Yaseen 36:29

Yaseen · from ayah 29

36:29

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ ۟اِنۡ كَانَتۡ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمۡ خٰمِدُوۡنَ

وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی (آتشین) سو وہ (اس سے) ناگہاں بجھ کر رہ گئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

It was not but one shout, and immediately they were extinguished.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:29

بس ایک دھماکہ ہوا اور یکایک وہ سب بجھ کر رہ گئے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی (آتشین) سو وہ (اس سے) ناگہاں بجھ کر رہ گئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه تو صرف ایک زور کی چیﺦ تھی کہ یکایک وه سب کے سب بجھ بجھا گئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ تو بس ایک ہی چنگھاڑ تھی جس سے وہ ایک دم بجھ کر رہ گئے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ تو بس ایک ہی چیخ تھی جبھی وہ بجھ کر رہ گئے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ان کا عذاب) ایک سخت چنگھاڑ کے سوا اور کچھ نہ تھا، بس وہ اُسی دم (مر کر کوئلے کی طرح) بُجھ گئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ نہیں تھی مگر ایک ہی چیخ، پس اچانک وہ بجھے ہوئے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ تو بس ایک دھماکہ ہوا جس سے وہ سب بجھ کر رہ گئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بس ایک ڈانٹ تھی کہ دفعتہ وہ پامال ہو کے رہ گئے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ تو بس ایک ہی ایسی ہولناک آواز تھی جس کے نتیجے میں وہ سب کے سب بجھ کر رہ گئے (ہمیشہ ہمیش کے لئے)

— مولانا اسحاق مدنی

وہ (سزا) تو بس ایک چیخ تھی کہ سب اسی دم بجھ کر رہ گئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ تو بس ایک زور دار چنگھاڑ تھی جبھی وہ سب بجھ کر رہ گئے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی آتشیں سو وہ اس سے ناگہاں بجھ کر رہ گئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

There was but a single Blast and suddenly they became silent and still.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It was no more than a single Cry, and in no time they were extinguished.

— Muhammad Taqi Usmani

It was no more than a single Cry, and in no time they were extinguished.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It was but one Sayhah and lo! they (all) were still.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It was but one Shout, and lo! they were extinct.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It was not but one shout, and immediately they were extinguished.

— Saheeh International

It was only a single blast which made them extinct.

— Muhammad Sarwar

It was naught but a single cry, and lo! they were still.

— Muhammad Habib Shakir

It was but one shout, and lo! they were extinct.

— Abdul Majid Daryabadi

It was no more than a single mighty Blast, and behold! they were (like ashes) quenched and silent.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–29

ظالموں کیلئے عذاب الٰہی۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ان کفار نے اس مومن کامل کو بری طرح مارا پیٹا اسے گرا کر اس کے پیٹ پر چڑھ بیٹھے اور پیروں سے اسے روندنے لگے یہاں تک کہ اس کی آنتیں اس کے پیچھے کے راستے سے باہر نکل آئیں، اسی وقت اللہ کی طرف سے اسے جنت کی خوشخبری سنائی گئی، اسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے رنج و غم سے آزاد کردیا اور امن چین کے ساتھ جنت میں پہنچا دیا ان کی شہادت سے اللہ خوش ہوا جنت ان کیلئے کھول دی گئی اور داخلہ کی اجازت مل گئی، اپنے ثواب و اجر کو، عزت و اکرام کو دیکھ کر پھر اس کی زبان سے نکل گیا کاش کہ میری قوم یہ جان لیتی کہ مجھے میرے رب نے بخش دیا اور میرا بڑا ہی اکرام کیا۔ فی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 29–30

سورة یٰسٓ 24 ان الفاظ میں ایک لطیف طنز ہے۔ اپنی طاقت پر ان کا گھمنڈ اور دین حق کے خلاف ان کا جوش و خروش گویا ایک شعلۂ جوالہ تھا جس کے متعلق اپنے زعم میں وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ ان تینوں انبیاء اور ان پر ایمان لانے والوں کو بھسم کر ڈالے گا۔ لیکن اس شعلے کی بساط اس سے زیادہ کچھ نہ نکلی کہ خدا کے عذاب کی ایک ہی چوٹ نے اس کو ٹھنڈا کر کے رکھ دیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–32

وما انزلنا علیٰ قومہ من بعدہ من جند من السماء وما کنا منزلین، ان کانت الا صیحة واحدة فاذا ھم خامدون، یہ اس قوم پر آسمانی عذاب کا ذکر ہے جس نے رسولوں کی تکذیب کی اور حبیب نجار کو مار مار کر شہید کردیا تھا۔ اور عذاب کی تمہید میں یہ فرمایا کہ اس قوم کو عذاب میں پکڑنے کے لئے ہمیں آسمان سے کوئی فرشتوں کا لشکر بھیجنا نہیں پڑا اور نہ ایسا لشکر بھیجنا ہمارا دستور ہے۔ کیونکہ اللہ کا تو ایک ہی فرشتہ بڑی بڑی قوی بہادر قوموں کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہے، اس کو فرشتوں کا لشکر بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔ پھر ان پر آنے والے عذاب کو بیان فرمایا کہ بس اتنا ہوا کہ فرشتے نے ایک زور کی آواز لگائی جس سے یہ سب کے سب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 28–29

آیت 28۔ 29 ’ من بعدہ ‘۔ میں مذکورہ بالا دو باتوں کا امکان ہے۔ ان کی موت کے بعد یا ان کی ہجرت کے بعد۔ یہ اس سنت الٰہی کا حوالہ ہے جس سے مکذبین کو لازماً سابقہ پیش آتا ہے جب کہ رسول اور اس کے ساتھ قوم کو چھوڑ کر ہجرت کر جات ہیں۔ فرمایا کہ اس کے بعد ہمیں اس کی قوم کو پامال کرنے کے لئے آسمان سے کوئی فوج نہیں اتارنی پڑی بلکہ ہماری ایک ہی ڈانٹ میں وہ پامال ہو کے رہ گئے۔ لفظ سیحۃ عذاب کی تعبیر ہے۔ ’ وما کن منزلین ‘ سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ان کے لئے آسمان سے کوئی فوج نہ اتارنے کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کے کاموں کے لئے ہم اپنی فوجیں نہیں اتارا کرتے، بس ہماری ایک ڈانٹ ہی کافی ہوجاتی ہے۔ یہ حقیقت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

29۔ 1 کہتے ہیں کہ جبرائیل ؑ نے ایک چیخ ماری، جس سے سب جسموں سے روحیں نکل گئیں اور وہ بجھی آگ کی طرح ہوئے۔ گویا زندگی، شعلہ فروزاں ہے اور موت، اس کا بجھ کر راکھ کا ڈھیر ہوجانا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–34

11: یعنی اس ظالم اور نافرمان قوم کو ہلاک کرنے کے لیے ہمیں فرشتوں کا کوئی لشکر آسمان سے اتارنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بس ایک ہی فرشتے نے ایک زور دار آواز نکالی تو اسی سے ان کے کلیجے پھٹ گئے، اور پوری قوم ہلاک ہو کر ایسی ہوگئی جیسے آگ بجھ کر راکھ کا ڈھیر بن جائے۔ والعیاذ باللہ العلی العظیم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 28–29

وما انزلنا علی۔۔۔۔۔ فاذا ھم خمدون (28 – 29) ان سرکشوں کا کیا انجام ہوا ، یہاں اللہ تعالیٰ ان کو حقیر سمجھتے ہوئے قلم زد فرما دیتا ہے۔ ان حقیر لوگوں کے خلاف کسی لشکر کشی کی ضرورت نہ تھی۔ بس اچانک ایک دھماکہ ہوا ، ایک سخت چیخ اٹھی اور وہ بجھ کر رہ گئے۔ یہاں اب ان لوگوں کے اس حسرتناک ، ذلت آمیز اور توہین آمیز انجام پر پردہ گرتا ہے۔ اور یہ منظر یہاں لپیٹ لیا جاتا ہے

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 28–29

7 یعنی اس کے بعد اس کی قوم کفر و ظلم اور تکذیب مرسلین کی پاداش میں ہلاک کی گئی اور اس اہلاک کے لیے کوئی مزید اہتمام کرنا نہیں پڑا کہ آسمان سے فرشتوں کی فوج بھیجی جاتی، نہ حق تعالیٰ کی یہ عادت ہے کہ قوموں کی ہلاکت کے لیے بڑی بڑی فوجیں بھیجا کریں (یوں کسی خاص موقع پر کسی خاص مصلحت کی وجہ سے فرشتوں کا لشکر بھیج دیں وہ دوسری بات ہے) وہاں تو بڑے بڑے مدعیوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایک ڈانٹ کافی ہے۔ چناچہ اس قوم کا حال بھی یہ ہی ہوا کہ فرشتوں نے ایک چیخ ماری اور سب کے سب اسی دم بجھ کر رہ گئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 29 { اِنْ کَانَتْ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمْ خٰمِدُوْنَ } ”وہ تو بس ایک زور دار چنگھاڑ تھی ‘ جبھی وہ سب بجھ کر رہ گئے۔“ اس یکبارگی خوفناک چنگھاڑ کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پوری آبادی چشم ِزدن میں گویا راکھ کا ڈھیر بن کر رہ گئی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 29–30

30 اصحاب القریہ پر چیخ کا عذاب :۔ یہ مرد صالح تو شہید ہوگیا، رہے پیغمبر تو ان کے متعلق کوئی صراحت نہیں کہ ان کا کیا انجام ہوا ؟ تاہم قرآن کی صراحت سے ایک ضابطہ الٰہی معلوم ہوتا ہے کہ جس بستی پر اللہ اپنا عذاب نازل کرتا ہے تو اپنے رسولوں اور ایمانداروں کو اس عذاب سے بچانے کا پہلے انتظام کردیتا ہے۔ اور یہ تو اس آیت سے واضح ہے کہ ان رسولوں کی تکذیب اور اس مرد مومن کی شہادت کے بعد اس قوم پر عذاب آیا تھا اور یہ عذاب کچھ ایسا نہ تھا جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی فوجیں نازل کی ہوں نہ ہی اتنے معمولی سے کام کے لئے اللہ تعالیٰ کو فوجیں بھیجنے کی ضرورت تھی۔ اس قوم سے بس اتنا ہی معاملہ ہوا کہ زور کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 28–29

18۔ وہ قوم انکار وتکذیب کی منزلیں طے کرچکنے کے بعد بالآخر ہلاک کردی گئی ہے۔ یہ بیان اس وقت کا ہے۔ (آیت) ” وما کنا منزلین “۔ خدائے قادر وغنی کو فرشتوں کا لشکر کا لشکر اتارنے کی احتیاج نہیں۔ بڑی سے بڑی آبادیوں کی ہلاکت کے لئے ایک ادنی سا اشارہ کافی ہے۔ مثلا یہیں، ایک زور کی آواز (بادل اور بجلی کی کڑک ہو یا کچھ اور (کافی ہوگئی، اور بعض واقعات میں جو فرشتوں کے لشکر کا اتارنا مذکور ہے، وہ کسی وقتی حکمت ومصلحت کی بناء پر تھا۔ یہاں نفی صرف احتیاج کی ہورہی ہے۔ (آیت) ” خمدون “۔ یعنی مرکھپ کر ایسے نیست ونابود ہوگئے جیسے خاکستر جلنے بجھنے کے بعد۔ اے میتون ھامدون تشبیھا بالرماد الخامد (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–32

آیت نمبر 13 تا 32 ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان کانت الا صیحۃ واحدۃ فاذاھم خمدون .‘ بس وہ سزا ایک چیخ کی آواز تھی جس سے وہ اسی دم بجھ کر رہ گئے ‘ یعنی مرگئے۔ عَلٰی قَوْمِہٖ حبیب کی قوم پر۔ مِنْم بَعْدِہٖ حبیب کے شہید ہونے کے بعد۔ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمآء یعنی آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر ہم نے نہیں اتارا جیسے خندق اور بدر کے دن اتارا تھا ‘ بلکہ ایک فرشتہ کی ایک چیخ ہی ان کیلئے کافی ہوگئی۔ اس میں حبیب کی قوم کی تحقیر کا اظہار اور رسول اللہ ﷺ کی عظمت کی طرف اشارہ ہے۔ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ یعنی ہماری یہ عادت اور دستور نہیں ہے کہ کسی قوم کو ہلاک کرنے کیلئے فرشتوں کی فوجیں بھیجیں ‘ اللہ کو اس کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ بات خندق اور بدر کے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ : یعنی فرشتے نے ایک چیخ ماری جس سے ان سب کی زندگی کا شعلہ بجھ گیا۔ ان کے یک لخت ہلاک ہونے کو آگ کے بجھنے کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ ابو العلاء المعری نے کہا ہے ؂ وَ کَالنَّارِ الْحَیَاۃُ فَمِنْ رَمَادٍ أَوَاخِرُھَا وَ أَوَّلُھَا دُخَانٗ ”زندگی آگ کی طرح ہے، جس کا آخر راکھ اور ابتدا دھواں ہے۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–29

رجل سے مراد حبیب بن مری ہے وہ بڑھئی تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ اسکاف) جوتا ( بنانے والا تھا۔ ایک قول کیا گیا۔ وہ دھوبی تھا۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاد اور مقاتل نے کہا۔ وہ حبیب بن اسمائیل نجاز تھا وہ بت تراشا کرتا تھا یہ نبی کریم ﷺ پر ایمان لایا جب کہ درمیان میں چھ سو سال کا عرصہ ہے جس طرح تعہ اکبر ورقہ بن نوفل اور دوسرے لوگ ایمان لائے کوئی فرد کسی نبی پر ایمان نہیں لایا تھا ‘ مگر اس وقت جب وہ نبی ظاہر ہوچکا تھا (1) ۔ وہب نے کہا ’ حبیب کو جزام کا مرض تھا اس کا گھر شہر کے دروازوں میں سے آخری دروازے کے پاس تھا وہ ستر سال تک بتوں کی عبادت میں مصروف رہا اور دعا کرتا رہا ممکن ہے وہ بت اس پر رحم کریں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–29

1:۔ ابن جریر (رح) ابن ابی حاتم (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) وما انزلنا علی قومہ من بعدہ “ (اور ہم نے نہیں اتارا اس کی قوم پر اس کے بعد کوئی لشکر آسمان سے) یعنی میں نے ان کے خلاف آسمان اور زمین کے لشکروں سے مدد طلب نہیں کی۔ 2:۔ ابوعبید وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن سیریں (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی قرأت میں یوں ہے (آیت) ” ان کانت الا صیحۃ واحدۃ “ اور ہماری قرأت میں یوں ہے (آیت) ” ان کانت الا صیحۃ واحدۃ “ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاذا ھم خمدون “ (کہ اچانک وہ لوگ بجھ گئے یعنی مرگئے) یعنی مردے ہوگئے۔ 4:۔ الطبرانی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنْ كَانَتْ [وہ نہیں تھی ] اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً [مگر ایک (ہی) چنگھاڑ ] فَاِذَا [تو جب ہی ] هُمْ خٰمِدُوْنَ [وہ سب بجھنے والے ہوگئے ] ۔ نوٹ۔ 2: یہ آیت بھی منجملہ ان آیات کے ہے جن سے حیات برزخ کا ثبوت ملتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد سے قیامت تک کا زمانہ خالص عدم اور کامل نیستی کا زمانہ نہیں ہے، جیسا کہ بعض کم علم لوگ گمان کرتے ہیں، بلکہ اس زمانہ مین جسم کے بغیر روح زندہ رہتی ہے، کلام کرتی ہے اور کلام سنتی ہے، جذبات و احساسات بھی رکھتی ہے، خوشی اور غم محسوس کرتی ہے اور اہل دنیا کے ساتھ بھی اس کی دلچسپیاں باقی رہتی ہیں۔ (تفہیم القرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–30

(یَاحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ ) (افسوس ہے بندوں کے حال پر) بیان القرآن میں لفظ ” حسرت “ کا ترجمہ افسوس سے کیا ہے، لفظ حسرت وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں کوئی نفع مند چیز فوت ہوجائے اور اس پر ندامت اور شرمندگی ہونے لگے۔ چونکہ ذات باری تعالیٰ کے لیے اصلی معنی میں حسرت ہونا محال ہے اس لیے افسوس سے ترجمہ کیا گیا ہے، لیکن احقر کو اس میں بھی اشکال ہے کیونکہ افسوس سے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات پاک بلندو برتر ہے، صاحب روح المعانی نے اس موقع پر متعدد اقوال نقل کیے ہیں کہ حسرت کرنے والے کون ہیں اور العباد کون ہیں جن پر حسرت کی گئی، پھر ایک قول یہ لکھا گیا ہے : (وجوزان یکون التحسر منہ سبحانہ وتعالیٰ مجازًا علی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–32

بقیہ قصہ مرد صالح مشتمل برپندو نصائح برائے اصلاح قوم قال اللہ تعالیٰ وما لی لا اعبد الذی فطرنی۔۔۔ الی۔۔۔ وان کل لما جمیع لدینا محضرون۔ خلاصہء کلام یہ کہ منتہائے شہر سے ایک مرد صالح دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو نصیحت کرنے لگا کہ تم مرسلین کی پیروی کرو کیونکہ یہ لوگ خود غرضی سے بالکلیہ پاک ہیں جو مانع اتباع ہے اس لئے کہ وہ تم سے کسی قسم کا معاوضہ نہیں مانگتے لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا کے مصداق کامل ہیں اور خود حق اور راہ راست پر ہیں اور تم کو بھی حق اور راہ راست کی دعوت دے رہے ہیں جو اتباع اور پیروی کا داعی اور مقتضی ہے اور میں نے تو حق کو پہچان لیا اور دل وجان سے ان کو قبول کرلیا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–30

21:۔ یحسرۃ الخ، قصہ کے اختتام پر حسب عادت مستمرہ ارشاد فرمایا، انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کرنے والے اور توحید کا انکار کرنے والے بندوں پر افسوس ! ان کے پاس جو بھی رسول توحید کا پیغام لے کر آیا۔ ماننے کے بجائے یہ اس سے استہزا کرنے لگے۔ یہ اظہار حسرت تینوں رسولوں کی طرف سے تھا یا فرشتوں کی طرف سے۔ قال الضحاک انہا حسرۃ الملائکۃ علی الکفار حین کذبوا الرسل وقیل ان الرسل الثلاثۃ ہم الذین قالو لما قتل القوم ذلک الرجل الذی جاء من اقصی المدینۃ یسعی، و حل بالقوم العذاب یا حسرۃ علی ھؤلاء کانہم تمنوا ان یکونوا قد امنوا (قرطبی ج 15 ص 23) ۔ ما یاتیہم، ماضی استمراری کے معنوں میں ہے یعنی ان کے پاس جو بھی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 20–32

مکی سورتوں کے چار بنیادی عقائد میں سے اس رکوع میں رسالت کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ گزشتہ درس میں انطاکیہ کی بستی کا ذکر ہوا کہ اس میں اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبغلین دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آئے تو اہل بستی نے ان کی تکذیب کی ، بدسلوکی کرنے اور ایذا پہنچانے کے علاوہ ان کو طعن بھی کیا کہ تمہاری آمد کی وجہ سے ہم پر نحوست چھا گئی ہے ، ہمارے علاقے میں خشک سالی پیدا ہوگئی ہے اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ رسولوں نے جواب دیا کہ یہ نامبارکی ہماری وجہ سے نہیں ہے بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھنے والے ہو۔ جس کی سزا تمہیں مل رہی ہے۔ ایک مومن کی خیر خواہی مرسلین نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمْ خٰمِدُوْنَ۝ 29 صاح الصَّيْحَةُ : رفع الصّوت . قال تعالی: إِنْ كانَتْ إِلَّا صَيْحَةً واحِدَةً [يس/ 29] ( ص ی ح ) الصیحۃ کے معنی آواز بلندکرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنْ كانَتْ إِلَّا صَيْحَةً واحِدَةً [يس/ 29] وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی ( آتشین ۔ خمد قوله تعالی: جَعَلْناهُمْ حَصِيداً خامِدِينَ [ الأنبیاء/ 15] ، كناية عن موتهم، من قولهم : خَمَدَتِ النار خُمُودا : طفئ لهبها، وعنه استعیر : خمدت الحمّى: سکنت، وقوله تعالی: فَإِذا هُمْ خامِدُونَ [يس/ 29] . ( خ م د ) خمدن ( ن ) النار ۔ آگ کے شعلوں کا ساکن ہوجانا ( جب کہ اس کا انگارہ نہ بجھا ہو )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 28–32

وما انزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء الخ فرماتا ہے، اس شخص کے بعد ہم کو اس کی سرکش قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آسمانی لشکر کی حاجت اور ضرورت نہ پڑی اور نہ پڑنی چاہیے، صرف چیخ ان کے ہلاک کرنے کو بس ہوگئی۔ اس شہر پر آفت آئی، لوگ برباد ہوئے، فرماتا ہے یا حسرۃ علی العباد بندوں پر افسوس ہے، ان کے پاس جب کوئی رسول آیا تو اس کے ساتھ تمسخر سے پیش آئے اور یہ نہیں جانتے کہ دنیا میں سدا کوئی نہیں رہا ہے۔ پہلے لوگ کہاں گئے، کوئی پھر کر نہیں آتا، پس وہ سب کے سب خدا تعالیٰ کے پاس حاضر ہوجاتے ہیں اور وہاں اپنے کئے کا بدلہ پاتے ہیں۔ بعض مفسرین جیسا کہ ابن کثیر میں ہے، اس تفسیر پر معترض ہیں۔ بچندو جوہ :…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 28–29

وَمَـآ اَنْزَلْـنَا عَلٰی قَوْمِہٖ مِنْ م بَعْدِہٖ مِنْ جُنْدٍمِّنَ السَّمَآئِ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ ۔ اِنْ کَانَتْ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ھُمْ خٰمِدُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 28، 29) (اور اس کے بعد اس کی قوم پر ہم نے آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا، اور نہ ہم اتارنے ہی والے تھے۔ بس ایک ڈانٹ تھی اور یکایک وہ سب بجھ کر رہ گئے۔ ) مکذبینِ رسول کے لیے سنت الٰہی شہر کے دوردراز گوشے سے آنے والے مردمومن کی شہادت کے بعد یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو شہید کردیا گیا یا انہیں ہجرت پر مجبور کردیا گیا۔ ممکن ہے کہ وہ شہید نہ ہوئے ہوں لیکن قوم کے بپھرے ہوئے جذبات اور ظالمانہ عزائم کو دیکھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–30

فہم القرآن ربط کلام : تباہ ہونے والی اقوام کا انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ساتھ سلوک اور ان کا انجام۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ” اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن “ ہے اس لیے اپنے بندوں کو باربار موقعہ اور مہلت دیتا ہے کہ وہ بغاوت اور سرکشی سے باز آجائیں لیکن جب کوئی قوم اور لوگ تمرد اور سرکشی کی انتہا کردیتے ہیں تو پھر زمین کا نظام چلانے اور اسے متوازن رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ اس قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیتا ہے۔ جس میں ایک طرف ظالموں کو کیفرِکردار تک پہنچانا مطلوب ہوتا ہے اور دوسری طرف حق والوں اور مظلوموں کی مدد کرنا مقصود ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنی شفقت کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

29: اِنْ کَانَتْ (نہیں تھی) وہ پکڑیاسزا اِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً (پس مگر آواز) جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک چیخ ماری۔ فَاِذَا ھُمْ خَامِدُوْنََ (پس اسی لمحہ وہ بجھ کر رہ گے) مرگئے جیسا کہ آگ یکبار بجھتی ہے۔ مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ کی چیخ کو ان کے لئے کافی کردیا۔ آسمان سے ان کی ہلاکت کیلئے لشکر نہیں اتا را جیسا کہ بدر کے دن اور خندق کے روز آسمانوں سے فرشتے اتارے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

29، ان کانت الا صیحۃ واحدۃ، ابو جعفر (رح) نے اس کو، صیحۃ واحدۃ، یہاں، کون، بمعنی وقوع کے ہے۔ مفسرین نے بیان کیا کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے شہر کے دروازے کی چوکھٹ پکڑکر ایک چیخ ماری۔ ، فاذاھم خامدون، وہ سب مرگئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–32

26 تا 32۔ جس طرح کی تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم کے حوالہ سے روایتیں اوپر گزریں اسی طرح حبیب بن شبیب نے اپنی تفسیر میں عکرمہ کی سند سے روایت 2 ؎ کی ہے (2 ؎ صحیح بخاری ص 714 ج 2 تفسیر سورة الدخان ‘) کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے یہ حبیب نجار، ساتھ یہ حبیب بن بشر ترمذی اور ابن ماجہ کے راوی ہیں اور ابن معین نے ان کو ثقہ تابعیوں میں شمار کیا ہے سیرت ابن اسحاق میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسی بستی کے لوگوں نے اللہ کے ان تینوں رسولوں سے جھگڑا کیا اور ان رسولوں کے شہید کرنے کا قصد کیا تو حبیب نجار دوڑ کر آئے تاکہ جہاں تک ہو سکے اللہ کے رسولوں کی مدد کریں یہ حبیب نجار بڑے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 22–30

آیت 22 اس شخص نے کہا : (ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون) یعنی میرے لئے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کو نسی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندے کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے، وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کرسکتی ہیں نہ محروم کرسکتی ہیں، جن کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 29–31

33 تاریخ سے درس عبرت لینے کی ہدایت : سو اس سے گزشتہ تاریخ اور ہلاک شدہ قوموں کے انجام سے درس عبرت لینے کی ہدایت اور تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے تاکہ اس سے اصلاح احوال کی توفیق مل سکے۔ بہرکیف اس ارشاد سے گزشتہ دور کی منکر قوموں کے انجام سے درس لینے اور عبرت حاصل کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ یعنی ان لوگوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیئے کہ اس انجام سے یہ بھی دو چار ہوسکتے ہیں جو ان لوگوں کو پیش آ کر رہا۔ سو یہاں سے معلوم ہوا کہ مرنے کے بعد کوئی اس جہاں میں واپس نہیں آسکتا۔ اس سے شیعوں کا عقیدئہ رجعیت اور اسی طرح کے دیگر اہل باطل کے ایسے من گھڑت عقائد کا بطلان ثابت ہوتا ہے۔ پس دنیاوی زندگی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–32

قوم موسیٰ سے ایک مومن کا تذکرہ اور رسولوں کی تکذیب کرنیوالوں پر افسوس تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا برگز یدہ بندہ تھا سیدھا جنت میں گیا۔ اب یہاں سے ایک نکتہ نکلتا ہے۔ کیونکہ مسلمان کو تو عالم برزخ کے بعد جنت میں جانا ہوگا۔ یہاں شہید کی فضیلت ظاہر کی گئی ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے۔ ” قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا “۔ یوں ثابت ہوگیا کہ عالم برزخ تو ضروری ہے۔ اسی لئے تو مسلمان باقی دعاؤں کے ساتھ قبر کے عذاب سے بھی پناہ مانگتا ہے۔ اصل میں اس قبر کے قیام کی بھی اتنی حالتیں ہوتی ہیں۔ نیک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–32

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 32: اسرار و معارف : اس کی بات کیا مانتے الٹا اسے بھی کہنے لگے کہ تم بھی یہ نیا دین کیوں اپنا رہے ہو بھلا باپ دادا کا مذہب خراب تھا کیا یا وہ سب گمراہ تھے تو اس نے کہا کہ میرے پاس تو ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ میں اس ذات کریم کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے قائم رکھا ہے نیز اس کے یہی احسانات تم سب پر بھی ہیں اور پھر بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی سب کو پلٹ کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور اپنے کردار و عمل کا حساب دینا ہے پھر کتنی احمقانہ بات ہے کہ میں اس اتنے بڑے مہربان کو چھوڑ کر کسی بھی دوسرے کو معبود بنا لوں کہ اگر وہ ناراض ہو کر مجھے سزا دے تو یہ بت یا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 تفاسیر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل ( علیہ السلام) کو بھیجا، انہوں نے شہر کے دروازے پر کھڑے ہو کر ایک آواز بلند کی جس سے شہر میں ایک شخص بھی زندہ نہ رہا اور سب کے سب مرگئے۔ ( شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:29) ان کانت۔ ان نافیہ ہے۔ کانت کی ضمیر واحد مؤنث غائب جو اسم کان ہے مضمر ہے۔ ای ان کانت الاخذۃ الا صیحۃ واحدۃ۔ کانت فعل ناقص الاخذۃ اسم کانت۔ صیحۃ خبر۔ نہ تھی وہ آپکڑنے والی (یعنی مصیبت، عقوبت) مگر ایک گرج ۔ یعنی بس وہ تو ایک گرج یا چیخ تھی۔ الصیحۃ کے معنی آواز بلند کرنا کے ہیں۔ گرج ۔ چیخ۔ چنگھاڑ کے معنی میں مستعمل ہے صور پھونکنے کی آواز کو بھی صیحۃ کہتے ہیں۔ فاذا میںسببیہ ہے اور اذا مفاجاتیہ ہے۔ خامدون۔ اسم فاعل جمع مذکر خمود مصدر (باب نصر) بجھنے والے۔ خمدت النار۔ آگ کے شعلوں کا ساکن ہوجانا۔ (جبکہ اس کا انگارہ نہ بجھا ہو ) کنایۃ خمود بمعنی موت بھی استعمال ہوتا ہے۔ فاذاہم خمدون پس (اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–32

لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے) تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–32

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔ ( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–31

[12] یعنی اس شخص کے مرنے کے بعد اس کی قوم کفر اور رسولوں کے جھٹلانے کے جرم میں ہلاک کردی گئی اور ان کی ہلاکت کے لئے اللہ کو کوئی مزید اہتمام نہیں کرنا پڑا کہ آسمان سے فرشتوں کی فوج بھیجی جاتی۔ بس ایک چنگھاڑ نے ان کا کام تمام کردیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 3: اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسلمان قدروقیمت کے لحاظ سے ساری کائنات پر خالق ہے ۔ اس لئے اس کو تکلیف دینا گویا اللہ کی غیرت کو چیلنج دیتا ہے ۔ چناچہ جب ان محرومان ازل نے اس مرد جانباز کو شہید کردیا ۔ تو اللہ کا غضب بھڑکا اور ایک سخت تنیز آواز نے ان کی شمع حیات کوفی الفور بجھا کر رکھ دیا اور خرمن زندگی کو یکسر خاکستر کردیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(29) ان کی سزا تو صرف ایک ہولناک آواز تھی سو وہ یکایک بجھی ہوئی آگ کی طرح ہو کر رہ گئے۔ یعنی حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے یا کسی اور فرشتے نے ایک چیخ ماری اور ایک ہی چیخ میں اس طرح بجھ کر رہ گئے جس طرح آگ جلتی ہوئی بجھ کر رہ جاتی ہے آگے بندوں کے طرز عمل پر افسوس کا اظہار ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایک گرجدار چیخ سنائی دی گئی اور ایک جھٹکے میں ان کو بجھے ہوئے کوئلے بنا دیا گیا : 29۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی شان جلال نے اپنا کام اس تیزی کے ساتھ کیا کہ ایک طرف ان کے مظالم کی داستان سنائی دی جو انہوں نے اللہ کے اس بندے پر ڈھائے اور دوسری طرف ان کا کام تمام کردیا گیا اور کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا اور چشم زدن میں وہ بجھے ہوئے کوئلوں کی طرح اپنے ہی احاطوں میں پڑے ہوئے نظر آئے مطلب یہ ہے کہ ان کے کئے کے انجام میں ان کو اچانک خاک کا ڈھیر بناکر رکھ دیا گیا اور سنت اللہ کے مطابق وہ نیست ونابود ہوگئے یہاں تک کہ ان کا نام ونشان تک باقی نہ رہا اس طرح تین نبیوں کی دعوت کے نتیجہ میں جو ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–32

In verses 28 and 29, it was said: وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ قَوْمِهِ مِن بَعْدِهِ مِن جُندٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا هُمْ خَامِدُونَ " (And We did not send down to his people any army from the heavens after him, nor were We (in need ) to send down. It was no more than a single Cry, and in no time they were extinguished.) Mentioned here is the Divine punishment that descended upon the people who had rejected the messengers and had beaten up Habib Najjar until he died a martyr. And regarding the sending of punishment, it was said that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–30

24 These words contain a subtle satire. In their arrogance and pride of power and their strong antagonism towards the true faith, they thought they would annihilate the three Prophets and their followers, but, contrary to their plot, they were themselves annihilated by only one stroke of the Divine punishment.

Read the full tafseer →