Yaseen 36:30

Yaseen · from ayah 30

36:30

یٰحَسْرَةً عَلَی الْعِبَادِ ؔۚ— مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ ۟يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ ؔ‌ۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ

بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا مگر اس سے تمسخر کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

How regretful for the servants. There did not come to them any messenger except that they used to ridicule him.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:30

افسوس بندوں کے حال پر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا اُس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا مگر اس سے تمسخر کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

(ایسے) بندوں پر افسوس! کبھی بھی کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا جس کی ہنسی انہوں نے نہ اڑائی ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

افسوس ہے ایسے بندوں کے حال پر۔ ان کے پاس کوئی رسول ایسا نہیں آیا جس کا وہ مذاق نہ اڑاتے رہے ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کہا گیا کہ ہائے افسوس ان بندوں پر جب ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو اس سے ٹھٹھا ہی کرتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہائے (اُن) بندوں پر افسوس! اُن کے پاس کوئی رسول نہ آتا تھا مگر یہ کہ وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہائے افسوس بندوں پر ! ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا رہا مگر وہ اس کے ساتھ ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

افسوس ہے بندوں پر کہ ان کے پاس جو بھی رسول آیا اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

افسوس ہے بندوں کے حال پر ! جو رسول بھی ان کے پاس آئے وہ ان کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

افسوس ! بندوں کے حال پر کہ ان کے پاس جو بھی کوئی رسول آیا انہوں نے (اس کو جھٹلایا) اور یہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے

— مولانا اسحاق مدنی

افسوس (ایسے) بندوں کے حال پر ! کبھی ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا جس کی یہ ہنسی نہ اڑاتے ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

افسوس ہے بندوں کے حال پر ! نہیں آتا ان کے پاس کوئی پیغمبر مگر وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا کہ اس کے ساتھ تمسخر کرتے

— محترمہ رفعت اعجاز

Alas for My servants! Never does a Messenger come to them but they mock him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Alas for the slaves (of Allah)! No messenger came to them, but they have been mocking at him.

— Muhammad Taqi Usmani

Alas for the slaves (of Allah)! No messenger came to them, but they have been mocking at him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Alas for mankind! There never came a Messenger to them but they used to mock at him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Ah, the anguish for the bondmen! Never came there unto them a messenger but they did mock him!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

How regretful for the servants. There did not come to them any messenger except that they used to ridicule him.

— Saheeh International

Woe to human beings! Whenever a Messenger came to them, they mocked him.

— Muhammad Sarwar

Alas for the servants! there comes not to them an apostle but they mock at him.

— Muhammad Habib Shakir

Ah the misery of the bondmen! there cometh not: Unto them an apostle but him they have been mocking.

— Abdul Majid Daryabadi

Ah! Alas for (My) Servants! There comes not a messenger to them but they mock him!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 30–32

منکرین کی ندامت۔ بندوں پر حسرت و افسوس ہے۔ بندے کل اپنے اوپر کیسے نادم ہوں گے۔ بار بار کہیں گے کہ ہائے افسوس ہم نے تو خود اپنا برا کیا۔ بعض قرأتوں میں یا حسرۃ العباد علی انفسھا بھی ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن عذابوں کو دیکھ کر ہاتھ ملیں گے کہ انہوں نے کیوں رسولوں کو جھٹلایا ؟ اور کیوں اللہ کے فرمان کے خلاف کیا ؟ دنیا میں تو ان کا یہ حال تھا کہ جب کبھی جو رسول آیا انہوں نے بلا تامل جھٹلایا اور دل کھول کر ان کی بےادبی اور توہین کی۔ وہ اگر یہاں تامل کرتے تو سمجھ لیتے کہ ان سے پہلے جن لوگوں نے پیغمبروں کی نہ مانی تھی وہ غارت و برباد کردیئے گئے ان کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ ایک بھی تو ان میں سے نہ بچ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 29–30

سورة یٰسٓ 24 ان الفاظ میں ایک لطیف طنز ہے۔ اپنی طاقت پر ان کا گھمنڈ اور دین حق کے خلاف ان کا جوش و خروش گویا ایک شعلۂ جوالہ تھا جس کے متعلق اپنے زعم میں وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ ان تینوں انبیاء اور ان پر ایمان لانے والوں کو بھسم کر ڈالے گا۔ لیکن اس شعلے کی بساط اس سے زیادہ کچھ نہ نکلی کہ خدا کے عذاب کی ایک ہی چوٹ نے اس کو ٹھنڈا کر کے رکھ دیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–32

وما انزلنا علیٰ قومہ من بعدہ من جند من السماء وما کنا منزلین، ان کانت الا صیحة واحدة فاذا ھم خامدون، یہ اس قوم پر آسمانی عذاب کا ذکر ہے جس نے رسولوں کی تکذیب کی اور حبیب نجار کو مار مار کر شہید کردیا تھا۔ اور عذاب کی تمہید میں یہ فرمایا کہ اس قوم کو عذاب میں پکڑنے کے لئے ہمیں آسمان سے کوئی فرشتوں کا لشکر بھیجنا نہیں پڑا اور نہ ایسا لشکر بھیجنا ہمارا دستور ہے۔ کیونکہ اللہ کا تو ایک ہی فرشتہ بڑی بڑی قوی بہادر قوموں کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہے، اس کو فرشتوں کا لشکر بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔ پھر ان پر آنے والے عذاب کو بیان فرمایا کہ بس اتنا ہوا کہ فرشتے نے ایک زور کی آواز لگائی جس سے یہ سب کے سب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 30 یہ مکذبی رسول کی بدبختی پر اظہارِ افسوس ہے کہ ہمیشہ سے لوگوں کا حال یہی رہا ہے ہے جب اللہ نے ان کی ہدایت کے لئے کوئی رسول بھیجا تو لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا ہے اور پھر اس کے انجام بد سے دو چار ہوئے ہیں۔ چناچہ جو روش فرعون اور اس کی قوم نے اپنے رسولوں کے ساتھ اختیار کی آج وہی روش قریش نے اپنے رسول اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ اختیار کی ہے او لازماً یہ بھی اسی انجام سے دو چار ہوں گے جس سے ان کے پیشرو دو چار ہوئے۔ رسول۔ خدا کی سب سے بڑی رحمت بن کر آتا ہے لیکن اس کو مذاق۔۔ تو پھر اس سے بڑی نقمت بھی کوئی نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

30۔ 1 حسرت و ندامت کا یہ اظہار خود اپنے نفسوں پر، قیامت والے دن، عذاب دیکھنے کے بعد کریں گے کہ کاش انہوں نے اللہ کے بارے میں کوتاہی نہ کی ہوتی یا اللہ تعالیٰ بندوں کے رویے پر افسوس کر رہا ہے کہ ان کے پاس جب بھی کوئی رسول آیا انہوں نے اس کے ساتھ مذاق ہی کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–34

11: یعنی اس ظالم اور نافرمان قوم کو ہلاک کرنے کے لیے ہمیں فرشتوں کا کوئی لشکر آسمان سے اتارنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بس ایک ہی فرشتے نے ایک زور دار آواز نکالی تو اسی سے ان کے کلیجے پھٹ گئے، اور پوری قوم ہلاک ہو کر ایسی ہوگئی جیسے آگ بجھ کر راکھ کا ڈھیر بن جائے۔ والعیاذ باللہ العلی العظیم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس 206 ایک نظر میں پہلے سبق میں بات ان لوگوں کے بارے میں تھی جنہوں نے دعوت اسلامی کا استقبال انکار اور تکذیب کے ساتھ کیا۔ اور اس کا انجام ان کے گاؤں کا قصہ بیان کرکے بتایا گیا کہ ان جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ ان کا انجام یہ ہوا کہ فاذاھم خمدون (36: 29) ” اچانک وہ بجھ کر رہ گئے “۔ لیکن اس سبق میں تمام ملتوں اور تمام کتب سماوی کے مکذبین کا انجام بنایا گیا ہے۔ اور پوری انسانی تاریخ سے گمراہ انسانوں کے خدوخال اور نقوش یہاں بتائے گئے ہیں اور یہاں نہایت ہی دلدوز آواز و انداز میں پکارا جاتا ہے کہ تعجب ہے کہ لوگ ان اقوام کی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے۔ جن کی سچائی کو جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 30–31

8 یعنی دیکھتے اور سنتے ہیں کہ دنیا میں کتنی قومیں پہلے پیغمبروں سے ٹھٹھا کر کے غارت ہوچکی ہیں جن کا نام و نشان مٹ چکا۔ کوئی ان میں سے لوٹ کر ادھر واپس نہیں آئی۔ عذاب کی چکی میں سب پس کر برابر ہوگئیں اس پر بھی عبرت نہیں ہوئی، جب کوئی نیا رسول آتا ہے وہ ہی تمسخر اور استہزاء شروع کردیتے ہیں۔ جو پہلے کفار کی عادت تھی۔ چناچہ آج خاتم الانبیاء ﷺ کے ساتھ کفار مکہ کا یہ ہی معاملہ ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 30 { یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِج مَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ } ”افسوس ہے بندوں کے حال پر ! نہیں آتا ان کے پاس کوئی پیغمبر مگر وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 29–30

30 اصحاب القریہ پر چیخ کا عذاب :۔ یہ مرد صالح تو شہید ہوگیا، رہے پیغمبر تو ان کے متعلق کوئی صراحت نہیں کہ ان کا کیا انجام ہوا ؟ تاہم قرآن کی صراحت سے ایک ضابطہ الٰہی معلوم ہوتا ہے کہ جس بستی پر اللہ اپنا عذاب نازل کرتا ہے تو اپنے رسولوں اور ایمانداروں کو اس عذاب سے بچانے کا پہلے انتظام کردیتا ہے۔ اور یہ تو اس آیت سے واضح ہے کہ ان رسولوں کی تکذیب اور اس مرد مومن کی شہادت کے بعد اس قوم پر عذاب آیا تھا اور یہ عذاب کچھ ایسا نہ تھا جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی فوجیں نازل کی ہوں نہ ہی اتنے معمولی سے کام کے لئے اللہ تعالیٰ کو فوجیں بھیجنے کی ضرورت تھی۔ اس قوم سے بس اتنا ہی معاملہ ہوا کہ زور کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

19۔ حق تعالیٰ کا یہ اظہار تاسف وملال اس کمال شفقت کے اظہار کے لئے انسانی محاورہ کے مطابق ہے جو حضرت حق کو بندوں کے ساتھ ہے۔ ورنہ حقیقۃ وہ ذات پاک ہر قسم کے تاثر وانفعال سے بالاتر ہے :۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–32

آیت نمبر 13 تا 32 ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یٰحَسْرَۃً میں تنوین تعظیم کی ہے ‘ یعنی حسرت کی عظمت پر دلالت کر رہی ہے۔ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ میں استثناء ‘ شرط و جزا کے معنی میں ہے ‘ یعنی جب بھی کوئی رسول ان کے پاس آتا تھا ‘ وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ یہ حسرت کی عظمت کا اظہار ہے۔ جو لوگ اپنے ان مخلص خیرخواہوں کا مذاق اڑائیں جن کی نصیحت سے دونوں جہان کی بہبودی وابستہ ہے تو ایسے لوگ اسی قابل ہیں کہ ان کی حالت پر اظہار حسرت کیا جائے اور جن و انس و ملائکہ ان پر افسوس کریں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حسرت سے مراد ایمان والے بندوں کی طرف سے اظہار حسرت نہ ہو ‘ بلکہ بطور استعارہ اللہ کی طرف سے حسرت کا اظہار ہو ‘ اس صورت میں استہزاء کرنے والوں کے جرم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

قیامت کے دن ایسے لوگوں کے حال پر جو کہ ایمان نہیں لائے افسوس اور حسرت کا مقام ہوگا کبھی ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو اور ان لوگوں نے ان تینوں رسولوں کو بھی شہید کر کے کنوئیں میں ڈال دیا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰحَسْرَةً عَلَي الْعِبَادِ : فوت شدہ چیز پر شدید افسوس کو حسرت کہتے ہیں۔ ”الْعِبَادِ“ میں الف لام عہد کا ہے، مراد وہ بندے ہیں جو رسولوں کو جھٹلاتے رہے، اس بستی والے بھی ان میں شامل ہیں۔ یہ ان کی حالت کا نقشہ ہے کہ ان کا حال ایسا ہے جس پر حسرت و افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ ان کے پاس جو رسول بھی آیا وہ اسے جھٹلاتے ہی رہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 30–32

30.32:۔ یحسرۃ علی العباد ‘ حرۃ منصوب ہے کیونکہ نکرہ کو ندا کی جا رہی ہے۔ بصریوں کے نزدیک نصب کے علاوہ کوئی صورت جائز نہیں۔ حضرت ابی کی قرأت میں یا حسرۃ العباد یعنی حسرۃ کا لفظ مضاف ہے (1) لغت میں حسرت کے معنی یہ ہے کہ انسان کو شرمندگی لاحق ہو جس کی وجہ سے یہ حسیر یعنی افسوس کرنے والا ہوجائے۔ قراء نے کہا : پسندیدہ قرائت نصب ہے۔ اگر نکرہ کو رفع دیا جائے جو صلہ کے ساتھ ملا ہوا ہو تو یہ بھی صورت درست ہے اور چند چیزوں سے دلیل قائم کی ہے ان میں سے یہ ہے کہ انہوں نے عربوں سے سنا یا یامھتم بامرنا لاتھتم اور یہ مصرعہ پڑھا : یا دارغیرھا البلی تغیرا اے گھر ! جسے بوسیدگی نے تبدیل کردیا۔ نحاس نے کہا : اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یحسرۃ علی العباد ما یاتیھم من رسول الا کانوا بہ یستھزء ون “ (افسوس ایسے بندوں کے حال پر) یعنی ہائے بندوں کے لئے ہلاکت۔ 2:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) اور ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے اس طرح پڑھا۔ (آیت) ” یحسرۃ علی العباد “ 3:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یحسرۃ علی العباد سے مراد ہے کہ ان پر حسرت اس وجہ سے ہے کہ وہ رسولوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰحَسْرَةً [(کہا گیا) ہائے افسوس ] عَلَي الْعِبَادِ ڱ [ان بندوں پر ] مَا يَاْتِيْهِمْ [نہیں پہنچا ان کے پاس ] مِّنْ رَّسُوْلٍ [کوئی بھی رسول ] اِلَّا [مگر ] كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [وہ لوگ اس سے مذاق کرتے تھے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–30

(یَاحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ ) (افسوس ہے بندوں کے حال پر) بیان القرآن میں لفظ ” حسرت “ کا ترجمہ افسوس سے کیا ہے، لفظ حسرت وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں کوئی نفع مند چیز فوت ہوجائے اور اس پر ندامت اور شرمندگی ہونے لگے۔ چونکہ ذات باری تعالیٰ کے لیے اصلی معنی میں حسرت ہونا محال ہے اس لیے افسوس سے ترجمہ کیا گیا ہے، لیکن احقر کو اس میں بھی اشکال ہے کیونکہ افسوس سے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات پاک بلندو برتر ہے، صاحب روح المعانی نے اس موقع پر متعدد اقوال نقل کیے ہیں کہ حسرت کرنے والے کون ہیں اور العباد کون ہیں جن پر حسرت کی گئی، پھر ایک قول یہ لکھا گیا ہے : (وجوزان یکون التحسر منہ سبحانہ وتعالیٰ مجازًا علی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–32

بقیہ قصہ مرد صالح مشتمل برپندو نصائح برائے اصلاح قوم قال اللہ تعالیٰ وما لی لا اعبد الذی فطرنی۔۔۔ الی۔۔۔ وان کل لما جمیع لدینا محضرون۔ خلاصہء کلام یہ کہ منتہائے شہر سے ایک مرد صالح دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو نصیحت کرنے لگا کہ تم مرسلین کی پیروی کرو کیونکہ یہ لوگ خود غرضی سے بالکلیہ پاک ہیں جو مانع اتباع ہے اس لئے کہ وہ تم سے کسی قسم کا معاوضہ نہیں مانگتے لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا کے مصداق کامل ہیں اور خود حق اور راہ راست پر ہیں اور تم کو بھی حق اور راہ راست کی دعوت دے رہے ہیں جو اتباع اور پیروی کا داعی اور مقتضی ہے اور میں نے تو حق کو پہچان لیا اور دل وجان سے ان کو قبول کرلیا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–30

21:۔ یحسرۃ الخ، قصہ کے اختتام پر حسب عادت مستمرہ ارشاد فرمایا، انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کرنے والے اور توحید کا انکار کرنے والے بندوں پر افسوس ! ان کے پاس جو بھی رسول توحید کا پیغام لے کر آیا۔ ماننے کے بجائے یہ اس سے استہزا کرنے لگے۔ یہ اظہار حسرت تینوں رسولوں کی طرف سے تھا یا فرشتوں کی طرف سے۔ قال الضحاک انہا حسرۃ الملائکۃ علی الکفار حین کذبوا الرسل وقیل ان الرسل الثلاثۃ ہم الذین قالو لما قتل القوم ذلک الرجل الذی جاء من اقصی المدینۃ یسعی، و حل بالقوم العذاب یا حسرۃ علی ھؤلاء کانہم تمنوا ان یکونوا قد امنوا (قرطبی ج 15 ص 23) ۔ ما یاتیہم، ماضی استمراری کے معنوں میں ہے یعنی ان کے پاس جو بھی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 20–32

مکی سورتوں کے چار بنیادی عقائد میں سے اس رکوع میں رسالت کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ گزشتہ درس میں انطاکیہ کی بستی کا ذکر ہوا کہ اس میں اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبغلین دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آئے تو اہل بستی نے ان کی تکذیب کی ، بدسلوکی کرنے اور ایذا پہنچانے کے علاوہ ان کو طعن بھی کیا کہ تمہاری آمد کی وجہ سے ہم پر نحوست چھا گئی ہے ، ہمارے علاقے میں خشک سالی پیدا ہوگئی ہے اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ رسولوں نے جواب دیا کہ یہ نامبارکی ہماری وجہ سے نہیں ہے بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھنے والے ہو۔ جس کی سزا تمہیں مل رہی ہے۔ ایک مومن کی خیر خواہی مرسلین نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰحَسْرَۃً عَلَي الْعِبَادِ۝ 0 ۚؗ مَا يَاْتِيْہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِہٖ يَسْتَہْزِءُوْنَ۝ 30 حسر الحسر : كشف الملبس عمّا عليه، يقال : حسرت عن الذراع، والحاسر : من لا درع عليه ولا مغفر، والمِحْسَرَة : المکنسة، وفلان کريم المَحْسَر، كناية عن المختبر، وناقة حَسِير : انحسر عنها اللحم والقوّة، ونوق حَسْرَى، والحاسر : المُعْيَا لانکشاف قواه، ويقال للمعیا حاسر ومحسور، أمّا الحاسر فتصوّرا أنّه قد حسر بنفسه قواه، وأما المحسور فتصوّرا أنّ التعب قد حسره، وقوله عزّ وجل : يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خاسِئاً وَهُوَ حَسِيرٌ [ الملک/ 4] ، يصحّ أن يكون بمعنی حاسر، وأن يكون بمعنی محسور، قال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 28–32

وما انزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء الخ فرماتا ہے، اس شخص کے بعد ہم کو اس کی سرکش قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آسمانی لشکر کی حاجت اور ضرورت نہ پڑی اور نہ پڑنی چاہیے، صرف چیخ ان کے ہلاک کرنے کو بس ہوگئی۔ اس شہر پر آفت آئی، لوگ برباد ہوئے، فرماتا ہے یا حسرۃ علی العباد بندوں پر افسوس ہے، ان کے پاس جب کوئی رسول آیا تو اس کے ساتھ تمسخر سے پیش آئے اور یہ نہیں جانتے کہ دنیا میں سدا کوئی نہیں رہا ہے۔ پہلے لوگ کہاں گئے، کوئی پھر کر نہیں آتا، پس وہ سب کے سب خدا تعالیٰ کے پاس حاضر ہوجاتے ہیں اور وہاں اپنے کئے کا بدلہ پاتے ہیں۔ بعض مفسرین جیسا کہ ابن کثیر میں ہے، اس تفسیر پر معترض ہیں۔ بچندو جوہ :…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 30–32

یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ ج مَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَھْلَـکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّھُمْ اِلَیْھِمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ ۔ وَاِنْ کُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 30 تا 32) (افسوس ہے بندوں کے حال پر جو رسول بھی ان کے پاس آیا اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے۔ کیا انھوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کیا، بیشک وہ ان کے پاس کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ بیشک وہ ہمارے ہی حضور میں حاضر کیے جائیں گے۔ ) مکذبینِ رسول پر افسوس انسانی نفسیات کو متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–30

فہم القرآن ربط کلام : تباہ ہونے والی اقوام کا انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ساتھ سلوک اور ان کا انجام۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ” اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن “ ہے اس لیے اپنے بندوں کو باربار موقعہ اور مہلت دیتا ہے کہ وہ بغاوت اور سرکشی سے باز آجائیں لیکن جب کوئی قوم اور لوگ تمرد اور سرکشی کی انتہا کردیتے ہیں تو پھر زمین کا نظام چلانے اور اسے متوازن رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ اس قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیتا ہے۔ جس میں ایک طرف ظالموں کو کیفرِکردار تک پہنچانا مطلوب ہوتا ہے اور دوسری طرف حق والوں اور مظلوموں کی مدد کرنا مقصود ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنی شفقت کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قابل حسرت لوگ : 30: یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ مَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ (افسوس بندوں کے حال پر کبھی ان کے پاس کوئی رسول نہیں) اِلَّاکَانُوْا بِہٖ یَستَھْزِئُ وْنَ (آیا کہ جس کی ہنسی انہوں نے نہ اُڑائی ہو) الحسرۃؔ انتہائی شرمندگی کو کہتے ہیں۔ یہ نداء ہے جو ان کی حالت پر اظہار افسوس کیلئے لائی گئی ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا : تعالیٰ یا حسرۃ، فھذہ من احوالک التی حقک ان تحضری فیھا وھی حال استھزائھم بالرسل۔ اے فسوس تو آ۔ یہ حالت ان احوال میں سے ہے جس میں تجھے حاضر ہونے کا حق ہے۔ وہ حالت انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ استہزاء والی ہے۔ مطلب یہ ہے وہ اس بات کے حقدار ہیں۔ کہ حسرت کرنے والے ان پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

30، یاحسرۃ علی العباد ، انہوں نے اپنے اوپر افسوس کیا ۔ حسرت شدت ندامت کو کہاجاتا ہے ۔ اس میں دوقول ہیں ایک قول یہ ہے کہ چونکہ لوگ پیغمبروں پر ایمان نہیں لائے اس لیے قیامت کے دن اللہ فرمائے گا کہ آج بندوں کے لیے حسرت ندامت اور غم ہے۔ دوسرایہ کہ یہ ہلاک ہونے والوں کا کلام ہے۔ ابوالعالیہ فرماتے ہیں کہ جبانہوں نے عذاب کا معائنہ کرلیا تو کہنے لگے اے حسرۃ ! ہائے افسوس ! ان تین بندوں پر کہ ہم نے ان تینوں بھیجوں ہوؤں پر ایمان نہیں لائے۔ انہوں نے اس وقت ایمان کی تمنا کی جب ان کو ایمان نے نفع نہیں پہنچایا۔ زہری فرماتے ہیں حسرت والا شخص کسی کو پکارتا نہیں ، اگر پکارے تو یہ پکارنا مخاطبین کے لیے تنبیہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–32

26 تا 32۔ جس طرح کی تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم کے حوالہ سے روایتیں اوپر گزریں اسی طرح حبیب بن شبیب نے اپنی تفسیر میں عکرمہ کی سند سے روایت 2 ؎ کی ہے (2 ؎ صحیح بخاری ص 714 ج 2 تفسیر سورة الدخان ‘) کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے یہ حبیب نجار، ساتھ یہ حبیب بن بشر ترمذی اور ابن ماجہ کے راوی ہیں اور ابن معین نے ان کو ثقہ تابعیوں میں شمار کیا ہے سیرت ابن اسحاق میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسی بستی کے لوگوں نے اللہ کے ان تینوں رسولوں سے جھگڑا کیا اور ان رسولوں کے شہید کرنے کا قصد کیا تو حبیب نجار دوڑ کر آئے تاکہ جہاں تک ہو سکے اللہ کے رسولوں کی مدد کریں یہ حبیب نجار بڑے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 22–30

آیت 22 اس شخص نے کہا : (ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون) یعنی میرے لئے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کو نسی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندے کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے، وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کرسکتی ہیں نہ محروم کرسکتی ہیں، جن کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 29–31

33 تاریخ سے درس عبرت لینے کی ہدایت : سو اس سے گزشتہ تاریخ اور ہلاک شدہ قوموں کے انجام سے درس عبرت لینے کی ہدایت اور تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے تاکہ اس سے اصلاح احوال کی توفیق مل سکے۔ بہرکیف اس ارشاد سے گزشتہ دور کی منکر قوموں کے انجام سے درس لینے اور عبرت حاصل کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ یعنی ان لوگوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیئے کہ اس انجام سے یہ بھی دو چار ہوسکتے ہیں جو ان لوگوں کو پیش آ کر رہا۔ سو یہاں سے معلوم ہوا کہ مرنے کے بعد کوئی اس جہاں میں واپس نہیں آسکتا۔ اس سے شیعوں کا عقیدئہ رجعیت اور اسی طرح کے دیگر اہل باطل کے ایسے من گھڑت عقائد کا بطلان ثابت ہوتا ہے۔ پس دنیاوی زندگی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–32

قوم موسیٰ سے ایک مومن کا تذکرہ اور رسولوں کی تکذیب کرنیوالوں پر افسوس تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا برگز یدہ بندہ تھا سیدھا جنت میں گیا۔ اب یہاں سے ایک نکتہ نکلتا ہے۔ کیونکہ مسلمان کو تو عالم برزخ کے بعد جنت میں جانا ہوگا۔ یہاں شہید کی فضیلت ظاہر کی گئی ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے۔ ” قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا “۔ یوں ثابت ہوگیا کہ عالم برزخ تو ضروری ہے۔ اسی لئے تو مسلمان باقی دعاؤں کے ساتھ قبر کے عذاب سے بھی پناہ مانگتا ہے۔ اصل میں اس قبر کے قیام کی بھی اتنی حالتیں ہوتی ہیں۔ نیک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–32

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 32: اسرار و معارف : اس کی بات کیا مانتے الٹا اسے بھی کہنے لگے کہ تم بھی یہ نیا دین کیوں اپنا رہے ہو بھلا باپ دادا کا مذہب خراب تھا کیا یا وہ سب گمراہ تھے تو اس نے کہا کہ میرے پاس تو ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ میں اس ذات کریم کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے قائم رکھا ہے نیز اس کے یہی احسانات تم سب پر بھی ہیں اور پھر بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی سب کو پلٹ کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور اپنے کردار و عمل کا حساب دینا ہے پھر کتنی احمقانہ بات ہے کہ میں اس اتنے بڑے مہربان کو چھوڑ کر کسی بھی دوسرے کو معبود بنا لوں کہ اگر وہ ناراض ہو کر مجھے سزا دے تو یہ بت یا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 30–31

ف 11 یعنی ایسے ختم ہوگئے کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا اور نہ ان کا کوئی نام لیوا رہا۔ یہاں ” لا یرجعوان “ کے لفظ میں ان لوگوں کا رد ہے جو بعض شخصیتوں کے موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں آنے کے قائل ہیں۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:30) یحسرۃ۔ حسرۃ افسوس، پشیمانی، پچھتاوا۔ حسر یحسر (سمع) کا مصدر ہے یا حرف ندا ہے اور حسرۃ منادی۔ اے افسوس ! علی العباد۔ العباد میں الف لام عہد کا ہے اور مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ کانوا بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب رسول کے لئے ہے۔ یستھزء ون۔ ماضی استمراری جمع مذکر غائب۔ وہ استہزا کیا کرتے تھے، ہنسی اڑایا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–32

لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے) تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–32

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔ ( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–31

[12] یعنی اس شخص کے مرنے کے بعد اس کی قوم کفر اور رسولوں کے جھٹلانے کے جرم میں ہلاک کردی گئی اور ان کی ہلاکت کے لئے اللہ کو کوئی مزید اہتمام نہیں کرنا پڑا کہ آسمان سے فرشتوں کی فوج بھیجی جاتی۔ بس ایک چنگھاڑ نے ان کا کام تمام کردیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–32

ف 1: غرض یہ ہے جب انکار وسرکشی کی سزا ہلاکت ہے اور اقوام وعلل کی تاریخ بتارہی ہے ۔ کہ جب بھی اللہ کے پیغام کو ٹھکرایا گیا ہے موت اور تباہی نے آگھیرا ہے ۔ اور ناممکن ہے کہ کوئی گروہ اللہ کے اس قانون مکافات سے بچ سکے اور جب یہ بھی صحیح ہے کہ سب لوگوں کو خدا کے حضور میں پیش ہونا ضرور ہے اور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے ۔ تو پھر اس کفر کا فائدہ کیوں نہ سب لوگ اس کی چوکھٹ پر جھکیں ۔ اور اس کی عظمت کا اقرار کریں ؟ کیوں نہ اس کے رسول کو عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھیں ۔ اور اپنی زندگی سنوار لیں ۔ کیوں نہ ایسا ہو کہ سب لوگ ایک رنگ میں نظر آئیں ۔ سب خدا کے پرستار نہیں ۔ سب کے دلوں میں خدا محبت ہو ۔ سب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(30) اے وائے اور افسوس بندوں کے حال پر کبھی کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو۔ یعنی ایسے بندوں پر جن کی عادت ہی تکذیب کی ہے بہت افسوس ہے ان کی حالت یہ ہے کہ کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا مگر یہ کہ انہوں نے اس پیغمبر کی تکذیب ہی کی یعنی ہر پیغمبر کو جھٹلایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

افسوس ہے ان بندوں پر جو رسولوں کا مذاق اڑاتے رہے ہیں اور اڑا رہے ہیں : 30۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور رسل عظام (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا تھا وہ اپنے اپنے وقت توحید الہی کا پرچار کرتے رہے لیکن جن لوگوں نے شرک کی زندگی کو اختیار کر رکھا تھا انہوں نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی ہمیشہ مخالفت کی اور ان کو ہر ممکن تنگ کیا اور ان کی رسالت سے کھلا انکار کیا اور ان سے نہایت برا سلوک کیا انجام کار اس طرح مخالفت کرنے والے ہلاک ہوئے لیکن بعد میں آنے والوں نے اگر رسولوں کو مانا تو ان کے متعلق اسی طرح کی کہانیاں منسوب کردیں جس طرح کی کہانیاں پہلے اپنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–32

In verses 28 and 29, it was said: وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ قَوْمِهِ مِن بَعْدِهِ مِن جُندٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا هُمْ خَامِدُونَ " (And We did not send down to his people any army from the heavens after him, nor were We (in need ) to send down. It was no more than a single Cry, and in no time they were extinguished.) Mentioned here is the Divine punishment that descended upon the people who had rejected the messengers and had beaten up Habib Najjar until he died a martyr. And regarding the sending of punishment, it was said that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–30

24 These words contain a subtle satire. In their arrogance and pride of power and their strong antagonism towards the true faith, they thought they would annihilate the three Prophets and their followers, but, contrary to their plot, they were themselves annihilated by only one stroke of the Divine punishment.

Read the full tafseer →