Yaseen 36:32

Yaseen · from ayah 32

36:32

وَاِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ ۟۠وَاِنۡ كُلٌّ لَّمَّا جَمِيۡعٌ لَّدَيۡنَا مُحۡضَرُوۡنَ

اور سب کے سب ہمارے روبرو حاضر کيے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, all of them will yet be brought present before Us.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 1 of juzع

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:32

ان سب کو ایک روز ہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور سب کے سب ہمارے روبرو حاضر کيے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور نہیں ہے کوئی جماعت مگر یہ کہ وه جمع ہو کر ہمارے سامنے حاضر کی جائے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ جتنے لوگ ہیں ان سبھی کو اکٹھا کر کے ہمارے سامنے حاضر کیا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جتنے بھی ہیں سب کے سب ہمارے حضور حاضر لائے جائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

مگر یہ کہ وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر کیے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور نہیں ہیں وہ سب مگر اکٹھے ہمارے پاس حاضر کیے جانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ سب لوگ (ایک دن) ہمارے حضور حاضر کئے جائیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک وہ سب ہمارے ہی حضور میں حاضر کیے جائیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان سب کو بہرحال اکٹھا کر کے ہمارے حضور حاضر کیا جانا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان سب میں کوئی بھی ایسا نہیں جو مجموعی طور پر ہمارے سامنے حاضر نہ کیا جائے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ سب کے سب ہمارے ہی سامنے حاضر کیے جائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

All of them shall (one day) be gathered before Us.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

All of them are but to be assembled together (and) to be arraigned before Us.

— Muhammad Taqi Usmani

All of them are but to be assembled together (and) to be arraigned before Us.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And surely, all -- everyone of them will be brought before Us.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But all, without exception, will be brought before Us.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, all of them will yet be brought present before Us.

— Saheeh International

They will all be brought into Our presence together.

— Muhammad Sarwar

And all of them shall surely be brought before Us.

— Muhammad Habib Shakir

And surely all, every one of them, shall be brought before us.

— Abdul Majid Daryabadi

But each one of them all - will be brought before Us (for judgment).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 30–32

منکرین کی ندامت۔ بندوں پر حسرت و افسوس ہے۔ بندے کل اپنے اوپر کیسے نادم ہوں گے۔ بار بار کہیں گے کہ ہائے افسوس ہم نے تو خود اپنا برا کیا۔ بعض قرأتوں میں یا حسرۃ العباد علی انفسھا بھی ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن عذابوں کو دیکھ کر ہاتھ ملیں گے کہ انہوں نے کیوں رسولوں کو جھٹلایا ؟ اور کیوں اللہ کے فرمان کے خلاف کیا ؟ دنیا میں تو ان کا یہ حال تھا کہ جب کبھی جو رسول آیا انہوں نے بلا تامل جھٹلایا اور دل کھول کر ان کی بےادبی اور توہین کی۔ وہ اگر یہاں تامل کرتے تو سمجھ لیتے کہ ان سے پہلے جن لوگوں نے پیغمبروں کی نہ مانی تھی وہ غارت و برباد کردیئے گئے ان کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ ایک بھی تو ان میں سے نہ بچ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 31–32

سورة یٰسٓ 25 یعنی ایسے مٹے کہ ان کا کہیں نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ جو گرا پھر نہ اٹھا۔ دنیا میں آج کوئی ان کا نام لیوا تک نہیں ہے۔ ان کی تہذیب اور ان کے تمدن ہی کا نہیں، ان کی نسلوں کا بھی خاتمہ ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–32

وما انزلنا علیٰ قومہ من بعدہ من جند من السماء وما کنا منزلین، ان کانت الا صیحة واحدة فاذا ھم خامدون، یہ اس قوم پر آسمانی عذاب کا ذکر ہے جس نے رسولوں کی تکذیب کی اور حبیب نجار کو مار مار کر شہید کردیا تھا۔ اور عذاب کی تمہید میں یہ فرمایا کہ اس قوم کو عذاب میں پکڑنے کے لئے ہمیں آسمان سے کوئی فرشتوں کا لشکر بھیجنا نہیں پڑا اور نہ ایسا لشکر بھیجنا ہمارا دستور ہے۔ کیونکہ اللہ کا تو ایک ہی فرشتہ بڑی بڑی قوی بہادر قوموں کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہے، اس کو فرشتوں کا لشکر بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔ پھر ان پر آنے والے عذاب کو بیان فرمایا کہ بس اتنا ہوا کہ فرشتے نے ایک زور کی آواز لگائی جس سے یہ سب کے سب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 31–32

آیت 31۔ 32 یہ قریش کو رسولوں کے ساتھ استہزا کا انجام دکھانے کے لئے ماضی کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ کھیل جو وہ کھیل رہے ہیں یہ ایک نہایت خطرناک کھیل ہے۔ یہ کھیل کھیلنے والی قومیں اس دنیا سے اس طرح مٹی ہیں کہ اب وہ کبھی واپس آنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ اب ان سب کی حاضری ہمارے ہی سامنے ہونی ہے اور ہم ہی ان کا حساب کریں گے۔ ’ فان کدلما میں ’ لما ‘ اسی طرح کا ہے جس طرح سورة طارق میں ہے۔ ’ ان کل نفس لما علیھا حافظ ‘(بےشک ہر جان پر ایک نگران مامور ہے)۔ یہ ’ ان ‘ مخففہ ہے اور ’ ل ‘ اس کا قرینہ ہے چونکہ جملہ میں کچھ صوتی خلا رہ جاتا ہے اس وجہ سے اس کو بھرنے کے لئے اس کو ’ لما ‘ کردیتے ہیں۔ معنی پر اس کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

32۔ 1 مطلب یہ ہے کہ تمام لوگ گذشتہ بھی اور آئندہ آنے والے بھی، سب اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونگیں جہاں ان کا حساب کتاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–34

11: یعنی اس ظالم اور نافرمان قوم کو ہلاک کرنے کے لیے ہمیں فرشتوں کا کوئی لشکر آسمان سے اتارنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بس ایک ہی فرشتے نے ایک زور دار آواز نکالی تو اسی سے ان کے کلیجے پھٹ گئے، اور پوری قوم ہلاک ہو کر ایسی ہوگئی جیسے آگ بجھ کر راکھ کا ڈھیر بن جائے۔ والعیاذ باللہ العلی العظیم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 31–32

الم یرواکم۔۔۔۔۔ لا یرجعون (36: 31) ” کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کر نہ آئے “۔ وہ اقوام جو ہلاک کی گئیں اور اس دنیا سے مٹا دی گئیں ، ان کے مٹ جانے میں لوگوں کے لیے سامان عبرت و نصیحت ہے ۔ اور طویل انسانی تاریخ انسانوں کے لیے موضوع غوروفکر و تدبر ہے۔ لیکن یہ بدبخت لوگ انسانی تاریخ پر غور نہیں کرتے۔ حالانکہ اپنی اس لاپرواہی کی وجہ سے وہ ہلاکت اور بربادی کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ تو انکی اس افسوسناک حالت پر حسرت کے سوا اور کیا کیا جاسکتا ہے۔ ایک حیوان بھی جب دوسرے حیوان کی موت اور ہلاکت اپنے سامنے دیکھتا ہے تو وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی وہ تو دنیا کا عذاب تھا، اور آخرت کی سزا الگ رہی۔ یہ نہ سمجھو کہ ہلاک ہو کر ادھر واپس نہیں آتے تو بس قصہ ختم ہوا۔ نہیں، سب کو پھر ایک دن خدا کے ہاں حاضر ہونا ہے۔ جہاں بلا استثناء مجرم پکڑے ہوئے آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32 { وَاِنْ کُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ } ”اور وہ سب کے سب ہمارے ہی سامنے حاضر کیے جائیں گے۔“ اگرچہ دنیا میں واپس آنے کی تو انہیں اجازت نہیں مگر وہ معدوم نہیں ہوئے۔ عالم برزخ میں وہ سب کے سب اب بھی موجود ہیں اور وقت آنے پر ان میں سے ایک ایک کو پکڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کردیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 31–32

31 یعنی سابقہ اقوام کے انجام کی طرف نہ دیکھتے ہیں نہ اس میں غور و فکر کرتے ہیں وہ قومیں بھی اپنے رسولوں کا مذاق اڑاتی رہیں۔ اور اس کی پاداش میں انہیں ہلاک کردیا جاتا تھا اور ان کا ایسا نام و نشان تک مٹ گیا کہ ان میں سے کوئی بھی بچ کر ان کے پاس واپس نہیں لوٹا پھر بھی ان کافروں کا یہی دستور رہا کہ جب کوئی نیا رسول آتا تو اس سے اسی طرح تمسخر اور استہزاء شروع کردیتے جو پہلے کفار کی عادت تھی اور کچھ سبق حاصل نہیں کرتے تھے۔ اور آج کفار مکہ کا بھی رسول اللہ کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 31–32

20۔ یعنی اس دنیوی ہلاکت سے قطع نظر اصلی سزا تو اسی عالم آخرت میں ہوگی، اور وہ دائمی اور غیر منقطع ہوگی۔ (آیت) ” انھم الیھم لایرجعون “۔ یہ آیت یا اس کے ہم معنی دوسری آیتوں میں صرف ایک عام قانون و عادت الہی کا بیان ہے۔ اس سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ کہیں اور کسی خاص موقعہ پر بطور خرق عادت بھی ایسا نہیں ہوسکتا، جیسا کہ بعض کج فہموں نے ان آیتوں سے نکالا ہے۔ (آیت) ” لما “۔ مازائد تاکید کے لئے ہے۔ مامزیدۃ للتاکید (بیضاوی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–32

آیت نمبر 13 تا 32 ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان کل لما جمیع لدنیا محضرون اور ان میں سے کوئی ایسا نہیں جو مجموعی طور پر ہمارے روبرو حاضر نہ کیا جائے۔ یعنی قیامت کے روز سب ہمارے حاضر کئے جائیں گے۔ جمیع بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے اور لَدَیْنَا کا تعلق جمیع سے ہے (ہمارے پاس جمع کئے جائیں گے) یا تعلق محضرون سے ہے (ہمارے پاس حاضر کئے جائیں گے) ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِيْعٌ : یہ ”اِنْ“ نافیہ ہے اور ”لَّمَّا“ بمعنی ”إِلَّا“ ہے۔ یعنی جو لوگ پہلے گزر چکے یا موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے، وہ سب ہمارے پاس اکٹھے حاضر کیے جانے والے ہیں۔ ”مُحْـضَرُوْنَ“ اسم مفعول ہے، یعنی وہ چاہیں یا نہ چاہیں، اپنے خیال میں جتنے بڑے ہوں، ہر حال میں سب ہمارے پاس اکٹھے حاضر کیے جانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 30–32

30.32:۔ یحسرۃ علی العباد ‘ حرۃ منصوب ہے کیونکہ نکرہ کو ندا کی جا رہی ہے۔ بصریوں کے نزدیک نصب کے علاوہ کوئی صورت جائز نہیں۔ حضرت ابی کی قرأت میں یا حسرۃ العباد یعنی حسرۃ کا لفظ مضاف ہے (1) لغت میں حسرت کے معنی یہ ہے کہ انسان کو شرمندگی لاحق ہو جس کی وجہ سے یہ حسیر یعنی افسوس کرنے والا ہوجائے۔ قراء نے کہا : پسندیدہ قرائت نصب ہے۔ اگر نکرہ کو رفع دیا جائے جو صلہ کے ساتھ ملا ہوا ہو تو یہ بھی صورت درست ہے اور چند چیزوں سے دلیل قائم کی ہے ان میں سے یہ ہے کہ انہوں نے عربوں سے سنا یا یامھتم بامرنا لاتھتم اور یہ مصرعہ پڑھا : یا دارغیرھا البلی تغیرا اے گھر ! جسے بوسیدگی نے تبدیل کردیا۔ نحاس نے کہا : اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–34

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم یروا کم اھلکنا قبلھم من القرون انہم الیھم لا یرجعون “ (کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی امتیں ہلاک کرچکے ہیں کہ وہ پھر ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئے) یعنی قوم عاد، ثمود اور ان کے درمیان بہت سی امتیں (آیت) آ ” وان کل لما جمیع لدینا محضرون “ (اور ان میں سے کوئی ایسا نہیں مجموعی طور پر جو ہمارے روبرو حاضر نہ کیا جائے) یعنی قیامت کے دن ہمارے ہاں جمع ہوں گے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ہارون (رح) کے طریق سے اعرج (رح) وابوعمر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہم الیھم لا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنْ كُلٌّ [اور بیشک ہر ایک ] لَّمَّا جَمِيْعٌ [یقینا سب کے سب ] لَّدَيْنَا مُحْـضَرُوْنَ [ہمارے پاس حاضر کئے جانے والے ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَاِِنْ کُلٌّ لَمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ ) (اور یہ سب لوگ مجتمع طور پر ہمارے رو برو حاضر کیے جائیں گے) یعنی جو لوگ کفر کی وجہ سے ہلاک کیے گئے ان کا جو دنیا میں ہلاک کیا جانا اور عذاب دیا جانا ہے اسی پر بس نہیں ہے مزید عذاب آخرت میں دیا جائے گا جو دائمی ہوگا جو لوگ بھی ہلاک کیے جائیں گے وہ سب مجتمع طور پر ہمارے رو برو حاضر ہوں گے، حجتیں قائم ہوں گی پھر دائمی عذاب کی جگہ یعنی دوزخ میں جائیں گے۔ فوائد مستنبطہ از قصہ مذکورہ تین حضرات مذکورہ بستی میں دعوت اور تبلیغ کے کام کے لیے گئے ان کے بارے میں بیان فرمایا کہ پہلے دو حضرات کو بھیجا تھا پھر تیسرا شخص بھی ان کی تقویت کے لیے بھیج…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–32

بقیہ قصہ مرد صالح مشتمل برپندو نصائح برائے اصلاح قوم قال اللہ تعالیٰ وما لی لا اعبد الذی فطرنی۔۔۔ الی۔۔۔ وان کل لما جمیع لدینا محضرون۔ خلاصہء کلام یہ کہ منتہائے شہر سے ایک مرد صالح دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو نصیحت کرنے لگا کہ تم مرسلین کی پیروی کرو کیونکہ یہ لوگ خود غرضی سے بالکلیہ پاک ہیں جو مانع اتباع ہے اس لئے کہ وہ تم سے کسی قسم کا معاوضہ نہیں مانگتے لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا کے مصداق کامل ہیں اور خود حق اور راہ راست پر ہیں اور تم کو بھی حق اور راہ راست کی دعوت دے رہے ہیں جو اتباع اور پیروی کا داعی اور مقتضی ہے اور میں نے تو حق کو پہچان لیا اور دل وجان سے ان کو قبول کرلیا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

23:۔ وان کل الخ، مرنے کے بعد نیا میں تو کوئی واپس نہیں آئے گا۔ البتہ ان سب کو قیامت کے دن ہم دوبارہ زندہ کرینگے اور یہ سب حساب کتاب کے لیے ہمارے سامنے پیش کیے جائینگے یہ تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 20–32

مکی سورتوں کے چار بنیادی عقائد میں سے اس رکوع میں رسالت کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ گزشتہ درس میں انطاکیہ کی بستی کا ذکر ہوا کہ اس میں اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبغلین دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آئے تو اہل بستی نے ان کی تکذیب کی ، بدسلوکی کرنے اور ایذا پہنچانے کے علاوہ ان کو طعن بھی کیا کہ تمہاری آمد کی وجہ سے ہم پر نحوست چھا گئی ہے ، ہمارے علاقے میں خشک سالی پیدا ہوگئی ہے اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ رسولوں نے جواب دیا کہ یہ نامبارکی ہماری وجہ سے نہیں ہے بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھنے والے ہو۔ جس کی سزا تمہیں مل رہی ہے۔ ایک مومن کی خیر خواہی مرسلین نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْـضَرُوْنَ۝ 3 2ۧ جمع الجَمْع : ضمّ الشیء بتقریب بعضه من بعض، يقال : جَمَعْتُهُ فَاجْتَمَعَ ، وقال عزّ وجل : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] ، وَجَمَعَ فَأَوْعى [ المعارج/ 18] ، جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] ، ( ج م ع ) الجمع کے معنی ہیں متفرق چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ملا دینا ۔ محاورہ ہے : ۔ چناچہ وہ اکٹھا ہوگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے ۔ ( مال ) جمع کیا اور بند رکھا ۔ جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 28–32

وما انزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء الخ فرماتا ہے، اس شخص کے بعد ہم کو اس کی سرکش قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آسمانی لشکر کی حاجت اور ضرورت نہ پڑی اور نہ پڑنی چاہیے، صرف چیخ ان کے ہلاک کرنے کو بس ہوگئی۔ اس شہر پر آفت آئی، لوگ برباد ہوئے، فرماتا ہے یا حسرۃ علی العباد بندوں پر افسوس ہے، ان کے پاس جب کوئی رسول آیا تو اس کے ساتھ تمسخر سے پیش آئے اور یہ نہیں جانتے کہ دنیا میں سدا کوئی نہیں رہا ہے۔ پہلے لوگ کہاں گئے، کوئی پھر کر نہیں آتا، پس وہ سب کے سب خدا تعالیٰ کے پاس حاضر ہوجاتے ہیں اور وہاں اپنے کئے کا بدلہ پاتے ہیں۔ بعض مفسرین جیسا کہ ابن کثیر میں ہے، اس تفسیر پر معترض ہیں۔ بچندو جوہ :…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 30–32

یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ ج مَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَھْلَـکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّھُمْ اِلَیْھِمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ ۔ وَاِنْ کُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 30 تا 32) (افسوس ہے بندوں کے حال پر جو رسول بھی ان کے پاس آیا اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے۔ کیا انھوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کیا، بیشک وہ ان کے پاس کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ بیشک وہ ہمارے ہی حضور میں حاضر کیے جائیں گے۔ ) مکذبینِ رسول پر افسوس انسانی نفسیات کو متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–33

فہم القرآن ربط کلام : ہلاک ہونے والے باغیوں اور نافرمانوں کا خیال تھا کہ مرنے کے بعد ہمیں کوئی اٹھا نہیں سکے گا۔ لہٰذا مارنے کے بعد اٹھا لینے کی دلائل اور مشاہدات پیش کیے جاتے ہیں۔ انسان ! اللہ تعالیٰ کا تابع فرمان ہو یا نافرمان ہر کوئی اسی زمین پر رہتا اور مرتا ہے۔ موت کے بعد زندہ ہونے کی مثال زمین اور لیل و نہار سے پیش کی جاتی ہے۔ جس کا ہر شخص صبح و شام زندگی بھر مشاہدہ کرتا ہے۔ زمین پر غور فرمائیں تو بظاہر یہ بےجان دکھائی دیتی ہے۔ دیکھنے میں اس میں کوئی حِس و حرکت دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ اسے نہ صرف بارش سے زندہ کرتا ہے بلکہ اَن گنت مخلوق کی زندگی کا سبب بھی بنا دیتا ہے۔ بارش سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قدرت کی نشانی ‘ احیائے موتیٰ کی دلیل : 32: وَاِنْ کُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ (اور ان میں کوئی ایسا نہیں جو مجتمع طور پر ہماری طرف حاضر نہ کیا جائے) قراءت : لمَّاکو تشدید کے ساتھ شامی، عاصم، حمزہ نے پڑھا اور الا کے معنی میں لیا۔ اور اِنؔ نافیہ ہے۔ دیگر قراء نے لَمَّا کو تخفیف کے ساتھ پڑھا اس طور پر کہ ما تاکید کا صلہ ہے اور ان کو مخففہ من المثقلہ ہے اور لماؔ کی لام اس کے جواب میں ہے اور ماتاکید کیلئے لایا گیا۔ اور کل ٌؔ کی تنوین مضاف الیہ کے عوض میں آئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سب کو اٹھایا اور جمع کیا جائے گا۔ اور حساب کیلئے حاضر کیا جائے گا۔ یا عذاب کیلئے جمع کیا جائے گا۔ یہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

32، وان کل لما جمیع، عاصم اور حمزہ نے ، لما، تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة زخرف اور طارق میں بھی تشد ید کے ساتھ ہے ۔ ابن عامرنے ان کی پیروی کی زخرف کے علا وہ اور ابوجعفر نے ان کی موافقت اختیار کی مگر سورة طارق میں نہیں کی ۔ جن حضرات نے ، لما ، تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ۔ انہوں نے ان کو حجد مانا ہے اور، لما، بمعنی ، الا، کے ہے۔ تقدیر ی عبارت یوں ہوگی ، وماکل الا جمیع، اور جو حضرات لماکو بغیر تشدید کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ ان کو تحقیقہ اور ماکوصلہ ، لدینا محضرون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–32

26 تا 32۔ جس طرح کی تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم کے حوالہ سے روایتیں اوپر گزریں اسی طرح حبیب بن شبیب نے اپنی تفسیر میں عکرمہ کی سند سے روایت 2 ؎ کی ہے (2 ؎ صحیح بخاری ص 714 ج 2 تفسیر سورة الدخان ‘) کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے یہ حبیب نجار، ساتھ یہ حبیب بن بشر ترمذی اور ابن ماجہ کے راوی ہیں اور ابن معین نے ان کو ثقہ تابعیوں میں شمار کیا ہے سیرت ابن اسحاق میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسی بستی کے لوگوں نے اللہ کے ان تینوں رسولوں سے جھگڑا کیا اور ان رسولوں کے شہید کرنے کا قصد کیا تو حبیب نجار دوڑ کر آئے تاکہ جہاں تک ہو سکے اللہ کے رسولوں کی مدد کریں یہ حبیب نجار بڑے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 31–32

آیت 31 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیا انہوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہوگئیں۔ ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ آئے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انہیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انہیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ (آیت) ” اگر نیکی ہوگی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 32–33

34 زمین میں غور و فکر کی دعوت : سو اس ارشاد سے انکے اپنے پیش پا افتادہ اس زمین کے بارے میں دعوت غور و فکر ہے۔ یعنی جب یہ سب کچھ تم لوگ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہو اور بار بار دیکھتے ہو اور تمہیں کوئی اچنبھا اور تعجب نہیں ہوتا، تو پھر اپنے دوبارہ جی اٹھنے پر تمہیں اس قدر تعجب آخر کیوں ہو رہا ہے ؟ تمہیں بھی اسی طرح اٹھایا جائے گا جس طرح کہ یہ چیزیں ختم ہوجانے کے بعد دوبارہ پیدا ہوتی اور لہلہا اٹھتی ہیں ۔ { کَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ } ۔ سو اس ارشاد ربانی میں لوگوں کو اس زمین اور اس کے احوال کے بارے میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے جو کہ انکے پاؤں تلے بچھی ہوئی ہے اور جو طرح طرح کی نعمتوں سے بھرپور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–32

قوم موسیٰ سے ایک مومن کا تذکرہ اور رسولوں کی تکذیب کرنیوالوں پر افسوس تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا برگز یدہ بندہ تھا سیدھا جنت میں گیا۔ اب یہاں سے ایک نکتہ نکلتا ہے۔ کیونکہ مسلمان کو تو عالم برزخ کے بعد جنت میں جانا ہوگا۔ یہاں شہید کی فضیلت ظاہر کی گئی ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے۔ ” قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا “۔ یوں ثابت ہوگیا کہ عالم برزخ تو ضروری ہے۔ اسی لئے تو مسلمان باقی دعاؤں کے ساتھ قبر کے عذاب سے بھی پناہ مانگتا ہے۔ اصل میں اس قبر کے قیام کی بھی اتنی حالتیں ہوتی ہیں۔ نیک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–32

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 32: اسرار و معارف : اس کی بات کیا مانتے الٹا اسے بھی کہنے لگے کہ تم بھی یہ نیا دین کیوں اپنا رہے ہو بھلا باپ دادا کا مذہب خراب تھا کیا یا وہ سب گمراہ تھے تو اس نے کہا کہ میرے پاس تو ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ میں اس ذات کریم کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے قائم رکھا ہے نیز اس کے یہی احسانات تم سب پر بھی ہیں اور پھر بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی سب کو پلٹ کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور اپنے کردار و عمل کا حساب دینا ہے پھر کتنی احمقانہ بات ہے کہ میں اس اتنے بڑے مہربان کو چھوڑ کر کسی بھی دوسرے کو معبود بنا لوں کہ اگر وہ ناراض ہو کر مجھے سزا دے تو یہ بت یا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 32–33

ف 12 جو خدا مردہ زمین میں جان ڈال سکتا ہے وہ اس چیز پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ انسانوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اپنے حضور حاضر کرسکے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:32) وان کل لما جمیع لدینا محضرون۔ ان نافیہ ہے کل مبتدا ہے اس کی تنوین مضاف الیہ کے عوض ہے اصل میں کلہم تھا۔ (ہم سے مراد القرون ہے جن کی ہلاکت کا ابھی ذکر ہوا) لما بمعنی الا ہے جمیع بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے ای مجموعون اور یہ خبر ہے لدینا مضاف مضاف الیہ مل کر ظرف مکان ہے۔ محضرون خبر ثانی۔ آیت کا مطلب ہوگا : وما کلہم الا مجموعون لدینا محضرون (للحساب والجزائ) لیکن وہ سب کے سب اکٹھے کر کے ہمارے حضور حاضر کئے جائیں گے (حساب وجزا کے لئے) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–32

لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے) تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–32

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔ ( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 32–37

[13] یعنی وہ تو دنیا کا عذاب تھا اور آخرت کی سزا الگ رہی۔ یہ نہ سمجھو کہ ہلاک ہو کر پھر ادھر واپس نہیں آتے تو بس قصہ ختم ہوا۔ نہیں، سب کو ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے جہاں سب مجرم پکڑے ہوئے آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–32

ف 1: غرض یہ ہے جب انکار وسرکشی کی سزا ہلاکت ہے اور اقوام وعلل کی تاریخ بتارہی ہے ۔ کہ جب بھی اللہ کے پیغام کو ٹھکرایا گیا ہے موت اور تباہی نے آگھیرا ہے ۔ اور ناممکن ہے کہ کوئی گروہ اللہ کے اس قانون مکافات سے بچ سکے اور جب یہ بھی صحیح ہے کہ سب لوگوں کو خدا کے حضور میں پیش ہونا ضرور ہے اور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے ۔ تو پھر اس کفر کا فائدہ کیوں نہ سب لوگ اس کی چوکھٹ پر جھکیں ۔ اور اس کی عظمت کا اقرار کریں ؟ کیوں نہ اس کے رسول کو عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھیں ۔ اور اپنی زندگی سنوار لیں ۔ کیوں نہ ایسا ہو کہ سب لوگ ایک رنگ میں نظر آئیں ۔ سب خدا کے پرستار نہیں ۔ سب کے دلوں میں خدا محبت ہو ۔ سب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(32) اور ان سب میں کوئی ایسا نہیں جو اجتماعی طور پر ہمارے روبرو حاضر نہ کیا جائے۔ یعنی تمام خلائق حشر میں ہمارے روبرو حاضر کئے جائیں گے اور سب اکٹھے ہو کر پیش کئے جائیں گے۔ اجتماعی طور پر مجرمانہ حیثیت سے گرفتار ہو کر ہمارے روبرو حاضر ہوں گے یعنی گناہگاروں کی کیفیت یہ ہوگی احضار کا مطلب یہی ہے کہ گرفتار ہو کر پیش ہوں۔ شاہ صاحب (رح) نے اسی رعایت سے ترجمہ یوں کیا ہے اور حاضر کئے جائیں گے ہمارے پاس پکڑے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ لوگ بھی ایک روز ہمارے سامنے حاضر ہوں گے جن کو اٹھائے جانے پر یقین ہی نہیں ہے : 32۔ اس دنیا سے رخصت ہونے والوں کو خواہ وہ آج سے ہزاروں سال پہلے کے لوگ ہوں یا ہم خود ہوں یا ہمارے بعد ہزاروں سالوں میں پیدا ہونے والے جتنے بھی آئیں گے اور جب تک قیامت کبری آ نہیں جاتی اس وقت تک سب کے سب لوگوں کو ایک ہی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے حاضر کردیا جائے گا خواہ ان کو دوبارہ جی اٹھنے پر یقین ہی نہ ہو اور خواہ یہ بار بار زندہ کرنے والے اور مارنے والے ہوں ۔ لوگوں کے تخیل کا مسئلہ اپنا اپنا ہے اور قانون الہی کا اعلان ایک اور صرف ایک ہے کہ تم مردہ تھے اور تم کو زندہ کیا اور پھر اس زندگی کے بعد تم کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–32

In verses 28 and 29, it was said: وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ قَوْمِهِ مِن بَعْدِهِ مِن جُندٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا هُمْ خَامِدُونَ " (And We did not send down to his people any army from the heavens after him, nor were We (in need ) to send down. It was no more than a single Cry, and in no time they were extinguished.) Mentioned here is the Divine punishment that descended upon the people who had rejected the messengers and had beaten up Habib Najjar until he died a martyr. And regarding the sending of punishment, it was said that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–32

25 That is, they were annihilated so completely that not a trace of them was left behind them. No one in the world even remembers them today. Their civilization as well as their race has become extinct.

Read the full tafseer →