Yaseen 36:34

Yaseen · from ayah 34

36:34

وَجَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ وَّفَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِ ۟ۙوَجَعَلۡنَا فِيۡهَا جَنّٰتٍ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّاَعۡنَابٍ وَّفَجَّرۡنَا فِيۡهَا مِنَ الۡعُيُوۡنِۙ

اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کردیئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We placed therein gardens of palm trees and grapevines and caused to burst forth therefrom some springs -

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:34

ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس کے اندر چشمے پھوڑ نکالے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کردیئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے اس میں کھجوروں کے اور انگور کے باغات پیدا کر دیئے، اور جن میں ہم نے چشمے بھی جاری کر دیئے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے اس زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے، اور ایسا انتظام کیا کہ اس میں سے پانی کے چشمے پھوٹ نکلے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے اس میں باغ بنائے کھجوروں اور انگو روں کے اور ہم نے اس میں کچھ چشمے بہائے کہ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات بنائے اور اس میں ہم نے کچھ چشمے بھی جاری کردیئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے کئی باغ بنائے اور ان میں کئی چشمے پھاڑ نکالے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کئے اور اس کے اندر سے چشمے بہا دیئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس میں ہم نے کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگائے اور اس میں چشمے جاری کردیے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس میں ہم نے طرح طرح کے باغ پیدا کردیئے کھجوروں اور انگوروں (وغیرہ) کے اور پھوڑ نکالے ہم نے اس میں قسما قسم کے چشمے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے اس (زمین) میں باغ لگائے کھجوروں اور انگوروں کے اور اس (زمین) میں چشمے جاری کردیئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے بنا دیے ہیں اس میں باغات کھجور اور انگور کے اور جاری کردیے ہیں ہم نے اس میں چشمے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کردیے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We made in it gardens of date-palms and vines, and We caused springs to gush forth

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We have placed gardens of date-palms and grapes, and caused springs to gush forth therein,

— Muhammad Taqi Usmani

And We have placed gardens of date-palms and grapes, and caused springs to gush forth therein,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We have made therein gardens of date palms and grapes, and We have caused springs of water to gush forth therein.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We have placed therein gardens of the date-palm and grapes, and We have caused springs of water to gush forth therein,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We placed therein gardens of palm trees and grapevines and caused to burst forth therefrom some springs -

— Saheeh International

and produced therein grains from which they eat and established therein gardens of palms trees and vineyards and have made streams flow therein

— Muhammad Sarwar

And We make therein gardens of palms and grapevines and We make springs to flow forth in it,

— Muhammad Habib Shakir

And We place therein gardens of the date-palms and vines; and We therein cause to gush forth springs.

— Abdul Majid Daryabadi

And We produce therein orchard with date-palms and vines, and We cause springs to gush forth therein:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 33–36

وجود باری تعالیٰ کی ایک نشانی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے وجود پر، میری زبردست قدرت پر اور مردوں کو زندگی دینے پر ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مردہ زمین جو بنجر خشک پڑی ہوئی ہوتی ہے جس میں کوئی روئیدگی، تازگی، ہریالی، گھاس وغیرہ نہیں ہوتی۔ میں اس پر آسمان سے پانی برساتا ہوں وہ مردہ زمین جی اٹھتی ہے لہلہانے لگتی ہے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ اگ جاتا ہے اور قسم قسم کے پھل پھول وغیرہ نظر آنے لگتے ہیں۔ تو فرماتا ہے کہ ہم اس مردہ زمین کو زندہ کردیتے ہیں اور اس سے قسم قسم کے اناج پیدا کرتے ہیں بعض کو تم کھاتے ہو بعض تمہارے جانور کھاتے ہیں۔ ہم اس میں کھجوروں کے انگوروں کے باغات وغیرہ تیار کردیتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 33–34

سورة یٰسٓ 26 پچھلے دو رکوعوں میں کفار مکہ کو انکار و تکذیب اور مخالفت حق کے اس رویہ پر ملامت کی گئی تھی جو انہوں نے نبی ﷺ کے مقابلے میں اختیار کر رکھا تھا۔ اب تقریر کا رخ اس بنیادی نزاع کی طرف پھرتا ہے جو ان کے اور نبی ﷺ کے درمیان کشمکش کی اصل وجہ تھی، یعنی توحید و آخرت کا عقیدہ، جسے حضور ﷺ پیش کر رہے تھے اور کفار ماننے سے انکار کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں پے در پے چند دلائل دے کر لوگوں کو دعوت غور و فکر دی جا رہی ہے کہ دیکھو، کائنات کے یہ آثار جو علانیہ تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں، کیا اس حقیقت کی صاف صاف نشان دہی نہیں کرتے جسے یہ نبی تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے ؟ سورة یٰسٓ 27 یعنی اس امر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–34

خلاصہ تفسیر اور (قدرت کی نشانیاں اور عظیم الشان نعمتیں جو توحید کے دلائل بھی ہیں، ان میں سے) ایک نشانی ان لوگوں کے (استدلال کے) لئے مردہ زمین ہے (اور اس میں نشانی کی بات یہ ہے کہ) ہم نے اس کو (بارش سے) زندہ کیا اور ہم نے اس (زمین) سے (مختلف) غلے نکالے سو ان میں سے لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے اس (زمین میں) کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگائے اور اس میں (باغ کی آب پاشی کے لئے) چشمے (اور نالے) جاری کئے تاکہ (مثل غلے کے) لوگ باغ کے پھلوں میں سے (بھی) کھائیں اور اس (پھل اور غلہ) کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا (گو تخم ریزی اور آبپاشی بظاہر انہی کے ہاتھوں ہوئی ہو مگر بیج سے درخت اور درخت سے پھل پیدا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 33–35

4۔ آگے کا مضمون۔ آیات 33۔ 50 آگے آفاق کی نشانیوں سے رسول کی دعوت اور اس کے انداز کی تائید کی ہے اور ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی ہے جو کائنات کی ان تمام نشانیوں سے آنکھیں بند کئے ہوئے کسی نئی نشانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گویا اوپر کی تاریخی شہادت کے بعد کلام ازسر نو تمہید سے متصل ہوگیا ہے جس میں یہ بات فرمائی گئی تھی کہ ان کی اصلی بیماری یہ ہے کہ استکبار ان کو اوپر یا نیچے کی کسی نشانی کی طرف متوجہ نہیں ہونے دے رہا ہے ورنہ ان کے آگے اور پیچھے نشانیوں کی کمی نہیں ہے۔ ان کے اس رویہ اور اس کے انجام کی مثال قوم فرعون سے دینے کے بعد پھر ان کو آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی۔ اس روشنی میں آیات…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

34۔ 1 یعنی مردہ زمین کو زندہ کرکے ہم اس سے ان کی خوراک کے لئے صرف غلہ ہی نہیں لگاتے، بلکہ ان کے کام و دہن کی لذت کے لئے مختلف اقسام کے پھل بھی کثرت سے پیدا کرتے ہیں، یہاں صرف دو پھلوں کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ یہ کثیرالمنافع بھی ہیں اور عربوں کو مرغوب بھی، نیز ان کی پیداوار بھی عرب میں زیادہ ہے۔ پھر غلے کا ذکر پہلے کیا کیونکہ اس کی پیداوار بھی زیادہ ہے اور خوراک کی حیثیت سے اس کی اہمیت بھی مسلمہ۔ جب تک انسان روٹی یا چاول وغیرہ خوراک سے اپنا پیٹ نہیں بھرتا، محض پھل فروٹ سے اس کی غذائی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–34

11: یعنی اس ظالم اور نافرمان قوم کو ہلاک کرنے کے لیے ہمیں فرشتوں کا کوئی لشکر آسمان سے اتارنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بس ایک ہی فرشتے نے ایک زور دار آواز نکالی تو اسی سے ان کے کلیجے پھٹ گئے، اور پوری قوم ہلاک ہو کر ایسی ہوگئی جیسے آگ بجھ کر راکھ کا ڈھیر بن جائے۔ والعیاذ باللہ العلی العظیم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 33–35

وایۃ لھم الارض المیتۃ۔۔۔۔۔ ومما لا یعلمون (33 – 36 پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں یا ان اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں “۔ یہ لوگ رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں اور انسانی تاریخ کے اندر تکذیب کرنے والوں کی قتل گاہوں اور بربادیوں پر گور نہیں کرتے۔ اور یہ لوگ مخلوق کی اس حالت سے کوئی سبق نہیں لیتے کہ لوگ چلے جا رہے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں ہو رہا ہے۔ اور رسول کی دعوت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں ۔ وہ اللہ جس کے وجود پر ان کے اردگرد پھیلی ہوئی یہ کائنات اچھی طرح دلالت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 33–35

1 یعنی شاید شبہ گزرتا کہ میرے پیچھے پھر کس طرح زندہ ہو کر حاضر کیے جائیں گے ؟ اس کو یوں سمجھا دیا کہ زمین خشک اور مردہ پڑی ہوتی ہے۔ پھر خدا اس کو زندہ کرتا ہے کہ ایک دم لہلہانے لگتی ہے۔ کیسے کیسے باغ و بہار، غلے اور میوے اس سے پیدا ہوتے ہیں جن کو تم استعمال میں لاتے ہو۔ اسی طرح خیال کرلو کہ مردہ ابدان میں روح حیات پھونک دی جائے گی۔ بہرحال مردہ زمین میں ان کے لیے ایک نشانی ہے جس میں غور کرنے سے بعث بعد الموت اور حق تعالیٰ کی وحدانیت و عظمت اور اس کے انعام و احسان کے مسائل کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں (تنبیہ) اوپر کی آیات میں ترہیب کا پہلو نمایاں تھا کہ عذاب الٰہی سے ڈر کر راہ ہدایت اختیار کریں۔ آیات…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 34 { وَجَعَلْنَا فِیْہَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ } ”اور ہم نے بنا دیے ہیں اس میں باغات کھجور اور انگور کے“ { وَّفَجَّرْنَا فِیْہَا مِنَ الْعُیُوْنِ } ”اور جاری کردیے ہیں ہم نے اس میں چشمے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 33–34

32 دلائل توحید۔۔ ہر قسم کی نباتات کا بہترین حصہ انسان کے لئے ہوتا ہے :۔ زمین سے جو اناج بھی پیدا ہوتا ہے اس کا بہتر حصہ تو انسانوں کی خوراک بنتا ہے اور ناقص حصہ مویشیوں اور دوسرے جانوروں کی۔ مثلاً گندم کے اناج میں سے گندم کے دانے بہتر حصہ ہے اور یہ انسانوں کی خوراک ہے۔ اور باقی کا حصہ جسے بھوسہ یا توڑی کہتے ہیں مویشیوں کی خوراک بنتا ہے۔ یہی حال سب غلوں کا ہے اور پھل دار درختوں میں سے پھل انسان کی خوراک بنتے ہیں اور پتے وغیرہ بھیڑ بکریوں اور اونٹوں کی خوراک بنتے ہیں۔ پھر کچھ چیزیں انسانوں کے لباس کے کام آتی ہیں اور کچھ دواؤں کے اور کچھ جھاڑ جھنکاڑ ایندھن کے کام آتے ہیں اور کچھ سے انسان کئی قسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 33–34

21۔ باغ کی آبپاشی کے لئے) (آیت) ” جنت ..... اعناب “۔ کھجور اور انگور کے نام کی تصریح مذاق عرب (مخاطبین اول) کی رعایت سے ہے۔ کھجور تو کہنا چاہیے کہ عرب کے حق میں مایہ زندگی ہے، اور انگور کے شاداب باغوں سے بھی اہل عرب واقف تھے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” ایۃ لھم “۔ سوکھی ہوئی زمین کا از سرنوجی اٹھنا بجائے خود ایک سبق ہے حق تعالیٰ کی قدرت و ربوبیت کا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–50

آیت نمبر 33 تا 50 ترجمہ : اور ایک نشانی ان کے لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر مردہ زمین ہے اٰیۃٌ لھُمْ خبر مقدم ہے اَلْمیتۃُ تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ ہم نے اس کو پانی کے ذریعہ زندہ کیا والارض الخ مبتداء مؤخر ہے، اور ہم نے اس زمین سے غلہ مثلاً گندم پیدا کیا سو اس سے یہ لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے زمین میں کھجوروں اور اناروں کے باغات پیدا کئے اور اس میں کچھ چشمے جاری کئے تاکہ لوگ اس کے پھل کھائیں، ثمَرہ میں یعنی (ث، م) دونوں میں فتحہ اور ضمہ ہے، یعنی تاکہ مذکورہ کھجور وغیرہ کے پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تو پھر یہ لوگ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وجعلنا فیھا جنت من نخیل واعناب اور زمین میں ہم نے کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کئے۔ حبّ چونکہ جنس ہے ‘ اسلئے اس کا مختلف ہونا معلوم ہی ہے ‘ اسلئے اس کو بصیغۂ جمع ذکر نہیں کیا لیکن نخیل واعناب پھلوں کے انواع ہیں ‘ اسلئے ان کو بصیغۂ جمع ذکر کیا۔ نخیل کھجور کے درخت کو کہتے ہیں اور تمر چھوارے کو کہتے ہیں ‘ مناسب تو یہ تھا کہ انگوروں اور اناج کے ساتھ چھواروں کا ذکر کیا جاتا ‘ لیکن بجائے چھواروں کے ان کے درختوں کا اسلئے ذکر کیا کہ کھجور کے درختوں کے فوائد پھلوں کے علاوہ اور بھی بہت ہیں اور صنعت الٰہیہ کا ظہور درخت کھجور سے بھی بہت ہوتا ہے۔ وفجرنا فیھا من العیون۔ اور اس میں چشمے جاری کئے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور نیز ہم نے اس زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگائے اور اس زمین میں نہریں جاری کیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَجَعَلْنَا فِيْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِيْلٍ : ”نَّخِيْلٍ“ ”نَخْلٌ“ کی جمع ہے، جیسے ”عَبْدٌ“ کی جمع ”عَبِیْدٌ“ ہے۔ ”اَعْنَابٍ“ ”عِنَبٌ“ کی جمع ہے اور ”الْعُيُوْنِ“ ”عَیْنٌ“ کی جمع ہے، مراد کنویں اور چشمے ہیں جن سے زمین سیراب کی جاتی ہے۔ یعنی مردہ زمین کو زندہ کر کے ہم اس سے ان کی خوراک کے لیے صرف غلہ ہی نہیں اگاتے بلکہ ان کے کام و دہن کی لذت کے لیے مختلف اقسام کے پھل بھی کثرت سے پیدا کرتے ہیں۔ یہاں صرف دو پھلوں کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ یہ کثیر المنافع بھی ہیں اور عربوں کو مرغوب بھی، نیز ان کی پیداوار بھی عرب میں زیادہ ہے، پھر غلے کا ذکر پہلے کیا، کیوں کہ اس کی پیداوار بھی زیادہ ہے اور خوراک کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 33–36

اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے انہیں مردوں کے زندہ کرنے پر متنبہ کیا اور ان کے سامنے اپنی توحید اور کمال قدرت کا ذکر کیا یہ مردہ زمین ہے جسے نباتات اور نباتات سے دانہ نکالنے کے ساتھ اسے زندہ کیا اس دانہ سے تم غذا حاصل کرتے ہو اہل مدینہ نے المیتۃ کے لفظ کو مشدد پڑھا ہے جب کہ باقی قراء نے اسے مخفف پڑھا ہے یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ اور ہم نے اس زمین میں باغات بنائے کھجور اور انگروں کا خصوصی طور پر ذکر کیا کیونکہ یہ دونوں اعلی قسم کے پھل ہیں ان باغات میں ہم نے چشمے جاری کردیئے ثمرہ میں جو ضمیر ہے وہ عیون کے پانی کی لوٹتی ہے کیونکہ پھل اسی سے پیدا ہوتے ہیں یہ جرجانی ‘ مہدوی اور دوسرے علماء کا قول ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–34

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم یروا کم اھلکنا قبلھم من القرون انہم الیھم لا یرجعون “ (کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی امتیں ہلاک کرچکے ہیں کہ وہ پھر ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئے) یعنی قوم عاد، ثمود اور ان کے درمیان بہت سی امتیں (آیت) آ ” وان کل لما جمیع لدینا محضرون “ (اور ان میں سے کوئی ایسا نہیں مجموعی طور پر جو ہمارے روبرو حاضر نہ کیا جائے) یعنی قیامت کے دن ہمارے ہاں جمع ہوں گے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ہارون (رح) کے طریق سے اعرج (رح) وابوعمر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہم الیھم لا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَجَعَلْنَا فِيْهَا [اور ہم نے بنائے اس میں ] جَنّٰتٍ [کچھ باغات ] مِّنْ نَّخِيْلٍ [جیسے کھجور کے ] وَّاَعْنَابٍ [اور انگور کے ] وَّفَجَّــرْنَا فِيْهَا [اور ہم نے جاری کئے اس میں ] مِنَ الْعُيُوْنِ [چشموں میں سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 34–36

(سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّہَا) (الآیۃ) یعنی زمین سے جو بھی چیزیں پیدا ہوتی ہیں سب اس ذات نے پیدا فرمائی ہیں جو بالکل بےعیب ہے، ہر نقص اور ہر کمی کوتاہی سے پاک ہے، یہ چیزیں جو زمین کی پیداوار ہیں ان میں طرح طرح کے انواع و اقسام ہیں اور خود انسانوں کی جانوں میں بھی ازواج ہیں یعنی کچھ مذکر ہیں اور کچھ مونث ہیں، اپنی جانوں کو اور زمین کی پیداوار کو تو لوگ جانتے ہیں ان کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے جو بر و بحر میں پھیلی ہوئی ہیں، درندے ہیں چرندے ہیں، دریائی جانور ہیں، ان میں بھی مختلف قسم کے انواع و اقسام ہیں، (وَذٰلِکَ کلہ من صنع اللّٰہ تعالیٰ لادخل فیہ لغیرہ سبحانہٗ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–36

ذکر دلائل قدرت برائے اثبات وحدانیت وامکان حشرونشر قال اللہ تعالیٰ وایۃ لہم الارض المیتۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ومتاعا الی حین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان سرکشوں کا حال بیان کیا جو توحید کے بھی منکر تھے اور نبوت و رسالت کے بھی منکر تھے اور حشر ونشر کے بھی منکر تھے اب آگے اپنی قدرت کے دلائل بیان کرتے ہیں جس سے توحید ثابت ہو اور شرک کا ابطال ہو اور حشر ونشر کا امکان ثابت ہو۔ (نیز) گذشتہ مضمون کے ختم پر یہ فرمایا وان کل لما جمیع لدینا محضرون جس سے ان کفار کو تنبیہ تھی جو معاد کے منکر اور اس سے غافل تھے اب آگے دلائل قدرت کو ذکر کرتے ہیں تاکہ حشر ونشر کا اقرار کریں اور آخرت کی کچھ فکریں کریں اور ان دلائل قدرت کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 34–36

25:۔ سبحن الخ :۔ جن مزعومہ معبودوں کو مشرکین نے شرکاء اور شفا ( علیہ السلام) بنا رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے پاک ہے۔ زمین سے انواع و اقسام کی اشیاء میوے، پھل پھول، گلے وغیرہ وہی پیدا کرتا ہے۔ ومن انفسہم اور انسانوں کی اولاد میں نر و مادہ کا خالق بھی وہی ہے۔ وہ ایسی بیشمار مخلوق کا بھی خالق ہے جس کا انکو علم بھی نہیں۔ یہ دلیل ثانی کا تتمہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–40

ربط آیات رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کا حال بیان کیا کہ ان کے پاس تین رسول آئے تاکہ ان کو توحید کی دعوت دیں مگر ان اہل بستی نے ان رسولوں یا مبلغین کے ساتھ سخت بدسلوکی کی حتی کہ ان کے قتل کے درپے ہوئے ان مرسلین کی تائید میں شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور قوم کو سمجھایا کہ ان رسولوں کی پیروی کرتے ہوئے شرک سے تائب ہو جائو اور توحید خداوندی کو اختیار کرو تو بستی والے اس مرد مومن کے بھی خلاف ہوگئے اور اسے قتل کر ڈالا ، پھر ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خوفناک چیخ کی صورت میں عذاب آیا جس سے سارے بستی والے ہلاک ہوگئے۔ ضمناً اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَجَعَلْنَا فِيْہَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ وَّفَجَّــرْنَا فِيْہَا مِنَ الْعُيُوْنِ۝ 34ۙ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–36

ترکیب : واٰیۃ مبتداء لہم الخبر والارض مبتداء احییناھا الخبر و الجملۃ تفسیر للایۃ وقیل الارض مبتداء اٰیۃ خبر مقدم و احییناھا تفسیر الاٰیۃ ولھم صفۃ الاٰیۃ من العیون علیٰ قول الا خفش من زائدۃ و ما عملتہ ما بمعنی الذی او نکرۃ موصوفۃ و علی الوجھینھی فی موضع جرعطفا علی ثمرۃ و امانا فیۃ والقمر بالرفع مبتدا قدرناہ الخبر و بالنصب علی فعل مضمر ای قدرنا القمر العرجون فعلول فالنون اصل وقیل زائدۃ یخصمون بالتشدید اصلہ یختصمون نقلت حرکتہ التاء الی الخاء و ادغمت فی الصاد۔ تفسیر : وآیۃ لہم الارض امم ماضیہ کے سرکش لوگوں کا حال بیان فرما کر جو توحید کے انکار سے برباد ہوئے تھے۔ توحید کے دلائل بیان فرماتا ہے، ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 33–35

وَاٰیـَۃٌ لَّھُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَۃُ صلے ج اَحْیَیْنٰـھَا وَاَخْرَجْنَا مِنْھَا حَبًّا فَمِنْہُ یَاْکُلُوْنَ ۔ وَجَعَلْنَا فِیْھَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ وَّفَجَّرْنَا فِیْھَا مِنَ الْعُیُوْنِ ۔ لِیَاکُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖ لا وَمَا عَمِلَتْہُ اَیْدِیْہِمْ ط اَفَلاَ یَشْکُرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 33 تا 35) (اور ان لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی نشانی مردہ زمین ہے، ہم نے اس کو زندگی بخشی اور اس سے غلے اگائے، پس اس میں سے وہ کھاتے ہیں۔ اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کردیے۔ تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں، یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں، تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جو ذات زمین سے دانہ اگاتی ہے اسی ذات نے کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے ہیں۔ عرب میں کھجور اور انگور کے باغ کثرت سے پائے جاتے تھے۔ صحراء میں رہنے والے لوگ عام طور پر کھجور پر ہی گزارا کرتے تھے۔ متمدن لوگ کھجور اور انگور کو مختلف طریقوں کے ساتھ خوراک کے طور پر استعمال کرتے اور کھجور اور انگور سے کئی قسم کے مشروبات تیار کرتے اور اسی سے شراب بناتے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ جن لوگوں کو کھجور اور انگورکا مشترکہ باغ دیکھنے کا موقع ملا ہے وہ جانتے ہیں کہ اس سے پُر کشش باغ کسی اور درخت کا نہیں ہوتا۔ خاص طور پر انگوروں اور کھجوروں کے جس باغ میں پانی کے چشمے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

34: وَجَعَلْنَا فِیْھَا (اور ہم نے اس میں لگائے) یعنی زمین میں جَنّٰتٍ (باغات) مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ (کھجوروں اور انگوروں کے) وَّ فَجَّرْنَا فِیْھَا مِنَ الْعُیُوْنِ (اور ہم نے اس میں چشمے جاری کردیئے) اخفش کے نزدیک من زائدہ ہے اور دوسروں کے نزدیک مفعول محذوف ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ ماینفعون بہٖ ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

34، وجعلنا فیھا جنات ، جنات سے مراد باغات ہیں۔ ، من نخیل واعناب وفجرنافیھا، اس سے مرادزمین ہے۔ ، من العیون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 33–36

33 تا 36۔ اوپر کی آیت انانحن نحی الوتی میں حشر کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اس کی مثال بیان فرمائی کہ ہر سال حشر کا حال سمجھنے کے لیے وہ مردہ زمین کہ جس میں گھانس تک نہیں ہوتی منکریں حشر کے حق میں ایک نشانی ہے کہ جس وقت ہم نے اس پر مینہ برسایا تو وہ ملتی ابھرتی ہے اور ہر قسم کی چیزیں اگاتی ہے گویا بعد مرنے کے جی اٹھتی ہے اس واسطے فرمایا کہ زندہ کیا ہم نے اس کو اور نکالا ہم نے اس سے اناج جو کھاتے ہیں یہ بھی اور ان کے چوپائے بھی پھر فرمایا کہ بنائے ہم نے باغ کھجور اور انگور کے اور بہائے زمین میں چشمے اور ندیاں تاکہ کھائیں اس کے میووں سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اناج کے پیدا کرنے کا احسان مخلوق پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 33–36

آیت 33 (وایۃ لھم ) ” ان کے لئے ایک نشانی ہے۔ “ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھائے جانے، حشر و نشر، حساب کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے اور ان اعمال کی جزا و سزا پر دلیل ہے۔ (آیت) ” مردہ زمین “ جس پر اللہ تعالیٰ نے پانی برسا یا اور اس کے مردہ ہوجانے کے بعد اسے دوبارہ زندگی عطا کی۔ (آیت) ” یعنی ہم نے اس زمین میں سے ان تمام زرعی اصناف کو اگایا جن کو لوگ خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان اصناف کو بھی جن کو ان کے مویشی کھاتے ہیں (وجعلنا فیھا) یعنی ہم نے اس مردہ زمین میں اگائے (جنت) باغات جن میں بیشمار درخت ہیں، خاص طور پر کھجور اور انگور، جن کے درخت بہترین درخت ہیں (وفجرنا فیھا)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

35 نظام ربوبیت کا تقاضا شکر و عبادت خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس مردہ پڑی ہوئی زمین کو ہم زندہ کرتے ہیں۔ پھر اس میں طرح طرح کے غلے اور کھجوروں، انگوروں وغیرہ کے قسما قسم کے باغات پیدا کرتے ہیں اور زمین کے اندر طرح طرح کے چشمے پھوڑ نکالتے ہیں۔ تاکہ یہ لوگ کھائیں اس کے پھلوں سے اور اس کی قسما قسم کی پیداوار۔ یعنی یہ سب کچھ تمہاری روزی رسانی کے لئے ہے تاکہ تم کھا کر اس واہب مطلق کا شکر ادا کرو جس نے تمہیں ان نعمتوں سے نوازا ہے اور اس کی بندگی کو بجا لاؤ۔ ولنعم ما قال العارف الشیرازی ۔ ابرو باد ومہ و خورشید و فلک درکاراند ۔ تاتو نانے بکف آری و بغفلت نخوری ۔ ایں ہمہ از بہر تو سرگشتہ و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 33–44

ﷲ تعالیٰ کے انعامات انسان کے لیے تشریح : پچھلی آیات میں رسولوں اور انسانوں کا معاملہ کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ کہ رسول اللہ کی طرف سے بہت بڑی رحمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے دلوں کے زنگ کو دور کرتے ہیں، جنت کے راستے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہمیں ہر قسم کی جھاڑ جھنکار، اونچ نیچ اور کھائیوں سے بچاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا پیغام بڑا پاکیزہ اور سادہ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ” اللہ کو مانو رسول کو مانو اور آخرت پر یقین کرو “۔ مگر بدنصیب انسان ان سے نفرت کرتے ہیں ان پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ لیکن یہ ظلم و زیادتی اصل میں وہ خود اپنے اوپر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب کہ نیک لوگ، ان سے محبت کرتے ہیں اور یوں اللہ کے محبوب بن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–50

رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔ زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 34–35

ف 1 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے ” اس لئے یہ لوگ اس کا میوہ اور وہ چیز کھائیں جسے یہ اپنے ہاتھوں سے بناتے “۔ یعنی مصنوعی غذا جسے قدرتی پیداوار تے تیار کرتے ہیں، مثلاً گنے سے شکر، انگور سے شیرہ، گندم سے روٹی اور سبزیوں سے سالن وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:34) فیھا ای فی الارض۔ زمین میں۔ نخیل۔ نخیل ونخل اسم جنس ہے کھجور کے درخت یا کھجوریں۔ درختوں کے معنی میں قرآن مجید میں ہے کانہم اعجاز نخل خاویۃ (66:7) جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔ اور کھجوروں کے معنی میں فیھما فکھۃ ونخل ورمان۔ (55:68) ان میں میوے۔ کھجوریں اور انار ہیں۔ نخل کی جمع نخیل ہے جیسے عبد کی جمع عبید ہے۔ اعناب عنب کی جمع ہے بمعنی انگور۔ فجرنا ماضی جمع متکلم تفجیر (تفعیل) مصدر ای شققنا۔ ہم نے پھاڑا ہم نے پھاڑ کر بہایا۔ فیھا۔ ای فی الارض اوفی جنت۔ زمین میں یا باغات میں۔ من العیون۔ من کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) من ابتدائیہ ہے ای فجرنا من المنابع ما ینتفع بہ من المائ۔ یعنی منبعوں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–44

لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ حب ( دانہ) نخیل ( کھجور) اعناب ( عنب) (انگور) فجرنا ( ہم نے پھاڑ دیا) الازواج ( زوج) (جوڑے) العرجون ( کھجور کی ٹہنی ، شاخ) یرکبون (وہ سوار ہوتے ہیں) صریخ ( چیخ ، فریاد) تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں اپنی بیشمار نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جو ایک ایسے نظام میں بندھے ہوئے ہیں کہ اپنی مرضی سے ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتے۔ یہ اللہ کی ایسی نشانیاں ہیں جنہیں دن رات آدمی دیکھتا ہے لیکن ان پر غور نہیں کرتا ۔ اگر وہ ان تمام نعمتوں پر غور و فکر سے کام لے تو اس کے دل میں اس کائنات کے خالق کی ایسی عظمت چھا جائے کہ پھر اس کے سوا کسی کی عظمت کی کوئی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–36

اللہ کی قدرت کی نشانیاں۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہر سال حشر کا حال سمجھنے کے لیے وہ مردہ یعنی خشک زمین کو جس میں گھاس تک نہیں اگتی منکرین حشر کے حق میں ایک نشانی ہے۔ کہ جس وقت ہم نے اس پر مینہ برسایا تو مردہ زمین یعنی خشک زمین کا پانی سے ہر ابھرا کردینا یعنی بعد مرنے کے زمین کو زندہ کردیا، جس سے ہم نے اناج پیدا کیا جس کو وہ سب لوگ کھاتے ہیں یہ نشانیاں دوبارہ پیدا کرنے کی دلالت کرتی ہیں اور ہم نے اس زمین میں طرح طرح کے باغ کھجوروں اور انگوروں کے پیدا کیے اور جاری کیے زمین میں چشمے اور ندیاں تاکہ لوگ باغ کے میوے اور پھلوں میں سے کھائیں، پھر فرمایا یہ چیزیں ان کی بنائی ہوئی نہیں نہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 32–37

[13] یعنی وہ تو دنیا کا عذاب تھا اور آخرت کی سزا الگ رہی۔ یہ نہ سمجھو کہ ہلاک ہو کر پھر ادھر واپس نہیں آتے تو بس قصہ ختم ہوا۔ نہیں، سب کو ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے جہاں سب مجرم پکڑے ہوئے آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 33–35

فطرت کے انعامات 2: ان آیات میں مظاہر فطرات کی جانب متوجہ کیا ہے ۔ فرمایا ہے کہ تم دیکھوں عنایات الٰہیہ نے تمہیں کس درجہ مسنون کر رکھا ہے ۔ تمہارے کھیت جب سوکھ جاتے ہیں اور تمہارے باغات جب خشک اور خزاں پذیر ہوجاتے ہیں ۔ اس وقت اللہ اپنی قدرت کاملہ سے ان میں زندگی کی روح پھونک دیتا ہے ۔ اور وہ مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے ۔ پھر اس میں غلہ پیدا ہوتا ہے ۔ اور تم اس کو کھاتے ہو ۔ پھر یہ بھی اللہ کا فضل ہے کہ اس نے تمہارے لئے زمین میں عمدہ عمدہ باغات پیدا کر رکھے ہیں جن میں کھجوریں اور انگور ہوتے ہیں ۔ اور ان باغات میں چشمے جاری ہیں ۔ تم ان پھلوں کو کھاتے ہو ۔ حالانکہ اس میں تمہاری صنعت کاری کو کوئی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(34) اور پیدا کئے ہم نے زمین میں باغ کھجوروں کے اور باغ انگوروں کے اور نیز اس زمین میں یا ان باغوں میں چشمے جاری کئے۔ فیھا میں دو قول ہیں بعض نے زمین مراد لی ہے بعض نے باغ مراد لئے ہیں۔ مقصد ایک ہی ہے جو چشمے زمین سے نکلتے ہیں ان کا پانی بھی باغوں میں دیا جاتا ہے۔ کھجوروں کا باغ جس میں کھجور کے درخت زیادہ ہوں اسی طرح انگور کا باغ جس میں انگور کے درخت زیادہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زمین میں ہم نے پھل ‘ کھجوریں ‘ انگور اور چشمے پیدا کردیئے : 34۔ غور کرنے والوں کے لئے ایک طرح کی نہیں بلکہ ہر ایک چیز میں کئی کئی طرح کی نشانیاں موجود ہیں ایک ہی زمین میں بیسیوں طرح کے میوے موجود ہیں ایک ہی پانی سے سب سیراب ہو رہے ہیں ‘ ایک طرح سے ان کی نلائی کی جا رہی ہے ‘ ایک ہی طرح کی کھاد دی جا رہی ہے لیکن سب کے پھل ایک دوسرے سے کس قدر مختلف ہیں اور ان پھلوں کے درختوں کی طرف تم دھیان کرکے دیکھو کہ کھجوریں بڑھتے بڑھتے کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہیں اور انگور کی بیلیں پھیلتے پھیلتے کہاں سے کہاں تک پھیلتی جا رہی ہیں اس طرح دوسرے پھلدار درختوں کو دھیان سے دیکھو کہ وہ اپنی اپنی جنس کے ساتھ کس طرح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–34

Commentary Most of the subjects taken up in Surah Ya Sin related to signs of Divine power and the rewards and favors bestowed on human beings. These have been harnessed to prove that there is a life hereafter and that people need to be firm in their belief in being raised again and having to face the Day of Judgment. In the verse cited above, the Divine signs pointed to are, on one hand, clear proofs of His perfect power, while on the other, they serve as mirrors of particular rewards and favors of Allah Ta’ ala bestowed on human beings and the rest of creatures. In this, lie unusual lessons…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–34

26 Until now the disbelieves of Makkah were being warned and reproved for their denial of the truth and their attitude of antagonism which they had adopted towards the Holy Prophet. Now the discourse turns to the basic thing which was the actual cause of the conflict between them and the Holy Prophet, i . c. , the doctrine of Tauhid and the Hereafter, which the Holy Prophet was presenting and the disbelievers were refusing to acecpt. In this connection, some arguments have been given, one after the other, to make the people ponder over the realities, as if to say, "Observe these phenomena of…

Read the full tafseer →