Explained with ayahs 22–25
راہ حق کا شہید۔
وہ نیک بخت شخص جو اللہ کے رسولوں کی تکذیب و تردید اور توہین ہوتی دیکھ کر دوڑا ہوا آیا تھا اور جس نے اپنی قوم کو نبیوں کی تابعداری کی رغبت دلائی تھی وہ اب اپنے عمل اور عقیدے کو ان کے سامنے پیش کر رہا ہے اور انہیں حقیقت سے آگاہ کرکے ایمان کی دعوت دے رہا ہے، تو کہتا ہے کہ میں تو صرف اپنے خالق مالک اللہ وحدہ لاشریک لہ کی قدرت کی ہی عبادت کرتا ہوں جبکہ صرف اسی نے مجھے پیدا کیا ہے تو میں اس کی عبادت کیوں نہ کروں ؟ پھر یہ نہیں کہ اب ہم اس کی قدرت سے نکل گئے ہیں ؟ اس سے اب ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا ہو ؟ نہیں بلکہ سب کے سب لوٹ کر پھر اس کے سامنے جمع ہونے والے ہیں۔ اس وقت وہ ہر بھلائی…
Read the full tafseer →سورة یٰسٓ 20
یعنی یہ جانتے ہوئے بھی اگر میں ان کو معبود بناؤں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
(آیت) وجاء من اقصی المدینہ رجل یسعیٰ ، پہلی آیت میں اس مقام کو جس میں یہ قصہ پیش آیا لفظ قریہ سے تعبیر کیا گیا جو عربی زبان کے اعتبار سے صرف چھوٹے گاؤں کو نہیں بلکہ مطلق بستی کو کہتے ہیں، چھوٹی بستی ہو یا بڑا شہر۔ اور اس آیت میں اس مقام کو لفظ مدینہ سے تعبیر کیا جو صرف بڑے شہر ہی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس بستی میں یہ واقعہ ہوا ہے وہ کوئی بڑا شہر تھا، اس سے بھی اس قول کی تائید ہوتی ہے جس میں اس کو انطاکیہ قرار دیا ہے۔ اقصی المدینہ سے مراد شہر کے کسی گوشہ سے آنا ہے۔ رجل یسعیٰ ، لفظ یسعیٰ سعی سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی دوڑ کر چلنے کے ہیں۔ اس لئے معنی یہ ہوئے کہ شہر کے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
آیت 22۔ 25
اندازِ کلام دلیل ہے کہ یہ بات انہوں نے قوم کے لیڈروں کی ملامت کے جواب میں فرمائی ہے۔ جب انہوں نے کھلم کھلا لوگوں کو رسولوں کی پیروی کی دعوت دی ہوگی تو ظاہر ہے کہ مفاد پرست لیڈروں نے ان کو قوم اور دین آبائی کا دشمن ٹھہرایا ہوگا۔ ان کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ آخر اس کی بندگی میں کیوں نہ کروں جس نے مجھے وجود بخشا اور جس کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے۔ ’ والیہ ترجعون ‘ میں خطاب کا صیغہ تنبیہ کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج جس رب کی بندگی سے تم لوگ اس شدو مد کے ساتھ مجھے روک رہے ہو، ایک دن پیشی سب کی اسی کے حضور میں ہونی ہے اور تمہیں اس کے آگے جواب دہی کرنی ہے۔
ء اتخذمن دونہ الھۃ الایۃ ‘۔…
Read the full tafseer →24۔ 1 یعنی اگر میں بھی تمہاری طرح اللہ کو چھوڑ کر ایسے بےاختیار اور بےبس معبودوں کی عبادت شروع کر دوں، تو میں بھی کھلی گمراہی میں جا گروں گا۔ یا ضلال یہاں حسران کے معنی میں ہے، یعنی یہ تو نہایت واضح خسارے کا سودا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
8: روایتوں میں ان کا نام حبیب نجار بتایا گیا ہے۔ یہ پیشے کے لحاظ سے بڑھئی تھے، اور ان رسولوں کی دعوت پہلے ہی قبول کر کے ایمان لا چکے تھے، اور شہر کے سرے پر کہیں تنہا رہ کر عبادت میں لگے رہتے تھے۔ جب انہیں پتہ چلا کہ ان کی قوم کے لوگ ان رسولوں کو تکلیف پہنچانے کے درپے ہیں تو یہ جلدی سے وہاں پہنچے، اور بڑے مؤثر انداز میں اپنی قوم کے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
انی اذا لفی ضلل مبین (36: 24) ” اگر میں ایسا کروں تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں گا “۔ اس رجل مومن نے لوگوں کے سامنے فطری سوچ تو پیش کردی ، نہایت ہی سچے اور عارفانہ اور واضح انداز میں۔ اب وہ خود اپنا فیصلہ ان کو سناتا ہے۔ وہ جو تکذیب پر تلے ہوئے ، وہ جو تشدد پر آمادہ ہیں۔ یہ فیصلہ وہ اس لئے سناتا ہے کہ یہ فطری آواز اس کے دل کو ایمان سے بھر چکی ہے۔ اس کا دل اب کسی دھمکی اور کسی نامعقول تہدید و تکذیب کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ وہ کہتا ہے۔
انی امنت بربکم فاسمعون (36: 25) ” میں تمہارے ربپر ایمان لایا ہوں سن لو میری بات “۔ یوں اس نے نہایت اطمینان ، نہایت اعتماد کے ساتھ اپنے ایمان کا آخری اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
3 یعنی کس قدر صریح گمراہی ہے کہ اس مہربان اور قادر مطلق پروردگار کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے جو خدا کی بھیجی ہوئی کسی تکلیف سے نہ بذات خود چھڑا سکیں نہ سفارش کر کے نجات دلا سکیں۔
Read the full tafseer →آیت 24 { اِنِّیْٓ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”تب تو میں یقینا بہت کھلی گمراہی میں پڑ جائوں گا۔“
اگر میں معبودِ حقیقی کے ساتھ جھوٹے خدائوں کو شریک کرنے کی حماقت کرلوں جنہیں کسی چیز کا بھی اختیار نہیں تو ایسی صورت میں تو میں سیدھے راستے سے بالکل ہی بھٹک جائوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
26 پانچویں بات اس نے یہ سمجھائی کہ میں ایسے مشکل کشاؤں کی مشکل کشائی کا ہرگز قائل نہیں کہ اگر میرا پروردگار مجھے کسی تکلیف میں مبتلا کر دے تو ان میں نہ تو اتنی طاقت ہے کہ وہ اللہ کے مقابلہ میں مجھے اس تکلیف سے بچا سکیں اور نہ یہ کرسکتے ہوں کہ اللہ سے سفارش کرکے مجھے اس مشکل سے نجات دلا سکیں۔ یہ باتیں وہ کہہ تو اپنے آپ رہا تھا مگر بمصداق گفتہ آید درحدیث دیگراں سنا سب کچھ قوم کو رہا تھا کہ تمہیں اس طرح کی بےبس اور بےاختیار چیزوں کو ہرگز معبود نہ بنانا چاہئے۔ اور یہی عیوب کفار مکہ میں پائے جاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
15۔ مرد مومن کی تقریر کا حاصل یہ ہے کہ جب پروردگار وہی ایک اور داور حشر بھی وہی ایک، اور سارے دیوی دیوتا بےاختیار محض، تو آخر دین توحید چھوڑ کر شرک اختیار کرنے کے معنی ہی کیا ؟ یہ تو سرتاسر محض بےعقلی ہی ہوئی۔ (آیت) ” الذی فطرنی والیہ ترجعون “۔ خالق بھی وہی داور حشر بھی وہی۔ مبدا بھی وہی۔ منتہی بھی وہی۔ ہر سادہ وسلیم فطرت والا بعینہ یہی استدلال کرے گا۔ (آیت) ” ومالی لا اعبد۔ ء اتخذ۔ انی اذا “۔ ہر جگہ صیغہ واحد متکلم کے استعمال سے مفسر تھانوی (رح) نے یہ استنباط کیا ہے کہ مرد مومن نے یہ سب اپنے اوپر رکھ کر اس لیے کہا کہ مخاطبین کو اشتعال نہ ہو، جو غور و تدبر کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ (آیت) ” انی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
آیت نمبر 13 تا 32
ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…
Read the full tafseer →انی اذا لفی ضلال مبین . اگر میں ایسا کروں گا تو صریح گمراہی میں جا پڑوں گا۔
لاَ تُغٰنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُھُمْ یعنی تمہارے خیال میں جو یہ معبود سفارش کریں گے (اگر بالفرض انہوں نے سفارش کی) تو ان کی شفاعت میرے کام نہ آئے گی (مطلب یہ کہ ان کو شفاعت کرنے کا اختیار ہی نہ ہوگا ‘ مترجم) اور اگر اللہ مجھے عذاب دے گا تو یہ معبود مجھے اللہ کے عذاب سے چھڑا نہیں سکیں گے۔ دفع ضرر اور عذاب سے رہائی کیلئے شفاعت کا کام میں نہ آنا ظاہر کر کے شفاعت کے بےسود ہونے کو پرزور طریقہ سے بیان کردیا کیونکہ شفاعت سے رحمت کا حصول تو بڑی بات ہے ‘ جب دفع ضرر معبودوں کی شفاعت سے ممکن نہیں تو حصول رحمت کیسے ممکن ہوسکتا…
Read the full tafseer →اور اگر اللہ تعالیٰ کے علاوہ میں ان کو پوجنا شروع کردوں تو میں تو کھلی گمراہی میں جاپڑا۔
Read the full tafseer →اِنِّىْٓ اِذًا لَّفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : یعنی اگر میں ایسا کروں گا تو اس وقت میں یقیناً کھلی گمراہی میں ہوں گا۔ اس بستی والوں میں عقیدے اور عمل کی جو خرابیاں تھیں وہ سب اہل مکہ میں بھی پائی جاتی تھیں۔ اس بستی والوں کی مثال کے ساتھ مقصود اہل مکہ کو سمجھانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
رجل سے مراد حبیب بن مری ہے وہ بڑھئی تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ اسکاف) جوتا ( بنانے والا تھا۔ ایک قول کیا گیا۔ وہ دھوبی تھا۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاد اور مقاتل نے کہا۔ وہ حبیب بن اسمائیل نجاز تھا وہ بت تراشا کرتا تھا یہ نبی کریم ﷺ پر ایمان لایا جب کہ درمیان میں چھ سو سال کا عرصہ ہے جس طرح تعہ اکبر ورقہ بن نوفل اور دوسرے لوگ ایمان لائے کوئی فرد کسی نبی پر ایمان نہیں لایا تھا ‘ مگر اس وقت جب وہ نبی ظاہر ہوچکا تھا (1) ۔
وہب نے کہا ’ حبیب کو جزام کا مرض تھا اس کا گھر شہر کے دروازوں میں سے آخری دروازے کے پاس تھا وہ ستر سال تک بتوں کی عبادت میں مصروف رہا اور دعا کرتا رہا ممکن ہے وہ بت اس پر رحم کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
وقولہ تعالیٰ : (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی قال یقوم اتبعو المرسلین (20) اتبعوامن لا یسئلکم اجراوھم مھتدون (21) ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون (22) ۔
19:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی “ کے بارے میں روایت کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ آدمی نماز میں اللہ کی عبادت کرتا تھا اور اس کا نام حبیب تھا (جب) اس نے ان لوگوں کے بارے میں سنا جن کو عیسیٰ (علیہ السلام) نے انطاکیہ والوں کی طرف بھیجا تھا وہ ان کے پاس آیا اور کہا تم کسی اجرت کا تقاضا کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں تو…
Read the full tafseer →اِنِّىْٓ اِذًا [بیشک میں تب تو ] لَّفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [یقینا کھلی گمراہی میں ہوں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
اس کے بعد اس شخص نے اپنے دین توحید کا کھل کر اعلان کردیا کہ (اِنِّیْ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنَ ) (بلاشک و شبہ میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا تم میرے اس اعلان کو سن لو) اس اعلان میں (بِرَبِّیْ ) نہیں کہا بلکہ (بِرَبِّکُمْ ) کہا جس میں انہیں تنبیہ کردی اور یہ بتادیا کہ جو تمہارا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے، دوسرے یہ بتایا کہ تم اسی کی طرف واپس جاؤ گے، تیسرے یہ بتایا کہ تم نے جو اس کے علاوہ معبود بنا رکھے ہیں بےحقیقت ہیں، چوتھے یہ بتایا کہ تم کھلی ہوئی گمراہی میں ہو، اور پانچویں یہ بتادیا کہ میں نے یہی دین اختیار کیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کروں تم بھی یہ دین اختیار کرلو۔
معالم التنزیل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
بقیہ قصہ مرد صالح مشتمل برپندو نصائح برائے اصلاح قوم
قال اللہ تعالیٰ وما لی لا اعبد الذی فطرنی۔۔۔ الی۔۔۔ وان کل لما جمیع لدینا محضرون۔
خلاصہء کلام یہ کہ منتہائے شہر سے ایک مرد صالح دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو نصیحت کرنے لگا کہ تم مرسلین کی پیروی کرو کیونکہ یہ لوگ خود غرضی سے بالکلیہ پاک ہیں جو مانع اتباع ہے اس لئے کہ وہ تم سے کسی قسم کا معاوضہ نہیں مانگتے لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا کے مصداق کامل ہیں اور خود حق اور راہ راست پر ہیں اور تم کو بھی حق اور راہ راست کی دعوت دے رہے ہیں جو اتباع اور پیروی کا داعی اور مقتضی ہے اور میں نے تو حق کو پہچان لیا اور دل وجان سے ان کو قبول کرلیا اور…
Read the full tafseer →17:۔ انی اذا الخ، اگر میں اللہ کے سوا اوروں کو معبود اور کارساز بنا لوں اور ان کو خدا کی بارگاہ میں شفیع غالب سمجھنے لگوں تو میں صریح گمراہی میں ہوں گا، اس کے بعد مشرکین نے اس پر پتھر برسانے شروع کردئیے اس نے اسی حال میں اپنی قوم سے خطاب کر کے اپنا آخری اعلان کیا۔ میری قوم ! سن لو، میں تمہارے خالق ومالک کی توحید پر ایمان لا چکا ہوں، تمہیں بھی اس پر ایمان لانا چاہئے۔ یا یہ خطاب رسولوں سے ہے، جب مشرکین نے اسے قتل کرنا چاہا تو اس نے رسولوں سے مخاطب ہو کر کہا جس رب نے تمہیں بھیجا ہے میں اس پر ایمان لا چکا ہوں اس لیے میرا اقرار و اعلان سن لو اور اس پر گواہ رہنا (قرطبی، ابن کثیر، ابن جریر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–32
مکی سورتوں کے چار بنیادی عقائد میں سے اس رکوع میں رسالت کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ گزشتہ درس میں انطاکیہ کی بستی کا ذکر ہوا کہ اس میں اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبغلین دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آئے تو اہل بستی نے ان کی تکذیب کی ، بدسلوکی کرنے اور ایذا پہنچانے کے علاوہ ان کو طعن بھی کیا کہ تمہاری آمد کی وجہ سے ہم پر نحوست چھا گئی ہے ، ہمارے علاقے میں خشک سالی پیدا ہوگئی ہے اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ رسولوں نے جواب دیا کہ یہ نامبارکی ہماری وجہ سے نہیں ہے بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھنے والے ہو۔ جس کی سزا تمہیں مل رہی ہے۔
ایک مومن کی خیر خواہی
مرسلین نے…
Read the full tafseer →اِنِّىْٓ اِذًا لَّفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 24
ضل
الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15]
( ض ل ل ) الضلال
۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–25
ترکیب : اصحٰب القریۃ معناہ واضرب لہم مثلا مثل اصحاب القریۃ فترک المثل و اقیم الاصحاب مقامہ فی الاعراب کقولہ و اسئل القریۃ کشاف وقیل المعنی اجعل اصحاب القریۃ لھم مثلاً علی ان یکون مثلا و اصحٰب القریۃ مفعولین لاضرب او یکون اصحاب القریۃ بدلا من مثلا فعلی ھذا اضرب بمعنی مثل وھو یتعدی الی مفعولین لتضمنہ معنی الجعل و ھما مثلا اصحٰب القریۃ علی حذف مضاف اذ جاء بدل من اصحٰب القریۃ بدل الاشتمال اَئِنْ ذکرتم شرط و جو ابہ محذوف مثل تطیرتم لما جمیع قریٔ مشدد او مخففا قال الفراء من شدو جعل لما بمعنی الاوان بمعنی ما۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا۔ انک لمن المرسلین اور اس کے بعد یہ بھی فرمایا تھا کہ ازلی گمراہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ئَ اَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِھَۃً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّلاَّ تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُھُمْ شَیْئًا وَّلاَ یُنْقِذُوْنَ ۔ اِنِّیْٓ اِذًالَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (یٰسٓ: 23، 24)
(کیا میں اس کے علاوہ دوسروں کو معبود بنائوں، اگر خدائے رحمن مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو نہ ان کی شفاعت میرے کسی کام آسکتی ہے اور نہ وہ مجھے چھڑا ہی سکتے ہیں۔ بیشک میں اس وقت ایک صریح گمراہی میں ہوں گا۔ )
شرکاء پر تنقید
اگر تمہارے کہنے میں آکر میں اس ذات کی بندگی نہ کروں اور اسے معبود نہ بنائوں جس نے مجھے پیدا کیا اور وجود بخشا۔ تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
فہم القرآن
ربط کلام : شہید مبلّغ کا بہترین انجام اور صلہ۔
قرآن مجید نے لفظاً یہ بات واضح نہیں فرمائی کہ اس عظیم مبلّغ کا اپنی قوم کے ہاتھوں کیا انجام ہوا۔ البتہ سیاق وسباق سے یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ قوم نے اس عظیم مبلّغ کو شہیدکر ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل فرمایا جونہی اس کی روح جنت میں داخل ہوئی تو پکار اٹھی کہ کاش ! میری قوم کو میرے بہترین انجام کی خبر ہوجائے۔ میرے رب نے میری خطاؤں کو معاف فرما کر مجھے اپنے مقرب بندوں میں شامل کرلیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی رہتی دنیا تک اسے یہ اعزاز بخشا گیا کہ اس کے خیالات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے الفاظ میں ہمیشہ ہمیش کے لیے محفوظ فرمایا اور…
Read the full tafseer →24: اِنّیْ اِذًا (اور بیشک میں) جبکہ میں نے بنا لیا۔ لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (اس وقت ضرور کھلی گمراہی میں جا پڑا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
23، ء اتخذ من دونہ الھۃ استفہام بمعنی انکار کے ہے کہ میں نہیں بناتا اس کے علاوہ کوئی معبود ۔ ، ان یردن الرحمن بضر، سے مراد برائی یانا پسندید ہ کام ہے۔ ، لاتغن عنی، کہ تجھ سے دوررہوں۔ ، شفاعتھم شیئا ، یعنی وہ بالکل تمہاری شفاعت نہیں کرسکتے اور نہ ہی تمہیں نفع دے سکتے ہیں ۔ ، ولا ینقذون ، یعنی اس ناپسند یدہ امور سے چھڑاسکتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ وہ عذاب سے نہیں چھڑاسکتے ۔ اگر وہ تمہیں عذاب دیدے، اگر اس فعل پر وہ تمہیں عذاب دے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
20 تا 25۔ جس بستی کا اوپر ذکر تھا اسی بستی کے پرے سرے سے یہ نیک شخص دوڑتا ہوا آیا شاہ (عبدالقادر) صاحب اپنے فائدہ 2 ؎ جس طرح لکھا ہے (2 ؎ یہ شہر تھا انطاکیہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے دو یار وہاں پہنچے ‘ شہروالوں نے ٹال دیا ‘ پھر تیسرے یار بھی پہنچے یہ تیسرے بڑے یار تھے (موضح القرآن) اسی طرح ابن اسحاق کی روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اور کعب احبار اور وہب بن منبہ اور عکرمہ وقتاوہ اور زہری وغیرہ نے بھی اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ ان آیتوں میں جس شہر کا ذکر ہے وہ شہر انطاکیہ تھا اور جن رسولوں کا ذکر ہے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تین حواری تھے مگر حافظ عماد الدین ابن کثیر 3 ؎ نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
آیت 22
اس شخص نے کہا : (ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون) یعنی میرے لئے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کو نسی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندے کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے، وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کرسکتی ہیں نہ محروم کرسکتی ہیں، جن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
31 تکذیب و انکارِ حق کا نتیجہ و انجام ہولناک تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حق اور اہل حق کی تکذیب اور انکار کرنے والوں کیلئے عذاب الہی کا دستور ایک قطعی اور طے شدہ امر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی اس ناہنجار قوم کو اس کے کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ہمیں کسی خاص اہتمام اور تیاری کی ضرورت نہ تھی کہ ان کے لئے آسمان سے فرشتوں کی کوئی جماعت نازل کرتے۔ اور نہ ہمیں ایسے کسی کام کے لئے فرشتے اتارنے کی ضرورت ہی ہوتی ہے۔ بدر میں جو فرشتے اتارے گئے تھے وہ بھی محض اہل ایمان کی تسلی وتبشیر اور اطمینان کے لئے تھے۔ ورنہ مدد تو وہاں بھی اللہ پاک ہی کی طرف سے تھی جیسا کہ اس بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
قوم موسیٰ سے ایک مومن کا تذکرہ اور رسولوں کی تکذیب کرنیوالوں پر افسوس
تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا برگز یدہ بندہ تھا سیدھا جنت میں گیا۔ اب یہاں سے ایک نکتہ نکلتا ہے۔ کیونکہ مسلمان کو تو عالم برزخ کے بعد جنت میں جانا ہوگا۔ یہاں شہید کی فضیلت ظاہر کی گئی ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے۔ ” قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا “۔ یوں ثابت ہوگیا کہ عالم برزخ تو ضروری ہے۔ اسی لئے تو مسلمان باقی دعاؤں کے ساتھ قبر کے عذاب سے بھی پناہ مانگتا ہے۔ اصل میں اس قبر کے قیام کی بھی اتنی حالتیں ہوتی ہیں۔ نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 32:
اسرار و معارف :
اس کی بات کیا مانتے الٹا اسے بھی کہنے لگے کہ تم بھی یہ نیا دین کیوں اپنا رہے ہو بھلا باپ دادا کا مذہب خراب تھا کیا یا وہ سب گمراہ تھے تو اس نے کہا کہ میرے پاس تو ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ میں اس ذات کریم کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے قائم رکھا ہے نیز اس کے یہی احسانات تم سب پر بھی ہیں اور پھر بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی سب کو پلٹ کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور اپنے کردار و عمل کا حساب دینا ہے پھر کتنی احمقانہ بات ہے کہ میں اس اتنے بڑے مہربان کو چھوڑ کر کسی بھی دوسرے کو معبود بنا لوں کہ اگر وہ ناراض ہو کر مجھے سزا دے تو یہ بت یا…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی یہ سب کچھ جاننے کے باوجود اگر میں انہیں اپنا مبعود بنا لوں۔
Read the full tafseer →(36:24) اذا۔ تب ۔ ای اذا اتخذت من دونہ الھۃ یعنی اگر میں خدا کو چھوڑ کر ان بتوں کو معبود بنالوں تو اس صورت میں (ان فی ضلل مبین) میں صریح گمراہی میں جا پڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے)
تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔
( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
[10] یعنی جب سے تم نے آ کر ہمارے معبودوں کے خلاف باتیں کرنی شروع کی ہیں وہ ہم سے ناراض ہوگئے ہیں۔ اب جو مصیبت بھی ہم پر آتی ہے وہ تمہاری بدولت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
میں کیوں خدا کی عبادت نہ کروں ؟
1: جب کسی قوم نے اللہ کے رسولوں کی مخالفت کی اور اس کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ تو انہیں میں ایک مرد مومن اٹھا اور جس نے ان کی ہمنوائی کی ۔ اس نے کہا کہ اے قوم تم مجھے توحید پر ملامت کرتے ہو اور کہتے ہو کہ میں ایک خدا کی پرستش کیوں کرتا ہوں ۔ مجھے تو اس بات میں کوئی وجہ معقول نظر نہیں آتی ۔ کہ رب فاطر کو چھوڑ کر دوسروں کے سامنے جھکوں ۔ آخر کیوں نہ میں اس کی عبادت کروں ۔ جس نے مجھے وجوہ کی نعمت سے نواز ہے ۔ اور پھر بالآخر اسی کی جانب لوٹ جانا ہے ۔ کیا تمہاری رائے ہے ۔ کہ میں خدا کو چھوڑ دوں اور ایسے معبودان باطل کو اپنا خدا سمجھ لوں ۔ جن کا کائنات میں کوئی حصہ نہیں ۔…
Read the full tafseer →(24) اگر میں ایسا کروں تب تو میں یقینا صریح گمراہی میں مبتلا ہو جائوں گا۔ یعنی ایسا کرنا کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بےدست و پا قسم کے معبود اختیار کرنا صریح گمراہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–34
ف 5۔ اصل مطلب یہی ہے کہ تم کو کون سا عذر ہے۔
Read the full tafseer →تم جو ہو وہ ہو کیا میں بھی کھلی گمراہی اختیار کرلوں ؟
24۔ وہ کہنے لگا کہ میری قوم کے لوگو ! تمہاری تو جو مت ماری گئی کیا میں بھی تمہارا عقیدہ اختیار کرکے کھلی گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں اگر میں ایسا کروں تو کیا میرا گمراہ ہونا ثابت نہیں ہوگا کیونکہ گمراہی بہرحال گمراہی ہے وہ میں اختیار کروں یا تم اختیار کرو۔ آج بدقسمتی سے ہم اس اصل کو بھی بھول گئے اور ہم نے اس طرح سمجھ لیا کہ ایک کام میں کروں تو وہ گناہ ہے اور اگر وہی کام کوئی بڑا مذہبی پیشوا یا سیاسی لیڈر یا کوئی قوم کا پیروبزرگ کرے تو وہ عین ثواب ہوجائے ، خدا نہ کرے اگر کوئی عام آدمی آپ کے گھر سے کوئی چیز بغیر بتائے اٹھا لے اور آپ کو پتہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
In verse 20, it was said: وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَىٰ (And there came a man rushing from the farthest part of the city.) In the first verse (13), the place where this incident transpired was expressed as: اَلقَریَۃ (al-qaryah: town) which, according to the Arabic lexical usage, does not signify a small village, instead, it means a habitation in the absolute sense. It may be a small habitation or a big city. Now, in this verse, this place has been identified as: اَمَدِینۃ (al-madinah), a name used only for a big city. From here, we learn that the habitation where this…
Read the full tafseer →20 "If I do so": "If I make them my gods in spite of knowing All this."
Read the full tafseer →