Yaseen 36:17

Yaseen · from ayah 17

36:17

وَمَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ۟وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ

اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے اور بس

— Fateh Muhammad Jalandhari

And we are not responsible except for clear notification."

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 2 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:17

اور ہم پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے اور بس

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہماری ذمہ داری اس سے زیادہ نہیں ہے کہ صاف صاف پیغام پہنچا دیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہمارے ذمہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور واضح طور پر پیغام پہنچا دینے کے سوا ہم پر کچھ لازم نہیں ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم پر صاف پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پیغام پہنچا دینا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

او ہماری ذمہ داری بس واضح طور پر پہنچادینے کی ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہمارے ذمے اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم (پیغام حق) پہنچا دیں کھول کر

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہمارے ذمہ تو صرف کھلی ہوئی تبلیغ ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہیں ہے ہم پر کوئی اور ذمہ داری سوائے (اللہ کا پیغام) صاف صاف پہنچا دینے کے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہمارے ذمہ تو صاف صاف پہنچا دینا ہے اور بس۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and our duty is no more than to clearly convey the Message.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Our obligation is no more than to convey the message clearly.

— Muhammad Taqi Usmani

Our obligation is no more than to convey the message clearly.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And our duty is only to convey plainly."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And our duty is but plain conveyance (of the message).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And we are not responsible except for clear notification."

— Saheeh International

who have been sent to you. Our only duty is to preach clearly to you".

— Muhammad Sarwar

And nothing devolves on us but a clear deliverance (of the message).

— Muhammad Habib Shakir

And on us is naught but manifest preaching.

— Abdul Majid Daryabadi

"And our duty is only to proclaim the clear Message."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–17

ایک قصہ پارینہ۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرما رہا ہے کہ آپ اپنی قوم کے ساتھ ان سابقہ لوگوں کا قصہ بیان فرمایئے جنہوں نے ان سے پہلے اپنے رسولوں کو ان کی طرح جھٹلایا تھا۔ یہ واقعہ شہر انطاکیہ کا ہے۔ وہاں کے بادشاہ کا نام انطیخش تھا اس کے باپ اور دادا کا نام بھی یہی تھا یہ سب راجہ پر جابت پرست تھے۔ ان کے پاس اللہ کے تین رسول آئے۔ صادق، صدوق اور شلوم۔ اللہ کے درود وسلام ان پر نازل ہوں۔ لیکن ان بدنصیبوں نے سب کو جھٹلایا۔ عنقریب یہ بیان بھی آ رہا ہے کہ بعض بزرگوں نے اسے نہیں مانا کہ یہ واقعہ انطاکیہ کا ہو، پہلے تو اس کے پاس دو رسول آئے انہوں نے انہیں نہیں مانا ان دو کی تائید میں پھر تیسرے نبی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یٰسٓ 13 یعنی ہمارا کام اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ جو پیغام تم تک پہنچانے کے لیے رب العالمین نے ہمارے سپرد کیا ہے وہ تمہیں پہنچا دیں۔ اس کے بعد تمہیں اختیار ہے کہ مانو یا نہ مانو۔ یہ ذمہ داری ہم پر نہیں ڈالی گئی ہے کہ تمہیں زبردستی منوا کر ہی چھوڑیں۔ اور اگر تم نہ مانو گے تو تمہارے کفر میں ہم نہیں پکڑے جائیں گے بلکہ اپنے اس جرم کی جواب دہی تم کو خود ہی کرنی پڑے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–17

(آیت) اذ جاءھا المرسلون۔ اذ ارسلنا الیہم اثنین فکذبوھہما فعززنا بثالث فقالوا انا الیکم مرسلون۔ مذکورہ بستی میں تین رسول بھیجے گئے تھے، پہلے ان کا بیان اجمالی اذجاء انا الیکم مرسلون میں فرمایا۔ اس کے بعد اس کی یہ تفصیل دی گئی کہ پہلے دو رسول بھیجے گئے تھے، بستی والوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کی بات نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تائید وتقویت کے لئے ایک تیسرا رسول بھیج دیا۔ پھر ان تینوں رسولوں نے بستی والوں کو خطاب کیا انا الیکم مرسلون، یعنی ہم تمہاری ہدایت کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ اس بستی میں جو رسول بھیجے گئے ان سے کیا مراد ہے اور وہ کون حضرات تھے لفظ رسول اور مرسل قرآن کریم میں عام طور پر اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 16–17

قالو اربنا یعلم انا الیکم لمرسلون۔ ما علینا الا البلغ المبین (16۔ 17) ’ ربنا یعلم ‘ قسم کے مفہوم میں آتا ہے۔ اس کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کرچکے ہیں۔ ان کی تکذیب کے جواب میں انہوں نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ ہم تمہارے پامی خدا کے بھیجے ہوئے آئے ہیں۔ جس طرح آیت 14 میں ’ ھوسلون ‘ علی سبیل التغلیب آیا ہے اسی اسلوب پر یہاں بھی جمع آیا ہے۔ ’ وما علینا الا البلغ المبین ‘۔ یہ ان کی طرف سے لوگوں کو تنبیہ ہے کہ اگر تم ہی کو جھٹلاتے ہو تو جھٹلائو۔ ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ذمہ داری ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہم تم کو خدا کی بات نہایت واضح طور پر پہنچا دیں۔ تمہارے دلوں میں اتار دینا ہماری ذمہ داری نہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 14–17

14۔ 1 یہ تین رسول کون تھے ؟ مفسرین نے ان کے مختلف نام بیان کئے ہیں، لیکن نام مستند ذریعے سے ثابت نہیں ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بھیجے ہوئے تھے، جو انہوں نے اللہ کے حکم سے ایک بستی میں تبلیغ و دعوت کے لئے بھیجے تھے۔ بستی کا نام انطاکیہ تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–17

5: قرآن کریم نے نہ اس بستی کا نام ذکر فرمایا ہے، اور نہ ان رسولوں کا جو اس بستی میں بھیجے گئے تھے، بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ بستی شام کا مشہور شہر انطاکیہ تھی ؛ لیکن نہ تو یہ روایتیں مضبوط ہیں اور نہ تاریخی قرائن سے اس کی تصدیق ہوتی ہے، دوسری طرف رسول کا لفظ عربی زبان میں ہراس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی کا پیغام لے کر دوسرے کے پاس جائے ؛ لیکن قرآن کریم میں زیادہ تر یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کے لئے استعمال ہوا ہے، اس لئے ظاہر یہی ہے کہ یہ حضرات انبیاء کرام تھے، اور بعض روایات میں ان کے نام بھی صادق، صدوق اور شلوم یا شمعون بتائے گئے ہیں ؛ لیکن یہ روایات بھی زیادہ مضبوط…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 16–17

قالوا ربنا یعلم ۔۔۔۔۔ البلغ المبین (36: 16 – 17) ” اللہ جانتا ہے کہ ہم رسول ہیں ، بس یہی ہمارے لیے کافی ہے۔ ہمارا فریضہ صرف یہ ہے کہ رب کا پیغام پہنچا دیں۔ اور یہ تو ہم نے ادا کردیا ہے۔ اس کے بعد لوگ آزاد ہیں اپنی زندگی میں جو تصرف چاہیں ، کریں۔ اور وہ جو رویہ بھی اختیار کریں گے ، اس کی ذمہ داری وہ اٹھائیں گے۔ رسولوں اور امتوں کے درمیان تعلق صرف فیضہ رسالت کی ادائیگی کا ہے۔ جب یہ فریضہ ادا کردیا گیا تو اس کے نتائج اللہ کے اختیار میں ہیں اور اللہ ہی کے حوالے ہیں۔ لیکن جاہلی گروہ اور جھٹلانے والے اس معاملے کو اس طرح سادگی سے اور آسانی سے نہیں لیتے۔ وہ داعیان حق کو برداشت کرنے کے روادار بھی نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی ہم اپنا فرض ادا کرچکے، خدا کا پیام خوب کھول کر واضح، معقول اور دلنشیں طریقہ سے تم کو پہنچا دیا، اب اتمام حجت کے بعد خود سوچ لو کہ تکذیب و عداوت کا انجام کیا ہونا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 { وَمَا عَلَیْنَآ اِلاَّ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ } ”اور نہیں ہے ہم پر کوئی اور ذمہ داری سوائے اللہ کا پیغام صاف صاف پہنچا دینے کے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–17

17 قریش مکہ بھی آپ کو یہ الزام دیتے تھے کہ جو کلام یہ پیش کرتا ہے خود ہی تصنیف کرکے اللہ کے نام سے منسوب کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 16–18

11۔ (کہ تمہاری آمد سے ہمارے درمیان یہ فتنہ و فساد برپا ہوگئے) (آیت) ” قالوا ...... لمرسلون وما ...... المبین “۔ یہ دونوں فقرے بھی ان مرسلین کی رسالت حقیقی ہی پر دلالت کررہے ہیں۔ 12۔ (مختلف صورتوں سے) (آیت) ” لنرجمنکم “۔ رجم یا سنگساری، یاد رہے کہ دنیا کی قدیم ترین سلطنتوں اور تہذیبوں میں ایک عام سزا رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–32

آیت نمبر 13 تا 32 ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما علینا الا البلغ المبین اور ہمارے ذمے فقط واضح طور پر پہنچا دینا ہے (یعنی تمہارے ماننے نہ ماننے کی ہم پر کوئی ذمہ داری نہیں) یعنی ہمارا کام صرف اللہ کا پیام واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔ ایسی نشانیاں جو ہمارے پیام کے صحیح ہونے کو ظاہر کر رہی ہیں موجود ہیں ‘ مردوں کو زندہ کردینا ‘ مادر زاد اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو بھلا چنگا کردینا ‘ ہمارے پیام کی صحت کو واضح کر رہا ہے۔ اب نفع و نقصان تمہارا ہے ‘ تمہارا انکار ہم کو ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ جب پیغمبروں کو جھوٹا قرار دینے کی وجہ سے اللہ نے ان کو کال میں مبتلا کردیا اور بارش نہ ہو

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 16–17

(16۔ 17) وہ رسول کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار گواہ ہے کہ ہم رسول ہیں اور ہمارے ذمہ تو صرف احکام خداوندی کا پہنچا دینا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا عَلَيْنَآ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ : یعنی ہمارا فریضہ اتنا ہی ہے کہ ہم تمہیں اللہ کا پیغام صاف پہنچا دیں۔ رہا تمہیں مومن بنا لینا، یا تمہارے مطالبات کے مطابق معجزے دکھانا، یا تم پر عذاب لے آنا، تو یہ ہمارا کام نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–19

خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ ﷺ اپنی قوم کے سامنے اصحب قریہ کا واقعہ بیان کریں (1) ۔ ماوردی نے بیان کیا ہے کہ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس بستی سے مراونطاکیہ ہے یہ اہل انطبیس کی طرف منسوب ہے یہ اس آدمی کا نام ہے جس نے اس کے بارے میں ایک لفظ یہ بی ہے ان تاکیہ یعنی طاء کی جگہ تاء وہاں ایک بادشاہ تھا جسے انطیخس بن انطنیحس کہا جاتا ہے ‘ وہ بتوں کی پوجا کیا کرتا تھا ‘ مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ ابو جعفر نے اسے کعب اور وہب سے نقل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف تین رسولوں کو بھیجا وہ حضرت صادق ‘ حضرت مصدوق اور حضرت شمعون تھے شمعون ہی تیسرا تھا ‘ یہ طبری کا قول ہے۔ دوسرے علماء نے کہا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–17

5:۔ ابن سعد وابن عساکر نے الکلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ایک ہزار اور نوسو سال کا عرصہ تھا ان دونوں کے درمیان بنی اسرائیل کے لئے ایک ہزار نبیوں کا بھیجا گیا پھر دوسری قوم سے رسول بھیجا گیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی کریم ﷺ کے درمیان پانچ سو انہتر سال کا عرصہ ہے اس کے اول میں تین انبیاء بھیجے گئے اسی کو فرمایا (آیت) ” اذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالث “ (جب ہم نے ان کی طرف دو کو بھیجا انہوں نے ان کو جھٹلادیا پھر ہم نے تیسرے کے ساتھ مدد کی اور جس نے ان کی مدد کی وہ شمعون تھے اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا عَلَيْنَآ [اور ہم پر (کوئی ذمہ داری) نہیں ہے ] اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ [سوائے واضح طور پر پہنچا دینے کے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 14–20

مذکورہ بستی کے باشندوں میں سے ایک شخص کا پیامبروں کی تصدیق کرنا اور بستی والوں کو توحید کی تلقین کرنا تینوں حضرات بستی والوں کو ہدایات دے رہے تھے اور وہ لوگ ان حضرات سے الجھ رہے تھے اور یوں کہہ رہے تھے کہ تمہارا آنا ہمارے لیے نحوست کا سبب ہے، یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک شخص اس بستی کی ایک جانب سے جو بہت دور تھی دوڑتا ہوا وہاں پہنچ گیا اس نے تینوں حضرات کی تائید کی اور بستی والوں سے کہا کہ اے میری قوم یہ حضرات ٹھیک فرما رہے ہیں، یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں تم ان کی بات مان لو اور ان کا اتباع کرو، یہ حضرات ایک تو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں دوسرے تم سے کسی معاوضہ کا سوال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–21

قصہ اصحاب القریہ برائے عبرت ونصیحت مکذبین رسالت قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وہم مھتدون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں معاندین اور مکذبین رسالت کا ذکر تھا اب آگے ان کی تہدید اور عبرت کے لئے ایک آبادی کا قصہ بیان کرتے ہیں تاکہ مشرکین مکہ کو معلوم ہوجائے کہ مستکبرین اور منکرین نبوت کا کیا انجام ہوتا ہے اور ایسوں کو ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے اس قصہ کے ذکر کرنے سے مسئلہ نبوت و رسالت کی تائید اور تکذیب کرنے والوں کی تہدید مقصود ہے تاکہ مکذبین رسالت اس سے عبرت پکڑیں۔ اور جان لیں کہ ذکر اور نصیحت سے اعراض کا کیا انجام ہوتا ہے۔ جمہور مفسرین یہ کہتے ہیں کہ اس قصہ میں جس قریہ کا ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–18

12:۔ قالوا انا الخ : جب مشرکین سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑا تو گھٹیا باتوں پر اتر آئے اور اللہ تعالیٰ نے بطور ابتلاء اور امتحان کچھ عرصہ کے لیے بارش روک دی تو کافر کہنے لگے یہ تمہاری نحوست کا اثر ہے (عیاذا باللہ) کہ بارش نہیں ہوتی اس لیے تم اپنی تبلیغ بند کردو۔ اگر تم اس سے باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور دردناک سزا دیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–19

ربط آیات سورۃ کی ابتداء میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا بیان ہوا ، پھر رسالت کا ذکر ہوا۔ اللہ نے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ اکثر لوگ حجاب طبع یا حجاب رسم میں مبتلا رہ کر ہی زندگی ختم کرلیتے ہیں اور عمر بھر نہ تو وہ ایمان کے معاملے میں غور و فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اسے قبول کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ مردوں کو زندہ کرنا ہمارا کام ہے ، ہم مقررہ وقت پر انہیں دوبارہ زندہ کریں گے ، ان کے تمام اعمال اور ان کی ہر ہر نقل و حرکت ہمارے پاس لکھی ہوئی ہے جو انہیں نئی زندگی ملنے پر پیش کردی جائے گی اور پھر اس اعمالنامے کی بنیاد پر ان سے حساب کتاب لیا جائے گا اور جزا اور سزا کے فیصلے ہوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا عَلَيْنَآ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ۝ 17 بَلَاغ : التبلیغ، نحو قوله عزّ وجلّ : هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ [إبراهيم/ 52] ، وقوله عزّ وجلّ : بَلاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ [ الأحقاف/ 35] ، وَما عَلَيْنا إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ [يس/ 17] ، فَإِنَّما عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسابُ [ الرعد/ 40] . والبَلَاغ : الکفاية، نحو قوله عزّ وجلّ : إِنَّ فِي هذا لَبَلاغاً لِقَوْمٍ عابِدِينَ [ الأنبیاء/ 106] ، وقوله عزّ وجلّ : وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ [ المائدة/ 67] ، أي : إن لم تبلّغ هذا أو شيئا مما حمّلت تکن في حکم من لم يبلّغ شيئا من رسالته، وذلک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–25

ترکیب : اصحٰب القریۃ معناہ واضرب لہم مثلا مثل اصحاب القریۃ فترک المثل و اقیم الاصحاب مقامہ فی الاعراب کقولہ و اسئل القریۃ کشاف وقیل المعنی اجعل اصحاب القریۃ لھم مثلاً علی ان یکون مثلا و اصحٰب القریۃ مفعولین لاضرب او یکون اصحاب القریۃ بدلا من مثلا فعلی ھذا اضرب بمعنی مثل وھو یتعدی الی مفعولین لتضمنہ معنی الجعل و ھما مثلا اصحٰب القریۃ علی حذف مضاف اذ جاء بدل من اصحٰب القریۃ بدل الاشتمال اَئِنْ ذکرتم شرط و جو ابہ محذوف مثل تطیرتم لما جمیع قریٔ مشدد او مخففا قال الفراء من شدو جعل لما بمعنی الاوان بمعنی ما۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا۔ انک لمن المرسلین اور اس کے بعد یہ بھی فرمایا تھا کہ ازلی گمراہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–17

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّـآ اِلَیْکُمْ لَمُرْسَلُوْنَ ۔ وَمَا عَلَیَنْـآ اِلاَّالْبَلٰـغُ الْمُبِیْنُ ۔ (یٰسٓ: 16، 17) (رسولوں نے کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف رسول بنا کے بھیجے گئے ہیں۔ اور ہماری ذمہ داری بس واضح طور پر پہنچا دینے کی ہے۔ ) اعتراض کا جواب اور تنبیہ رَبُّنَا یَعْلَمُکا ایک مفہوم یہ ہے کہ اسے قسم قرار دیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ رسولوں نے قسم کھا کر یہ بات فرمائی کہ دوسروں کو اعتبار دلانے کے لیے چونکہ آخری ذریعہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم کھائی جائے۔ تو ہم بھی قسم کھا کر یہ بات کہتے ہیں کہ ہم تمہاری ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–18

فہم القرآن ربط کلام : تین انبیائے کرام (علیہ السلام) کو قوم کی دھمکی اور الزام۔ بدبخت لوگوں کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرنے کی بجائے انبیائے کرام اور مصلح حضرات کو طعن وتشنیع اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہی کچھ اس شہر کے لوگوں نے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ کیا۔ قوم انبیائے کرام (علیہ السلام) کو کہنے لگی کہ جب سے تم ہمارے شہر میں آئے ہو اس وقت سے لے کر ہم مسائل اور مصائب کا شکار ہوئے جارہے ہیں۔ اگر تم اپنے کام سے باز نہ آئے تو ہم ہر صورت تمہیں سنگسار کرڈالیں گے اور تمہیں اذیت ناک سزا دیں گے۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) نے جواباً فرمایا کہ جن مسائل اور مصائب سے تم دوچار ہو یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

17: وَمَا عَلَیْنَآ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ (اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا تھا) یعنی ظاہر تبلیغ جو مشاہداتی دلیل سے اس کی صحت کو ثابت کر دے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 15–17

تفسیر 15۔ ، قالو اماانتم الا بشرمثلناوما انزل الرحمن من شیء ان انتم الا تکذبون، یعنی تم اپنے گمان کے مطابق جھوٹے ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–19

13۔ تا 19۔ اوپر ذکر تھا کہ نصیحت انہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جو علم الٰہی میں نیک قرار پا چکے ہیں جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کے دل پر کسی نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہوتا اس قصے میں ایک شخص نیک کا اور بستی کے تمام سرکشوں کا حال بیان کر کے اوپر کی بات کی مثال سمجھائی حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک بستی میں دو رسول بھیجے جب بستی کے لوگوں نے ان دونوں رسولوں کو جھٹلایا تو تیسرے رسول کو ان دونوں کی مدد کے لیے بھیجا گیا لیکن بستی کے لوگوں نے ان تینوں رسولوں کو جھٹلایا اور تمام گمراہ قوموں کی طرح یہ کہا کہ اللہ کے رسول انسان نہیں ہوسکتے اس لیے تم تینوں جھوٹے ہو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–20

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

22 منکرین کی ایک اور گستاخی کا ذکر : سو اس سے منکرین و معاندین کی ایک اور گستاخی اور بدتمیزی کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے حضرات انبیاء و رسل پر نحوست کا الزام لگایا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان بستی والوں نے ان رسولوں سے کہا کہ ہم تمہیں منحوس پاتے ہیں "۔ کہ تمہاری وجہ سے ہم پر طرح طرح کی آفتیں اور مصیبتیں آرہی ہیں۔ سو یہ بھی مشرکوں کا ہمیشہ کا اور مشترکہ وطیرہ رہا ہے کہ اپنی مصیبتوں اور مشکلوں کو اپنے کفر و شرک کا نتیجہ سمجھنے کی بجائے حق والوں کی نحوست قرار دیتے رہتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو سورة نساء آیت نمبر 78 اور سورة…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 13–21

انطاکیہ کی ایک بستی میں داعیان حق کی روئیداد تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی قوم کے پاس ہدایت کے لیے کوئی پیغمبر بھیجا گیا انہوں نے اس کو جھٹلایا سوائے چند افراد کے انہوں نے اکثر پیغمبروں کو قتل بھی کردیا۔ اسی سلسلہ میں نبی اکرم ﷺ کو کہا گیا ہے کہ آپ ان کفار کی نافرمانی سے ہرگز پریشان نہ ہوں بلکہ ان کو عبرت دلانے کے لیے اس گاؤں کا قصہ سناؤ۔ یہ عبرت ناک قصہ صرف اہل مکہ کے لیے ہی نہیں بلکہ تاقیامت تمام لوگوں کے لیے یہ سبق کا مقام ہے۔ قصہ یوں ہے کہ شام میں ایک گاؤں انطاکیہ تھا وہاں پر لوگوں کو ہدایت دینے کے لیے دو رسول بھیجے گئے بعض روایات میں ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 14–21

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 14 تا 21: اسرار و معارف : آپ ان لوگوں کو اس شہر کے باسیوں کی مثال دیجیے جن کے پاس اسی طرح انبیاء آئے تھے جیسے آپ ان کے پاس تشریف لائے ہیں بلکہ ہم نے وہاں بیک وقت دو نبی مبعوث فرمائے کہ انہیں بات خوب طرح سے سمجھائیں شاید ایک حکمت یہ بھی ہو دین حق میں جب لوگوں کو اپنے اوہام باطلہ اور خواہشات نفس کی مخالفت نظر آئے تو اکثر غور و فکر کی بجائے مخالفت کرتے ہیں اور داعی یا مبلغ کو پاگل اور دیوانہ قرار دیتے ہیں مگر کوئی دو پاگل بھی ایک بات پہ متحد نہیں ہوسکتے اور نہ یہ ممکن ہے کہ ان کا سارا کردار تو انتہائی پاکیزہ ہو اور عقیدہ کے معاملے میں دونوں پاگل ہوں۔ لوگوں نے ان کی بات ماننے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 14–18

ف 3 یہ بھی اسی قسم کی بات ہے جو کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ سے کہی ( سورة نساء : 77) اور جو قوم ثمود نے حضرت صالح ( علیہ السلام) سے کہی ( نمل : 47) اور جو فرعون کی قوم والے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ (اعراف : 3)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:17) وما علینا۔ اور ہم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ البلغ المبین۔ موصوف وصفت۔ بلاغ بلغ یبلغ (نصر) سے مصدر ہے ۔ البلاغ والبلوغ کے معنی مقصد اور منتہی کی آخری حد تک پہنچنے کے ہیں عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ یا اندازہ کئے ہوئے امور میں سے کوئی امر ہو۔ مگر کبھی محض قریب تک پہنچنے پر بھی بولا جاتا ہے گو انتہا تک نہ بھی پہنچا ہو۔ چناچہ انتہا تک پہنچنے کے معنی میں ہے۔ حتی بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ (46:15) یہاں تک کہ جب خوب جو ان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے۔ البلاغ کے معنی تبلیغ یعنی پہنچا دینے کے ہیں جیسے کہ قرآن مجید میں ہے ھذا بلغ للناس (14:52) یہ قرآن لوگوں کے نام خدا کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–32

لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے) تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–32

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔ ( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–17

[7] یعنی نیک و بداعمال جو آگے بھیج چکے۔ [8] یعنی وہ اعمال جن کے اچھے یا برے اثرات یا نشان پیچھے چھوڑے۔ [9] یعنی لوح محفوظ میں۔ اصل میں لفظ '' امام '' استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی پیشوا اور شارع عام کے ہیں اور لوح محفوظ پر دونوں باتیں صادق آتی ہیں کہ تمام واقعات گزشتہ اور آئندہ اسی کے مطابق ہوئے اور ہوں گے۔ گویا تمام دنیا ومافیہا اسی پر چل رہی ہے۔ اور اس کو واضح اس لئے فرمایا کہ اس میں تمام باتیں وضاحت سے لکھی ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–19

ف 2: قرآن حکیم نے جن واقعات کی تفصیل بیان فرمائی ہے ۔ اور کتب احادیث میں بھی انکا کوئی مذکور نہیں ہے ۔ ان کو اسی رنگ میں سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔ جس رنگ میں کہ قرآن نے بیان کیا ہے ۔ کیونکہ اگر تفصیلات کا ذکر کرنا نفس ابتداء کے لئے ضروری ہوتا ۔ تو وہ ضرور ظاہر کردی جاتیں ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے ایک قوم کا ذکر کیا ہے ؟ وہ کون لوگ تھے ؟ کس زمانے میں ہوئے یہ جاننا ضروری نہیں ہے ۔ بس یہ جان لیجئے ۔ کہ ایک قوم تھی ۔ ان کے پاس اللہ کے دو رسول آئے ۔ مگر انہوں نے ان کے پیغام کو ٹھکرا دیا ۔ پھر اللہ نے تیسرے رسول کو بھیجا ۔ اور ان تینوں نے مل کر کام کیا اور کہا ۔ کہ ہم کی طرف سے تمہارے پاس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) اور ہمارے ذمے تو صرف اللہ تعالیٰ کے پیغام کا صاف صاف پہنچا دینا ہے۔ یعنی ان تینوں پیغامبروں نے توحید کے دلائل ان کو سنائے اور بتائے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ بہت سے بیماروں کو ان کی دعا سے شفاء بھی ہوئی تمام دلائل وبراہین دیکھنے کے بعد ان گائوں والوں نے ان کا رد کرنا شروع کردیا اور عام لوگوں کی طرح وہی بشریت کا اعتراض اٹھایا اور جملہ کتب سماویہ کا انکار کیا جیسا کہ ماانزل الرحمن من شئی سے ظاہر ہے جب پیغمبروں کی تکذیب میں گائوں والوں نے تاکید سے کام لیا تو انہوں نے مجبوراً اپنے کلام کو موکدبالقسم کرتے ہوئے فرمایا ربنا یعلم پیغمبروں کی اس سیدھی بات پر گائوں والوں نے جو اعتراض کیا وہ آگے مذکور…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہمارے ذمہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں : 17۔ انہوں نے اہل قریہ کو دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا کہ ہماری غرض صرف اس قدر ہے کہ تم کو پیغام خداوندی نہایت مستعدی اور پوری ہمت سے پہنچا دیں اس کو قبول کرنا یا رد کرنا تمہارا کام ہے ہم نے اپنی ذمہ داری ادا کردی اور تم اپنی ذمہ داری ادا کرو گے تو تمہارا اپنا فائدہ ہے اور اگر قبول نہیں کرو گے تو ظاہر ہے کہ اس میں خسارہ بھی تمہارا اپنا ہی ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–17

In the next sentence of verse 13: إِذْ أَرْ‌سَلْنَا إِلَيْهِمُ اثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوا إِنَّا إِلَيْكُم مُّرْ‌سَلُونَ (when the messengers came to it... - 13). The text has briefly mentioned the coming of messengers to the town. The number of the messengers sent has been identified in verse 14:إِذْ جَاءَهَا إِنَّا إِلَيْكُم مُّرْ‌سَلُونَ (when We sent to them two (apostles), and they rejected them both, so We supported them with a third one. So they said, "We are sent to you" ) This shows that three messengers were sent to the said town. First came two, the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13 That is, "Our only duty is to convey to you the Message that Allah has entrusted us with. Then it is for you to accept it or reject it. We have not been made responsible to make you accept it forcibly; and if your do not accept it, we shall not be seized in consequence of your disbelief: you will yourselves be answerable for your crimes.

Read the full tafseer →