Explained with ayahs 26–29
ظالموں کیلئے عذاب الٰہی۔
حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ان کفار نے اس مومن کامل کو بری طرح مارا پیٹا اسے گرا کر اس کے پیٹ پر چڑھ بیٹھے اور پیروں سے اسے روندنے لگے یہاں تک کہ اس کی آنتیں اس کے پیچھے کے راستے سے باہر نکل آئیں، اسی وقت اللہ کی طرف سے اسے جنت کی خوشخبری سنائی گئی، اسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے رنج و غم سے آزاد کردیا اور امن چین کے ساتھ جنت میں پہنچا دیا ان کی شہادت سے اللہ خوش ہوا جنت ان کیلئے کھول دی گئی اور داخلہ کی اجازت مل گئی، اپنے ثواب و اجر کو، عزت و اکرام کو دیکھ کر پھر اس کی زبان سے نکل گیا کاش کہ میری قوم یہ جان لیتی کہ مجھے میرے رب نے بخش دیا اور میرا بڑا ہی اکرام کیا۔ فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
سورة یٰسٓ 23
یہ اس مرد مومن کے کمال اخلاق کا ایک نمونہ ہے۔ جن لوگوں نے اسے ابھی ابھی قتل کیا تھا ان کے خلاف کوئی غصہ اور جذبۂ انتقام اس کے دل میں نہ تھا کہ وہ اللہ سے ان کے حق میں بد دعا کرتا اس کے بجائے وہ اب بھی ان کی خیر خواہی کیے جا رہا تھا۔ مرنے کے بعد اس کے دل میں اگر کوئی تمنا پیدا ہوئی تو وہ بس یہ تھی کہ کاش میری قوم میرے اس انجام نیک سے باخبر ہوجائے اور میری زندگی سے نہیں تو میری موت ہی سے سبق لے کر راہ راست اختیار کرلے۔ وہ شریف انسان اپنے قاتلوں کے لیے بھی جہنم نہ چاہتا تھا بلکہ یہ چاہتا تھا کہ وہ ایمان لا کر جنت کے مستحق بنیں۔ اسی کی تعریف کرتے ہوئے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ نصح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
وما انزلنا علیٰ قومہ من بعدہ من جند من السماء وما کنا منزلین، ان کانت الا صیحة واحدة فاذا ھم خامدون، یہ اس قوم پر آسمانی عذاب کا ذکر ہے جس نے رسولوں کی تکذیب کی اور حبیب نجار کو مار مار کر شہید کردیا تھا۔ اور عذاب کی تمہید میں یہ فرمایا کہ اس قوم کو عذاب میں پکڑنے کے لئے ہمیں آسمان سے کوئی فرشتوں کا لشکر بھیجنا نہیں پڑا اور نہ ایسا لشکر بھیجنا ہمارا دستور ہے۔ کیونکہ اللہ کا تو ایک ہی فرشتہ بڑی بڑی قوی بہادر قوموں کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہے، اس کو فرشتوں کا لشکر بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔ پھر ان پر آنے والے عذاب کو بیان فرمایا کہ بس اتنا ہوا کہ فرشتے نے ایک زور کی آواز لگائی جس سے یہ سب کے سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
آیت 28۔ 29
’ من بعدہ ‘۔ میں مذکورہ بالا دو باتوں کا امکان ہے۔ ان کی موت کے بعد یا ان کی ہجرت کے بعد۔ یہ اس سنت الٰہی کا حوالہ ہے جس سے مکذبین کو لازماً سابقہ پیش آتا ہے جب کہ رسول اور اس کے ساتھ قوم کو چھوڑ کر ہجرت کر جات ہیں۔ فرمایا کہ اس کے بعد ہمیں اس کی قوم کو پامال کرنے کے لئے آسمان سے کوئی فوج نہیں اتارنی پڑی بلکہ ہماری ایک ہی ڈانٹ میں وہ پامال ہو کے رہ گئے۔ لفظ سیحۃ عذاب کی تعبیر ہے۔ ’ وما کن منزلین ‘ سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ان کے لئے آسمان سے کوئی فوج نہ اتارنے کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کے کاموں کے لئے ہم اپنی فوجیں نہیں اتارا کرتے، بس ہماری ایک ڈانٹ ہی کافی ہوجاتی ہے۔
یہ حقیقت…
Read the full tafseer →28۔ 1 یعنی حبیب نجار کے قتل کے بعد ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا۔ یہ اس قوم کی حقیر شان کی طرف اشارہ ہے۔
28۔ 2 یعنی جس قوم کی ہلاکت کسی دوسرے طریقے سے لکھی جاتی ہے وہاں ہم فرشتے نازل بھی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
11: یعنی اس ظالم اور نافرمان قوم کو ہلاک کرنے کے لیے ہمیں فرشتوں کا کوئی لشکر آسمان سے اتارنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بس ایک ہی فرشتے نے ایک زور دار آواز نکالی تو اسی سے ان کے کلیجے پھٹ گئے، اور پوری قوم ہلاک ہو کر ایسی ہوگئی جیسے آگ بجھ کر راکھ کا ڈھیر بن جائے۔ والعیاذ باللہ العلی العظیم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
وما انزلنا علی۔۔۔۔۔ فاذا ھم خمدون (28 – 29) ان سرکشوں کا کیا انجام ہوا ، یہاں اللہ تعالیٰ ان کو حقیر سمجھتے ہوئے قلم زد فرما دیتا ہے۔ ان حقیر لوگوں کے خلاف کسی لشکر کشی کی ضرورت نہ تھی۔ بس اچانک ایک دھماکہ ہوا ، ایک سخت چیخ اٹھی اور وہ بجھ کر رہ گئے۔ یہاں اب ان لوگوں کے اس حسرتناک ، ذلت آمیز اور توہین آمیز انجام پر پردہ گرتا ہے۔ اور یہ منظر یہاں لپیٹ لیا جاتا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
7 یعنی اس کے بعد اس کی قوم کفر و ظلم اور تکذیب مرسلین کی پاداش میں ہلاک کی گئی اور اس اہلاک کے لیے کوئی مزید اہتمام کرنا نہیں پڑا کہ آسمان سے فرشتوں کی فوج بھیجی جاتی، نہ حق تعالیٰ کی یہ عادت ہے کہ قوموں کی ہلاکت کے لیے بڑی بڑی فوجیں بھیجا کریں (یوں کسی خاص موقع پر کسی خاص مصلحت کی وجہ سے فرشتوں کا لشکر بھیج دیں وہ دوسری بات ہے) وہاں تو بڑے بڑے مدعیوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایک ڈانٹ کافی ہے۔ چناچہ اس قوم کا حال بھی یہ ہی ہوا کہ فرشتوں نے ایک چیخ ماری اور سب کے سب اسی دم بجھ کر رہ گئے۔
Read the full tafseer →آیت 28 { وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی قَوْمِہٖ مِنْم بَعْدِہٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ } ”اور اس کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نازل نہیں کیا تھا اور نہ ہی ہم لشکر نازل کرنے والے تھے۔“
اپنے منکروں اور نافرمانوں کو سزا دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کو آسمانوں سے کوئی فوج اتارنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
29 قوم اس کی اس قدر دشمن بن گئی تھی کہ اسے جان سے ہی مار ڈالا۔ مگر اس کا اخلاق اس قدر بلند تھا کہ اپنے جانی دشمنوں کے لئے بددعا کے بجائے ان کے حق میں خیر خواہی کی بات ہی اس کے ذہن میں آئی۔ اگر اسے کچھ تمنا تھی تو صرف یہ کہ کاش میری قوم کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ نے مجھ پر کس قدر انعام و کرام کئے ہیں۔ تو شاید وہ بھی ایمان لے آئیں۔ اس قصہ کو بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے دراصل کفار مکہ کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ جس طرح وہ مرد صالح اپنی قوم کا سچا ہمدرد اور خیر خواہ تھا، اسی طرح محمد بھی تمہارے سچے خیر خواہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
18۔ وہ قوم انکار وتکذیب کی منزلیں طے کرچکنے کے بعد بالآخر ہلاک کردی گئی ہے۔ یہ بیان اس وقت کا ہے۔ (آیت) ” وما کنا منزلین “۔ خدائے قادر وغنی کو فرشتوں کا لشکر کا لشکر اتارنے کی احتیاج نہیں۔ بڑی سے بڑی آبادیوں کی ہلاکت کے لئے ایک ادنی سا اشارہ کافی ہے۔ مثلا یہیں، ایک زور کی آواز (بادل اور بجلی کی کڑک ہو یا کچھ اور (کافی ہوگئی، اور بعض واقعات میں جو فرشتوں کے لشکر کا اتارنا مذکور ہے، وہ کسی وقتی حکمت ومصلحت کی بناء پر تھا۔ یہاں نفی صرف احتیاج کی ہورہی ہے۔ (آیت) ” خمدون “۔ یعنی مرکھپ کر ایسے نیست ونابود ہوگئے جیسے خاکستر جلنے بجھنے کے بعد۔ اے میتون ھامدون تشبیھا بالرماد الخامد (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
آیت نمبر 13 تا 32
ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…
Read the full tafseer →وما انزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السمآء وما کنا منزلین۔ ہم نے اس کی قوم پر کوئی لشکر (فرشتوں کا) آسمان سے نہیں اتارا اور ہم کو اتارنے کی ضرورت ہی نہ تھی
Read the full tafseer →اور جب ہم نے اس بستی والوں کو ہلاک کیا تو ہم نے اس شخص کی قوم پر ان کی شہادت کے بعد آسمان سے ان کی ہلاکت کے لیے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہمیں اتارنے کی ضرورت تھی یا یہ کہ ان کی شہادت کے بعد پھر ہم نے ان کے پاس اور کوئی رسول نہیں بھیجا۔
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰي قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ : اس قوم کے بالکل حقیر اور بےوقعت ہونے کے اظہار کے لیے فرمایا کہ ہم نے اس کے بعد اس کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہی جب ہم کسی قوم کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں تو فرشتوں کی فوج بھیجتے ہیں، کیونکہ اس کام کے لیے اس کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے ایک فرشتے کی ایک چیخ ہی کافی ہوتی ہے۔ ہاں، اپنے مومن بندوں کی مدد کے لیے ہم ہزاروں فرشتے نازل کردیتے ہیں جو ان کے دل کو مضبوط رکھتے ہیں، اور اس وقت کفار کو عذاب آسمان کے فرشتوں کے ذریعے سے نہیں بلکہ ایمان والوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
رجل سے مراد حبیب بن مری ہے وہ بڑھئی تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ اسکاف) جوتا ( بنانے والا تھا۔ ایک قول کیا گیا۔ وہ دھوبی تھا۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاد اور مقاتل نے کہا۔ وہ حبیب بن اسمائیل نجاز تھا وہ بت تراشا کرتا تھا یہ نبی کریم ﷺ پر ایمان لایا جب کہ درمیان میں چھ سو سال کا عرصہ ہے جس طرح تعہ اکبر ورقہ بن نوفل اور دوسرے لوگ ایمان لائے کوئی فرد کسی نبی پر ایمان نہیں لایا تھا ‘ مگر اس وقت جب وہ نبی ظاہر ہوچکا تھا (1) ۔
وہب نے کہا ’ حبیب کو جزام کا مرض تھا اس کا گھر شہر کے دروازوں میں سے آخری دروازے کے پاس تھا وہ ستر سال تک بتوں کی عبادت میں مصروف رہا اور دعا کرتا رہا ممکن ہے وہ بت اس پر رحم کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
1:۔ ابن جریر (رح) ابن ابی حاتم (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) وما انزلنا علی قومہ من بعدہ “ (اور ہم نے نہیں اتارا اس کی قوم پر اس کے بعد کوئی لشکر آسمان سے) یعنی میں نے ان کے خلاف آسمان اور زمین کے لشکروں سے مدد طلب نہیں کی۔
2:۔ ابوعبید وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن سیریں (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی قرأت میں یوں ہے (آیت) ” ان کانت الا صیحۃ واحدۃ “ اور ہماری قرأت میں یوں ہے (آیت) ” ان کانت الا صیحۃ واحدۃ “
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاذا ھم خمدون “ (کہ اچانک وہ لوگ بجھ گئے یعنی مرگئے) یعنی مردے ہوگئے۔
4:۔ الطبرانی…
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْزَلْنَا [اور ہم نے نہیں اتارا ] عَلٰي قَوْمِهٖ [اس کی قوم پر ] مِنْۢ بَعْدِهٖ [اس کے بعد ] مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ [کوئی بھی لشکر آسمان سے ] وَمَا كُنَّا مُنْزِلِيْنَ [اور نہ ہم اتارنے والے تھے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
اور (وَمَا کُنَّا مُنزِلِیْنَ ) کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بستی کے ہلاک کرنے کے لیے ہم فرشتوں کو اتارنے والے نہیں تھے کیونکہ ہمیشہ تعذیب اور ہلاکت کے لیے فرشتے نہیں آتے، اللہ تعالیٰ کبھی فرشتوں کو اتار دیتے ہیں جیسا کہ غزوۂ بدر میں فرشتے نازل کیے گئے اور کبھی نہیں اتارتے، مختلف طریقوں سے ہلاک کیا گیا۔
(قال صاحب روح (ج 33: ص 2) والظاھر انّ المراد بھذا الجند جند الملئکۃ ای ما انزلنا لاھلاکھم ملآء کَۃً مِّنَ السَّمَآءٍ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ وما صح فی حکمتنا ان ننزّل الجند لاھلاکھم لما انا قدرنا لکل شیءٍ سبباً حیث اھلکنا بعض من اھلکنا من الامم بالحاصب وبعضھم بالصیحۃ وبعضھم بالخسف بعضھم بالاغراق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
بقیہ قصہ مرد صالح مشتمل برپندو نصائح برائے اصلاح قوم
قال اللہ تعالیٰ وما لی لا اعبد الذی فطرنی۔۔۔ الی۔۔۔ وان کل لما جمیع لدینا محضرون۔
خلاصہء کلام یہ کہ منتہائے شہر سے ایک مرد صالح دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو نصیحت کرنے لگا کہ تم مرسلین کی پیروی کرو کیونکہ یہ لوگ خود غرضی سے بالکلیہ پاک ہیں جو مانع اتباع ہے اس لئے کہ وہ تم سے کسی قسم کا معاوضہ نہیں مانگتے لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا کے مصداق کامل ہیں اور خود حق اور راہ راست پر ہیں اور تم کو بھی حق اور راہ راست کی دعوت دے رہے ہیں جو اتباع اور پیروی کا داعی اور مقتضی ہے اور میں نے تو حق کو پہچان لیا اور دل وجان سے ان کو قبول کرلیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
20:۔ وما انزلنا الخ، یہ حبیب نجار کی قوم کے انجام بد کا بیان ہے کہ ہم نے اس کی شہادت کے بعد اس کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہمیں اس کی ضرورت ہی تھی کیونکہ ان کو ہلاک کرنا ہمارے لیے کوئی مشکل نکام نہ تھا ان کانت الا صیحۃ واحدۃ الخ، ان پر ہم نے جو عذاب نازل کیا وہ تو بس ایک خوفناک چیخ تھی جس سے ساری کی ساری قوم یکبارگی ہلاک ہو کر رہ گئی روی ان اللہ تعالیی بعث علیہم جبریل (علیہ السلام) حتی اخذ بعضا واتی، باب المدینۃ فصاح بہم صیحۃ واحدۃ فماتوا جمیعا (روح ج 23 ص 2) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–32
مکی سورتوں کے چار بنیادی عقائد میں سے اس رکوع میں رسالت کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ گزشتہ درس میں انطاکیہ کی بستی کا ذکر ہوا کہ اس میں اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبغلین دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آئے تو اہل بستی نے ان کی تکذیب کی ، بدسلوکی کرنے اور ایذا پہنچانے کے علاوہ ان کو طعن بھی کیا کہ تمہاری آمد کی وجہ سے ہم پر نحوست چھا گئی ہے ، ہمارے علاقے میں خشک سالی پیدا ہوگئی ہے اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ رسولوں نے جواب دیا کہ یہ نامبارکی ہماری وجہ سے نہیں ہے بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھنے والے ہو۔ جس کی سزا تمہیں مل رہی ہے۔
ایک مومن کی خیر خواہی
مرسلین نے…
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰي قَوْمِہٖ مِنْۢ بَعْدِہٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَمَا كُنَّا مُنْزِلِيْنَ 28
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
وما انزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء الخ فرماتا ہے، اس شخص کے بعد ہم کو اس کی سرکش قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آسمانی لشکر کی حاجت اور ضرورت نہ پڑی اور نہ پڑنی چاہیے، صرف چیخ ان کے ہلاک کرنے کو بس ہوگئی۔ اس شہر پر آفت آئی، لوگ برباد ہوئے، فرماتا ہے یا حسرۃ علی العباد بندوں پر افسوس ہے، ان کے پاس جب کوئی رسول آیا تو اس کے ساتھ تمسخر سے پیش آئے اور یہ نہیں جانتے کہ دنیا میں سدا کوئی نہیں رہا ہے۔ پہلے لوگ کہاں گئے، کوئی پھر کر نہیں آتا، پس وہ سب کے سب خدا تعالیٰ کے پاس حاضر ہوجاتے ہیں اور وہاں اپنے کئے کا بدلہ پاتے ہیں۔
بعض مفسرین جیسا کہ ابن کثیر میں ہے، اس تفسیر پر معترض ہیں۔ بچندو جوہ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
وَمَـآ اَنْزَلْـنَا عَلٰی قَوْمِہٖ مِنْ م بَعْدِہٖ مِنْ جُنْدٍمِّنَ السَّمَآئِ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ ۔ اِنْ کَانَتْ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ھُمْ خٰمِدُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 28، 29)
(اور اس کے بعد اس کی قوم پر ہم نے آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا، اور نہ ہم اتارنے ہی والے تھے۔ بس ایک ڈانٹ تھی اور یکایک وہ سب بجھ کر رہ گئے۔ )
مکذبینِ رسول کے لیے سنت الٰہی
شہر کے دوردراز گوشے سے آنے والے مردمومن کی شہادت کے بعد یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو شہید کردیا گیا یا انہیں ہجرت پر مجبور کردیا گیا۔ ممکن ہے کہ وہ شہید نہ ہوئے ہوں لیکن قوم کے بپھرے ہوئے جذبات اور ظالمانہ عزائم کو دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
فہم القرآن
ربط کلام : عظیم مبلّغ کے عظیم اور بہترین انجام کے مقابلے میں قوم کا بد ترین انجام۔
اللہ تعالیٰ نے اس شہر کے رہنے والوں کو ایک چٹخار کے ذریعے اس طرح نیست و نابود کیا کہ دیکھنے والے کو اس کا نشان بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ جونہی شہر والوں نے اس عظیم مبلّغ کو قتل کیا رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ ہم نے اس کی موت کے بعد اس شہر کو تباہی کے گھاٹ اتار دیا۔ اسے تباہ کرنے کے لیے ہم نے کوئی لشکر جرار نہیں بھیجا تھا کیونکہ ہمارا فیصلہ یہ تھا کہ انہیں تباہ کرنے کے لیے ملائکہ بھیجنے یا ان پر لشکر اتارنے کی ضرورت نہیں۔ انہیں تباہ کرنے کے لیے ایک خوفناک چیخ ہی کافی ہے۔ لہٰذا انہیں ایک دھماکہ خیز…
Read the full tafseer →قوم نجار کی ہلاکت :
28: وَمَآ اَنْزَلْنَاعَلٰی قَوْمِہٖ مِنْ 0 بَعْدِہٖ (اور ہم نے نہیں اتارا اس کی قوم پر اس کے بعد) ماؔ نافیہ ہے قوم سے حبیب نجار کی قوم مراد ہے۔ بعدہؔ سے مراد اس کے قتل یا رفع کے بعد۔ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآئِ (آسمان سے کوئی لشکر) ان کو سزا دینے کیلئے وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ (اور نہ ہم اتارنے والے تھے) نہ ہی ہماری حکمت کے لحاظ سے یہ درست تھا کہ حبیب نجار کی قوم کو ہلاک کرنے کیلئے آسمان سے لشکر اتاریں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کی ہلاکت کا سلسلہ بعض وجوہ کی بناء پر مقتضائے حکمت جاری کر رکھا ہے۔ اور دوسری بعض کی بناء پر نہیں۔
Read the full tafseer →تفسیر 28۔ ، وما انزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء ، یہاں جند سے مراد فرشتے ہیں ۔ ، وماکنا منزلین، کہ ہم تمہاری ہلاکت کے لیے اس طرح نہ کرتے کہ فرشتے بھیجیں ۔ ہاں احد میں جو ہم نے بھیجے تھے وہ ان کے گمان کے مطابق آسان اور ان کی عظمت کے لیے تھا۔ ، وما انزلنا علی قومہ من بعدہ ، حبیب نجارکو قتل کرنے کے بعد جو فرشتوں کی فوج بھیجی ۔ اس طرح پہلے قوم پر نہیں بھیجی یعنی جو عذاب ماقبل امتوں پر فرشتوں کے ذریعے کیے گئے جیسے طوفان، کڑک آندھی نازل کی ۔ پھر ان کی سزاکوبیان کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
26 تا 32۔ جس طرح کی تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم کے حوالہ سے روایتیں اوپر گزریں اسی طرح حبیب بن شبیب نے اپنی تفسیر میں عکرمہ کی سند سے روایت 2 ؎ کی ہے (2 ؎ صحیح بخاری ص 714 ج 2 تفسیر سورة الدخان ‘) کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے یہ حبیب نجار، ساتھ یہ حبیب بن بشر ترمذی اور ابن ماجہ کے راوی ہیں اور ابن معین نے ان کو ثقہ تابعیوں میں شمار کیا ہے سیرت ابن اسحاق میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسی بستی کے لوگوں نے اللہ کے ان تینوں رسولوں سے جھگڑا کیا اور ان رسولوں کے شہید کرنے کا قصد کیا تو حبیب نجار دوڑ کر آئے تاکہ جہاں تک ہو سکے اللہ کے رسولوں کی مدد کریں یہ حبیب نجار بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
آیت 22
اس شخص نے کہا : (ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون) یعنی میرے لئے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کو نسی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندے کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے، وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کرسکتی ہیں نہ محروم کرسکتی ہیں، جن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
31 تکذیب و انکارِ حق کا نتیجہ و انجام ہولناک تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حق اور اہل حق کی تکذیب اور انکار کرنے والوں کیلئے عذاب الہی کا دستور ایک قطعی اور طے شدہ امر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی اس ناہنجار قوم کو اس کے کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ہمیں کسی خاص اہتمام اور تیاری کی ضرورت نہ تھی کہ ان کے لئے آسمان سے فرشتوں کی کوئی جماعت نازل کرتے۔ اور نہ ہمیں ایسے کسی کام کے لئے فرشتے اتارنے کی ضرورت ہی ہوتی ہے۔ بدر میں جو فرشتے اتارے گئے تھے وہ بھی محض اہل ایمان کی تسلی وتبشیر اور اطمینان کے لئے تھے۔ ورنہ مدد تو وہاں بھی اللہ پاک ہی کی طرف سے تھی جیسا کہ اس بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
قوم موسیٰ سے ایک مومن کا تذکرہ اور رسولوں کی تکذیب کرنیوالوں پر افسوس
تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا برگز یدہ بندہ تھا سیدھا جنت میں گیا۔ اب یہاں سے ایک نکتہ نکلتا ہے۔ کیونکہ مسلمان کو تو عالم برزخ کے بعد جنت میں جانا ہوگا۔ یہاں شہید کی فضیلت ظاہر کی گئی ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے۔ ” قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا “۔ یوں ثابت ہوگیا کہ عالم برزخ تو ضروری ہے۔ اسی لئے تو مسلمان باقی دعاؤں کے ساتھ قبر کے عذاب سے بھی پناہ مانگتا ہے۔ اصل میں اس قبر کے قیام کی بھی اتنی حالتیں ہوتی ہیں۔ نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 32:
اسرار و معارف :
اس کی بات کیا مانتے الٹا اسے بھی کہنے لگے کہ تم بھی یہ نیا دین کیوں اپنا رہے ہو بھلا باپ دادا کا مذہب خراب تھا کیا یا وہ سب گمراہ تھے تو اس نے کہا کہ میرے پاس تو ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ میں اس ذات کریم کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے قائم رکھا ہے نیز اس کے یہی احسانات تم سب پر بھی ہیں اور پھر بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی سب کو پلٹ کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور اپنے کردار و عمل کا حساب دینا ہے پھر کتنی احمقانہ بات ہے کہ میں اس اتنے بڑے مہربان کو چھوڑ کر کسی بھی دوسرے کو معبود بنا لوں کہ اگر وہ ناراض ہو کر مجھے سزا دے تو یہ بت یا…
Read the full tafseer →ف 9 چناچہ ان کے کفر و ظلم اور تکذیب انبیاء ( علیہ السلام) کی پاداش میں جب ہم نے انہیں ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ اہتمام نہیں کیا اور نہ اس اہتمام کی ضرورت تھی کہ آسمان سے فرشتوں کی فوج اتارتے جو انہیں ہلاک کرتی۔ جنگ بدر میں فرشتوں کی فوج کا نزول صرف آنحضرت ﷺ کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے تھا ورنہ کفار قریش کو ہلاک کرنے کیلئے تو فرشتے کے ایک بازو کی حرکت ہی کافی تھی اور پیغمبر ﷺ جن کا ذکر ہورہا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے مرتبہ کے نہ تھے کہ ان کی تعظیم کیلئے فرشتوں کی فوج اتارنے کی ضرورت پیش آتی۔ ( کبیر، شوکانی) ۔
Read the full tafseer →(36:28) وما انزلنا میں ما نافیہ ہے۔ اور ہم نے نہیں اتارا۔ علی قومہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع مرد مومن (حبیب نجار) ہے۔ من بعدہ۔ میں بھی ہ ضمیر کا مرجع حبیب نجار ہی ہے۔ اس کے بعد یعنی اس کے شہید کئے جانے کے بعد۔
وما کنا منزلین۔ اور نہ ہم اتارنے والے تھے ہی ۔ یعنی نہ ہم کو اتارنے کی ضرورت ہی تھی۔ منزلین اسم فاعل ۔ جمع مذکر منصوب (بوجہ خبر کنا) اتارنے والے۔ اس جملہ کی تفسیر میں علامہ ثنا اللہ پانی پتی (رح) صاحب تفسیر مظہری فرماتے ہیں !
وما کنا منزلین۔ یعنی ہماری یہ عادت ہی نہیں اور دستور ہی نہیں ہے کہ کسی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے فرشتوں کی فوجیں بھیجیں اللہ کو اس کی ضرورت ہی نہیں رہی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے)
تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔
( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
[11] قوم نے اسے مار ڈالا لیکن بہشت میں پہنچ کر بھی اسے اپنی قوم کی خیرخواہی کا خیال رہا اور حسرت کے لہجے میں بولا کہ کاش میرا حال اور جو انعام و اکرام اللہ نے مجھ پر کیا ہے میری قوم کے لوگوں کو معلوم ہوگیا ہوتا اور وہ سب بھی ایمان لے آئے ہوتے۔ اس واقعے کو بیاں کرنے سے مقصود کفار مکہ کو یہ بتلانا ہے کہ جس طرح وہ مرد مومن اپنی قوم کا خیر خواہ تھا اسی طرح محمد ﷺ اور ان کے ساتھی اہل ایمان بھی تمہارے سچے خیر خواہ ہیں اور ان کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ تم راہ راست پر آجاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 2: اس مرد مومن نے قوم کی مخالفت کی اور سختی کے ساتھ ان مقصدات پر تنقید کی ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ قوم میں عداوت کے جذبات بھڑک اٹھے اور وہ اس کی جان کے لاگو ہوگئے اور اس کو شہید کرکے انپے زعم میں انہوں نے اس کو حیات عارضی کی نعمتوں سے محروم کردیا ۔ مگر وہاں فرشتوں نے اس کا خیر مقدم کیا ۔ اور کہا ۔ کہ آؤ جنت میں تمہارا مقام ہے ۔ اور ایمان کی یہ گراں قیمت ادا کرنے پر تمہارے لئے یہ دائمی ، مقامات ہیں ۔ اس وقت اس کے دل میں اپنی بدبخت قوم کی شقاوت کے متعلق خیال آیا ۔ اس نے کہا اے کاش ان لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے کن مکرمات کا انتظام کررکھا ہے ۔
حل لغات : ینقدؤن ۔ انقاذ سے ہے جس کے…
Read the full tafseer →(28) اور اس شہید کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں بھیجا اور نہ ہم کو لشکر بھیجنا ہی تھا۔ یعنی اس کی قوم کو تباہ کرنے کی غرض سے کسی لشکر کے بھیجنے کی ضرورت نہ تھی اور ہماری حکمت کا مقتضی یہ نہ تھا کہ ہم کسی لشکر کو بھیجتے یعنی ان کی ہلاکت کوئی ایسا دشوار امر نہ تھا کہ جس کے لئے کوئی جماعت فرشتوں کی مقرر کی جاتی، بلکہ ان کی ہلاکت کا کام بہت آسان تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–34
ف 5۔ اصل مطلب یہی ہے کہ تم کو کون سا عذر ہے۔
Read the full tafseer →ازیں بعد ہم کو آسمان سے کوئی لشکر اتارنے کی ضرورت نہیں پڑی :
28۔ اس اللہ کے بندے کو جس کے دل میں قوم کا درد سما چکا تھا انہوں نے ٹھکانے لگا دیا ‘ صحیح ہے لیکن کیا وہ ابھی تک زندہ چلے آرہے ہیں ؟ انجام کار ان کو بھی مرنا تھا اور وہ بھی مرے اور ہمیں ان کو مارنے کے لئے کوئی مخصوص لشکر آسمان سے اتارنے کی ضرورت نہیں پڑی ۔ زیر نظر آیت اور اس کے بعد آنے والی آیت میں اس اللہ کے بندے کی شہادت کے بعد قوم کو غرق کرنے کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان تین نبیوں کا ذکر جو ان آیات سے پہلے کیا گیا تھا اور دراصل لوگ جن کو قتل کرنے کے درپے تھے اور اس آنے والے نے ان کی حمایت میں بات کرنا شروع کی تھی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
In verses 28 and 29, it was said: وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ قَوْمِهِ مِن بَعْدِهِ مِن جُندٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا هُمْ خَامِدُونَ " (And We did not send down to his people any army from the heavens after him, nor were We (in need ) to send down. It was no more than a single Cry, and in no time they were extinguished.)
Mentioned here is the Divine punishment that descended upon the people who had rejected the messengers and had beaten up Habib Najjar until he died a martyr. And regarding the sending of punishment, it was said that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
23 This is a specimen of the high morality of the believer, He had no illwill or feeling of vengeance in his heart against the people who had just then killed him so that he should invoke Allah against them. Instead, he was still wishing them well. After death the only -wish that he cherished was: °Would that my people could know the good end that I have met, and could learn a lesson froth my death, if not from my life, and adopt the righteous way." The noble person did not wish Hell for his murderers but wished that they should believe and become worthy of Paradise. The same thing has been…
Read the full tafseer →