Explained with ayahs 13–17
ایک قصہ پارینہ۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرما رہا ہے کہ آپ اپنی قوم کے ساتھ ان سابقہ لوگوں کا قصہ بیان فرمایئے جنہوں نے ان سے پہلے اپنے رسولوں کو ان کی طرح جھٹلایا تھا۔ یہ واقعہ شہر انطاکیہ کا ہے۔ وہاں کے بادشاہ کا نام انطیخش تھا اس کے باپ اور دادا کا نام بھی یہی تھا یہ سب راجہ پر جابت پرست تھے۔ ان کے پاس اللہ کے تین رسول آئے۔ صادق، صدوق اور شلوم۔ اللہ کے درود وسلام ان پر نازل ہوں۔ لیکن ان بدنصیبوں نے سب کو جھٹلایا۔ عنقریب یہ بیان بھی آ رہا ہے کہ بعض بزرگوں نے اسے نہیں مانا کہ یہ واقعہ انطاکیہ کا ہو، پہلے تو اس کے پاس دو رسول آئے انہوں نے انہیں نہیں مانا ان دو کی تائید میں پھر تیسرے نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
سورة یٰسٓ 10
قدیم مفسرین بالعموم اس طرف گئے ہیں کہ اس بستی سے مراد شام کا شہر انطاکیہ ہے اور جن رسولوں کا ذکر یہاں کیا گیا ہے انہیں حضرت عیسیٰ ؑ نے تبلیغ کے لیے بھیجا تھا۔ اس سلسلے میں قصے کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ اس زمانہ میں انطیخش اس علاقے کا بادشاہ تھا لیکن یہ سارا قصہ ابن عباس، قتادہ، عِکرِمہ، کَعب اَحْبار اور وہب بن مُنَبِہ وغیرہ بزرگوں نے عیسائیوں کی غیر مستند روایات سے اخذ کیا ہے اور تاریخی حیثیت سے بالکل بےبنیاد ہے۔ انطاکیہ میں سلوتی خاندان (Saleu cid dynasty) کے 13 بادشاہ انتیوکس (Antiochus) کے نام سے گزرے ہیں اور اس نام کے آخری فرمانروا کی حکومت،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
(آیت) اذ جاءھا المرسلون۔ اذ ارسلنا الیہم اثنین فکذبوھہما فعززنا بثالث فقالوا انا الیکم مرسلون۔ مذکورہ بستی میں تین رسول بھیجے گئے تھے، پہلے ان کا بیان اجمالی اذجاء انا الیکم مرسلون میں فرمایا۔ اس کے بعد اس کی یہ تفصیل دی گئی کہ پہلے دو رسول بھیجے گئے تھے، بستی والوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کی بات نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تائید وتقویت کے لئے ایک تیسرا رسول بھیج دیا۔ پھر ان تینوں رسولوں نے بستی والوں کو خطاب کیا انا الیکم مرسلون، یعنی ہم تمہاری ہدایت کے لئے بھیجے گئے ہیں۔
اس بستی میں جو رسول بھیجے گئے ان سے کیا مراد ہے اور وہ کون حضرات تھے
لفظ رسول اور مرسل قرآن کریم میں عام طور پر اللہ…
Read the full tafseer →اذارسلنا الیھم اچنین فکذبو ھما افحززنا بثالث فقالوانا الیکم مرسلون (14)
یہ ’ ازجاء ھا المرسلون ‘ کے اجمال کی وضاحت ہو رہی ہے کہ پہلے ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے تو، انہوں نے ان کو جھٹلا دیا۔ پھر ہم نے ایک تیسرے بندے سے ان دونوں رسولوں کو کمک پہنچائی اور انہوں نے ان کو دعوت دی کہ ہم تمہارے پاس خدا کے بھیجئے ہوئے آئے ہیں تو تم لوگ ہماری بات سنو اور مانو۔
’ اثنین ‘ سے مراد تو ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ و حضرت ہارون علیما السلام ہیں۔ رسولوں کی تاریخ میں یہی ایک مثال ملتی ہے کہ کسی قوم کی طرف بیک وقت دو رسول اللہ تعالیٰ نے بھیجئے۔ اس اہتمام خاص کے وجوہ کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
14۔ 1 یہ تین رسول کون تھے ؟ مفسرین نے ان کے مختلف نام بیان کئے ہیں، لیکن نام مستند ذریعے سے ثابت نہیں ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بھیجے ہوئے تھے، جو انہوں نے اللہ کے حکم سے ایک بستی میں تبلیغ و دعوت کے لئے بھیجے تھے۔ بستی کا نام انطاکیہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
5: قرآن کریم نے نہ اس بستی کا نام ذکر فرمایا ہے، اور نہ ان رسولوں کا جو اس بستی میں بھیجے گئے تھے، بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ بستی شام کا مشہور شہر انطاکیہ تھی ؛ لیکن نہ تو یہ روایتیں مضبوط ہیں اور نہ تاریخی قرائن سے اس کی تصدیق ہوتی ہے، دوسری طرف رسول کا لفظ عربی زبان میں ہراس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی کا پیغام لے کر دوسرے کے پاس جائے ؛ لیکن قرآن کریم میں زیادہ تر یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کے لئے استعمال ہوا ہے، اس لئے ظاہر یہی ہے کہ یہ حضرات انبیاء کرام تھے، اور بعض روایات میں ان کے نام بھی صادق، صدوق اور شلوم یا شمعون بتائے گئے ہیں ؛ لیکن یہ روایات بھی زیادہ مضبوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
وحی و رسالت کے مسئلے کے اس تاکیدی بیان اور قضیہ حساب و کتاب کے اس اٹل اعلان کے بعد ، اب اسی مضمون کو قصے کی صورت میں لایا جاتا ہے۔ اس قصے میں ایمان اور کفر کے جو دو باہم متقابل موقف سامنے آتے ہیں وہ نفس انسانی پر نہایت گہرے اثرات چھوڑتے ہیں اور دونوں مواقف کا انجام بھی آنکھوں کے سامنے منقش نظر آتا ہے۔
واضرب لھم مثلا ۔۔۔۔۔۔۔ بل انتم قوم مسرفون (13 – 19) ” “۔
رسولوں نے کہا ” ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم ضرور تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں ، اور ہم پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے “۔ بستی والے کہنے لگے ” ہم تو تمہیں اپنے لیے فال بد سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم…
Read the full tafseer →7 یعنی اول دو گئے پھر ان کی تائید کے لیے تیسرا بھیجا گیا تینوں نے مل کر کہا ہم خود نہیں آئے، اللہ کے بھیجے ہوئے آئے ہیں۔ لہذا جو کچھ ہم کہیں اسی کا پیغام سمجھو۔
Read the full tafseer →آیت 14 { اِذْ اَرْسَلْنَآ اِلَیْہِمُ اثْنَیْنِ } ”جب ہم نے بھیجے ان کی طرف دو رسول“
اس بارے میں مفسرین کی عام رائے یہ ہے کہ وہ دو حضرات ”رسول من جانب اللہ“ نہیں تھے بلکہ کسی ”رسول کے رسول“ تھے۔ یعنی ممکن ہے کہ اللہ کی طرف سے وقت کے رسول کسی دوسرے مقام پر موجود ہوں اور انہوں نے اپنے دو شاگردوں کو کسی خاص بستی کی طرف دعوت کے لیے بھیجا ہو۔ اس بارے میں غالب رائے یہ ہے کہ وہ حضرات حضرت مسیح علیہ السلام کے حواری تھے جو آپ علیہ السلام کے حکم سے ترکی اور شام کی سرحد پر واقع شہر انطاکیہ میں تبلیغ کے لیے آئے تھے۔
”رسول کے رسول“ کی اصطلاح ہمیں احادیث میں بھی ملتی ہے۔ مثلاً حضور اکرم ﷺ نے ُ حدیبیہ کے…
Read the full tafseer →16 قریش بھی رسول اللہ کو یہی کچھ کہتے تھے کہ تم بھی ہمارے ہی جیسے بشر ہو آخر تم میں ہم سے بڑھ کر وہ کون سی خوبی ہے جو اللہ نے تمہیں ہی نبوت کے لئے منتخب کیا اور یہ ایسا اعتراض ہے جو ہر نبی کے منکر اپنے اپنے نبی کے متعلق کرتے آئے تھے۔ گویا نبوت کے متعلق جاہلی تصور یہ ہے کہ جو بشر ہو وہ رسول نہیں ہوسکتا اور اس کے عین برعکس دوسرا جاہلی تصور یہ ہے کہ جو رسول ہو وہ بشر نہیں ہوسکتا۔ حالانکہ قرآن سب انبیاء کو بشر بھی ثابت کرتا ہے اور رسول بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
10۔ منکروں نے جواب میں کہا کہ تمہاری شخصی صداقت کا زیر بحث ہونا الگ رہا۔ ہم نفس مسئلہ رسالت ونبوت ہی کے قائل نہیں۔ نہ اوتار، نہ مظہر خدا، نہ دیوتاؤں کی اولاد، بلکہ محض انسان، اور وہ ” پیغمبر “ ہوجائے یہ ہماری سمجھ میں تو آتا نہیں۔ (آیت) ” ماانتم الا بشر مثلنا “۔ جاہل قوموں کو پیغمبروں کی دعوت قبول کرنے میں سب سے بڑی ٹھوکریہی لگتی ہے کہ یہ ہماری ہی جیسی بشریت کے ساتھ ساتھ پیغمبری کا دعوی کیسا، یہ سارے فقرے ذہن کو اسی طرف لیے جاتے ہیں کہ یہ لوگ براہ راست اللہ ہی کے رسول تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
آیت نمبر 13 تا 32
ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…
Read the full tafseer →اذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالث فقالوا انا الیکم مرسلون جب ہم نے ان کے
پاس دو (رسولوں) کو بھیجا ‘ ان لوگوں نے دونوں (رسولوں) کو جھوٹا قرار دیا تو ہم نے تیسرے (رسول) سے (ان دونوں کی) تائید کی ‘ سو تینوں نے کہا : ہم کو تمہارے پاس (ہدایت کیلئے) بھیجا گیا ہے۔
وہب نے کہا : پہلے دونوں قاصدوں کے نام یحییٰ اور یونس تھے ‘ تیسرے قاصد کا نام شمعون تھا۔ کذا اخرج ابن المنذور عن سعید بن جبیر۔ اگر کلام کی کوئی خاص غرض ہو تو کلام کی رفتار اسی مقصد کیلئے ہوتی ہے ‘ دوسری چیز کا ذکر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہاں اس لطیف تدبیر کا اظہار مقصود ہے جس کی وجہ سے حق غالب اور باطل نابود ہوگیا ‘ اس لئے عَزَّزْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(13۔ 14) اور آپ ان مکہ والوں سے انطاکیہ والوں کا ایک واقعہ بیان کردیجیئے کہ ہم نے ان کو کس طرح ہلاک کیا جبکہ ان کے پاس حضرت عیسیٰ کے بھیجے ہوئے رسول شمعون الصفار آئے ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا اور ان پر ایمان نہیں لائے اور اس سے پہلے ہم نے ان کے پاس دو رسولوں یعنی سمعان اور ثومان کو بھیجا تو اس بستی والوں نے ان دونوں جو جھٹلایا تو پھر ہم نے ان کے پاس شمعون کو بھیجا کہ انہوں نے پہلے دونوں رسولوں کی تبلیغ رسالت کی تصدیق کی۔
Read the full tafseer →اِذْ اَرْسَلْنَآ اِلَيْهِمُ اثْــنَيْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا : یعنی ہم نے ان لوگوں کی طرف دو رسول بھیجے تو انھوں نے دونوں کو جھٹلا دیا، تو ہم نے انھیں تیسرے پیغمبر کے ساتھ قوت دی، تو ان سب نے حرف تاکید ”إِنَّ“ کے ساتھ انھیں کہا کہ یقیناً ہم تمہاری طرف بھیجے ہوئے ہیں۔
مفسر عبد الرحمن کیلانی ؓ لکھتے ہیں : ”یہ بستی کون سی تھی ؟ اس کے متعلق قرآن و حدیث میں کوئی صراحت نہیں۔ (بعض) مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد روم میں واقع شہر انطاکیہ ہے۔ پھر اس بات میں بھی اختلاف ہے کہ یہ رسول بلاواسطہ رسول تھے یا بالواسطہ رسول یا مبلغ تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ مبلغ سیدنا عیسیٰ ؑ ہی نے بھیجے تھے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ ﷺ اپنی قوم کے سامنے اصحب قریہ کا واقعہ بیان کریں (1) ۔ ماوردی نے بیان کیا ہے کہ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس بستی سے مراونطاکیہ ہے یہ اہل انطبیس کی طرف منسوب ہے یہ اس آدمی کا نام ہے جس نے اس کے بارے میں ایک لفظ یہ بی ہے ان تاکیہ یعنی طاء کی جگہ تاء وہاں ایک بادشاہ تھا جسے انطیخس بن انطنیحس کہا جاتا ہے ‘ وہ بتوں کی پوجا کیا کرتا تھا ‘ مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ ابو جعفر نے اسے کعب اور وہب سے نقل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف تین رسولوں کو بھیجا وہ حضرت صادق ‘ حضرت مصدوق اور حضرت شمعون تھے شمعون ہی تیسرا تھا ‘ یہ طبری کا قول ہے۔ دوسرے علماء نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
5:۔ ابن سعد وابن عساکر نے الکلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ایک ہزار اور نوسو سال کا عرصہ تھا ان دونوں کے درمیان بنی اسرائیل کے لئے ایک ہزار نبیوں کا بھیجا گیا پھر دوسری قوم سے رسول بھیجا گیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی کریم ﷺ کے درمیان پانچ سو انہتر سال کا عرصہ ہے اس کے اول میں تین انبیاء بھیجے گئے اسی کو فرمایا (آیت) ” اذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالث “ (جب ہم نے ان کی طرف دو کو بھیجا انہوں نے ان کو جھٹلادیا پھر ہم نے تیسرے کے ساتھ مدد کی اور جس نے ان کی مدد کی وہ شمعون تھے اور…
Read the full tafseer →اِذْ اَرْسَلْنَآ [جب ہم نے بھیجا ] اِلَيْهِمُ [ان کی طرف ] اثْــنَيْنِ [دو (رسولوں) کو ] فَكَذَّبُوْهُمَا [توانھوں نے جھٹلایا دونوں کو ] فَعَزَّزْنَا [تو ہم نے (ان کو) یقویت دی ] بِثَالِثٍ [ایک تیسرے (رسول) سے ] فَقَالُـوْٓا [تو انھوں نے کہا ] اِنَّآ اِلَيْكُمْ [کہ ہم تمہاری طرف ] مُّرْسَلُوْنَ [بھیجے ہوئے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
مذکورہ بستی کے باشندوں میں سے ایک شخص کا پیامبروں کی تصدیق کرنا اور بستی والوں کو توحید کی تلقین کرنا
تینوں حضرات بستی والوں کو ہدایات دے رہے تھے اور وہ لوگ ان حضرات سے الجھ رہے تھے اور یوں کہہ رہے تھے کہ تمہارا آنا ہمارے لیے نحوست کا سبب ہے، یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک شخص اس بستی کی ایک جانب سے جو بہت دور تھی دوڑتا ہوا وہاں پہنچ گیا اس نے تینوں حضرات کی تائید کی اور بستی والوں سے کہا کہ اے میری قوم یہ حضرات ٹھیک فرما رہے ہیں، یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں تم ان کی بات مان لو اور ان کا اتباع کرو، یہ حضرات ایک تو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں دوسرے تم سے کسی معاوضہ کا سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
قصہ اصحاب القریہ برائے عبرت ونصیحت مکذبین رسالت
قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وہم مھتدون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں معاندین اور مکذبین رسالت کا ذکر تھا اب آگے ان کی تہدید اور عبرت کے لئے ایک آبادی کا قصہ بیان کرتے ہیں تاکہ مشرکین مکہ کو معلوم ہوجائے کہ مستکبرین اور منکرین نبوت کا کیا انجام ہوتا ہے اور ایسوں کو ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے اس قصہ کے ذکر کرنے سے مسئلہ نبوت و رسالت کی تائید اور تکذیب کرنے والوں کی تہدید مقصود ہے تاکہ مکذبین رسالت اس سے عبرت پکڑیں۔ اور جان لیں کہ ذکر اور نصیحت سے اعراض کا کیا انجام ہوتا ہے۔
جمہور مفسرین یہ کہتے ہیں کہ اس قصہ میں جس قریہ کا ذکر ہے…
Read the full tafseer →10:۔ اذ ارسلنا الخ : پہلے ہم نے ان کے پاس دو پیغمبر بھیجے۔ بستی والوں نے ان کو جھٹلا دیا۔ تو ہم نے ان کی تائید اور تقویت کے لیے مزید ایک پیغمبر بھیجدیا۔ تب تینوں نے ان سے کہا ہم اللہ کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے پاس بھیجا۔ قالو ما انتم الخ، بستی والوں نے جواب میں کہا تم تو ہماری طرح بشر ہو اور بشر پیغمبر نہیں ہوسکتا اس لیے تم نہ پیغمبر ہو نہ اللہ نے تم پر وحی نازل کی ہے اور تم دعوی رسالت میں جھوٹے ہو۔ مشرکین ہمیشہ اس دھوکے میں رہے ہیں کہ پیغمبر فرشتہ ہونا چاہئے نہ کہ بشر وانما الرسول ملک وھذا شبہۃ اکثر الکفرۃ ان الرسول لا بد ان یکون ملکا (جامع ص 378) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
ربط آیات
سورۃ کی ابتداء میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا بیان ہوا ، پھر رسالت کا ذکر ہوا۔ اللہ نے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ اکثر لوگ حجاب طبع یا حجاب رسم میں مبتلا رہ کر ہی زندگی ختم کرلیتے ہیں اور عمر بھر نہ تو وہ ایمان کے معاملے میں غور و فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اسے قبول کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ مردوں کو زندہ کرنا ہمارا کام ہے ، ہم مقررہ وقت پر انہیں دوبارہ زندہ کریں گے ، ان کے تمام اعمال اور ان کی ہر ہر نقل و حرکت ہمارے پاس لکھی ہوئی ہے جو انہیں نئی زندگی ملنے پر پیش کردی جائے گی اور پھر اس اعمالنامے کی بنیاد پر ان سے حساب کتاب لیا جائے گا اور جزا اور سزا کے فیصلے ہوں…
Read the full tafseer →اِذْ اَرْسَلْنَآ اِلَيْہِمُ اثْــنَيْنِ فَكَذَّبُوْہُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُـوْٓا اِنَّآ اِلَيْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ 14
ثنی( مثني)
الثَّنْي والاثنان أصل لمتصرفات هذه الکلمة، ويقال ذلک باعتبار العدد، أو باعتبار التکرير الموجود فيه أو باعتبارهما معا، قال اللہ تعالی: ثانِيَ اثْنَيْنِ [ التوبة/ 40] ، اثْنَتا عَشْرَةَ عَيْناً [ البقرة/ 60] ، وقال : مَثْنى وَثُلاثَ وَرُباعَ [ النساء/ 3] فيقال : ثَنَّيْتُهُ تَثْنِيَة : كنت له ثانیا، أو أخذت نصف ماله، أو ضممت إليه ما صار به اثنین . والثِّنَى: ما يعاد مرتین، قال عليه السلام :«لا ثِنى في الصّدقة» أي : لا تؤخذ في السنة مرتین . قال الشاعر :
لقد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–25
ترکیب : اصحٰب القریۃ معناہ واضرب لہم مثلا مثل اصحاب القریۃ فترک المثل و اقیم الاصحاب مقامہ فی الاعراب کقولہ و اسئل القریۃ کشاف وقیل المعنی اجعل اصحاب القریۃ لھم مثلاً علی ان یکون مثلا و اصحٰب القریۃ مفعولین لاضرب او یکون اصحاب القریۃ بدلا من مثلا فعلی ھذا اضرب بمعنی مثل وھو یتعدی الی مفعولین لتضمنہ معنی الجعل و ھما مثلا اصحٰب القریۃ علی حذف مضاف اذ جاء بدل من اصحٰب القریۃ بدل الاشتمال اَئِنْ ذکرتم شرط و جو ابہ محذوف مثل تطیرتم لما جمیع قریٔ مشدد او مخففا قال الفراء من شدو جعل لما بمعنی الاوان بمعنی ما۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا۔ انک لمن المرسلین اور اس کے بعد یہ بھی فرمایا تھا کہ ازلی گمراہ…
Read the full tafseer →اِذْ اَرْسَلْنَـآ اِلَیْہِمُ اثْنَیْنِ فَکَذَّبُوْھُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْٓا اِنَّـآ اِلَیْکُمْ مُّرْسَلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 14)
(جبکہ ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے تو انھوں نے دونوں کو جھٹلا دیا، پھر ہم نے تیسرے سے ان کو تقویت دی تو انھوں نے لوگوں سے کہا کہ ہم تمہاری طرف رسول کی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں۔ )
تین رسولوں سے مراد ؟
انبیائے کرام کی تاریخ سے کسی قوم کی ہدایت کے لیے ایک سے زیادہ نبیوں کی بعثت غیرمعمولی واقعہ ہے۔ جس کی معروف مثال حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ہیں۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں پہلے دو رسولوں کا کسی بستی میں جانا اور پھر تیسرے رسول کا ان کی تقویت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
فہم القرآن
ربط کلام : تین انبیائے کرام (علیہ السلام) کو قوم کی دھمکی اور الزام۔
بدبخت لوگوں کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرنے کی بجائے انبیائے کرام اور مصلح حضرات کو طعن وتشنیع اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہی کچھ اس شہر کے لوگوں نے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ کیا۔ قوم انبیائے کرام (علیہ السلام) کو کہنے لگی کہ جب سے تم ہمارے شہر میں آئے ہو اس وقت سے لے کر ہم مسائل اور مصائب کا شکار ہوئے جارہے ہیں۔ اگر تم اپنے کام سے باز نہ آئے تو ہم ہر صورت تمہیں سنگسار کرڈالیں گے اور تمہیں اذیت ناک سزا دیں گے۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) نے جواباً فرمایا کہ جن مسائل اور مصائب سے تم دوچار ہو یہ…
Read the full tafseer →حبیب نجار کا واقعہ :
14: اِذْ (جبکہ) : یہ اذؔ پہلے اذؔ کا بدل ہے۔ اَرْسَلْنَآ اِلَیْھِمُ (ہم نے ان کے پاس بھیجا) عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہمارے حکم سے ان کی طرف بھیجا۔ اثْنَیْنِ (دو ) صادق اور صدوق کو۔ جب دونوں شہر کے قریب پہنچے۔ تو انہوں نے ایک بوڑھے مرد کو اپنی چند بکریاں چراتے ہوئے پایا۔ یہ بوڑھا وہی حبیب النجار تھا۔ اس بوڑھے نے ان سے ان کے احوال دریافت کئے تو دونوں نے کہا ہم عیسیٰ (علیہ السلام) کے نمائندے ہیں۔ ہم تمہیں عبادت اوثان سے عبادت رحمان کی طرف بلاتے ہیں۔ اس نے سوال کیا کہ تمہارے پاس کوئی صداقت کا نشان ہے انہوں نے کہا ہم مریض کو شفا اور مادرزاد اندھے کو بینا اور مبروص کو درست کرتے…
Read the full tafseer →14۔ اذارسلنا الیھم اثنین، وھب فرماتے ہیں کہ ان دونوں کا نام یوحنا اور بولیس ہے۔ ، فکذبوھما فعززنا، اس کا معنی ہے ہم نے ان کو قوت بخشی ۔ ، بثالث، تیسرے قاصد کے ساتھ جس کا نام شمعون تھا ۔ ابو بکر، عاصم کی روایت کے مطابق ، فعززنا، تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہی معنی اول ہے تخفیف اور تشدید کے ساتھ دونوں طرح پڑھا جاتا ہے۔ بعض نے کہا کہ ہم ان کو بادشاہ پر غلبہ دیں گے ۔ کعب فرماتے ہیں کہ پہلے قاصدصادق ومصدوق تھے اور تیسرے قاصد شلوم تھے ۔ قاصدوں کو بھیجنے کی نسبت اللہ نے اپنی طرف کی کیوں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو اللہ ہی کے حکم سے بھیجا تھا۔
(فقالوا) انطاکیہ والوں کو کہنے لگے (انا الیکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
13۔ تا 19۔ اوپر ذکر تھا کہ نصیحت انہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جو علم الٰہی میں نیک قرار پا چکے ہیں جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کے دل پر کسی نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہوتا اس قصے میں ایک شخص نیک کا اور بستی کے تمام سرکشوں کا حال بیان کر کے اوپر کی بات کی مثال سمجھائی حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک بستی میں دو رسول بھیجے جب بستی کے لوگوں نے ان دونوں رسولوں کو جھٹلایا تو تیسرے رسول کو ان دونوں کی مدد کے لیے بھیجا گیا لیکن بستی کے لوگوں نے ان تینوں رسولوں کو جھٹلایا اور تمام گمراہ قوموں کی طرح یہ کہا کہ اللہ کے رسول انسان نہیں ہوسکتے اس لیے تم تینوں جھوٹے ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
آیت 1
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
20 بشریت انبیاء منکروں کے لیے باعث انکار و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرات انبیائے کرام کی بشریت طاہرہ منکروں اور بدبختوں کی محرومی کا باعث رہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ چناچہ ان منکروں نے پیغمبروں سے ان کی بشریت طاہرہ کی بنا پر کہا کہ " تم تو ہم ہی جیسے بشر۔ اور انسان ۔ ہو "۔ تو پھر تم رسول کیونکر ہوسکتے ہو اور تمہارے اندر آخر ایسی کون سی بات ہے کہ ہم تمہیں رسول مان لیں۔ سو حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کے بارے میں یہی غلط فہمی لوگوں کو ہمیشہ رہی اور اسی کی وجہ سے وہ حق سے محروم ہوئے۔ کل بھی یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے۔ لوگوں کا کہنا اور ماننا یہ تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
انطاکیہ کی ایک بستی میں داعیان حق کی روئیداد
تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی قوم کے پاس ہدایت کے لیے کوئی پیغمبر بھیجا گیا انہوں نے اس کو جھٹلایا سوائے چند افراد کے انہوں نے اکثر پیغمبروں کو قتل بھی کردیا۔ اسی سلسلہ میں نبی اکرم ﷺ کو کہا گیا ہے کہ آپ ان کفار کی نافرمانی سے ہرگز پریشان نہ ہوں بلکہ ان کو عبرت دلانے کے لیے اس گاؤں کا قصہ سناؤ۔ یہ عبرت ناک قصہ صرف اہل مکہ کے لیے ہی نہیں بلکہ تاقیامت تمام لوگوں کے لیے یہ سبق کا مقام ہے۔
قصہ یوں ہے کہ شام میں ایک گاؤں انطاکیہ تھا وہاں پر لوگوں کو ہدایت دینے کے لیے دو رسول بھیجے گئے بعض روایات میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–21
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 14 تا 21:
اسرار و معارف :
آپ ان لوگوں کو اس شہر کے باسیوں کی مثال دیجیے جن کے پاس اسی طرح انبیاء آئے تھے جیسے آپ ان کے پاس تشریف لائے ہیں بلکہ ہم نے وہاں بیک وقت دو نبی مبعوث فرمائے کہ انہیں بات خوب طرح سے سمجھائیں شاید ایک حکمت یہ بھی ہو دین حق میں جب لوگوں کو اپنے اوہام باطلہ اور خواہشات نفس کی مخالفت نظر آئے تو اکثر غور و فکر کی بجائے مخالفت کرتے ہیں اور داعی یا مبلغ کو پاگل اور دیوانہ قرار دیتے ہیں مگر کوئی دو پاگل بھی ایک بات پہ متحد نہیں ہوسکتے اور نہ یہ ممکن ہے کہ ان کا سارا کردار تو انتہائی پاکیزہ ہو اور عقیدہ کے معاملے میں دونوں پاگل ہوں۔ لوگوں نے ان کی بات ماننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ف 3 یہ بھی اسی قسم کی بات ہے جو کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ سے کہی ( سورة نساء : 77) اور جو قوم ثمود نے حضرت صالح ( علیہ السلام) سے کہی ( نمل : 47) اور جو فرعون کی قوم والے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ (اعراف : 3)
Read the full tafseer →(36:14) فکذبوھما۔ فاء تعقیب کا ہے۔ کذبوا ماضی جمع مذکر غائب تکذیب (تفعیل) مصدر ھما ضمیر تثنیہ مذکر غائب، ضمیر کا مرجع اثنین ہے تو انہوں نے ان دونوں کی تکذیب کی ان کو جھٹلایا۔
فعززنا۔ ماضی جمع متکلم تعزیز (تفعیل) مصدر۔ ہم نے قوت دی۔ ہم نے مضبوط کیا۔ عززنا کے بعد مفعول محذوف ہے ای فعززنا ھما۔ ہم نے ان دوں کو تقویت دی۔ (ایک تیسرے رسول کے بھیجنے سے) ۔
فقالوا۔ میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب تینوں رسولوں کی طرف راجع ہے ۔ پس ان تینوں رسولوں نے کہا۔ انا الیکم مرسلون۔ بیشک ہم تمہاری بھیجے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے)
تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔
( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
[7] یعنی نیک و بداعمال جو آگے بھیج چکے۔
[8] یعنی وہ اعمال جن کے اچھے یا برے اثرات یا نشان پیچھے چھوڑے۔
[9] یعنی لوح محفوظ میں۔ اصل میں لفظ '' امام '' استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی پیشوا اور شارع عام کے ہیں اور لوح
محفوظ پر دونوں باتیں صادق آتی ہیں کہ تمام واقعات گزشتہ اور آئندہ اسی کے مطابق ہوئے اور ہوں گے۔ گویا تمام دنیا ومافیہا اسی پر چل رہی ہے۔ اور اس کو واضح اس لئے فرمایا کہ اس میں تمام باتیں وضاحت سے لکھی ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
ضبط اعمال کا نظریہ
1: ضبط اعمال کا نظریہ قرآن حکیم نے پیش فرمایا ہے ۔ اور یہ نظریہ ان محترعات علمی سے ہے جن کو آج پیش کیا جارہا ہے ۔ جہاں تک گفتگو کا تعلق تھا ۔ اب یہ مشاہدہ ہے ۔ کہ ہر لفظ جو زبان سے نکلتا ہے ۔ پتھر کے تموجات اس کو فضا میں پھیلا دیتے ہیں ۔ اور وہ گم نہیں ہوتا ۔ اور اگر کہیں ایسے آلات نصب ہوں ۔ جو ان تموجات کو اپنی گرفت میں لے سکیں ۔ تو فضا میں منتشر اقوال صاف سنائی دینے لگتے ہیں ۔ چاہے متکلم اور سامع میں ہزاروں کوس کا فاصلہ ہوا ۔ اس طرح یہ بھی صحیح ہے ۔ کہ نفس اعمال کے الزات بھی ضائع نہیں جاتے ۔ فضا میں ایسے برقی ذرات ہیں (الیکڑان) جو ان کو زندہ جاوید بنا دیتے ہیں ۔ مگر ابھی…
Read the full tafseer →(14) جبکہ ہم نے پہلے ان گائوں والوں کی طرف دو پیغمبروں کو بھیجا تو ان گائوں والوں نے ان دونوں پیغمبروں کی تکذیب کی اور ان کو جھٹلا دیا پھر ہم نے تیسرے پیغمبر سے ان دونوں کو تقویت دی اور ان دونوں کی تائید کی پھر ان تینوں پیغمبروں نے ان گائوں والوں سے کہا کہ ہم تمہاری طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک یہ دونوں پیغمبر صادق اور صدوق تھے اور یہ دونوں حضرات عیسیٰ (علیہ السلام) کے وصی تھے جن کو انطاکیہ والوں کے پاس بھیجا تھا چونکہ یہ انطاکیہ والے بت پرست تھے۔ اس لئے ان کی اصلاح کے لئے بھیجا تھا۔ پھر جب ان دونوں صادق و صدوق کی گائوں والوں نے تکذیب کی تو پھر تیسرے صاحب جن کا نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ف 7۔ اوپر مسئلہ رسالت مع تسلیہ مذکور تھا، آگے رسالت کی تائید اور مکذبین کی تہدید کے لئے ایک قصہ مذکور ہے جو مکذبین رسالت کی تشنیع و تقریع پر ختم کیا گیا ہے جس سے مضمون مترتب سزا کی بھی تائید ہوگئی، جو اوپر مذکور تھا۔
Read the full tafseer →دو رسولوں کو ہم نے پہلے بھیجا اور پھر تیسرے نے ان کی مدد کی :
14۔ قرآن کریم نے اس واقعہ کے متعلق صرف اس قدر بتایا ہے کہ گزشتہ زمانہ میں ایک بستی میں کفر وشرک اور شر و فساد کو دور کرنے کے لئے اور رشد وہدایت کا سبق دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دو پیغمبروں کو مامور کیا ‘ انہوں نے اہل قریہ کو حق کی تلقین کی اور صراط مستقیم کی طرف ان کو دعوت دی لیکن بستی والوں نے ان دونوں کو جھٹلایا ‘ تو اس وقت ہم نے ایک ہادی کا اور اضافہ کردیا اور وہ تینوں مل کر ایک جماعت ہوگئے اور اب ان تینوں نے یقین دلانے کی سرتوڑ کوشش کی کہ تم تسلیم کرلو ہم کو اللہ تعالیٰ نے نبی و رسول بنا کر تمہاری طرف مبعوث کیا ہے لیکن انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
In the next sentence of verse 13: إِذْ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمُ اثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوا إِنَّا إِلَيْكُم مُّرْسَلُونَ (when the messengers came to it... - 13). The text has briefly mentioned the coming of messengers to the town. The number of the messengers sent has been identified in verse 14:إِذْ جَاءَهَا إِنَّا إِلَيْكُم مُّرْسَلُونَ (when We sent to them two (apostles), and they rejected them both, so We supported them with a third one. So they said, "We are sent to you" ) This shows that three messengers were sent to the said town. First came two, the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
10 The early commentators, generally, have expressed the opinion that the "habitation" implies the Syrian city of Antioch, and the messengers mentioned here were the ones sent by the Prophet Jesus for the preaching of his message there. Another thing that has been mentioned in this connection is that Antiochus was the king of this land at that time. But historically this story which Ibn 'Abbas, Qatadah, 'Ikrimah, Ka'b Ahbar and Wahb bin Munabbih, and others have related on the basis of unauthentic Christian traditions is baseless. There have been 13 kings of the Seleucid dynasty named…
Read the full tafseer →