Explained with ayahs 33–36
وجود باری تعالیٰ کی ایک نشانی
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے وجود پر، میری زبردست قدرت پر اور مردوں کو زندگی دینے پر ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مردہ زمین جو بنجر خشک پڑی ہوئی ہوتی ہے جس میں کوئی روئیدگی، تازگی، ہریالی، گھاس وغیرہ نہیں ہوتی۔ میں اس پر آسمان سے پانی برساتا ہوں وہ مردہ زمین جی اٹھتی ہے لہلہانے لگتی ہے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ اگ جاتا ہے اور قسم قسم کے پھل پھول وغیرہ نظر آنے لگتے ہیں۔ تو فرماتا ہے کہ ہم اس مردہ زمین کو زندہ کردیتے ہیں اور اس سے قسم قسم کے اناج پیدا کرتے ہیں بعض کو تم کھاتے ہو بعض تمہارے جانور کھاتے ہیں۔ ہم اس میں کھجوروں کے انگوروں کے باغات وغیرہ تیار کردیتے ہیں۔…
Read the full tafseer →سورة یٰسٓ 28
اس فقرے کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے " تاکہ یہ کھائیں اس کے پھل اور وہ چیزیں جو ان کے اپنے ہاتھ بناتے ہیں۔ " یعنی مصنوعی غذائیں جو قدرتی پیداوار سے یہ لوگ خود تیار کرتے ہیں، مثلاً روٹی، سالن، مُربّے، اچار، چٹنیاں اور بیشمار دوسری چیزیں۔
سورة یٰسٓ 29
ان مختصر فقروں میں زمین کی روئیدگی کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ آدمی شب و روز اس زمین کی پیداوار کھا رہا ہے اور اپنے نزدیک اسے ایک معمولی بات سمجھتا ہے۔ لیکن اگر وہ غفلت کا پردہ چاک کر کے نگاہ غور سے دیکھے تو اسے معلوم ہو کہ اس فرش خاک سے لہلہاتی کھیتیوں اس سرسبز باغوں کا اگنا اور اس کے اندر چشموں اور نہروں کا رواں ہونا کوئی…
Read the full tafseer →پہلی آیت میں زمین کی ایک مثال پیش فرمائی ہے جو ہر وقت ہر انسان کے سامنے ہے کہ خشک زمین پر آسمان سے پانی برستا ہے تو زمین میں ایک قسم کی زندگی پیدا ہوتی ہے جس کے آثار اس میں پیدا ہونے والی نباتات اور اشجار اور ان کے ثمرات سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اور ان درختوں کے بڑھانے اور باقی رکھنے کے لئے زیر زمین اور سطح زمین پر چشموں کا جاری کرنا ذکر فرمایالیاکلوا من ثمرہ، یعنی ہواؤں بادلوں اور زمین کی ساری قوتوں کو کام میں لگانے کا منشاء یہ ہے کہ لوگ ان کے پھل کھائیں۔ یہ سب چیزیں تو آنکھوں سے مشاہدہ کی ہیں، جو ہر انسان دیکھنا جانتا ہے آگے انسان کو اس چیز پر متنبہ کیا گیا جس کے لئے یہ سارا کارخانہ قائم کیا گیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
4۔ آگے کا مضمون۔ آیات 33۔ 50
آگے آفاق کی نشانیوں سے رسول کی دعوت اور اس کے انداز کی تائید کی ہے اور ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی ہے جو کائنات کی ان تمام نشانیوں سے آنکھیں بند کئے ہوئے کسی نئی نشانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گویا اوپر کی تاریخی شہادت کے بعد کلام ازسر نو تمہید سے متصل ہوگیا ہے جس میں یہ بات فرمائی گئی تھی کہ ان کی اصلی بیماری یہ ہے کہ استکبار ان کو اوپر یا نیچے کی کسی نشانی کی طرف متوجہ نہیں ہونے دے رہا ہے ورنہ ان کے آگے اور پیچھے نشانیوں کی کمی نہیں ہے۔ ان کے اس رویہ اور اس کے انجام کی مثال قوم فرعون سے دینے کے بعد پھر ان کو آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی۔ اس روشنی میں آیات…
Read the full tafseer →35۔ 1 یعنی بعض جگہ چشمے جاری کرتے ہیں، جس کے پانی سے پیدا ہونے والے پھل لوگ کھائیں۔
35۔ 2 امام ابن جریر کے نزدیک یہاں ما نافیہ ہے یعنی غلول اور پھلوں کی یہ پیداوار، اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے جو وہ اپنے بندوں پر کرتا ہے۔ اس میں ان کی سعی و محنت، کدو کاوش اور تصرف کا دخل نہیں ہے۔ پھر بھی یہ اللہ کی ان نعمتوں پر اس کا شکر کیوں نہیں کرتے ؟ اور بعض کے نزدیک ما موصولہ ہے جو الَّذِیْ کے معنی میں ہے یعنی تاکہ وہ اس کا پھل کھائیں اور ان چیزوں کو جن کو ان کے ہاتھوں نے بنایا۔ ہاتھوں کا عمل ہے، زمین کو ہموار کرکے بیج بونا، اسی طرح پھلوں کے کھانے مختلف طریقے ہیں، مثلًا انہیں نچوڑ کر ان کا رس پینا، مختلف…
Read the full tafseer →12: توجہ اس طرف دلائی جا رہی ہے کہ انسان جب کھیت یا باغ لگاتا ہے تو اس کی ساری دوڑ دھوپ کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ وہ زمین کو ہموار کر کے اس میں بیج ڈال دے۔ لیکن اس بیج کی پرورش کرکے اسے زمین کا پیٹ پھاڑ کر کونپل کی شکل میں نکالنا اور پھر اسے پروان چڑھا کر درخت بنان اور اس میں پھل پیدا کرنا انسان کا کام نہیں ہے۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی شان ربوبیت ہے جو اس ساری پیداوار کی تخلیق کرتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
وایۃ لھم الارض المیتۃ۔۔۔۔۔ ومما لا یعلمون (33 – 36 پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں یا ان اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں “۔
یہ لوگ رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں اور انسانی تاریخ کے اندر تکذیب کرنے والوں کی قتل گاہوں اور بربادیوں پر گور نہیں کرتے۔ اور یہ لوگ مخلوق کی اس حالت سے کوئی سبق نہیں لیتے کہ لوگ چلے جا رہے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں ہو رہا ہے۔ اور رسول کی دعوت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں ۔ وہ اللہ جس کے وجود پر ان کے اردگرد پھیلی ہوئی یہ کائنات اچھی طرح دلالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
1 یعنی شاید شبہ گزرتا کہ میرے پیچھے پھر کس طرح زندہ ہو کر حاضر کیے جائیں گے ؟ اس کو یوں سمجھا دیا کہ زمین خشک اور مردہ پڑی ہوتی ہے۔ پھر خدا اس کو زندہ کرتا ہے کہ ایک دم لہلہانے لگتی ہے۔ کیسے کیسے باغ و بہار، غلے اور میوے اس سے پیدا ہوتے ہیں جن کو تم استعمال میں لاتے ہو۔ اسی طرح خیال کرلو کہ مردہ ابدان میں روح حیات پھونک دی جائے گی۔ بہرحال مردہ زمین میں ان کے لیے ایک نشانی ہے جس میں غور کرنے سے بعث بعد الموت اور حق تعالیٰ کی وحدانیت و عظمت اور اس کے انعام و احسان کے مسائل کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں (تنبیہ) اوپر کی آیات میں ترہیب کا پہلو نمایاں تھا کہ عذاب الٰہی سے ڈر کر راہ ہدایت اختیار کریں۔ آیات…
Read the full tafseer →آیت 35 { لِیَاْکُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖ لا وَمَا عَمِلَتْہُ اَیْدِیْہِمْط اَفَلَا یَشْکُرُوْنَ } ”تاکہ یہ ان کے پھلوں میں سے کھائیں ‘ اور یہ سب ان کے ہاتھوں نے تو نہیں بنایا ‘ تو کیا تم لوگ شکر نہیں کرتے ؟“
یہ کھجوریں ‘ انگور اور طرح طرح کے دوسرے پھل جو یہ لوگ کھاتے ہیں ‘ یہ ان کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے تو نہیں ہیں۔ یہ مضمون سورة الواقعہ کے دوسرے رکوع میں زیادہ زور دار اور موثر انداز میں بیان ہوا ہے۔ وہاں تکرار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مختلف تخلیقات کا ذکر کر کے ہر بار یہ سوال کیا گیا ہے کہ ذرا بتائو ! یہ چیز تم نے بنائی ہے یا اس کو بنانے والے ہم ہیں ؟ علامہ اقبالؔ نے اس مضمون کی ترجمانی یوں کی ہے :…
Read the full tafseer →33 وما عملتہ ایدیھم کے مختلف مفہوم۔۔ زرعی پیداوار میں انسان کا حصہ :۔ (وَمَا عَمِلَتْہُ أیْدِیْھِمْ ) میں اگر ما کو نافیہ قرار دیا جائے تو اس کا یہ مطلب ہوگا۔ نباتات کو پیدا کرنا انسان کا کام نہیں۔ نباتات اور پھلوں کی پیدائش میں جس قدر عناصر سرگرم عمل ہیں وہ سب کے سب اللہ کے حکم کے تحت اپنے اپنے کام میں لگے رہتے ہیں تب جاکر نباتات وجود میں آتی، بڑھتی، پھلتی پھولتی اور انسانوں اور دوسرے جانداروں کا رزق بنتی ہے۔ اور مَا کو موصولہ قرار دیا جائے تو پھر اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اگرچہ نباتات کو وجود میں لانے والے سارے عناصر اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں۔ تاہم اس میں کچھ نہ کچھ کام انسانوں کا بھی…
Read the full tafseer →22۔ (ان دلائل قدرت کو دیکھنے کے باوجود) اور ادائے شکر کا پہلا زینہ توحید ہے۔ (آیت) ” وما عملتہ ایدیھم “۔ ٹکڑا بہت قابل غور ہے ساری دنیا، خدائی قدرت وانتظام سے الگ ہوکر، اگر مل کر بھی کوشش کرڈالے کہ تخم ریزی وآبپاشی کے نتائج غلہ پھل وغیرہ ہی کی شکل میں ظاہر ہوتے رہیں تو کامیابی ناممکن ہے یقینی طور پر ان مسببات کو انہیں نتائج کی صورت میں ظاہر کرنا خاص الخاص کرشمہ قدرت خداوندی ہے۔ (آیت) ” وما عملتہ “۔ ما یہاں نافیہ ہے۔ ترجمہ اسی ترکیب کے مطابق کیا گیا۔ روی القول بان مانافیۃ عن ابن عباس ؓ والضحاک (روح) دوسری ترکیب یہ بھی جائز ہے کہ ماکوموصولہ قرار دیاجائے۔ اس صورت میں فقرہ کا عطف آیت ” ثمرہ “۔ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ایک نشانی ان کے لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر مردہ زمین ہے اٰیۃٌ لھُمْ خبر مقدم ہے اَلْمیتۃُ تخفیف اور تشدید کے
ساتھ ہے کہ ہم نے اس کو پانی کے ذریعہ زندہ کیا والارض الخ مبتداء مؤخر ہے، اور ہم نے اس زمین سے غلہ مثلاً گندم پیدا کیا سو اس سے یہ لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے زمین میں کھجوروں اور اناروں کے باغات پیدا کئے اور اس میں کچھ چشمے جاری کئے تاکہ لوگ اس کے پھل کھائیں، ثمَرہ میں یعنی (ث، م) دونوں میں فتحہ اور ضمہ ہے، یعنی تاکہ مذکورہ کھجور وغیرہ کے پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تو پھر یہ لوگ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر…
Read the full tafseer →لیاکلوا من ثمرہ وما علمتہ ایدیھم افلا یشکرون . تاکہ لوگ باغ کے پھلوں میں سے کھائیں اور اس پھل (اور غلّہ) کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا ‘ سو کیا وہ شکر نہیں کرتے ؟
مِنَ الْعُیُوْنَ (مِن تبعیضیہ ہے یعنی ( چشمے۔ اخفش نے نزدیک مِن زائد ہے۔
مِنْ ثَمَرِہٖ یعنی مذکورہ (درختوں یا) باغوں کے پھل۔ بعض کے نزدیک ثمرہٖ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے ‘ یعنی اللہ کے پیدا کئے ہوئے پھل۔
وَمَا عَمِلَتْہُ اَیْدِیْھِمْ ‘ مَا موصولہ ہے ‘ ثمرہٖ اس کا عطف ہے تاکہ کھائیں وہ چیزیں جو وہ اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں جیسے عرق ‘ شیرہ ‘ شربت وغیرہ۔ بعض کے نزدیک مَا نافیہ ہے ‘ مراد یہ ہے کہ سب پھل اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں ‘…
Read the full tafseer →تاکہ لوگ کھجوروں کے پھل کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں اگایا یا یہ کہ ان درختوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں لگایا پھر یہ لوگ اس ذات پر جس نے ان کے ساتھ احسانات کیے ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →لِيَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ ۙ وَمَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْ : یعنی یہ غلے، باغات، چشمے اور پھل ان کی کسی کوشش اور محنت سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ یہ سب کچھ ہم نے پیدا کیا ہے، تو کیا وہ شکر نہیں کرتے کہ ہماری ہی عبادت کریں، کسی اور کو اس میں شریک نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے انہیں مردوں کے زندہ کرنے پر متنبہ کیا اور ان کے سامنے اپنی توحید اور کمال قدرت کا ذکر کیا یہ مردہ زمین ہے جسے نباتات اور نباتات سے دانہ نکالنے کے ساتھ اسے زندہ کیا اس دانہ سے تم غذا حاصل کرتے ہو اہل مدینہ نے المیتۃ کے لفظ کو مشدد پڑھا ہے جب کہ باقی قراء نے اسے مخفف پڑھا ہے یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ اور ہم نے اس زمین میں باغات بنائے کھجور اور انگروں کا خصوصی طور پر ذکر کیا کیونکہ یہ دونوں اعلی قسم کے پھل ہیں ان باغات میں ہم نے چشمے جاری کردیئے ثمرہ میں جو ضمیر ہے وہ عیون کے پانی کی لوٹتی ہے کیونکہ پھل اسی سے پیدا ہوتے ہیں یہ جرجانی ‘ مہدوی اور دوسرے علماء کا قول ہے۔…
Read the full tafseer →1:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” وما عملتہ ایدیھم “ (اور اس پھل اور غلہ کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا) فرمایا ان لوگوں نے اس کو بنا ہوا پایا۔ ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا یعنی فرات دجلہ بلغ اور دوسرے دریا (آیت) ” افلا یشکرون “ کیا ہو شکر نہیں کرتے اس کا واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →لِيَاْكُلُوْا [تاکہ یہ لوگ کھائیں ] مِنْ ثَمَرِهٖ ۙ [اس کے پھل میں سے ] وَ [حالانکہ ] مَا عَمِلَتْهُ [عمل نہیں کیا اس کا ] اَيْدِيْهِمْ ۭ [ان کے ہاتھوں نے ] اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ [تو کیا پھر (بھی) شکر نہیں کریں گے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 35 ۔ میں وَمَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْ کے جملے نے غافل انسان کو متنبہ کیا ہے کہ ذرا اپنے کام اور محنت پر غور کر کہ تیرا کام اس باغ و بہار میں اس کے سوا کیا ہے کہ تو نے زمین میں بیج ڈال دیا، اس پر پانی ڈال دیا، زمین کو نرم کردیا کہ کونپل نکلنے میں رکاوٹ نہ ہو، مگر اس بیج میں سے درخت اگان، درخت پر پتے اور شاخیں نکالنا، پھر اس پر طرح طرح کے پھل پیدا کرنا، ان سب چیزوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
(سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّہَا) (الآیۃ) یعنی زمین سے جو بھی چیزیں پیدا ہوتی ہیں سب اس ذات نے پیدا فرمائی ہیں جو بالکل بےعیب ہے، ہر نقص اور ہر کمی کوتاہی سے پاک ہے، یہ چیزیں جو زمین کی پیداوار ہیں ان میں طرح طرح کے انواع و اقسام ہیں اور خود انسانوں کی جانوں میں بھی ازواج ہیں یعنی کچھ مذکر ہیں اور کچھ مونث ہیں، اپنی جانوں کو اور زمین کی پیداوار کو تو لوگ جانتے ہیں ان کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے جو بر و بحر میں پھیلی ہوئی ہیں، درندے ہیں چرندے ہیں، دریائی جانور ہیں، ان میں بھی مختلف قسم کے انواع و اقسام ہیں، (وَذٰلِکَ کلہ من صنع اللّٰہ تعالیٰ لادخل فیہ لغیرہ سبحانہٗ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
ذکر دلائل قدرت برائے اثبات وحدانیت وامکان حشرونشر
قال اللہ تعالیٰ وایۃ لہم الارض المیتۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ومتاعا الی حین۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ان سرکشوں کا حال بیان کیا جو توحید کے بھی منکر تھے اور نبوت و رسالت کے بھی منکر تھے اور حشر ونشر کے بھی منکر تھے اب آگے اپنی قدرت کے دلائل بیان کرتے ہیں جس سے توحید ثابت ہو اور شرک کا ابطال ہو اور حشر ونشر کا امکان ثابت ہو۔
(نیز) گذشتہ مضمون کے ختم پر یہ فرمایا وان کل لما جمیع لدینا محضرون جس سے ان کفار کو تنبیہ تھی جو معاد کے منکر اور اس سے غافل تھے اب آگے دلائل قدرت کو ذکر کرتے ہیں تاکہ حشر ونشر کا اقرار کریں اور آخرت کی کچھ فکریں کریں اور ان دلائل قدرت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
25:۔ سبحن الخ :۔ جن مزعومہ معبودوں کو مشرکین نے شرکاء اور شفا ( علیہ السلام) بنا رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے پاک ہے۔ زمین سے انواع و اقسام کی اشیاء میوے، پھل پھول، گلے وغیرہ وہی پیدا کرتا ہے۔ ومن انفسہم اور انسانوں کی اولاد میں نر و مادہ کا خالق بھی وہی ہے۔ وہ ایسی بیشمار مخلوق کا بھی خالق ہے جس کا انکو علم بھی نہیں۔ یہ دلیل ثانی کا تتمہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
ربط آیات
رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کا حال بیان کیا کہ ان کے پاس تین رسول آئے تاکہ ان کو توحید کی دعوت دیں مگر ان اہل بستی نے ان رسولوں یا مبلغین کے ساتھ سخت بدسلوکی کی حتی کہ ان کے قتل کے درپے ہوئے ان مرسلین کی تائید میں شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور قوم کو سمجھایا کہ ان رسولوں کی پیروی کرتے ہوئے شرک سے تائب ہو جائو اور توحید خداوندی کو اختیار کرو تو بستی والے اس مرد مومن کے بھی خلاف ہوگئے اور اسے قتل کر ڈالا ، پھر ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خوفناک چیخ کی صورت میں عذاب آیا جس سے سارے بستی والے ہلاک ہوگئے۔ ضمناً اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی…
Read the full tafseer →لِيَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖ 0 ۙ وَمَا عَمِلَتْہُ اَيْدِيْہِمْ 0 ۭ اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ 35
أكل
الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35]
( ا ک ل ) الاکل
کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔
ثمر
الثَّمَرُ اسم لكلّ ما يتطعم من أحمال الشجر، الواحدة ثَمَرَة، والجمع :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
ترکیب : واٰیۃ مبتداء لہم الخبر والارض مبتداء احییناھا الخبر و الجملۃ تفسیر للایۃ وقیل الارض مبتداء اٰیۃ خبر مقدم و احییناھا تفسیر الاٰیۃ ولھم صفۃ الاٰیۃ من العیون علیٰ قول الا خفش من زائدۃ و ما عملتہ ما بمعنی الذی او نکرۃ موصوفۃ و علی الوجھینھی فی موضع جرعطفا علی ثمرۃ و امانا فیۃ والقمر بالرفع مبتدا قدرناہ الخبر و بالنصب علی فعل مضمر ای قدرنا القمر العرجون فعلول فالنون اصل وقیل زائدۃ یخصمون بالتشدید اصلہ یختصمون نقلت حرکتہ التاء الی الخاء و ادغمت فی الصاد۔
تفسیر : وآیۃ لہم الارض امم ماضیہ کے سرکش لوگوں کا حال بیان فرما کر جو توحید کے انکار سے برباد ہوئے تھے۔ توحید کے دلائل بیان فرماتا ہے، ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
وَاٰیـَۃٌ لَّھُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَۃُ صلے ج اَحْیَیْنٰـھَا وَاَخْرَجْنَا مِنْھَا حَبًّا فَمِنْہُ یَاْکُلُوْنَ ۔ وَجَعَلْنَا فِیْھَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ وَّفَجَّرْنَا فِیْھَا مِنَ الْعُیُوْنِ ۔ لِیَاکُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖ لا وَمَا عَمِلَتْہُ اَیْدِیْہِمْ ط اَفَلاَ یَشْکُرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 33 تا 35)
(اور ان لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی نشانی مردہ زمین ہے، ہم نے اس کو زندگی بخشی اور اس سے غلے اگائے، پس اس میں سے وہ کھاتے ہیں۔ اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کردیے۔ تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں، یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں، تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
فہم القرآن
ربط کلام : نباتات اور لوگوں کے اپنے نفوس سے اپنی قدرت کی نشاندہی کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کی توجہ آفاق کی نشانیوں کی طرف مبذول کروائی ہے۔
انسان ہی نہیں دنیا میں بسنے والی ہر چیز کی زندگی، رات اور دن کے حساب سے شمار کی جاتی ہے۔ ہر ذی روح اور ہر چیز پر رات اور دن کے مثبت اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دن کی روشنی اور اس کی تپش کے اپنے اثرات اور فوائد ہیں۔ رات کی تاریکی اور اس کی نم ناکی کے اپنے نتائج ہیں جو ہر متحرک اور غیر متحرک چیز پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ رات اور دن میں سب سے بڑی ” اللہ “ کی قدرت کی نشانی یہ ہے کہ رات کی تاریکی ہر چیز کو اپنے دامن میں چھپا لیتی ہے۔ ہر ذی روح…
Read the full tafseer →35: لِیَاْ کُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖ (تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا پھل کھائیں) ثمرہٖ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے۔ ای لیاکلوا مما خلقہ اللہ من الثمر۔
قراءت : من ثُمُرہٖ حمزہ، علی نے پڑھا ہے۔
وَمَا عَمِلَتْہُ اَیْدِیْھِمْ (اور اس میں سے جس کو ان کے ہاتھوں نے لگایا) یعنی اور اس میں سے جو ان کے ہاتھوں نے بونا، سیراب کرنا پیوند کرنا وغیرہ اعمال کیے یہاں تک کہ پھل اپنی میعاد کو پہنچا۔ مطلب یہ ہے کہ پھل فی نفسہٖ اللہ تعالیٰ نے بنایا اور پیدا کیا اس میں بنی آدم کی محنت کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔ اس کی اصل من ؔ ثمرنا ہے جیسا پچھلی آیت میں جعلنا، فجرنا کے صیغے دلالت کرتے ہیں۔ پھر بطریق التفات…
Read the full tafseer →35، لیا کلوامن ثمرہ، یعنی مذکورہ باغوں کے پھل جو اس پانی سے حاصل ہوتا ہے۔ ، وما عملتہ، حمزہ ، کسائی ، ابوبکر نے ، عملت، پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ھاء کے ساتھ پڑھا ہے تاکہ کھائیں وہ چیزیں جو وہ اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں ۔ ، ایدیھم، یعنی کھیتی اور درختوں کو لگانے میں اور ھاء کامرجع، ما، کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ، التی، بمعنی الذی کے ہے۔ بعض نے کہا ، ما، نفی کے لیے ہے، ماعملتہ ایدیھم، مطلب یہ ہے کہ سب پھل کے پیداکیے ہوئے ہیں، انسان کی صنعت کو اس میں کوئی دخل نہیں یہ معنی ضحاک اور مقاتل کا ہے۔ بعض حضرات نے کہاچشموں اور نہروں سے مراد وہ ہیں، انسان کی صنعت کو اس میں کوئی دخل نہیں یہ معنی ضحاک اور مقاتل کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
33 تا 36۔ اوپر کی آیت انانحن نحی الوتی میں حشر کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اس کی مثال بیان فرمائی کہ ہر سال حشر کا حال سمجھنے کے لیے وہ مردہ زمین کہ جس میں گھانس تک نہیں ہوتی منکریں حشر کے حق میں ایک نشانی ہے کہ جس وقت ہم نے اس پر مینہ برسایا تو وہ ملتی ابھرتی ہے اور ہر قسم کی چیزیں اگاتی ہے گویا بعد مرنے کے جی اٹھتی ہے اس واسطے فرمایا کہ زندہ کیا ہم نے اس کو اور نکالا ہم نے اس سے اناج جو کھاتے ہیں یہ بھی اور ان کے چوپائے بھی پھر فرمایا کہ بنائے ہم نے باغ کھجور اور انگور کے اور بہائے زمین میں چشمے اور ندیاں تاکہ کھائیں اس کے میووں سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اناج کے پیدا کرنے کا احسان مخلوق پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
آیت 33
(وایۃ لھم ) ” ان کے لئے ایک نشانی ہے۔ “ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھائے جانے، حشر و نشر، حساب کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے اور ان اعمال کی جزا و سزا پر دلیل ہے۔ (آیت) ” مردہ زمین “ جس پر اللہ تعالیٰ نے پانی برسا یا اور اس کے مردہ ہوجانے کے بعد اسے دوبارہ زندگی عطا کی۔ (آیت) ” یعنی ہم نے اس زمین میں سے ان تمام زرعی اصناف کو اگایا جن کو لوگ خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان اصناف کو بھی جن کو ان کے مویشی کھاتے ہیں (وجعلنا فیھا) یعنی ہم نے اس مردہ زمین میں اگائے (جنت) باغات جن میں بیشمار درخت ہیں، خاص طور پر کھجور اور انگور، جن کے درخت بہترین درخت ہیں (وفجرنا فیھا)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
37 اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ویکتائی پر استدلال : سو ارشاد فرمایا گیا " پاک ہے وہ ذات جس نے طرح طرح کی مختلف الانواع اور گوناگوں اشیاء کو وجود بخشا "۔ سو وہ پاک ہے ہر قسم کے نقص و عیب اور شرک و شائبہ شرک سے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو زمین کے اندر پائی جانے والی ان گوناگوں نعمتوں میں جو تنوع اور تضاد پایا جاتا ہے، اس کے اندر ایک نہایت ہی پر حکمت ہم آہنگی، مقصدیت اور توافق پایا جاتا ہے جس سے یہ حقیقت پوری طرح واضح اور آشکارا ہوجاتی ہے کہ اس کائنات پر ایک ہی خدائے واحد کی قدرت اور اسی کا ارادہ کارفرما ہے۔ کسی دوسرے کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ سو وہ ہر قسم کے شرک اور ہر شائبہ شرک سے پاک ہے۔ سو یہ کائنات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
ﷲ تعالیٰ کے انعامات انسان کے لیے
تشریح : پچھلی آیات میں رسولوں اور انسانوں کا معاملہ کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ کہ رسول اللہ کی طرف سے بہت بڑی رحمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے دلوں کے زنگ کو دور کرتے ہیں، جنت کے راستے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہمیں ہر قسم کی جھاڑ جھنکار، اونچ نیچ اور کھائیوں سے بچاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا پیغام بڑا پاکیزہ اور سادہ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ” اللہ کو مانو رسول کو مانو اور آخرت پر یقین کرو “۔ مگر بدنصیب انسان ان سے نفرت کرتے ہیں ان پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ لیکن یہ ظلم و زیادتی اصل میں وہ خود اپنے اوپر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب کہ نیک لوگ، ان سے محبت کرتے ہیں اور یوں اللہ کے محبوب بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50:
اسرار و معارف :
اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔
زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ف 1 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے ” اس لئے یہ لوگ اس کا میوہ اور وہ چیز کھائیں جسے یہ اپنے ہاتھوں سے بناتے “۔ یعنی مصنوعی غذا جسے قدرتی پیداوار تے تیار کرتے ہیں، مثلاً گنے سے شکر، انگور سے شیرہ، گندم سے روٹی اور سبزیوں سے سالن وغیرہ۔
Read the full tafseer →(36:35) لیاکلوا۔ لام تعلیل کا ہے یاکلوا مضارع مجزوم جمع مذکر غائب تاکہ وہ کھائیں۔
من ثمرہ۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔
(1) ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع وہ اشیا مجعولہ ہیں جن کا ذکر اوپر آیا ہے۔ مثلاً احیا الارض المیتہ۔ اخراج الحب من الارض۔ وجعل الجنت من نخیل واعناب وتفجیر العیون فی الارض۔ یعنی ان سب کے نتیجے میں جو پھل پیدا ہوتے ہیں وہ کھائیں ۔ (2) ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔ یعنی اللہ کے پیدا کئے ہوئے پھل کھائیں۔
وما علمتہ ایدیہم۔ وائو عاطفہ ہے ما کی دو صورتیں ہیں۔
(1) ما موصولہ ہے اس کا عطف ثمرہ پر ہے اور (وہ بھی کھائیں) جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ مثلاً عرق۔ شربت۔ شیرہ۔ اچار ۔ چٹنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ حب ( دانہ) نخیل ( کھجور) اعناب ( عنب) (انگور) فجرنا ( ہم نے پھاڑ دیا) الازواج ( زوج) (جوڑے) العرجون ( کھجور کی ٹہنی ، شاخ) یرکبون (وہ سوار ہوتے ہیں) صریخ ( چیخ ، فریاد)
تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں اپنی بیشمار نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جو ایک ایسے نظام میں بندھے ہوئے ہیں کہ اپنی مرضی سے ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتے۔ یہ اللہ کی ایسی نشانیاں ہیں جنہیں دن رات آدمی دیکھتا ہے لیکن ان پر غور نہیں کرتا ۔ اگر وہ ان تمام نعمتوں پر غور و فکر سے کام لے تو اس کے دل میں اس کائنات کے خالق کی ایسی عظمت چھا جائے کہ پھر اس کے سوا کسی کی عظمت کی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
اللہ کی قدرت کی نشانیاں۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہر سال حشر کا حال سمجھنے کے لیے وہ مردہ یعنی خشک زمین کو جس میں گھاس تک نہیں اگتی منکرین حشر کے حق میں ایک نشانی ہے۔ کہ جس وقت ہم نے اس پر مینہ برسایا تو مردہ زمین یعنی خشک زمین کا پانی سے ہر ابھرا کردینا یعنی بعد مرنے کے زمین کو زندہ کردیا، جس سے ہم نے اناج پیدا کیا جس کو وہ سب لوگ کھاتے ہیں یہ نشانیاں دوبارہ پیدا کرنے کی دلالت کرتی ہیں اور ہم نے اس زمین میں طرح طرح کے باغ کھجوروں اور انگوروں کے پیدا کیے اور جاری کیے زمین میں چشمے اور ندیاں تاکہ لوگ باغ کے میوے اور پھلوں میں سے کھائیں، پھر فرمایا یہ چیزیں ان کی بنائی ہوئی نہیں نہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
[13] یعنی وہ تو دنیا کا عذاب تھا اور آخرت کی سزا الگ رہی۔ یہ نہ سمجھو کہ ہلاک ہو کر پھر ادھر واپس نہیں آتے تو بس قصہ ختم ہوا۔ نہیں، سب کو ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے جہاں سب مجرم پکڑے ہوئے آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
فطرت کے انعامات
2: ان آیات میں مظاہر فطرات کی جانب متوجہ کیا ہے ۔ فرمایا ہے کہ تم دیکھوں عنایات الٰہیہ نے تمہیں کس درجہ مسنون کر رکھا ہے ۔ تمہارے کھیت جب سوکھ جاتے ہیں اور تمہارے باغات جب خشک اور خزاں پذیر ہوجاتے ہیں ۔ اس وقت اللہ اپنی قدرت کاملہ سے ان میں زندگی کی روح پھونک دیتا ہے ۔ اور وہ مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے ۔ پھر اس میں غلہ پیدا ہوتا ہے ۔ اور تم اس کو کھاتے ہو ۔ پھر یہ بھی اللہ کا فضل ہے کہ اس نے تمہارے لئے زمین میں عمدہ عمدہ باغات پیدا کر رکھے ہیں جن میں کھجوریں اور انگور ہوتے ہیں ۔ اور ان باغات میں چشمے جاری ہیں ۔ تم ان پھلوں کو کھاتے ہو ۔ حالانکہ اس میں تمہاری صنعت کاری کو کوئی…
Read the full tafseer →(35) تاکہ لوگ باغ کے پھلوں میں سے یا اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو اور اناج کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا ہے پھر یہ کیوں اللہ تعالیٰ کا احسان نہیں مانتے۔
ثمرہ کی ضمیر میں بھی دو قول ہیں ہم نے دونوں کی طرف تیسیر میں اشارہ کردیا ہے۔ یہ پھل اس لئے پیدا کئے گئے تاکہ لوگ ان پھلوں کو کھائیں حالانکہ پھل کے پیدا کرنے میں ان کے ہاتھوں کا کوئی دخل نہیں۔ پانی دینا اور ہل چلانا یہ کام لوگ کرتے ہیں لیکن غلے اور پھلوں کی صورت نوعیہ اور مزہ وغیرہ عنایت کرنا اس میں کسی کو دخل نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے پھر وہلوگ اس کا احسان مان کر شکرکیوں نہیں بجا لاتے۔
Read the full tafseer →ف 1۔ گو تخم ریزی بظاہر انہیں کے ہاتھوں ہوتی ہو، مگر پھل اور غلہ کی صورت نعویہ کا فائض کرنا خاص خدا ہی کا کام ہے۔
Read the full tafseer →کیا تم جن پھلوں کو کھاتے ہو ان کو تم نے بنایا ہے پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے :
35۔ پھر ان پھلوں کو ‘ ان سبزیوں اور ترکاریوں کو تم نے بنایا ہے ؟ تمہارے بزرگوں اور پیروں نے بنایا ہے ؟ تمہارے بادشاہوں اور وزیروں نے بنایا ہے ؟ آخر کچھ تو بتاؤ کہ تمہارا حصہ ان میں کتنا ہے اور کس طرح تم ان کے مالک بنائے گئے ہو ۔ ہاں ! غور کرو اور کرتے ہی چلے جاؤ انجام کار تم اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ ان سب کا بنانے والا ‘ اگانے والا اور ان کے اندر وٹامن کی طاقتیں اور قوتیں بھرنے والا ‘ پھر سب سے بڑھ کر ہر ایک دانے کے اندر اس کے جنسی عناصر ترتیب و ترکیب دینے والا اللہ ہی ہے ۔ پھر تم کتنے ناکارہ ‘ کتنے سطحی اور کتنے…
Read the full tafseer →In the first verse (33), the land on which we live has been cited as an example. It is there, all the time, before everyone., It is physically seen, when rain come down from the sky and pour water over the dry land, that it is revived by the rain which makes it, so to say, live again. The outcome starts showing up in the form of vegetation, trees and their fruits. Mentioned thereafter were streams that were made to run below the land and on its surface in order to help the trees grow and survive. It was said: لِيَأْكُلُوا مِن ثَمَرِهِ (so that they may eat fruits thereof). In other words,…
Read the full tafseer →28 Another translation of this sentence can be: "......so that they may eat fruits thereof and what their own hands make." That is, the artificial kinds of food, which the people prepare from the natural products, e.g. bread, curry, jam, pickles, sauces and countless other things.
29 In these brief sentences the vegetable and plant life of the earth has been presented as an argument. Man is eating the products of the earth day and night and regards this as very ordinary. But if he considers it seriously, he will see drat the growth of rich crops and lush green gardens from the dry earth and…
Read the full tafseer →