Explained with ayahs 18–19
انبیاء و رسل سے کافروں کا رویہ ٭
ان کافروں نے ان رسولوں سے کا کہ تمہارے آنے سے ہمیں کوئی برکت و خیریت تو ملی نہیں۔ بلکہ اور برائی اور بدی پہنچی۔ تم ہو ہی بدشگون اور تم جہاں جاؤ گے بلائیں برسیں گی۔ سنو اگر تم اپنے اس طریقے سے باز نہ آئے اور یہی کہتے رہے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے۔ اور سخت المناک سزائیں دیں گے رسولوں نے جواب دیا کہ تم خود بدفطرت ہو۔ تمہارے اعمال ہی برے ہیں اور اسی وجہ سے تم پر مصیبتیں آتی ہیں۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ یہی بات فرعونیوں نے حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کے مومنوں سے کہی تھی۔ جب انہیں کوئی راحت ملتی تو کہتے ہم تو اس کے مستحق ہی تھے۔ اور اگر کوئی رنج پہنچتا تو حضرت…
Read the full tafseer →سورة یٰسٓ 14
اس سے ان لوگوں کا مطلب یہ تھا کہ تم ہمارے لیے منحوس ہو، تم نے آ کر ہمارے معبودوں کے خلاف جو باتیں کرنی شروع کی ہیں ان کی وجہ سے دیوتا ہم سے ناراض ہوگئے ہیں، اور اب جو آفت بھی ہم پر نازل ہو رہی ہے وہ تمہاری بدولت ہی ہو رہی ہے۔ ٹھیک یہی باتیں عرب کے کفار و منافقین نبی ﷺ کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَقُوْلُوْا ھٰذِہٖ مِنْ عِنْدِکَ ، " اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تمہاری بدولت ہے " (النساء 77)۔ اسی لیے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ان لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ ایسی ہی جاہلانہ باتیں قدیم زمانے کے لوگ بھی اپنے انبیاء کے متعلق کہتے رہے ہیں۔…
Read the full tafseer →(آیت) قالوا انا تطیرنا بکم، تطیر کے معنی بدفالی لینے اور کسی کو منحوس سمجھنے کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اس شہر کے لوگوں نے اللہ کے ان فرستادوں کی بات نہ مانی اور یہ کہنے لگے کہ تم لوگ منحوس ہو۔ بعض روایات میں ہے کہ ان کی نافرمانی اور رسولوں کی بات نہ ماننے کے سبب اس بستی میں قحط پڑگیا تھا، اس لئے بستی والوں نے ان کو منحوس کہا، یا اور کوئی تکلیف پہنچی ہوگی تو جیسے کفار کی عام عادت یہی ہے کہ کوئی مصیبت آئے تو اس کو ہدایت کرنے والے انبیاء و صلحاء کی طرف منسوب کیا کرتے ہیں، اس کو بھی ان حضرات کی طرف منسوب کردیا جیسا کہ قوم موسیٰ ؑ کے متعلق قرآن میں ہےفاذا جاءتہم الحسنة قالوا لنا ھذہ وان تصبہم سیۃ…
Read the full tafseer →قالوا انا تضیرنا بکم لئن لم تنھوا لنرجمنکم ولیمسنکم منا عذاب لیم (18)
لفظ ’ تطیر ‘ کی تحقیق اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں یہ بری فال لینے اور کسی کو منحوس سمجھے کے مفہوم میں ہے۔
یعنی ان رسولوں کی دعوت کے زمانے میں اہل مصر پر جو آفتیں، ان کی تنبیہ کے لئے نازل ہوئیں ان سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے انہوں نے ان کو حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیا اور کہا کہ یہ آفتیں ہمارے اعمال کے سبب سے ہم پر نہیں آرہی ہیں، جیسا کہ موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھ دعویٰ کر رہے ہیں، بلکہ یہ ان کی اس گمراہ کن دعوت کے نتیجہ میں پیش آہی ہیں جس سے ہمارے دیوتا ناراض ہیں۔ ساتھ ہی ان کو دھمکی دی کہ اگر تم لوگ اس…
Read the full tafseer →18۔ 1 ممکن ہے کچھ لوگ ایمان لے آئے ہوں اور ان کی وجہ سے قوم دو گروہوں میں بٹ گئی ہو، جس کو انہوں نے رسولوں کی نَعْوذ باللّٰہِ نحوست قرار دیا۔ یا بارش کا سلسلہ موقوف رہا ہو تو وہ سمجھے ہوں کہ یہ ان رسولوں کی نحوست ہے۔ نَعْوذ باللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ ، جیسے آج کل بھی بد نہاد اور دین و شریعت سے بےبہرہ لوگ، اہل ایمان وتقوی کو ہی، منحوس، سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →6: بعض روایات میں ہے کہ ان حضرات کے بستی میں تشریف لانے اور دین حق کی دعوت دینے کے بعد جب بستی کے لوگوں نے نافرمانی پر کمر باندھے رکھی تو ان پر تنبیہ کے طور پر قحط مسلط کردیا گیا تھا۔ انہوں نے اسے ایک تازیانہ سمجھنے کے بجائے الٹا اسے ان حضرات کی نحوست قرار دیا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان حضرات کی دعوت کے نتیجے میں جو بحث مباحثہ شروع ہوا ہو، اسی کو انہوں نے نحوست سے تعبیر کیا ہو۔
Read the full tafseer →قالوا انا تطیرنا۔۔۔۔۔ عذاب الیم (36: 18 “۔ تم منحوس لوگ ہو ، تمہاری وجہ سے ہم پر مصبیت آگئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تمہاری دعوت کہ وجہ سے ہماری بستی میں شرو فساد پھیل جائے گا۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم خاموش نہ رہ سکیں گے۔ اور ہمارے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ تم اس طرح دعوت دیتے چلے جاؤ۔
لنرجمنکم ولیمسنکم منا عذاب الیم (36: 18) ” اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاؤ گے “۔ یوں باطل نے اپنی برہمی کا اظہار کردیا اور ہدایت دینے والوں کو دھمکی دے دی اور پر امن کلمہ حق کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور فکر و خیال اور انداز گفتگو میں بدمستی کا اظہار کیا۔ لیکن رسولوں…
Read the full tafseer →11 شاید تکذیب مرسلین اور کفر وعناد کی شامت سے قحط وغیرہ پڑا ہوگا۔ یا مرسلین کے سمجھانے پر آپس میں اختلاف ہوا کسی نے مانا کسی نے نہ مانا، اس کو نامبارک کہا۔ یعنی تمہارے قدم کیا آئے، قحط اور نااتفاقی کی بلا ہم پر ٹوٹ پڑی۔ یہ سب تمہاری نحوست ہے۔ (العیاذ باللہ) ورنہ پہلے ہم اچھے خاصے آرام چین کی زندگی بسر کر رہے تھے بس تم اپنے وعظ و نصیحت سے ہم کو معاف رکھو۔ اگر یہ طریقہ نہ چھوڑو گے اور وعظ و نصیحت سے باز نہ آؤ گے تو ہم سخت تکلیف و عذاب پہنچا کر تم کو سنگسار کر ڈالیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 18 { قَالُوْٓا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِکُمْ } ”انہوں نے کہا کہ ہمیں تم سے نحوست کا اندیشہ ہے۔“
یعنی ہم تمہیں اپنے لیے فالِ بد سمجھتے ہیں۔ تم نے آکر ہمارے معبودوں کے خلاف جو باتیں کرنی شروع کردی ہیں ان کی وجہ سے ہمیں اندیشہ ہے کہ اس کی نحوست کہیں ہم پر نہ پڑجائے اور اس کی پاداش میں کہیں ہم خدا کی گرفت میں نہ آجائیں۔
{ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَہُوْا لَنَرْجُمَنَّکُمْ } ”اگر تم باز نہ آئے تو ہم ضرور تمہیں سنگسار کردیں گے“
{ وَلَیَمَسَّنَّکُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ } ”اور تمہیں ضرور پہنچے گی ہماری طرف سے دردناک سزا۔“
Read the full tafseer →18 انبیاء کی دعوت پر کافروں کو کیا مصیبت پڑتی ہے ؟ منکرین حق کو جھنجھوڑنے کے لئے ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ چھوٹے موٹے عذاب یا سختیاں بطور تنبیہ نازل ہوا کرتی ہیں۔ اور اگر ایسا کوئی عذاب نہ بھی آئے تو بھی ایک بات کا وقوع پذیر ہونا یقینی ہے۔ نبی جب دعوت دیتا ہے تو کچھ اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور کچھ اس کی مخالفت پر اتر آتے ہیں۔ اس طرح دو فریق بن جاتے ہیں جن کی آپس میں ٹھن جاتی ہے۔ ایک آدمی اگر ایماندار ہے تو اس کے رشتہ دار کافر ہوتے ہیں۔ منکرین حق کے لئے یہ ایک الگ مصیبت بن جاتی ہے۔ بہرحال عذاب کی صورت ہو یا ایسی تفریق کی، منکرین حق اس کا الزام رسولوں پر دھرتے اور کہتے تھے کہ جب سے تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
11۔ (کہ تمہاری آمد سے ہمارے درمیان یہ فتنہ و فساد برپا ہوگئے) (آیت) ” قالوا ...... لمرسلون وما ...... المبین “۔ یہ دونوں فقرے بھی ان مرسلین کی رسالت حقیقی ہی پر دلالت کررہے ہیں۔
12۔ (مختلف صورتوں سے) (آیت) ” لنرجمنکم “۔ رجم یا سنگساری، یاد رہے کہ دنیا کی قدیم ترین سلطنتوں اور تہذیبوں میں ایک عام سزا رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
آیت نمبر 13 تا 32
ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…
Read the full tafseer →قالوا انا تطیرنابکم لئن لم تنتھوا لترجمنکم ولیمستکم منا عذاب الیم انہوں نے کہا : ہم تم
کو منحوس سمجھتے ہیں ‘ اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔
یعنی یہ مصیبت جو ہم پر آئی ‘ وہ تمہاری نحوست کی وجہ سے آئی۔ پیغمبروں کی رسالت کا دعویٰ ان کو عجیب معلوم ہوا ‘ ان کو اس قول سے ہی نفرت پیدا ہوئی اور جاہلوں کا طریقہ ہی یہ ہوتا ہے کہ جس طرف ان کی طبیعتیں راغب ہوتی ہیں ‘ اس کو پسند کرتے ہیں اور جو چیز طبیعت کی رغبت اور میلان نفس کے خلاف ہوتی ہے ‘ اس کو برا سمجھتے اور اس سے نفرت کرتے ہیں۔
لَءِنْ لَّمْ تَنْتَھُوْا یعنی اگر تم اپنے قول سے باز نہ آئے تو…
Read the full tafseer →وہ لوگ رسولوں سے کہنے لگے کہ ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں اگر تم اپنی تبلیغ سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں قتل کردیں گے اور تمہیں ہماری طرف سے قتل کی سخت تکلیف پہنچے گی۔
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اِنَّا تَــطَيَّرْنَا بِكُمْ : جب بستی والے دلیل کے ساتھ جواب نہ دے سکے تو دھمکی پر اتر آئے، جیسا کہ فرعون اور دوسرے متکبروں کا شیوہ رہا ہے۔ کہنے لگے، اگر تم اپنی دعوت سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور تمہیں ہمارے ہاتھوں درد ناک سزا سے دو چار ہونا پڑے گا۔ ”تَــطَيَّرْنَا“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نمل (47) اور سورة اعراف (131)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ ﷺ اپنی قوم کے سامنے اصحب قریہ کا واقعہ بیان کریں (1) ۔ ماوردی نے بیان کیا ہے کہ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس بستی سے مراونطاکیہ ہے یہ اہل انطبیس کی طرف منسوب ہے یہ اس آدمی کا نام ہے جس نے اس کے بارے میں ایک لفظ یہ بی ہے ان تاکیہ یعنی طاء کی جگہ تاء وہاں ایک بادشاہ تھا جسے انطیخس بن انطنیحس کہا جاتا ہے ‘ وہ بتوں کی پوجا کیا کرتا تھا ‘ مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ ابو جعفر نے اسے کعب اور وہب سے نقل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف تین رسولوں کو بھیجا وہ حضرت صادق ‘ حضرت مصدوق اور حضرت شمعون تھے شمعون ہی تیسرا تھا ‘ یہ طبری کا قول ہے۔ دوسرے علماء نے کہا…
Read the full tafseer →11:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا انا تطیرنا بکم “ (انہوں نے کہا کہ ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں) کہنے لگے کہ اگر ہم کو نقصان پہنچ گیا تو وہ تمہاری وجہ سے ہوگا (آیت) ” لئن لم تنتھوا لنرجمنکم “ (اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو رجم کردیں گے) یعنی پتھروں کی بارش کردیں گے (آیت) ” قالوا طائرکم معکم “ (انہوں نے کہا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے) یعنی تمہارے اعمال تمہارے ساتھ ہیں (آیت) ” ائن ذکرتم “ فرماتے ہیں اگر ہم تمہارے سامنے اللہ کا ذکر کریں تو تم ہمارے ساتھ بدشگونی لینے لگتے ہو۔
12:۔ عبد بن حمید (رح) نے…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا [ان لوگوں نے کہا ] اِنَّا تَــطَيَّرْنَا [کہ ہم منحوس سمجھتے ہیں ] بِكُمْ ۚ [تم لوگوں کو ] لَىِٕنْ [بیشک اگر ] لَّمْ تَنْتَهُوْا [تم باز نہ آئے ] لَنَرْجُمَنَّكُمْ [تو ہم لازما سنگسار کریں گے گے تم سب کو ] وَلَيَمَسَّـنَّكُمْ [اور لازما چھوئے گا تم کو ] مِّنَّا [ہم سے ] عَذَابٌ اَلِــيْمٌ [ایک دردناک عذاب ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
مذکورہ بستی کے باشندوں میں سے ایک شخص کا پیامبروں کی تصدیق کرنا اور بستی والوں کو توحید کی تلقین کرنا
تینوں حضرات بستی والوں کو ہدایات دے رہے تھے اور وہ لوگ ان حضرات سے الجھ رہے تھے اور یوں کہہ رہے تھے کہ تمہارا آنا ہمارے لیے نحوست کا سبب ہے، یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک شخص اس بستی کی ایک جانب سے جو بہت دور تھی دوڑتا ہوا وہاں پہنچ گیا اس نے تینوں حضرات کی تائید کی اور بستی والوں سے کہا کہ اے میری قوم یہ حضرات ٹھیک فرما رہے ہیں، یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں تم ان کی بات مان لو اور ان کا اتباع کرو، یہ حضرات ایک تو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں دوسرے تم سے کسی معاوضہ کا سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
قصہ اصحاب القریہ برائے عبرت ونصیحت مکذبین رسالت
قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وہم مھتدون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں معاندین اور مکذبین رسالت کا ذکر تھا اب آگے ان کی تہدید اور عبرت کے لئے ایک آبادی کا قصہ بیان کرتے ہیں تاکہ مشرکین مکہ کو معلوم ہوجائے کہ مستکبرین اور منکرین نبوت کا کیا انجام ہوتا ہے اور ایسوں کو ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے اس قصہ کے ذکر کرنے سے مسئلہ نبوت و رسالت کی تائید اور تکذیب کرنے والوں کی تہدید مقصود ہے تاکہ مکذبین رسالت اس سے عبرت پکڑیں۔ اور جان لیں کہ ذکر اور نصیحت سے اعراض کا کیا انجام ہوتا ہے۔
جمہور مفسرین یہ کہتے ہیں کہ اس قصہ میں جس قریہ کا ذکر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
12:۔ قالوا انا الخ : جب مشرکین سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑا تو گھٹیا باتوں پر اتر آئے اور اللہ تعالیٰ نے بطور ابتلاء اور امتحان کچھ عرصہ کے لیے بارش روک دی تو کافر کہنے لگے یہ تمہاری نحوست کا اثر ہے (عیاذا باللہ) کہ بارش نہیں ہوتی اس لیے تم اپنی تبلیغ بند کردو۔ اگر تم اس سے باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور دردناک سزا دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
ربط آیات
سورۃ کی ابتداء میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا بیان ہوا ، پھر رسالت کا ذکر ہوا۔ اللہ نے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ اکثر لوگ حجاب طبع یا حجاب رسم میں مبتلا رہ کر ہی زندگی ختم کرلیتے ہیں اور عمر بھر نہ تو وہ ایمان کے معاملے میں غور و فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اسے قبول کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ مردوں کو زندہ کرنا ہمارا کام ہے ، ہم مقررہ وقت پر انہیں دوبارہ زندہ کریں گے ، ان کے تمام اعمال اور ان کی ہر ہر نقل و حرکت ہمارے پاس لکھی ہوئی ہے جو انہیں نئی زندگی ملنے پر پیش کردی جائے گی اور پھر اس اعمالنامے کی بنیاد پر ان سے حساب کتاب لیا جائے گا اور جزا اور سزا کے فیصلے ہوں…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ 0 ۚ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَہُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّـنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِــيْمٌ 18
طير ( فال)
، وتَطيَّرَ فلانٌ ، واطَّيَّرَ أصله التّفاؤل بالطَّيْرِ ثمّ يستعمل في كلّ ما يتفاء ل به ويتشاءم، قالُوا : إِنَّا تَطَيَّرْنا بِكُمْ [يس/ 18] ، ولذلک قيل : «لا طَيْرَ إلا طَيْرُكَ «1» » ، وقال تعالی: إِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا[ الأعراف/ 131] ، أي : يتشاء موا به، أَلا إِنَّما طائِرُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ
[ الأعراف/ 131] ، أي : شؤمهم : ما قد أعدّ اللہ لهم بسوء أعمالهم . وعلی ذلک قوله : قالُوا اطَّيَّرْنا بِكَ وَبِمَنْ مَعَكَ قالَ طائِرُكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–25
ترکیب : اصحٰب القریۃ معناہ واضرب لہم مثلا مثل اصحاب القریۃ فترک المثل و اقیم الاصحاب مقامہ فی الاعراب کقولہ و اسئل القریۃ کشاف وقیل المعنی اجعل اصحاب القریۃ لھم مثلاً علی ان یکون مثلا و اصحٰب القریۃ مفعولین لاضرب او یکون اصحاب القریۃ بدلا من مثلا فعلی ھذا اضرب بمعنی مثل وھو یتعدی الی مفعولین لتضمنہ معنی الجعل و ھما مثلا اصحٰب القریۃ علی حذف مضاف اذ جاء بدل من اصحٰب القریۃ بدل الاشتمال اَئِنْ ذکرتم شرط و جو ابہ محذوف مثل تطیرتم لما جمیع قریٔ مشدد او مخففا قال الفراء من شدو جعل لما بمعنی الاوان بمعنی ما۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا۔ انک لمن المرسلین اور اس کے بعد یہ بھی فرمایا تھا کہ ازلی گمراہ…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِکُمْ ج لَئِنْ لَّمْ تَنْتَھُوْا لَنَرْجُمَنَّـکُمْ وَلَیَمَسَّنَّـکُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (یٰسٓ: 18)
(بستی والوں نے کہا : ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں، اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے، اور تمہیں ہمارے ہاتھوں بڑی دردناک سزا پہنچے گی۔ )
تَطَیَّرَکا مفہوم اور اس الزام کا سبب
تَطَیَّرَاور اِطَّیَّرَ کا معنی ہوتا ہے فالِ بد لینا اور کسی کو منحوس سمجھنا۔ جب بھی کسی قوم کی طرف اللہ تعالیٰ کے کوئی نبی یا رسول تشریف لائے ہیں تو قوم نے حتی الامکان نبی کی دعوت کو قبول نہیں کیا بلکہ ہر ممکن طریقے سے انہیں ناکام کرنے کی اپنی سی کوشش کی۔ اور جب دیکھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
فہم القرآن
ربط کلام : تین انبیائے کرام (علیہ السلام) کو قوم کی دھمکی اور الزام۔
بدبخت لوگوں کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرنے کی بجائے انبیائے کرام اور مصلح حضرات کو طعن وتشنیع اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہی کچھ اس شہر کے لوگوں نے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ کیا۔ قوم انبیائے کرام (علیہ السلام) کو کہنے لگی کہ جب سے تم ہمارے شہر میں آئے ہو اس وقت سے لے کر ہم مسائل اور مصائب کا شکار ہوئے جارہے ہیں۔ اگر تم اپنے کام سے باز نہ آئے تو ہم ہر صورت تمہیں سنگسار کرڈالیں گے اور تمہیں اذیت ناک سزا دیں گے۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) نے جواباً فرمایا کہ جن مسائل اور مصائب سے تم دوچار ہو یہ…
Read the full tafseer →جہال کا طرز عمل :
18: قَالُوْآ اِناَّ تَطَیَّرْنَا بِکُمْ (وہ لوگ کہنے لگے ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں) ہم تم سے بدشگونی لیتے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ان کے دین کو براخیال کیا اور ان کے نفوس اس سے نفرت کرنے لگے۔ جہلاء کی عادت ہی یہ ہے کہ ہر ایسی چیز کی تمنا کرتے ہیں۔ جس کی طرف جھکائو اختیار کرتے ہیں اور جس کو ان کے طبائع قبول کرتے ہیں۔ اور جس چیز سے نفرت ہو اس کو وہ منحوس قرار دیتے ہیں اور ناپسند کرتے ہیں۔ پھر اگر ان کو کوئی مصیبت یا نعمت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ اس کی نحوست اور اس کی برکت سے حاصل ہوئی۔
ایک قول :
یہ ہے ان سے بارش بند کردی گئی پس انہوں نے یہ کہا : لَپنْ لَّمْ…
Read the full tafseer →18، قالوا انا تطیرنا بکم ، وہ اس سے بدشگونی لیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ بارش بندہونے کی مصیبت جو ہم پر آئی ہے یہ اس وجہ سے آئی کہ ہمارے پاس قاصد آئے۔ اس لیے وہ کہتے کہ یہ مصیبت ہماری اپنوں کی وجہ سے ہوئی ۔ ، لئن لم تنتھوالنرجمنکم ، یعنی ہم ان کو قتل کردیں گے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ پتھروں سے رجم کردیں گے۔ ، ولیمسنکم منا عذاب الیم،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
13۔ تا 19۔ اوپر ذکر تھا کہ نصیحت انہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جو علم الٰہی میں نیک قرار پا چکے ہیں جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کے دل پر کسی نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہوتا اس قصے میں ایک شخص نیک کا اور بستی کے تمام سرکشوں کا حال بیان کر کے اوپر کی بات کی مثال سمجھائی حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک بستی میں دو رسول بھیجے جب بستی کے لوگوں نے ان دونوں رسولوں کو جھٹلایا تو تیسرے رسول کو ان دونوں کی مدد کے لیے بھیجا گیا لیکن بستی کے لوگوں نے ان تینوں رسولوں کو جھٹلایا اور تمام گمراہ قوموں کی طرح یہ کہا کہ اللہ کے رسول انسان نہیں ہوسکتے اس لیے تم تینوں جھوٹے ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
آیت 1
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
22 منکرین کی ایک اور گستاخی کا ذکر : سو اس سے منکرین و معاندین کی ایک اور گستاخی اور بدتمیزی کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے حضرات انبیاء و رسل پر نحوست کا الزام لگایا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان بستی والوں نے ان رسولوں سے کہا کہ ہم تمہیں منحوس پاتے ہیں "۔ کہ تمہاری وجہ سے ہم پر طرح طرح کی آفتیں اور مصیبتیں آرہی ہیں۔ سو یہ بھی مشرکوں کا ہمیشہ کا اور مشترکہ وطیرہ رہا ہے کہ اپنی مصیبتوں اور مشکلوں کو اپنے کفر و شرک کا نتیجہ سمجھنے کی بجائے حق والوں کی نحوست قرار دیتے رہتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو سورة نساء آیت نمبر 78 اور سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
انطاکیہ کی ایک بستی میں داعیان حق کی روئیداد
تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی قوم کے پاس ہدایت کے لیے کوئی پیغمبر بھیجا گیا انہوں نے اس کو جھٹلایا سوائے چند افراد کے انہوں نے اکثر پیغمبروں کو قتل بھی کردیا۔ اسی سلسلہ میں نبی اکرم ﷺ کو کہا گیا ہے کہ آپ ان کفار کی نافرمانی سے ہرگز پریشان نہ ہوں بلکہ ان کو عبرت دلانے کے لیے اس گاؤں کا قصہ سناؤ۔ یہ عبرت ناک قصہ صرف اہل مکہ کے لیے ہی نہیں بلکہ تاقیامت تمام لوگوں کے لیے یہ سبق کا مقام ہے۔
قصہ یوں ہے کہ شام میں ایک گاؤں انطاکیہ تھا وہاں پر لوگوں کو ہدایت دینے کے لیے دو رسول بھیجے گئے بعض روایات میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 14 تا 21:
اسرار و معارف :
آپ ان لوگوں کو اس شہر کے باسیوں کی مثال دیجیے جن کے پاس اسی طرح انبیاء آئے تھے جیسے آپ ان کے پاس تشریف لائے ہیں بلکہ ہم نے وہاں بیک وقت دو نبی مبعوث فرمائے کہ انہیں بات خوب طرح سے سمجھائیں شاید ایک حکمت یہ بھی ہو دین حق میں جب لوگوں کو اپنے اوہام باطلہ اور خواہشات نفس کی مخالفت نظر آئے تو اکثر غور و فکر کی بجائے مخالفت کرتے ہیں اور داعی یا مبلغ کو پاگل اور دیوانہ قرار دیتے ہیں مگر کوئی دو پاگل بھی ایک بات پہ متحد نہیں ہوسکتے اور نہ یہ ممکن ہے کہ ان کا سارا کردار تو انتہائی پاکیزہ ہو اور عقیدہ کے معاملے میں دونوں پاگل ہوں۔ لوگوں نے ان کی بات ماننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ف 3 یہ بھی اسی قسم کی بات ہے جو کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ سے کہی ( سورة نساء : 77) اور جو قوم ثمود نے حضرت صالح ( علیہ السلام) سے کہی ( نمل : 47) اور جو فرعون کی قوم والے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ (اعراف : 3)
Read the full tafseer →(36:18) قالوا۔ یعنی اہل قریہ۔ بستی والوں نے کہا۔
تطیرنا۔ ماضی جمع متکلم تطیر (تفعیل) سے ہم نے برا شگون لیا۔ ہم نے منحوس جانا۔ تطیر فلان واطیر۔ کے اصل معنی تو کسی پرندہ سے شگون لینے کے ہیں۔ پھر یہ ہر چیز کے متعلق استعمال ہونے لگا۔ جس سے برا شگون لیا جائے اور اسے منحوس سمجھا جائے۔ انا تطیرنا بکم ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔ طائر بمعنی نحوست ۔ مثلاً قالوا طائرکم معکم (36:19) انہوں (رسولوں) نے کہا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ لئن۔ لام تاکید اور ان حرف شرط سے مرکب ہے۔
لم تنتھوا۔ مضارع نفی حجد بلم۔ بلم کے آنے سے نون اعرابی آخر سے ساقط ہوگیا ہے۔ انتھاء (افتعال) مصدر۔ اگر تم باز نہ آئے ۔ اگر تم باز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے)
تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔
( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
[10] یعنی جب سے تم نے آ کر ہمارے معبودوں کے خلاف باتیں کرنی شروع کی ہیں وہ ہم سے ناراض ہوگئے ہیں۔ اب جو مصیبت بھی ہم پر آتی ہے وہ تمہاری بدولت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
ف 2: قرآن حکیم نے جن واقعات کی تفصیل بیان فرمائی ہے ۔ اور کتب احادیث میں بھی انکا کوئی مذکور نہیں ہے ۔ ان کو اسی رنگ میں سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔ جس رنگ میں کہ قرآن نے بیان کیا ہے ۔ کیونکہ اگر تفصیلات کا ذکر کرنا نفس ابتداء کے لئے ضروری ہوتا ۔ تو وہ ضرور ظاہر کردی جاتیں ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے ایک قوم کا ذکر کیا ہے ؟ وہ کون لوگ تھے ؟ کس زمانے میں ہوئے یہ جاننا ضروری نہیں ہے ۔ بس یہ جان لیجئے ۔ کہ ایک قوم تھی ۔ ان کے پاس اللہ کے دو رسول آئے ۔ مگر انہوں نے ان کے پیغام کو ٹھکرا دیا ۔ پھر اللہ نے تیسرے رسول کو بھیجا ۔ اور ان تینوں نے مل کر کام کیا اور کہا ۔ کہ ہم کی طرف سے تمہارے پاس…
Read the full tafseer →(18) گائوں کے لوگوں نے کہا ہم نے تو تم کو منحوس پایا اور ہم نے تم سے شگون بد لیا اور ہم نے تم کو نامبارک دیکھا اگر تم اپنے دعویٰ سے باز نہ آئو گے اور اپنی اس دعوت توحید کو بند نہ کرو گے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے عبرتناک سزا ملے گی اور تم کو ہمارے ہاتھوں سخت تکلیف پہنچے گی۔
کہتے ہیں کہ اس زمانے میں قحط کے آثار نمایاں تھے اس بنا پر گائوں والوں نے ان کو منحوس کہا یا اس بنا پر کہا کہ تمہاری وجہ سے ہم میں اختلاف پیدا ہوگیا یہ تمہاری نحوست ہے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ مطلب یہ ہوگا کہ تمام لوگوں میں ایک فتنہ ڈال دیا، جس سے مضرتیں پہنچ رہی ہیں، یہ نحوست ہے، اور اس نحوست کے سبب تم ہو۔
Read the full tafseer →بستی والوں نے ان کو جواب دیا کہ ہم تو تم کو منحوس آدمی خیال کرتے ہیں :
18۔ بستی والوں نے ان کو فورا جواب دیا کہ ہم تو تم لوگوں کو منحوس خیال کرتے ہیں کہ تم نے خواہ مخواہ ہمارے یہاں آکر گڑ بڑ شروع کردی ہے اور اگر تم اس سے باز نہ آئے تو ہم تم تینوں ہی کو مار ڈالیں گے ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم کتنے منحوس اور نحس ہو کہ جب سے تم آئے ہو ہم کو امن ہی نہیں اور ہماری قوم بکھر کر تتر بتر ہوگئی ۔ تم سے ہماری گزارش یہی ہے کہ تم مہربانی فرما کر اس سے باز آجاؤ ہم پر بھی رحم کرو اور اپنی جانوں پر بھی اور یاد رکھو کہ اگر تم نے ہمارے بزرگوں کے خلاف پروپیگنڈہ اسی طرح جاری رکھا تو تمہارا انجام اچھا نہیں ہوگا بلکہ…
Read the full tafseer →The word: تَطَيَّرْ (tatayyur) in verse 18: قَالُوا إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ (We take you as a bad omen for us.) means the seeing of an evil omen in someone or taking someone to be wretched. It is being said here that the people of this town did not listen to these blessed souls sent to them and chided them as being wretched or carriers of misfortune. It appears in some narrations that a famine had overtaken this town, because the people of the town had curtly turned down the good counsel of the messengers. That is why the people of the town called them wretched, or maybe they were hurt…
Read the full tafseer →14 What they meant was: "You are an evil omen for us. Our gods have become angry with us on account of what you have been saying against them. Now whatever calamity is befalling us is only because of you." Precisely the same thing used to be said by the disbelievers and the hypocrites of Arabia concerning the Holy Prophet: °If they suffer a loss, they say: this is because of you." (AnNisa': 77). That is why at several places in the Qur'an these people have been told that in the ancient times also people used to say such things of ignorance in regard to their Prophets. The people of Thamud…
Read the full tafseer →