Yaseen 36:15

Yaseen · from ayah 15

36:15

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا ۙ— وَمَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ ۙ— اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ ۟قَالُوۡا مَاۤ اَنۡـتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُـنَا ۙ وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَىۡءٍۙ اِنۡ اَنۡـتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ

وہ بولے کہ تم (اور کچھ) نہیں مگر ہماری طرح کے آدمی (ہو) اور خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم محض جھوٹ بولتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "You are not but human beings like us, and the Most Merciful has not revealed a thing. You are only telling lies."

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 2 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:15

بستی والوں نے کہا "تم کچھ نہیں ہو مگر ہم جیسے چند انسان، اور خدائے رحمٰن نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے، تم محض جھوٹ بولتے ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ بولے کہ تم (اور کچھ) نہیں مگر ہماری طرح کے آدمی (ہو) اور خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم محض جھوٹ بولتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان لوگوں نے کہا کہ تم تو ہماری طرح معمولی آدمی ہو اور رحمٰن نے کہا کوئی چیز نازل نہیں کی۔ تم نرا جھوٹ بولتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے کہا : تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم ہم جیسے ہی آدمی ہو۔ اور خدائے رحمن نے کوئی چیز نازل نہیں کی ہے، اور تم سراسر جھوٹ بول رہے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے تم تو نہیں مگر ہم جیسے آدمی اور رحمن نے کچھ نہیں اتارا تم نرے جھوٹے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(بستی والوں نے) کہا: تم تو محض ہماری طرح بشر ہو اور خدائے رحمان نے کچھ بھی نازل نہیں کیا، تم فقط جھوٹ بول رہے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا تم ہمارے جیسے بشر ہی تو ہو اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی، تم تو محض جھوٹ ہی کہہ رہے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : تم تو ہمارے ہی جیسے انسان ہو اور اللہ نے تو کچھ بھی نہیں اتارا (بلکہ) تم تو محض جھوٹ بولتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

لوگوں نے جواب دیا کہ تم تو بس ہمارے ہی جیسے بشر ہو ! اور خدائے رحمان نے کوئی چیز بھی نازل نہیں کی ہے، تم لوگ بالکل جھوٹ دعویٰ کرتی ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جواب میں بستی والوں نے کہا کہ تم تو ہم ہی جیسے بشر (اور انسان) ہو اور (خدائے) رحمان نے کوئی چیز نہیں اتاری تم تو محض جھوٹ بولتے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

وہ لوگ بولے تم تو بس ہمارے ہی جیسے انسان ہو اور خدائے رحمن نے کچھ بھی نہیں اتارا ہے تم نرا جھوٹ ہی بول رہے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نہوں نے کہا کہ تم نہیں ہو مگر ہم جیسے انسان اور رحمٰن نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم محض جھوٹ بول رہے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ بولے کہ تم اور کچھ نہیں مگر ہماری طرح کے آدمی ہو اور اللہ نے کوئی چیز بھی نازل نہیں کی، تم صرف جھوٹ بولتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They said: “We have been sent to you as Messengers.” The people of the town said: “You are only human beings like ourselves, and the Merciful Lord has revealed nothing. You are simply lying.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They (the people of the Town) said, :You are no more than human beings like us, and the RaHman (the All-Merciful Allah) has not sent down any thing. You are but telling a lie.

— Muhammad Taqi Usmani

They (the people of the Town) said, :You are no more than human beings like us, and the RaHman (the All-Merciful Allah) has not sent down any thing. You are but telling a lie.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "You are only human beings like ourselves, and the Most Gracious has revealed nothing. You are only telling lies."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Ye are but mortals like unto us. The Beneficent hath naught revealed. Ye do but lie!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "You are not but human beings like us, and the Most Merciful has not revealed a thing. You are only telling lies."

— Saheeh International

The people said, "You are mere mortals like us and the Beneficent God has sent nothing. You are only liars."

— Muhammad Sarwar

They said: You are naught but mortals like ourselves, nor has the Beneficent Allah revealed anything; you only lie.

— Muhammad Habib Shakir

They said: ye are but human beings like ourselves; the Compassionate hath not sent down aught; ye are only lying.

— Abdul Majid Daryabadi

The (people) said: "Ye are only men like ourselves; and (Allah) Most Gracious sends no sort of revelation: ye do nothing but lie."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–17

ایک قصہ پارینہ۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرما رہا ہے کہ آپ اپنی قوم کے ساتھ ان سابقہ لوگوں کا قصہ بیان فرمایئے جنہوں نے ان سے پہلے اپنے رسولوں کو ان کی طرح جھٹلایا تھا۔ یہ واقعہ شہر انطاکیہ کا ہے۔ وہاں کے بادشاہ کا نام انطیخش تھا اس کے باپ اور دادا کا نام بھی یہی تھا یہ سب راجہ پر جابت پرست تھے۔ ان کے پاس اللہ کے تین رسول آئے۔ صادق، صدوق اور شلوم۔ اللہ کے درود وسلام ان پر نازل ہوں۔ لیکن ان بدنصیبوں نے سب کو جھٹلایا۔ عنقریب یہ بیان بھی آ رہا ہے کہ بعض بزرگوں نے اسے نہیں مانا کہ یہ واقعہ انطاکیہ کا ہو، پہلے تو اس کے پاس دو رسول آئے انہوں نے انہیں نہیں مانا ان دو کی تائید میں پھر تیسرے نبی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–16

سورة یٰسٓ 11 دوسرے الفاظ میں ان کا کہنا یہ تھا کہ تم چونکہ انسان ہو اس لیے خدا کے بھیجے ہوئے رسول نہیں ہو سکتے۔ یہی خیال کفار مکہ کا بھی تھا۔ وہ یہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ رسول نہیں ہیں کیونکہ وہ انسان ہیں وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ۔ (الفرقان 7) وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ وَاَسَرُّوا النَّجْوَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ھَلْ ھٰذَٓا اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ (الانبیاء۔ 3) اور یہ ظالم لوگ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ شخص (یعنی محمد ﷺ تم جیسے ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–17

(آیت) اذ جاءھا المرسلون۔ اذ ارسلنا الیہم اثنین فکذبوھہما فعززنا بثالث فقالوا انا الیکم مرسلون۔ مذکورہ بستی میں تین رسول بھیجے گئے تھے، پہلے ان کا بیان اجمالی اذجاء انا الیکم مرسلون میں فرمایا۔ اس کے بعد اس کی یہ تفصیل دی گئی کہ پہلے دو رسول بھیجے گئے تھے، بستی والوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کی بات نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تائید وتقویت کے لئے ایک تیسرا رسول بھیج دیا۔ پھر ان تینوں رسولوں نے بستی والوں کو خطاب کیا انا الیکم مرسلون، یعنی ہم تمہاری ہدایت کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ اس بستی میں جو رسول بھیجے گئے ان سے کیا مراد ہے اور وہ کون حضرات تھے لفظ رسول اور مرسل قرآن کریم میں عام طور پر اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قالو ما انتتم الا بشر مثلنا وما انزل الرحمن من شئی ان انتم الا تکذبون (15) یہ وہی اعتراض ہے جو ہر رسول کے مکذبین نے اپنے اپنے رسولوں کے خلاف اٹھایا ہے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے انسان ہو تو تم خدا کے رسول کیسے ہوئے ! اگر خدا کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا تو کسی برتر مخلوق کو رسول بناتا نہ کہ ہمارے ہی جیسے انسانون کو۔ یہ اعتراض قرآن میں رسولوں کے مکذبین کی زبان سے بار بار نقل ہوا ہے۔ فرعون اور اس کے اعیان کو بھی حضرت موسیٰ ؑ پر یہ اعتراض تھا اور یہی اعتراض قریش نے آنحضرت ﷺ کے خلاف بھی اٹھایا تھا۔ ’ وما انزل الرحمن الایۃ ‘۔ یعنی تمہارا یہ دعویٰ کہ خدا نے تم پر کوئی کتاب یا وحی نازل کی ہے، بالکل جھوٹ ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 14–17

14۔ 1 یہ تین رسول کون تھے ؟ مفسرین نے ان کے مختلف نام بیان کئے ہیں، لیکن نام مستند ذریعے سے ثابت نہیں ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بھیجے ہوئے تھے، جو انہوں نے اللہ کے حکم سے ایک بستی میں تبلیغ و دعوت کے لئے بھیجے تھے۔ بستی کا نام انطاکیہ تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–17

5: قرآن کریم نے نہ اس بستی کا نام ذکر فرمایا ہے، اور نہ ان رسولوں کا جو اس بستی میں بھیجے گئے تھے، بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ بستی شام کا مشہور شہر انطاکیہ تھی ؛ لیکن نہ تو یہ روایتیں مضبوط ہیں اور نہ تاریخی قرائن سے اس کی تصدیق ہوتی ہے، دوسری طرف رسول کا لفظ عربی زبان میں ہراس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی کا پیغام لے کر دوسرے کے پاس جائے ؛ لیکن قرآن کریم میں زیادہ تر یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کے لئے استعمال ہوا ہے، اس لئے ظاہر یہی ہے کہ یہ حضرات انبیاء کرام تھے، اور بعض روایات میں ان کے نام بھی صادق، صدوق اور شلوم یا شمعون بتائے گئے ہیں ؛ لیکن یہ روایات بھی زیادہ مضبوط…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ تھی وہ واضح اور قریب الفہم حقیقت جس پر ہمیشہ انسانوں کی طرف سے اعتراض ہوتا رہا ہے۔ چناچہ اس گاؤں کے باشندوں نے تینوں رسولوں سے یہ کہا ما انتم الا بشر مثلنا (36: 15) ” تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے انسان ہو “۔ یہ تم محض دعویٰ کر رہے ہو کہ تم رسول ہو۔ اب ذرا رسولوں کا جواب دیکھیں۔ وہ حقیقت حال سے واقف ایک مطمئن اور پر اعتماد شخص کی طرح جواب دیتے ہیں

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی تم میں کوئی سرخاب کا پر نہیں جو اللہ تمہیں بھیجتا۔ ہم سے کس بات میں تم بڑھ کر تھے۔ بس رہنے دو خواہ مخواہ خدا کا نام نہ لو۔ اس نے کچھ نہیں اتارا۔ تینوں سازش کر کے ایک جھوٹ بنا لائے اسے خدا کی طرف نسبت کردیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15 { قَالُوْا مَآ اَنْتُمْ اِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَالا } ”انہوں نے کہا کہ تم نہیں ہو مگر ہم جیسے انسان !“ { وَمَآ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْئٍلا اِنْ اَنْتُمْ اِلاَّ تَکْذِبُوْنَ } ”اور رحمٰن نے کوئی چیز نازل نہیں کی ‘ تم محض جھوٹ بول رہے ہو۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–17

17 قریش مکہ بھی آپ کو یہ الزام دیتے تھے کہ جو کلام یہ پیش کرتا ہے خود ہی تصنیف کرکے اللہ کے نام سے منسوب کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 14–15

10۔ منکروں نے جواب میں کہا کہ تمہاری شخصی صداقت کا زیر بحث ہونا الگ رہا۔ ہم نفس مسئلہ رسالت ونبوت ہی کے قائل نہیں۔ نہ اوتار، نہ مظہر خدا، نہ دیوتاؤں کی اولاد، بلکہ محض انسان، اور وہ ” پیغمبر “ ہوجائے یہ ہماری سمجھ میں تو آتا نہیں۔ (آیت) ” ماانتم الا بشر مثلنا “۔ جاہل قوموں کو پیغمبروں کی دعوت قبول کرنے میں سب سے بڑی ٹھوکریہی لگتی ہے کہ یہ ہماری ہی جیسی بشریت کے ساتھ ساتھ پیغمبری کا دعوی کیسا، یہ سارے فقرے ذہن کو اسی طرف لیے جاتے ہیں کہ یہ لوگ براہ راست اللہ ہی کے رسول تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–32

آیت نمبر 13 تا 32 ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا ما انتم الا بشر مثلنا وما انزل الرحمٰن من شیءٍ ان انتم الا تکذبون (انطاکیہ والوں نے) کہا : تم بھی ہماری طرح آدمی ہی ہو (اس کے سوا کچھ نہیں ہے) اور رحمن نے کچھ بھی نہیں اتارا (یعنی وحی نازل نہیں کی) تم محض جھوٹ کہتے ہو (رسالت کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہو) یعنی تم کو کوئی (مافوق البشریت) برتری حاصل نہیں جس کی وجہ سے تم کو رسول بنا دیا گیا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

وہ کہنے لگے کہ تم تو ہماری طرح عام آدمی ہو اور اللہ نے نہ کتاب نازل کی ہے اور نہ کوئی رسول بھیجا ہے تم بالکل جھوٹ بولتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْا مَآ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا : کفار مکہ نے بھی رسول اللہ ﷺ کو یہی بات کہی۔ دیکھیے سورة انعام (91) بلکہ ہر قوم نے اپنے رسول کو یہی کہا کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو، آخر تم میں ہم سے بڑھ کر وہ کون سی خوبی ہے جو اللہ نے تمہیں ہی نبوت کے لیے منتخب کیا ؟ دیکھیے سورة ابراہیم (10) ، بنی اسرائیل (94) ، مومنون (34) اور تغابن (6) گویا نبوت کے متعلق ہمیشہ سے جاہلی تصور یہ ہے کہ جو بشر ہو وہ رسول نہیں ہوسکتا۔ دوسرے الفاظ میں یہی تصور بعض جاہلوں میں اس طرح پایا جاتا ہے کہ جو رسول ہو وہ بشر نہیں ہوسکتا، حالانکہ قرآن تمام انبیاء کو بشر بھی ثابت کرتا ہے اور رسول بھی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–19

خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ ﷺ اپنی قوم کے سامنے اصحب قریہ کا واقعہ بیان کریں (1) ۔ ماوردی نے بیان کیا ہے کہ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس بستی سے مراونطاکیہ ہے یہ اہل انطبیس کی طرف منسوب ہے یہ اس آدمی کا نام ہے جس نے اس کے بارے میں ایک لفظ یہ بی ہے ان تاکیہ یعنی طاء کی جگہ تاء وہاں ایک بادشاہ تھا جسے انطیخس بن انطنیحس کہا جاتا ہے ‘ وہ بتوں کی پوجا کیا کرتا تھا ‘ مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ ابو جعفر نے اسے کعب اور وہب سے نقل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف تین رسولوں کو بھیجا وہ حضرت صادق ‘ حضرت مصدوق اور حضرت شمعون تھے شمعون ہی تیسرا تھا ‘ یہ طبری کا قول ہے۔ دوسرے علماء نے کہا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–17

5:۔ ابن سعد وابن عساکر نے الکلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ایک ہزار اور نوسو سال کا عرصہ تھا ان دونوں کے درمیان بنی اسرائیل کے لئے ایک ہزار نبیوں کا بھیجا گیا پھر دوسری قوم سے رسول بھیجا گیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی کریم ﷺ کے درمیان پانچ سو انہتر سال کا عرصہ ہے اس کے اول میں تین انبیاء بھیجے گئے اسی کو فرمایا (آیت) ” اذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالث “ (جب ہم نے ان کی طرف دو کو بھیجا انہوں نے ان کو جھٹلادیا پھر ہم نے تیسرے کے ساتھ مدد کی اور جس نے ان کی مدد کی وہ شمعون تھے اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالُوْا [ان لو گوں نے کہا ] مَآ اَنْتُمْ [تم لوگ نہیں ہو ] اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا ۙ [مگر بشر ہمارے جیسے ] وَمَآ اَنْزَلَ [اور نہیں اتاری ] الرَّحْمٰنُ [رحمان نے ] مِنْ شَيْءٍ ۙ [کوئی بھی چیز ] اِنْ اَنْتُمْ [تم لوگ نہیں ہو ] اِلَّا تَكْذِبُوْنَ [سوائے اس کے کہ تم لوگ جھوٹ کہتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 14–20

مذکورہ بستی کے باشندوں میں سے ایک شخص کا پیامبروں کی تصدیق کرنا اور بستی والوں کو توحید کی تلقین کرنا تینوں حضرات بستی والوں کو ہدایات دے رہے تھے اور وہ لوگ ان حضرات سے الجھ رہے تھے اور یوں کہہ رہے تھے کہ تمہارا آنا ہمارے لیے نحوست کا سبب ہے، یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک شخص اس بستی کی ایک جانب سے جو بہت دور تھی دوڑتا ہوا وہاں پہنچ گیا اس نے تینوں حضرات کی تائید کی اور بستی والوں سے کہا کہ اے میری قوم یہ حضرات ٹھیک فرما رہے ہیں، یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں تم ان کی بات مان لو اور ان کا اتباع کرو، یہ حضرات ایک تو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں دوسرے تم سے کسی معاوضہ کا سوال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–21

قصہ اصحاب القریہ برائے عبرت ونصیحت مکذبین رسالت قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وہم مھتدون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں معاندین اور مکذبین رسالت کا ذکر تھا اب آگے ان کی تہدید اور عبرت کے لئے ایک آبادی کا قصہ بیان کرتے ہیں تاکہ مشرکین مکہ کو معلوم ہوجائے کہ مستکبرین اور منکرین نبوت کا کیا انجام ہوتا ہے اور ایسوں کو ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے اس قصہ کے ذکر کرنے سے مسئلہ نبوت و رسالت کی تائید اور تکذیب کرنے والوں کی تہدید مقصود ہے تاکہ مکذبین رسالت اس سے عبرت پکڑیں۔ اور جان لیں کہ ذکر اور نصیحت سے اعراض کا کیا انجام ہوتا ہے۔ جمہور مفسرین یہ کہتے ہیں کہ اس قصہ میں جس قریہ کا ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–16

11:۔ قالوا ربنا الخ، مشکرین کے انکار پر پیغمبروں نے نہایت زور دار مؤکد بالقسم اسلوب کے ساتھ اپنا دعوی دہرایا کہ خدا شاہد ہے کہ ہم اللہ کے رسول ہیں اور ہمیں اللہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے، اگر تم ہماری دعوت کو قبول نہیں کرو گے تو اس سے ہمارا کوئی بھی نقصان نہیں کیونکہ ہمارا کام تو صرف دعوت توحید کو تم تک پہنچانا ہے اگر تم نہیں مانو گے تو اس کا وبال تم پر پڑے گا۔ ربنا یعلم کی تعبیر قسم کے قائم مقام ہے وربنا یعلم جار مجری القسم فی التوکید وکذلک قولہم شہد اللہ و علم اللہ (مدارک ج 4 ص 4) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–19

ربط آیات سورۃ کی ابتداء میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا بیان ہوا ، پھر رسالت کا ذکر ہوا۔ اللہ نے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ اکثر لوگ حجاب طبع یا حجاب رسم میں مبتلا رہ کر ہی زندگی ختم کرلیتے ہیں اور عمر بھر نہ تو وہ ایمان کے معاملے میں غور و فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اسے قبول کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ مردوں کو زندہ کرنا ہمارا کام ہے ، ہم مقررہ وقت پر انہیں دوبارہ زندہ کریں گے ، ان کے تمام اعمال اور ان کی ہر ہر نقل و حرکت ہمارے پاس لکھی ہوئی ہے جو انہیں نئی زندگی ملنے پر پیش کردی جائے گی اور پھر اس اعمالنامے کی بنیاد پر ان سے حساب کتاب لیا جائے گا اور جزا اور سزا کے فیصلے ہوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا مَآ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا۝ 0 ۙ وَمَآ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَيْءٍ۝ 0 ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ۝ 15 بشر وخصّ في القرآن کلّ موضع اعتبر من الإنسان جثته وظاهره بلفظ البشر، نحو : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] ، ( ب ش ر ) البشر اور قرآن میں جہاں کہیں انسان کی جسمانی بناوٹ اور ظاہری جسم کا لحاظ کیا ہے تو ایسے موقع پر خاص کر اسے بشر کہا گیا ہے جیسے فرمایا : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا ۔ إِنِّي خالِقٌ بَشَراً مِنْ طِينٍ [ ص/ 71] کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–25

ترکیب : اصحٰب القریۃ معناہ واضرب لہم مثلا مثل اصحاب القریۃ فترک المثل و اقیم الاصحاب مقامہ فی الاعراب کقولہ و اسئل القریۃ کشاف وقیل المعنی اجعل اصحاب القریۃ لھم مثلاً علی ان یکون مثلا و اصحٰب القریۃ مفعولین لاضرب او یکون اصحاب القریۃ بدلا من مثلا فعلی ھذا اضرب بمعنی مثل وھو یتعدی الی مفعولین لتضمنہ معنی الجعل و ھما مثلا اصحٰب القریۃ علی حذف مضاف اذ جاء بدل من اصحٰب القریۃ بدل الاشتمال اَئِنْ ذکرتم شرط و جو ابہ محذوف مثل تطیرتم لما جمیع قریٔ مشدد او مخففا قال الفراء من شدو جعل لما بمعنی الاوان بمعنی ما۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا۔ انک لمن المرسلین اور اس کے بعد یہ بھی فرمایا تھا کہ ازلی گمراہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْا مَـآ اَنْتُمْ اِلاَّبَشَرٌ مِّثْلُنَا لا وَمَـآ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْ ئٍ لا اِنْ اَنْتُمْ اِلاَّ تَـکْذِبُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 15) (بستی والوں نے کہا کہ تم کچھ نہیں ہو، مگر ہم جیسے انسان، اور خدائے رحمن نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے، تم محض جھوٹ بولتے ہو۔ ) اہلِ قریہ کا اعتراض ان رسولوں کے دعویِٰ رسالت کی تردید میں اہل قریہ نے وہی بات کہی جو اس سے پہلے ہر رسول کے مخالفین کہتے رہے ہیں، وہ یہ کہ رسالت ایک عظیم منصب ہے جس میں اللہ تعالیٰ سے براہ راست ہدایت حاصل کرکے بندوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا نازک اور عظیم کام انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ انسان نہ تو اپنے پروردگار کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–18

فہم القرآن ربط کلام : تین انبیائے کرام (علیہ السلام) کو قوم کی دھمکی اور الزام۔ بدبخت لوگوں کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرنے کی بجائے انبیائے کرام اور مصلح حضرات کو طعن وتشنیع اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہی کچھ اس شہر کے لوگوں نے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ کیا۔ قوم انبیائے کرام (علیہ السلام) کو کہنے لگی کہ جب سے تم ہمارے شہر میں آئے ہو اس وقت سے لے کر ہم مسائل اور مصائب کا شکار ہوئے جارہے ہیں۔ اگر تم اپنے کام سے باز نہ آئے تو ہم ہر صورت تمہیں سنگسار کرڈالیں گے اور تمہیں اذیت ناک سزا دیں گے۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) نے جواباً فرمایا کہ جن مسائل اور مصائب سے تم دوچار ہو یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

15: قَالُوْا (بستی والوں نے کہا) : مَآ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا (تم تو ہماری طرح معمولی آدمی ہو) سوال : بشرٌ کا لفظ یہاں مرفوع ہے۔ اور ماھذا بشرًا ] یوسف : 31[ میں منصوب ہے کیوں ؟ جواب : کیونکہ یہاں الا کی وجہ سے ماؔ مشبہ بلیس نہ رہا کہ اس کا عمل ہوتا۔ اور سورة یوسف میں اس کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ وَمَآ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْ ئٍ (اور رب رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی) شئی سے مراد وحی ہے۔ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَکْذِبُوْنَ (تم نرا جھوٹ بولتے ہو) یعنی تم جھوٹے ہی تو ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 15–17

تفسیر 15۔ ، قالو اماانتم الا بشرمثلناوما انزل الرحمن من شیء ان انتم الا تکذبون، یعنی تم اپنے گمان کے مطابق جھوٹے ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–19

13۔ تا 19۔ اوپر ذکر تھا کہ نصیحت انہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جو علم الٰہی میں نیک قرار پا چکے ہیں جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کے دل پر کسی نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہوتا اس قصے میں ایک شخص نیک کا اور بستی کے تمام سرکشوں کا حال بیان کر کے اوپر کی بات کی مثال سمجھائی حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک بستی میں دو رسول بھیجے جب بستی کے لوگوں نے ان دونوں رسولوں کو جھٹلایا تو تیسرے رسول کو ان دونوں کی مدد کے لیے بھیجا گیا لیکن بستی کے لوگوں نے ان تینوں رسولوں کو جھٹلایا اور تمام گمراہ قوموں کی طرح یہ کہا کہ اللہ کے رسول انسان نہیں ہوسکتے اس لیے تم تینوں جھوٹے ہو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–20

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–15

20 بشریت انبیاء منکروں کے لیے باعث انکار و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرات انبیائے کرام کی بشریت طاہرہ منکروں اور بدبختوں کی محرومی کا باعث رہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ چناچہ ان منکروں نے پیغمبروں سے ان کی بشریت طاہرہ کی بنا پر کہا کہ " تم تو ہم ہی جیسے بشر۔ اور انسان ۔ ہو "۔ تو پھر تم رسول کیونکر ہوسکتے ہو اور تمہارے اندر آخر ایسی کون سی بات ہے کہ ہم تمہیں رسول مان لیں۔ سو حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کے بارے میں یہی غلط فہمی لوگوں کو ہمیشہ رہی اور اسی کی وجہ سے وہ حق سے محروم ہوئے۔ کل بھی یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے۔ لوگوں کا کہنا اور ماننا یہ تھا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 13–21

انطاکیہ کی ایک بستی میں داعیان حق کی روئیداد تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی قوم کے پاس ہدایت کے لیے کوئی پیغمبر بھیجا گیا انہوں نے اس کو جھٹلایا سوائے چند افراد کے انہوں نے اکثر پیغمبروں کو قتل بھی کردیا۔ اسی سلسلہ میں نبی اکرم ﷺ کو کہا گیا ہے کہ آپ ان کفار کی نافرمانی سے ہرگز پریشان نہ ہوں بلکہ ان کو عبرت دلانے کے لیے اس گاؤں کا قصہ سناؤ۔ یہ عبرت ناک قصہ صرف اہل مکہ کے لیے ہی نہیں بلکہ تاقیامت تمام لوگوں کے لیے یہ سبق کا مقام ہے۔ قصہ یوں ہے کہ شام میں ایک گاؤں انطاکیہ تھا وہاں پر لوگوں کو ہدایت دینے کے لیے دو رسول بھیجے گئے بعض روایات میں ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 14–21

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 14 تا 21: اسرار و معارف : آپ ان لوگوں کو اس شہر کے باسیوں کی مثال دیجیے جن کے پاس اسی طرح انبیاء آئے تھے جیسے آپ ان کے پاس تشریف لائے ہیں بلکہ ہم نے وہاں بیک وقت دو نبی مبعوث فرمائے کہ انہیں بات خوب طرح سے سمجھائیں شاید ایک حکمت یہ بھی ہو دین حق میں جب لوگوں کو اپنے اوہام باطلہ اور خواہشات نفس کی مخالفت نظر آئے تو اکثر غور و فکر کی بجائے مخالفت کرتے ہیں اور داعی یا مبلغ کو پاگل اور دیوانہ قرار دیتے ہیں مگر کوئی دو پاگل بھی ایک بات پہ متحد نہیں ہوسکتے اور نہ یہ ممکن ہے کہ ان کا سارا کردار تو انتہائی پاکیزہ ہو اور عقیدہ کے معاملے میں دونوں پاگل ہوں۔ لوگوں نے ان کی بات ماننے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 14–18

ف 3 یہ بھی اسی قسم کی بات ہے جو کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ سے کہی ( سورة نساء : 77) اور جو قوم ثمود نے حضرت صالح ( علیہ السلام) سے کہی ( نمل : 47) اور جو فرعون کی قوم والے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ (اعراف : 3)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:15) قالوا۔ یعنی بستی والوں نے کہا۔ ان انتم میں ان نافیہ ہے۔ تکذبون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم جھوٹ بولتے ہو۔ کذب مصدر (باب ضرب) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–32

لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے) تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–32

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔ ( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–17

[7] یعنی نیک و بداعمال جو آگے بھیج چکے۔ [8] یعنی وہ اعمال جن کے اچھے یا برے اثرات یا نشان پیچھے چھوڑے۔ [9] یعنی لوح محفوظ میں۔ اصل میں لفظ '' امام '' استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی پیشوا اور شارع عام کے ہیں اور لوح محفوظ پر دونوں باتیں صادق آتی ہیں کہ تمام واقعات گزشتہ اور آئندہ اسی کے مطابق ہوئے اور ہوں گے۔ گویا تمام دنیا ومافیہا اسی پر چل رہی ہے۔ اور اس کو واضح اس لئے فرمایا کہ اس میں تمام باتیں وضاحت سے لکھی ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–19

ف 2: قرآن حکیم نے جن واقعات کی تفصیل بیان فرمائی ہے ۔ اور کتب احادیث میں بھی انکا کوئی مذکور نہیں ہے ۔ ان کو اسی رنگ میں سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔ جس رنگ میں کہ قرآن نے بیان کیا ہے ۔ کیونکہ اگر تفصیلات کا ذکر کرنا نفس ابتداء کے لئے ضروری ہوتا ۔ تو وہ ضرور ظاہر کردی جاتیں ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے ایک قوم کا ذکر کیا ہے ؟ وہ کون لوگ تھے ؟ کس زمانے میں ہوئے یہ جاننا ضروری نہیں ہے ۔ بس یہ جان لیجئے ۔ کہ ایک قوم تھی ۔ ان کے پاس اللہ کے دو رسول آئے ۔ مگر انہوں نے ان کے پیغام کو ٹھکرا دیا ۔ پھر اللہ نے تیسرے رسول کو بھیجا ۔ اور ان تینوں نے مل کر کام کیا اور کہا ۔ کہ ہم کی طرف سے تمہارے پاس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(15) گائوں کے اصحاب نے جواب دیا تم نہیں ہو مگر ہم ہی جیسے آدمی ہو اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم نہیں ہو مگر محض دروغ گو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے تینوں پیغمبروں کی تکذیب کی اور کہا تم تو محض ہماری طرح معمولی آدمی ہو تم میں کوئی امتیاز نہیں ہے اور تمہاری خصوصیت کیا ہے خدائے رحمان نے تو کبھی کوئی چیز یعنی کتاب اور احکام وغیرہ نازل ہی نہیں کئے تم نہیں ہو مگر دروغ گو یعنی جھوٹ بولتے ہو۔ تم خدا تعالیٰ کے فرستادہ نہیں ہو بلکہ نرے جھوٹے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–16

ف 7۔ اوپر مسئلہ رسالت مع تسلیہ مذکور تھا، آگے رسالت کی تائید اور مکذبین کی تہدید کے لئے ایک قصہ مذکور ہے جو مکذبین رسالت کی تشنیع و تقریع پر ختم کیا گیا ہے جس سے مضمون مترتب سزا کی بھی تائید ہوگئی، جو اوپر مذکور تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انہوں نے کہا کہ تم تو تمہاری طرح کے بشر ہو اور بشر رسول کیسے ہو سکتا ہے ؟ : 15۔ اس بستی کے مستغرقن کو ان پر یہ بھی اعتراض تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس مخلوق کے ہادی و راہنما کیسے بنا دیئے گئے حالانکہ وہ سامنے نظر آرہے ہیں کہ اسی طرح کے وہ انسان ہیں جس طرح کے انسان ہم ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت دینے کے لئے اگر کسی کو آنا ہی تھا تو اس کے پاس فرشتوں کی کیا کمی تھی کہ وہ کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیج دیتا ہم تو یہی کہیں گے کہ ہو نہ ہو یہ تمہاری ہی گھڑی ہوئی بات ہے اور ان کا یہ اعتراض بالکل وہی اعتراض ہے جو ان سے پہلی قومیں پیش کرچکی تھیں اور ہم اس کی وضاحت عروۃ الوثقی جلد چہارم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–17

In the next sentence of verse 13: إِذْ أَرْ‌سَلْنَا إِلَيْهِمُ اثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوا إِنَّا إِلَيْكُم مُّرْ‌سَلُونَ (when the messengers came to it... - 13). The text has briefly mentioned the coming of messengers to the town. The number of the messengers sent has been identified in verse 14:إِذْ جَاءَهَا إِنَّا إِلَيْكُم مُّرْ‌سَلُونَ (when We sent to them two (apostles), and they rejected them both, so We supported them with a third one. So they said, "We are sent to you" ) This shows that three messengers were sent to the said town. First came two, the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

11 In other words, what they wanted to say was: `Since you are human beings, you cannot be the messengers of God. " The same was the view of the disbelievers of Makkah. They also said; "Muhammad (upon whom be Allah's peace) cannot be a messenger because he is a man" "They say: what sort of a Messenger is he that he eats food and moves about in the streets." (AI-Furqan: 7). "And the unjust people whisper to one another, saying, 'This man is no more than a human being like yourselves. What! will you then be enticed by this sorcery while you perceive it ?" (Al-Anbiya': 3). The Qur'an refutes…

Read the full tafseer →