Yaseen 36:19

Yaseen · from ayah 19

36:19

قَالُوْا طَآىِٕرُكُمْ مَّعَكُمْ ؕ— اَىِٕنْ ذُكِّرْتُمْ ؕ— بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ۟قَالُوۡا طٰۤئِـرُكُمۡ مَّعَكُمۡؕ اَئِنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ؕ بَلۡ اَنۡـتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ

انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اس لئے کہ تم کو نصیحت کی گئی۔ بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے تجاوز کر گئے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Your omen is with yourselves. Is it because you were reminded? Rather, you are a transgressing people."

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 2 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:19

رسولوں نے جواب دیا "تمہاری فال بد تو تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی ہے کیا یہ باتیں تم اِس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی؟ اصل بات یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اس لئے کہ تم کو نصیحت کی گئی۔ بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے تجاوز کر گئے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان رسولوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے، کیا اس کو نحوست سمجھتے ہو کہ تم کو نصیحت کی جائے بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

رسولوں نے کہا : تمہاری نحوست خود تمہارے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ کیا یہ باتیں اس لیے کر رہے ہو کہ تمہیں نصیحت کی بات پہنچائی گئی ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ تم خود حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

انہوں نے فرمایا تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہے کیا اس پر بدکتے ہو کہ تم سمجھائے گئے بلکہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(پیغمبروں نے) کہا: تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے، کیا یہ نحوست ہے کہ تمہیں نصیحت کی گئی، بلکہ تم لوگ حد سے گزر جانے والے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اگر تمہیں نصیحت کی جائے، بلکہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : تمہاری نحوست تو تمہارے اپنے ساتھ لگی ہے۔ اگر تمہیں نصیحت کی جائے (تو کیا اسے تم نحوست سمجھتے ہو ؟) بلکہ تم ہو ہی حد سے گزرے ہوئے لوگ۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

رسولوں نے جواب دیا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اس چیز کو تم نے نحوست سمجھا کہ تمہیں یاد دہانی کی گئی ! بلکہ تم خود حدود سے گزر جانے والے لوگ ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

رسولوں نے جواب دیا کہ تمہاری نحوست تو خود تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی ہے کیا اگر تمہیں نصیحت کی جائے (تو تم اس کو نحوست سمجھتے ہو نہیں) بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ خود حد سے بڑھنے والے لوگ ہو

— مولانا اسحاق مدنی

وہ (رسول) بولے کہ تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہی چپکی ہوئی ہے کیا (نحوست) یہ ہے کہ تمہیں نصیحت کی گئی ؟ اصل یہ ہے کہ تم ہی ہو حد سے نکل جانے والے لوگ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تو تمہارے اپنے ساتھ ہے یا اس لیے کہ تمہیں نصیحت کی گئی ہے ؟ اور تمہارے اپنے اندر بھی (اللہ کی نشانیاں) ہیں کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟ بلکہ تم حد سے بڑھ جانے والے لوگ ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے کیا اس لیے کہ تمہیں نصیحت کی گئی بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے بڑھ گئے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The Messengers replied: “Your evil omen is with you. (Are you saying this) because you were asked to take heed? The truth is that you are a people who have exceeded all bounds.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :Your bad omen is with yourselves. (Do you take it as bad omen) if you are given a good counsel? Rather, you are a people who cross all limits.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :Your bad omen is with yourselves. (Do you take it as bad omen) if you are given a good counsel? Rather, you are a people who cross all limits.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They (Messengers) said: "Your evil omens be with you! Because you are admonished Nay, but you are a people mischievous."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Your evil augury be with you! Is it because ye are reminded (of the truth)? Nay, but ye are froward folk!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Your omen is with yourselves. Is it because you were reminded? Rather, you are a transgressing people."

— Saheeh International

The Messengers said, "This ill omen lies within yourselves. Will you then take heed? In fact, you are a transgressing people."

— Muhammad Sarwar

They said: Your evil fortune is with you; what! if you are reminded! Nay, you are an extravagant people.

— Muhammad Habib Shakir

They said: your evil augury be with you. Call ye it an ill- luck because ye are admonished! Aye! ye are a people extravagant.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "Your evil omens are with yourselves: (deem ye this an evil omen). If ye are admonished? Nay, but ye are a people transgressing all bounds!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–19

انبیاء و رسل سے کافروں کا رویہ ٭ ان کافروں نے ان رسولوں سے کا کہ تمہارے آنے سے ہمیں کوئی برکت و خیریت تو ملی نہیں۔ بلکہ اور برائی اور بدی پہنچی۔ تم ہو ہی بدشگون اور تم جہاں جاؤ گے بلائیں برسیں گی۔ سنو اگر تم اپنے اس طریقے سے باز نہ آئے اور یہی کہتے رہے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے۔ اور سخت المناک سزائیں دیں گے رسولوں نے جواب دیا کہ تم خود بدفطرت ہو۔ تمہارے اعمال ہی برے ہیں اور اسی وجہ سے تم پر مصیبتیں آتی ہیں۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ یہی بات فرعونیوں نے حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کے مومنوں سے کہی تھی۔ جب انہیں کوئی راحت ملتی تو کہتے ہم تو اس کے مستحق ہی تھے۔ اور اگر کوئی رنج پہنچتا تو حضرت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–20

سورة یٰسٓ 15 یعنی کوئی کسی کے لیے منحوس نہیں ہے۔ ہر شخص کا نوشتہ تقدیر اس کی اپنی ہی گردن میں لٹکا ہوا ہے۔ برائی دیکھتا ہے تو اپنے نصیب کی دیکھتا ہے اور بھلائی دیکھتا ہے تو وہ بھی اس کے اپنے ہی نصیب کی ہوتی ہے۔ وَکُلُّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰہُ طٰٓئِرَہٗ فِیْ عُنُقِہٖ ، " ہر شخص کا پروانۂ خیر و شر ہم نے اس کی گردن میں لٹکا دیا ہے " (بنی اسرائیل 13) سورة یٰسٓ 16 یعنی دراصل تم بھلائی سے بھاگنا چاہتے ہو اور ہدایت کے بجائے گمراہی تمہیں پسند ہے، اس لیے حق اور باطل کا فیصلہ دلیل سے کرنے کے بجائے اوہام و خرافات کے سہارے یہ بہانہ بازیاں کر رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

قالوا طائرکم معکم، یعنی تمہاری نحوست تمہارے ہی ساتھ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے ہی اعمال کا نتیجہ ہے۔ طائر کا لفظ اصل میں بدفالی کے لئے بولا جاتا ہے، اور کبھی بدفالی کے اثر یعنی نحوست کے معنی میں بھی آتا ہے یہاں یہی مراد ہے (ابن کثیر، قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قالوا طرئیکم معکم این ذکرتھم بل انتم قوم مسرفون (19) لفظ طائر کی تحقیق بھی اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ یہاں اس کے معنی نحوست کے ہیں۔ یہ ان رسولوں کا جواب ہے کہ تم اپنی بدبختی کے اسباب دوسروں کے اندر ڈھونڈتے ہو حالانکہ تمہاری نحوست خود تمہارے ساتھ ہے۔ یہ جو کچھ پیش آرہا ہے تمہارے اپنے ہی عقائد و اعمال کا نتیجہ ہے اس وجہ سے دوسروں کو ملزم ٹھہرانے کے بجائے اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھو اور اپنے اعمال و عقائد کا جائزہ لو۔ ’ ائن ذکرتم ‘ یعنی تم ہمیں جو منحوس ٹھہرا رہے ہو تو کیا اس گناہ میں کہ ہماری طرف سے تم کو یاددہانی کی گئی اور نیک و بد سے آگاہ کیا گیا ہے ! ’ برانتم قوم مرفون ‘ یعنی یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 یعنی وہ تمہارے اپنے اعمال بد کا نتیجہ ہے جو تمہارے ساتھ ہی ہے نہ کہ ہمارے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قالوا طآئرکم معکم (36: 19) ” ۔ اس لیے کہ نیک فالی یا بدفالی دونوں جاہلیت کے خرافات میں ہیں۔ اور رسولوں کے مشن میں یہ بھی داخل ہے کہ اس وہم کو بھی دور کیا جائے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کو شیر و شر باہر سے نہیں ملتا بلکہ خیر اور شر دراصل خود اس کے نفس کے اندر سے پیدا ہوتا ہے۔ خیر اور شر تو تمہارے ساتھ لگا ہوا ہے۔ تمہاری نیتوں اور تمہارے اعمال سے آنے والے خیر و شر کا گہرا ربط ہے اور خیر و شر کا مدار تمہارے اعمال پر ہے۔ یہ تمہارے اختیار میں ہے کہ تم آنے والے واقعات کو اپنے لیے بہتر بناؤ اور نیک انجام پاؤ یا اسے خود اپنے لیے شربنا دو کیونکہ اللہ لوگوں کے بارے میں وہی فیصلے کرتا ہے جن کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی تمہارے کفر و تکذیب کی شامت سے عذاب آیا۔ اگر حق و صداقت کو سب مل کر قبول کرلیتے نہ یہ اختلاف مذموم پیدا ہوتا، نہ اس طرح مبتلائے آفات ہوتے۔ پس نامبارکی اور نحوست کے اسباب خود تمہارے اندر موجود ہیں۔ پھر کیا اتنی بات پر کہ تمہیں اچھی نصیحت و فہمائش کی اور بھلا برا سمجھایا، اپنی نحوست ہمارے سر ڈالنے لگے۔ اور قتل کی دھمکیاں دینے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم عقل و آدمیت کی حدود سے خارج ہوجاتے ہو۔ نہ عقل سے سمجھتے ہو نہ آدمیت کی بات کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19 { قَالُوْا طَآئِرُکُمْ مَّعَکُمْ ”انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تو تمہارے اپنے ساتھ ہے۔“ { اَئِنْ ذُکِّرْتُمْ } ”کیا اس لیے کہ تمہیں نصیحت کی گئی ہے ؟“ کیا تم یہ باتیں اس لیے بنا رہے ہو کہ تمہیں نصیحت اور یاد دہانی کرائی گئی ہے ؟ جبکہ یہ نصیحت بھی کوئی نئی اور انوکھی بات سے متعلق نہیں ہے۔ اللہ کی معرفت تو پہلے سے تمہارے دلوں کے اندر موجود ہے۔ ہم تو تم لوگوں کو صرف اس کی یاد دہانی کرانے کے لیے آئے ہیں۔ اسی حقیقت کو سورة الذاریات میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : { وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ } ”اور تمہارے اپنے اندر بھی اللہ کی نشانیاں ہیں ‘ کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟“ { بَلْ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 یعنی تمہاری نحوست کی اصل وجہ وہ نہیں جو تم سمجھے بیٹھے ہو۔ بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ پہلے تمہارے پاس کوئی تنبیہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔ لہذا تم اللہ کی طرف سے معذور تھے۔ اب ہم نے اگر تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا تو تم نے اس سے سرتابی کی اور اکڑ بیٹھے۔ اس کی پاداش میں تمہیں اللہ کی طرف سے یہ سزا مل رہی ہے اور یہ تمہارے اپنے ہی اعمال کی نحوست ہے کہیں باہر سے نہیں آئی۔ 21 یعنی تمہارا انداز فکر اس قدر بگڑ چکا ہے کہ جو لوگ تمہارے خیر خواہ ہیں اور سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ان کو تم جان سے مار ڈالنے یا تکلیفیں پہنچانے کی دھمکیاں دیتے ہو۔ اور اللہ کی نافرمانی پر اگر تمہیں کوئی دکھ پہنچے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13۔ یعنی یہ کیا اندھیر ہے کہ عین جو طریقہ سعادت دارین اور فلاح دنیا وآخرت کا بتایا جاتا ہے، اسی کو نحوست قرار دے رہے ہو، اور نحوست تم جن واقعات کو قرار دے رہے ہو وہ تو خود تمہارے ہی کرتوت ہیں۔ تم ہی نے حق کے قبول سے انکار کیا، تو تمہارے اندر افتراق وتشتت پیدا ہوا۔ تمہیں نے پیدا خداوندی کو ٹھکرایا۔ تو تمہارے سامان معاش میں بےبرکتی پیدا ہوئی۔ وقس علی ہذا۔ (آیت) ” طآئرکم معکم “۔ قدیم جاہل قوموں میں سعد ونحس کا تخیل بہت زیادہ پھیلا ہوا تھا۔ بات بات میں شگون، فال وغیرہ کارواج عام تھا۔ مکالمہ اسی فضا میں ہورہا ہے۔ (آیت) ” طآئرکم “۔ یعنی نحوست بقول تمہارے، نحوست تمہارے زعم میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–32

آیت نمبر 13 تا 32 ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا طآئرکم معکم ائن ذکرتم بل انتم قوم مسرفون رسولوں نے کہا : تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے۔ کیا (اس کو تم نحوست سمجھتے ہو کہ) تم کو نصیحت کی جا رہی ہے (نحوست کی اور کوئی وجہ نہیں ہے) بلکہ تم خود حد (شریعت و عقل) سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ یعنی تمہاری نحوست کا سبب تمہارے ساتھ موجود ہے۔ مراد یہ ہے کہ نحوست کا سبب تمہارا کفر ہے۔ حضرت ابن عباس نے یہ مطلب بیان کیا : تمہارے نصیب کی بھلائی اور برائی تمہارے ساتھ ہے ‘ وہ ضرور تم کو پہنچے گی ‘ تم سے دور نہیں ہوگی۔ اَءِنْ ذُکِّرْتُمْط میں استفہام انکاری ہے ‘ یعنی اگر تم کو نصیحت کی جا رہی ہے تو کیا اس کو تم ہماری نحوست سمجھتے ہو اور ہم کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

وہ رسول بولے کہ تمہاری سختی اور تمہارا منحوس سمجھنا یہ تو تمہارے افعال کے ساتھ ہی اللہ کی طرف وابستہ ہے کیا اس کو نحوست سمجھتے ہو کہ تمہیں نصیحت کریں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرائیں بلکہ تم تو پورے مشرک ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْا طَاۗىِٕرُكُمْ مَّعَكُمْ : پیغمبروں نے کہا، تم پر آنے والی نحوست کا باعث ہم نہیں بلکہ خود تمہارے افعال ہیں کہ تم نے اللہ کے ساتھ شرک اور اس کی صریح نافرمانی اور سرکشی اختیار کر رکھی ہے۔ اگر تم پر قحط پڑا ہے، یا وبا آئی ہے، یا کوئی اور آفت تو اس کا باعث تم خود ہو، ہم نہیں، کیونکہ ہم تو اللہ کی توحید اور اس کی اطاعت ہی کی دعوت دیتے ہیں۔ اَىِٕنْ ذُكِّرْتُمْ : اس شرط کا جواب محذوف ہے، یعنی کیا اگر تمہیں نصیحت کی جائے اور تمہاری خیر خواہی کی جائے تو شکر گزار ہونے کے بجائے ہمیں منحوس قرار دیتے ہو اور دھمکیاں دیتے ہو ؟ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ : بلکہ اصل یہ ہے کہ تم حد سے بڑھنے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–19

خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ ﷺ اپنی قوم کے سامنے اصحب قریہ کا واقعہ بیان کریں (1) ۔ ماوردی نے بیان کیا ہے کہ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس بستی سے مراونطاکیہ ہے یہ اہل انطبیس کی طرف منسوب ہے یہ اس آدمی کا نام ہے جس نے اس کے بارے میں ایک لفظ یہ بی ہے ان تاکیہ یعنی طاء کی جگہ تاء وہاں ایک بادشاہ تھا جسے انطیخس بن انطنیحس کہا جاتا ہے ‘ وہ بتوں کی پوجا کیا کرتا تھا ‘ مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ ابو جعفر نے اسے کعب اور وہب سے نقل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف تین رسولوں کو بھیجا وہ حضرت صادق ‘ حضرت مصدوق اور حضرت شمعون تھے شمعون ہی تیسرا تھا ‘ یہ طبری کا قول ہے۔ دوسرے علماء نے کہا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

13:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” طائرکم معکم “ یعنی تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ 14:۔ عبد بن حمید (رح) نے یحییٰ بن وثاب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ائن ذکرتم “ کو کسرہ کے ساتھ پڑھا اور رزین بن حیشنی اس کو (آیت) ” ائن ذکرتم “ کو نصب کے ساتھ پڑھا۔ 15:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی “ (اور ایک آدمی اس شہر کے دور مقام سے دوڑتا ہوا آیا) اس میں رجل سے مراد حبیب نجار ہے۔ 16:۔ عبدبن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 17:۔ ابن جریر (رح) نے ابومجلز (رح) سے روایت کیا کہ صاحب یسین کا نام…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالُوْا [انھوں نے کہا ] طَاۗىِٕرُكُمْ [تمہاری نحوست ] مَّعَكُمْ ۭ [تمہارے ساتھ ہے ] اَىِٕنْ ذُكِّرْتُمْ ۭ [کیا اگر یاد دہانی کرائی جائے تم کو (تب بھی)] بَلْ اَنْتُمْ [بلکہ تم لوگ ] قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ [حد سے تجاوز کرنے والی قوم ہو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 14–20

مذکورہ بستی کے باشندوں میں سے ایک شخص کا پیامبروں کی تصدیق کرنا اور بستی والوں کو توحید کی تلقین کرنا تینوں حضرات بستی والوں کو ہدایات دے رہے تھے اور وہ لوگ ان حضرات سے الجھ رہے تھے اور یوں کہہ رہے تھے کہ تمہارا آنا ہمارے لیے نحوست کا سبب ہے، یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک شخص اس بستی کی ایک جانب سے جو بہت دور تھی دوڑتا ہوا وہاں پہنچ گیا اس نے تینوں حضرات کی تائید کی اور بستی والوں سے کہا کہ اے میری قوم یہ حضرات ٹھیک فرما رہے ہیں، یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں تم ان کی بات مان لو اور ان کا اتباع کرو، یہ حضرات ایک تو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں دوسرے تم سے کسی معاوضہ کا سوال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–21

قصہ اصحاب القریہ برائے عبرت ونصیحت مکذبین رسالت قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وہم مھتدون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں معاندین اور مکذبین رسالت کا ذکر تھا اب آگے ان کی تہدید اور عبرت کے لئے ایک آبادی کا قصہ بیان کرتے ہیں تاکہ مشرکین مکہ کو معلوم ہوجائے کہ مستکبرین اور منکرین نبوت کا کیا انجام ہوتا ہے اور ایسوں کو ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے اس قصہ کے ذکر کرنے سے مسئلہ نبوت و رسالت کی تائید اور تکذیب کرنے والوں کی تہدید مقصود ہے تاکہ مکذبین رسالت اس سے عبرت پکڑیں۔ اور جان لیں کہ ذکر اور نصیحت سے اعراض کا کیا انجام ہوتا ہے۔ جمہور مفسرین یہ کہتے ہیں کہ اس قصہ میں جس قریہ کا ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

13:۔ قالوا طائرکم الخ، پیغمبروں نے جواب دیا شؤم و نحوست خود تمہارے اندر موجود ہے بارش کے بند ہونے کی وجہ تمہارا کفر و شرک اور طغیان و عصیان ہے۔ ائن ذکرتم۔ جزا محذوف ہے ای تطیرتم و جواب الشرط مضمر تقدیرہ لظیرتم (مدارک) کیا ہم نے تمہیں نصیحت کی ہے، اللہ کی توحید کی طرف بلایا ہے اور شرک سے روکا ہے اس لیے تم نے اس قسم کی لایعنی باتوں سے ہمارا مقابلہ شروع کردیا ہے اور ہمیں دھمکیاں دینے لگے ہو اور اپنے اعمال بد کی شامت کو ہماری طرف منسوب کرنے لگے ہو۔ نہایت بےانصاف اور حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو۔ ای من اجل انا ذکرنا کم و امرناکم بتوحید اللہ واخلاص العبادۃ لو قابلتمونا بہذا الکلام و توعدتمونا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–19

ربط آیات سورۃ کی ابتداء میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا بیان ہوا ، پھر رسالت کا ذکر ہوا۔ اللہ نے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ اکثر لوگ حجاب طبع یا حجاب رسم میں مبتلا رہ کر ہی زندگی ختم کرلیتے ہیں اور عمر بھر نہ تو وہ ایمان کے معاملے میں غور و فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اسے قبول کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ مردوں کو زندہ کرنا ہمارا کام ہے ، ہم مقررہ وقت پر انہیں دوبارہ زندہ کریں گے ، ان کے تمام اعمال اور ان کی ہر ہر نقل و حرکت ہمارے پاس لکھی ہوئی ہے جو انہیں نئی زندگی ملنے پر پیش کردی جائے گی اور پھر اس اعمالنامے کی بنیاد پر ان سے حساب کتاب لیا جائے گا اور جزا اور سزا کے فیصلے ہوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا طَاۗىِٕرُكُمْ مَّعَكُمْ۝ 0 ۭ اَىِٕنْ ذُكِّرْتُمْ۝ 0 ۭ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ۝ 19 طير ( فال) ، وتَطيَّرَ فلانٌ ، واطَّيَّرَ أصله التّفاؤل بالطَّيْرِ ثمّ يستعمل في كلّ ما يتفاء ل به ويتشاءم، قالُوا : إِنَّا تَطَيَّرْنا بِكُمْ [يس/ 18] ، ولذلک قيل : «لا طَيْرَ إلا طَيْرُكَ «1» » ، وقال تعالی: إِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا[ الأعراف/ 131] ، أي : يتشاء موا به، أَلا إِنَّما طائِرُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ [ الأعراف/ 131] ، أي : شؤمهم : ما قد أعدّ اللہ لهم بسوء أعمالهم . وعلی ذلک قوله : قالُوا اطَّيَّرْنا بِكَ وَبِمَنْ مَعَكَ قالَ طائِرُكُمْ عِنْدَ اللَّهِ [ النمل/ 47] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–25

ترکیب : اصحٰب القریۃ معناہ واضرب لہم مثلا مثل اصحاب القریۃ فترک المثل و اقیم الاصحاب مقامہ فی الاعراب کقولہ و اسئل القریۃ کشاف وقیل المعنی اجعل اصحاب القریۃ لھم مثلاً علی ان یکون مثلا و اصحٰب القریۃ مفعولین لاضرب او یکون اصحاب القریۃ بدلا من مثلا فعلی ھذا اضرب بمعنی مثل وھو یتعدی الی مفعولین لتضمنہ معنی الجعل و ھما مثلا اصحٰب القریۃ علی حذف مضاف اذ جاء بدل من اصحٰب القریۃ بدل الاشتمال اَئِنْ ذکرتم شرط و جو ابہ محذوف مثل تطیرتم لما جمیع قریٔ مشدد او مخففا قال الفراء من شدو جعل لما بمعنی الاوان بمعنی ما۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا۔ انک لمن المرسلین اور اس کے بعد یہ بھی فرمایا تھا کہ ازلی گمراہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْا طَـآئِرُکُمْ مَّعَکُمْ ط اَئِنْ ذُکِّرْتُمْ ط بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 19) (رسولوں نے جواب دیا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے، کیا یہ باتیں تم اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی ہے بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ ) طَـآئِرُ کا مفہوم طَـآئِرُ فالِ بد کے معنی میں آتا ہے، لیکن یہاں اس سے مراد فالِ بد کا نتیجہ یعنی نحوست ہے۔ کبھی اسے نوشتہ تقدیر کے معنی میں بھی بول دیتے ہیں۔ رسولوں نے جواب دیا کہ تمہارے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اسے تم دوسروں کی نحوست بتانے کی بجائے اپنے اندر تلاش کیوں نہیں کرتے۔ کیونکہ ہر انسان اپنے اعمال کے نتیجے اور اپنی قسمت کے احوال سے گزرتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–20

فہم القرآن ربط کلام : تین انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ساتھ قوم کی کشمکش کی انتہا اور ایک خیرخواہ کا قوم کو آخری بار سمجھانا۔ قوم نے شرافت کی دیواریں پھلانگتے ہوئے جب یہ فیصلہ کرلیا کہ تینوں انبیاء کو بیک وقت قتل کردیا جائے۔ اس صورت حال کا جونہی شہر کے مضافات میں رہنے والے ایک شخص کو علم ہوا تو وہ بےقرار ہو کر دوڑتا ہوا اپنی قوم کے سر کردہ لوگوں کے پاس آیا اور انہیں سمجھاتے ہوئے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تمہیں انبیائے کرام (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں کرنے کی بجائے ان کی اتباع کرنی چاہیے۔ ناصرف یہ ہستیاں افکار اور کردار کے لحاظ سے ہم سب سے اعلیٰ اور ممتاز ہیں بلکہ اس بات پر بھی غور کرو کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

19: قَالُوْا طَآپرُکُمْ (ان رسولوں نے کہا تمہاری نحوست) یعنی تمہاری نحوست کا سبب مَّعَکُمْ (تمہارے ساتھ ہے) اور وہ کفر ہے۔ اَپنْ (کیا اگر ) قراءت : ہمزہ استفہام اور حرف شرط کے ساتھ کوفی اور شامی نے پڑھا ہے۔ ذُکِّرْتُمْ (تمہیں نصیحت کی جائے) وعظ کیا جائے اور اسلام کی طرف بلایا جائے۔ جواب شرط مضمر ہے۔ تقدیرکلام یہ ہے۔ تطیر تم۔ قراءت : این اور نافع کو ہمزہ ممدودہ جس کے بعد یائے مک سورة ہو ابوعمرو نے پڑھا ہے۔ اور ہمزہ مقصورہ أین جس کے بعد یائے مک سورة ہو مکی نے پڑھا ذکرؔ تم کو تخفیف کے ساتھ یزید نے پڑھا ہے۔ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ (بلکہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو) ۔ نافرمانی میں حد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

19، قالو اطائر کم معکم ، تمہاری نحوست کا سبب تمہارے ساتھ موجود ہے اور وہ تمہاراکفر ہے اور تمہارے جھٹلا نے کی وجہ سے یعنی یہ نحوست تمہاری طرف سے پہنچی ہے۔ ابن عباس ؓ کی طرف نصیحت ہے۔ استفہام انکاری ہے، اس کا جواب یہ دیا کہ اگر تم کو نصیحت کی جارہی ہے کہ تم اس کو نحوست سمجھتے ہو۔ ابو جعفر نے ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے بغیر شد کے ۔ ، بل انتم قومامسرفون، وہ شرک کرنے والے جو حد سے تجاوزکرجائیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–19

13۔ تا 19۔ اوپر ذکر تھا کہ نصیحت انہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جو علم الٰہی میں نیک قرار پا چکے ہیں جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کے دل پر کسی نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہوتا اس قصے میں ایک شخص نیک کا اور بستی کے تمام سرکشوں کا حال بیان کر کے اوپر کی بات کی مثال سمجھائی حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک بستی میں دو رسول بھیجے جب بستی کے لوگوں نے ان دونوں رسولوں کو جھٹلایا تو تیسرے رسول کو ان دونوں کی مدد کے لیے بھیجا گیا لیکن بستی کے لوگوں نے ان تینوں رسولوں کو جھٹلایا اور تمام گمراہ قوموں کی طرح یہ کہا کہ اللہ کے رسول انسان نہیں ہوسکتے اس لیے تم تینوں جھوٹے ہو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–20

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

23 آدمی کی نحوست خود اس کے اپنے عمل و کردار میں : سو اسی حقیت کو آشکارا کرتے ہوئے ان رسولوں نے ان لوگوں کے الزام اور ان کی دھمکی کے جواب میں ان سے کہا کہ " تمہاری نحوست تو خود تمہارے ساتھ ہے "۔ یعنی وہ کفر و شرک، ضد وعناد اور ہٹ دھرمی، جس کو تم نے اپنے گلے لگا رکھا ہے۔ اور اسی کے باعث تم مبتلائے عذاب ہو رہے ہو جبکہ اصل عذاب تو آخرت کا عذاب ہے جو کہ بڑا ہی سخت ہے ۔ { وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انسان کی نحوست اور بدبختی کا تعلق خود اس کے اپنے باطن اور اس کے عمل و کردار سے ہوتا ہے نہ کہ خارج سے۔ اس لیے ایسے ہر موقع پر اصل ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ انسان اپنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 13–21

انطاکیہ کی ایک بستی میں داعیان حق کی روئیداد تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی قوم کے پاس ہدایت کے لیے کوئی پیغمبر بھیجا گیا انہوں نے اس کو جھٹلایا سوائے چند افراد کے انہوں نے اکثر پیغمبروں کو قتل بھی کردیا۔ اسی سلسلہ میں نبی اکرم ﷺ کو کہا گیا ہے کہ آپ ان کفار کی نافرمانی سے ہرگز پریشان نہ ہوں بلکہ ان کو عبرت دلانے کے لیے اس گاؤں کا قصہ سناؤ۔ یہ عبرت ناک قصہ صرف اہل مکہ کے لیے ہی نہیں بلکہ تاقیامت تمام لوگوں کے لیے یہ سبق کا مقام ہے۔ قصہ یوں ہے کہ شام میں ایک گاؤں انطاکیہ تھا وہاں پر لوگوں کو ہدایت دینے کے لیے دو رسول بھیجے گئے بعض روایات میں ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 14–21

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 14 تا 21: اسرار و معارف : آپ ان لوگوں کو اس شہر کے باسیوں کی مثال دیجیے جن کے پاس اسی طرح انبیاء آئے تھے جیسے آپ ان کے پاس تشریف لائے ہیں بلکہ ہم نے وہاں بیک وقت دو نبی مبعوث فرمائے کہ انہیں بات خوب طرح سے سمجھائیں شاید ایک حکمت یہ بھی ہو دین حق میں جب لوگوں کو اپنے اوہام باطلہ اور خواہشات نفس کی مخالفت نظر آئے تو اکثر غور و فکر کی بجائے مخالفت کرتے ہیں اور داعی یا مبلغ کو پاگل اور دیوانہ قرار دیتے ہیں مگر کوئی دو پاگل بھی ایک بات پہ متحد نہیں ہوسکتے اور نہ یہ ممکن ہے کہ ان کا سارا کردار تو انتہائی پاکیزہ ہو اور عقیدہ کے معاملے میں دونوں پاگل ہوں۔ لوگوں نے ان کی بات ماننے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 اس لئے اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ برے کام خود کرتے ہو اور منحوس ان لوگوں کو بتاتے ہو جو تمہیں برائی سے منع کرتے ہیں۔ یا ” تم لوگ ( کفر و سرکشی میں) حد سے بڑھ گئے ہو “۔ اس لئے ہماری دعوت کو قبول کرنے کی بجائے اسے اوہام و خرافات سے رد کرنا چاہتے ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:19) قالوا۔ رسولوں نے کہا۔ طائرکم معکم تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے۔ ائن ذکرتم۔ ہمزہ استفہامیہ ہے ان حرف شرط ہے ، جو اب شرط محذوف ہے ای ان ذکرتم تطیرتم بناو تواعد تمونا جب تم کو نصیحت کی جاتی ہے تو تم ہم کو منحوس قرار دیتے ہو اور تکلیف دہی کا ڈراوا دیتے ہو۔ (حرف استفہام بمعنی یہ کیا بات ہوئی ۔ کہ) بل۔ بلکہ (حرف اضراب ہے ) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ :۔ (36:19) مسرفون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ مسرف واحد۔ حد سے بڑھنے والے۔ اسران (افعال) مصدر۔ حد اعتدال یا حد مقررہ سے آگے بڑھنے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–32

لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے) تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–32

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔ ( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–26

[10] یعنی جب سے تم نے آ کر ہمارے معبودوں کے خلاف باتیں کرنی شروع کی ہیں وہ ہم سے ناراض ہوگئے ہیں۔ اب جو مصیبت بھی ہم پر آتی ہے وہ تمہاری بدولت ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–19

ف 2: قرآن حکیم نے جن واقعات کی تفصیل بیان فرمائی ہے ۔ اور کتب احادیث میں بھی انکا کوئی مذکور نہیں ہے ۔ ان کو اسی رنگ میں سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔ جس رنگ میں کہ قرآن نے بیان کیا ہے ۔ کیونکہ اگر تفصیلات کا ذکر کرنا نفس ابتداء کے لئے ضروری ہوتا ۔ تو وہ ضرور ظاہر کردی جاتیں ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے ایک قوم کا ذکر کیا ہے ؟ وہ کون لوگ تھے ؟ کس زمانے میں ہوئے یہ جاننا ضروری نہیں ہے ۔ بس یہ جان لیجئے ۔ کہ ایک قوم تھی ۔ ان کے پاس اللہ کے دو رسول آئے ۔ مگر انہوں نے ان کے پیغام کو ٹھکرا دیا ۔ پھر اللہ نے تیسرے رسول کو بھیجا ۔ اور ان تینوں نے مل کر کام کیا اور کہا ۔ کہ ہم کی طرف سے تمہارے پاس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) انبیاء نے جواب دیا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے کیا اتنی بات پر کہ تم کو نصیحت کی گئی تم یہ سلوک کرنے پر آمادہ ہو نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری نحوست کا سبب تو تمہارے ساتھ لگا ہوا ہے یعنی وہ کفر اور ناسپاسی ہے اگر اس کو چھوڑ دیتے تو نہ کوئی اختلاف ہوتا نہ قحط کا اندیشہ ہوتا۔ صرف اتنی بات پر کہ تم کو نصیحت اور تمہاری خیرخواہی کی گئی تم الزام تراشی اور دھمکیوں پر آمادہ ہوگئے۔ بات یہ ہے کہ تم لوگ حد شرع اور معقولیت سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید کفر کی شامت سے قحط ہوا ہوگا اس کو نامبارکی سمجھے یا آپس میں اختلاف ہو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–20

ف 3۔ پس مخالفت شرع سے تم پر یہ نحوست آئی اور مخالفت عقل سے تم نے اس کا سبب غلط سمجھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رسولوں نے بھی ان کو جھوٹی بات کا کھرا جواب سنا دیا کہ منحوس ہم نہیں بلکہ تم خود ہو : 19۔ رسولوں نے بھی سمجھا کہ اس جان کو بچانے کے لئے ان کی جھوٹی باتوں کا ان کو کھرا کھرا جواب سنادیا جائے تو یہی بہتر ہے کہ یہ جان تو بہرحال جانے ہی کے لیے ہے پہلے اس کو کون بچا سکا ہے جو ہم بچا سکا ہے جو ہم بچا لیں گے حقیقت تو یہ ہے کہ جس میں ایک لمحہ کی بھی کوئی کم وبیش نہیں کرسکتا اگرچہ مذہبی ٹھیکہ داروں نے سو افسانے اس کو کم وبیش کرنے کے لئے گھڑ رکھے ہوں لیکن حقیقت کبھی بدلا نہیں کرتی اور اللہ تعالیٰ کی باتوں میں تبدل حرام ہے ، اللہ تعالیٰ نہ تو خود بدلتا ہے اور نہ ہی کسی کو بدلنے دیتا ہے خواہ وہ کوئی ہو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The sense of the statement: قَالُوا طَائِرُ‌كُم مَّعَكُمْ (They said, "Your bad omen deeds.' The word: طَایٔر (ta'ir) essentially denotes bad omen or misfortune and, on occasions, it is also used to refer to the effects of misfortune, that is, wretchedness. Here, this is what it means. (Ibn Kathir, Qurtubi)

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–20

15 That is, "No one is an evil omen for another. Everyman's augury is hanging around his own neck.If a person sees an evil, it is because of his own self; and if he sees a good, it is also because of his own self. 'We have fastened the augury of every man to his own neck'." (Bani Isra'il: 13). 16 That is, "You in fact want to avoid the good and you like the deviation instead of the guidance. Therefore, instead of determining the truth and falsehood by means of an argument, you arc making these false pretences on account of your superstitious whims."

Read the full tafseer →