Explained with ayahs 30–32
منکرین کی ندامت۔
بندوں پر حسرت و افسوس ہے۔ بندے کل اپنے اوپر کیسے نادم ہوں گے۔ بار بار کہیں گے کہ ہائے افسوس ہم نے تو خود اپنا برا کیا۔ بعض قرأتوں میں یا حسرۃ العباد علی انفسھا بھی ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن عذابوں کو دیکھ کر ہاتھ ملیں گے کہ انہوں نے کیوں رسولوں کو جھٹلایا ؟ اور کیوں اللہ کے فرمان کے خلاف کیا ؟ دنیا میں تو ان کا یہ حال تھا کہ جب کبھی جو رسول آیا انہوں نے بلا تامل جھٹلایا اور دل کھول کر ان کی بےادبی اور توہین کی۔ وہ اگر یہاں تامل کرتے تو سمجھ لیتے کہ ان سے پہلے جن لوگوں نے پیغمبروں کی نہ مانی تھی وہ غارت و برباد کردیئے گئے ان کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ ایک بھی تو ان میں سے نہ بچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
سورة یٰسٓ 25
یعنی ایسے مٹے کہ ان کا کہیں نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ جو گرا پھر نہ اٹھا۔ دنیا میں آج کوئی ان کا نام لیوا تک نہیں ہے۔ ان کی تہذیب اور ان کے تمدن ہی کا نہیں، ان کی نسلوں کا بھی خاتمہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
وما انزلنا علیٰ قومہ من بعدہ من جند من السماء وما کنا منزلین، ان کانت الا صیحة واحدة فاذا ھم خامدون، یہ اس قوم پر آسمانی عذاب کا ذکر ہے جس نے رسولوں کی تکذیب کی اور حبیب نجار کو مار مار کر شہید کردیا تھا۔ اور عذاب کی تمہید میں یہ فرمایا کہ اس قوم کو عذاب میں پکڑنے کے لئے ہمیں آسمان سے کوئی فرشتوں کا لشکر بھیجنا نہیں پڑا اور نہ ایسا لشکر بھیجنا ہمارا دستور ہے۔ کیونکہ اللہ کا تو ایک ہی فرشتہ بڑی بڑی قوی بہادر قوموں کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہے، اس کو فرشتوں کا لشکر بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔ پھر ان پر آنے والے عذاب کو بیان فرمایا کہ بس اتنا ہوا کہ فرشتے نے ایک زور کی آواز لگائی جس سے یہ سب کے سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
آیت 31۔ 32
یہ قریش کو رسولوں کے ساتھ استہزا کا انجام دکھانے کے لئے ماضی کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ کھیل جو وہ کھیل رہے ہیں یہ ایک نہایت خطرناک کھیل ہے۔ یہ کھیل کھیلنے والی قومیں اس دنیا سے اس طرح مٹی ہیں کہ اب وہ کبھی واپس آنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ اب ان سب کی حاضری ہمارے ہی سامنے ہونی ہے اور ہم ہی ان کا حساب کریں گے۔
’ فان کدلما میں ’ لما ‘ اسی طرح کا ہے جس طرح سورة طارق میں ہے۔ ’ ان کل نفس لما علیھا حافظ ‘(بےشک ہر جان پر ایک نگران مامور ہے)۔ یہ ’ ان ‘ مخففہ ہے اور ’ ل ‘ اس کا قرینہ ہے چونکہ جملہ میں کچھ صوتی خلا رہ جاتا ہے اس وجہ سے اس کو بھرنے کے لئے اس کو ’ لما ‘ کردیتے ہیں۔ معنی پر اس کا…
Read the full tafseer →31۔ 1 اس میں اہل مکہ کے لئے تنبیہ ہے کہ تکذیب رسالت کی وجہ سے جس طرح پچھلی قومیں تباہ ہوئیں یہ بھی تباہ ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
11: یعنی اس ظالم اور نافرمان قوم کو ہلاک کرنے کے لیے ہمیں فرشتوں کا کوئی لشکر آسمان سے اتارنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بس ایک ہی فرشتے نے ایک زور دار آواز نکالی تو اسی سے ان کے کلیجے پھٹ گئے، اور پوری قوم ہلاک ہو کر ایسی ہوگئی جیسے آگ بجھ کر راکھ کا ڈھیر بن جائے۔ والعیاذ باللہ العلی العظیم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
الم یرواکم۔۔۔۔۔ لا یرجعون (36: 31) ” کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کر نہ آئے “۔ وہ اقوام جو ہلاک کی گئیں اور اس دنیا سے مٹا دی گئیں ، ان کے مٹ جانے میں لوگوں کے لیے سامان عبرت و نصیحت ہے ۔ اور طویل انسانی تاریخ انسانوں کے لیے موضوع غوروفکر و تدبر ہے۔ لیکن یہ بدبخت لوگ انسانی تاریخ پر غور نہیں کرتے۔ حالانکہ اپنی اس لاپرواہی کی وجہ سے وہ ہلاکت اور بربادی کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ تو انکی اس افسوسناک حالت پر حسرت کے سوا اور کیا کیا جاسکتا ہے۔
ایک حیوان بھی جب دوسرے حیوان کی موت اور ہلاکت اپنے سامنے دیکھتا ہے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
8 یعنی دیکھتے اور سنتے ہیں کہ دنیا میں کتنی قومیں پہلے پیغمبروں سے ٹھٹھا کر کے غارت ہوچکی ہیں جن کا نام و نشان مٹ چکا۔ کوئی ان میں سے لوٹ کر ادھر واپس نہیں آئی۔ عذاب کی چکی میں سب پس کر برابر ہوگئیں اس پر بھی عبرت نہیں ہوئی، جب کوئی نیا رسول آتا ہے وہ ہی تمسخر اور استہزاء شروع کردیتے ہیں۔ جو پہلے کفار کی عادت تھی۔ چناچہ آج خاتم الانبیاء ﷺ کے ساتھ کفار مکہ کا یہ ہی معاملہ ہے۔
Read the full tafseer →آیت 31 { اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَہْلَکْنَا قَبْلَہُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّہُمْ اِلَیْہِمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ } ”کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے ہم نے کتنی نسلوں کو ہلاک کردیا کہ وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آتے !“
ایک دفعہ دنیا سے چلے جانے کے بعد کسی کو بھی دوبارہ یہاں آنے کا موقع نہیں ملتا۔ چناچہ ان اقوام کے لوگ نیست و نابود ہو کر ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
31 یعنی سابقہ اقوام کے انجام کی طرف نہ دیکھتے ہیں نہ اس میں غور و فکر کرتے ہیں وہ قومیں بھی اپنے رسولوں کا مذاق اڑاتی رہیں۔ اور اس کی پاداش میں انہیں ہلاک کردیا جاتا تھا اور ان کا ایسا نام و نشان تک مٹ گیا کہ ان میں سے کوئی بھی بچ کر ان کے پاس واپس نہیں لوٹا پھر بھی ان کافروں کا یہی دستور رہا کہ جب کوئی نیا رسول آتا تو اس سے اسی طرح تمسخر اور استہزاء شروع کردیتے جو پہلے کفار کی عادت تھی اور کچھ سبق حاصل نہیں کرتے تھے۔ اور آج کفار مکہ کا بھی رسول اللہ کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
20۔ یعنی اس دنیوی ہلاکت سے قطع نظر اصلی سزا تو اسی عالم آخرت میں ہوگی، اور وہ دائمی اور غیر منقطع ہوگی۔ (آیت) ” انھم الیھم لایرجعون “۔ یہ آیت یا اس کے ہم معنی دوسری آیتوں میں صرف ایک عام قانون و عادت الہی کا بیان ہے۔ اس سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ کہیں اور کسی خاص موقعہ پر بطور خرق عادت بھی ایسا نہیں ہوسکتا، جیسا کہ بعض کج فہموں نے ان آیتوں سے نکالا ہے۔ (آیت) ” لما “۔ مازائد تاکید کے لئے ہے۔ مامزیدۃ للتاکید (بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
آیت نمبر 13 تا 32
ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…
Read the full tafseer →الم یروا کم اھلکنا قبلھم من القرون انھم الیھم لا یرجعون . کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی
کہ ہم ان سے پہلے بہت سی امتیں غارت کرچکے کہ وہ پھر ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئے۔
اَلَمْ یَرَوْا کیا مکہ والے نہیں جانتے کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی کثرت سے امتوں کو ہلاک کردیا ؟ کیا یہ واقف نہیں کہ ہلاک شدہ امتیں ان کے پاس لوٹ کر نہیں آئیں گی ؟ اس کلام سے ایک شبہ پیدا ہوسکتا تھا کہ شاید مردے کبھی نہیں لوٹیں گے (اور کبھی دوبارہ زندگی ان کو نہیں ملے گی) اس شبہ کو دور کرنے کیلئے آگے فرمایا۔
Read the full tafseer →کیا کفار مکہ اس پر چیز پر نظر نہیں کی کہ ہم ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں کہ پھر وہ قیامت تک ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔
Read the full tafseer →اَلَمْ يَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ : ”اَلَمْ يَرَوْا“ سے مراد ”أَلَمْ یَعْلَمُوْا“ ہے، یعنی سابقہ اقوام کے انجام کی طرف نہ دیکھتے ہیں نہ اس میں غور و فکر کرتے ہیں۔ وہ قومیں بھی اپنے رسولوں کا مذاق اڑاتی رہیں اور اس کی پاداش میں انھیں ہلاک کردیا جاتا تھا اور ان کا نام و نشان تک ایسا مٹا کہ ان میں سے کوئی بھی بچ کر ان کے پاس واپس نہیں لوٹا، پھر بھی ان کافروں کا یہی دستور رہا کہ جب کوئی نیا رسول آتا تو اس سے اسی طرح تمسخر اور استہزا شروع کردیتے جو پہلے کفار کی عادت تھی اور کچھ سبق حاصل نہیں کرتے تھے اور آج کفار مکہ کا بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ (کیلانی) ”لَا يَرْجِعُوْنَ“…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
30.32:۔ یحسرۃ علی العباد ‘ حرۃ منصوب ہے کیونکہ نکرہ کو ندا کی جا رہی ہے۔ بصریوں کے نزدیک نصب کے علاوہ کوئی صورت جائز نہیں۔ حضرت ابی کی قرأت میں یا حسرۃ العباد یعنی حسرۃ کا لفظ مضاف ہے (1) لغت میں حسرت کے معنی یہ ہے کہ انسان کو شرمندگی لاحق ہو جس کی وجہ سے یہ حسیر یعنی افسوس کرنے والا ہوجائے۔ قراء نے کہا : پسندیدہ قرائت نصب ہے۔ اگر نکرہ کو رفع دیا جائے جو صلہ کے ساتھ ملا ہوا ہو تو یہ بھی صورت درست ہے اور چند چیزوں سے دلیل قائم کی ہے ان میں سے یہ ہے کہ انہوں نے عربوں سے سنا یا یامھتم بامرنا لاتھتم اور یہ مصرعہ پڑھا :
یا دارغیرھا البلی تغیرا
اے گھر ! جسے بوسیدگی نے تبدیل کردیا۔
نحاس نے کہا : اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم یروا کم اھلکنا قبلھم من القرون انہم الیھم لا یرجعون “ (کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی امتیں ہلاک کرچکے ہیں کہ وہ پھر ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئے) یعنی قوم عاد، ثمود اور ان کے درمیان بہت سی امتیں (آیت) آ ” وان کل لما جمیع لدینا محضرون “ (اور ان میں سے کوئی ایسا نہیں مجموعی طور پر جو ہمارے روبرو حاضر نہ کیا جائے) یعنی قیامت کے دن ہمارے ہاں جمع ہوں گے۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ہارون (رح) کے طریق سے اعرج (رح) وابوعمر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہم الیھم لا…
Read the full tafseer →اَلَمْ يَرَوْا [کیا انھوں نے دیکھا ہی نہیں ] كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ [ہم نے کتنی ہی ہلاک کیں ان سے پہلے ] مِّنَ الْقُرُوْنِ [قوموں میں سے ] اَنَّهُمْ [کہ وہ (قومیں)] اِلَيْهِمْ [ان کی طرف ] لَا يَرْجِعُوْنَ [لوٹیں گی نہیں ]
Read the full tafseer →(اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَہُمْ مِنَ الْقُرُوْنِ ) کیا ان لوگوں (یعنی اہل مکہ) نے اس کو نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتیں ہلاک کردیں (جن کا انہیں علم ہے اور اقرار ہے) اسفار میں جاتے ہیں تو ہلاک شدہ قوموں کے کھنڈر دیکھتے ہیں، اگر غور کرتے تو جھٹلانے اور نبیوں کا مذاق بنانے سے بچتے (اَنَّہُمْ اِِلَیْہِمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ ) یہ ہلاک شدگان ان کی طرف لوٹنے والے نہیں ہیں یعنی جنہیں ہلاک کیا گیا وہ ختم ہوگئے دنیا سے چلے گئے اب انہیں واپس آنا نہیں ہے، جو کچھ محل تعمیر کیے، عمارتیں بنائیں، مال جمع کیا سب کچھ دھرا رہ گیا نہ پہلی زندگی میں ان چیزوں نے ان کی جان بچائی نہ واپس آکر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
بقیہ قصہ مرد صالح مشتمل برپندو نصائح برائے اصلاح قوم
قال اللہ تعالیٰ وما لی لا اعبد الذی فطرنی۔۔۔ الی۔۔۔ وان کل لما جمیع لدینا محضرون۔
خلاصہء کلام یہ کہ منتہائے شہر سے ایک مرد صالح دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو نصیحت کرنے لگا کہ تم مرسلین کی پیروی کرو کیونکہ یہ لوگ خود غرضی سے بالکلیہ پاک ہیں جو مانع اتباع ہے اس لئے کہ وہ تم سے کسی قسم کا معاوضہ نہیں مانگتے لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا کے مصداق کامل ہیں اور خود حق اور راہ راست پر ہیں اور تم کو بھی حق اور راہ راست کی دعوت دے رہے ہیں جو اتباع اور پیروی کا داعی اور مقتضی ہے اور میں نے تو حق کو پہچان لیا اور دل وجان سے ان کو قبول کرلیا اور…
Read the full tafseer →22:۔ الم یروا الخ، یہ دعوائے سورت پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ یہ مشرکین دیکھتے نہیں کہ ان سے پہلے ہم نے مشرکین کے قرنوں کے قرن تباہ و برباد کردئیے جو اپنے مزعومہ معبودوں کو کارساز اور شفیع غالب سمجھتے تھے اور ان کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ مصائب و مشکلات میں وہ ان کے کام آئیں گے۔ لیکن جب ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تو ان کا کوئی کارساز اور سفارشی انہیں ہمارے عذاب سے چھڑا کر دنیا میں واپس نہ لاسکا انہم الیہم لا یرجعون۔ جملہ ما قبل کے مضمون سے بدل ہے۔ بدل من کم اھلکنا علی المعنی (مدارک ج 4 ص 6) کذا افادہ الشیخ قدس سرہ۔ یا اس سے ان لوگوں کا رد مقصود ہے جو کہتے تھے۔ انھی الا حیاتنا الدنیا نموت و نحیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–32
مکی سورتوں کے چار بنیادی عقائد میں سے اس رکوع میں رسالت کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ گزشتہ درس میں انطاکیہ کی بستی کا ذکر ہوا کہ اس میں اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبغلین دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آئے تو اہل بستی نے ان کی تکذیب کی ، بدسلوکی کرنے اور ایذا پہنچانے کے علاوہ ان کو طعن بھی کیا کہ تمہاری آمد کی وجہ سے ہم پر نحوست چھا گئی ہے ، ہمارے علاقے میں خشک سالی پیدا ہوگئی ہے اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ رسولوں نے جواب دیا کہ یہ نامبارکی ہماری وجہ سے نہیں ہے بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھنے والے ہو۔ جس کی سزا تمہیں مل رہی ہے۔
ایک مومن کی خیر خواہی
مرسلین نے…
Read the full tafseer →اَلَمْ يَرَوْا كَمْ اَہْلَكْنَا قَبْلَہُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّہُمْ اِلَيْہِمْ لَا يَرْجِعُوْنَ 31ۭ
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ،
( ر ء ی ) رای
الرؤیتہ
کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
وما انزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء الخ فرماتا ہے، اس شخص کے بعد ہم کو اس کی سرکش قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آسمانی لشکر کی حاجت اور ضرورت نہ پڑی اور نہ پڑنی چاہیے، صرف چیخ ان کے ہلاک کرنے کو بس ہوگئی۔ اس شہر پر آفت آئی، لوگ برباد ہوئے، فرماتا ہے یا حسرۃ علی العباد بندوں پر افسوس ہے، ان کے پاس جب کوئی رسول آیا تو اس کے ساتھ تمسخر سے پیش آئے اور یہ نہیں جانتے کہ دنیا میں سدا کوئی نہیں رہا ہے۔ پہلے لوگ کہاں گئے، کوئی پھر کر نہیں آتا، پس وہ سب کے سب خدا تعالیٰ کے پاس حاضر ہوجاتے ہیں اور وہاں اپنے کئے کا بدلہ پاتے ہیں۔
بعض مفسرین جیسا کہ ابن کثیر میں ہے، اس تفسیر پر معترض ہیں۔ بچندو جوہ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ ج مَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَھْلَـکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّھُمْ اِلَیْھِمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ ۔ وَاِنْ کُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 30 تا 32)
(افسوس ہے بندوں کے حال پر جو رسول بھی ان کے پاس آیا اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے۔ کیا انھوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کیا، بیشک وہ ان کے پاس کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ بیشک وہ ہمارے ہی حضور میں حاضر کیے جائیں گے۔ )
مکذبینِ رسول پر افسوس
انسانی نفسیات کو متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
فہم القرآن
ربط کلام : ہلاک ہونے والے باغیوں اور نافرمانوں کا خیال تھا کہ مرنے کے بعد ہمیں کوئی اٹھا نہیں سکے گا۔ لہٰذا مارنے کے بعد اٹھا لینے کی دلائل اور مشاہدات پیش کیے جاتے ہیں۔
انسان ! اللہ تعالیٰ کا تابع فرمان ہو یا نافرمان ہر کوئی اسی زمین پر رہتا اور مرتا ہے۔ موت کے بعد زندہ ہونے کی مثال زمین اور لیل و نہار سے پیش کی جاتی ہے۔ جس کا ہر شخص صبح و شام زندگی بھر مشاہدہ کرتا ہے۔ زمین پر غور فرمائیں تو بظاہر یہ بےجان دکھائی دیتی ہے۔ دیکھنے میں اس میں کوئی حِس و حرکت دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ اسے نہ صرف بارش سے زندہ کرتا ہے بلکہ اَن گنت مخلوق کی زندگی کا سبب بھی بنا دیتا ہے۔ بارش سے…
Read the full tafseer →31: اَلَمْ یَرَوْا (کیا ان کو معلوم نہیں) کَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنْ الْقُرُوْنِ (کہ ان سے پہلے بہت سے اہل زمانہ کو ہم ہلاک کرچکے)
نحو : کمؔ یہ اھلکنا کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور یرواؔ کمؔ میں عمل کے سلسلہ میں معلق ہے کیونکہ کمؔ سے پہلے آنے والا عامل اس پر عمل نہیں کرتا خواہ کم استفہامیہ ہو یا خبر یہ کیونکہ اس کی اصل استفہام ہے البتہ اس کا معنی جملہ میں نافذ ہے اور اَنَّہُمْ اِلَیْھِمْ لَا یَرْجِعُوْنَ (کہ وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آتے)
نحو : یہ کم اھلکنا سے معناً بدل ہے لفظاً نہیں تقدیر کلام اس طرح ہے الم یروا کثرۃ اھلاکنا القرون من قبلھم کو نہم انہم غیر راجعین الیھم کیا ان کو معلوم نہیں…
Read the full tafseer →31، الم کیا م کہ والوں کو خبر نہیں ۔ ، کم اھلکنا قبلھم من القرون، قرن ایک زمانے پر بول جاتا ہے کیوں کہ یہ زمانہ اس کے ساتھ ملاہواہوتا ہے۔ ، انھم الیھم لا یرجعون ، یعنی ان کو نہیں لوٹایاجائے گا دنیا کی طرف ۔ کیا وہ اس کی امید لگائے ہوئے ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
26 تا 32۔ جس طرح کی تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم کے حوالہ سے روایتیں اوپر گزریں اسی طرح حبیب بن شبیب نے اپنی تفسیر میں عکرمہ کی سند سے روایت 2 ؎ کی ہے (2 ؎ صحیح بخاری ص 714 ج 2 تفسیر سورة الدخان ‘) کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے یہ حبیب نجار، ساتھ یہ حبیب بن بشر ترمذی اور ابن ماجہ کے راوی ہیں اور ابن معین نے ان کو ثقہ تابعیوں میں شمار کیا ہے سیرت ابن اسحاق میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسی بستی کے لوگوں نے اللہ کے ان تینوں رسولوں سے جھگڑا کیا اور ان رسولوں کے شہید کرنے کا قصد کیا تو حبیب نجار دوڑ کر آئے تاکہ جہاں تک ہو سکے اللہ کے رسولوں کی مدد کریں یہ حبیب نجار بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
آیت 31
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیا انہوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہوگئیں۔ ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ آئے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انہیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انہیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ (آیت) ” اگر نیکی ہوگی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
33 تاریخ سے درس عبرت لینے کی ہدایت : سو اس سے گزشتہ تاریخ اور ہلاک شدہ قوموں کے انجام سے درس عبرت لینے کی ہدایت اور تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے تاکہ اس سے اصلاح احوال کی توفیق مل سکے۔ بہرکیف اس ارشاد سے گزشتہ دور کی منکر قوموں کے انجام سے درس لینے اور عبرت حاصل کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ یعنی ان لوگوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیئے کہ اس انجام سے یہ بھی دو چار ہوسکتے ہیں جو ان لوگوں کو پیش آ کر رہا۔ سو یہاں سے معلوم ہوا کہ مرنے کے بعد کوئی اس جہاں میں واپس نہیں آسکتا۔ اس سے شیعوں کا عقیدئہ رجعیت اور اسی طرح کے دیگر اہل باطل کے ایسے من گھڑت عقائد کا بطلان ثابت ہوتا ہے۔ پس دنیاوی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
قوم موسیٰ سے ایک مومن کا تذکرہ اور رسولوں کی تکذیب کرنیوالوں پر افسوس
تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا برگز یدہ بندہ تھا سیدھا جنت میں گیا۔ اب یہاں سے ایک نکتہ نکلتا ہے۔ کیونکہ مسلمان کو تو عالم برزخ کے بعد جنت میں جانا ہوگا۔ یہاں شہید کی فضیلت ظاہر کی گئی ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے۔ ” قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا “۔ یوں ثابت ہوگیا کہ عالم برزخ تو ضروری ہے۔ اسی لئے تو مسلمان باقی دعاؤں کے ساتھ قبر کے عذاب سے بھی پناہ مانگتا ہے۔ اصل میں اس قبر کے قیام کی بھی اتنی حالتیں ہوتی ہیں۔ نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 32:
اسرار و معارف :
اس کی بات کیا مانتے الٹا اسے بھی کہنے لگے کہ تم بھی یہ نیا دین کیوں اپنا رہے ہو بھلا باپ دادا کا مذہب خراب تھا کیا یا وہ سب گمراہ تھے تو اس نے کہا کہ میرے پاس تو ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ میں اس ذات کریم کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے قائم رکھا ہے نیز اس کے یہی احسانات تم سب پر بھی ہیں اور پھر بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی سب کو پلٹ کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور اپنے کردار و عمل کا حساب دینا ہے پھر کتنی احمقانہ بات ہے کہ میں اس اتنے بڑے مہربان کو چھوڑ کر کسی بھی دوسرے کو معبود بنا لوں کہ اگر وہ ناراض ہو کر مجھے سزا دے تو یہ بت یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 11 یعنی ایسے ختم ہوگئے کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا اور نہ ان کا کوئی نام لیوا رہا۔ یہاں ” لا یرجعوان “ کے لفظ میں ان لوگوں کا رد ہے جو بعض شخصیتوں کے موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں آنے کے قائل ہیں۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(36:31) کم ۔۔ من القرن۔ کتنی ہی قومیں۔ کتنی ہی امتیں القرن جمع ہے القرن کی جس کے معنی کوئی ایسی قوم یا امت جس کا اپنا مخصوص زمانہ ہو دوسروں سے الگ۔
کم سوالیہ بھی آتا ہے اس صورت میں اس کا ما بعد اسم تمیزبن کر منصوب ہوتا ہے اور اس کے معنی کتنی تعداد یا مقدار کے ہوتے ہیں۔ جیسے کم رضلا ضربت تو نے کتنے آدمیوں کو پیٹا ؟
کم دوسری صورت خبریہ ہے اس صورت میں یہ مقدار کی کمی بیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے اور اس کی تمیز ہمیشہ مجرور ہوتی ہے۔ جیسے کم قریۃ اھلکناھا ہم نے بہت بستیوں کو ہلاک کردیا۔ کبھی تمیز سے پہلے من آتا ہے جیسے کم من قریۃ اھلکناھا۔ ہم نے کتنی بستیوں کو ہلاک کردیا (یعنی بہت بستیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے)
تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔
( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
[12] یعنی اس شخص کے مرنے کے بعد اس کی قوم کفر اور رسولوں کے جھٹلانے کے جرم میں ہلاک کردی گئی اور ان کی ہلاکت کے لئے اللہ کو کوئی مزید اہتمام نہیں کرنا پڑا کہ آسمان سے فرشتوں کی فوج بھیجی جاتی۔ بس ایک چنگھاڑ نے ان کا کام تمام کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
ف 1: غرض یہ ہے جب انکار وسرکشی کی سزا ہلاکت ہے اور اقوام وعلل کی تاریخ بتارہی ہے ۔ کہ جب بھی اللہ کے پیغام کو ٹھکرایا گیا ہے موت اور تباہی نے آگھیرا ہے ۔ اور ناممکن ہے کہ کوئی گروہ اللہ کے اس قانون مکافات سے بچ سکے اور جب یہ بھی صحیح ہے کہ سب لوگوں کو خدا کے حضور میں پیش ہونا ضرور ہے اور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے ۔ تو پھر اس کفر کا فائدہ کیوں نہ سب لوگ اس کی چوکھٹ پر جھکیں ۔ اور اس کی عظمت کا اقرار کریں ؟ کیوں نہ اس کے رسول کو عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھیں ۔ اور اپنی زندگی سنوار لیں ۔ کیوں نہ ایسا ہو کہ سب لوگ ایک رنگ میں نظر آئیں ۔ سب خدا کے پرستار نہیں ۔ سب کے دلوں میں خدا محبت ہو ۔ سب…
Read the full tafseer →(31) کیا ان مکذبین رسالت نے اس امر پر نظر نہیں کی اور انہوں نے نہیں معلوم کیا کہ ہم ان سے پہلے کتنی امتیں اور کتنے طبقات کو ہلاک کرچکے ہیں کہ وہ ہلاک شدگان پھر ان کے پاس لوٹ کر نہیں آتے اور ان ہلاک شدگان کو ان کے پاس لوٹ کر آنا نصیب نہیں ہوا۔ یعنی ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہم اسی بنا پر تباہ و برباد کرچکے ہیں کہ انہوں نے اپنے زمانے کے رسولوں کو جھٹلایا اور جو احکام وہ لے کر آئے ان کو نہیں مانا اور اپنی ضد اور ہٹ پر قائم رہے۔
بالآخر ان کو اس طرح ہلاک کیا کہ ان کو پھر لوٹ کر آنا ہی نصیب نہ ہوا۔ یہ واقعات اول تو مشہور بہت ہیں پھر ان کی تباہ شدہ بستیوں اور آبادیوں کے نشانات اب تک موجود ہیں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–34
ف 5۔ اصل مطلب یہی ہے کہ تم کو کون سا عذر ہے۔
Read the full tafseer →ان کو معلوم نہیں ہے کہ مر کر جانے والے دوبارہ لوٹ کر نہیں آتے :
31۔ اس دار فانی سے ایک بار رخصت ہو کر جانے والے لوگ دوبارہ کبھی بھی اس دار فانی میں نہ آئے اور نہ ہی کبھی آئیں گے کتنی قرنیں بیت گئیں اور جو ایک بار یہاں سے رخصت ہو کر گئے کبھی واپس نہ آئے اور نہ ہی آئندہ کسی کے آنے کی کوئی امید ہے ‘ رہے لوگوں کے قصے اور کہانیاں اور کہاوتیں تو وہ پہلے بھی لوگ بیان کرتے رہے ‘ اب بھی کر رہے ہیں اور رہتی دنیا تک بیان کرتے ہی رہیں گے ، قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے اور جو اس میں بیان ہوا ہے وہ لاریب سچ ہے ‘ ہمیں تعجب ہے کہ ہمارے مفسرین ان آیات کریمات کو پڑھ کر ان کا مفہوم کیا بتاتے ہیں کیا ان اس سے صاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
In verses 28 and 29, it was said: وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ قَوْمِهِ مِن بَعْدِهِ مِن جُندٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا هُمْ خَامِدُونَ " (And We did not send down to his people any army from the heavens after him, nor were We (in need ) to send down. It was no more than a single Cry, and in no time they were extinguished.)
Mentioned here is the Divine punishment that descended upon the people who had rejected the messengers and had beaten up Habib Najjar until he died a martyr. And regarding the sending of punishment, it was said that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
25 That is, they were annihilated so completely that not a trace of them was left behind them. No one in the world even remembers them today. Their civilization as well as their race has become extinct.
Read the full tafseer →