Yaseen 36:33

Yaseen · from ayah 33

36:33

وَاٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ ۖۚ— اَحْیَیْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ ۟وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الۡاَرۡضُ الۡمَيۡتَةُ ۖۚ اَحۡيَيۡنٰهَا وَاَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبًّا فَمِنۡهُ يَاۡكُلُوۡنَ

اور ایک نشانی ان کے لئے زمین مردہ ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اُگایا۔ پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And a sign for them is the dead earth. We have brought it to life and brought forth from it grain, and from it they eat.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:33

اِن لوگوں کے لئے بے جان زمین ایک نشانی ہے ہم نے اس کو زندگی بخشی اور اس سے غلہ نکالا جسے یہ کھاتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ایک نشانی ان کے لئے زمین مردہ ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اُگایا۔ پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان کے لئے ایک نشانی (خشک) زمین ہے جس کو ہم نے زنده کر دیا اور اس سے غلہ نکالا جس میں سے وه کھاتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان کے لیے ایک نشانی وہ زمین ہے جو مردہ پڑی ہوئی تھی، ہم نے اسے زندگی عطا کی، اور اس نے غلہ نکالا، جس کی خوراک یہ کھاتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان کے لیے ایک نشانی مردہ زمین ہے ہم نے اسے زندہ کیا اور پھر اس سے اناج نکالا تو اس میں سے کھاتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اُن کے لئے ایک نشانی مُردہ زمین ہے، جِسے ہم نے زندہ کیا اور ہم نے اس سے (اناج کے) دانے نکالے، پھر وہ اس میں سے کھاتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ایک نشانی ان کے لیے مردہ زمین ہے، ہم نے اسے زندہ کیا اور اس سے غلہ نکالا تو وہ اسی میں سے کھاتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان لوگوں کے لئے مردہ زمین (بھی) ایک نشانی ہے ہم نے اسے زندہ کیا اور اس سے اناج نکالا جس کا کچھ حصہ وہ کھاتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ایک بہت بڑی نشانی ان کے لئے مردہ زمین ہے۔ اس کو ہم نے زندہ کیا اور اس سے غلے اگائے پس اس میں سے وہ کھاتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان کے لئے ایک عظیم الشان نشانی تو (ان کے پیش پا افتادہ) یہ مردہ زمین بھی ہے جسے ہم زندہ کر کے اس سے نکالتے ہیں طرح طرح کے غلے جس سے یہ لوگ کھاتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور ایک نشانی ان لوگوں کے لئے زمین مردہ ہے ہم نے اسے زندہ کیا اور اس میں سے غلے نکالے سو ان میں سے لوگ کھاتے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ور ان کے لیے ایک نشانی ُ مردہ زمین ہے ہم نے اسے زندہ کیا اور اس سے اناج نکالا تو اس میں سے وہ کھاتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ایک نشانی ان کے لیے مردہ زمین ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اگایا پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Let the dead earth be a Sign for them. We gave it life and produced from it grain whereof they eat.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And a sign for them is the dead land. We gave it life and brought forth grain from it; so from it they eat.

— Muhammad Taqi Usmani

And a sign for them is the dead land. We gave it life and brought forth grain from it; so from it they eat.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And a sign for them is the dead land. We give it life, and We bring forth from it grains, so that they eat thereof.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A token unto them is the dead earth. We revive it, and We bring forth from it grain so that they eat thereof;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And a sign for them is the dead earth. We have brought it to life and brought forth from it grain, and from it they eat.

— Saheeh International

Evidence (of the truth) for them is how We revived the dead earth

— Muhammad Sarwar

And a sign to them is the dead earth: We give life to it and bring forth from it grain SQ they eat of it.

— Muhammad Habib Shakir

And a sign Unto them is the dead land. We quicken it and therecut We bring forth grain, so that thereof they eat.

— Abdul Majid Daryabadi

A Sign for them is the earth that is dead: We do give it life, and produce grain therefrom, of which ye do eat.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 33–36

وجود باری تعالیٰ کی ایک نشانی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے وجود پر، میری زبردست قدرت پر اور مردوں کو زندگی دینے پر ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مردہ زمین جو بنجر خشک پڑی ہوئی ہوتی ہے جس میں کوئی روئیدگی، تازگی، ہریالی، گھاس وغیرہ نہیں ہوتی۔ میں اس پر آسمان سے پانی برساتا ہوں وہ مردہ زمین جی اٹھتی ہے لہلہانے لگتی ہے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ اگ جاتا ہے اور قسم قسم کے پھل پھول وغیرہ نظر آنے لگتے ہیں۔ تو فرماتا ہے کہ ہم اس مردہ زمین کو زندہ کردیتے ہیں اور اس سے قسم قسم کے اناج پیدا کرتے ہیں بعض کو تم کھاتے ہو بعض تمہارے جانور کھاتے ہیں۔ ہم اس میں کھجوروں کے انگوروں کے باغات وغیرہ تیار کردیتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 33–34

سورة یٰسٓ 26 پچھلے دو رکوعوں میں کفار مکہ کو انکار و تکذیب اور مخالفت حق کے اس رویہ پر ملامت کی گئی تھی جو انہوں نے نبی ﷺ کے مقابلے میں اختیار کر رکھا تھا۔ اب تقریر کا رخ اس بنیادی نزاع کی طرف پھرتا ہے جو ان کے اور نبی ﷺ کے درمیان کشمکش کی اصل وجہ تھی، یعنی توحید و آخرت کا عقیدہ، جسے حضور ﷺ پیش کر رہے تھے اور کفار ماننے سے انکار کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں پے در پے چند دلائل دے کر لوگوں کو دعوت غور و فکر دی جا رہی ہے کہ دیکھو، کائنات کے یہ آثار جو علانیہ تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں، کیا اس حقیقت کی صاف صاف نشان دہی نہیں کرتے جسے یہ نبی تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے ؟ سورة یٰسٓ 27 یعنی اس امر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–34

خلاصہ تفسیر اور (قدرت کی نشانیاں اور عظیم الشان نعمتیں جو توحید کے دلائل بھی ہیں، ان میں سے) ایک نشانی ان لوگوں کے (استدلال کے) لئے مردہ زمین ہے (اور اس میں نشانی کی بات یہ ہے کہ) ہم نے اس کو (بارش سے) زندہ کیا اور ہم نے اس (زمین) سے (مختلف) غلے نکالے سو ان میں سے لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے اس (زمین میں) کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگائے اور اس میں (باغ کی آب پاشی کے لئے) چشمے (اور نالے) جاری کئے تاکہ (مثل غلے کے) لوگ باغ کے پھلوں میں سے (بھی) کھائیں اور اس (پھل اور غلہ) کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا (گو تخم ریزی اور آبپاشی بظاہر انہی کے ہاتھوں ہوئی ہو مگر بیج سے درخت اور درخت سے پھل پیدا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 33–35

4۔ آگے کا مضمون۔ آیات 33۔ 50 آگے آفاق کی نشانیوں سے رسول کی دعوت اور اس کے انداز کی تائید کی ہے اور ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی ہے جو کائنات کی ان تمام نشانیوں سے آنکھیں بند کئے ہوئے کسی نئی نشانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گویا اوپر کی تاریخی شہادت کے بعد کلام ازسر نو تمہید سے متصل ہوگیا ہے جس میں یہ بات فرمائی گئی تھی کہ ان کی اصلی بیماری یہ ہے کہ استکبار ان کو اوپر یا نیچے کی کسی نشانی کی طرف متوجہ نہیں ہونے دے رہا ہے ورنہ ان کے آگے اور پیچھے نشانیوں کی کمی نہیں ہے۔ ان کے اس رویہ اور اس کے انجام کی مثال قوم فرعون سے دینے کے بعد پھر ان کو آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی۔ اس روشنی میں آیات…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–34

11: یعنی اس ظالم اور نافرمان قوم کو ہلاک کرنے کے لیے ہمیں فرشتوں کا کوئی لشکر آسمان سے اتارنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بس ایک ہی فرشتے نے ایک زور دار آواز نکالی تو اسی سے ان کے کلیجے پھٹ گئے، اور پوری قوم ہلاک ہو کر ایسی ہوگئی جیسے آگ بجھ کر راکھ کا ڈھیر بن جائے۔ والعیاذ باللہ العلی العظیم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 33–35

وایۃ لھم الارض المیتۃ۔۔۔۔۔ ومما لا یعلمون (33 – 36 پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں یا ان اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں “۔ یہ لوگ رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں اور انسانی تاریخ کے اندر تکذیب کرنے والوں کی قتل گاہوں اور بربادیوں پر گور نہیں کرتے۔ اور یہ لوگ مخلوق کی اس حالت سے کوئی سبق نہیں لیتے کہ لوگ چلے جا رہے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں ہو رہا ہے۔ اور رسول کی دعوت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں ۔ وہ اللہ جس کے وجود پر ان کے اردگرد پھیلی ہوئی یہ کائنات اچھی طرح دلالت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 33–35

1 یعنی شاید شبہ گزرتا کہ میرے پیچھے پھر کس طرح زندہ ہو کر حاضر کیے جائیں گے ؟ اس کو یوں سمجھا دیا کہ زمین خشک اور مردہ پڑی ہوتی ہے۔ پھر خدا اس کو زندہ کرتا ہے کہ ایک دم لہلہانے لگتی ہے۔ کیسے کیسے باغ و بہار، غلے اور میوے اس سے پیدا ہوتے ہیں جن کو تم استعمال میں لاتے ہو۔ اسی طرح خیال کرلو کہ مردہ ابدان میں روح حیات پھونک دی جائے گی۔ بہرحال مردہ زمین میں ان کے لیے ایک نشانی ہے جس میں غور کرنے سے بعث بعد الموت اور حق تعالیٰ کی وحدانیت و عظمت اور اس کے انعام و احسان کے مسائل کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں (تنبیہ) اوپر کی آیات میں ترہیب کا پہلو نمایاں تھا کہ عذاب الٰہی سے ڈر کر راہ ہدایت اختیار کریں۔ آیات…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 33 { وَاٰیَۃٌ لَّـہُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَۃُ } ”اور ان کے لیے ایک نشانی ُ مردہ زمین ہے“ { اَحْیَیْنٰہَا وَاَخْرَجْنَا مِنْہَا حَبًّا فَمِنْہُ یَاْکُلُوْنَ } ”ہم نے اسے زندہ کیا اور اس سے اناج نکالا ‘ تو اس میں سے وہ کھاتے ہیں۔“ بارش برستے ہی بظاہر مردہ اور بنجر زمین میں زندگی کے آثار نمودار ہوجاتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے طرح طرح کا سبزہ ‘ فصلیں اور پودے اگ آتے ہیں جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک کا ذریعہ بنتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 33–34

32 دلائل توحید۔۔ ہر قسم کی نباتات کا بہترین حصہ انسان کے لئے ہوتا ہے :۔ زمین سے جو اناج بھی پیدا ہوتا ہے اس کا بہتر حصہ تو انسانوں کی خوراک بنتا ہے اور ناقص حصہ مویشیوں اور دوسرے جانوروں کی۔ مثلاً گندم کے اناج میں سے گندم کے دانے بہتر حصہ ہے اور یہ انسانوں کی خوراک ہے۔ اور باقی کا حصہ جسے بھوسہ یا توڑی کہتے ہیں مویشیوں کی خوراک بنتا ہے۔ یہی حال سب غلوں کا ہے اور پھل دار درختوں میں سے پھل انسان کی خوراک بنتے ہیں اور پتے وغیرہ بھیڑ بکریوں اور اونٹوں کی خوراک بنتے ہیں۔ پھر کچھ چیزیں انسانوں کے لباس کے کام آتی ہیں اور کچھ دواؤں کے اور کچھ جھاڑ جھنکاڑ ایندھن کے کام آتے ہیں اور کچھ سے انسان کئی قسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 33–34

21۔ باغ کی آبپاشی کے لئے) (آیت) ” جنت ..... اعناب “۔ کھجور اور انگور کے نام کی تصریح مذاق عرب (مخاطبین اول) کی رعایت سے ہے۔ کھجور تو کہنا چاہیے کہ عرب کے حق میں مایہ زندگی ہے، اور انگور کے شاداب باغوں سے بھی اہل عرب واقف تھے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” ایۃ لھم “۔ سوکھی ہوئی زمین کا از سرنوجی اٹھنا بجائے خود ایک سبق ہے حق تعالیٰ کی قدرت و ربوبیت کا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–50

آیت نمبر 33 تا 50 ترجمہ : اور ایک نشانی ان کے لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر مردہ زمین ہے اٰیۃٌ لھُمْ خبر مقدم ہے اَلْمیتۃُ تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ ہم نے اس کو پانی کے ذریعہ زندہ کیا والارض الخ مبتداء مؤخر ہے، اور ہم نے اس زمین سے غلہ مثلاً گندم پیدا کیا سو اس سے یہ لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے زمین میں کھجوروں اور اناروں کے باغات پیدا کئے اور اس میں کچھ چشمے جاری کئے تاکہ لوگ اس کے پھل کھائیں، ثمَرہ میں یعنی (ث، م) دونوں میں فتحہ اور ضمہ ہے، یعنی تاکہ مذکورہ کھجور وغیرہ کے پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تو پھر یہ لوگ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وایۃ لھم الارض المیتۃ احیینھا واخرجنا منھا حبا فمنہ یاکلون . اور (ا اللہ کی قدرت کی) ایک نشانی ان کیلئے مردہ (خشک) زمین ہے جس کو ہم زندہ کردیتے ہیں (بارش کی وجہ سے سرسبز کردیتے ہیں) اور اس سے غلّہ برآمد کرتے ہیں ‘ پھر اس غلّہ میں سے یہ لوگ کھاتے ہیں۔ اَلْاَرْضُ سے کوئی معین زمین مراد نہیں ہے۔ حَبًّا سے مراد جنس غلّہ ہے جیسے گندم ‘ جو وغیرہ۔ مِنْہُ کو یَاْکُلُوْنَ سے پہلے لانے سے یہ اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کی چیزوں میں اناج کا بڑا حصہ ہے (یعنی اناج ہی زیادہ کھایا جاتا ہے) اور زندگی کا یہی بڑا ذریعۂ معاش ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور نشانیوں کے طور پر ان مکہ والوں کے لیے ایک نشانی مردہ زمین ہے کہ ہم نے اسے بارش سے زندہ کیا اور اس سے ہر قسموں کے غلے نکالے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ : پچھلی آیت میں تمام لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر کیے جانے کا ذکر ہے، جو قیامت کے دن ہوگا، چونکہ کفار اسے نہیں مانتے تھے، اس لیے اب اس کی کئی دلیلیں بیان فرمائیں۔ یہاں ”َاٰيَةٌ“ (نشانی) سے مراد دلیل وبرہان ہے۔ مردہ زمین سے مراد بنجر اور بےآباد زمین ہے۔ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا : ”اٰيَةٌ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی ہماری مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت کی ایک عظیم دلیل یہ ہے کہ ہم بنجر اور قحط زدہ زمین پر بارش برساتے ہیں تو وہ بڑھتی پھولتی اور لہلہاتی ہے، پھر ہم اس سے غلہ پیدا کرتے ہیں جو ان کے کھانے کی چیزوں کا اکثر حصہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 33–36

اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے انہیں مردوں کے زندہ کرنے پر متنبہ کیا اور ان کے سامنے اپنی توحید اور کمال قدرت کا ذکر کیا یہ مردہ زمین ہے جسے نباتات اور نباتات سے دانہ نکالنے کے ساتھ اسے زندہ کیا اس دانہ سے تم غذا حاصل کرتے ہو اہل مدینہ نے المیتۃ کے لفظ کو مشدد پڑھا ہے جب کہ باقی قراء نے اسے مخفف پڑھا ہے یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ اور ہم نے اس زمین میں باغات بنائے کھجور اور انگروں کا خصوصی طور پر ذکر کیا کیونکہ یہ دونوں اعلی قسم کے پھل ہیں ان باغات میں ہم نے چشمے جاری کردیئے ثمرہ میں جو ضمیر ہے وہ عیون کے پانی کی لوٹتی ہے کیونکہ پھل اسی سے پیدا ہوتے ہیں یہ جرجانی ‘ مہدوی اور دوسرے علماء کا قول ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–34

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم یروا کم اھلکنا قبلھم من القرون انہم الیھم لا یرجعون “ (کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی امتیں ہلاک کرچکے ہیں کہ وہ پھر ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئے) یعنی قوم عاد، ثمود اور ان کے درمیان بہت سی امتیں (آیت) آ ” وان کل لما جمیع لدینا محضرون “ (اور ان میں سے کوئی ایسا نہیں مجموعی طور پر جو ہمارے روبرو حاضر نہ کیا جائے) یعنی قیامت کے دن ہمارے ہاں جمع ہوں گے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ہارون (رح) کے طریق سے اعرج (رح) وابوعمر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہم الیھم لا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاٰيَةٌ لَّهُمُ [اور ایک نشانی ہے ان کے لئے ] الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ ښ [یہ مردہ زمین ] اَحْيَيْنٰهَا [ہم نے زندہ کیا اس کو ] وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا [اور ہم نے نکالا اس میں سے ] حَبًّا [دانے (اناج)] فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ [تو اس میں سے یہ لوگ کھاتے ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مردہ زمین کو زندہ فرمانا اور اس میں سے کھیتیاں اور پھل پیدا فرمانا، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بعض مظاہرے ہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہرے تو بہت ہیں اور کثیر تعداد میں ایسی چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں، اللہ کی نشانیاں ہیں، انہیں نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ زمین مردہ ہوجاتی ہے اس میں کوئی سبزی اور گھاس پھونس باقی نہیں رہتا، پھر اللہ جل شانہٗ پانی برسا دیتے ہیں اور اس پانی کے ذریعے زمین کو زندہ فرما دیتے ہیں، پانی برسا زمین زندہ ہوگئی کسانوں نے بیج ڈالا تو کھیتی ظاہر ہوگئی، آگے بڑھی بالیں نکلیں ان میں دانے پیدا ہوئے پھر وہ پک گئے، کاٹی گئیں، غلے نکالے پھر لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–36

ذکر دلائل قدرت برائے اثبات وحدانیت وامکان حشرونشر قال اللہ تعالیٰ وایۃ لہم الارض المیتۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ومتاعا الی حین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان سرکشوں کا حال بیان کیا جو توحید کے بھی منکر تھے اور نبوت و رسالت کے بھی منکر تھے اور حشر ونشر کے بھی منکر تھے اب آگے اپنی قدرت کے دلائل بیان کرتے ہیں جس سے توحید ثابت ہو اور شرک کا ابطال ہو اور حشر ونشر کا امکان ثابت ہو۔ (نیز) گذشتہ مضمون کے ختم پر یہ فرمایا وان کل لما جمیع لدینا محضرون جس سے ان کفار کو تنبیہ تھی جو معاد کے منکر اور اس سے غافل تھے اب آگے دلائل قدرت کو ذکر کرتے ہیں تاکہ حشر ونشر کا اقرار کریں اور آخرت کی کچھ فکریں کریں اور ان دلائل قدرت کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

24:۔ وایۃ لہم الارض الخ :۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ ہم نے مردہ زمین کو بارانِ رحمت سے زندہ کیا اور اس میں انسانوں کی غذا کے لیے انواع و اقسام کے غلے، انگوروں اور کھجوروں کے باغات پیدا کیے۔ زمین سے پانی کے چشمے رواں کردئیے یہ سب کچھ ہم نے کیا ہے یہ ان کے ہاتھوں کی کمائی نہیں اور نہ وہ ان امور پر قادر ہی ہیں لیکن وہ پھر بھی اللہ کا شکر نہیں کرتے اور اس کی عبادت میں غیر اللہ کو شریک کرتے ہیں انکار واستقباح لعدم شکرھم للمنعم بالنعم المعدودۃ بالتوحید والعبادۃ (روح ج 23 ص 9) ۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں ایدیہم میں ضمیر مجرور سے جنسِ مخلوق مراد ہے۔ اور اس میں جن و انس اور فرشتے سب داخل ہیں۔ جس طرح قل لو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–40

ربط آیات رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کا حال بیان کیا کہ ان کے پاس تین رسول آئے تاکہ ان کو توحید کی دعوت دیں مگر ان اہل بستی نے ان رسولوں یا مبلغین کے ساتھ سخت بدسلوکی کی حتی کہ ان کے قتل کے درپے ہوئے ان مرسلین کی تائید میں شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور قوم کو سمجھایا کہ ان رسولوں کی پیروی کرتے ہوئے شرک سے تائب ہو جائو اور توحید خداوندی کو اختیار کرو تو بستی والے اس مرد مومن کے بھی خلاف ہوگئے اور اسے قتل کر ڈالا ، پھر ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خوفناک چیخ کی صورت میں عذاب آیا جس سے سارے بستی والے ہلاک ہوگئے۔ ضمناً اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاٰيَۃٌ لَّہُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَۃُ۝ 0 ۚۖ اَحْيَيْنٰہَا وَاَخْرَجْنَا مِنْہَا حَبًّا فَمِنْہُ يَاْكُلُوْنَ۝ 33 الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–36

ترکیب : واٰیۃ مبتداء لہم الخبر والارض مبتداء احییناھا الخبر و الجملۃ تفسیر للایۃ وقیل الارض مبتداء اٰیۃ خبر مقدم و احییناھا تفسیر الاٰیۃ ولھم صفۃ الاٰیۃ من العیون علیٰ قول الا خفش من زائدۃ و ما عملتہ ما بمعنی الذی او نکرۃ موصوفۃ و علی الوجھینھی فی موضع جرعطفا علی ثمرۃ و امانا فیۃ والقمر بالرفع مبتدا قدرناہ الخبر و بالنصب علی فعل مضمر ای قدرنا القمر العرجون فعلول فالنون اصل وقیل زائدۃ یخصمون بالتشدید اصلہ یختصمون نقلت حرکتہ التاء الی الخاء و ادغمت فی الصاد۔ تفسیر : وآیۃ لہم الارض امم ماضیہ کے سرکش لوگوں کا حال بیان فرما کر جو توحید کے انکار سے برباد ہوئے تھے۔ توحید کے دلائل بیان فرماتا ہے، ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 33–35

وَاٰیـَۃٌ لَّھُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَۃُ صلے ج اَحْیَیْنٰـھَا وَاَخْرَجْنَا مِنْھَا حَبًّا فَمِنْہُ یَاْکُلُوْنَ ۔ وَجَعَلْنَا فِیْھَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ وَّفَجَّرْنَا فِیْھَا مِنَ الْعُیُوْنِ ۔ لِیَاکُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖ لا وَمَا عَمِلَتْہُ اَیْدِیْہِمْ ط اَفَلاَ یَشْکُرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 33 تا 35) (اور ان لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی نشانی مردہ زمین ہے، ہم نے اس کو زندگی بخشی اور اس سے غلے اگائے، پس اس میں سے وہ کھاتے ہیں۔ اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کردیے۔ تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں، یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں، تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–33

فہم القرآن ربط کلام : ہلاک ہونے والے باغیوں اور نافرمانوں کا خیال تھا کہ مرنے کے بعد ہمیں کوئی اٹھا نہیں سکے گا۔ لہٰذا مارنے کے بعد اٹھا لینے کی دلائل اور مشاہدات پیش کیے جاتے ہیں۔ انسان ! اللہ تعالیٰ کا تابع فرمان ہو یا نافرمان ہر کوئی اسی زمین پر رہتا اور مرتا ہے۔ موت کے بعد زندہ ہونے کی مثال زمین اور لیل و نہار سے پیش کی جاتی ہے۔ جس کا ہر شخص صبح و شام زندگی بھر مشاہدہ کرتا ہے۔ زمین پر غور فرمائیں تو بظاہر یہ بےجان دکھائی دیتی ہے۔ دیکھنے میں اس میں کوئی حِس و حرکت دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ اسے نہ صرف بارش سے زندہ کرتا ہے بلکہ اَن گنت مخلوق کی زندگی کا سبب بھی بنا دیتا ہے۔ بارش سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

33: وَ ٰایَۃٌ لَّھُمْ (اور ایک نشانی ان کے لئے) اور ایک نشانی اس بات پر دلالت کرنے کیلئے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کریں گے مردہ زمین کو آباد کردینا ہے۔ ایۃ مبتدأ اور لھمؔ خبر ہے۔ نمبر 2۔ ایۃ مبتدأ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہو اور لہمؔ اس کی صفت ہے اور الارض المیتۃ اس کی خبر ہے۔ الْاَرْضُ الْمَیْتَۃُ (مردہ زمین) خشک زمین۔ قراءت : مدنی نے المیتۃ کو تشدید سے پڑھا ہے۔ اَحْیَیْنٰھَا (ہم نے اس کو زندہ کیا) بارش سے۔ نحو : نمبر 1۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ جو کہ زمین کے مردہ ہونے کا نشانی ہونا بیان کرنے کیلئے لایا گیا اور اسی طرح نسلخ بھی مستانفہ ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ نسلخ کو الیلؔ اور احیینھٰا کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 33۔ ، وایۃ لھم الارض المیتۃ احییناھا، یہاں آیت سے مرادبارش ہے۔ ، واکرجنا منھا حبا، حبا سے مراد گندم اور جو ہیں اور اس کے مشابہ اشیاء ہیں ۔ ، فمنہ یاکلون ، اسی سے تم کھاتے ہو یعنی گندم سے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 33–36

33 تا 36۔ اوپر کی آیت انانحن نحی الوتی میں حشر کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اس کی مثال بیان فرمائی کہ ہر سال حشر کا حال سمجھنے کے لیے وہ مردہ زمین کہ جس میں گھانس تک نہیں ہوتی منکریں حشر کے حق میں ایک نشانی ہے کہ جس وقت ہم نے اس پر مینہ برسایا تو وہ ملتی ابھرتی ہے اور ہر قسم کی چیزیں اگاتی ہے گویا بعد مرنے کے جی اٹھتی ہے اس واسطے فرمایا کہ زندہ کیا ہم نے اس کو اور نکالا ہم نے اس سے اناج جو کھاتے ہیں یہ بھی اور ان کے چوپائے بھی پھر فرمایا کہ بنائے ہم نے باغ کھجور اور انگور کے اور بہائے زمین میں چشمے اور ندیاں تاکہ کھائیں اس کے میووں سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اناج کے پیدا کرنے کا احسان مخلوق پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 33–36

آیت 33 (وایۃ لھم ) ” ان کے لئے ایک نشانی ہے۔ “ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھائے جانے، حشر و نشر، حساب کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے اور ان اعمال کی جزا و سزا پر دلیل ہے۔ (آیت) ” مردہ زمین “ جس پر اللہ تعالیٰ نے پانی برسا یا اور اس کے مردہ ہوجانے کے بعد اسے دوبارہ زندگی عطا کی۔ (آیت) ” یعنی ہم نے اس زمین میں سے ان تمام زرعی اصناف کو اگایا جن کو لوگ خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان اصناف کو بھی جن کو ان کے مویشی کھاتے ہیں (وجعلنا فیھا) یعنی ہم نے اس مردہ زمین میں اگائے (جنت) باغات جن میں بیشمار درخت ہیں، خاص طور پر کھجور اور انگور، جن کے درخت بہترین درخت ہیں (وفجرنا فیھا)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 32–33

34 زمین میں غور و فکر کی دعوت : سو اس ارشاد سے انکے اپنے پیش پا افتادہ اس زمین کے بارے میں دعوت غور و فکر ہے۔ یعنی جب یہ سب کچھ تم لوگ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہو اور بار بار دیکھتے ہو اور تمہیں کوئی اچنبھا اور تعجب نہیں ہوتا، تو پھر اپنے دوبارہ جی اٹھنے پر تمہیں اس قدر تعجب آخر کیوں ہو رہا ہے ؟ تمہیں بھی اسی طرح اٹھایا جائے گا جس طرح کہ یہ چیزیں ختم ہوجانے کے بعد دوبارہ پیدا ہوتی اور لہلہا اٹھتی ہیں ۔ { کَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ } ۔ سو اس ارشاد ربانی میں لوگوں کو اس زمین اور اس کے احوال کے بارے میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے جو کہ انکے پاؤں تلے بچھی ہوئی ہے اور جو طرح طرح کی نعمتوں سے بھرپور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 33–44

ﷲ تعالیٰ کے انعامات انسان کے لیے تشریح : پچھلی آیات میں رسولوں اور انسانوں کا معاملہ کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ کہ رسول اللہ کی طرف سے بہت بڑی رحمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے دلوں کے زنگ کو دور کرتے ہیں، جنت کے راستے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہمیں ہر قسم کی جھاڑ جھنکار، اونچ نیچ اور کھائیوں سے بچاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا پیغام بڑا پاکیزہ اور سادہ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ” اللہ کو مانو رسول کو مانو اور آخرت پر یقین کرو “۔ مگر بدنصیب انسان ان سے نفرت کرتے ہیں ان پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ لیکن یہ ظلم و زیادتی اصل میں وہ خود اپنے اوپر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب کہ نیک لوگ، ان سے محبت کرتے ہیں اور یوں اللہ کے محبوب بن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–50

رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔ زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 32–33

ف 12 جو خدا مردہ زمین میں جان ڈال سکتا ہے وہ اس چیز پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ انسانوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اپنے حضور حاضر کرسکے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:33) ایۃ لہم الارض المیتۃ میں الارض المیتۃ (موصوف وصفت) مبتدا ہے اور ایۃ خبر مقدم لہم متعلق ایۃ ہم ضمیر کا مرجع کفار مکہ ہیں اور مردہ (یعنی خشک) زمین ان کے لئے ایک نشانی ہے (اللہ کی قدرت کی یا بطور دلیل مردوں کو دوبارہ زندہ کردینے کی) الارض سے مراد جنس زمین ہے کوئی معین زمین مراد نہیں ہے۔ احییناھا ۔۔ الخ ایۃ کی تفسیر ہے ماضی جمع متکلم احیاء (افعال) مصدر سے۔ ھا ضمیر کا مرجع الارض ہے ہم نے اس کو زندہ کردیا (بارش برسا کر اور نباتات اگا کر) ۔ حبا۔ غلہ۔ اناج (گندم ، جو وغیرہ) اناج کے دانہ کو حب وحبۃ کہتے ہیں اس کی جمع حبوب ہے یہاں مراد جنس غلہ ہے۔ فمنہ۔ فا سببیہ ہے من ابتدائیہ بھی ہوسکتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–44

لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ حب ( دانہ) نخیل ( کھجور) اعناب ( عنب) (انگور) فجرنا ( ہم نے پھاڑ دیا) الازواج ( زوج) (جوڑے) العرجون ( کھجور کی ٹہنی ، شاخ) یرکبون (وہ سوار ہوتے ہیں) صریخ ( چیخ ، فریاد) تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں اپنی بیشمار نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جو ایک ایسے نظام میں بندھے ہوئے ہیں کہ اپنی مرضی سے ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتے۔ یہ اللہ کی ایسی نشانیاں ہیں جنہیں دن رات آدمی دیکھتا ہے لیکن ان پر غور نہیں کرتا ۔ اگر وہ ان تمام نعمتوں پر غور و فکر سے کام لے تو اس کے دل میں اس کائنات کے خالق کی ایسی عظمت چھا جائے کہ پھر اس کے سوا کسی کی عظمت کی کوئی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–36

اللہ کی قدرت کی نشانیاں۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہر سال حشر کا حال سمجھنے کے لیے وہ مردہ یعنی خشک زمین کو جس میں گھاس تک نہیں اگتی منکرین حشر کے حق میں ایک نشانی ہے۔ کہ جس وقت ہم نے اس پر مینہ برسایا تو مردہ زمین یعنی خشک زمین کا پانی سے ہر ابھرا کردینا یعنی بعد مرنے کے زمین کو زندہ کردیا، جس سے ہم نے اناج پیدا کیا جس کو وہ سب لوگ کھاتے ہیں یہ نشانیاں دوبارہ پیدا کرنے کی دلالت کرتی ہیں اور ہم نے اس زمین میں طرح طرح کے باغ کھجوروں اور انگوروں کے پیدا کیے اور جاری کیے زمین میں چشمے اور ندیاں تاکہ لوگ باغ کے میوے اور پھلوں میں سے کھائیں، پھر فرمایا یہ چیزیں ان کی بنائی ہوئی نہیں نہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 32–37

[13] یعنی وہ تو دنیا کا عذاب تھا اور آخرت کی سزا الگ رہی۔ یہ نہ سمجھو کہ ہلاک ہو کر پھر ادھر واپس نہیں آتے تو بس قصہ ختم ہوا۔ نہیں، سب کو ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے جہاں سب مجرم پکڑے ہوئے آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 33–35

فطرت کے انعامات 2: ان آیات میں مظاہر فطرات کی جانب متوجہ کیا ہے ۔ فرمایا ہے کہ تم دیکھوں عنایات الٰہیہ نے تمہیں کس درجہ مسنون کر رکھا ہے ۔ تمہارے کھیت جب سوکھ جاتے ہیں اور تمہارے باغات جب خشک اور خزاں پذیر ہوجاتے ہیں ۔ اس وقت اللہ اپنی قدرت کاملہ سے ان میں زندگی کی روح پھونک دیتا ہے ۔ اور وہ مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے ۔ پھر اس میں غلہ پیدا ہوتا ہے ۔ اور تم اس کو کھاتے ہو ۔ پھر یہ بھی اللہ کا فضل ہے کہ اس نے تمہارے لئے زمین میں عمدہ عمدہ باغات پیدا کر رکھے ہیں جن میں کھجوریں اور انگور ہوتے ہیں ۔ اور ان باغات میں چشمے جاری ہیں ۔ تم ان پھلوں کو کھاتے ہو ۔ حالانکہ اس میں تمہاری صنعت کاری کو کوئی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(33) اور منجملہ آیات قدرت و توحید کے ان لوگوں کے لئے خشک اور مردہ زمین ایک قدرت کی نشانی ہے کہ ہم نے اس مردہ زمین کو زندہ کیا اور ہم نے اس زمین سے اناج اور مختلف قسم کے غلے نکالے سو اس میں سے یہ کھاتے ہیں۔ یعنی خشک اور بےگیاہ زمین کو ہم زندہ کردیتے ہیں اور اس میں سے ہر قسم کے غلے اور اناج پیدا کرتے ہیں اور اسی اناج اور حبوب کو یہ لوگ کھاتے ہیں اور چونکہ یہ کام وہی کرتا ہے اسی کی قدرت کا یہ کرشمہ ہے اس لئے وہی قادرمطلق ہے اور غذائی معاملات میں ان کے معبود ان باطلہ کی کوئی شرکت نہیں ہے اس لئے وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دوبارہ زندگی پر دلائل پیش کیے جا رہے ہیں کہ وہ کیسے ہوگی ؟ 33۔ اگر ان کو دوبارہ جی اٹھنے پر یقین نہیں آتا تو ان کے لئے اس بات میں نشانی موجود ہے کہ وہ اس زمین کی طرف نگاہ اٹھائیں جو مردہ ہوجاتی ہے اور اس میں کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی تو پھر ہم اپنے قانون کے مطابق اس سڑی پڑی زمین پر بارش برسا کر اس کو زندہ کردیتے ہیں اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے ہری بھری ہوجاتی ہے اور اس میں سے انکے لئے طرح طرح کے غلہ جات ‘ سبزیاں ‘ ترکاریاں اور پھل پیدا کردیتے ہیں اس طرح اس آیت سے تکوینی آیات سے توحید الہی کے نشانات کا بیان دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے اور توحید اور قیامت کے منکرین کو دعوت دی جا رہی ہے کہ ان دلائل پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–34

Commentary Most of the subjects taken up in Surah Ya Sin related to signs of Divine power and the rewards and favors bestowed on human beings. These have been harnessed to prove that there is a life hereafter and that people need to be firm in their belief in being raised again and having to face the Day of Judgment. In the verse cited above, the Divine signs pointed to are, on one hand, clear proofs of His perfect power, while on the other, they serve as mirrors of particular rewards and favors of Allah Ta’ ala bestowed on human beings and the rest of creatures. In this, lie unusual lessons…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–34

26 Until now the disbelieves of Makkah were being warned and reproved for their denial of the truth and their attitude of antagonism which they had adopted towards the Holy Prophet. Now the discourse turns to the basic thing which was the actual cause of the conflict between them and the Holy Prophet, i . c. , the doctrine of Tauhid and the Hereafter, which the Holy Prophet was presenting and the disbelievers were refusing to acecpt. In this connection, some arguments have been given, one after the other, to make the people ponder over the realities, as if to say, "Observe these phenomena of…

Read the full tafseer →