Yaseen 36:26

Yaseen · from ayah 26

36:26

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ؕ— قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ ۟ۙقِيۡلَ ادۡخُلِ الۡجَـنَّةَ ؕ قَالَ يٰلَيۡتَ قَوۡمِىۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ

حکم ہوا کہ بہشت میں داخل ہوجا۔ بولا کاش! میری قوم کو خبر ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

It was said, "Enter Paradise." He said, "I wish my people could know

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:26

(آخرکار ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا اور) اس شخص سے کہہ دیا گیا کہ "داخل ہو جا جنت میں" اُس نے کہا "کاش میری قوم کو معلوم ہوتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

حکم ہوا کہ بہشت میں داخل ہوجا۔ بولا کاش! میری قوم کو خبر ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

(اس سے) کہا گیا کہ جنت میں چلا جا، کہنے لگا کاش! میری قوم کو بھی علم ہو جاتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(آخر کار بستی والوں نے اس کو قتل کردیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سے) کہا گیا کہ : جنت میں داخل ہوجاؤ اس نے (جنت کی نعمتیں دیکھ کر) کہا کہ : کاش ! میری قوم کو معلوم ہوجائے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس سے فرمایا گیا کہ جنت میں داخل ہو کہا کسی طرح میری قوم جانتی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اسے کافروں نے شہید کر دیا تو اسے) کہا گیا: (آ) بہشت میں داخل ہوجا، اس نے کہا: اے کاش! میری قوم کو معلوم ہو جاتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اسے کہا گیا جنت میں داخل ہوجا۔ اس نے کہا اے کاش ! میری قوم جان لے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(آخر جب اسے قتل کر ڈالا گیا تو) اسے کہا گیا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ وہ کہنے لگا : کاش میری قوم کو علم ہوجاتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ارشاد ہوا کہ جنت میں داخل ہوجائو۔ اس نے کہا کاش ! میری قوم جانتی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(مگر ان لوگوں نے اسے شہید کردیا) اور (شہید ہوتے ہی اس سے کہہ دیا گیا) کہ داخل ہوجا تو جنت میں اس پر اس نے کہا اے کاش کہ میری قوم جان لیتی

— مولانا اسحاق مدنی

ارشاد ہوگا کہ جا جنت میں داخل ہو۔ وہ کہنے لگا کاش میری قوم کو یہ معلوم ہوجاتا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہہ دیا گیا کہ تم داخل ہو جائو جنت میں اس نے کہا : کاش میری قوم کو معلوم ہوجاتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

حکم ہوا کہ ”بہشت میں داخل ہوجا“ وہ بولا ”کاش میری قوم کو خبر ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(Eventually they killed him and he was told): “Enter Paradise.” The man exclaimed: “Would that my people knew

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Thereafter when his people killed him,) it was said to him, :Enter the Paradise . He said, :Would that my people knew

— Muhammad Taqi Usmani

(Thereafter when his people killed him,) it was said to him, :Enter the Paradise . He said, :Would that my people knew

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It was said: "Enter Paradise." He said: "Would that my people knew."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It was said (unto him): Enter paradise. He said: Would that my people knew

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It was said, "Enter Paradise." He said, "I wish my people could know

— Saheeh International

(Having been murdered by the disbelievers) he was told to enter paradise

— Muhammad Sarwar

It was said: Enter the garden. He said: O would that my people had known

— Muhammad Habib Shakir

It was said: enter thou the Garden. He said: would that my people knew.

— Abdul Majid Daryabadi

It was said: "Enter thou the Garden." He said: "Ah me! Would that my People knew (what I know)!-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–29

ظالموں کیلئے عذاب الٰہی۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ان کفار نے اس مومن کامل کو بری طرح مارا پیٹا اسے گرا کر اس کے پیٹ پر چڑھ بیٹھے اور پیروں سے اسے روندنے لگے یہاں تک کہ اس کی آنتیں اس کے پیچھے کے راستے سے باہر نکل آئیں، اسی وقت اللہ کی طرف سے اسے جنت کی خوشخبری سنائی گئی، اسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے رنج و غم سے آزاد کردیا اور امن چین کے ساتھ جنت میں پہنچا دیا ان کی شہادت سے اللہ خوش ہوا جنت ان کیلئے کھول دی گئی اور داخلہ کی اجازت مل گئی، اپنے ثواب و اجر کو، عزت و اکرام کو دیکھ کر پھر اس کی زبان سے نکل گیا کاش کہ میری قوم یہ جان لیتی کہ مجھے میرے رب نے بخش دیا اور میرا بڑا ہی اکرام کیا۔ فی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یٰسٓ 22 یعنی شہادت نصیب ہوتے ہی اس شخص کو جنت کی بشارت دے دی گئی۔ جونہی کہ وہ موت کے دروازے سے گزر کر دوسرے علم میں پہنچا، فرشتے اس کے استقبال کو موجود تھے اور انہوں نے اسے خوش خبری دے دی کہ فردوس بریں اس کی منتظر ہے۔ اس فقرے کی تاویل میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ قَتَادہ کہتے ہیں کہ " اللہ نے اسی وقت اسے جنت میں داخل کردیا اور وہ وہاں زندہ ہے "۔ یہ بات ملائکہ نے اس سے بشارت کے طور پر کہی اور اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے بعد جب تمام اہل ایمان جنت میں داخل ہوں گے تو وہ بھی ان کے ساتھ داخل ہوگا۔ "

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) قیل ادخل الجنة قال یلیت قومی یعلمون الآیة، یعنی اس شخص کو جو گوشہ شہر سے رسولوں پر ایمان لانے کی تلقین کے لئے آیا تھا اس کو کہا گیا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ خطاب کسی فرشتے کے ذریعے ہوا ہے، کہ جنت میں چلے جاؤ۔ اور مراد جنت میں داخل ہونے سے یہ خوش خبری دینا ہے کہ جنت تمہارا مقام متعین ہوچکا ہے، جو اپنے وقت پر حشر ونشر کے بعد حاصل ہوگا۔ (قرطبی) اور یہ بھی بعید نہیں کہ ان کو ان کا مقام جنت اس وقت دکھلا دیا گیا ہو، اس کے علاوہ برزخ میں بھی اہل جنت کو جنت کے پھل پھول اور راحت کی چیزیں ملتی ہیں۔ اس لئے ان کا عالم برزخ میں پہنچنا ایک حیثیت سے جنت ہی میں داخل ہونا ہے۔ قرآن کریم کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 26–27

قیل ادخل جسۃ قل یلیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی اجع لمنی من السکرمین (26۔۔۔) مذکورہ اعلان کے بعد ظاہر ہے کہ ان کی پوری قوم ان کی دشمن بن کر ان کے خلاف سازشوں میں لگ گئی ہوگی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو سازشوں کے شر سے محفوظ رکھا اور احمایتِ حق کی راہ میں انہوں نے یہ بازی جو کھیلی اس کے صلہ میں ان کو جنت کی بشارت دی گئی جس پر انہوں نے اس تمنا کا اظہار فرمایا کہ کاش میری قوم بھی اس بات کی قدروقیمت جانتی جس کے صلہ میں مجھے یہ مغفرت اور سرفرازی حاصل ہوئی۔ یہاں اس بات کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ بشارت ان کو کس موقع پر دی گئی ہے۔ کلام کے سیاق وسباق پر غور کرنے سے تین امکان سامنے آتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 25–26

25۔ 1 اس کی دعوت توحید اور اقرار توحید کے جواب میں قوم نے اسے قتل کرنا چاہا تو اس نے پیغمبروں سے خطاب کر کے یہ کہا مقصد اپنے ایمان پر ان پیغمبروں کو گواہ بنایا تھا۔ یا اپنی قوم سے خطاب کر کے کہا جس سے مقصود دین حق پر اپنی صلاحیت اور استقامت کا اظہار تھا کہ تم جو چاہو کرلو، لیکن اچھی طرح سن لو کہ میرا ایمان اسی رب پر ہے، جو تمہارا بھی رب ہے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کو مار ڈالا اور کسی نے ان کو اس سے نہیں روکا۔ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 26–27

9: بعض روایتوں میں ہے کہ سنگدل قوم نے ان کی خیر خواہانہ تقریر کے جواب میں انہیں لاتیں، گھونسے اور پتھر مار مار کر شہید کردیا۔ 10: جنت میں اصل داخلہ تو حشر و نشر کے بعد ہوگا، البتہ نیک لوگوں کو اللہ تعالیٰ عالم برزخ میں بھی جنت کی بعض نعمتیں عطا فرما دیتے ہیں۔ یہاں ان کو ایک طرف خوشخبری دی گئی کہ ان کا مقام جنت ہے، اور دوسری طرف جنت کی کچھ نعمتیں عالم برزخ ہی میں عطا فرما دی گئیں جنہیں دیکھ کر انہوں نے پھر اپنی قوم ہی کی خیر خواہی کی بات فرمائی کہ کاش انہیں یہ پتہ چل جائے کہ مجھے کن نعمتوں سے سرفراز فرمایا گیا ہے تو شاید ان کی بھی آنکھیں کھل جائیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 26–27

قیل ادخل الجنۃ۔۔۔۔۔ من المکرمین (26 – 27) ” “۔ یہاں دنیا کی زندگی کے ڈانڈے آخرت سے مل جاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ موت اور شہادت نے اسے عالم فنا سے عالم بقا کی طرف منتقل کردیا ہے۔ یہ ایک جست ہوتی ہے جس کے ذریعے ایک مومن دنیا کی تنگیوں سے نکل کر جنت کی وسعتوں میں داخل ہوجاتا ہے۔ باطل کی زیادتیوں سے رہائی پاکر سچائی کی مطمئن دنیا میں داخل ہوجاتا ہے اور تشدد کی دھمکیوں سے نکل کر ، امن و سلامتی کی نعمتوں میں پہنچ جاتا ہے اور جاہلیت کے اندھیروں سے یقین کی روشنی میں آجاتا ہے۔ اب ہم اس رجل مومن کو دیکھتے ہیں ۔ یہ ان انعامات و اکرامات کی اطلاع چشم زدن میں پاچکا ہے۔ لیکن وہاں سے بھی قوم کے نام اس کی ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی فوراً بہشت کا پروانہ مل گیا۔ آگے نقل کرتے ہیں کہ قوم نے اس کو نہایت بیدردی کے ساتھ شہید کر ڈالا۔ ادھر شہادت واقع ہوئی ادھر سے حکم ملا کہ فوراً بہشت میں داخل ہوجا۔ جیسا کہ ارواح شہداء کی نسبت احادیث سے ثابت ہے کہ وہ قبل از محشر جنت میں داخل ہوتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 26 { قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ } ”کہہ دیا گیا کہ تم داخل ہو جائو جنت میں !“ وہ شخص چونکہ اللہ کی راہ کا مقتول تھا ‘ اس لیے جنت تو گویا اس کے انتظار میں تھی۔ شہادت کے رتبے پر فائز ہوجانے والے خوش قسمت لوگوں کو جنت میں داخلے کے لیے روز حشر کا انتظار نہیں کرنا پڑتا ‘ بلکہ جس لمحے ایسے کسی مومن کی شہادت ہوتی ہے اسی لمحے اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ { قَالَ یٰـلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ } ”اس نے کہا : کاش میری قوم کو معلوم ہوجاتا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

28 مرد حق گو کی شہادت :۔ رسولوں کی دعوت پر تو یہ لوگ محض دھمکیاں ہی دے رہے تھے اور شاید ڈرتے بھی ہوں کہ اگر فی الواقع رسول ہوں تو ہم پر کوئی آفت نہ آئے۔ مگر جب اس مرد حق گو نے ناصحانہ انداز میں ان کے معبودوں کی سب خامیاں ان پر واضح کردیں تو اسے انہوں نے اپنی اور اپنے معبودوں کی توہین اور ان کی شان میں گستاخی سمجھ کر اسے فوراً قتل کردیا اور اس کے قتل ہونے کے ساتھ اسے فرشتوں نے یہ خوشخبری دے دی کہ جنت تمہاری منتظر ہے۔ اس میں داخل ہوجاؤ۔ کیونکہ وہ صحیح معنوں میں شہید تھا اور اس نے اللہ کے دین کی خاطر اپنی جان دی تھی۔ اور شہداء کے متعلق قرآن اور صحیح احادیث میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ شہید براہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ مشرک قوم اپنے اس ہم قوم مرد مومن کی دشمن ہوگئی۔ اور آخر اسے ہلاک کرڈالا۔ جنت کی یہ بشارت اس شہید کو اپنی ہلاکت کے وقت مل رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–32

آیت نمبر 13 تا 32 ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قیل ادخل الجنۃ . (مر جانے کے بعد اس سے) کہا گیا : جنت میں چلا جا۔ یعنی جب حبیب نجار شہید ہوگیا تو اس کی عزت افزائی کیلئے جنت میں جانے کی اجازت دے دی گئی اور بطور اجازت اس سے کہہ دیا گیا : جنت میں داخل ہوجا۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ مرنے سے پہلے ہی اس کو جنت میں داخل ہونے کی بشارت دے دی گئی ‘ اس صورت میں جنت سے مراد ہوگی قبر ‘ کیونکہ قبر (مؤمن کیلئے) جنت کا ایک باغیچہ ہوتی ہے۔ یہ جملہ نستانفہ ہے جو بطور جواب استعمال کیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ دینی پختگی کے بعد جب وہ اللہ سے ملا تو ان نے اس سے کیا فرمایا ؟ اس امکان سوال کا جواب دے دیا گیا ‘ جب حبیب جنت میں پہنچا تو قال یلیت قومی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اس پر ان کی مشرک قوم نے ان کو پکڑ لیا اور قتل کر کے سولی پر چڑھایا اور پیروں سے اس قدر روندا کہ آنتیں تک نکل پڑیں۔ چناچہ ان کے لیے جنت ثابت ہوگئی اور ان کی روح سے کہا گیا کہ جنت میں داخل ہوجا چناچہ ان کی روح جنت میں داخل ہونے کے بعد بھی کہنے لگی کاش میری قوم سمجھتی اور اس بات کی تصدیق کرتی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قِيْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ : یہاں درمیان کی بات محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آرہی ہے کہ اس کی اس بات پر قوم کے لوگ اس پر پل پڑے اور اسے شہید کردیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی شہادت کو قبول فرمایا اور شہادت کی دیر تھی کہ اسے جنت میں داخلے کی بشارت مل گئی۔ شہداء کے جنت میں داخلے کی کیفیت کے متعلق دیکھیے سورة بقرہ (154) اور آل عمران (169 تا 171)۔ قَالَ يٰلَيْتَ قَوْمِيْ يَعْلَمُوْنَ : اس سے ظاہر ہے کہ وہ بندہ اپنی قوم کا کس قدر خیر خواہ تھا کہ زندگی میں بھی اس نے جان کی پروا نہ کرتے ہوئے قوم کو نصیحت کی اور مرنے کے بعد بھی ان کے لیے اس کی خیر خواہی جاری رہی، پھر اپنے قاتلوں کے متعلق اس کی تمنا ہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–29

رجل سے مراد حبیب بن مری ہے وہ بڑھئی تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ اسکاف) جوتا ( بنانے والا تھا۔ ایک قول کیا گیا۔ وہ دھوبی تھا۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاد اور مقاتل نے کہا۔ وہ حبیب بن اسمائیل نجاز تھا وہ بت تراشا کرتا تھا یہ نبی کریم ﷺ پر ایمان لایا جب کہ درمیان میں چھ سو سال کا عرصہ ہے جس طرح تعہ اکبر ورقہ بن نوفل اور دوسرے لوگ ایمان لائے کوئی فرد کسی نبی پر ایمان نہیں لایا تھا ‘ مگر اس وقت جب وہ نبی ظاہر ہوچکا تھا (1) ۔ وہب نے کہا ’ حبیب کو جزام کا مرض تھا اس کا گھر شہر کے دروازوں میں سے آخری دروازے کے پاس تھا وہ ستر سال تک بتوں کی عبادت میں مصروف رہا اور دعا کرتا رہا ممکن ہے وہ بت اس پر رحم کریں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–27

وقولہ تعالیٰ : (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی قال یقوم اتبعو المرسلین (20) اتبعوامن لا یسئلکم اجراوھم مھتدون (21) ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون (22) ۔ 19:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی “ کے بارے میں روایت کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ آدمی نماز میں اللہ کی عبادت کرتا تھا اور اس کا نام حبیب تھا (جب) اس نے ان لوگوں کے بارے میں سنا جن کو عیسیٰ (علیہ السلام) نے انطاکیہ والوں کی طرف بھیجا تھا وہ ان کے پاس آیا اور کہا تم کسی اجرت کا تقاضا کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں تو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قِيْلَ [اس سے کہا گیا ] ادْخُلِ الْجَنَّةَ ۭ [تو داخل ہو جنت میں ] قَالَ يٰلَيْتَ [اس نے کہا اسے کاش ] قَوْمِيْ يَعْلَمُوْنَ [میری قوم جانتی ہوتی ] ۔ نوٹ۔ 1: آیات 26 ۔ 27 سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کو قتل کردیا گیا اور شہادت نصیب ہوتے ہی اسے جنت کی بشارت دے دی گئی۔ جن لوگوں نے اسے قتل کیا تھا ان کے خلاف کوئی جذبہء انتقام اس کے دل میں نہ تھا۔ اسکے بجائے وہ اب بھی ان کی خیر خواہی کررہا تھا ۔ مرنے کے بعد اس کے دل میں اگر کوئی تمنا پیدا ہوئی تو وہ بس یہ تھی کہ کاش مری قوم میرے اس نیک انجام سے باخبر ہوجائے اور راہ راست اختیار کرلے۔ وہ شریف انسان اپنے قاتلوں کے لئے بھی جہنم نہ چاہتا تھا بلکہ یہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ ) اللہ تعالیٰ نے اس کو ایمان اور دعوت توحید اور شہادت کا انعام دیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوا کہ جنت میں داخل ہوجا۔ (قَالَ ٰیلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ بِمَا غَفَرَلِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکَرَّمِیْنَ ) جنت میں داخل ہو کر اس شخص نے کہا کیا اچھا ہوتا کہ میری قوم کو اس کا پتہ چل جاتا جو میرے رب نے میری مغفرت فرمائی اور جو مجھے معزز بندوں میں شامل فرمایا (یہ بات اس نے آرزو کے طور پر کہی کہ میری قوم کو اللہ کے انعام کا پتہ چل جاتا تو وہ بھی مسلمان ہوجاتے۔ ) معالم التنزیل میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب بستی والوں نے اس آدمی کو قتل کردیا جو بستی کے آخر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–32

بقیہ قصہ مرد صالح مشتمل برپندو نصائح برائے اصلاح قوم قال اللہ تعالیٰ وما لی لا اعبد الذی فطرنی۔۔۔ الی۔۔۔ وان کل لما جمیع لدینا محضرون۔ خلاصہء کلام یہ کہ منتہائے شہر سے ایک مرد صالح دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو نصیحت کرنے لگا کہ تم مرسلین کی پیروی کرو کیونکہ یہ لوگ خود غرضی سے بالکلیہ پاک ہیں جو مانع اتباع ہے اس لئے کہ وہ تم سے کسی قسم کا معاوضہ نہیں مانگتے لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا کے مصداق کامل ہیں اور خود حق اور راہ راست پر ہیں اور تم کو بھی حق اور راہ راست کی دعوت دے رہے ہیں جو اتباع اور پیروی کا داعی اور مقتضی ہے اور میں نے تو حق کو پہچان لیا اور دل وجان سے ان کو قبول کرلیا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–26

18:۔ قیل ادخل الخ، اس سے پہلے اندماج ہے، ولما قتل قیل لہ ادخل الجنۃ (مدارک ج 4 ص 5) ، یعنی جب اسے قتل کردیا گیا تو اس سے کہا گیا جنت میں داخل ہوجاؤ۔ حبیب نجار چونکہ شہید تھا اس لیے دیگر شہداء کی طرح اس کی روح کو پرندے کے قالب میں جنت میں داخل کردیا گیا۔ فادخلہ اللہ الجنۃ وھو حی فیہا یرزق یعی حیوۃ الشہداء (مظہری ج 8 ص 79) ۔ 19:۔ قال یلیت الخ، جب اس نے جنت میں اپنا بےپایاں اعزازو اکرام اور بےحد و حساب نعمتیں دیکھیں تو تمنا کرنے لگا کہ کاش ! میری قوم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کس چیز کے سبب بخش دیا اور جنت میں داخل کیا ہے۔ اور اپنی بےحساب نوازشوں سے نوازا یعنی اللہ کی توحید پر ایمان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 20–32

مکی سورتوں کے چار بنیادی عقائد میں سے اس رکوع میں رسالت کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ گزشتہ درس میں انطاکیہ کی بستی کا ذکر ہوا کہ اس میں اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبغلین دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آئے تو اہل بستی نے ان کی تکذیب کی ، بدسلوکی کرنے اور ایذا پہنچانے کے علاوہ ان کو طعن بھی کیا کہ تمہاری آمد کی وجہ سے ہم پر نحوست چھا گئی ہے ، ہمارے علاقے میں خشک سالی پیدا ہوگئی ہے اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ رسولوں نے جواب دیا کہ یہ نامبارکی ہماری وجہ سے نہیں ہے بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھنے والے ہو۔ جس کی سزا تمہیں مل رہی ہے۔ ایک مومن کی خیر خواہی مرسلین نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 26–27

قِيْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ۝ 0 ۭ قَالَ يٰلَيْتَ قَوْمِيْ يَعْلَمُوْنَ۝ 26ۙ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–27

قیل ادخل الجنۃ یہ اس کے لیے دخول جنت کی بشارت ہے۔ تفسیر کبیر میں ہے۔ لیس المراد القول فی وجہہ بل ھو الفعل یعنی وہ اس شہادت سے جنت کا مستحق ہوگیا اور اسی طرح اس کا قول یالیت قومی ہے۔ گویا اس کی تمنا ہے کہ اس شہادت سے سرور اور قلبی نور جو موجب غفران و اکرام ہے۔ مجھے حاصل ہوا ہے، کاش میری قوم کو بھی ہوتا۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 26–27

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ ط قَالَ یٰـلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ ۔ بِمَا غَفَرَلِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ ۔ (یٰسٓ: 26، 27) (اس شخص سے کہہ دیا گیا کہ جنت میں داخل ہوجا، اس نے کہا : کاش ! میری قوم کو معلوم ہوتا۔ کہ میرے رب نے کس چیز کی وجہ سے مجھے بخش دیا اور مجھے باعزت لوگوں میں داخل فرمایا۔ ) راہِ حق کے شہید کو بشارت کا مفہوم اسلوبِ کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مخلص انسان جو شہر کے ایک دوردراز گوشے سے قوم کو سمجھانے کے لیے آیا تھا بجائے اس کی بات کو قبول کرنے کے ان ظالموں نے اسے قتل کردیا۔ چناچہ جیسے ہی اس کا خون زمین پر گرا اللہ تعالیٰ نے اس کی عظیم قربانی کو قبول…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–26

فہم القرآن ربط کلام : شہید مبلّغ کا بہترین انجام اور صلہ۔ قرآن مجید نے لفظاً یہ بات واضح نہیں فرمائی کہ اس عظیم مبلّغ کا اپنی قوم کے ہاتھوں کیا انجام ہوا۔ البتہ سیاق وسباق سے یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ قوم نے اس عظیم مبلّغ کو شہیدکر ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل فرمایا جونہی اس کی روح جنت میں داخل ہوئی تو پکار اٹھی کہ کاش ! میری قوم کو میرے بہترین انجام کی خبر ہوجائے۔ میرے رب نے میری خطاؤں کو معاف فرما کر مجھے اپنے مقرب بندوں میں شامل کرلیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی رہتی دنیا تک اسے یہ اعزاز بخشا گیا کہ اس کے خیالات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے الفاظ میں ہمیشہ ہمیش کے لیے محفوظ فرمایا اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 26–27

26، 27: قِیْلَ (اس کو ارشاد ہوا) ۔ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ (کہ جا جنت میں داخل ہو) اس کی قبر سوق انطاکیہ میں ہے۔ انداز کلام : یہاں قیلؔ لہ نہیں کہا گیا بلکہ صرف قیل کہا گیا ہے کیونکہ کلام مقولہ کو بیان کرنے کیلئے لایا گیا ہے مقول لہ کے لئے نہیں لایا گیا اگرچہ وہ معلوم و معروف ہے۔ اس میں دلالت پائی جاتی ہے کہ جنت پیدا ہوچکی ہے۔ قول الحسن (رح) : ہے کہ جب قوم نے اس کو قتل کرنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا وہ جنت میں ہے۔ وہ آسمانوں و زمین کی فناء کے وقت موت کا شکار ہوگا۔ (مگر یہ قول محل نظر اور محتاج دلیل ہے) جب وہ جنت میں داخل ہوا اور اس کی نعمتوں کو دیکھا تو کہنے لگا۔ قَالَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

26، قیل ادخل الجنۃ، جب شہید ہوگیا تو اس کی عزت افزائی کیلئے کہا گیا کہ جنت میں چلا جا۔ ، قال یالیت قومی یعلمون ،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–32

26 تا 32۔ جس طرح کی تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم کے حوالہ سے روایتیں اوپر گزریں اسی طرح حبیب بن شبیب نے اپنی تفسیر میں عکرمہ کی سند سے روایت 2 ؎ کی ہے (2 ؎ صحیح بخاری ص 714 ج 2 تفسیر سورة الدخان ‘) کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے یہ حبیب نجار، ساتھ یہ حبیب بن بشر ترمذی اور ابن ماجہ کے راوی ہیں اور ابن معین نے ان کو ثقہ تابعیوں میں شمار کیا ہے سیرت ابن اسحاق میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسی بستی کے لوگوں نے اللہ کے ان تینوں رسولوں سے جھگڑا کیا اور ان رسولوں کے شہید کرنے کا قصد کیا تو حبیب نجار دوڑ کر آئے تاکہ جہاں تک ہو سکے اللہ کے رسولوں کی مدد کریں یہ حبیب نجار بڑے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 22–30

آیت 22 اس شخص نے کہا : (ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون) یعنی میرے لئے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کو نسی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندے کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے، وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کرسکتی ہیں نہ محروم کرسکتی ہیں، جن کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 23–28

31 تکذیب و انکارِ حق کا نتیجہ و انجام ہولناک تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حق اور اہل حق کی تکذیب اور انکار کرنے والوں کیلئے عذاب الہی کا دستور ایک قطعی اور طے شدہ امر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی اس ناہنجار قوم کو اس کے کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ہمیں کسی خاص اہتمام اور تیاری کی ضرورت نہ تھی کہ ان کے لئے آسمان سے فرشتوں کی کوئی جماعت نازل کرتے۔ اور نہ ہمیں ایسے کسی کام کے لئے فرشتے اتارنے کی ضرورت ہی ہوتی ہے۔ بدر میں جو فرشتے اتارے گئے تھے وہ بھی محض اہل ایمان کی تسلی وتبشیر اور اطمینان کے لئے تھے۔ ورنہ مدد تو وہاں بھی اللہ پاک ہی کی طرف سے تھی جیسا کہ اس بارے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–32

قوم موسیٰ سے ایک مومن کا تذکرہ اور رسولوں کی تکذیب کرنیوالوں پر افسوس تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا برگز یدہ بندہ تھا سیدھا جنت میں گیا۔ اب یہاں سے ایک نکتہ نکلتا ہے۔ کیونکہ مسلمان کو تو عالم برزخ کے بعد جنت میں جانا ہوگا۔ یہاں شہید کی فضیلت ظاہر کی گئی ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے۔ ” قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا “۔ یوں ثابت ہوگیا کہ عالم برزخ تو ضروری ہے۔ اسی لئے تو مسلمان باقی دعاؤں کے ساتھ قبر کے عذاب سے بھی پناہ مانگتا ہے۔ اصل میں اس قبر کے قیام کی بھی اتنی حالتیں ہوتی ہیں۔ نیک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–32

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 32: اسرار و معارف : اس کی بات کیا مانتے الٹا اسے بھی کہنے لگے کہ تم بھی یہ نیا دین کیوں اپنا رہے ہو بھلا باپ دادا کا مذہب خراب تھا کیا یا وہ سب گمراہ تھے تو اس نے کہا کہ میرے پاس تو ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ میں اس ذات کریم کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے قائم رکھا ہے نیز اس کے یہی احسانات تم سب پر بھی ہیں اور پھر بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی سب کو پلٹ کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور اپنے کردار و عمل کا حساب دینا ہے پھر کتنی احمقانہ بات ہے کہ میں اس اتنے بڑے مہربان کو چھوڑ کر کسی بھی دوسرے کو معبود بنا لوں کہ اگر وہ ناراض ہو کر مجھے سزا دے تو یہ بت یا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی شہادت واقع ہوتے ہی اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ شہدا کی روحیں سبز پرندوں کی شکل میں جنت کے اندر جہاں اور جیسے چاہتی ہیں اڑتی پھرتی ہیں۔ ( دیکھئے بقرہ ( آیت 154)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36: 26) قیل ادخل الجنۃ (کہا گیا جنت میں داخل ہوجا) ادخل فعل امر واحد مذکر حاضر۔ دخول مصدر (باب نصر) تو داخل ہوجا۔ یہ فقرہ کب کہا گیا اس کے متعلق مختلف روایات ہیں۔ (1) جب اس مرد مومن نے قوم سے خطاب کیا تو انہوں نے اس کو قتل کردیا ۔ موت کے بعد جب خدا کے حضور اس کی پیشی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس سے کیا فرمایا۔ اس امکانی سوال کا یہ جواب ہے (یہ جملہ مستانفہ ہے جو بطور جواب استعمال کی گیا ہے) ۔ بعض کے نزدیک وہ قتل نہیں ہوا تھا بلکہ طبعی موت مرا تھا۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ جب اس کی قوم نے اس کے قتل کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے آسمان پر اٹھا لیا جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–32

لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے) تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–32

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔ ( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–26

[10] یعنی جب سے تم نے آ کر ہمارے معبودوں کے خلاف باتیں کرنی شروع کی ہیں وہ ہم سے ناراض ہوگئے ہیں۔ اب جو مصیبت بھی ہم پر آتی ہے وہ تمہاری بدولت ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–26

میں کیوں خدا کی عبادت نہ کروں ؟ 1: جب کسی قوم نے اللہ کے رسولوں کی مخالفت کی اور اس کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ تو انہیں میں ایک مرد مومن اٹھا اور جس نے ان کی ہمنوائی کی ۔ اس نے کہا کہ اے قوم تم مجھے توحید پر ملامت کرتے ہو اور کہتے ہو کہ میں ایک خدا کی پرستش کیوں کرتا ہوں ۔ مجھے تو اس بات میں کوئی وجہ معقول نظر نہیں آتی ۔ کہ رب فاطر کو چھوڑ کر دوسروں کے سامنے جھکوں ۔ آخر کیوں نہ میں اس کی عبادت کروں ۔ جس نے مجھے وجوہ کی نعمت سے نواز ہے ۔ اور پھر بالآخر اسی کی جانب لوٹ جانا ہے ۔ کیا تمہاری رائے ہے ۔ کہ میں خدا کو چھوڑ دوں اور ایسے معبودان باطل کو اپنا خدا سمجھ لوں ۔ جن کا کائنات میں کوئی حصہ نہیں ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(26) اس شخص کیلئے حضرت حق تعالیٰ کی جانب سے کہا گیا جا بہشت میں داخل ہوجا وہ کہنے لگا کاش میری قوم کو یہ بات معلوم ہوجاتی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بستی کے و ڈیرے اپنے حواریوں کو اشارہ کرتے ہیں اور وہ اس کا کام تمام کردیتے ہیں : 26۔ اس تین نبیوں کی دعوت پر ایمان لانے والے نے ہزاروں بلکہ لاکھوں ایمان لانے والوں سے زیادہ کام کر دکھایا کہ وہ ظالموں اور مشرکوں کے سامنے اس طرح ڈٹ گیا جس طرح وہ ایک آدمی نہیں بلکہ ایک بہت بڑی جماعت ہے لیکن بستی والوں نے اس کو برداشت نہ کیا بلاشبہ وہ اپنے عزم کا پہاڑ تھا لیکن دلائل وبراہین سے ہٹ کر اور بات کا جواب بات سے دینے کی بجائے انہوں نے اس پر حملہ کردیا اور وڈیروں کے اشارہ سے ان کے حواریوں ہی نے اس کا کام تمام کردیا اور اس دنیا سے رخصت ہوتے ہی جنت کے دروازے اس کے لئے کھل گئے اور آسمان کے فرشتے اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse 26 states: قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ۖ قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ ﴿26﴾ بِمَا غَفَرَ‌ لِي رَ‌بِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَ‌مِينَ ﴿27﴾(it was said to him, " Enter the paradise". He said,"Would that my people knew how my Lord has forgiven me and placed me among the honored ones!" - 26, 27), that is, it was said to the person who had come from the farthest part of the city to prompt people to believe in the messengers, "Enter Paradise." It is obvious that this address was communicated through some angel who told him to go into the Paradise. In fact, the essential sense of asking…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

22 That is, Inunediately following his martyrdom, the man was given the good news of Paradise. As soon as he entered the Next World through the gate of death, there were the angels to receive him, and they gave him the good news that Paradise was awaiting him." The commentators have disputed the meaning of this sentence. Qatadah says, "AIlah admitted him into Paradise straightway and he is living in it and receiving his sustenance." And Mujahid says, "This was told him by the angels as a good news; he will enter Paradise on the day of Resurrection along with the other believers. "

Read the full tafseer →