Explained with ayahs 26–29
ظالموں کیلئے عذاب الٰہی۔
حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ان کفار نے اس مومن کامل کو بری طرح مارا پیٹا اسے گرا کر اس کے پیٹ پر چڑھ بیٹھے اور پیروں سے اسے روندنے لگے یہاں تک کہ اس کی آنتیں اس کے پیچھے کے راستے سے باہر نکل آئیں، اسی وقت اللہ کی طرف سے اسے جنت کی خوشخبری سنائی گئی، اسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے رنج و غم سے آزاد کردیا اور امن چین کے ساتھ جنت میں پہنچا دیا ان کی شہادت سے اللہ خوش ہوا جنت ان کیلئے کھول دی گئی اور داخلہ کی اجازت مل گئی، اپنے ثواب و اجر کو، عزت و اکرام کو دیکھ کر پھر اس کی زبان سے نکل گیا کاش کہ میری قوم یہ جان لیتی کہ مجھے میرے رب نے بخش دیا اور میرا بڑا ہی اکرام کیا۔ فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
سورة یٰسٓ 23
یہ اس مرد مومن کے کمال اخلاق کا ایک نمونہ ہے۔ جن لوگوں نے اسے ابھی ابھی قتل کیا تھا ان کے خلاف کوئی غصہ اور جذبۂ انتقام اس کے دل میں نہ تھا کہ وہ اللہ سے ان کے حق میں بد دعا کرتا اس کے بجائے وہ اب بھی ان کی خیر خواہی کیے جا رہا تھا۔ مرنے کے بعد اس کے دل میں اگر کوئی تمنا پیدا ہوئی تو وہ بس یہ تھی کہ کاش میری قوم میرے اس انجام نیک سے باخبر ہوجائے اور میری زندگی سے نہیں تو میری موت ہی سے سبق لے کر راہ راست اختیار کرلے۔ وہ شریف انسان اپنے قاتلوں کے لیے بھی جہنم نہ چاہتا تھا بلکہ یہ چاہتا تھا کہ وہ ایمان لا کر جنت کے مستحق بنیں۔ اسی کی تعریف کرتے ہوئے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ نصح…
Read the full tafseer →یلیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی و جعلنی من المکرمین۔
یہ بزرگ چونکہ بڑی بہادری کے ساتھ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے، حق تعالیٰ نے ان کے ساتھ خاص اکرام و اعزاز کا معاملہ فرمایا اور جنت میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ اس نے انعام و اکرام اور جنت کی نعمتوں کا مشاہدہ کیا، تو پھر اپنی قوم یاد آئی، اور تمنا کی کہ کاش میری قوم کو میرا حال معلوم ہوجاتا کہ رسولوں پر ایمان لانے کی جزاء میں مجھے اعزازو اکرام اور دائمی نعمتیں کیسے ملیں، تو شاید ان کو بھی ایمان کی توفیق ہوجاتی۔ اس تمنا کا اظہار مذکورہ آیت میں فرمایا گیا ہے۔
پیغمبرانہ دعوت و اصلاح کا طریقہ مبلغین اسلام کے لئے اہم ہدایت
اس بستی کی طرف جو تین رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
قیل ادخل جسۃ قل یلیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی اجع لمنی من السکرمین (26۔۔۔)
مذکورہ اعلان کے بعد ظاہر ہے کہ ان کی پوری قوم ان کی دشمن بن کر ان کے خلاف سازشوں میں لگ گئی ہوگی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو سازشوں کے شر سے محفوظ رکھا اور احمایتِ حق کی راہ میں انہوں نے یہ بازی جو کھیلی اس کے صلہ میں ان کو جنت کی بشارت دی گئی جس پر انہوں نے اس تمنا کا اظہار فرمایا کہ کاش میری قوم بھی اس بات کی قدروقیمت جانتی جس کے صلہ میں مجھے یہ مغفرت اور سرفرازی حاصل ہوئی۔
یہاں اس بات کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ بشارت ان کو کس موقع پر دی گئی ہے۔
کلام کے سیاق وسباق پر غور کرنے سے تین امکان سامنے آتے ہیں۔
ایک یہ کہ ان…
Read the full tafseer →27۔ 1 یعنی جس ایمان اور توحید کی وجہ سے مجھے رب نے بخش دیا، کاش میری قوم اس کو جان لے تاکہ وہ بھی ایمان و توحید کو اپنا کر اللہ کی مغفرت اور اس کی نعمتوں کی مستحق ہوجائے۔ اس طرح اس شخص نے مرنے کے بعد بھی اپنی قوم کی خیر خواہی کی۔ ایک مومن صادق کو ایسا ہی ہونا چاہیے کہ وہ ہر وقت لوگوں کی خیر خواہی ہی کرے، بد خواہی نہ کرے اور ان کی صحیح رہنمائی کرے، گمراہ نہ کرے، بیشک لوگ اسے جو چاہے کہیں اور جس قسم کا سلوک چاہیں کریں، حتی کہ اسے مار ڈالیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
9: بعض روایتوں میں ہے کہ سنگدل قوم نے ان کی خیر خواہانہ تقریر کے جواب میں انہیں لاتیں، گھونسے اور پتھر مار مار کر شہید کردیا۔
10: جنت میں اصل داخلہ تو حشر و نشر کے بعد ہوگا، البتہ نیک لوگوں کو اللہ تعالیٰ عالم برزخ میں بھی جنت کی بعض نعمتیں عطا فرما دیتے ہیں۔ یہاں ان کو ایک طرف خوشخبری دی گئی کہ ان کا مقام جنت ہے، اور دوسری طرف جنت کی کچھ نعمتیں عالم برزخ ہی میں عطا فرما دی گئیں جنہیں دیکھ کر انہوں نے پھر اپنی قوم ہی کی خیر خواہی کی بات فرمائی کہ کاش انہیں یہ پتہ چل جائے کہ مجھے کن نعمتوں سے سرفراز فرمایا گیا ہے تو شاید ان کی بھی آنکھیں کھل جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
قیل ادخل الجنۃ۔۔۔۔۔ من المکرمین (26 – 27) ” “۔
یہاں دنیا کی زندگی کے ڈانڈے آخرت سے مل جاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ موت اور شہادت نے اسے عالم فنا سے عالم بقا کی طرف منتقل کردیا ہے۔ یہ ایک جست ہوتی ہے جس کے ذریعے ایک مومن دنیا کی تنگیوں سے نکل کر جنت کی وسعتوں میں داخل ہوجاتا ہے۔ باطل کی زیادتیوں سے رہائی پاکر سچائی کی مطمئن دنیا میں داخل ہوجاتا ہے اور تشدد کی دھمکیوں سے نکل کر ، امن و سلامتی کی نعمتوں میں پہنچ جاتا ہے اور جاہلیت کے اندھیروں سے یقین کی روشنی میں آجاتا ہے۔
اب ہم اس رجل مومن کو دیکھتے ہیں ۔ یہ ان انعامات و اکرامات کی اطلاع چشم زدن میں پاچکا ہے۔ لیکن وہاں سے بھی قوم کے نام اس کی ایک…
Read the full tafseer →6 قوم نے اس کی دشمنی کی کہ مار ڈالا۔ اس کو بہشت میں پہنچ کر بھی قوم کی خیر خواہی کا خیال رہا کہ اگر میرا حال اور جو انعام و اکرام حق تعالیٰ نے مجھ پر کیا ہے معلوم کرلیں تو سب ایمان لے آئیں۔
Read the full tafseer →آیت 27 { بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ } ”وہ جو میرے رب نے میری مغفرت فرمائی ہے اور مجھے باعزت لوگوں میں شامل کرلیا ہے۔“
ذرا تصور کیجیے ! ادھر جنت کا تو یہ منظر ہے ‘ مگر دوسری طرف دنیا میں اس کے گھر میں صف ماتم بچھی ہوگی۔ بیوی بچے ہوں گے تو وہ رو رو کر بےحال ہو رہے ہوں گے ‘ والدین ہوں گے تو ان پر غشی کے دورے پڑ رہے ہوں گے۔ غرض بہن بھائی ‘ عزیز و اقارب سب نوحہ کناں ہوں گے کہ اسے اس طرح ناحق قتل کردیا گیا۔ بہرحال ان دونوں جہانوں کے معاملات علیحدہ علیحدہ ہیں ‘ درمیان میں غیب کا پردہ حائل ہے۔ دنیا والوں کو پردہ غیب کی دوسری طرف اس جہان کی کیفیات کا کچھ علم نہیں ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
29 قوم اس کی اس قدر دشمن بن گئی تھی کہ اسے جان سے ہی مار ڈالا۔ مگر اس کا اخلاق اس قدر بلند تھا کہ اپنے جانی دشمنوں کے لئے بددعا کے بجائے ان کے حق میں خیر خواہی کی بات ہی اس کے ذہن میں آئی۔ اگر اسے کچھ تمنا تھی تو صرف یہ کہ کاش میری قوم کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ نے مجھ پر کس قدر انعام و کرام کئے ہیں۔ تو شاید وہ بھی ایمان لے آئیں۔ اس قصہ کو بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے دراصل کفار مکہ کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ جس طرح وہ مرد صالح اپنی قوم کا سچا ہمدرد اور خیر خواہ تھا، اسی طرح محمد بھی تمہارے سچے خیر خواہ ہیں۔
Read the full tafseer →17۔ اس شہید کو ہمدردی اپنی قوم کی اور دھن اپنی ملت کی اس وقت بھی سوار رہی، اور حسرت کے لہجہ میں بولا کہ کاش میری قوم والوں کو بھی عالم جادوانی کے اعزار و تکریم کا راز معلوم ہوگیا ہوتا، اور وہ سب بھی ایمان لیے آئے ہوتے ! (آیت) ” بماغفر ..... المکرمین “۔ اس مغفرت اور مکرمت کا راز ابھی اوپر بیان ہوچکا ہے۔ (آیت) ” اتبعوا المرسلین “۔ اور (آیت) ” امنت بربکم “۔ میں۔ یعنی یہ ثمرہ تمامتر ایمان اور اتباع مرسلین کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
آیت نمبر 13 تا 32
ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…
Read the full tafseer →بما غفر لی ربی وجعلنی من المکرمین جاتا کہ میرے رب نے مجھے کیا بخش دیا اور عزت یافتہ لوگوں میں مجھے شامل کردیا۔
مَا غَفَرَ میں مَا موصولہ ہے ‘ یا مصدریہ ‘ یا استفہامیہ (ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے) یعنی کسی وجہ سے اللہ نے میری مغفرت کردی ‘ یعنی ایمان اور کافروں کی طرف سے ایذاء پہنچنے پر صبر کرنے کی وجہ سے۔
اہل اصلاح کی عادت ہوتی ہے کہ وہ غصہ کو پی جاتے ہیں اور دشمنوں پر بھی رحم کرتے ہیں ‘ اسی عادت کے سبب حبیب نے بھی اپنی قوم کی اپنی حالت سے واقف ہوجانے کی تمنا کی تاکہ اس اطلاع کے بعد وہ ایمان لے آئیں اور طاعت گذار ہوجائیں ‘ یا قوم کو واقف بنانے کی تمنا اس نے اس وجہ سے کی کہ وہ بتانا چاہتا…
Read the full tafseer →کہ میرے پروردگار نے توحید کے باعث مجھے بخش دیا اور مجھھے جنت میں کلمہ لا الہ الا اللہ کی بدولت داخل کردیا۔
Read the full tafseer →بِمَا غَفَرَ لِيْ رَبِّيْ وَجَعَلَنِيْ مِنَ الْمُكْرَمِيْنَ : اس قصّے میں اہل مکہ کے لیے بھی پیغام ہے کہ جس طرح وہ مرد صالح اپنی قوم کا خیر خواہ تھا محمد ﷺ بھی تمہارے ایسے ہی سچے خیر خواہ ہیں۔ اس قصّے میں قریش کے لیے ایک اور سبق بھی ہے کہ اگر تم نبی کریم ﷺ پر ایمان نہیں لاؤ گے تو اللہ تعالیٰ اور لوگوں کو لے آئے گا جو آپ پر ایمان لائیں گے اور آپ کی مدد کریں گے اور شہادت کی پروا نہیں کریں گے، جیسا کہ اس بستی کے دور ترین حصے سے وہ آدمی آیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
رجل سے مراد حبیب بن مری ہے وہ بڑھئی تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ اسکاف) جوتا ( بنانے والا تھا۔ ایک قول کیا گیا۔ وہ دھوبی تھا۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاد اور مقاتل نے کہا۔ وہ حبیب بن اسمائیل نجاز تھا وہ بت تراشا کرتا تھا یہ نبی کریم ﷺ پر ایمان لایا جب کہ درمیان میں چھ سو سال کا عرصہ ہے جس طرح تعہ اکبر ورقہ بن نوفل اور دوسرے لوگ ایمان لائے کوئی فرد کسی نبی پر ایمان نہیں لایا تھا ‘ مگر اس وقت جب وہ نبی ظاہر ہوچکا تھا (1) ۔
وہب نے کہا ’ حبیب کو جزام کا مرض تھا اس کا گھر شہر کے دروازوں میں سے آخری دروازے کے پاس تھا وہ ستر سال تک بتوں کی عبادت میں مصروف رہا اور دعا کرتا رہا ممکن ہے وہ بت اس پر رحم کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
وقولہ تعالیٰ : (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی قال یقوم اتبعو المرسلین (20) اتبعوامن لا یسئلکم اجراوھم مھتدون (21) ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون (22) ۔
19:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی “ کے بارے میں روایت کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ آدمی نماز میں اللہ کی عبادت کرتا تھا اور اس کا نام حبیب تھا (جب) اس نے ان لوگوں کے بارے میں سنا جن کو عیسیٰ (علیہ السلام) نے انطاکیہ والوں کی طرف بھیجا تھا وہ ان کے پاس آیا اور کہا تم کسی اجرت کا تقاضا کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں تو…
Read the full tafseer →بِمَا [اس کو جس سبب سے ] غَفَرَ لِيْ رَبِّيْ [بخشا مجھ کو میرے رب نے ] وَجَعَلَنِيْ [اور اس نے بنایا مجھ کو ] مِنَ الْمُكْرَمِيْنَ [عزت دئیے ہوؤں میں سے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
اور (وَمَا کُنَّا مُنزِلِیْنَ ) کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بستی کے ہلاک کرنے کے لیے ہم فرشتوں کو اتارنے والے نہیں تھے کیونکہ ہمیشہ تعذیب اور ہلاکت کے لیے فرشتے نہیں آتے، اللہ تعالیٰ کبھی فرشتوں کو اتار دیتے ہیں جیسا کہ غزوۂ بدر میں فرشتے نازل کیے گئے اور کبھی نہیں اتارتے، مختلف طریقوں سے ہلاک کیا گیا۔
(قال صاحب روح (ج 33: ص 2) والظاھر انّ المراد بھذا الجند جند الملئکۃ ای ما انزلنا لاھلاکھم ملآء کَۃً مِّنَ السَّمَآءٍ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ وما صح فی حکمتنا ان ننزّل الجند لاھلاکھم لما انا قدرنا لکل شیءٍ سبباً حیث اھلکنا بعض من اھلکنا من الامم بالحاصب وبعضھم بالصیحۃ وبعضھم بالخسف بعضھم بالاغراق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
بقیہ قصہ مرد صالح مشتمل برپندو نصائح برائے اصلاح قوم
قال اللہ تعالیٰ وما لی لا اعبد الذی فطرنی۔۔۔ الی۔۔۔ وان کل لما جمیع لدینا محضرون۔
خلاصہء کلام یہ کہ منتہائے شہر سے ایک مرد صالح دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو نصیحت کرنے لگا کہ تم مرسلین کی پیروی کرو کیونکہ یہ لوگ خود غرضی سے بالکلیہ پاک ہیں جو مانع اتباع ہے اس لئے کہ وہ تم سے کسی قسم کا معاوضہ نہیں مانگتے لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا کے مصداق کامل ہیں اور خود حق اور راہ راست پر ہیں اور تم کو بھی حق اور راہ راست کی دعوت دے رہے ہیں جو اتباع اور پیروی کا داعی اور مقتضی ہے اور میں نے تو حق کو پہچان لیا اور دل وجان سے ان کو قبول کرلیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
20:۔ وما انزلنا الخ، یہ حبیب نجار کی قوم کے انجام بد کا بیان ہے کہ ہم نے اس کی شہادت کے بعد اس کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہمیں اس کی ضرورت ہی تھی کیونکہ ان کو ہلاک کرنا ہمارے لیے کوئی مشکل نکام نہ تھا ان کانت الا صیحۃ واحدۃ الخ، ان پر ہم نے جو عذاب نازل کیا وہ تو بس ایک خوفناک چیخ تھی جس سے ساری کی ساری قوم یکبارگی ہلاک ہو کر رہ گئی روی ان اللہ تعالیی بعث علیہم جبریل (علیہ السلام) حتی اخذ بعضا واتی، باب المدینۃ فصاح بہم صیحۃ واحدۃ فماتوا جمیعا (روح ج 23 ص 2) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–32
مکی سورتوں کے چار بنیادی عقائد میں سے اس رکوع میں رسالت کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ گزشتہ درس میں انطاکیہ کی بستی کا ذکر ہوا کہ اس میں اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبغلین دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آئے تو اہل بستی نے ان کی تکذیب کی ، بدسلوکی کرنے اور ایذا پہنچانے کے علاوہ ان کو طعن بھی کیا کہ تمہاری آمد کی وجہ سے ہم پر نحوست چھا گئی ہے ، ہمارے علاقے میں خشک سالی پیدا ہوگئی ہے اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ رسولوں نے جواب دیا کہ یہ نامبارکی ہماری وجہ سے نہیں ہے بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھنے والے ہو۔ جس کی سزا تمہیں مل رہی ہے۔
ایک مومن کی خیر خواہی
مرسلین نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
قِيْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ 0 ۭ قَالَ يٰلَيْتَ قَوْمِيْ يَعْلَمُوْنَ 26ۙ
دخل
الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58]
( دخ ل ) الدخول
( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔
جَنَّةُ :
كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]
الجنۃ
ہر وہ باغ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
قیل ادخل الجنۃ یہ اس کے لیے دخول جنت کی بشارت ہے۔ تفسیر کبیر میں ہے۔ لیس المراد القول فی وجہہ بل ھو الفعل یعنی وہ اس شہادت سے جنت کا مستحق ہوگیا اور اسی طرح اس کا قول یالیت قومی ہے۔ گویا اس کی تمنا ہے کہ اس شہادت سے سرور اور قلبی نور جو موجب غفران و اکرام ہے۔ مجھے حاصل ہوا ہے، کاش میری قوم کو بھی ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ ط قَالَ یٰـلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ ۔ بِمَا غَفَرَلِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ ۔ (یٰسٓ: 26، 27)
(اس شخص سے کہہ دیا گیا کہ جنت میں داخل ہوجا، اس نے کہا : کاش ! میری قوم کو معلوم ہوتا۔ کہ میرے رب نے کس چیز کی وجہ سے مجھے بخش دیا اور مجھے باعزت لوگوں میں داخل فرمایا۔ )
راہِ حق کے شہید کو بشارت کا مفہوم
اسلوبِ کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مخلص انسان جو شہر کے ایک دوردراز گوشے سے قوم کو سمجھانے کے لیے آیا تھا بجائے اس کی بات کو قبول کرنے کے ان ظالموں نے اسے قتل کردیا۔ چناچہ جیسے ہی اس کا خون زمین پر گرا اللہ تعالیٰ نے اس کی عظیم قربانی کو قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
فہم القرآن
ربط کلام : عظیم مبلّغ کے عظیم اور بہترین انجام کے مقابلے میں قوم کا بد ترین انجام۔
اللہ تعالیٰ نے اس شہر کے رہنے والوں کو ایک چٹخار کے ذریعے اس طرح نیست و نابود کیا کہ دیکھنے والے کو اس کا نشان بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ جونہی شہر والوں نے اس عظیم مبلّغ کو قتل کیا رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ ہم نے اس کی موت کے بعد اس شہر کو تباہی کے گھاٹ اتار دیا۔ اسے تباہ کرنے کے لیے ہم نے کوئی لشکر جرار نہیں بھیجا تھا کیونکہ ہمارا فیصلہ یہ تھا کہ انہیں تباہ کرنے کے لیے ملائکہ بھیجنے یا ان پر لشکر اتارنے کی ضرورت نہیں۔ انہیں تباہ کرنے کے لیے ایک خوفناک چیخ ہی کافی ہے۔ لہٰذا انہیں ایک دھماکہ خیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
26، 27: قِیْلَ (اس کو ارشاد ہوا) ۔ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ (کہ جا جنت میں داخل ہو) اس کی قبر سوق انطاکیہ میں ہے۔
انداز کلام : یہاں قیلؔ لہ نہیں کہا گیا بلکہ صرف قیل کہا گیا ہے کیونکہ کلام مقولہ کو بیان کرنے کیلئے لایا گیا ہے مقول لہ کے لئے نہیں لایا گیا اگرچہ وہ معلوم و معروف ہے۔ اس میں دلالت پائی جاتی ہے کہ جنت پیدا ہوچکی ہے۔
قول الحسن (رح) :
ہے کہ جب قوم نے اس کو قتل کرنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا وہ جنت میں ہے۔ وہ آسمانوں و زمین کی فناء کے وقت موت کا شکار ہوگا۔ (مگر یہ قول محل نظر اور محتاج دلیل ہے) جب وہ جنت میں داخل ہوا اور اس کی نعمتوں کو دیکھا تو کہنے لگا۔ قَالَ…
Read the full tafseer →27، بماغفرلی ربی ، میرے رب کے بخشش کرنے سے ، وجعلنی من المکرمین، اس نے تمنا کی کہ کاش اس کی قوم جان لے کہ اللہ نے اس کو بخش دیا اور اس کا اکرام کیا تا کہ وہ قاصدوں کے دین کی طرف رغبت حاصل کریں۔ جب حبیب نجارکو قتل کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر غضب نازل کیا اور فورا عذاب آگیا۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ ایک چیخ ماریں تو انہوں نے ایک چیخ ماری جس کی وجہ سب کے سب مرگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
26 تا 32۔ جس طرح کی تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم کے حوالہ سے روایتیں اوپر گزریں اسی طرح حبیب بن شبیب نے اپنی تفسیر میں عکرمہ کی سند سے روایت 2 ؎ کی ہے (2 ؎ صحیح بخاری ص 714 ج 2 تفسیر سورة الدخان ‘) کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے یہ حبیب نجار، ساتھ یہ حبیب بن بشر ترمذی اور ابن ماجہ کے راوی ہیں اور ابن معین نے ان کو ثقہ تابعیوں میں شمار کیا ہے سیرت ابن اسحاق میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسی بستی کے لوگوں نے اللہ کے ان تینوں رسولوں سے جھگڑا کیا اور ان رسولوں کے شہید کرنے کا قصد کیا تو حبیب نجار دوڑ کر آئے تاکہ جہاں تک ہو سکے اللہ کے رسولوں کی مدد کریں یہ حبیب نجار بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
آیت 22
اس شخص نے کہا : (ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون) یعنی میرے لئے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کو نسی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندے کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے، وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کرسکتی ہیں نہ محروم کرسکتی ہیں، جن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
31 تکذیب و انکارِ حق کا نتیجہ و انجام ہولناک تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حق اور اہل حق کی تکذیب اور انکار کرنے والوں کیلئے عذاب الہی کا دستور ایک قطعی اور طے شدہ امر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی اس ناہنجار قوم کو اس کے کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ہمیں کسی خاص اہتمام اور تیاری کی ضرورت نہ تھی کہ ان کے لئے آسمان سے فرشتوں کی کوئی جماعت نازل کرتے۔ اور نہ ہمیں ایسے کسی کام کے لئے فرشتے اتارنے کی ضرورت ہی ہوتی ہے۔ بدر میں جو فرشتے اتارے گئے تھے وہ بھی محض اہل ایمان کی تسلی وتبشیر اور اطمینان کے لئے تھے۔ ورنہ مدد تو وہاں بھی اللہ پاک ہی کی طرف سے تھی جیسا کہ اس بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
قوم موسیٰ سے ایک مومن کا تذکرہ اور رسولوں کی تکذیب کرنیوالوں پر افسوس
تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا برگز یدہ بندہ تھا سیدھا جنت میں گیا۔ اب یہاں سے ایک نکتہ نکلتا ہے۔ کیونکہ مسلمان کو تو عالم برزخ کے بعد جنت میں جانا ہوگا۔ یہاں شہید کی فضیلت ظاہر کی گئی ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے۔ ” قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا “۔ یوں ثابت ہوگیا کہ عالم برزخ تو ضروری ہے۔ اسی لئے تو مسلمان باقی دعاؤں کے ساتھ قبر کے عذاب سے بھی پناہ مانگتا ہے۔ اصل میں اس قبر کے قیام کی بھی اتنی حالتیں ہوتی ہیں۔ نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 32:
اسرار و معارف :
اس کی بات کیا مانتے الٹا اسے بھی کہنے لگے کہ تم بھی یہ نیا دین کیوں اپنا رہے ہو بھلا باپ دادا کا مذہب خراب تھا کیا یا وہ سب گمراہ تھے تو اس نے کہا کہ میرے پاس تو ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ میں اس ذات کریم کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے قائم رکھا ہے نیز اس کے یہی احسانات تم سب پر بھی ہیں اور پھر بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی سب کو پلٹ کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور اپنے کردار و عمل کا حساب دینا ہے پھر کتنی احمقانہ بات ہے کہ میں اس اتنے بڑے مہربان کو چھوڑ کر کسی بھی دوسرے کو معبود بنا لوں کہ اگر وہ ناراض ہو کر مجھے سزا دے تو یہ بت یا…
Read the full tafseer →ف 7 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” کاش ! میری قوم کو معلوم ہوجاتا ہے کہ کس چیز کی بدولت میرے مالک نے مجھے بخش دیا پہلا ترجمہ ” بما “ کے ” ما “ کا مصدر یہ ہونے کے لحاظ سے ہے اور دوسرا ” ما ‘ کے استفہامیہ ہونے کے لحاظ سے ( شوکانی)8 تاکہ وہ بھی میری طرح کفر سے توبہ کرتے اور رسولوں پر ایمان لاتے اور جنت میں داخل ہوتے یا میرا حسن انجام ان کو معلوم ہوتا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” قوم نے اس سے دشمنی کی کہ مار ڈالا اس کو بہشت میں بھی قوم کی خیر خواہی رہی۔ اگر معلوم کریں میرا حال تو سب ایمان لاویں۔ ( کذافی القرطبی)
Read the full tafseer →(36: 27) ما غفر میں ما موصولہ ہے یا مصدریہ یا استفہامیہ (اوپر کا ترجمہ ما موصولہ کے لحاظ سے ہے) مصدریہ کی صورت میں ترجمہ ہوگا :
اے کاش ! میری قوم کو معلوم ہوجاتا کہ میرے رب نے مجھے کیا بخش دیا۔ اور عزت یافتہ لوگوں میں مجھے شامل کردیا۔
المکرمین۔ اسم مفعول جمع مذکر اکرام (افعال) مصدر۔ معززین یہ مرد مومن کا جنت کی نوید ملنے پر اپنی قوم کے لئے ہمدردی کا اظہار ہے۔ اسی کی تعریف کرتے ہوئے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ :۔ نصح قومہ حیا ومیتا۔ اس شخص نے جیتے جی بھی اپنی قوم کی خیر خواہی کی اور مر کر بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے)
تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔
( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
[11] قوم نے اسے مار ڈالا لیکن بہشت میں پہنچ کر بھی اسے اپنی قوم کی خیرخواہی کا خیال رہا اور حسرت کے لہجے میں بولا کہ کاش میرا حال اور جو انعام و اکرام اللہ نے مجھ پر کیا ہے میری قوم کے لوگوں کو معلوم ہوگیا ہوتا اور وہ سب بھی ایمان لے آئے ہوتے۔ اس واقعے کو بیاں کرنے سے مقصود کفار مکہ کو یہ بتلانا ہے کہ جس طرح وہ مرد مومن اپنی قوم کا خیر خواہ تھا اسی طرح محمد ﷺ اور ان کے ساتھی اہل ایمان بھی تمہارے سچے خیر خواہ ہیں اور ان کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ تم راہ راست پر آجاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 2: اس مرد مومن نے قوم کی مخالفت کی اور سختی کے ساتھ ان مقصدات پر تنقید کی ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ قوم میں عداوت کے جذبات بھڑک اٹھے اور وہ اس کی جان کے لاگو ہوگئے اور اس کو شہید کرکے انپے زعم میں انہوں نے اس کو حیات عارضی کی نعمتوں سے محروم کردیا ۔ مگر وہاں فرشتوں نے اس کا خیر مقدم کیا ۔ اور کہا ۔ کہ آؤ جنت میں تمہارا مقام ہے ۔ اور ایمان کی یہ گراں قیمت ادا کرنے پر تمہارے لئے یہ دائمی ، مقامات ہیں ۔ اس وقت اس کے دل میں اپنی بدبخت قوم کی شقاوت کے متعلق خیال آیا ۔ اس نے کہا اے کاش ان لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے کن مکرمات کا انتظام کررکھا ہے ۔
حل لغات : ینقدؤن ۔ انقاذ سے ہے جس کے…
Read the full tafseer →(27) کہ میرے پروردگار نے مجھ کو بخش دیا اور مجھ کو باعزت اور معزز لوگوں میں شامل کردیا۔ اگر وہ شہید کردیا گیا تھا تو ظاہر ہے کہ دخول جنت سے مراد شہداء کا وہ مقام ہوگا جو جنت سے متصل ہے اور اگر زندہ اٹھا لیا تو جنت ہی مراد ہوگی اور وہ اس وقت تک زندہ رہے گا جب عالم روحانیت کے باشندوں کو موت آئے اور مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ ہو کر جنت میں داخل کیا جائے۔
بہرحال ! قوم کے اس ناروا اور ظالمانہ سلوک کے باوجود جنت کے دخول کا حکم سن کر اس کو اپنی قوم یاد آئی کہ کاش میری قوم کو میرا حال معلوم ہوجاتا کہ توحید اور اتباع رسول کی وجہ سے میرے پروردگار نے مجھ کو بخش دیا اور مجھ کو اپنے نیک اور معزز بندوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–34
ف 5۔ اصل مطلب یہی ہے کہ تم کو کون سا عذر ہے۔
Read the full tafseer →دیکھو میرے رب نے مجھے معاف فرمایا اور اپنے عزت والے بندوں میں داخل کردیا :
27۔ سبحان اللہ ! کس اخلاق کا مالک تھا یہ اللہ تعالیٰ کا بندہ جن لوگوں نے اس کو ابھی ابھی قتل کیا اور اس کو بھری مجلس میں رسوا کرنے کے لئے ساری ہمت لگا دی اور وہ مرنے کے بعد بھی قوم کے درد سے اسی طرح لبریز ہے اور قوم کے لئے اپنے دل میں کوئی جذبہ انتقام نہیں رکھتا سچ ہے کہ جو ظرف کے اندر ڈالا گیا ہو وہی اس سے نکلتا ہے جب بھی نکلتا ہے ۔ آج ہمارے سیاسی اور مذہبی لیڈروں اور پیشواؤں میں سے کوئی ایسا میسر آسکتا ہے جس کے اندر قوم کا ایک ذرہ بھی درد پایا جاتا ہو لیکن ہمارے مقابلے میں جتنی اقوام اس صفحہ ہستی میں موجود ہیں ان میں…
Read the full tafseer →Since this man of piety laid down his life valiantly in the way of Allah, he was blessed with honor as said in Verses 26 and 27: قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ ("He said, 'Would that my people knew how my Lord has forgiven me and placed me among the honored ones!" ). He was asked to enter Paradise. When he saw the supreme rewards and blessings of Paradise, he remembered his people and wished that if his people could know how generously he was rewarded and what honors were bestowed on him in return for believing in the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
23 This is a specimen of the high morality of the believer, He had no illwill or feeling of vengeance in his heart against the people who had just then killed him so that he should invoke Allah against them. Instead, he was still wishing them well. After death the only -wish that he cherished was: °Would that my people could know the good end that I have met, and could learn a lesson froth my death, if not from my life, and adopt the righteous way." The noble person did not wish Hell for his murderers but wished that they should believe and become worthy of Paradise. The same thing has been…
Read the full tafseer →