Explained with ayahs 8–12
شب ہجرت اور کفار کے سرخاک۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان بدنصیبوں کا ہدایت تک پہنچنا بہت مشکل بلکہ محال ہے۔ یہ تو ان لوگوں کی طرح ہیں جن کے ہاتھ گردن پر باندھ دیئے جائیں اور ان کا سر اونچا جا رہا ہو۔ گردن کے ذکر کے بعد ہاتھ کا ذکر چھوڑ دیا لیکن مراد یہی ہے کہ گردن سے ملا کر ہاتھ باندھ دیئے گئے ہیں اور سر اونچے ہیں اور ایسا ہوتا ہے کہ بولنے میں ایک چیز کا ذکر کر کے دوسری چیز کو جو اسی سے سمجھ لی جاتی ہے اس کا ذکر چھوڑ دیتے ہیں عرب شاعروں کے شعر میں بھی یہ بات موجود ہے۔ غل کہتے ہی ہیں دونوں ہاتھوں کو گردن تک پہنچا کر گردن کے ساتھ جکڑ بند کردینے کو۔ اسی لئے گردن کا ذکر کیا اور ہاتھوں کا ذکر چھوڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
سورة یٰسٓ 8
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس حالت میں تبلیغ کرنا بےکار ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری تبلیغ عام ہر طرح کے انسانوں تک پہنچتی ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ اور کچھ دوسرے لوگ وہ ہیں جن کا ذکر آگے کی آیت میں آ رہا ہے۔ پہلی قسم کے لوگوں سے جب سابقہ پیش آئے اور تم دیکھ لو کہ وہ انکار و استکبار اور عناد و مخالفت پر جمے ہوئے ہیں تو ان کے پیچھے نہ پڑو۔ مگر ان کی روش سے دل شکستہ و مایوس ہو کر کام چھوڑ بھی نہ بیٹھو، کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ اسی ہجوم خلق کے درمیان وہ خدا کے بندے کہاں ہیں جو نصیحت قبول کرنے والے اور خدا سے ڈر کر راہ راست پر آجانے والے ہیں۔ تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
(آیت) لقد حق القول علیٰ اکثرہم فہم لا یومنون، انا جعلنا فی اعنا قہم اغلاً الایة، مراد یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے کفر و ایمان اور جنت و دوزخ کے دونوں راستے انسان کے سامنے کردیئے، اور ایمان کی دعوت کے لئے انبیاء اور کتابیں بھی بھیج دیں، پھر انسان کو اتنا اختیار بھی دے دیا کہ وہ اپنے بھلے برے کو پہچان کر کوئی رستہ اختیار کرے۔ جو بدنصیب نہ غور و فکر سے کام لے نہ دلائل قدرت میں غور کرے، نہ انبیاء کی دعوت پر کان دھرے نہ اللہ کی کتاب میں غور و تدبر کرے تو اس نے اپنے اختیار سے جو راہ اختیار کرلی تو حق تعالیٰ .... اسی کے سامان اس کے لئے جمع فرما دیتے ہیں، جو کفر میں لگ گیا پھر اس کے واسطے کفر بڑھانے ہی کے…
Read the full tafseer →وسواء علیھمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یومنون (10)
ظاہر ہے کہ اس طرح کے لوگ ایک سخت قسم کی عقلی و اخلاقی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کو ڈرانا یا نہ ڈرانا اصل مقصد کے لحاظ سے بالکل بےسود ہوتا ہے۔ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں بنتے۔ ان کو اگر انداز کیا جاتا ہے تو محض اتمام حجت کے لئے قیامت کے دن یہ کوئی عذر نہ پیش کرسکیں۔ سورة بقرہ کے شروع میں ختم قلوب پر جو بحث گزر چکی ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔
Read the full tafseer →10۔ 1 یعنی جو اپنے کرتوتوں کی وجہ سے گمراہی کے اس مقام تک پہنچ جائیں، ان کے لئے اندازہ بےفائدہ رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
3: یہ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو بیان کرنے کے لئے ایک استعارہ اور مجازی تعبیر ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ حق کے صاف صاف ظاہر ہونے کے باوجود ان لوگوں نے اس طرح ہٹ دھرمی کی روش اختیار کی ہے کہ اپنے آپ کو حق کے دیکھنے سے محروم کرلیا ہے، جیسے ان کے گلوں میں طوق پڑے ہوئے ہوں، اور ان کے ہر طرف ایسی دیواریں کھڑی ہوں کہ ان کو کچھ سمجھائی نہ دے۔
Read the full tafseer →وسوآء علیھم ۔۔۔۔۔ لا یومنون (36: 10) ” ان کے لیے یکساں ہے تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو ، یہ نہ مانیں گے “۔ اس لیے کہ ان کے معاملے میں اللہ نے فیصلہ کردیا کیونکہ اللہ کو علم تھا کہ ان کے دلوں میں ایمان کے راہ پانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اور ایسے دلوں پر خبردار کرنے کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جو ایمان کے لیے تیار ہی نہ ہوں۔ وہ دل جو بندھے ہوئے ہیں جن کے اور سچائی کے درمیان دیواریں حائل ہوں۔ انذار اور تبلیغ کی وجہ سے مردہ دلوں کو زندہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ غافل اور سوئے ہوؤں کو جگایا جاسکتا ہے۔ خصوصا ایسے سوئے ہوئے دلوں کو جو ہدایت لینا چاہیں اور اس کے لیے تیار ہوں۔
Read the full tafseer →7 ان کو برابر ہے لیکن آپ کے حق میں برابر نہیں، بلکہ ایسی سخت معاند اور سرکش قوم کو نصیحت کرنا اور اصلاح کے درپے ہونا عظیم درجات کے حصول کا سبب ہے اور کبھی یہ اخلاق دوسروں کی ہدایت کا باعث بن جاتا ہے۔ اسی طرح کی آیات سورة " بقرہ " کے اوائل میں گزر چکی ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 10 { وَسَوَآئٌ عَلَیْہِمْ ئَ اَنْذَرْتَہُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْہُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ } ”اور اے نبی ﷺ ! ان کے حق میں برابر ہے ‘ خواہ آپ انہیں خبردار کریں یا نہ کریں ‘ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔“
سورة البقرۃ کی آیت 6 میں بھی ہو بہو یہی الفاظ آئے ہیں۔
Read the full tafseer →10 یہ حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی شخص اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ کوئی معقول سے معقول دلیل سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور میں نہ مانوں کی خصلت اس میں پختہ ہوجاتی ہے لیکن وہ دل میں حقیقت کو تسلیم کرلینے کے باوجود زبان سے انکار کردیتا ہے۔ یہی کیفیت ہوتی ہے جب اس پر کوئی نصیحت اور ہدایت کی بات کارگر ثابت نہیں ہوتی۔ اور اسی کیفیت کو اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر دلوں پر مہر لگا دینے سے تعبیر فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →5۔ (سو آپ زیادہ غم وفکر میں نہ پڑیئے، لیکن ساتھ ہی اپنی تبلیغ جاری رکھیے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
آیت نمبر 1 تا 12
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یسٓن اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے محکم قرآن کی جو عجیب نظم اور انوکھے معانی سے محکم ہے بلاشبہ اے محمد آپ مرسلین میں سے ہیں (اور) سیدھے راستہ پر ہیں علیٰ اپنے ماقبل (مرسلین) سے متعلق ہے (اور طریق مستقیم سے مراد) انبیاء سابقین کا طریقہ ہے، جو کہ توحید اور ہدایت کا راستہ ہے، اور قسم وغیرہ کے ذریعہ تاکید کافروں کے قول لَسْتَ مُرسَلاً کو رد کرنے کے لئے ہے یہ قرآن اس (خدا) کا نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب اور اپنی مخلوق پر مہربان ہے (تنزیل العزیز) مبتداء محذوف یعنی القرآن کی خبر ہے تاکہ…
Read the full tafseer →وسوآء علیھمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یؤمنون . آپ کا ان کو (عذاب سے) ڈرانا یا نہ ڈرانا دونوں
ان کیلئے برابر ہیں ‘ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اس کی (لفظ اور معنوی) تفسیر سورة بقرہ کی آیت سَوَآءٌ عَلَیھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ الخ میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →سو بنی مخزوم یعنی ابوجہل وغیرہ کے حق میں آپ کا ڈرانا یا نہ ڈرانا دونوں کام برابر ہیں یہ کسی بھی صورت میں ایمان لانے کا ارادہ نہیں کریں گے۔ چناچہ یہ بدر کے دن کفر ہی کی حالت میں مارے گئے۔
Read the full tafseer →وَسَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ : اس کا مطلب یہ نہیں کہ انھیں سمجھانا اور تبلیغ کرنا چھوڑ دیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب آپ لوگوں کو سمجھائیں گے اور عام تبلیغ کریں گے تو آپ کو دو قسم کے لوگوں سے سابقہ پیش آئے گا، ایک وہ لوگ جن پر آپ کی تبلیغ کوئی اثر نہیں کرے گی اور وہ اپنے کفر و شرک پر بضد رہیں گے۔ اس آیت میں انھی لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (6)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
و جعلنا من بین ایدیھم سداو من خلفھم سدا مقاتل نے کہا : جب ابو جہل اپنے ساتھیوں کے پاس گیا جب کہ وہ نبی کریم ﷺ تک نہیں پہنچ پایا تھا اور پتھر اس کے ہاتھ سے گرگیا تو بنی مخزوم کے ایک اور آدمی نے پتھر اٹھایا اور کہا : میں اسے اس پتھر کے ساتھ قتل کروں گا جب وہ نبی کریم ﷺ کے قریب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر کو بےنور کردیا تو وہ نبی کریم ﷺ کو نہ دیکھ سکا وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا تو وہ اپنے ساتھیوں کو بھی نہ دیکھ سکا یہاں تک کہ ساتھیوں نے اسے ندا دی ‘ آیت کا یہ معنی ہے۔
محمد بن اسحاق نے اپنی روایت میں کہا : عتبہ اور شیبہ جو ربیعہ کے بیٹے تھے اوجہل اور امیہ بن خلف بیٹھے وہ نبی کریم ﷺ کی تاڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
رسول اللہ ﷺ کے قتل کی سازش :
15:۔ بیہقی (رح) نے دلائل میں السدی الصغیر کے طریق سے الکلبی سے اور انہوں نے ابی صالح سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا من بین ایدیھم سدا “ (اور ہم نے ان کے آگے ایک آڑ کردی) یعنی کفار قریش اور سدا سے مراد ہے پردہ (آیت) ” فاغشینہم “ یعنی ہم نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا (آیت) ” فھم لا یبصرون “ (اب وہ نہیں دیکھتے ہیں) یعنی نبی کریم ﷺ کو کہ وہ ان کو تکلیف پہنچا سکیں اور یہ اس وجہ سے کہ قبیلہ بنو مخزوم کے کچھ لوگوں باہم متفق ہوئے کہ نبی کریم ﷺ کو قتل کردیں ان میں ابوجہل اور ولید بن مغیرہ بھی تھے اسی اثناء میں کہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ اور…
Read the full tafseer →وَسَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ [اور برابر ہے ان پر ] ءَ [خوا ] اَنْذَرْتَهُمْ [آپ ﷺ خبر دارنہ کریں ان کو ] اَمْ [یا ] لَمْ تُنْذِرْهُمْ [ آپ ﷺ خبردارنہ کریں ان کو ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
اس کے بعد فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے ان کو ایمان لانا نہیں ہے یعنی یہ لوگ آپ کے انذار کا اثر نہ لیں گے، جو لوگ انذار کا اثر لیتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کا نصیحت قبول کرنے کا مزاج ہے جو حق بات سنتے ہیں اور فکر کرتے ہیں اور وضوح حق کے بعد حق کو مان لیتے ہیں : (ھٰذا علی احد القولین) اور بعض حضرات نے فرمایا کہ (مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ ) سے مومنین مراد ہیں اور (ویؤید ما بعدہ) جو بن دیکھے رحمان سے ڈرتے ہیں، وہ رحمان کو رحمن بھی مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی نافرمانی اور تقصیر اور کوتاہی کے سبب سے اس کی گرفت سے بھی ڈرتے ہیں۔
(فَبَشِّرْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَّ اَجْرٍ کَرِیْمٍ ) (سو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
اثبات رسالت محمد موکد بقسمے کہ آں دلیل نبوت است
ومقرون بہ بیان تفاوت استعداد درقبول حق وہدایت وتہدید
مکذبین نبوت ومنکرین قیامت
قال اللہ تعالی۔ یس والقران الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین۔
(ربط) گزشتہ سورت میں کفار کے استکبار اور انکار کا ذکر تھا کہ وہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کے منکر ہیں اور آپ ﷺ کو جھوٹا بتلاتے ہیں اب اس سورت میں آپ کی نبوت و رسالت کو قسم کے ساتھ بیان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ یٰسین۔ اس کی مراد اور اس کے معنی کو اللہ ہی خوب جانتا ہے یٰسین حروف مقطعہ میں سے ہے جو خزانہ غیب کا ایک سرمکتوم ہے۔ جمہور صحابہ وتابعین کے نزدیک اس کی مراد سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
6:۔ وسواء الخ : یہ ماقبل ہی کی توضیح و تنویر ہے۔ جب ان کے دلوں پر مہر جباریت و ثبت ہوچکی ہے تو ان کے لیے آپ کا وعظ و انداز بےسود ہے آپ کا ان کو ڈرانا، اور نہ ڈرانا برابر ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا اور پھر ساتھ نبوت و رسالت کی تصدیق کی کہ حضور خاتم النبیین ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ پھر اللہ نے قرآن حکیم کے نزول کی غایت یہ بیان کی کہ تاکہ آپ اپنے اولین مخاطبین مشرکین مکہ کو ڈرا دیں جن کے آبائو اجداد کے پاس قریبی زمانہ میں کوئی ڈرانے والا نہیں آیا مگر ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ آپ کی تمام تر مساعی کے باوجود ان لوگوں کی اکثریت ایمان سے محروم رہے گی۔
گلے کے طوق
اب آج کی آیات میں ایمان نہ لانے والوں کی حالت کا تذکرہ کیا گیا ہے اور خوف خدا رکھنے والوں کے بعض اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ اس کمے بعد…
Read the full tafseer →وَسَوَاۗءٌ عَلَيْہِمْ ءَ اَنْذَرْتَہُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْہُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ 10
سواء
ومکان سُوىً ، وسَوَاءٌ: وسط . ويقال : سَوَاءٌ ، وسِوىً ، وسُوىً أي : يستوي طرفاه، ويستعمل ذلک وصفا وظرفا، وأصل ذلک مصدر، وقال :
فِي سَواءِ الْجَحِيمِ [ الصافات/ 55] ، وسَواءَ السَّبِيلِ [ القصص/ 22] ، فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلى سَواءٍ [ الأنفال/ 58] ، أي : عدل من الحکم، وکذا قوله : إِلى كَلِمَةٍ سَواءٍ بَيْنَنا وَبَيْنَكُمْ [ آل عمران/ 64] ، وقوله : سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ [ البقرة/ 6] ،
سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ [ المنافقون/ 6] ،
( س و ی ) المسا واۃ
مکان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
وجعلنا من بین ایدیہم سدا و من خلفہم سدا یعنی آگے اور پیچھے ہر طرف سے بدبختی اور ازلی گمراہی کی دیواریں کھڑی ہیں۔ فاغشیناھم فہم لایبصرون کہ جنہوں نے ان کو چاروں طرف سے ڈھانک لیا جس لیے وہ کچھ حق و باطل میں تمیز نہیں کرتے۔ یہ بھی بطور تمثیل کے ہے۔ محاورہ کی بات ہے۔ کہا کرتے ہیں ہمارے اس کے درمیان دیواریں کھڑی ہوگئیں، یعنی آڑ اور حجاب رنج پیدا ہوگئے۔ پھر فرماتا ہے سواء علیہم الخ کہ اے محمد ﷺ آپ کا وعظ کرنا نہ کرنا ان کے حق میں یکساں ہے، ان کو کچھ فائدہ نہ دے گا۔ ان آیات میں مکہ کے سخت بدکیش اور سرکش کفار کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ ابوجہل و ابی بن خلف تھا اور یہ طوق اور یہ دیواریں ازلی بدبختی اور…
Read the full tafseer →وَسَوَآئٌ عَلَیْہِمْ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 10)
(اور ان کے لیے یکساں ہے آپ انہیں خبردار کریں یا نہ کریں، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ )
گزشتہ دو آیتوں میں جن ہٹ دھرم اور متکبرین کی تصویرکشی کی گئی ہے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ آپ ان لوگوں کو انذار کریں یا نہ کریں انہیں جونک لگنے والی نہیں، یہ کبھی آپ کی بات سن کر نہیں دیں گے۔ ہٹ دھرمی اور استکبار نے ان کی عقلوں اور اخلاق کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، اس لیے اب ایمان قبول کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ البتہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ تبلیغ و دعوت کا کام ترک کردیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں لوگوں کے دائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
فہم القرآن
ربط کلام : بیشک لوگوں کی اکثریت ایمان کے بارے میں اندھی ہوچکی ہے لیکن آپ ﷺ لوگوں کو ضرور انتباہ فرمائیں کیونکہ جو شخص اپنے رب سے غیب میں ڈرنے والا ہے وہ ضرور ہدایت پالے گا۔ ہدایت پانے والے کو جنت کی خوشخبری دیجیے۔ بیشک گمراہ لوگ آپ کی محنت کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور حق کے معاملے میں اندھے ہوچکے ہیں لیکن آپ سلیم الفطرت لوگوں کو سمجھاتے رہیں کیوں کہ ” اللہ “ سے ڈرنے والے نصیحت حاصل کیا کرتے ہیں۔
جو انسان آخرت کی جواب دہی کو بھول جائے حقیقت میں وہ اندھا ہوجاتا ہے۔ ایسے شخص کی آنکھوں سے غفلت کا پردہ اٹھانے اور آخرت کی جواب دہی کا احساس دلانے کے لیے اسے حقیقت حال سے آگاہ کیا…
Read the full tafseer →10: وَسَوَآ ئٌ عَلَیْھِمْ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْ ھُمْ (اور ان کے حق میں آپ کا ڈرانا اور نہ ڈرانا دونوں برا بر ہے) ۔ لَا یُؤْمِنُوْنَ (یہ ایمان نہ لائیں گے) یعنی ان کو ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہے۔ مطلب یہ ہے۔ جو گمراہی کے اس درجہ کو پہنچا ہو۔ اس کے لئے ڈرانا نفع بخش نہیں۔
ایک عبرتناک حکایت :
میں ہے کہ عمربن عبدا لعزیز رحمۃ اللہ نے اللہ قدری فرقہ کے غیلان نامی آدمی کو یہ آیت پڑھ کر سنائی تو وہ کہنے لگا۔ یہ آیت تو گویا اب تک میری نگاہ سے گزری نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آج سے میں قدریہ فرقہ کے عقائد سے تائب ہوتا ہوں۔ عمربن عبد العزیز نے دعا کی اے اللہ اگر اس نے سچ کہا ہے تو اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9، وجعلنا من بین اید یھم سدا ومن خلفھم سدا، فتحہ کے ساتھ حمزہ کسائی اور حفص کے نزدیک ہے اور دوسرے قراء نے اس کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ، سدا،۔۔۔۔۔۔۔ فاغشیناھم، ہم نے ان کو اندھا کردیا۔ ، تغشیہ، پردہ ڈھا نک دینے کو کہاجاتا ہے۔ ، فھم لا یبصرون، ہدایت کا راستہ نہیں دیکھ سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
5 تا 11۔ اوپر قرآن شریف کی قسم کھا کر یہ اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ جس قرآن کی قسم کھائی ہے وہ قرآن ایسے اللہ کا اتارا ہوا ہے جو قرآن کے جھٹلانے والوں کو سزا دینے میں بڑا زبردست اور قرآن کے ماننے والوں کے حق میں بڑا صاحب رحم ہے پھر قرآن کے نازل کرنے کا سبب بیان فرمایا کہ قرآن ایسے لوگوں کو عذاب آخرت سے ڈرانے کے لیے اتارا گیا ہے کہ جن میں بہت مدت سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اس واسطے ان میں موروثی غفلت چلی آتی ہے پھر فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے جو لوگ اللہ کے علم میں نافرمان ٹھہر چکے ہیں وہ اس قرآن کو نہیں مانیں گے اس لیے اے رسول اللہ کے ایسے لوگوں کے حال پر تم کو کچھ افسوس نہ کرنا چاہئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
آیت 1
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد…
Read the full tafseer →13 ہٹ دھرم نور حق و ہدایت سے محروم ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہٹ دھرموں پر کلام حق و ہدایت کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور خرابی و فساد کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگ جب ایمان لانا چاہتے ہی نہیں تو پھر ایسے ہٹ دھرموں کو ایمان کی دولت نصیب ہو تو کیسے اور کیونکر ؟ کہ " میں نہ مانوں " (I never Agree) کا تو کوئی علاج ہی نہیں۔ ورنہ حضرت واہب مطلق ۔ جل جلالہ ۔ کی طرف سے عطا و بخشش کے خزانے تو لگاتار تقسیم ہو رہے ہیں اور اس سَخّائُ اللّیل والنّہار کی لامتناہی عطا و بخشش میں کبھی پل بھر کے لئے بھی کوئی انقطاع نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
رسول کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل
تشریح : اللہ نے قرآن کی قسم قرآن کی فضیلت کے لیے کھائی ہے۔ جیسا کہ کئی دفعہ بیان کیا جا چکا ہے کہ قرآن اتنی مکمل اور بہترین کتاب ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رہ گئی کہ اب کوئی اور کتاب بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے بھیجی جائے۔ پھر اس کو بھیجنے والا غالب اور مہربان ہے۔ غالب اس طرح کہ اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں کہ جس کو بیان کرنا رہ گیا ہو۔ بلکہ اس میں تو ان تمام چھپی ہوئی اور آنیوالے زمانے کی باتیں بھی بڑی وضاحت اور آسان الفاظ میں بیان کردی گئی ہیں۔ مثلاً فرشتوں کے بارے میں، آخرت کے بارے میں، قیامت کے بارے میں، یہ سب علم الغیب ہے۔ مہربان اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 12:
اسرار و معارف :
سورة یس کے بیشمار فضائل ہیں جو مفسرین کرام نے لکھ دئیے ہیں اور احادیث مبارکہ میں ارشاد ہیں اسی کو قرآن حکیم کا دل قرار دیا گیا ہے کسی بھی ضرورت یا مصیبت میں پڑھ کر دعا کرنا اس سے رہائی کا باعچ ہوتا ہے۔ یس حروف مقطعات میں سے ہے۔ قسم ہے قرآن حکیم کی یعنی یہ پر از حکمت کتاب کہ انسانی زندگی کے بہترین انداز میں بسر کرنے کا پورا طریقہ و سلیقہ موجود۔ طب و حکمت۔ عقل و دانش۔ سائنس و ایجادات۔ کیمیا و مرکبات۔ تاریخ و حقائق اور آئندہ کی پیشگوئیاں سب کچھ اس ایک کتاب میں موجود جس کا ایک ایک لفظ حق۔ سچ اور کھرا ہے یہی سب سے بڑا گواہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کہ…
Read the full tafseer →ف 13 اسکے یہ معنی نہیں ہیں کہ انہیں سمجھانا اور تبلیغ کرنا چھوڑ دیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ عام لوگوں کو سمجھائیں گے اور عام تبلیغ کرینگے تو آپ ﷺ کو دو قسم کے لوگوں سے سابقہ پیش آئیگا۔ ایک وہ لوگ جن پر آپ ﷺ کی تبلیغ کوئی اثر نہ کریگی اور وہ اپنے کفر و شرک پر بضد رہیں گے۔ اس آیت میں انہیں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ( بقرہ : 6)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(36:9) من بین ایدیہم ان کے سامنے۔ سدا۔ دیوار۔ آڑ۔ بند۔
اغشیناہم۔ ماضی جمع متکلم۔ اغشاء (افعال) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہم نے ان کو اوپر سے ڈھانک دیا۔ یعنی ہم نے ان کو اندھا کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ الحکیم (پختہ اور مستحکم) حق القول ( بات پکی ہوچکی ہے ( عذاب ثابت ہوچکا ہے) اغناق ( عنق) (گردنیں) اغلال (طوق) الاذقان (ذقن) (ٹھوڑیاں) مقمحون ( مقمح) ( سر اونچا کرنے والے ( جو آگے نہیں جھکا سکتے) سد (دیوار) اغشینا ( ہم نے ڈھانپ دیا) خشی ( ڈرا) نکتب ( ہم لکھتے ہیں) قدموا ( آگے بھیجا) اثار ( اثر) پیچھے چھوڑی ہوئی نشانیاں ( اعمال) احصینا (ہم نے گھیر لیا) امام مبین ( کھلی کتاب)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ اس سورت کا آغاز بھی ایسے حروف سے کیا گیا ہے جن کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے یعنی وہ حروف جو معنی سے کٹے ہوئے ہیں اور ان کے معنی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن اس جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
قرآن کے جھٹلانے والوں کا انجام۔
(ف 1) اوپر قرآن کی قسم کھاکریہ اسکی تفصیل بیان فرمائی کہ جس قرآن کی قسم کھائی گئی ہے وہ قرآن ایسے کا اتارا ہوا ہے جو قرآن کے جھٹلانے والے کو سزا دینے میں بڑازبردست اور قرآن کے ماننے والوں کے حق میں بڑاصاحب رحم ہے پھر قرآن کے نازل کرنے کا سبب بیان فرمایا کہ قرآن ایسے لوگوں کو عذاب آخرت سے ڈرانے کے لیے اتارا گیا ہے کہ جن میں بہت مدت سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اس واسطے ان میں موروثی غفلت چلی آتی ہے پھر فرمایا ان میں سے اکثر لوگوں پر بات تقدیری ثابت ہوچکی ہے اس لیے اے محبوب ﷺ ایسے لوگوں کے حال پر تم کو کچھ افسوس نہ کرنا چاہیے اب آگے ان نافرمان لوگوں کی مثال بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
[6] ان کے لئے یکساں ہے لیکن تمہارے لئے یکساں نہیں۔ بلکہ ایسی سرکش اور معاند قوم کو نصیحت کرنا اور اس کی اصلاح کے درپے ہونا عظیم درجات کے حصول کا سبب ہے۔ پھر اس ہجوم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو تمہاری نصیحت قبول کرنے والے ہیں اور تمہاری تبلیغ کا اصل مقصود اس دوسرے قسم کے لوگوں کو تلاش کرنا اور انہیں سیدھے راستے پر لگانا ہے۔ لہذا تبلیغ کئے جاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ف 1: یہ سورة مکی ہے ۔ اس میں وہی مضامین ہیں جو تمام مکی سورتوں میں پائے جاتے ہیں ۔ یعنی قرآن کے فضائل اور محسامد رسالت کا ذکر اور توحید کا تذکرہ یا حسر ونشر کے متعلق شکوک و شبہات کا بیان اور ان کا ازالہ ۔
قرآن میں جہاں جہاں قسمیں آئی ہیں ۔ وہاں ان سے مراد ایک قسم کا استشہاد اور استدلال ہوتا ہے ۔ مثلاً یہاں قرآن حکیم کو بطور مقسم بہ کے ذکر کیا ہے ۔ اور اس کے بعد فرمایا ہے کہ آپ بلاشبہ اللہ کے رسول ہیں ۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی نبوت اور رسالت پر بہترین دلیل خودیہ صحیفہ حکمت ہے ۔ اس میں جنتا غور کیجئے گا ۔ آپ کو معلوم ہوگا ۔ کہ یہ حیرت انگیز کتاب ہے ۔ اس کی بلاغت اس کا معارف سے معمور ہونا ۔ اس…
Read the full tafseer →(10) اور اے پیغمبر ان کے حق میں آپ کا ڈرانا یا نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ یعنی یہ لوگ جو کفر کے خوگر ہوچکے ہیں ان کے حق میں ڈرانا اور نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اگرچہ نبی کریم ﷺ کو تبلیغ کا اجروثواب ملے گا لیکن ان کے ایمان لانے کی کوئی توقع نہیں ہے۔ تفصیل کیلئے سورة بقر کی تسہیل ملاحظہ کرنے کی ضرورت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ف 2۔ یعنی اٹھے رہ گئے نیچے کو نہیں ہوسکتے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں یہ ایمان لانے والے نہیں :
10۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کو تعلیم کرنا چھوڑ دیا جائے اور ہدایت ان کے سامنے پیش ہی نہ کی جائے یا یہ اتنے زور آور ہیں کہ اللہ میاں کے پاس ان کی ہدایت کی کوئی صورت نہیں یا اتنے منہ زور ہیں کہ اللہ کا قانون ان پر گرفت کر ہی نہیں سکتا مطلب یہ ہے کہ ایمان لانا نہ لانا ان لوگوں کی اپنی ذمہ داری ہے آپ ﷺ پر ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے کوئی گرفت نہیں اور ان کی حالت ایسی ہے جیسے بھینس کے سامنے بین بجانا آپ ﷺ ان کی حالت کے باعث دل تنگ نہ ہوں اور ہمارے قانون امہال سے آپ ﷺ بیزار نہ ہوں ان کی ہر حالت ہمارے قانون مشیت کے تحت ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
Verses 7 and 8 لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا (The word has indeed come true about most of them, so they will not believe. Surely We have placed iron collars on their necks, so they are reaching up to their chins, and their heads are forced to remain upraised.) mean that Allah Ta’ ala has already placed before human beings two alternate ways of life - the way of kufr (disbelief) and 'Iman (faith) and the way of Jannah (Paradise) and Jahannam (the Hell) - and to give direction and substance to this call of faith,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
8 This dces not mean that it is fertile to preach, but it means: "Your preaching reaches every kind of people. Some of them are the ones mentioned above, and some others those who are being mentioned in the next verse. When you come across the people of the first kind and you see that they continue to persist in their denial, pride and antagonism, you should leave them alone, but at the same time you should not feel disheartened so as to give up your mission, for you do not know exactly where among the multitudes of the people are those sincere servants of God, who would heed your admonition…
Read the full tafseer →