Yaseen 36:25

Yaseen · from ayah 25

36:25

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِ ۟ؕاِنِّىۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِؕ‏

میں تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں سو میری بات سن رکھو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, I have believed in your Lord, so listen to me."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:25

میں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا، تم بھی میری بات مان لو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

میں تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں سو میری بات سن رکھو

— مولانا فتح محمد جالندہری

میری سنو! میں تو (سچے دل سے) تم سب کے رب پر ایمان ﻻ چکا

— مولانا محمد جوناگڑہی

میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لاچکا۔ اب تم بھی میری بات سن لو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مقرر میں تمہارے رب پر ایمان لایا تو میری سنو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں، سو تم مجھے (غور سے) سنو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک میں تمہارے رب پر ایمان لایا ہوں، سو مجھ سے سنو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

میں تو بلاشبہ تمہارے پروردگار پر ایمان لاچکا، تم میری بات توجہ سے سنو (اور مان لو)

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

میں تمہارے رب پر ایمان لایا تو میری بات سنو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یقینا میں تو (صدق دل سے) ایمان لے آیا تمہارے رب پر پس تم سب میری بات سنو

— مولانا اسحاق مدنی

میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا سو میری سن لو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں سو میری بات سنو !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

میں تمہارے رب پر ایمان لایا ہوں سو میری بات سن رکھو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

I believe in your Lord; so listen to me.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Undoubtedly I have believed in your Lord; so listen to me.

— Muhammad Taqi Usmani

Undoubtedly I have believed in your Lord; so listen to me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Verily, I have believed in your Lord, so listen to me!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! I have believed in your Lord, so hear me!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, I have believed in your Lord, so listen to me."

— Saheeh International

Messengers, listen to me. I believe in your Lord."

— Muhammad Sarwar

Surely I believe in your Lord, therefore hear me.

— Muhammad Habib Shakir

Verily I believe now in your Lord; so hearken Unto me."

— Abdul Majid Daryabadi

"For me, I have faith in the Lord of you (all): listen, then, to me!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 22–25

راہ حق کا شہید۔ وہ نیک بخت شخص جو اللہ کے رسولوں کی تکذیب و تردید اور توہین ہوتی دیکھ کر دوڑا ہوا آیا تھا اور جس نے اپنی قوم کو نبیوں کی تابعداری کی رغبت دلائی تھی وہ اب اپنے عمل اور عقیدے کو ان کے سامنے پیش کر رہا ہے اور انہیں حقیقت سے آگاہ کرکے ایمان کی دعوت دے رہا ہے، تو کہتا ہے کہ میں تو صرف اپنے خالق مالک اللہ وحدہ لاشریک لہ کی قدرت کی ہی عبادت کرتا ہوں جبکہ صرف اسی نے مجھے پیدا کیا ہے تو میں اس کی عبادت کیوں نہ کروں ؟ پھر یہ نہیں کہ اب ہم اس کی قدرت سے نکل گئے ہیں ؟ اس سے اب ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا ہو ؟ نہیں بلکہ سب کے سب لوٹ کر پھر اس کے سامنے جمع ہونے والے ہیں۔ اس وقت وہ ہر بھلائی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یٰسٓ 21 اس فقرے میں پھر حکمت تبلیغ کا ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے۔ یہ کہہ کر اس شخص نے ان لوگوں کو یہ احساس دلایا کہ جس رب پر میں ایمان لایا ہوں وہ محض میرا ہی رب نہیں ہے بلکہ تمہارا رب بھی ہے۔ اس پر ایمان لا کر میں نے غلطی نہیں کی ہے بلکہ اس پر ایمان نہ لا کر تم ہی غلطی کر رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) انی امنت بربکم فاسمعون یعنی میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں تم سن لو۔ اس کا مخاطب اس کی قوم بھی ہو سکتی ہے، اور اس میں اللہ تعالیٰ کو ان کا رب کہنا اظہار حقیقت کے لئے تھا، اگرچہ وہ اس کو تسلیم نہ کرتے تھے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خطاب رسولوں کو ہو، اور فاسمعون کہنے کا مقصد یہ ہو کہ آپ سن لیں اور اللہ کے سامنے میرے ایمان کی شہادت دیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 22–25

آیت 22۔ 25 اندازِ کلام دلیل ہے کہ یہ بات انہوں نے قوم کے لیڈروں کی ملامت کے جواب میں فرمائی ہے۔ جب انہوں نے کھلم کھلا لوگوں کو رسولوں کی پیروی کی دعوت دی ہوگی تو ظاہر ہے کہ مفاد پرست لیڈروں نے ان کو قوم اور دین آبائی کا دشمن ٹھہرایا ہوگا۔ ان کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ آخر اس کی بندگی میں کیوں نہ کروں جس نے مجھے وجود بخشا اور جس کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے۔ ’ والیہ ترجعون ‘ میں خطاب کا صیغہ تنبیہ کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج جس رب کی بندگی سے تم لوگ اس شدو مد کے ساتھ مجھے روک رہے ہو، ایک دن پیشی سب کی اسی کے حضور میں ہونی ہے اور تمہیں اس کے آگے جواب دہی کرنی ہے۔ ء اتخذمن دونہ الھۃ الایۃ ‘۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 25–26

25۔ 1 اس کی دعوت توحید اور اقرار توحید کے جواب میں قوم نے اسے قتل کرنا چاہا تو اس نے پیغمبروں سے خطاب کر کے یہ کہا مقصد اپنے ایمان پر ان پیغمبروں کو گواہ بنایا تھا۔ یا اپنی قوم سے خطاب کر کے کہا جس سے مقصود دین حق پر اپنی صلاحیت اور استقامت کا اظہار تھا کہ تم جو چاہو کرلو، لیکن اچھی طرح سن لو کہ میرا ایمان اسی رب پر ہے، جو تمہارا بھی رب ہے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کو مار ڈالا اور کسی نے ان کو اس سے نہیں روکا۔ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–25

8: روایتوں میں ان کا نام حبیب نجار بتایا گیا ہے۔ یہ پیشے کے لحاظ سے بڑھئی تھے، اور ان رسولوں کی دعوت پہلے ہی قبول کر کے ایمان لا چکے تھے، اور شہر کے سرے پر کہیں تنہا رہ کر عبادت میں لگے رہتے تھے۔ جب انہیں پتہ چلا کہ ان کی قوم کے لوگ ان رسولوں کو تکلیف پہنچانے کے درپے ہیں تو یہ جلدی سے وہاں پہنچے، اور بڑے مؤثر انداز میں اپنی قوم کے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 24–25

انی اذا لفی ضلل مبین (36: 24) ” اگر میں ایسا کروں تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں گا “۔ اس رجل مومن نے لوگوں کے سامنے فطری سوچ تو پیش کردی ، نہایت ہی سچے اور عارفانہ اور واضح انداز میں۔ اب وہ خود اپنا فیصلہ ان کو سناتا ہے۔ وہ جو تکذیب پر تلے ہوئے ، وہ جو تشدد پر آمادہ ہیں۔ یہ فیصلہ وہ اس لئے سناتا ہے کہ یہ فطری آواز اس کے دل کو ایمان سے بھر چکی ہے۔ اس کا دل اب کسی دھمکی اور کسی نامعقول تہدید و تکذیب کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ وہ کہتا ہے۔ انی امنت بربکم فاسمعون (36: 25) ” میں تمہارے ربپر ایمان لایا ہوں سن لو میری بات “۔ یوں اس نے نہایت اطمینان ، نہایت اعتماد کے ساتھ اپنے ایمان کا آخری اعلان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی مجمع میں بےکھٹکے اعلان کرتا ہوں کہ میں خدائے واحد پر ایمان لا چکا۔ اسے سب سن رکھیں شاید مرسلین کو اس لیے سنایا ہو کہ وہ اللہ کے ہاں گواہ رہیں اور قوم کو اس لیے کہ سن کر کچھ متاثر ہوں یا کم ازکم دنیا ایک مومن کی قوت ایمان کا مشاہدہ کرنے کی طرف متوجہ ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 25 { اِنِّیْٓ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنِ } ”میں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں ‘ سو میری بات سنو !“ یعنی اللہ کے یہ تینوں رسول علیہ السلام تمہیں توحید کی دعوت دے رہے ہیں اور تمہیں تمہارے رب کی طرف بلا رہے ہیں۔ ان کی یہ باتیں تمہاری سمجھ میں آئیں نہ آئیں میں ان کی حقیقت تک پہنچ چکا ہوں۔ اور تم ان کی تصدیق کرو نہ کرو میں تو ان پر ایمان لا چکا ہوں۔ یوں اللہ کے اس بندے نے ڈنکے کی چوٹ اپنے ایمان کا اعلان کردیا۔ یہ سنتے ہی اس کی قوم کے لوگ غصے سے پاگل ہوگئے۔ انہیں ان رسولوں پر تو زیادہ غصہ نہ آیا ‘ کیونکہ وہ باہر سے آئے ہوئے افراد تھے ‘ لیکن اپنی قوم کے ایک فرد کی طرف سے اس ”اعلانِ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

27 اپنے ایمان کا برملا اعلان :۔ یہ باتیں سمجھانے کے بعد اس نے کافروں کے بھرے مجمع میں پوری جرأت کے ساتھ اپنے ایمان کا اعلان کردیا اور اعلان بھی اس انداز میں کیا کہ میں تمہارے پروردگار پر ایمان لاچکا یہ نہیں کہا کہ میں اپنے پروردگار پر ایمان لاچکا۔ یعنی جیسے وہ میرا پروردگار ہے ویسے ہی تمہارا بھی ہے۔ اور میں اس پر ایمان لاکر غلطی نہیں کر رہا بلکہ تم ایمان نہ لاکر غلطی کر رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 22–25

15۔ مرد مومن کی تقریر کا حاصل یہ ہے کہ جب پروردگار وہی ایک اور داور حشر بھی وہی ایک، اور سارے دیوی دیوتا بےاختیار محض، تو آخر دین توحید چھوڑ کر شرک اختیار کرنے کے معنی ہی کیا ؟ یہ تو سرتاسر محض بےعقلی ہی ہوئی۔ (آیت) ” الذی فطرنی والیہ ترجعون “۔ خالق بھی وہی داور حشر بھی وہی۔ مبدا بھی وہی۔ منتہی بھی وہی۔ ہر سادہ وسلیم فطرت والا بعینہ یہی استدلال کرے گا۔ (آیت) ” ومالی لا اعبد۔ ء اتخذ۔ انی اذا “۔ ہر جگہ صیغہ واحد متکلم کے استعمال سے مفسر تھانوی (رح) نے یہ استنباط کیا ہے کہ مرد مومن نے یہ سب اپنے اوپر رکھ کر اس لیے کہا کہ مخاطبین کو اشتعال نہ ہو، جو غور و تدبر کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ (آیت) ” انی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–32

آیت نمبر 13 تا 32 ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انی امنت بربکم فاسمعون بلاشبہ میں تمہارے رب پر (یعنی جو حقیقی رب ہے ‘ اس پر) ایمان لا چکا ‘ سو تم میری یہ بات سن لو۔ بِرَبِّکُمْ یعنی جس رب نے تم کو پیدا کیا ہے۔ خطاب قوم کو ہے یا بادشاہ کو۔ فَاسْمَعُوْنَ یعنی میرے ایمان کی اطلاع سن لو۔ اس تفسیر پر یہ قول جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے ‘ نصیحت کا تتمہ قرار دپائے گا ‘ کیونکہ قوم والوں سے جب اس نے کہا تھا : اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ تو گویا قوم نے اس سے دریافت کیا کہ تو ان پر ایمان لے آیا ؟ اس کے جواب میں اس نے کہا : اِنَّیْٓ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمِعُوْنَ میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا ‘ میرے ایمان کے اقرار کو تم بھی سن لو ‘ اگر یہ بہتر نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

پھر ان سے حبیب نجار نے فرمایا کہ میں تمہارے پروردگار پر ایمان لاچکا تم بھی میری بات مانو یا یہ کہ حبیب نجار نے رسولوں سے کہا کہ میں تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا لہٰذا تم میری اس بات پر گواہ رہو اور میں اللہ کا بندہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنِّىْٓ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِ : پھر اس مرد ناصح نے لوگوں کو اور اس بستی کی طرف بھیجے گئے پیغمبروں کو، سب کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے ایمان لانے کا اور اس پر اپنی استقامت کا اعلان کیا، یعنی میں اس رب پر ایمان لایا ہوں جو میرا ہی نہیں تمہارا بھی رب ہے، سو تم پر لازم ہے کہ میری بات غور سے سنو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–29

رجل سے مراد حبیب بن مری ہے وہ بڑھئی تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ اسکاف) جوتا ( بنانے والا تھا۔ ایک قول کیا گیا۔ وہ دھوبی تھا۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاد اور مقاتل نے کہا۔ وہ حبیب بن اسمائیل نجاز تھا وہ بت تراشا کرتا تھا یہ نبی کریم ﷺ پر ایمان لایا جب کہ درمیان میں چھ سو سال کا عرصہ ہے جس طرح تعہ اکبر ورقہ بن نوفل اور دوسرے لوگ ایمان لائے کوئی فرد کسی نبی پر ایمان نہیں لایا تھا ‘ مگر اس وقت جب وہ نبی ظاہر ہوچکا تھا (1) ۔ وہب نے کہا ’ حبیب کو جزام کا مرض تھا اس کا گھر شہر کے دروازوں میں سے آخری دروازے کے پاس تھا وہ ستر سال تک بتوں کی عبادت میں مصروف رہا اور دعا کرتا رہا ممکن ہے وہ بت اس پر رحم کریں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–27

وقولہ تعالیٰ : (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی قال یقوم اتبعو المرسلین (20) اتبعوامن لا یسئلکم اجراوھم مھتدون (21) ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون (22) ۔ 19:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی “ کے بارے میں روایت کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ آدمی نماز میں اللہ کی عبادت کرتا تھا اور اس کا نام حبیب تھا (جب) اس نے ان لوگوں کے بارے میں سنا جن کو عیسیٰ (علیہ السلام) نے انطاکیہ والوں کی طرف بھیجا تھا وہ ان کے پاس آیا اور کہا تم کسی اجرت کا تقاضا کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں تو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنِّىْٓ اٰمَنْتُ [بیشک میں ایمان لایا ] بِرَبِّكُمْ [تم لوگوں کے رب پر ] فَاسْمَعُوْنِ [تو تم سب سن لو مجھ سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 21–25

اس کے بعد اس شخص نے اپنے دین توحید کا کھل کر اعلان کردیا کہ (اِنِّیْ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنَ ) (بلاشک و شبہ میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا تم میرے اس اعلان کو سن لو) اس اعلان میں (بِرَبِّیْ ) نہیں کہا بلکہ (بِرَبِّکُمْ ) کہا جس میں انہیں تنبیہ کردی اور یہ بتادیا کہ جو تمہارا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے، دوسرے یہ بتایا کہ تم اسی کی طرف واپس جاؤ گے، تیسرے یہ بتایا کہ تم نے جو اس کے علاوہ معبود بنا رکھے ہیں بےحقیقت ہیں، چوتھے یہ بتایا کہ تم کھلی ہوئی گمراہی میں ہو، اور پانچویں یہ بتادیا کہ میں نے یہی دین اختیار کیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کروں تم بھی یہ دین اختیار کرلو۔ معالم التنزیل میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–32

بقیہ قصہ مرد صالح مشتمل برپندو نصائح برائے اصلاح قوم قال اللہ تعالیٰ وما لی لا اعبد الذی فطرنی۔۔۔ الی۔۔۔ وان کل لما جمیع لدینا محضرون۔ خلاصہء کلام یہ کہ منتہائے شہر سے ایک مرد صالح دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو نصیحت کرنے لگا کہ تم مرسلین کی پیروی کرو کیونکہ یہ لوگ خود غرضی سے بالکلیہ پاک ہیں جو مانع اتباع ہے اس لئے کہ وہ تم سے کسی قسم کا معاوضہ نہیں مانگتے لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا کے مصداق کامل ہیں اور خود حق اور راہ راست پر ہیں اور تم کو بھی حق اور راہ راست کی دعوت دے رہے ہیں جو اتباع اور پیروی کا داعی اور مقتضی ہے اور میں نے تو حق کو پہچان لیا اور دل وجان سے ان کو قبول کرلیا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–26

18:۔ قیل ادخل الخ، اس سے پہلے اندماج ہے، ولما قتل قیل لہ ادخل الجنۃ (مدارک ج 4 ص 5) ، یعنی جب اسے قتل کردیا گیا تو اس سے کہا گیا جنت میں داخل ہوجاؤ۔ حبیب نجار چونکہ شہید تھا اس لیے دیگر شہداء کی طرح اس کی روح کو پرندے کے قالب میں جنت میں داخل کردیا گیا۔ فادخلہ اللہ الجنۃ وھو حی فیہا یرزق یعی حیوۃ الشہداء (مظہری ج 8 ص 79) ۔ 19:۔ قال یلیت الخ، جب اس نے جنت میں اپنا بےپایاں اعزازو اکرام اور بےحد و حساب نعمتیں دیکھیں تو تمنا کرنے لگا کہ کاش ! میری قوم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کس چیز کے سبب بخش دیا اور جنت میں داخل کیا ہے۔ اور اپنی بےحساب نوازشوں سے نوازا یعنی اللہ کی توحید پر ایمان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 20–32

مکی سورتوں کے چار بنیادی عقائد میں سے اس رکوع میں رسالت کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ گزشتہ درس میں انطاکیہ کی بستی کا ذکر ہوا کہ اس میں اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبغلین دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آئے تو اہل بستی نے ان کی تکذیب کی ، بدسلوکی کرنے اور ایذا پہنچانے کے علاوہ ان کو طعن بھی کیا کہ تمہاری آمد کی وجہ سے ہم پر نحوست چھا گئی ہے ، ہمارے علاقے میں خشک سالی پیدا ہوگئی ہے اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ رسولوں نے جواب دیا کہ یہ نامبارکی ہماری وجہ سے نہیں ہے بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھنے والے ہو۔ جس کی سزا تمہیں مل رہی ہے۔ ایک مومن کی خیر خواہی مرسلین نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنِّىْٓ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِ۝ 2 5ۭ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–25

ترکیب : اصحٰب القریۃ معناہ واضرب لہم مثلا مثل اصحاب القریۃ فترک المثل و اقیم الاصحاب مقامہ فی الاعراب کقولہ و اسئل القریۃ کشاف وقیل المعنی اجعل اصحاب القریۃ لھم مثلاً علی ان یکون مثلا و اصحٰب القریۃ مفعولین لاضرب او یکون اصحاب القریۃ بدلا من مثلا فعلی ھذا اضرب بمعنی مثل وھو یتعدی الی مفعولین لتضمنہ معنی الجعل و ھما مثلا اصحٰب القریۃ علی حذف مضاف اذ جاء بدل من اصحٰب القریۃ بدل الاشتمال اَئِنْ ذکرتم شرط و جو ابہ محذوف مثل تطیرتم لما جمیع قریٔ مشدد او مخففا قال الفراء من شدو جعل لما بمعنی الاوان بمعنی ما۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا۔ انک لمن المرسلین اور اس کے بعد یہ بھی فرمایا تھا کہ ازلی گمراہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنِّیْٓ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنِ ۔ (یٰسٓ: 25) (بےشک میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں، پس تم میری بات سنو۔ ) اتمامِ حجت اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب اس مخلص انسان نے محسوس کیا کہ یہ سنگ دل لوگ بجائے میری ہمدردی اور خیرخواہی میں ڈوبی ہوئی تقریر سے اثر لینے کے مجھے سنگسار کردینے پر تل گئے ہیں اور ان کی جاہلی عصبیت نے انہیں بالکل درندہ بنادیا ہے۔ تو انھوں نے اتمامِ حجت کے طور پر سب کے سامنے اعلان کیا کہ میں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں کیونکہ مجھے اس بات کا احساس ہے کہ جو میرا خالق اور رب ہے بندگی بھی اسی کی زیب دیتی ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرسکتا۔ اس لیے میں اس کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–26

فہم القرآن ربط کلام : شہید مبلّغ کا بہترین انجام اور صلہ۔ قرآن مجید نے لفظاً یہ بات واضح نہیں فرمائی کہ اس عظیم مبلّغ کا اپنی قوم کے ہاتھوں کیا انجام ہوا۔ البتہ سیاق وسباق سے یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ قوم نے اس عظیم مبلّغ کو شہیدکر ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل فرمایا جونہی اس کی روح جنت میں داخل ہوئی تو پکار اٹھی کہ کاش ! میری قوم کو میرے بہترین انجام کی خبر ہوجائے۔ میرے رب نے میری خطاؤں کو معاف فرما کر مجھے اپنے مقرب بندوں میں شامل کرلیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی رہتی دنیا تک اسے یہ اعزاز بخشا گیا کہ اس کے خیالات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے الفاظ میں ہمیشہ ہمیش کے لیے محفوظ فرمایا اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

25: جب اس نے اپنی قوم کو نصیحت کی تو وہ اس کو پتھر مارنے لگے پس وہ رسولوں کی طرف قتل سے قبل چل دیا۔ اور ان کو مخاطب ہو کر کہنے لگا۔ اِنِّیْ ٰامَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنِ (میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لا چکا پس تم میری بات سن لو) تم میری اس ایمانی بات کو سن لو تاکہ تم میرے متعلق کل آخرت میں گواہی دو ۔ جب وہ قتل کردیا گیا تو

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

25، انی امنت بربکم فاسمعون، یعنی مجھ سے سن لو۔ جب اس شخص نے یہ بات کہی تو قوم والوں نے اس پر ایک ہی مرتبہ حملہ کرکے قتل کردیا۔ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ قدموں سے اسے رونددیا تو اس کی آنتیں نیچے سے نکل گئیں۔ سید ی فرماتے ہیں لوگ اس کو پتھروں سے مار رہے تھے اور وہ کہہ رہا تھا اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت کر، آخراس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے قتل کردیا۔ حسن فرماتے ہیں کہ اس کے گلے کو پھاڑکرشہر کی فصیل میں لٹکادیا، ان کی قبرانطاکیہ میں ہے ، اللہ نے اس کی جت میں داخل کردیا، وہ زندہ ہے اللہ کی طرف سے اس کو روزی ملتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 20–25

20 تا 25۔ جس بستی کا اوپر ذکر تھا اسی بستی کے پرے سرے سے یہ نیک شخص دوڑتا ہوا آیا شاہ (عبدالقادر) صاحب اپنے فائدہ 2 ؎ جس طرح لکھا ہے (2 ؎ یہ شہر تھا انطاکیہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے دو یار وہاں پہنچے ‘ شہروالوں نے ٹال دیا ‘ پھر تیسرے یار بھی پہنچے یہ تیسرے بڑے یار تھے (موضح القرآن) اسی طرح ابن اسحاق کی روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اور کعب احبار اور وہب بن منبہ اور عکرمہ وقتاوہ اور زہری وغیرہ نے بھی اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ ان آیتوں میں جس شہر کا ذکر ہے وہ شہر انطاکیہ تھا اور جن رسولوں کا ذکر ہے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تین حواری تھے مگر حافظ عماد الدین ابن کثیر 3 ؎ نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 22–30

آیت 22 اس شخص نے کہا : (ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون) یعنی میرے لئے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کو نسی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندے کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے، وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کرسکتی ہیں نہ محروم کرسکتی ہیں، جن کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 23–28

31 تکذیب و انکارِ حق کا نتیجہ و انجام ہولناک تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حق اور اہل حق کی تکذیب اور انکار کرنے والوں کیلئے عذاب الہی کا دستور ایک قطعی اور طے شدہ امر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی اس ناہنجار قوم کو اس کے کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ہمیں کسی خاص اہتمام اور تیاری کی ضرورت نہ تھی کہ ان کے لئے آسمان سے فرشتوں کی کوئی جماعت نازل کرتے۔ اور نہ ہمیں ایسے کسی کام کے لئے فرشتے اتارنے کی ضرورت ہی ہوتی ہے۔ بدر میں جو فرشتے اتارے گئے تھے وہ بھی محض اہل ایمان کی تسلی وتبشیر اور اطمینان کے لئے تھے۔ ورنہ مدد تو وہاں بھی اللہ پاک ہی کی طرف سے تھی جیسا کہ اس بارے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–32

قوم موسیٰ سے ایک مومن کا تذکرہ اور رسولوں کی تکذیب کرنیوالوں پر افسوس تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا برگز یدہ بندہ تھا سیدھا جنت میں گیا۔ اب یہاں سے ایک نکتہ نکلتا ہے۔ کیونکہ مسلمان کو تو عالم برزخ کے بعد جنت میں جانا ہوگا۔ یہاں شہید کی فضیلت ظاہر کی گئی ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے۔ ” قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا “۔ یوں ثابت ہوگیا کہ عالم برزخ تو ضروری ہے۔ اسی لئے تو مسلمان باقی دعاؤں کے ساتھ قبر کے عذاب سے بھی پناہ مانگتا ہے۔ اصل میں اس قبر کے قیام کی بھی اتنی حالتیں ہوتی ہیں۔ نیک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–32

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 32: اسرار و معارف : اس کی بات کیا مانتے الٹا اسے بھی کہنے لگے کہ تم بھی یہ نیا دین کیوں اپنا رہے ہو بھلا باپ دادا کا مذہب خراب تھا کیا یا وہ سب گمراہ تھے تو اس نے کہا کہ میرے پاس تو ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ میں اس ذات کریم کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے قائم رکھا ہے نیز اس کے یہی احسانات تم سب پر بھی ہیں اور پھر بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی سب کو پلٹ کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور اپنے کردار و عمل کا حساب دینا ہے پھر کتنی احمقانہ بات ہے کہ میں اس اتنے بڑے مہربان کو چھوڑ کر کسی بھی دوسرے کو معبود بنا لوں کہ اگر وہ ناراض ہو کر مجھے سزا دے تو یہ بت یا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی میں جس خدا پر ایمان لایا ہوں وہ میرا ہی نہیں تمہارا بھی پروردگار ہے لہٰذا تمہیں میری بات سننی چاہیے اور صرف ایک خدا پر ایمان لانا چاہیے۔ یہ اس شخص کا اپنی قوم سے خطاب ہے۔ بعض مفسرین (رح) نے اس جملہ کا مخاطب انبیاء ( علیہ السلام) کو قرار دیتے ہوئے یہ مطلب بیان کیا ہے ” اپے جس رب اللہ تعالیٰ کی طرف تم دعوت دے رہے ہوئیں اس پر ایمان لے آیا، تم میرے مومن ہونے کے گواہ رہو “۔ یہ تاویل حضرت عبد اللہ بن ؓ مسعود سے منقول ہے جو ابن جریر (رح) اور قرطبی (رح) نے ذکر کی ہے اور حافظ ابن کثیر (رح) نے اسے اظہر قرار دیا ہے۔ بہر حال اس بات کے کہنے پر اس کی قوم کے لوگ اس پر پل پڑے اور اسے شہید کردیا۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:25) انی امنت بربکم (میں ایمان لے آیا ہوں تمہارے رب پر) ۔ اس کی تین صورتیں ہیں ! (1) یہ خطاب قوم سے ہے جس کو اس نے یوں خطاب کیا تھا۔ یقوم اتبعوا المرسلین۔ (2) یہ خطاب بادشاہ سے ہے جس کے پاس قوم کے آدمی اسے پکڑ کرلے گئے تھے۔ (3) بعض علما نے کہا ہے کہ بربکم میں خطاب رسولوں کو ہے کیونکہ جب اس کو یقین ہوگیا کہ مجھے قتل کردیا جائے گا۔ تو اس نے اپنے مومن ہونے کا پیغمبروں کو گواہ بنا لیا۔ اور کہا کہ میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں۔ میرے گواہ رہنا۔ ترجیحا یہ خطاب قوم سے ہی ہے۔ فاسمعون۔ اسمعوا۔ سماع سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے ن وقایہ ہے ی متکلم کی محذوف ہے ۔ پس میری سنو ! یعنی میرے ایمان کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–32

لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے) تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–32

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔ ( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–26

[10] یعنی جب سے تم نے آ کر ہمارے معبودوں کے خلاف باتیں کرنی شروع کی ہیں وہ ہم سے ناراض ہوگئے ہیں۔ اب جو مصیبت بھی ہم پر آتی ہے وہ تمہاری بدولت ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–26

میں کیوں خدا کی عبادت نہ کروں ؟ 1: جب کسی قوم نے اللہ کے رسولوں کی مخالفت کی اور اس کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ تو انہیں میں ایک مرد مومن اٹھا اور جس نے ان کی ہمنوائی کی ۔ اس نے کہا کہ اے قوم تم مجھے توحید پر ملامت کرتے ہو اور کہتے ہو کہ میں ایک خدا کی پرستش کیوں کرتا ہوں ۔ مجھے تو اس بات میں کوئی وجہ معقول نظر نہیں آتی ۔ کہ رب فاطر کو چھوڑ کر دوسروں کے سامنے جھکوں ۔ آخر کیوں نہ میں اس کی عبادت کروں ۔ جس نے مجھے وجوہ کی نعمت سے نواز ہے ۔ اور پھر بالآخر اسی کی جانب لوٹ جانا ہے ۔ کیا تمہاری رائے ہے ۔ کہ میں خدا کو چھوڑ دوں اور ایسے معبودان باطل کو اپنا خدا سمجھ لوں ۔ جن کا کائنات میں کوئی حصہ نہیں ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(25) میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لا چکا ہوں سو تم میری بات سن لو۔ یعنی میں ایمان لا چکا ہوں تم بھی ایمان لے آئو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آگے نقل کرتے ہیں کہ قوم نے اس کو شہید کیا اور بعضے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جیتا اٹھا لیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میں نے تمہارے رب کو مان لیا ‘ تم میری بات سنو ! : 25۔ اسی اللہ کے بندے نے اس بستی کے سارے وڈیروں کو مخاطب کرکے کیا پیارا انداز تبلیغ اختیار کیا کہ میں تمہارا رب پر ایمان لایا ہوں گویا اللہ رب العزت کو کوئی مانے یا نہ مانے ‘ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے سب کا رب تو وہی ہے ۔ بلاریب حق کا علم بردار بہت ہی نڈر اور بےباک ہوتا ہے ، ساری بستی کے لوگ ایک ہیں اور خصوصا اس بستی کے رئیس اور سردار اس بستی کے لوگوں کے ساتھ ہیں سارا ماحول اس اللہ کے بندے سے کبیدہ خاطر ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ ان کے من گھڑت معبودوں ‘ حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کا انکار کرتے ہوئے ایک ہی پروردگار کے ہونے کا اعلان کرتا ہے ۔ سبحان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The addressee here could be his own people where calling Allah Ta’ ala their Lord was to express a reality - though, they did not accept it. Then, it could also be that this address is to the messengers and the purpose of saying: إِنِّي آمَنتُ بِرَ‌بِّكُمْ فَاسْمَعُونِ (listen to me) may be that they should hear what he was saying and bear witness before Allah that he was a believer.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

21 This sentence again contains a subtle point of the wisdom of preaching. Saying this the man made the people realize: "The Lord in Whom I have believed is not merely my Lord but your Lord, too. I have committed no error by believing in Him, but you, in fact, are certainly committing an error by not believing in Him. "

Read the full tafseer →