Yaseen 36:16

Yaseen · from ayah 16

36:16

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ ۟قَالُوۡا رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ

انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف (پیغام دے کر) بھیجے گئے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Our Lord knows that we are messengers to you,

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 2 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:16

رسولوں نے کہا "ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم ضرور تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف (پیغام دے کر) بھیجے گئے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان (رسولوں) نے کہا ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ بےشک ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان (رسولوں) نے کہا : ہمارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ ہمیں واقعی تمہارے پاس رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ بولے ہمارا رب جانتا ہے کہ بیشک ضرور ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(پیغمبروں نے) کہا: ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم یقیناً تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمہاری طرف ضرور بھیجے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ ہم یقینا تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے کہا کہ ہمارا رب گواہ ہے کہ ہم تمہاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان رسولوں نے کہا کہ ہمارا رب خوب جانتا ہے کہ ہمیں یقینی طور پر تمہاری طرف بھیجا گیا ہے رسول بنا کر

— مولانا اسحاق مدنی

(رسولوں نے) کہا کہ ہمارا پروردگار علیم ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے ہی گئے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم یقینا تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف پیغام دے کر بھیجے گئے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

The Messengers said: “Our Lord knows that we have indeed been sent to you

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They (the messengers) said, :Our Lord knows that we are undoubtedly sent to you.

— Muhammad Taqi Usmani

They (the messengers) said, :Our Lord knows that we are undoubtedly sent to you.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Messengers said: "Our Lord knows that we have been sent as Messengers to you,"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They answered: Our Lord knoweth that we are indeed sent unto you,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Our Lord knows that we are messengers to you,

— Saheeh International

They said, "Our Lord knows that We are Messengers

— Muhammad Sarwar

They said: Our Lord knows that we are most surely apostles to you.

— Muhammad Habib Shakir

They said: our Lord knoweth that we are surely Unto you the sent ones.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "Our Lord doth know that we have been sent on a mission to you:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–17

ایک قصہ پارینہ۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرما رہا ہے کہ آپ اپنی قوم کے ساتھ ان سابقہ لوگوں کا قصہ بیان فرمایئے جنہوں نے ان سے پہلے اپنے رسولوں کو ان کی طرح جھٹلایا تھا۔ یہ واقعہ شہر انطاکیہ کا ہے۔ وہاں کے بادشاہ کا نام انطیخش تھا اس کے باپ اور دادا کا نام بھی یہی تھا یہ سب راجہ پر جابت پرست تھے۔ ان کے پاس اللہ کے تین رسول آئے۔ صادق، صدوق اور شلوم۔ اللہ کے درود وسلام ان پر نازل ہوں۔ لیکن ان بدنصیبوں نے سب کو جھٹلایا۔ عنقریب یہ بیان بھی آ رہا ہے کہ بعض بزرگوں نے اسے نہیں مانا کہ یہ واقعہ انطاکیہ کا ہو، پہلے تو اس کے پاس دو رسول آئے انہوں نے انہیں نہیں مانا ان دو کی تائید میں پھر تیسرے نبی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–16

سورة یٰسٓ 11 دوسرے الفاظ میں ان کا کہنا یہ تھا کہ تم چونکہ انسان ہو اس لیے خدا کے بھیجے ہوئے رسول نہیں ہو سکتے۔ یہی خیال کفار مکہ کا بھی تھا۔ وہ یہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ رسول نہیں ہیں کیونکہ وہ انسان ہیں وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ۔ (الفرقان 7) وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ وَاَسَرُّوا النَّجْوَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ھَلْ ھٰذَٓا اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ (الانبیاء۔ 3) اور یہ ظالم لوگ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ شخص (یعنی محمد ﷺ تم جیسے ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–17

(آیت) اذ جاءھا المرسلون۔ اذ ارسلنا الیہم اثنین فکذبوھہما فعززنا بثالث فقالوا انا الیکم مرسلون۔ مذکورہ بستی میں تین رسول بھیجے گئے تھے، پہلے ان کا بیان اجمالی اذجاء انا الیکم مرسلون میں فرمایا۔ اس کے بعد اس کی یہ تفصیل دی گئی کہ پہلے دو رسول بھیجے گئے تھے، بستی والوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کی بات نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تائید وتقویت کے لئے ایک تیسرا رسول بھیج دیا۔ پھر ان تینوں رسولوں نے بستی والوں کو خطاب کیا انا الیکم مرسلون، یعنی ہم تمہاری ہدایت کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ اس بستی میں جو رسول بھیجے گئے ان سے کیا مراد ہے اور وہ کون حضرات تھے لفظ رسول اور مرسل قرآن کریم میں عام طور پر اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 16–17

قالو اربنا یعلم انا الیکم لمرسلون۔ ما علینا الا البلغ المبین (16۔ 17) ’ ربنا یعلم ‘ قسم کے مفہوم میں آتا ہے۔ اس کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کرچکے ہیں۔ ان کی تکذیب کے جواب میں انہوں نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ ہم تمہارے پامی خدا کے بھیجے ہوئے آئے ہیں۔ جس طرح آیت 14 میں ’ ھوسلون ‘ علی سبیل التغلیب آیا ہے اسی اسلوب پر یہاں بھی جمع آیا ہے۔ ’ وما علینا الا البلغ المبین ‘۔ یہ ان کی طرف سے لوگوں کو تنبیہ ہے کہ اگر تم ہی کو جھٹلاتے ہو تو جھٹلائو۔ ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ذمہ داری ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہم تم کو خدا کی بات نہایت واضح طور پر پہنچا دیں۔ تمہارے دلوں میں اتار دینا ہماری ذمہ داری نہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 14–17

14۔ 1 یہ تین رسول کون تھے ؟ مفسرین نے ان کے مختلف نام بیان کئے ہیں، لیکن نام مستند ذریعے سے ثابت نہیں ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بھیجے ہوئے تھے، جو انہوں نے اللہ کے حکم سے ایک بستی میں تبلیغ و دعوت کے لئے بھیجے تھے۔ بستی کا نام انطاکیہ تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–17

5: قرآن کریم نے نہ اس بستی کا نام ذکر فرمایا ہے، اور نہ ان رسولوں کا جو اس بستی میں بھیجے گئے تھے، بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ بستی شام کا مشہور شہر انطاکیہ تھی ؛ لیکن نہ تو یہ روایتیں مضبوط ہیں اور نہ تاریخی قرائن سے اس کی تصدیق ہوتی ہے، دوسری طرف رسول کا لفظ عربی زبان میں ہراس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی کا پیغام لے کر دوسرے کے پاس جائے ؛ لیکن قرآن کریم میں زیادہ تر یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کے لئے استعمال ہوا ہے، اس لئے ظاہر یہی ہے کہ یہ حضرات انبیاء کرام تھے، اور بعض روایات میں ان کے نام بھی صادق، صدوق اور شلوم یا شمعون بتائے گئے ہیں ؛ لیکن یہ روایات بھی زیادہ مضبوط…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 16–17

قالوا ربنا یعلم ۔۔۔۔۔ البلغ المبین (36: 16 – 17) ” اللہ جانتا ہے کہ ہم رسول ہیں ، بس یہی ہمارے لیے کافی ہے۔ ہمارا فریضہ صرف یہ ہے کہ رب کا پیغام پہنچا دیں۔ اور یہ تو ہم نے ادا کردیا ہے۔ اس کے بعد لوگ آزاد ہیں اپنی زندگی میں جو تصرف چاہیں ، کریں۔ اور وہ جو رویہ بھی اختیار کریں گے ، اس کی ذمہ داری وہ اٹھائیں گے۔ رسولوں اور امتوں کے درمیان تعلق صرف فیضہ رسالت کی ادائیگی کا ہے۔ جب یہ فریضہ ادا کردیا گیا تو اس کے نتائج اللہ کے اختیار میں ہیں اور اللہ ہی کے حوالے ہیں۔ لیکن جاہلی گروہ اور جھٹلانے والے اس معاملے کو اس طرح سادگی سے اور آسانی سے نہیں لیتے۔ وہ داعیان حق کو برداشت کرنے کے روادار بھی نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی اگر ہم خدا پر جھوٹ لگاتے ہیں تو وہ دیکھ رہا ہے۔ کیا وہ اپنے فعل سے برابر جھوٹوں کی تصدیق کرتا رہے گا۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ اب تم سمجھو یا نہ سمجھو، اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہم اپنے دعوے میں سچے ہیں اور کوئی بات اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے۔ اسی لیے فعلا ہماری تصدیق کر رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16 { قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّآ اِلَیْکُمْ لَمُرْسَلُوْنَ } ”انہوں نے کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم یقینا تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔“ انہوں نے بستی والوں کی ہٹ دھرمی کے جواب میں کوئی اور دلیل تو نہیں دی۔ البتہ اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر ان کے سامنے اپنے اس یقین اور اذعان کا اظہار کیا کہ ہم اسی کی طرف سے بھیجے گئے رسول ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–17

17 قریش مکہ بھی آپ کو یہ الزام دیتے تھے کہ جو کلام یہ پیش کرتا ہے خود ہی تصنیف کرکے اللہ کے نام سے منسوب کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 16–18

11۔ (کہ تمہاری آمد سے ہمارے درمیان یہ فتنہ و فساد برپا ہوگئے) (آیت) ” قالوا ...... لمرسلون وما ...... المبین “۔ یہ دونوں فقرے بھی ان مرسلین کی رسالت حقیقی ہی پر دلالت کررہے ہیں۔ 12۔ (مختلف صورتوں سے) (آیت) ” لنرجمنکم “۔ رجم یا سنگساری، یاد رہے کہ دنیا کی قدیم ترین سلطنتوں اور تہذیبوں میں ایک عام سزا رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–32

آیت نمبر 13 تا 32 ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا ربنا یعلم انا الیکم لمرسلون . رسولوں نے کہا : ہمارا رب جانتا ہے (یعنی اللہ گواہ ہے) کہ ہم کو تمہاری جانب ہی (رسول بنا کر) بھیجا گیا ہے۔ رسولوں نے اللہ کے علم سے استشہاد کیا جو قسم کے قائم مقام ہے (یعنی انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا) اس لئے (احناف کا مسلک ہے کہ) جس نے دانستہ جھوٹ بولا اور جانتے ہوئے کہا : اللہ جانتا ہے کہ میں نے یہ کام کرلیا اور واقع میں وہ کاذب ہو تو اس پر یمین غموس پڑجائے گی (دانستہ گذشتہ واقعہ پر جھوٹی قسم) ۔ کافروں نے رسولوں کی رسالت کا انکار کیا تھا ‘ اسلئے رسولوں نے دوسری مرتبہ اپنا رسول ہونا پر زور طور پر قسم اور تاکید کے ساتھ بیان کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 16–17

(16۔ 17) وہ رسول کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار گواہ ہے کہ ہم رسول ہیں اور ہمارے ذمہ تو صرف احکام خداوندی کا پہنچا دینا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْا رَبُّنَا يَعْلَمُ اِنَّآ اِلَيْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ :”ہمارا رب جانتا ہے“ یہ الفاظ قسم کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ بلاغت کا اصول ہے کہ سننے والا جتنی شدت کے ساتھ کسی بات کا منکر ہو اتنی ہی تاکید کے ساتھ بات کی جائے۔ پیغمبروں کا حوصلہ دیکھیے، بستی والوں کے انھیں صاف جھوٹا کہنے پر بھی وہ برا فروختہ نہیں ہوئے، بلکہ قسم کھا کر انھیں اپنی رسالت کا یقین دلانے کی کوشش کی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–19

خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ ﷺ اپنی قوم کے سامنے اصحب قریہ کا واقعہ بیان کریں (1) ۔ ماوردی نے بیان کیا ہے کہ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس بستی سے مراونطاکیہ ہے یہ اہل انطبیس کی طرف منسوب ہے یہ اس آدمی کا نام ہے جس نے اس کے بارے میں ایک لفظ یہ بی ہے ان تاکیہ یعنی طاء کی جگہ تاء وہاں ایک بادشاہ تھا جسے انطیخس بن انطنیحس کہا جاتا ہے ‘ وہ بتوں کی پوجا کیا کرتا تھا ‘ مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ ابو جعفر نے اسے کعب اور وہب سے نقل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف تین رسولوں کو بھیجا وہ حضرت صادق ‘ حضرت مصدوق اور حضرت شمعون تھے شمعون ہی تیسرا تھا ‘ یہ طبری کا قول ہے۔ دوسرے علماء نے کہا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–17

5:۔ ابن سعد وابن عساکر نے الکلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ایک ہزار اور نوسو سال کا عرصہ تھا ان دونوں کے درمیان بنی اسرائیل کے لئے ایک ہزار نبیوں کا بھیجا گیا پھر دوسری قوم سے رسول بھیجا گیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی کریم ﷺ کے درمیان پانچ سو انہتر سال کا عرصہ ہے اس کے اول میں تین انبیاء بھیجے گئے اسی کو فرمایا (آیت) ” اذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالث “ (جب ہم نے ان کی طرف دو کو بھیجا انہوں نے ان کو جھٹلادیا پھر ہم نے تیسرے کے ساتھ مدد کی اور جس نے ان کی مدد کی وہ شمعون تھے اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالُوْا [انھوں نے کہا ] رَبُّنَا يَعْلَمُ [ہمارا رب جانتا ہے ] اِنَّآ اِلَيْكُمْ [کہ ہم تمہاری طرف ] لَمُرْسَلُوْنَ [یقینا بھیجے ہوئے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 14–20

مذکورہ بستی کے باشندوں میں سے ایک شخص کا پیامبروں کی تصدیق کرنا اور بستی والوں کو توحید کی تلقین کرنا تینوں حضرات بستی والوں کو ہدایات دے رہے تھے اور وہ لوگ ان حضرات سے الجھ رہے تھے اور یوں کہہ رہے تھے کہ تمہارا آنا ہمارے لیے نحوست کا سبب ہے، یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک شخص اس بستی کی ایک جانب سے جو بہت دور تھی دوڑتا ہوا وہاں پہنچ گیا اس نے تینوں حضرات کی تائید کی اور بستی والوں سے کہا کہ اے میری قوم یہ حضرات ٹھیک فرما رہے ہیں، یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں تم ان کی بات مان لو اور ان کا اتباع کرو، یہ حضرات ایک تو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں دوسرے تم سے کسی معاوضہ کا سوال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–21

قصہ اصحاب القریہ برائے عبرت ونصیحت مکذبین رسالت قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وہم مھتدون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں معاندین اور مکذبین رسالت کا ذکر تھا اب آگے ان کی تہدید اور عبرت کے لئے ایک آبادی کا قصہ بیان کرتے ہیں تاکہ مشرکین مکہ کو معلوم ہوجائے کہ مستکبرین اور منکرین نبوت کا کیا انجام ہوتا ہے اور ایسوں کو ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے اس قصہ کے ذکر کرنے سے مسئلہ نبوت و رسالت کی تائید اور تکذیب کرنے والوں کی تہدید مقصود ہے تاکہ مکذبین رسالت اس سے عبرت پکڑیں۔ اور جان لیں کہ ذکر اور نصیحت سے اعراض کا کیا انجام ہوتا ہے۔ جمہور مفسرین یہ کہتے ہیں کہ اس قصہ میں جس قریہ کا ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–16

11:۔ قالوا ربنا الخ، مشکرین کے انکار پر پیغمبروں نے نہایت زور دار مؤکد بالقسم اسلوب کے ساتھ اپنا دعوی دہرایا کہ خدا شاہد ہے کہ ہم اللہ کے رسول ہیں اور ہمیں اللہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے، اگر تم ہماری دعوت کو قبول نہیں کرو گے تو اس سے ہمارا کوئی بھی نقصان نہیں کیونکہ ہمارا کام تو صرف دعوت توحید کو تم تک پہنچانا ہے اگر تم نہیں مانو گے تو اس کا وبال تم پر پڑے گا۔ ربنا یعلم کی تعبیر قسم کے قائم مقام ہے وربنا یعلم جار مجری القسم فی التوکید وکذلک قولہم شہد اللہ و علم اللہ (مدارک ج 4 ص 4) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–19

ربط آیات سورۃ کی ابتداء میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا بیان ہوا ، پھر رسالت کا ذکر ہوا۔ اللہ نے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ اکثر لوگ حجاب طبع یا حجاب رسم میں مبتلا رہ کر ہی زندگی ختم کرلیتے ہیں اور عمر بھر نہ تو وہ ایمان کے معاملے میں غور و فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اسے قبول کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ مردوں کو زندہ کرنا ہمارا کام ہے ، ہم مقررہ وقت پر انہیں دوبارہ زندہ کریں گے ، ان کے تمام اعمال اور ان کی ہر ہر نقل و حرکت ہمارے پاس لکھی ہوئی ہے جو انہیں نئی زندگی ملنے پر پیش کردی جائے گی اور پھر اس اعمالنامے کی بنیاد پر ان سے حساب کتاب لیا جائے گا اور جزا اور سزا کے فیصلے ہوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا رَبُّنَا يَعْلَمُ اِنَّآ اِلَيْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ۝ 16 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–25

ترکیب : اصحٰب القریۃ معناہ واضرب لہم مثلا مثل اصحاب القریۃ فترک المثل و اقیم الاصحاب مقامہ فی الاعراب کقولہ و اسئل القریۃ کشاف وقیل المعنی اجعل اصحاب القریۃ لھم مثلاً علی ان یکون مثلا و اصحٰب القریۃ مفعولین لاضرب او یکون اصحاب القریۃ بدلا من مثلا فعلی ھذا اضرب بمعنی مثل وھو یتعدی الی مفعولین لتضمنہ معنی الجعل و ھما مثلا اصحٰب القریۃ علی حذف مضاف اذ جاء بدل من اصحٰب القریۃ بدل الاشتمال اَئِنْ ذکرتم شرط و جو ابہ محذوف مثل تطیرتم لما جمیع قریٔ مشدد او مخففا قال الفراء من شدو جعل لما بمعنی الاوان بمعنی ما۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا۔ انک لمن المرسلین اور اس کے بعد یہ بھی فرمایا تھا کہ ازلی گمراہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–17

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّـآ اِلَیْکُمْ لَمُرْسَلُوْنَ ۔ وَمَا عَلَیَنْـآ اِلاَّالْبَلٰـغُ الْمُبِیْنُ ۔ (یٰسٓ: 16، 17) (رسولوں نے کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف رسول بنا کے بھیجے گئے ہیں۔ اور ہماری ذمہ داری بس واضح طور پر پہنچا دینے کی ہے۔ ) اعتراض کا جواب اور تنبیہ رَبُّنَا یَعْلَمُکا ایک مفہوم یہ ہے کہ اسے قسم قرار دیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ رسولوں نے قسم کھا کر یہ بات فرمائی کہ دوسروں کو اعتبار دلانے کے لیے چونکہ آخری ذریعہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم کھائی جائے۔ تو ہم بھی قسم کھا کر یہ بات کہتے ہیں کہ ہم تمہاری ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–18

فہم القرآن ربط کلام : تین انبیائے کرام (علیہ السلام) کو قوم کی دھمکی اور الزام۔ بدبخت لوگوں کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرنے کی بجائے انبیائے کرام اور مصلح حضرات کو طعن وتشنیع اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہی کچھ اس شہر کے لوگوں نے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ کیا۔ قوم انبیائے کرام (علیہ السلام) کو کہنے لگی کہ جب سے تم ہمارے شہر میں آئے ہو اس وقت سے لے کر ہم مسائل اور مصائب کا شکار ہوئے جارہے ہیں۔ اگر تم اپنے کام سے باز نہ آئے تو ہم ہر صورت تمہیں سنگسار کرڈالیں گے اور تمہیں اذیت ناک سزا دیں گے۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) نے جواباً فرمایا کہ جن مسائل اور مصائب سے تم دوچار ہو یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16: قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّآ اِلَیْکُمْ لَمُرْسَلُوْنَ (ان رسولوں نے کہا ہمارا پروردگار علیم ہے۔ کہ بیشک ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں) اول مرسلون کو لام سے مؤکد نہیں کیا۔ دوسرے کو لام سے مؤکد کیا۔ کیونکہ اول ابتدائے اخبار ہے۔ اور دوسرا انکار کا جواب ہے۔ اس لئے زیادہ تاکید کی ضرورت پڑی۔ ربنا یعلمیہ تاکید کے لحاظ سے قسم کے قائم مقام ہے اسی طرح۔ شہد اللہ، علم اللہ کا قول بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 15–17

تفسیر 15۔ ، قالو اماانتم الا بشرمثلناوما انزل الرحمن من شیء ان انتم الا تکذبون، یعنی تم اپنے گمان کے مطابق جھوٹے ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–19

13۔ تا 19۔ اوپر ذکر تھا کہ نصیحت انہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جو علم الٰہی میں نیک قرار پا چکے ہیں جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کے دل پر کسی نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہوتا اس قصے میں ایک شخص نیک کا اور بستی کے تمام سرکشوں کا حال بیان کر کے اوپر کی بات کی مثال سمجھائی حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک بستی میں دو رسول بھیجے جب بستی کے لوگوں نے ان دونوں رسولوں کو جھٹلایا تو تیسرے رسول کو ان دونوں کی مدد کے لیے بھیجا گیا لیکن بستی کے لوگوں نے ان تینوں رسولوں کو جھٹلایا اور تمام گمراہ قوموں کی طرح یہ کہا کہ اللہ کے رسول انسان نہیں ہوسکتے اس لیے تم تینوں جھوٹے ہو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–20

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

21 رسولوں کا منکروں کو سیدھا اور صاف جواب : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ منکروں کے اس گستاخانہ اور بیہودہ و متکبرانہ قول کے جواب میں ان رسولوں نے کہا کہ " ہمارا رب خوب جانتا ہے کہ ہمیں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے "۔ پس تم لوگ اگر ہماری بات کو مان کر حق کو قبول کرو گے تو اپنا ہی بھلا کروگے اور اس کا صلہ وثمرہ بھی خود تم ہی کو ملے گا۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ نہیں تو اس کا خسارہ و نقصان بھی تم ہی لوگوں کو بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف پیغمبروں نے منکروں کے سوال و اعتراض کے جواب میں اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے انکو بتادیا کہ ہم تو بہرحال اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ ہمارا رب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 13–21

انطاکیہ کی ایک بستی میں داعیان حق کی روئیداد تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی قوم کے پاس ہدایت کے لیے کوئی پیغمبر بھیجا گیا انہوں نے اس کو جھٹلایا سوائے چند افراد کے انہوں نے اکثر پیغمبروں کو قتل بھی کردیا۔ اسی سلسلہ میں نبی اکرم ﷺ کو کہا گیا ہے کہ آپ ان کفار کی نافرمانی سے ہرگز پریشان نہ ہوں بلکہ ان کو عبرت دلانے کے لیے اس گاؤں کا قصہ سناؤ۔ یہ عبرت ناک قصہ صرف اہل مکہ کے لیے ہی نہیں بلکہ تاقیامت تمام لوگوں کے لیے یہ سبق کا مقام ہے۔ قصہ یوں ہے کہ شام میں ایک گاؤں انطاکیہ تھا وہاں پر لوگوں کو ہدایت دینے کے لیے دو رسول بھیجے گئے بعض روایات میں ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 14–21

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 14 تا 21: اسرار و معارف : آپ ان لوگوں کو اس شہر کے باسیوں کی مثال دیجیے جن کے پاس اسی طرح انبیاء آئے تھے جیسے آپ ان کے پاس تشریف لائے ہیں بلکہ ہم نے وہاں بیک وقت دو نبی مبعوث فرمائے کہ انہیں بات خوب طرح سے سمجھائیں شاید ایک حکمت یہ بھی ہو دین حق میں جب لوگوں کو اپنے اوہام باطلہ اور خواہشات نفس کی مخالفت نظر آئے تو اکثر غور و فکر کی بجائے مخالفت کرتے ہیں اور داعی یا مبلغ کو پاگل اور دیوانہ قرار دیتے ہیں مگر کوئی دو پاگل بھی ایک بات پہ متحد نہیں ہوسکتے اور نہ یہ ممکن ہے کہ ان کا سارا کردار تو انتہائی پاکیزہ ہو اور عقیدہ کے معاملے میں دونوں پاگل ہوں۔ لوگوں نے ان کی بات ماننے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 14–18

ف 3 یہ بھی اسی قسم کی بات ہے جو کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ سے کہی ( سورة نساء : 77) اور جو قوم ثمود نے حضرت صالح ( علیہ السلام) سے کہی ( نمل : 47) اور جو فرعون کی قوم والے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ (اعراف : 3)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:16) ربنا یعلم انا الیکم لمرسلون۔ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم یقینا تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ۔ لام تاکید کا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم سے استشہاد قسم کے قائم ہے ! اذ تشھدوا بعلم اللہ تعالیٰ وھو یجری مجری القسم۔ جب اللہ تعالیٰ کے علم سے استشہاد کرلیا جائے تو وہ قسم کے قائم مقام ہوتا ہے :

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–32

لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے) تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–32

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔ ( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–17

[7] یعنی نیک و بداعمال جو آگے بھیج چکے۔ [8] یعنی وہ اعمال جن کے اچھے یا برے اثرات یا نشان پیچھے چھوڑے۔ [9] یعنی لوح محفوظ میں۔ اصل میں لفظ '' امام '' استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی پیشوا اور شارع عام کے ہیں اور لوح محفوظ پر دونوں باتیں صادق آتی ہیں کہ تمام واقعات گزشتہ اور آئندہ اسی کے مطابق ہوئے اور ہوں گے۔ گویا تمام دنیا ومافیہا اسی پر چل رہی ہے۔ اور اس کو واضح اس لئے فرمایا کہ اس میں تمام باتیں وضاحت سے لکھی ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–19

ف 2: قرآن حکیم نے جن واقعات کی تفصیل بیان فرمائی ہے ۔ اور کتب احادیث میں بھی انکا کوئی مذکور نہیں ہے ۔ ان کو اسی رنگ میں سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔ جس رنگ میں کہ قرآن نے بیان کیا ہے ۔ کیونکہ اگر تفصیلات کا ذکر کرنا نفس ابتداء کے لئے ضروری ہوتا ۔ تو وہ ضرور ظاہر کردی جاتیں ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے ایک قوم کا ذکر کیا ہے ؟ وہ کون لوگ تھے ؟ کس زمانے میں ہوئے یہ جاننا ضروری نہیں ہے ۔ بس یہ جان لیجئے ۔ کہ ایک قوم تھی ۔ ان کے پاس اللہ کے دو رسول آئے ۔ مگر انہوں نے ان کے پیغام کو ٹھکرا دیا ۔ پھر اللہ نے تیسرے رسول کو بھیجا ۔ اور ان تینوں نے مل کر کام کیا اور کہا ۔ کہ ہم کی طرف سے تمہارے پاس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) ان فرستادوں نے فرمایا ہمارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ بلاشبہ یقینا ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں اور اسی کے فرستادے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–16

ف 7۔ اوپر مسئلہ رسالت مع تسلیہ مذکور تھا، آگے رسالت کی تائید اور مکذبین کی تہدید کے لئے ایک قصہ مذکور ہے جو مکذبین رسالت کی تشنیع و تقریع پر ختم کیا گیا ہے جس سے مضمون مترتب سزا کی بھی تائید ہوگئی، جو اوپر مذکور تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رسولوں نے کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں : 16۔ ان تینوں نے مل کر بستی والوں کو یقین دلایا کہ بلاشبہ ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں اور ہم اپنی بات اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو شاید وضامن بنا کر کر رہے ہیں ہم یہ بات کہنے میں بالکل جھوٹے نہیں ہیں اس نے ہم کو تمہاری ہدایت کا پروانہ دے کر بھیجا ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–17

In the next sentence of verse 13: إِذْ أَرْ‌سَلْنَا إِلَيْهِمُ اثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوا إِنَّا إِلَيْكُم مُّرْ‌سَلُونَ (when the messengers came to it... - 13). The text has briefly mentioned the coming of messengers to the town. The number of the messengers sent has been identified in verse 14:إِذْ جَاءَهَا إِنَّا إِلَيْكُم مُّرْ‌سَلُونَ (when We sent to them two (apostles), and they rejected them both, so We supported them with a third one. So they said, "We are sent to you" ) This shows that three messengers were sent to the said town. First came two, the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

11 In other words, what they wanted to say was: `Since you are human beings, you cannot be the messengers of God. " The same was the view of the disbelievers of Makkah. They also said; "Muhammad (upon whom be Allah's peace) cannot be a messenger because he is a man" "They say: what sort of a Messenger is he that he eats food and moves about in the streets." (AI-Furqan: 7). "And the unjust people whisper to one another, saying, 'This man is no more than a human being like yourselves. What! will you then be enticed by this sorcery while you perceive it ?" (Al-Anbiya': 3). The Qur'an refutes…

Read the full tafseer →