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّا جَعَلْنَا [بیشک ہم نے بنائے ] فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ [ان کی گر دنوں میں ] اَغْلٰلًا [کچھ طوق ] فَهِىَ اِلَى الْاَذْقَانِ [پھر وہ (طوق) ٹھوڑ یوں تک ہیں ] فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ [تو وہ لوگ گردن جکڑ ادئے ہوئے ہیں ] ۔ ق م ح (ن) قموحا اونٹ کا سیراب ہوکر پینے سے رک جانا اور حوض سے سر اونچا کرنا۔ (افعال) اقماحا اونٹ کا سر اونچا کرکے پیچھے سے باندھ دینا۔ گردن اکڑا دینا۔ مقمح اسم المفعول ہے۔ سر باندھا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 8 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد منکرین کے ایک عذاب کا تذکرہ فرمایا (اِنَّا جَعَلْنَا فِیْٓ اَعْنَاقِھِمْ ) (الآیۃ) کہ ہم ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے یہ طوق ٹھوڑیوں تک ہیں (اور ہاتھ بھی اوپر ہی ان طوقوں میں بندھے ہوئے ہوں گے) لہٰذا ان لوگوں کی کیفیت ایسی ہوجائے گی کہ ان کے سر اوپر ہی کو اٹھے ہوئے رہ جائیں گے نیچے کو نہ جھکا سکیں گے۔ علامہ قرطبی ؓ (جلد 15: ص 9) نے بعض حضرات سے آیت کا یہ مفہوم نقل کیا ہے اور بتایا ہے کہ اہل کفر کے ساتھ یہ معاملہ دوزخ میں ہوگا اور سورة المومن کی آیت کریمہ (اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْ اَعْنَاقِھِمْ وَالسَّلٰسِلُ ) سے استدلال کیا ہے، بظاہر یہ رائے ٹھیک ہے اس میں مجاز اور تمثیل کا ارتکاب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–12

اثبات رسالت محمد موکد بقسمے کہ آں دلیل نبوت است ومقرون بہ بیان تفاوت استعداد درقبول حق وہدایت وتہدید مکذبین نبوت ومنکرین قیامت قال اللہ تعالی۔ یس والقران الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین۔ (ربط) گزشتہ سورت میں کفار کے استکبار اور انکار کا ذکر تھا کہ وہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کے منکر ہیں اور آپ ﷺ کو جھوٹا بتلاتے ہیں اب اس سورت میں آپ کی نبوت و رسالت کو قسم کے ساتھ بیان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ یٰسین۔ اس کی مراد اور اس کے معنی کو اللہ ہی خوب جانتا ہے یٰسین حروف مقطعہ میں سے ہے جو خزانہ غیب کا ایک سرمکتوم ہے۔ جمہور صحابہ وتابعین کے نزدیک اس کی مراد سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

5:۔ انا جعلنا الخ یہ ان کے ایمان نہ لانے کی علت ہے یعنی مہر جباریت کا بیان ہے۔ ثم بین سبب ترکھم الایمان فقال انا جعلنا فی اعنقاھم اغلالا۔ (قرطبی ج 15 ص 7) ۔ یہ مہر جباریت کی پہلی تمثیل ہے مشرکین جو ضد اور عناد کی وجہ سے حق کا انکار کرتے ہیں ان کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جن کے گلوں میں ٹھوریوں تک طوق ڈالے گئے ہوں اور ان کے سر اوپر کو اٹھ جائیں اور وہ نیچے نگاہ کر کے راستہ نہ دیکھ سکیں اور نہ گردنوں کو ادہر ادہر موڑ سکیں یہی حال ان معاندین کا ہے کہ عناد و مکابرہ کی وجہ سے وہ حق کی طرف التفات نہیں کرتے نہ حق کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ وجعلنا من بین ایدیہم سدا الخ یہ دوسری تمثیل ہے ان معاندین کی مثال…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–12

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا اور پھر ساتھ نبوت و رسالت کی تصدیق کی کہ حضور خاتم النبیین ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ پھر اللہ نے قرآن حکیم کے نزول کی غایت یہ بیان کی کہ تاکہ آپ اپنے اولین مخاطبین مشرکین مکہ کو ڈرا دیں جن کے آبائو اجداد کے پاس قریبی زمانہ میں کوئی ڈرانے والا نہیں آیا مگر ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ آپ کی تمام تر مساعی کے باوجود ان لوگوں کی اکثریت ایمان سے محروم رہے گی۔ گلے کے طوق اب آج کی آیات میں ایمان نہ لانے والوں کی حالت کا تذکرہ کیا گیا ہے اور خوف خدا رکھنے والوں کے بعض اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ اس کمے بعد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّا جَعَلْنَا فِيْٓ اَعْنَاقِہِمْ اَغْلٰلًا فَہِىَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَہُمْ مُّقْمَحُوْنَ۝ 8 جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ عنق العُنُقُ : الجارحة، وجمعه أَعْنَاقٌ. قال تعالی: وَكُلَّ إِنسانٍ أَلْزَمْناهُ طائِرَهُ فِي عُنُقِهِ ( ع ن ق ) العنق ۔ گردن جمع اعناق ۔ قرآن میں ہے : وَكُلَّ إِنسانٍ أَلْزَمْناهُ طائِرَهُ فِي عُنُقِهِ [ الإسراء/اور ہم نے پر انسان کے اعمال کو ( یہ صورت کتاب ) اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے ۔ غل الغَلَلُ أصله : تدرّع الشیء وتوسّطه،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

انا جعلنا فی اعناقہم اغلالاً فہی الی الاذقان فہم مقمحون کہ ہم نے ان کی گردن میں ازلی بدبختی کے طوق ڈال دیے جو ٹھوڑیوں تک اڑے ہوئے ہیں، اس لیے ان کی آنکھیں اوپر کو رہ گئیں، راہ حق نہیں دیکھ سکتے۔ اقماح سر اٹھانا آنکھ بند کرلینا۔ دراصل ان کے گلوں میں طوق نہیں پہنائے گئے تھے، بلکہ یہ کلام بطور تشبیہ کے ہے، ان کے حال کو تشبیہ دی گئی ہے، اس کے حال کے ساتھ کہ جس کے گلے میں طوق ڈال دیا ہو۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْٓ اَعْنَاقِہِمْ اَغْلٰـلًا فَھِیَ اِلَی الْاَذْقَانِ فَھُمْ مُّقْمَحُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 8) (ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک ہیں پس ان کے سر اٹھے ہوئے ہیں۔ ) مخالفین کے ایمان نہ لانے کا سبب سابقہ آیت میں جن لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے اس آیت کریمہ میں اس کی وجہ بیان فرمائی گئی ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا سبب ان کا استکبار اور ان کی ہٹ دھرمی ہے۔ یہ ہٹ دھرمی ان کے گلے کا طوق بن گئی ہے، جس طرح طوق اگر گردن سے ٹھوڑی تک لٹک رہا ہو تو وہ گردن کو اوپر اٹھنے نہیں دیتا، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان مشاہدے اور غور و فکر سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–8

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کی اکثریت کیوں ایمان نہیں لاتی ؟ ایمان کی دولت پانے کے لیے لازم ہے کہ انسان اپنی انا اور جہالت سے کنارہ کش ہوجائے۔ جو شخص جہالت اور انا پرستی نہیں چھوڑتا درحقیقت وہ متکبر ہوتا ہے۔ متکبر انسان حقیقت اور سچائی کو تسلیم کرنا اپنے لیے عار سمجھتا ہے۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی جس بنا پر ان کے بڑوں نے یہ کہہ کر آپ ﷺ کی نبّوت کا انکار کیا اور کہا کہ نبّوت مکہ یا طائف کے بڑے سرداروں میں سے فلاں کو ملنا چاہیے تھی۔ کچھ لوگوں نے آباء و اجداد کی رسومات کا بہانہ بنا کر آپ ﷺ کی اتباع سے اجتناب کیا۔ اس طرح وہ مختلف قسم کے تعصبات اور فخر و غرور میں مبتلا تھے۔ جس کی وجہ سے ان کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفر پر پختگی کی تمثیل : 8: پھر ان کی کفر پر پختگی کو تمثیل سے سمجھایا۔ کہ کفر سے ان کے لوٹنے کی کوئی راہ نہیں۔ ان کو اس طرح قرار دیا گویا کہ وہ ان لوگوں کی طرح ہیں جن کے گلے میں طوق پڑے ہوئے ہوں جس سے ان کے سرا چکے ہوں۔ ادھر ادھر سر نہ پھیر سکتے ہوں۔ اسی طرح لوگ بھی حق کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے اور نہ اپنی گردنیں حق کی طرف موڑتے ہیں اور نہ اس کے لئے اپنے سروں کو جھکاتے ہیں۔ اور یہ لوگ ان لوگوں کی طرح ہیں جو دو دیواروں کے درمیان پھنس جائیں نہ سامنے دیکھیں اور نہ پیچھے اسی طرح یہ عدم تامل اور عدم تبصر میں اور اللہ تعالیٰ کی آیات میں غور و فکر سے بتکلف اندھا پن اختیار کرنے میں ان لوگوں کی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت انا جعلنا فی اعناقھم کا شان نزول 8، انا جعلنا فی اعناقھم اغلالا، اس آیت کا نزول ابو جہل اور اس کے ایک مخزومی ساتھی کے حق میں ہوا۔ ابو جہل نے قسم کھاکر کہا تھا کہ میں نے جہاں بھی محمد (ﷺ) کو نماز پڑھتے پایا پتھر سے سرکچل دوں گا۔ ایک دن وہ آیا آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور اس کے ہاتھ میں پتھر تھا تا کہ وہ آپ ﷺ کا سر کچل دے ۔ جب اس نے پتھر مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا تو اس کا ہاتھ گردن کے ساتھ چمٹ گیا۔ جب وہ اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹا اور ان کو اس کی خبردی جو اس نے دیکھا اس کے ہاتھ سے پتھر گرگیا۔ بنی مخزوم میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں اس پتھر سے آپ ﷺ کو قتل کروں گا (نعو ذباللہ) وہ آپ ﷺ کے پاس آیا ۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–11

5 تا 11۔ اوپر قرآن شریف کی قسم کھا کر یہ اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ جس قرآن کی قسم کھائی ہے وہ قرآن ایسے اللہ کا اتارا ہوا ہے جو قرآن کے جھٹلانے والوں کو سزا دینے میں بڑا زبردست اور قرآن کے ماننے والوں کے حق میں بڑا صاحب رحم ہے پھر قرآن کے نازل کرنے کا سبب بیان فرمایا کہ قرآن ایسے لوگوں کو عذاب آخرت سے ڈرانے کے لیے اتارا گیا ہے کہ جن میں بہت مدت سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اس واسطے ان میں موروثی غفلت چلی آتی ہے پھر فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے جو لوگ اللہ کے علم میں نافرمان ٹھہر چکے ہیں وہ اس قرآن کو نہیں مانیں گے اس لیے اے رسول اللہ کے ایسے لوگوں کے حال پر تم کو کچھ افسوس نہ کرنا چاہئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–20

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

9 منکرین و معاندین اللہ تعالیٰ کی سنت کی زد میں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -: سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے ڈال دیئے ان کی گردنوں میں بھاری بھرکم طوق "۔ یعنی ضد وعناد اور ہٹ دھرمی کے وہ طوق جنہوں نے ان کو حق سے محروم کر رکھا ہے۔ یہ طوق اگرچہ آج نظر نہیں آ رہے مگر کل قیامت کو جب اصل حقائق نظروں کے سامنے آجائیں گے تو اس وقت یہ طوق بھی سامنے نظر آئیں گے جو دنیا میں ان کے گلوں میں پڑے ہوئے تھے اور جن کی وجہ سے یہ لوگ حق اور ہدایت کی دولت سے محروم ہوگئے تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور " ہم نے ڈال دیئے " کا مطلب یہ ہے کہ ہماری سنت اور ہمارا قانون اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

رسول کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : اللہ نے قرآن کی قسم قرآن کی فضیلت کے لیے کھائی ہے۔ جیسا کہ کئی دفعہ بیان کیا جا چکا ہے کہ قرآن اتنی مکمل اور بہترین کتاب ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رہ گئی کہ اب کوئی اور کتاب بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے بھیجی جائے۔ پھر اس کو بھیجنے والا غالب اور مہربان ہے۔ غالب اس طرح کہ اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں کہ جس کو بیان کرنا رہ گیا ہو۔ بلکہ اس میں تو ان تمام چھپی ہوئی اور آنیوالے زمانے کی باتیں بھی بڑی وضاحت اور آسان الفاظ میں بیان کردی گئی ہیں۔ مثلاً فرشتوں کے بارے میں، آخرت کے بارے میں، قیامت کے بارے میں، یہ سب علم الغیب ہے۔ مہربان اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–13

رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 12: اسرار و معارف : سورة یس کے بیشمار فضائل ہیں جو مفسرین کرام نے لکھ دئیے ہیں اور احادیث مبارکہ میں ارشاد ہیں اسی کو قرآن حکیم کا دل قرار دیا گیا ہے کسی بھی ضرورت یا مصیبت میں پڑھ کر دعا کرنا اس سے رہائی کا باعچ ہوتا ہے۔ یس حروف مقطعات میں سے ہے۔ قسم ہے قرآن حکیم کی یعنی یہ پر از حکمت کتاب کہ انسانی زندگی کے بہترین انداز میں بسر کرنے کا پورا طریقہ و سلیقہ موجود۔ طب و حکمت۔ عقل و دانش۔ سائنس و ایجادات۔ کیمیا و مرکبات۔ تاریخ و حقائق اور آئندہ کی پیشگوئیاں سب کچھ اس ایک کتاب میں موجود جس کا ایک ایک لفظ حق۔ سچ اور کھرا ہے یہی سب سے بڑا گواہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 مطلب یہ ہے کہ طوقوں کی وجہ سے وہ نہ سر جھکا سکتے ہیں، اور نہ ادھر ادھر دیکھ سکتے ہیں۔ اس لئے وہ اپنے سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ یہاں طوق کا لفظ ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہدایت سے محروم ہونے کیلئے بطور مثال ذکر کیا گیا ہے۔ ( ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:8) اغلالا۔ طوق۔ غل کی جمع۔ نیز ملاحظہ ہو (34:33) ۔ فھی۔ میں ضمیرھی واحد مؤنث غائب اغلالا کے لئے ہے۔ الاذقان۔ ذقن کی جمع۔ ٹھوڑیاں۔ مقمحون۔ اسم مفعول جمع مذکر، مقمح واحد اقماح (افعال) مصدر قمح مادہ۔ وہ لوگ جو گردن پھنسنے کی وجہ سے سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہوں۔ قمح اس گیہوں کو کہتے ہیں جو پکنے کے وقت سے لے ذخیرہ اندوزی تک بالی کے اندر ہی رکھا جائے اور اس گیہوں سے جو ستو بنایا جاتا ہے اسے قمیحۃ کہتے ہیں (اور ستو کی مناسبت سے ) کوئی چیز پھانکنے کے لئے سر اوپر اٹھانے کو القمح کہا جاتا ہے پھر محض سر اٹھانے پر (خواہ کسی وجہ سے ہو) قمح کہا جانے لگا۔ چناچہ کہا جاتا ہے قمح البعیر اونٹ نے (سیر کے بعد…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–12

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ الحکیم (پختہ اور مستحکم) حق القول ( بات پکی ہوچکی ہے ( عذاب ثابت ہوچکا ہے) اغناق ( عنق) (گردنیں) اغلال (طوق) الاذقان (ذقن) (ٹھوڑیاں) مقمحون ( مقمح) ( سر اونچا کرنے والے ( جو آگے نہیں جھکا سکتے) سد (دیوار) اغشینا ( ہم نے ڈھانپ دیا) خشی ( ڈرا) نکتب ( ہم لکھتے ہیں) قدموا ( آگے بھیجا) اثار ( اثر) پیچھے چھوڑی ہوئی نشانیاں ( اعمال) احصینا (ہم نے گھیر لیا) امام مبین ( کھلی کتاب) تشریح : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ اس سورت کا آغاز بھی ایسے حروف سے کیا گیا ہے جن کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے یعنی وہ حروف جو معنی سے کٹے ہوئے ہیں اور ان کے معنی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن اس جگہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–10

قرآن کے جھٹلانے والوں کا انجام۔ (ف 1) اوپر قرآن کی قسم کھاکریہ اسکی تفصیل بیان فرمائی کہ جس قرآن کی قسم کھائی گئی ہے وہ قرآن ایسے کا اتارا ہوا ہے جو قرآن کے جھٹلانے والے کو سزا دینے میں بڑازبردست اور قرآن کے ماننے والوں کے حق میں بڑاصاحب رحم ہے پھر قرآن کے نازل کرنے کا سبب بیان فرمایا کہ قرآن ایسے لوگوں کو عذاب آخرت سے ڈرانے کے لیے اتارا گیا ہے کہ جن میں بہت مدت سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اس واسطے ان میں موروثی غفلت چلی آتی ہے پھر فرمایا ان میں سے اکثر لوگوں پر بات تقدیری ثابت ہوچکی ہے اس لیے اے محبوب ﷺ ایسے لوگوں کے حال پر تم کو کچھ افسوس نہ کرنا چاہیے اب آگے ان نافرمان لوگوں کی مثال بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[4] یہ طوق عادات و رسوم، حُبِّ جاہ و مال اور تقلید آباؤ اجداد کے تھے۔ جنہوں نے ان کی گردنیں سختی سے دبا رکھی تھیں اور نخوت وتکبر کے سبب ان کے سر نیچے نہیں جھکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–11

ف 1: یہ سورة مکی ہے ۔ اس میں وہی مضامین ہیں جو تمام مکی سورتوں میں پائے جاتے ہیں ۔ یعنی قرآن کے فضائل اور محسامد رسالت کا ذکر اور توحید کا تذکرہ یا حسر ونشر کے متعلق شکوک و شبہات کا بیان اور ان کا ازالہ ۔ قرآن میں جہاں جہاں قسمیں آئی ہیں ۔ وہاں ان سے مراد ایک قسم کا استشہاد اور استدلال ہوتا ہے ۔ مثلاً یہاں قرآن حکیم کو بطور مقسم بہ کے ذکر کیا ہے ۔ اور اس کے بعد فرمایا ہے کہ آپ بلاشبہ اللہ کے رسول ہیں ۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی نبوت اور رسالت پر بہترین دلیل خودیہ صحیفہ حکمت ہے ۔ اس میں جنتا غور کیجئے گا ۔ آپ کو معلوم ہوگا ۔ کہ یہ حیرت انگیز کتاب ہے ۔ اس کی بلاغت اس کا معارف سے معمور ہونا ۔ اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں اور وہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک پہنچ گئے ہیں جن کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے کے اٹھے رہ گئے ہیں۔ یعنی ان کے کفروعناد اور ان کی شقاوت و بدبختی کی مثال ایسی ہے جیسے ہم نے ان کے گلے میں بھاری اور موٹے موٹے طوق ڈال دیئے جن کی وجہ سے ان کے سر نیچے نہیں ہوسکتے کہ یہ سیدھی راہ اختیار کرسکیں کسی جانب التفات ہی نہیں کرسکتے۔ غرض ان کی بداعمالیاں ان کے گلے کا ہار بن گئی ہیں جو ان کو راہ حق کی طرف مائل نہیں ہونے دیں گی۔ ہم سورة بقر میں اس مسئلے پر تفصیلی بحث کرچکے ہیں وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔ ایک برائی سے دوسری برائی پیدا ہوتی ہے اور آخر نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کے گلوں کے طوقوں کو دیکھو جو ان کی ٹھوڑیوں تک آگئے ہیں : 8۔ فرمایا جا رہا ہے کہ ان معاندین و مخالفین کی گردنوں میں ہم نے اپنے قانون مشیت کے مطابق ” طوق “ ڈال دیئے ہوئے ہیں یعنی ان کے تکبر اور ان کی نخوت کا یہ عالم ہے کہ ان کے بار بار اکڑنے اور تکبر کرنے کے باعث ان کی گردنیں اب اس طرح اکڑ چکی ہیں کہ وہ نیچے کی طرف دیکھ نہیں سکتے ‘ ان کی گدیوں میں شیطان موت گیا ہے اور انہوں نے اس کو پیار کی نشانی قرار دے دیا ہے اور ظاہر ہے کہ جس کو شیطان سے پیار ہو اس کے ” لاہود “ کی اکڑاؤں کبھی ختم نہیں ہوتی مگر ہاں اس وقت جب اللہ کا ہاتھ بڑھ کر اس کو اس کی اکڑی ہوئی گردن سمیت پکڑ لے اور اس بات کا ہم نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–11

Verses 7 and 8 لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِ‌هِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا (The word has indeed come true about most of them, so they will not believe. Surely We have placed iron collars on their necks, so they are reaching up to their chins, and their heads are forced to remain upraised.) mean that Allah Ta’ ala has already placed before human beings two alternate ways of life - the way of kufr (disbelief) and 'Iman (faith) and the way of Jannah (Paradise) and Jahannam (the Hell) - and to give direction and substance to this call of faith,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 "Fetters" in this verse implies their own stubbornness which was preventing them from accepting the truth. "Which reach to their chins" and "their standing with heads upright" implies the stiffness of the neck which is caused by pride and haughtiness. Allah means to impress this: "We have made their obstinacy and stubbornness the fetters of their neck, and their pride and haughtiness has made them so stiff-necked that they will not pay heed to any reality, however clear and evident it may be."

Read the full tafseer →