Yaseen 36:21

Yaseen · from ayah 21

36:21

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْـَٔلُكُمْ اَجْرًا وَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ ۟اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡــٴَــلُكُمۡ اَجۡرًا وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ

ایسوں کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Follow those who do not ask of you [any] payment, and they are [rightly] guided.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 2 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:21

پیروی کرو اُن لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پر ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ایسوں کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ایسے لوگوں کی راه پر چلو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وه راه راست پر ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان لوگوں کا کہنا مان لو جو تم سے کوئی اجرت نہیں مانگ رہے، اور وہ صحیح راستے پر ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ایسوں کی پیروی کرو جو تم سے کچھ نیگ (اجر) نہیں مانگتے اور وہ راہ پر ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ایسے لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے اور وہ سیدھی راہ پائے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ایسے رسولوں کی جو تم سے کچھ اجر نہیں مانگتے اور وہ خود راہ راست پر ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتے اور وہ راہ راست پر بھی ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پیروی کرو تم ان کی جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اور وہ ہیں سیدھی راہ پر

— مولانا اسحاق مدنی

ان کی راہ پر چلو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور خود راہ راست پر ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پیروی کرو ان کی جو تم سے کسی اجرت کے طالب نہیں ہیں اور جو ہدایت یافتہ ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ایسوں کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

follow those who do not ask any recompense from you and are rightly-guided.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Follow those who do not claim any reward from you, and who are on the right path.

— Muhammad Taqi Usmani

Follow those who do not claim any reward from you, and who are on the right path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Obey those who ask no wages of you, and who are rightly guided."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Follow those who ask of you no fee, and who are rightly guided.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Follow those who do not ask of you [any] payment, and they are [rightly] guided.

— Saheeh International

Follow those who do not ask you for any reward and who are rightly guided.

— Muhammad Sarwar

Follow him who does not ask you for reward, and they are the followers of the right course;

— Muhammad Habib Shakir

Follow those who ask not of you any hire, and who are rightly guided.

— Abdul Majid Daryabadi

"Obey those who ask no reward of you (for themselves), and who have themselves received Guidance.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–21

مبلغ حق شہید کردیا۔ مروی ہے کہ اس بستی کے لوگ یہاں تک سرکش ہوگئے کہ انہوں نے پوشیدہ طور پر نبیوں کے قتل کا ارادہ کرلیا۔ ایک مسلمان شخص جو اس بستی کے آخری حصے میں رہتا تھا جس کا نام حبیب تھا اور رسے کا کام کرتا تھا، تھا بھی بیمار، جذام کی بیماری تھی، بہت سخی آدمی تھا۔ جو کماتا تھا اس کا آدھا حصہ اللہ کی راہ میں خیرات کردیا کرتا تھا۔ دل کا نرم اور فطرت کا اچھا تھا۔ لوگوں سے الگ تھلگ ایک غار میں بٹھ کر اللہ عزوجل کی عبادت کیا کرتا تھا۔ اس نے جب اپنی قوم کے اس بد ارادے کو کسی طرح معلوم کیا تو اس سے صبر نہ ہوسکا دوڑتا بھاگتا آیا۔ بعض کہتے ہیں یہ بڑھئی تھے۔ ایک قول ہے کہ یہ دھوبی تھے۔ عمر بن حکم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یٰسٓ 17 اس ایک فقرے میں اس بندۂ خدا نے نبوت کی صداقت کے سارے دلائل سمیٹ کر رکھ دیے۔ ایک نبی کی صداقت دو ہی باتوں سے جانچی جاسکتی ہے۔ ایک، اس کا قول و فعل۔ دوسرے اس کا بےغرض ہونا۔ اس شخص کے استدلال کا منشا یہ تھا کہ اول تو یہ لوگ سراسر معقول بات کہہ رہے ہیں اور ان کی اپنی سیرت بالکل بےداغ ہے۔ دوسرے کوئی شخص اس بات کی نشاندہی نہیں کرسکتا کہ اس دین کی دعوت یہ اپنے کسی ذاتی مفاد کی خاطر دے رہے ہیں۔ اس کے بعد کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ان کی بات کیوں نہ مانی جائے۔ اس شخص کا یہ استدلال نقل کر کے قرآن مجید نے لوگوں کے سامنے ایک معیار رکھ دیا کہ نبی کی نبوت کو پرکھنا ہو تو اس کسوٹی پر پرکھ کر دیکھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–24

(آیت) وجاء من اقصی المدینہ رجل یسعیٰ ، پہلی آیت میں اس مقام کو جس میں یہ قصہ پیش آیا لفظ قریہ سے تعبیر کیا گیا جو عربی زبان کے اعتبار سے صرف چھوٹے گاؤں کو نہیں بلکہ مطلق بستی کو کہتے ہیں، چھوٹی بستی ہو یا بڑا شہر۔ اور اس آیت میں اس مقام کو لفظ مدینہ سے تعبیر کیا جو صرف بڑے شہر ہی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس بستی میں یہ واقعہ ہوا ہے وہ کوئی بڑا شہر تھا، اس سے بھی اس قول کی تائید ہوتی ہے جس میں اس کو انطاکیہ قرار دیا ہے۔ اقصی المدینہ سے مراد شہر کے کسی گوشہ سے آنا ہے۔ رجل یسعیٰ ، لفظ یسعیٰ سعی سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی دوڑ کر چلنے کے ہیں۔ اس لئے معنی یہ ہوئے کہ شہر کے کسی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 20–21

وجاء من اقصا المدینۃ رجل یسعی قال یقوم اتبعوا المرسلین اتبعوا من لا یسئلکم اجرا وھم مھتدون (20۔ 21) اوپر آیت 4 1 میں جس تیسرے منذر کی طرف اشارہ ہے یہ اس کی تائید حق کی تفصیل ہے۔ اوپر سورة اعراف کی آیت کے حوالہ سے ہم بیان کرچکے ہیں کہ ’ رجل ‘ سے مراد ہی مومن آل فرعون ہے جس کا ذکر تفصیل کے ساتھ مومن میں ہوا ہے اور جس کی تقریر کا حوالہ ہم اوپر دے چکے ہیں۔ اس کا واضح قرینہ یہ ہے کہ جن الفاظ میں ان کا تعارف یہاں کرایا گیا ہے بعینہ انہی الفاظ میں سورة اعراف میں بھی کرایا گیا ہے۔ ’ جاء من اقصا المدینہ یسعی ‘ سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ ان کی ہمدردی محض لفظی نہیں بلکہ عملا بھی۔ اپنے خس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 20–21

20۔ 1 یہ شخص مسلمان تھا، جب اسے پتہ چلا کہ قوم پیغمبروں کی دعوت کو نہیں اپنا رہی، تو اس نے آکر رسولوں کی حمایت اور ان کے اتباع کی ترغیب دی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–25

8: روایتوں میں ان کا نام حبیب نجار بتایا گیا ہے۔ یہ پیشے کے لحاظ سے بڑھئی تھے، اور ان رسولوں کی دعوت پہلے ہی قبول کر کے ایمان لا چکے تھے، اور شہر کے سرے پر کہیں تنہا رہ کر عبادت میں لگے رہتے تھے۔ جب انہیں پتہ چلا کہ ان کی قوم کے لوگ ان رسولوں کو تکلیف پہنچانے کے درپے ہیں تو یہ جلدی سے وہاں پہنچے، اور بڑے مؤثر انداز میں اپنی قوم کے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 20–21

وجآء من اقصا المدینۃ۔۔۔۔۔ اجرا وھم مھتدون (20 – 21) ” “۔ یہ ہے نمونہ فطرت سلیمہ کا۔ جب فطرت سلیمہ ایک سیدھے سادے حق کو سنتی ہے تو وہ فوراً تصدیق کرتی ہے۔ نہایت سادگی اور نہایت ہی گرم جوشی کے ساتھ اور فطرت سلیمہ کی فکر مستقیم ہوئی ہے۔ اور وہ پرشوکت سچائی کے مقابلے میں جوش و خروش سے لبیک کہتی ہے۔ یہ شخص بھی اسی معاشرے اور گاؤں کا فرد ہے ، دعوت اسلامی کو سنتے ہی وہ لبیک کہتا ہے۔ وہ سچائی کے دلائل و نشانات کو اچھی طرح پاتا ہے۔ رسولوں اور ان کی قوم کے درمیان جو مکالمہ ہوا ہے اس کے اندر پائے جانے والی گہری منطق کو وہ پالیتا ہے۔ جب یہ سچائی اس کے دل و دماغ میں جاگزیں ہوگئی تو وہ فوراً حرکت میں آجاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

14 یعنی اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں۔ اس کا پیغام لے کر آئے ہیں جو نصیحت کرتے ہیں اس پر خود کار بند ہیں اخلاق، اعمال اور عادات واطوار سب ٹھیک ہیں۔ پھر ایسے بےلوث بزرگوں کا اتباع کیوں نہ کیا جائے اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے جو پیغام بھیجے کیوں قبول نہ کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21 { اتَّبِعُوْا مَنْ لاَّ یَسْئَلُکُمْ اَجْرًا وَّہُمْ مُّہْتَدُوْنَ } ”پیروی کرو ان کی جو تم سے کسی اجرت کے طالب نہیں ہیں اور جو ہدایت یافتہ ہیں۔“ دیکھو ! یہ لوگ تمہیں نصیحت کرنے اور تمہیں راہ راست کی طرف بلانے کے لیے دن رات مشقت کر رہے ہیں ‘ لیکن اس سب کچھ کے عوض وہ تم سے کسی صلے یا اجرت کا مطالبہ نہیں کرتے۔ جبکہ ان کی سیرتیں خود اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ یہ لوگ واقعی ہدایت یافتہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

23 اس مرد حق گو نے اصحاب قریہ کو کیا کیا باتیں سمجھائیں ؟ اس صالح مرد نے قوم کے پاس آکر انہیں دو باتیں سمجھائیں ایک یہ کہ یہ رسول جو تعلیم پیش کرتے ہیں پہلے خود اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور ان کی اخلاقی حالت بھی تم سے بہت بلند ہے۔ دوسرے جو کچھ وہ تمہیں تعلیم دیتے ہیں اس پر نہ تو تم سے کچھ معاوضہ طلب کرتے ہیں اور نہ اس کام سے ان کا اپنا کوئی ذاتی مفاد وابستہ ہے۔ اور جو بات وہ کہتے ہیں تمہاری ہی بھلائی کے لئے کہتے ہیں۔ لہذا ایسے بےلوث مخلصوں کی بات تمہیں ضرور مان لینا چاہئے۔ بلکہ ان کی قدر کرنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 20–21

14۔ یعنی ان بزرگوں کی پیروی سے امر مانع کون سا ہے۔ خود یہ لوگ تو راہ ہدایت ہی پر ہیں، اور پھر خود غرضی کا خیال ان کی طرف سے مرتفع، اس لیے کہ ہم سے جاہ ومال کسی قسم کا صلہ نہیں چاہتے۔ (آیت) ” رجل یسعی “۔ یہ شخص اس وقت تک مومن ہوچکا تھا۔ (آیت) ” من لایسئلکم اجرا “۔ پیغمبروں کی یہ خصوصیت قرآن مجید میں بارہار بیان ہوچکی ہے کہ وہ تبلیغ و دعوت کسی قسم کے دنیوی معاوضہ کے لالچ میں نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–32

آیت نمبر 13 تا 32 ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اتبعوا من لا یسئلکم اجرًا وھم مھتدون . ایسے لوگوں کی راہ پر چلو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وہ خود راہ راست پر ہیں۔ لاَ یَسْءَلُکُمْ اَجْرًا یعنی تبلیغ رسالت کا وہ کوئی معاوضہ نہیں چاہتے۔ وَھُمْ مُّھْتَدُوْنَ یعنی دونوں جہان کی بھلائی کے راستہ پر چل رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 20–21

(20۔ 21) اور انبیاء کرام کی خبر سن کر اس شہر کے کسی دور مقام سے حبیب نجار مسلمان دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاکر ان رسولوں کی پیروی کرو۔ جو تم سے اس چیز پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وہ خود بھی موحد اور سیدھے راستے پر ہیں اس پر قوم نے ان سے کہا کہ تو نے ہم سے اور ہمارے دین سے بےزاری ظاہر کی اور ہمارے دشمن کے دین کو اختیار کرلیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا يَسْـَٔــلُكُمْ اَجْرًا وَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ : یعنی پیغمبروں کی بات مان لو، ان کے کہنے پر چلو اور دیکھو کہ وہ اپنے کسی دنیوی مفاد کی خاطر تمہیں دعوت نہیں دے رہے، نہ ہی تم سے اپنی اس خیر خواہی کی کوئی اجرت طلب کر رہے ہیں، خود سیدھے راستے پر ہیں اور تمہیں سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–29

رجل سے مراد حبیب بن مری ہے وہ بڑھئی تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ اسکاف) جوتا ( بنانے والا تھا۔ ایک قول کیا گیا۔ وہ دھوبی تھا۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاد اور مقاتل نے کہا۔ وہ حبیب بن اسمائیل نجاز تھا وہ بت تراشا کرتا تھا یہ نبی کریم ﷺ پر ایمان لایا جب کہ درمیان میں چھ سو سال کا عرصہ ہے جس طرح تعہ اکبر ورقہ بن نوفل اور دوسرے لوگ ایمان لائے کوئی فرد کسی نبی پر ایمان نہیں لایا تھا ‘ مگر اس وقت جب وہ نبی ظاہر ہوچکا تھا (1) ۔ وہب نے کہا ’ حبیب کو جزام کا مرض تھا اس کا گھر شہر کے دروازوں میں سے آخری دروازے کے پاس تھا وہ ستر سال تک بتوں کی عبادت میں مصروف رہا اور دعا کرتا رہا ممکن ہے وہ بت اس پر رحم کریں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–27

وقولہ تعالیٰ : (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی قال یقوم اتبعو المرسلین (20) اتبعوامن لا یسئلکم اجراوھم مھتدون (21) ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون (22) ۔ 19:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی “ کے بارے میں روایت کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ آدمی نماز میں اللہ کی عبادت کرتا تھا اور اس کا نام حبیب تھا (جب) اس نے ان لوگوں کے بارے میں سنا جن کو عیسیٰ (علیہ السلام) نے انطاکیہ والوں کی طرف بھیجا تھا وہ ان کے پاس آیا اور کہا تم کسی اجرت کا تقاضا کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں تو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اتَّبِعُوْا مَنْ [پیروی کرو ان کی جو ] لَّا يَسْـَٔــلُكُمْ [نہیں مانگتے تم سے ] اَجْرًا [کوئی اجرت ] وَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ [اور وہ لوگ ہدایت یافتہ ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 21–25

اس کے بعد اس شخص نے اپنے دین توحید کا کھل کر اعلان کردیا کہ (اِنِّیْ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنَ ) (بلاشک و شبہ میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا تم میرے اس اعلان کو سن لو) اس اعلان میں (بِرَبِّیْ ) نہیں کہا بلکہ (بِرَبِّکُمْ ) کہا جس میں انہیں تنبیہ کردی اور یہ بتادیا کہ جو تمہارا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے، دوسرے یہ بتایا کہ تم اسی کی طرف واپس جاؤ گے، تیسرے یہ بتایا کہ تم نے جو اس کے علاوہ معبود بنا رکھے ہیں بےحقیقت ہیں، چوتھے یہ بتایا کہ تم کھلی ہوئی گمراہی میں ہو، اور پانچویں یہ بتادیا کہ میں نے یہی دین اختیار کیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کروں تم بھی یہ دین اختیار کرلو۔ معالم التنزیل میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–21

قصہ اصحاب القریہ برائے عبرت ونصیحت مکذبین رسالت قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وہم مھتدون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں معاندین اور مکذبین رسالت کا ذکر تھا اب آگے ان کی تہدید اور عبرت کے لئے ایک آبادی کا قصہ بیان کرتے ہیں تاکہ مشرکین مکہ کو معلوم ہوجائے کہ مستکبرین اور منکرین نبوت کا کیا انجام ہوتا ہے اور ایسوں کو ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے اس قصہ کے ذکر کرنے سے مسئلہ نبوت و رسالت کی تائید اور تکذیب کرنے والوں کی تہدید مقصود ہے تاکہ مکذبین رسالت اس سے عبرت پکڑیں۔ اور جان لیں کہ ذکر اور نصیحت سے اعراض کا کیا انجام ہوتا ہے۔ جمہور مفسرین یہ کہتے ہیں کہ اس قصہ میں جس قریہ کا ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–22

15:۔ وما لی الخ، حبیب نجار نے جب قوم کے سامنے تقریر کی تو انہوں نے کہا اچھا ! تو بھی ان کا ساتھی ان کے عقیدے پر ہے۔ اور ہمارے دین کا مخالف ہے فلما قال ذالک قالوا لہ وانت مخالف لدیننا و متابع دین ھؤلاء الرسل (مظہری ج 8 ص 78) ۔ اس پر اس نے کہا، وما لی لا اعبد الخ، آخر کیا وجہ ہے کہ میں اس ذات پاک کی بلا شرکت غیرے خالص عبادت نہ کروں جس نے مجھے زندگی عطا فرمائی ہے اور آخر کار جزاء و سزا کے لیے قیامت کے دن تم سب اس کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے، اس لیے بہتر ہے کہ تم بھی اس کے رسولوں پر ایمان لے آؤ اور اس کی توحید کو مان لو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ والیہ ترجعون بعد الموت فیجازیکم باعمالکم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 20–32

مکی سورتوں کے چار بنیادی عقائد میں سے اس رکوع میں رسالت کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ گزشتہ درس میں انطاکیہ کی بستی کا ذکر ہوا کہ اس میں اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبغلین دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آئے تو اہل بستی نے ان کی تکذیب کی ، بدسلوکی کرنے اور ایذا پہنچانے کے علاوہ ان کو طعن بھی کیا کہ تمہاری آمد کی وجہ سے ہم پر نحوست چھا گئی ہے ، ہمارے علاقے میں خشک سالی پیدا ہوگئی ہے اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ رسولوں نے جواب دیا کہ یہ نامبارکی ہماری وجہ سے نہیں ہے بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھنے والے ہو۔ جس کی سزا تمہیں مل رہی ہے۔ ایک مومن کی خیر خواہی مرسلین نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا يَسْـَٔــلُكُمْ اَجْرًا وَّہُمْ مُّہْتَدُوْنَ۝ 21 تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ، ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–25

ترکیب : اصحٰب القریۃ معناہ واضرب لہم مثلا مثل اصحاب القریۃ فترک المثل و اقیم الاصحاب مقامہ فی الاعراب کقولہ و اسئل القریۃ کشاف وقیل المعنی اجعل اصحاب القریۃ لھم مثلاً علی ان یکون مثلا و اصحٰب القریۃ مفعولین لاضرب او یکون اصحاب القریۃ بدلا من مثلا فعلی ھذا اضرب بمعنی مثل وھو یتعدی الی مفعولین لتضمنہ معنی الجعل و ھما مثلا اصحٰب القریۃ علی حذف مضاف اذ جاء بدل من اصحٰب القریۃ بدل الاشتمال اَئِنْ ذکرتم شرط و جو ابہ محذوف مثل تطیرتم لما جمیع قریٔ مشدد او مخففا قال الفراء من شدو جعل لما بمعنی الاوان بمعنی ما۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا۔ انک لمن المرسلین اور اس کے بعد یہ بھی فرمایا تھا کہ ازلی گمراہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–21

وَجَـآئَ مِنْ اَقْصَاالْمَدِیْنَۃِ رَجُلٌ یَّسْعٰی قَالَ یٰـقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ ۔ اتَّبِعُوْا مَنْ لاَّیَسْئَلُکُمْ اَجْرًا وَّھُمْ مُّھْتَدُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 20، 21) (اور شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اس نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! رسولوں کی پیروی کرو۔ پیروی کرو ان لوگوں کی جو تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتے اور وہ ٹھیک راستے پر ہیں۔ ) ایک مخلص کی حمیت حق اور قوم کو دعوت محولہ بالا رسولوں کی دعوت اور مخالفین کی مخالفت کوئی ایک دن کی بات نہیں یقینا عرصہ دراز تک یہ سلسلہ چلا ہوگا۔ اور اس کشمکش میں مختلف نشیب و فراز آئے ہوں گے۔ تینوں رسولوں نے کبھی ایک ساتھ اور کبھی الگ الگ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 21–22

فہم القرآن ربط کلام : مضافات شہر سے آنے والے صالح انسان کا اپنی قوم کو خطاب جاری ہے۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ اور ان کی اتباع کی تلقین کرنے کے بعد صالح انسان نے اپنا عقیدہ قوم کے سامنے پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے پاس کیا عذر ہے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں ؟ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم نے بھی لوٹ کرجانا ہے کیا میں اسے چھوڑ کر کسی اور کو معبود بنا لوں جبکہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہی انسان کے نفع و نقصان کا مالک ہے۔ اگر رب رحمن میرے نقصان کا فیصلہ کرے تو جن کی تم عبادت کرتے ہو ان کی سفارش نہ مجھے فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ ہی یہ کسی مصیبت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

21: اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُکُمْ اَجْرًا وَّ ھُمْ مُّھْتَدُوْنَ (ان کی بات مانو ! جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وہ خودراہ راست پر ہیں) ۔ اجر ؔ سے مراد تبلیغ پر مزدوری، ھمؔ سے مراد رسل ہیں۔ انہوں نے سوال کیا۔ کیا تو بھی انہی کے دین پر ہے۔ تو اس نے کہا :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 21۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتبعوامن لایسئلکم اجرا وھم مھتدون، حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حبیب نجارغار میں عبادت کرتے تھے ۔ جب ان کو رسول کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے دین کو ظاہر کردیا ۔ جب حبیب ان قاصدوں تک پہنچے تو ان کو کہا کہ تم ان اجر کے متعلق سوال کرتے ہو، کہنے لگے نہیں اور اپنی قوم کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا، یا قوم اتبعوا المرسلین اتبعوامن لا یسئلکم اجرا وھم مھتدون، جب یہ بات کہہ چکے تو وہ ان کو مخاطب کرکے کہنے لگے اور تو ان کے دین کا مخالف ہوگیا ہے ان قاصدوں کے دین کی پیروی کی اور مؤمن ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 20–25

20 تا 25۔ جس بستی کا اوپر ذکر تھا اسی بستی کے پرے سرے سے یہ نیک شخص دوڑتا ہوا آیا شاہ (عبدالقادر) صاحب اپنے فائدہ 2 ؎ جس طرح لکھا ہے (2 ؎ یہ شہر تھا انطاکیہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے دو یار وہاں پہنچے ‘ شہروالوں نے ٹال دیا ‘ پھر تیسرے یار بھی پہنچے یہ تیسرے بڑے یار تھے (موضح القرآن) اسی طرح ابن اسحاق کی روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اور کعب احبار اور وہب بن منبہ اور عکرمہ وقتاوہ اور زہری وغیرہ نے بھی اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ ان آیتوں میں جس شہر کا ذکر ہے وہ شہر انطاکیہ تھا اور جن رسولوں کا ذکر ہے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تین حواری تھے مگر حافظ عماد الدین ابن کثیر 3 ؎ نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 21 آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کردیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لئے نصیحت ہوگی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے در پے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بےتکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

25 اتباع حق کا تقاضا کرنے والی دو اہم بنیادیں : سو اس مرد مومن نے اپنی قوم سے کہا کہ " تم ان کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اور وہ خود ہیں بھی حق پر "۔ یعنی اول تو ان کا ہدایت پر ہونا ہی اس بات کا اصل اور بڑا مقتضیٰ ہے کہ ان حضرات کی بات کو مانا جائے اور صدق دل سے ان کی پیروی کی جائے۔ اور مزید یہ کہ ان کی اس میں کوئی ذاتی غرض بھی نہیں۔ یہ تم لوگوں سے کسی بھی قسم کا کوئی اجر اور بدلہ بھی نہیں مانگتے۔ تو پھر تمہیں ان کی پیروی کرنے میں آخر کیا عذر و تامل ہوسکتا ہے ؟ سو راہ حق و ہدایت پر قائم رہنا اور کوئی دنیاوی لالچ اور طمع نہ رکھنا دو ایسی اہم بنیادیں ہیں جو کسی کے اتباع کا بدیہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 13–21

انطاکیہ کی ایک بستی میں داعیان حق کی روئیداد تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی قوم کے پاس ہدایت کے لیے کوئی پیغمبر بھیجا گیا انہوں نے اس کو جھٹلایا سوائے چند افراد کے انہوں نے اکثر پیغمبروں کو قتل بھی کردیا۔ اسی سلسلہ میں نبی اکرم ﷺ کو کہا گیا ہے کہ آپ ان کفار کی نافرمانی سے ہرگز پریشان نہ ہوں بلکہ ان کو عبرت دلانے کے لیے اس گاؤں کا قصہ سناؤ۔ یہ عبرت ناک قصہ صرف اہل مکہ کے لیے ہی نہیں بلکہ تاقیامت تمام لوگوں کے لیے یہ سبق کا مقام ہے۔ قصہ یوں ہے کہ شام میں ایک گاؤں انطاکیہ تھا وہاں پر لوگوں کو ہدایت دینے کے لیے دو رسول بھیجے گئے بعض روایات میں ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 14–21

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 14 تا 21: اسرار و معارف : آپ ان لوگوں کو اس شہر کے باسیوں کی مثال دیجیے جن کے پاس اسی طرح انبیاء آئے تھے جیسے آپ ان کے پاس تشریف لائے ہیں بلکہ ہم نے وہاں بیک وقت دو نبی مبعوث فرمائے کہ انہیں بات خوب طرح سے سمجھائیں شاید ایک حکمت یہ بھی ہو دین حق میں جب لوگوں کو اپنے اوہام باطلہ اور خواہشات نفس کی مخالفت نظر آئے تو اکثر غور و فکر کی بجائے مخالفت کرتے ہیں اور داعی یا مبلغ کو پاگل اور دیوانہ قرار دیتے ہیں مگر کوئی دو پاگل بھی ایک بات پہ متحد نہیں ہوسکتے اور نہ یہ ممکن ہے کہ ان کا سارا کردار تو انتہائی پاکیزہ ہو اور عقیدہ کے معاملے میں دونوں پاگل ہوں۔ لوگوں نے ان کی بات ماننے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 20–22

ف 1 مقصود قوم کو توجہ دلانا ہے کہ جس طرح میرے لئے یہ صحیح نہیں ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کی عبادت نہ کروں اسی طرح تمہارے لئے بھی صحیح نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے باز رہو، کیونکہ میں ہوں یا تم سب کا پیدا کرنے والاوہی اللہ ہے۔2” اور اپنے اعمال کا بدلہ پانا چاہیے “

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:21) مھتدون۔ اسم فاعل جمع مذکر، مرفوع، نکرہ، اھتداء (افتعال) مصدر۔ ہدایت پانے والے۔ ہدایت یافتہ۔ راہ راست پر چلنے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–32

لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے) تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–32

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔ ( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–26

[10] یعنی جب سے تم نے آ کر ہمارے معبودوں کے خلاف باتیں کرنی شروع کی ہیں وہ ہم سے ناراض ہوگئے ہیں۔ اب جو مصیبت بھی ہم پر آتی ہے وہ تمہاری بدولت ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–22

ف 2: اللہ کے ان رسولوں نے جب یہ سنا تو فرمایا نحوست و محرومی تو تمہارے حصہ میں آئی ہے ۔ خدا سے نہیں ڈرتے ہو ۔ کیا وعظ ونصیحت کے معنے نحوست کی طرف دعوت دیتا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ تمہارے نفس توازن کھوچکے ہیں ۔ اور تم مسرف لوگوں میں سے ہو ۔ اتنے میں ان لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ نے توفیق ہدایت دی ۔ اور وہ بھاگا ہوا آیا اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہنے لگا کہ یہ خدا کا پیغمبر ہیں ۔ ان کا تتبع کرو ۔ دیکھو وہ تم سے اجر اور صلہ نہیں مانگتے ۔ خودراہ راست پر گامزن ہیں اور تم کو بھی صراط مستقیم پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں ۔ سارے قصہ سے مقصود یہ ہے کہ حضور کو تسلی دی جائے اور بتایا جائے ۔ کہ آپ سے پہلے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(21) تم ایسے لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے تبلیغ پر کچھ اجرت اور معاوضہ طلب نہیں کرتے اور وہ خود بھی ہدایت یافتہ لوگ ہیں۔ یہ شخص کوئی پرانا مسلمان تھا یا ان ہی پیغمبروں کی تعلیم پر ایمان لایا تھا جب اس کو یہ معلوم ہوا کہ قوم کے آدمی پیغمبروں کی توہین اور قتل کا ارادہ کر رہے ہیں تو یہ گھبرا کر شہر کے آخری حصے میں جہاں یہ رہتا تھا وہاں سے بھاگا ہوا آیا اور قوم کو سمجھانے لگا کہ اے میری قوم تم ان رسولوں کی اتباع اور پیروی کرو کیونکہ یہ بےغرض لوگ ہیں دعوت و تبلیغ پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتے نہ کوئی معاوضہ طلب کرتے ہیں اور خود بھی راہ راست پر ہیں اور نیک لوگ ہیں پھر ان کے طریقے کو کیوں نہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ یعنی خود غرضی جو مانع اتباع ہے وہ مرتفع اور اہتداء جو مقتضی اتباع ہے وہ موجود پھر اتباع کیوں نہ کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دیکھو تم سے یہ کوئی مزدوری تو اس پیغام پر طلب نہیں کرتے اور تم کو ہدایت کرتے ہیں : 21۔ میں تم کو نصیحت کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں اور تم کو معلوم ہے کہ میں بھی تمہارے اسی شہر کا رہنے والا ہوں ‘ تمہاری قوم کا ایک فرد ہوں ‘ جس طرح یہ آدمی بھی تمہاری اپنی بستی کے رہنے والے ہیں ۔ میرا مخلصانہ فیصلہ کان کھول کر سن لو کہ بہتر تو یہ ہے ج کہ تم ان پر ایمان لے آؤ اور ان کی پیروی کرو ‘ ان کی صداقت کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ انہوں نے تم سے کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا ، چندہ کی اپیل نہیں کی بلکہ مفت تم کو راہ ہدایت پیش کر رہے ہیں اگر انہوں نے صرف ڈھونگ رچایا ہوتا جیسا کہ تم خیال کرتے ہو تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–24

In verse 20, it was said: وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَ‌جُلٌ يَسْعَىٰ (And there came a man rushing from the farthest part of the city.) In the first verse (13), the place where this incident transpired was expressed as: اَلقَریَۃ (al-qaryah: town) which, according to the Arabic lexical usage, does not signify a small village, instead, it means a habitation in the absolute sense. It may be a small habitation or a big city. Now, in this verse, this place has been identified as: اَمَدِینۃ (al-madinah), a name used only for a big city. From here, we learn that the habitation where this…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

17 That servant of God, in this one sentence, put together all the arguments required for determining the genuineness of Prophethood. The genuineness of a Prophet can be determined by two things. First, his word and deed; second, his being selfless. What the person meant to say was this: 'First, whatever these people are saying is perfectly reasonable, and their own character also is pure; second, no one can prove that they are calling the people to this faith on account of a selfish motive. Therefore, there is no reason why they should not be listened to." By citing this reasoning of the…

Read the full tafseer →