Explained with ayahs 20–21
مبلغ حق شہید کردیا۔
مروی ہے کہ اس بستی کے لوگ یہاں تک سرکش ہوگئے کہ انہوں نے پوشیدہ طور پر نبیوں کے قتل کا ارادہ کرلیا۔ ایک مسلمان شخص جو اس بستی کے آخری حصے میں رہتا تھا جس کا نام حبیب تھا اور رسے کا کام کرتا تھا، تھا بھی بیمار، جذام کی بیماری تھی، بہت سخی آدمی تھا۔ جو کماتا تھا اس کا آدھا حصہ اللہ کی راہ میں خیرات کردیا کرتا تھا۔ دل کا نرم اور فطرت کا اچھا تھا۔ لوگوں سے الگ تھلگ ایک غار میں بٹھ کر اللہ عزوجل کی عبادت کیا کرتا تھا۔ اس نے جب اپنی قوم کے اس بد ارادے کو کسی طرح معلوم کیا تو اس سے صبر نہ ہوسکا دوڑتا بھاگتا آیا۔ بعض کہتے ہیں یہ بڑھئی تھے۔ ایک قول ہے کہ یہ دھوبی تھے۔ عمر بن حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة یٰسٓ 15
یعنی کوئی کسی کے لیے منحوس نہیں ہے۔ ہر شخص کا نوشتہ تقدیر اس کی اپنی ہی گردن میں لٹکا ہوا ہے۔ برائی دیکھتا ہے تو اپنے نصیب کی دیکھتا ہے اور بھلائی دیکھتا ہے تو وہ بھی اس کے اپنے ہی نصیب کی ہوتی ہے۔ وَکُلُّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰہُ طٰٓئِرَہٗ فِیْ عُنُقِہٖ ، " ہر شخص کا پروانۂ خیر و شر ہم نے اس کی گردن میں لٹکا دیا ہے " (بنی اسرائیل 13)
سورة یٰسٓ 16
یعنی دراصل تم بھلائی سے بھاگنا چاہتے ہو اور ہدایت کے بجائے گمراہی تمہیں پسند ہے، اس لیے حق اور باطل کا فیصلہ دلیل سے کرنے کے بجائے اوہام و خرافات کے سہارے یہ بہانہ بازیاں کر رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
(آیت) وجاء من اقصی المدینہ رجل یسعیٰ ، پہلی آیت میں اس مقام کو جس میں یہ قصہ پیش آیا لفظ قریہ سے تعبیر کیا گیا جو عربی زبان کے اعتبار سے صرف چھوٹے گاؤں کو نہیں بلکہ مطلق بستی کو کہتے ہیں، چھوٹی بستی ہو یا بڑا شہر۔ اور اس آیت میں اس مقام کو لفظ مدینہ سے تعبیر کیا جو صرف بڑے شہر ہی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس بستی میں یہ واقعہ ہوا ہے وہ کوئی بڑا شہر تھا، اس سے بھی اس قول کی تائید ہوتی ہے جس میں اس کو انطاکیہ قرار دیا ہے۔ اقصی المدینہ سے مراد شہر کے کسی گوشہ سے آنا ہے۔ رجل یسعیٰ ، لفظ یسعیٰ سعی سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی دوڑ کر چلنے کے ہیں۔ اس لئے معنی یہ ہوئے کہ شہر کے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
وجاء من اقصا المدینۃ رجل یسعی قال یقوم اتبعوا المرسلین اتبعوا من لا یسئلکم اجرا وھم مھتدون (20۔ 21)
اوپر آیت 4 1 میں جس تیسرے منذر کی طرف اشارہ ہے یہ اس کی تائید حق کی تفصیل ہے۔ اوپر سورة اعراف کی آیت کے حوالہ سے ہم بیان کرچکے ہیں کہ ’ رجل ‘ سے مراد ہی مومن آل فرعون ہے جس کا ذکر تفصیل کے ساتھ مومن میں ہوا ہے اور جس کی تقریر کا حوالہ ہم اوپر دے چکے ہیں۔ اس کا واضح قرینہ یہ ہے کہ جن الفاظ میں ان کا تعارف یہاں کرایا گیا ہے بعینہ انہی الفاظ میں سورة اعراف میں بھی کرایا گیا ہے۔
’ جاء من اقصا المدینہ یسعی ‘ سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ ان کی ہمدردی محض لفظی نہیں بلکہ عملا بھی۔ اپنے خس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
20۔ 1 یہ شخص مسلمان تھا، جب اسے پتہ چلا کہ قوم پیغمبروں کی دعوت کو نہیں اپنا رہی، تو اس نے آکر رسولوں کی حمایت اور ان کے اتباع کی ترغیب دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
8: روایتوں میں ان کا نام حبیب نجار بتایا گیا ہے۔ یہ پیشے کے لحاظ سے بڑھئی تھے، اور ان رسولوں کی دعوت پہلے ہی قبول کر کے ایمان لا چکے تھے، اور شہر کے سرے پر کہیں تنہا رہ کر عبادت میں لگے رہتے تھے۔ جب انہیں پتہ چلا کہ ان کی قوم کے لوگ ان رسولوں کو تکلیف پہنچانے کے درپے ہیں تو یہ جلدی سے وہاں پہنچے، اور بڑے مؤثر انداز میں اپنی قوم کے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
وجآء من اقصا المدینۃ۔۔۔۔۔ اجرا وھم مھتدون (20 – 21) ” “۔
یہ ہے نمونہ فطرت سلیمہ کا۔ جب فطرت سلیمہ ایک سیدھے سادے حق کو سنتی ہے تو وہ فوراً تصدیق کرتی ہے۔ نہایت سادگی اور نہایت ہی گرم جوشی کے ساتھ اور فطرت سلیمہ کی فکر مستقیم ہوئی ہے۔ اور وہ پرشوکت سچائی کے مقابلے میں جوش و خروش سے لبیک کہتی ہے۔
یہ شخص بھی اسی معاشرے اور گاؤں کا فرد ہے ، دعوت اسلامی کو سنتے ہی وہ لبیک کہتا ہے۔ وہ سچائی کے دلائل و نشانات کو اچھی طرح پاتا ہے۔ رسولوں اور ان کی قوم کے درمیان جو مکالمہ ہوا ہے اس کے اندر پائے جانے والی گہری منطق کو وہ پالیتا ہے۔ جب یہ سچائی اس کے دل و دماغ میں جاگزیں ہوگئی تو وہ فوراً حرکت میں آجاتا…
Read the full tafseer →13 کہتے ہیں کہ اس مرد صالح کا نام حبیب تھا۔ شہر کے پرلے کنارے عبادت میں مشغول رہتا اور کسب حلال سے کھاتا تھا۔ فطری صلاحیت نے چپ نہ بیٹھنے دیا۔ قصہ سنتے ہی مرسلین کی تائید و حمایت اور مکذبین کی نصیحت و فہمائش کے لیے دوڑتا ہوا آیا۔ مبادا اشقیاء اپنی دھمکیوں کو پورا کرنے لگیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرسلین کی آواز کا اثر شہر کے دور دراز حصوں تک پہنچ گیا تھا۔
Read the full tafseer →آیت 20 { وَجَآئَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ رَجُلٌ یَّسْعٰی } ”اور شہر کے َپرلے سرے سے آیا ایک شخص بھاگتا ہوا“
{ قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ } ”اس نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! تم ان رسولوں علیہ السلام کی پیروی کرو !“
تم لوگ ان پر ایمان لائو ‘ ان کی تصدیق کرو اور ان کی اطاعت کرو۔
Read the full tafseer →22 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان رسولوں اور ان کی قوم میں جو مکالمہ اوپر مذکور ہوا ہے وہ کوئی چند دنوں پر مشتمل نہیں بلکہ کئی سالوں کی مدت پر محیط تھا اور رسولوں کی دعوت اور ان کے انکار اور دھمکیوں کا چرچا اس شہر کے علاوہ ارد گرد کے مضافات میں بھی پھیل چکا تھا۔ چناچہ انہیں مضافات میں سے ایک صالح مرد جس کا نام حبیب بتایا جاتا ہے نے جب یہ سنا کہ شہر والے اپنے رسولوں کو قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور مبادا وہ کوئی ایسی حرکت کر نہ بیٹھیں، تو اس سے برداشت نہ ہوسکا۔ وہ خود ایک عبادت گزار انسان تھا۔ اور اپنے ہاتھوں کی حلال کمائی کھاتا تھا۔ اور اچھی شہرت رکھتا تھا، یہ باتیں سنتے ہی دوڑتا ہوا اس کی طرف آیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
14۔ یعنی ان بزرگوں کی پیروی سے امر مانع کون سا ہے۔ خود یہ لوگ تو راہ ہدایت ہی پر ہیں، اور پھر خود غرضی کا خیال ان کی طرف سے مرتفع، اس لیے کہ ہم سے جاہ ومال کسی قسم کا صلہ نہیں چاہتے۔ (آیت) ” رجل یسعی “۔ یہ شخص اس وقت تک مومن ہوچکا تھا۔ (آیت) ” من لایسئلکم اجرا “۔ پیغمبروں کی یہ خصوصیت قرآن مجید میں بارہار بیان ہوچکی ہے کہ وہ تبلیغ و دعوت کسی قسم کے دنیوی معاوضہ کے لالچ میں نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
آیت نمبر 13 تا 32
ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…
Read the full tafseer →وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی . اور ایک آدمی اس شہر کے دور مقام سے دوڑتا ہوا آیا۔
یہ شخص حبیب نجار تھا (یعنی بڑھئی تھا) عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم نے قتادہ کا یہی قول بیان کیا ہے۔ سدی نے کہا : حبیب دھوبی تھا۔ وہب نے کہا : حبیب ریشمی کپڑے بناتا تھا اور بیمار تھا۔ اس کو جذام ہوگیا تھا اسلئے شہر کے آخری دروازہ پر پڑا رہتا تھا اور مردمؤمن تھا ‘ خیرات بہت کرتا تھا۔ دن میں جو کچھ کماتا تھا ‘ شام کو دو حصے کر کے ایک حصہ خیرات کردیتا تھا اور ایک حصہ اپنے متعلقین کے صرف میں لاتا تھا۔ جب اس کو اطلاع ملی کہ اس کی قوم والوں نے رسولوں کو قتل کردینے کا ارادہ کرلیا ہے تو دوڑا ہوا آیا ‘ اور
قال یقوم اتبعوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(20۔ 21) اور انبیاء کرام کی خبر سن کر اس شہر کے کسی دور مقام سے حبیب نجار مسلمان دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاکر ان رسولوں کی پیروی کرو۔
جو تم سے اس چیز پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وہ خود بھی موحد اور سیدھے راستے پر ہیں اس پر قوم نے ان سے کہا کہ تو نے ہم سے اور ہمارے دین سے بےزاری ظاہر کی اور ہمارے دشمن کے دین کو اختیار کرلیا ہے۔
Read the full tafseer →وَجَاۗءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ رَجُلٌ يَّسْعٰى : آیات سے ظاہر ہے کہ پیغمبروں کی دعوت اور قوم کا مباحثہ مدت تک جاری رہا، حتیٰ کہ ان کی دعوت ساری بستی میں پھیل گئی اور جب انھوں نے قتل کی دھمکی دی تو یہ خبر بھی ہر طرف پھیل گئی کہ بستی کے لوگ پیغمبروں کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ بستی خاصی بڑی تھی، جسے پہلے اللہ تعالیٰ نے ”الْقَرْيَةِ“ فرمایا ہے، اس کے بعد اسے ”الْمَدِيْنَةِ“ یعنی شہر کہا ہے۔ اس شہر کے سب سے دور کنارے میں ایک صالح آدمی رہتا تھا، اسے جب پیغمبروں کی دعوت اور قوم کے انکار کی اور پیغمبروں کو قتل کرنے کی دھمکیوں کی خبر پہنچی تو وہ شہر کے سب سے دور کنارے سے دوڑتا ہوا آیا کہ کہیں وہ جلدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
رجل سے مراد حبیب بن مری ہے وہ بڑھئی تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ اسکاف) جوتا ( بنانے والا تھا۔ ایک قول کیا گیا۔ وہ دھوبی تھا۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاد اور مقاتل نے کہا۔ وہ حبیب بن اسمائیل نجاز تھا وہ بت تراشا کرتا تھا یہ نبی کریم ﷺ پر ایمان لایا جب کہ درمیان میں چھ سو سال کا عرصہ ہے جس طرح تعہ اکبر ورقہ بن نوفل اور دوسرے لوگ ایمان لائے کوئی فرد کسی نبی پر ایمان نہیں لایا تھا ‘ مگر اس وقت جب وہ نبی ظاہر ہوچکا تھا (1) ۔
وہب نے کہا ’ حبیب کو جزام کا مرض تھا اس کا گھر شہر کے دروازوں میں سے آخری دروازے کے پاس تھا وہ ستر سال تک بتوں کی عبادت میں مصروف رہا اور دعا کرتا رہا ممکن ہے وہ بت اس پر رحم کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
وقولہ تعالیٰ : (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی قال یقوم اتبعو المرسلین (20) اتبعوامن لا یسئلکم اجراوھم مھتدون (21) ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون (22) ۔
19:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی “ کے بارے میں روایت کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ آدمی نماز میں اللہ کی عبادت کرتا تھا اور اس کا نام حبیب تھا (جب) اس نے ان لوگوں کے بارے میں سنا جن کو عیسیٰ (علیہ السلام) نے انطاکیہ والوں کی طرف بھیجا تھا وہ ان کے پاس آیا اور کہا تم کسی اجرت کا تقاضا کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں تو…
Read the full tafseer →وَجَاۗءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ [اور آیا شیر کے زیادہ دور سے ] رَجُلٌ يَّسْعٰى [ایک شخص دوڑتا ہوا ] قَالَ يٰقَوْمِ [اس نے کہا اے میری قوم ] اتَّبِعُوا [تم لوگ پیروی کرو ] الْمُرْسَلِيْنَ [بھیجے ہوؤں کی ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
مذکورہ بستی کے باشندوں میں سے ایک شخص کا پیامبروں کی تصدیق کرنا اور بستی والوں کو توحید کی تلقین کرنا
تینوں حضرات بستی والوں کو ہدایات دے رہے تھے اور وہ لوگ ان حضرات سے الجھ رہے تھے اور یوں کہہ رہے تھے کہ تمہارا آنا ہمارے لیے نحوست کا سبب ہے، یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک شخص اس بستی کی ایک جانب سے جو بہت دور تھی دوڑتا ہوا وہاں پہنچ گیا اس نے تینوں حضرات کی تائید کی اور بستی والوں سے کہا کہ اے میری قوم یہ حضرات ٹھیک فرما رہے ہیں، یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں تم ان کی بات مان لو اور ان کا اتباع کرو، یہ حضرات ایک تو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں دوسرے تم سے کسی معاوضہ کا سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
قصہ اصحاب القریہ برائے عبرت ونصیحت مکذبین رسالت
قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وہم مھتدون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں معاندین اور مکذبین رسالت کا ذکر تھا اب آگے ان کی تہدید اور عبرت کے لئے ایک آبادی کا قصہ بیان کرتے ہیں تاکہ مشرکین مکہ کو معلوم ہوجائے کہ مستکبرین اور منکرین نبوت کا کیا انجام ہوتا ہے اور ایسوں کو ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے اس قصہ کے ذکر کرنے سے مسئلہ نبوت و رسالت کی تائید اور تکذیب کرنے والوں کی تہدید مقصود ہے تاکہ مکذبین رسالت اس سے عبرت پکڑیں۔ اور جان لیں کہ ذکر اور نصیحت سے اعراض کا کیا انجام ہوتا ہے۔
جمہور مفسرین یہ کہتے ہیں کہ اس قصہ میں جس قریہ کا ذکر ہے…
Read the full tafseer →14:۔ وجاء رجل الخ، رجل سے حبیب بن مری نجار مراد ہے جو اسی بستی کے ایک کنارے رہتا تھا یہ نہایت نیک، فیاض اور سلیم الفطرت انسان تھا۔ اور انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت کو قبول کرچکا تھا۔ (قرطبی) ، جب قوم کا انکار وعناد انتہا کو پہنچ گیا اور انہوں نے پیغمبروں کو شہید کردینے کا ارادہ کرلیا تو یہ شخص اپنے گھر سے دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو نہایت ہی ناصحانہ انداز میں تبلیغ کرنے لگا۔ میری قوم ! ان رسولوں کی بات مان لو جو اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ اور محض تمہاری بھلائی کے لیے تمہیں سیدھی راہ دکھاتے ہیں اور تبلیغ حق پر تم سے کچھ اجرت بھی نہیں مانگتے وہ ہیں بھی راہ راست پر۔ اللہ کی توحید اور شرک کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–32
مکی سورتوں کے چار بنیادی عقائد میں سے اس رکوع میں رسالت کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ گزشتہ درس میں انطاکیہ کی بستی کا ذکر ہوا کہ اس میں اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبغلین دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آئے تو اہل بستی نے ان کی تکذیب کی ، بدسلوکی کرنے اور ایذا پہنچانے کے علاوہ ان کو طعن بھی کیا کہ تمہاری آمد کی وجہ سے ہم پر نحوست چھا گئی ہے ، ہمارے علاقے میں خشک سالی پیدا ہوگئی ہے اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ رسولوں نے جواب دیا کہ یہ نامبارکی ہماری وجہ سے نہیں ہے بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھنے والے ہو۔ جس کی سزا تمہیں مل رہی ہے۔
ایک مومن کی خیر خواہی
مرسلین نے…
Read the full tafseer →وَجَاۗءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَۃِ رَجُلٌ يَّسْعٰى قَالَ يٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِيْنَ 2 0ۙ
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض )
جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–25
ترکیب : اصحٰب القریۃ معناہ واضرب لہم مثلا مثل اصحاب القریۃ فترک المثل و اقیم الاصحاب مقامہ فی الاعراب کقولہ و اسئل القریۃ کشاف وقیل المعنی اجعل اصحاب القریۃ لھم مثلاً علی ان یکون مثلا و اصحٰب القریۃ مفعولین لاضرب او یکون اصحاب القریۃ بدلا من مثلا فعلی ھذا اضرب بمعنی مثل وھو یتعدی الی مفعولین لتضمنہ معنی الجعل و ھما مثلا اصحٰب القریۃ علی حذف مضاف اذ جاء بدل من اصحٰب القریۃ بدل الاشتمال اَئِنْ ذکرتم شرط و جو ابہ محذوف مثل تطیرتم لما جمیع قریٔ مشدد او مخففا قال الفراء من شدو جعل لما بمعنی الاوان بمعنی ما۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا۔ انک لمن المرسلین اور اس کے بعد یہ بھی فرمایا تھا کہ ازلی گمراہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
وَجَـآئَ مِنْ اَقْصَاالْمَدِیْنَۃِ رَجُلٌ یَّسْعٰی قَالَ یٰـقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ ۔ اتَّبِعُوْا مَنْ لاَّیَسْئَلُکُمْ اَجْرًا وَّھُمْ مُّھْتَدُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 20، 21)
(اور شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اس نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! رسولوں کی پیروی کرو۔ پیروی کرو ان لوگوں کی جو تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتے اور وہ ٹھیک راستے پر ہیں۔ )
ایک مخلص کی حمیت حق اور قوم کو دعوت
محولہ بالا رسولوں کی دعوت اور مخالفین کی مخالفت کوئی ایک دن کی بات نہیں یقینا عرصہ دراز تک یہ سلسلہ چلا ہوگا۔ اور اس کشمکش میں مختلف نشیب و فراز آئے ہوں گے۔ تینوں رسولوں نے کبھی ایک ساتھ اور کبھی الگ الگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فہم القرآن
ربط کلام : تین انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ساتھ قوم کی کشمکش کی انتہا اور ایک خیرخواہ کا قوم کو آخری بار سمجھانا۔
قوم نے شرافت کی دیواریں پھلانگتے ہوئے جب یہ فیصلہ کرلیا کہ تینوں انبیاء کو بیک وقت قتل کردیا جائے۔ اس صورت حال کا جونہی شہر کے مضافات میں رہنے والے ایک شخص کو علم ہوا تو وہ بےقرار ہو کر دوڑتا ہوا اپنی قوم کے سر کردہ لوگوں کے پاس آیا اور انہیں سمجھاتے ہوئے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تمہیں انبیائے کرام (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں کرنے کی بجائے ان کی اتباع کرنی چاہیے۔ ناصرف یہ ہستیاں افکار اور کردار کے لحاظ سے ہم سب سے اعلیٰ اور ممتاز ہیں بلکہ اس بات پر بھی غور کرو کہ…
Read the full tafseer →حبیب نجار کا وعظ :
20: وَجَآ ئَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ رَجُلٌ یَّسْعٰی (اور ایک شخص شہر کے اور کسی مقام سے دوڑتا ہوا آیا) ۔ یہ حبیب نجار تھا۔ یہ پہاڑ کے ایک غار میں مقیم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا۔ جب اس کو رسولوں کی آمد کی خبر ملی اور اس نے اپنے دین کا اظہار کیا۔ پھر کہنے لگا۔ کیا تم جو کچھ لائے ہو اس پر اجر طلب کرتے ہو۔ انہوں نے کہا : نہیں ! قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ کہا اے میری قوم تم رسولوں کی بات مانو۔ )
Read the full tafseer →20، وجاء من اقصی المدینۃ رجل یسعی ، یہ حبیب نجار تھا ۔ سدی فرماتے ہیں کہ حبیب دھوبی تھا۔ وہب فرماتے ہیں حبیب ریشمی کپڑیبناتا تھا اور بیمار تھا اس کو جذام ہوگیا اس لیے شہر کے آخری دروازے پر پڑارہتا تھا اور مؤمن تھا، صدقہ کیا کرتا تھا، دن میں جو کچھ کماتا تھا شام کو دوحصے کرکے ایک حصہ خیرات کردیتا تھا اور ایک حصہ اپنے متعلقین کے صرف میں لاتا تھا۔ جب اس کو طلاع ملی کہ اس کی قوم والوں نے رسولوں کو قتل کردینے کا ارادہ کرلیا تو بھاگتا ہوا آیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
20 تا 25۔ جس بستی کا اوپر ذکر تھا اسی بستی کے پرے سرے سے یہ نیک شخص دوڑتا ہوا آیا شاہ (عبدالقادر) صاحب اپنے فائدہ 2 ؎ جس طرح لکھا ہے (2 ؎ یہ شہر تھا انطاکیہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے دو یار وہاں پہنچے ‘ شہروالوں نے ٹال دیا ‘ پھر تیسرے یار بھی پہنچے یہ تیسرے بڑے یار تھے (موضح القرآن) اسی طرح ابن اسحاق کی روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اور کعب احبار اور وہب بن منبہ اور عکرمہ وقتاوہ اور زہری وغیرہ نے بھی اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ ان آیتوں میں جس شہر کا ذکر ہے وہ شہر انطاکیہ تھا اور جن رسولوں کا ذکر ہے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تین حواری تھے مگر حافظ عماد الدین ابن کثیر 3 ؎ نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
آیت 1
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد…
Read the full tafseer →24 رسولوں کی تایید کے لیے غیبی امداد کا ایک مظہر و نمونہ : سو اس موقع پر ان رسولوں کی تایید وتقویت کے لیے غیبی امداد کا ایک نمونہ و مظہر اس طرح سامنے آیا کہ ان کا ساتھ دینے کے لیے شہر کے اس دور کے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا ان کے پاس پہنچا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور دوڑتا ہوا آیا ایک شخص شہر کے اس کنارے سے "۔ روایات کے مطابق اس شخص کا نام حبیب نجار تھا جو پہلے ہی ایمان سے مشرف ہوچکا تھا۔ بڑا عابد و زاہد اور نیک و صالح انسان تھا۔ یہ شخص شہر کے دوسرے کونے پر اپنی عبادت میں مصروف تھا کہ اس کو ان پیغمبروں کے ساتھ اپنی قوم کی اس بدسلوکی کا علم ہوا تو اس سے رہا نہ گیا اور وہ دوڑتا ہوا وہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
انطاکیہ کی ایک بستی میں داعیان حق کی روئیداد
تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی قوم کے پاس ہدایت کے لیے کوئی پیغمبر بھیجا گیا انہوں نے اس کو جھٹلایا سوائے چند افراد کے انہوں نے اکثر پیغمبروں کو قتل بھی کردیا۔ اسی سلسلہ میں نبی اکرم ﷺ کو کہا گیا ہے کہ آپ ان کفار کی نافرمانی سے ہرگز پریشان نہ ہوں بلکہ ان کو عبرت دلانے کے لیے اس گاؤں کا قصہ سناؤ۔ یہ عبرت ناک قصہ صرف اہل مکہ کے لیے ہی نہیں بلکہ تاقیامت تمام لوگوں کے لیے یہ سبق کا مقام ہے۔
قصہ یوں ہے کہ شام میں ایک گاؤں انطاکیہ تھا وہاں پر لوگوں کو ہدایت دینے کے لیے دو رسول بھیجے گئے بعض روایات میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 14 تا 21:
اسرار و معارف :
آپ ان لوگوں کو اس شہر کے باسیوں کی مثال دیجیے جن کے پاس اسی طرح انبیاء آئے تھے جیسے آپ ان کے پاس تشریف لائے ہیں بلکہ ہم نے وہاں بیک وقت دو نبی مبعوث فرمائے کہ انہیں بات خوب طرح سے سمجھائیں شاید ایک حکمت یہ بھی ہو دین حق میں جب لوگوں کو اپنے اوہام باطلہ اور خواہشات نفس کی مخالفت نظر آئے تو اکثر غور و فکر کی بجائے مخالفت کرتے ہیں اور داعی یا مبلغ کو پاگل اور دیوانہ قرار دیتے ہیں مگر کوئی دو پاگل بھی ایک بات پہ متحد نہیں ہوسکتے اور نہ یہ ممکن ہے کہ ان کا سارا کردار تو انتہائی پاکیزہ ہو اور عقیدہ کے معاملے میں دونوں پاگل ہوں۔ لوگوں نے ان کی بات ماننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ف 1 مقصود قوم کو توجہ دلانا ہے کہ جس طرح میرے لئے یہ صحیح نہیں ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کی عبادت نہ کروں اسی طرح تمہارے لئے بھی صحیح نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے باز رہو، کیونکہ میں ہوں یا تم سب کا پیدا کرنے والاوہی اللہ ہے۔2” اور اپنے اعمال کا بدلہ پانا چاہیے “
Read the full tafseer →(36:20) اقصا۔ افعل التفضیل کا صیغہ قصاء سے جس کے معنی دور ہونے کے ہیں زیادہ دور۔ بہت بعید۔ اقصا المدینۃ۔ مضاف مضاف الیہ۔ شہر کا پر لا۔ (دور والا سرا۔ یا شہر کا کوئی ودر والا مقام) ۔ یسعی۔ مضارع واحد مذکر غائب سعی مصدر۔ (باب فتح) دوڑتا ہوا۔ یہ رجل کا حال ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے)
تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔
( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
[10] یعنی جب سے تم نے آ کر ہمارے معبودوں کے خلاف باتیں کرنی شروع کی ہیں وہ ہم سے ناراض ہوگئے ہیں۔ اب جو مصیبت بھی ہم پر آتی ہے وہ تمہاری بدولت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ف 2: اللہ کے ان رسولوں نے جب یہ سنا تو فرمایا نحوست و محرومی تو تمہارے حصہ میں آئی ہے ۔ خدا سے نہیں ڈرتے ہو ۔ کیا وعظ ونصیحت کے معنے نحوست کی طرف دعوت دیتا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ تمہارے نفس توازن کھوچکے ہیں ۔ اور تم مسرف لوگوں میں سے ہو ۔ اتنے میں ان لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ نے توفیق ہدایت دی ۔ اور وہ بھاگا ہوا آیا اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہنے لگا کہ یہ خدا کا پیغمبر ہیں ۔ ان کا تتبع کرو ۔ دیکھو وہ تم سے اجر اور صلہ نہیں مانگتے ۔ خودراہ راست پر گامزن ہیں اور تم کو بھی صراط مستقیم پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں ۔ سارے قصہ سے مقصود یہ ہے کہ حضور کو تسلی دی جائے اور بتایا جائے ۔ کہ آپ سے پہلے…
Read the full tafseer →(20) اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا آ کے کہنے لگا اے میری قوم ان رسولوں کی راہ پر چلو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 3۔ پس مخالفت شرع سے تم پر یہ نحوست آئی اور مخالفت عقل سے تم نے اس کا سبب غلط سمجھا۔
Read the full tafseer →ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو رسولوں کی دعوت قبول کرنے کی ہدایت کرنے لگا :
20۔ اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کا نام نہیں لیا اور اس کا نام نہیں بتایا ‘ اس کی حیثیت واضح نہیں کی مفسرین کو پوچھ لو کہ آیا اللہ میاں کو یہ بات معلوم ہی نہ تھی یا اور کوئی راز کی بات ہے کہ اس کا نام نہ لیا کیونکہ ہمارے مفسرین کو انہی باتوں پر تعجب ہوتا ہے جن پر تعجب کی کوئی ضرورت نہ ہو ۔ بہرحال اس آدمی نے آتے ہی قوم کو للکارا کہ میری قوم کے لوگو ! یہ لوگ بلاشک وشبہ اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر مبعوث کیے ہیں اور تم ان کی بات کو قبول کرلو اور ان کی تکذیب مت کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
In verse 20, it was said: وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَىٰ (And there came a man rushing from the farthest part of the city.) In the first verse (13), the place where this incident transpired was expressed as: اَلقَریَۃ (al-qaryah: town) which, according to the Arabic lexical usage, does not signify a small village, instead, it means a habitation in the absolute sense. It may be a small habitation or a big city. Now, in this verse, this place has been identified as: اَمَدِینۃ (al-madinah), a name used only for a big city. From here, we learn that the habitation where this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
15 That is, "No one is an evil omen for another. Everyman's augury is hanging around his own neck.If a person sees an evil, it is because of his own self; and if he sees a good, it is also because of his own self. 'We have fastened the augury of every man to his own neck'." (Bani Isra'il: 13).
16 That is, "You in fact want to avoid the good and you like the deviation instead of the guidance. Therefore, instead of determining the truth and falsehood by means of an argument, you arc making these false pretences on account of your superstitious whims."
Read the full tafseer →