Explained with ayahs 2–7
صراط مستقیم کی وضاحت۔
حروف مقطعات جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں جیسے یہاں یاسین ہے ان کا پورا بیان ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کرچکے ہیں لہذا اب یہاں اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یٰسین سے مراد اے انسان ہے۔ بعض کہتے ہیں حبشی زبان میں اے انسان کے معنی میں یہ لفظ ہے۔ کوئی کہتا ہے یہ اللہ کا نام ہے، پھر فرماتا ہے قسم ہے محکم اور مضبوط قرآن کی جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا، کہ بالیقین اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، سچے اچھے مضبوط اور عمدہ سیدھے اور صاف دین پر آپ ہیں، یہ راہ اللہ رحمٰن و رحیم صراط مستقیم کی ہے، اسی کا اترا ہوا یہ دین ہے جو عزت والا اور مومنوں پر…
Read the full tafseer →سورة یٰسٓ 5
یہ ان لوگوں کو ذکر ہے جو نبی ﷺ کی دعوت کے مقابلے میں ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لے رہے تھے اور جنہوں نے طے کرلیا تھا کہ آپ کی بات بہرحال مان کر نہیں دینی ہے۔ ان کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ " یہ لوگ فیصلۂ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں اس لیے یہ ایمان نہیں لاتے " اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ نصیحت پر کان نہیں دھرتے اور خدا کی طرف سے پیغمبروں کے ذریعہ اتمام حجت ہوجانے پر بھی انکار اور حق دشمنی کی روش ہی اختیار کیے چلے جاتے ہیں ان پر خود ان کی اپنی شامت اعمال مسلط کردی جاتی ہے اور پھر انہیں توفیق ایمان نصیب نہیں ہوتی۔ اسی مضمون کو آگے چل کر اس فقرے میں کھول دیا گیا ہے کہ " تم تو اسی شخص کو خبردار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
(آیت) لقد حق القول علیٰ اکثرہم فہم لا یومنون، انا جعلنا فی اعنا قہم اغلاً الایة، مراد یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے کفر و ایمان اور جنت و دوزخ کے دونوں راستے انسان کے سامنے کردیئے، اور ایمان کی دعوت کے لئے انبیاء اور کتابیں بھی بھیج دیں، پھر انسان کو اتنا اختیار بھی دے دیا کہ وہ اپنے بھلے برے کو پہچان کر کوئی رستہ اختیار کرے۔ جو بدنصیب نہ غور و فکر سے کام لے نہ دلائل قدرت میں غور کرے، نہ انبیاء کی دعوت پر کان دھرے نہ اللہ کی کتاب میں غور و تدبر کرے تو اس نے اپنے اختیار سے جو راہ اختیار کرلی تو حق تعالیٰ .... اسی کے سامان اس کے لئے جمع فرما دیتے ہیں، جو کفر میں لگ گیا پھر اس کے واسطے کفر بڑھانے ہی کے…
Read the full tafseer →لقد حق القول علی اکثرھم فھم لایومنون (7)
’ قول ‘ سے اشارہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف ہے جو اس نے ابلیس کے جواب میں اس وقت فرمایا تھا جب اس نے یہ دھمکی دی تھی کہ میں ذریت آدم کی اکثریت کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ اس وقت، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لا ملتن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین (میں ایسے تمام جنوں اور انسانوں سے جو تیری پیروی کریں گے دوزخ کو بھردوں گا) اسی قول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تمہارا فرض انداز کرنا ہے وہ کرتے رہو لیکن یہ توقع نہ رکھو کہ ان میں سے ہر شخص تمہاری دعوت قبول کرے گہ بلکہ ان میں بہتیرے ایسے ہیں جن پر ہماری بات صادق آچکی کہ وہ ابلیس کی پیروی کے…
Read the full tafseer →7۔ 1 جیسے ابو جہل، عتبہ، شیبہ وغیرہ۔ بات ثابت ہونے کا مطلب، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ ' میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا ' (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ) 32۔ السجدہ :13) شیطان سے بھی خطاب کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا تھا ' میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دونگا۔ یہ اس وجہ سے نہیں کہ اللہ نے جبرا ان کو ایمان سے محروم رکھا کیونکہ جبر کی صورت میں تو وہ عذاب کے مستحق قرار نہ پاتے۔
Read the full tafseer →2: مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے بارے میں تقدیر میں جو بات لکھی تھی کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے، وہ بات پوری ہورہی ہے ؛ لیکن یہ واضح رہے کہ تقدیر میں لکھا ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کفر پر مجبور ہوگئے ہیں، کیونکہ تقدیر میں یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ایمان لانے کا موقع بھی دے گا اور اختیار بھی دے گا ؛ لیکن یہ لوگ اپنے اختیار اور اپنی خوشی سے ضد پر اڑے رہیں گے اور ایمان نہیں لائیں گے۔
Read the full tafseer →لقد حق۔۔۔۔۔ فھم لا یومنون (36: 7) ” ان میں سے اکثر لوگ فیصلہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں اسی لیے وہ ایمان نہیں لاتے “۔ ان کے معاملے میں اللہ نے فیصلہ صادر کردیا ہے اور اللہ کا فیصلہ ان کے حق میں درست ہے۔ یہ فیصلہ سچائی پر ہوا ہے۔ حق کے مطابق ہے۔ کیونکہ اللہ ان کی حقیقت سے خوب واقف تھا۔ اللہ ان کے شعور اور میلان سے بھی واقف تھا۔ یہ لوگ ایمان لانے والے ہی نہ تھے۔ اکثریت کا یہی انجام ہے۔ ان کے نفوس اور ہدایت کے درمیان پر دے حائل ہو چلے ہیں۔ وہ نہ سچائی کے دلائل کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کو ان کا شعور حاصل ہے۔
جن لوگوں پر اللہ کا فیصلہ حق ہوچکا ان کی نفسیاتی حالت کی تصویر یہ ہے ۔ ان کی گردنوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
4 یعنی بہت کٹھن کام آپ کے سپرد ہوا ہے کہ اس قوم (عرب) کو آپ قرآن کے ذریعہ سے ہوشیار و بیدار کریں۔ جس کے پاس صدیوں سے کوئی جگانے والا نہیں بھیجا تھا۔ وہ جاہل و غافل قوم جسے نہ خدا کی خبر نہ آخرت کی، نہ ماضی سے عبرت نہ مستقبل کی فکر، نہ مبداء پر نظر نہ منتہاء پر، نہ نیک و بد کی تمیز نہ بھلے برے کا شعور اس کو اتنی ممتد جہالت و غفلت کی اندھیروں سے نکال کر رشد و ہدایت کی صاف سڑک پر لا کھڑا کرنا کوئی معمولی اور سہل کام نہیں ہے۔ بلاشبہ آپ ﷺ پوری قوت اور زور شور کے ساتھ ان کو اس غفلت و جہالت کے خوفناک نتائج اور بھیانک مستقبل سے ڈرا کر فلاح و بہبود کے اعلیٰ مدارج پر پہنچانے کی کوشش کریں گے تاکہ یہ قوم…
Read the full tafseer →آیت 7 { لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓی اَکْثَرِہِمْ فَہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ } ”ان کی اکثریت پر ہمارا قول قانونِ عذاب سچ ثابت ہوچکا ہے تو اب وہ ایمان نہیں لائیں گے۔“
گویا حضور ﷺ کی دعوت کا مسلسل انکار کر کے یہ لوگ قانونِ الٰہی کی عذاب سے متعلق ”شق“ کی زد میں آچکے ہیں۔
Read the full tafseer →6 قرآن کریم نے جہاں بھی حق القول کا لفظ استعمال فرمایا تو اس کے مخاطب عموماً وہ لوگ ہوتے ہیں جو یا تو آخرت پر ایمان ہی نہ رکھتے ہوں۔ جیسے کفار مکہ یا ان جیسی دوسری قومیں جو پہلے گزر چکیں یا بعد میں آنے والی ہیں۔ یا پھر وہ لوگ ہوتے ہیں جو آخرت کو مانتے تو ہیں مگر ساتھ ہی انہوں نے کچھ ایسے سستی نجات کے عقیدے گھڑ رکھے ہوتے ہیں کہ آخرت پر ایمان لانے کے اصل مقصد کو فوت کردیتے ہیں۔ جیسے یہود کا یہ عقیدہ کہ انہیں چند دنوں کے سوا جہنم کی آگ چھوئے گی ہی نہیں۔ یا جیسے یہود و نصاریٰ کا یہ عقیدہ کہ وہ اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ اللہ انہیں کیوں عذاب کرے گا ؟ یا مسلمانوں کا یہ عقیدہ کہ سید قوم کی…
Read the full tafseer →3۔ وہ بات تقدیری یہی ہے کہ یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے۔ تقدیری بات اللہ کی علم ازلی کے مرادف ہے۔ اور یہ علم ازلی ہرگز کسی شائبہ جبرواکراہ کے ہی مرادف نہیں۔ اور نہ علم کسی طرح رضا کے مستلزم ہے۔ طبیب کی پیشگوئی اور پیش خبری کسی بدپرہیز مریض کے انجام سے متعلق ہرگز طبیب کی مرضی اور خواہش کی ترجمان نہیں، یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ ہدایت یابی کے جو قانون قاعدے شروع سے مقرر ہیں (مثلا یہی کہ خلوئے ذہن کے ساتھ دعوت رسالت پر غور کیا جائے) یہ لوگ چونکہ انہیں پر عمل کرنے سے گریز کررہے ہیں اس لیے قدرۃ ثمرہ ہدایت سے محروم رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
آیت نمبر 1 تا 12
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یسٓن اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے محکم قرآن کی جو عجیب نظم اور انوکھے معانی سے محکم ہے بلاشبہ اے محمد آپ مرسلین میں سے ہیں (اور) سیدھے راستہ پر ہیں علیٰ اپنے ماقبل (مرسلین) سے متعلق ہے (اور طریق مستقیم سے مراد) انبیاء سابقین کا طریقہ ہے، جو کہ توحید اور ہدایت کا راستہ ہے، اور قسم وغیرہ کے ذریعہ تاکید کافروں کے قول لَسْتَ مُرسَلاً کو رد کرنے کے لئے ہے یہ قرآن اس (خدا) کا نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب اور اپنی مخلوق پر مہربان ہے (تنزیل العزیز) مبتداء محذوف یعنی القرآن کی خبر ہے تاکہ…
Read the full tafseer →لقد حق القول علی اکثرھم فھم لا یؤمنون . ان میں سے اکثر لوگوں پر (تقدیری) بات ثابت ہوچکی ‘ سو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
اَلْقَوْلُ سے مراد ہے اللہ کا یہ قول لَاَمْلَءَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ (میں جہنم کو ضرور بھر دوں گا جنات سے اور انسانوں سے ‘ سب سے) ۔
فَھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ پس وہ یعنی اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔
ابن جریر نے عکرمہ کا بیان نقل کیا ہے کہ ابوجہل نے کہا تھا : اگر میں نے محمد ﷺ کو دیکھ پایا تو ایسا ایسا کروں گا ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →ان مکہ والوں میں سے اکثر پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی ہے سو یہ لوگ علم خداوندی کے مطابق ایمان نہیں لائیں گے اور نہ ایمان لانے کا ارادہ ہی کریں گے چناچہ ایسا ہی ہوا اور بدر کے دن یہ ابو جہل وغیرہ سب حالت کفر میں مارے گئے۔
شان نزول : لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓي اَكْثَرِهِمْ (الخ)
ابو نعیم نے دلائل میں حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم سجدہ میں اونچی آواز سے قرآن کریم کی تلاوت فرمایا کرتے تھے جس سے بعض قریشیوں کو اذیت پہنچتی تھی۔
تاآنکہ وہ سب آپ کو پکڑنے کے لیے کھڑے ہوئے تھے تو ان کے ہاتھ ان کی گردنوں سے جا ملے اور وہ اندھے ہوگئے کہ کچھ بھی نہ دیکھتے تھے چناچہ وہ سب رسول اکرم کی خدمت…
Read the full tafseer →لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓي اَكْثَرِهِمْ :”حَقَّ الْقَوْلُ“ (بات ثابت ہوچکی) سے مراد ان پر عذاب کا فیصلہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ) [ السجدۃ : 13 ] ”اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے اور لیکن میری طرف سے بات پکی ہوچکی کہ یقیناً میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے ضرور بھروں گا۔“ یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو پیغمبر کی آمد اور حق واضح ہونے کے بعد بھی اپنے کفر پر اڑے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ازل ہی میں ان کے بارے میں علم تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
لتنذر قوما ما انذر ابائوہم اکثر علماء تفسیر کے نزدیک ما کا اعراب میں کوئی محل نہیں ‘ ان میں سے قتادہ بھی ہیں کیونکہ یہ نافیہ ہے (1) تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جسے آپ سے قبل کسی ڈرانے والے نے نہیں ڈرایا ‘ یہ حضرت ابن عباس ‘ عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا : ما اور فعل مصدر ہیں تقدیر کلام یہ ہوئی لتنذر قوما ما انذار آبائہم۔ ایک قول یہ کیا گیا : ما ‘ الذی کے معنی میں ہے (2) معنی یہ ہوگا آپ انہیں ڈرائیں جس طرح ان کے آبا کو ڈرایا گیا۔ یہ حضرت ابن عباس ‘ عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے۔
یہ بھی جائز ہے کہ عربوں کو تواتر سے انبیاء کی خبریں پہنچی ہوں معنی یہ ہوگا انہیں میں سے کسی رسول میں سے…
Read the full tafseer →12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد حق القول علی اکثرھم “ البتہ تحقیق کہ ان میں سے اکثر لوگوں میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے یعنی ان کے علم میں پہلے سے بات تھی۔
13:۔ ابن مردویہ وابو نعیم نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ مسجد میں قرآن پڑھتے تھے اور زور سے قرأۃ فرما رہے تھے یہاں تک کہ قریش کے بعض لوگوں کو بڑی تکلیف ہوئی یہاں تک کہ وہ کھڑے ہوئے تاکہ آپ کو پکڑ لیں تو ان کے ہاتھ ان کی گردنوں سے جکڑے گئے اور ان کو دکھائی بھی نہیں دیتا تھا وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا ہم آپ کو اللہ کی اور رشتہ داری کی قسم دیتے ہیں۔ قریش کے خاندان میں سے کوئی خاندان…
Read the full tafseer →لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ [بیشک ثا بت ہوچکی وہ بات ] عَلٰٓي اَكْثَرِهِمْ [ان کے اکثرپر ] فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ [ تو وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے ] ۔
Read the full tafseer →پھر فرمایا (لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ ) (الآیۃ) جب رسول اللہ ﷺ اہل مکہ کو تبلیغ کرتے تھے تو وہ آپ کی تکذیب کرتے تھے اور آپ کی بات نہیں مانتے تھے، اس سے آپ کو رنج ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ ان میں سے اکثر پر بات ثابت ہوچکی ہے یعنی ان کے بارے میں یہ طے ہوچکا ہے کہ عذاب میں جائیں گے۔ تکوینی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ اکثر ایمان نہیں لائیں گے لہٰذا آپ کار رسالت انجام دیں اور ان کے انکار اور عناد سے دلگیر نہ ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
اثبات رسالت محمد موکد بقسمے کہ آں دلیل نبوت است
ومقرون بہ بیان تفاوت استعداد درقبول حق وہدایت وتہدید
مکذبین نبوت ومنکرین قیامت
قال اللہ تعالی۔ یس والقران الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین۔
(ربط) گزشتہ سورت میں کفار کے استکبار اور انکار کا ذکر تھا کہ وہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کے منکر ہیں اور آپ ﷺ کو جھوٹا بتلاتے ہیں اب اس سورت میں آپ کی نبوت و رسالت کو قسم کے ساتھ بیان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ یٰسین۔ اس کی مراد اور اس کے معنی کو اللہ ہی خوب جانتا ہے یٰسین حروف مقطعہ میں سے ہے جو خزانہ غیب کا ایک سرمکتوم ہے۔ جمہور صحابہ وتابعین کے نزدیک اس کی مراد سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم…
Read the full tafseer →4:۔ لقد حق الخ : یہ زجر ہے آپ کی خواہش تو یہ ہے کہ تمام کفار ایمان لے، لیکن یہ ایسے ضدی اور بد بخت ہیں کہ ایسی عظیم الشان کتاب کو بھی نہیں مانتے، ان میں سے اکثر کے حق میں تو فیصلہ ہوچکا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ جد و تعنت اور عناد و مکابرہ کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے۔ فھم لا یومنون جملہ القول کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة یسین ہے جو کہ اس کے ابتدائی لفظ سے ماخوذ ہے۔ اس کا دوسرا (ابوسعود ص 247 ج 4 و قرطبی ص 1 ج 15) نام سورة المعمۃ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ سورة دنیا و آخرت کی بہتری پر مشتمل ہے۔ مفسرین (السراج المنیر ص 335 ج 3) اس کا تیسرا نام دافعہ بیان کرتے ہیں کہ یہ برائی کو دور کرنے والی سورة ہے۔ اس کا ایک نام (السراج المنیر ص 335 ج 3) قاضیہ بھی ہے کو ین کہ اس کی تلاوت انسانی حاجات کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ یہ سارے نام امام بیضاوی نے اپنی تفسیر (بیضاوی ص 276 ج 2) میں بیان کئے ہیں۔ یہ سورة مکی دور کے وسطی زمانہ میں سورة جن کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی تراسی آیات اور پانچ رکوع…
Read the full tafseer →لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓي اَكْثَرِہِمْ فَہُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ 7
حقَ
أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة .
والحقّ يقال علی أوجه :
الأول :
يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] .
والثاني :
يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ…
Read the full tafseer →فقال لقد حق القول علی اکثرھم فہم لایؤمنون کہ ان پر ازلی نوشتہ پورا ہوگیا جس لیے وہ ایمان نہیں لاتے۔ ازلی دفتر میں لکھا گیا تھا کہ وہ ایمان نہ لا ویں گے سو اس لیے نہیں لاتے اور عالم اسباب میں اس کا یہ باعث ہوا
Read the full tafseer →لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓی اَکْثَرِھِمْ فَھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 7)
(البتہ ثابت ہوچکی ہے ان میں سے اکثر پر ہماری بات، سو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں اہل مکہ اور دیگر اہل عرب کی طرف براہ راست آپ کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے جس پر قریش اور دیگر مخالفین کو شکرگزار ہونا چاہیے لیکن بعض عوارض کے باعث قریش کا جو کچھ حال ہوچکا ہے اس کے پیش نظر آپ کو یہ توقع نہیں ہونی چاہیے کہ وہ سب لوگ آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ ان میں بہت سے ایسے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی بات ثابت ہوچکی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کی اکثریت کیوں ایمان نہیں لاتی ؟
ایمان کی دولت پانے کے لیے لازم ہے کہ انسان اپنی انا اور جہالت سے کنارہ کش ہوجائے۔ جو شخص جہالت اور انا پرستی نہیں چھوڑتا درحقیقت وہ متکبر ہوتا ہے۔ متکبر انسان حقیقت اور سچائی کو تسلیم کرنا اپنے لیے عار سمجھتا ہے۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی جس بنا پر ان کے بڑوں نے یہ کہہ کر آپ ﷺ کی نبّوت کا انکار کیا اور کہا کہ نبّوت مکہ یا طائف کے بڑے سرداروں میں سے فلاں کو ملنا چاہیے تھی۔ کچھ لوگوں نے آباء و اجداد کی رسومات کا بہانہ بنا کر آپ ﷺ کی اتباع سے اجتناب کیا۔ اس طرح وہ مختلف قسم کے تعصبات اور فخر و غرور میں مبتلا تھے۔ جس کی وجہ سے ان کی…
Read the full tafseer →7: لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓی اَکْثَرِ ھِمْ فَہُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ (ان میں سے اکثر لوگوں پر بات ثابت ہوچکی ہے پس یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے) القولؔ سے یہ مراد ہے لأملان جھنم من الجنۃ والناس اجمعین ] السجدہ : 13[ یعنی یہ قول ان سے متعلق ہوجائے گا اور ان پر ثابت و لازم ہوجائے گا۔ اس لئے کہ وہ ان میں سے ہونگے جن کا کفر پر مرنا معلوم ہوچکا۔
Read the full tafseer →تفسیر 7۔ ، لقد حق القول ، ان پر عذاب واجب ہوگیا۔ ، علی اکثر ھم فھم لا یؤمنون، یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، ولکن حقت کلمۃ العذاب علی الکافرین،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
5 تا 11۔ اوپر قرآن شریف کی قسم کھا کر یہ اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ جس قرآن کی قسم کھائی ہے وہ قرآن ایسے اللہ کا اتارا ہوا ہے جو قرآن کے جھٹلانے والوں کو سزا دینے میں بڑا زبردست اور قرآن کے ماننے والوں کے حق میں بڑا صاحب رحم ہے پھر قرآن کے نازل کرنے کا سبب بیان فرمایا کہ قرآن ایسے لوگوں کو عذاب آخرت سے ڈرانے کے لیے اتارا گیا ہے کہ جن میں بہت مدت سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اس واسطے ان میں موروثی غفلت چلی آتی ہے پھر فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے جو لوگ اللہ کے علم میں نافرمان ٹھہر چکے ہیں وہ اس قرآن کو نہیں مانیں گے اس لیے اے رسول اللہ کے ایسے لوگوں کے حال پر تم کو کچھ افسوس نہ کرنا چاہئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
آیت 1
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد…
Read the full tafseer →8 منکرین پر اللہ کی بات پکی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ان میں سے اکثر پر پکی ہوگئی ہماری بات یعنی وہ بات جو ابلیس لعین کے چیلنج کے جواب میں حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے اعلانِ حق کے طور پر صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمائی گئی تھی۔ جیسا کہ ابھی اگلی سطروں میں آنے والا ہے۔ سو یہی وہ بات ہے جو کہ ازل سے ہمارے یہاں طے شدہ ہے کہ ایسے لوگوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے اپنی فطری استعداد کو ضائع کردینا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس طرح انہوں نے ایمان سے محروم رہنا ہے ۔ " اَیْ ما سُجّل علیہم فی اُمّ الکتاب من انہم لا یؤمنون لخُبْثِ نفوسہم وسوء استعدادہم " ۔ (المراغی : ج 22 ص 146) ۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
رسول کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل
تشریح : اللہ نے قرآن کی قسم قرآن کی فضیلت کے لیے کھائی ہے۔ جیسا کہ کئی دفعہ بیان کیا جا چکا ہے کہ قرآن اتنی مکمل اور بہترین کتاب ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رہ گئی کہ اب کوئی اور کتاب بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے بھیجی جائے۔ پھر اس کو بھیجنے والا غالب اور مہربان ہے۔ غالب اس طرح کہ اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں کہ جس کو بیان کرنا رہ گیا ہو۔ بلکہ اس میں تو ان تمام چھپی ہوئی اور آنیوالے زمانے کی باتیں بھی بڑی وضاحت اور آسان الفاظ میں بیان کردی گئی ہیں۔ مثلاً فرشتوں کے بارے میں، آخرت کے بارے میں، قیامت کے بارے میں، یہ سب علم الغیب ہے۔ مہربان اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 12:
اسرار و معارف :
سورة یس کے بیشمار فضائل ہیں جو مفسرین کرام نے لکھ دئیے ہیں اور احادیث مبارکہ میں ارشاد ہیں اسی کو قرآن حکیم کا دل قرار دیا گیا ہے کسی بھی ضرورت یا مصیبت میں پڑھ کر دعا کرنا اس سے رہائی کا باعچ ہوتا ہے۔ یس حروف مقطعات میں سے ہے۔ قسم ہے قرآن حکیم کی یعنی یہ پر از حکمت کتاب کہ انسانی زندگی کے بہترین انداز میں بسر کرنے کا پورا طریقہ و سلیقہ موجود۔ طب و حکمت۔ عقل و دانش۔ سائنس و ایجادات۔ کیمیا و مرکبات۔ تاریخ و حقائق اور آئندہ کی پیشگوئیاں سب کچھ اس ایک کتاب میں موجود جس کا ایک ایک لفظ حق۔ سچ اور کھرا ہے یہی سب سے بڑا گواہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کہ…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی اللہ تعالیٰ کا وہ قول جو اس نے روز اول میں فرمایا تھا کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے بھروں گا۔
Read the full tafseer →(36:7) لقد حق القول۔ لام تاکید کا ہے قد بمعنی تحقیق۔ حق ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے بمعنی حق ہونا۔ ثابت ہونا۔ مطابق ہونا۔ حق وہ قول یا فعل جو اسی طرح واقع ہو جس طرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو کہ جس وقت اور مقدار میں اس کا ہونا واجب ہے۔
جملہ ہذا میں قول سے مراد کافروں کو عذاب دینے کا خدائی فیصلہ ہے۔ مثلاً ولکن حق القول منی لاملئن جہنم من الجنۃ والناس اجمعین ۔ (32:13) لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا ۔ آیت ہذا کا ترجمہ ہوگا : بیشک ان میں سے اکثر پر یہ بات لازم ہوچکی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ الحکیم (پختہ اور مستحکم) حق القول ( بات پکی ہوچکی ہے ( عذاب ثابت ہوچکا ہے) اغناق ( عنق) (گردنیں) اغلال (طوق) الاذقان (ذقن) (ٹھوڑیاں) مقمحون ( مقمح) ( سر اونچا کرنے والے ( جو آگے نہیں جھکا سکتے) سد (دیوار) اغشینا ( ہم نے ڈھانپ دیا) خشی ( ڈرا) نکتب ( ہم لکھتے ہیں) قدموا ( آگے بھیجا) اثار ( اثر) پیچھے چھوڑی ہوئی نشانیاں ( اعمال) احصینا (ہم نے گھیر لیا) امام مبین ( کھلی کتاب)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ اس سورت کا آغاز بھی ایسے حروف سے کیا گیا ہے جن کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے یعنی وہ حروف جو معنی سے کٹے ہوئے ہیں اور ان کے معنی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن اس جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
قرآن کے جھٹلانے والوں کا انجام۔
(ف 1) اوپر قرآن کی قسم کھاکریہ اسکی تفصیل بیان فرمائی کہ جس قرآن کی قسم کھائی گئی ہے وہ قرآن ایسے کا اتارا ہوا ہے جو قرآن کے جھٹلانے والے کو سزا دینے میں بڑازبردست اور قرآن کے ماننے والوں کے حق میں بڑاصاحب رحم ہے پھر قرآن کے نازل کرنے کا سبب بیان فرمایا کہ قرآن ایسے لوگوں کو عذاب آخرت سے ڈرانے کے لیے اتارا گیا ہے کہ جن میں بہت مدت سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اس واسطے ان میں موروثی غفلت چلی آتی ہے پھر فرمایا ان میں سے اکثر لوگوں پر بات تقدیری ثابت ہوچکی ہے اس لیے اے محبوب ﷺ ایسے لوگوں کے حال پر تم کو کچھ افسوس نہ کرنا چاہیے اب آگے ان نافرمان لوگوں کی مثال بیان…
Read the full tafseer →[3] یعنی یہ لوگ ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے فیصلہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں اس لئے دعوت حق قبول کرنے والے نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ف 1: یہ سورة مکی ہے ۔ اس میں وہی مضامین ہیں جو تمام مکی سورتوں میں پائے جاتے ہیں ۔ یعنی قرآن کے فضائل اور محسامد رسالت کا ذکر اور توحید کا تذکرہ یا حسر ونشر کے متعلق شکوک و شبہات کا بیان اور ان کا ازالہ ۔
قرآن میں جہاں جہاں قسمیں آئی ہیں ۔ وہاں ان سے مراد ایک قسم کا استشہاد اور استدلال ہوتا ہے ۔ مثلاً یہاں قرآن حکیم کو بطور مقسم بہ کے ذکر کیا ہے ۔ اور اس کے بعد فرمایا ہے کہ آپ بلاشبہ اللہ کے رسول ہیں ۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی نبوت اور رسالت پر بہترین دلیل خودیہ صحیفہ حکمت ہے ۔ اس میں جنتا غور کیجئے گا ۔ آپ کو معلوم ہوگا ۔ کہ یہ حیرت انگیز کتاب ہے ۔ اس کی بلاغت اس کا معارف سے معمور ہونا ۔ اس…
Read the full tafseer →(7) بلاشبہ ان میں سے اکثر پر تو عذاب کی بات ثابت ہوچکی سو وہ تو ایمان نہیں لائیں گے۔ یعنی ایمان نہ لانے والوں پر آپ افسوس نہ کریں دل تنگ نہ ہوں کیونکہ ان میں سے اکثر پر وہ ازلی اور تقدیری کلمۂ عذاب ثابت ہوچکا ہے اس لئے وہ تو ایمان لائیں گے نہیں شاید وہ بات دہ ہو جو فرمایا۔
لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین اور فرمایا سورة حج میں وکثیر حق علیہ العذاب آگے ان میں ایمان نہ لانیوالوں کی مثال بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →اکثریت پر یہ بات صادق آئے گی کہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں :
7۔ انداز بیان پر غور کرو کہ وہ انداز خود پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ پہلے انبیاء کرام جن جن بستیوں ‘ قوموں اور علاقوں کی طرف بھیجے گئے ان کی بھی یہی حالت رہی کہ ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہ ہوئی بلکہ اکثریت کے مقابلہ میں اقلیت ہی نے اس نبی ورسول کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا اور اس طرح جو بات پیچھے ہوتی چلی آرہی تھی وہی اب بھی ہوگی کہ ان لوگوں کی اکثریت بھی ایمان لانے والی نہیں ہے اور اس طرح گزشتہ قوموں والی بات ان پر بھی صادق آئے گی اور فی الواقع وہی ہوا لیکن آخر ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ قدرت نے مقصود اصل کو اضافات سے بہت ہی کم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
Verses 7 and 8 لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا (The word has indeed come true about most of them, so they will not believe. Surely We have placed iron collars on their necks, so they are reaching up to their chins, and their heads are forced to remain upraised.) mean that Allah Ta’ ala has already placed before human beings two alternate ways of life - the way of kufr (disbelief) and 'Iman (faith) and the way of Jannah (Paradise) and Jahannam (the Hell) - and to give direction and substance to this call of faith,…
Read the full tafseer →5 This is about those people who were being obstinate and stubborn with regard to the message of the Holy Prophet and had made up their minds not to listen to him at all. This is because: They have already deserved the torment; therefore, they do not believe." It means: "The people who do not heed the admonition, and persist in their denial and hostile attitude to the truth in spite of the final warning from Allah conveyed through the Prophets, are themselves overwhelmed by the evil consequences of their misdeeds and deprived of every opportunity to believe. " The same thing has been…
Read the full tafseer →