Yaseen 36:13

Yaseen · from ayah 13

36:13

وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ ۘ— اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَ ۟ۚوَاضۡرِبۡ لَهُمۡ مَّثَلًا اَصۡحٰبَ الۡقَرۡيَةِ ‌ۘ اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَۚ

اور ان سے گاؤں والوں کا قصہ بیان کرو جب ان کے پاس پیغمبر آئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And present to them an example: the people of the city, when the messengers came to it -

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 2 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:13

اِنہیں مثال کے طور پر اُس بستی والوں کا قصہ سناؤ جبکہ اُس میں رسول آئے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان سے گاؤں والوں کا قصہ بیان کرو جب ان کے پاس پیغمبر آئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور آپ ان کے سامنے ایک مثال (یعنی ایک) بستی والوں کی مثال (اس وقت کا) بیان کیجیئے جب کہ اس بستی میں (کئی) رسول آئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) تم ان کے سامنے ایک بستی والوں کی مثال پیش کرو، جب ان کے پاس رسول آئے تھے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان سے نشانیاں بیان کرو اس شہر والوں کی جب ان کے پاس فرستادے (رسول) آئے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ اُن کے لئے ایک بستی (انطاکیہ) کے باشندوں کی مثال (حکایۃً) بیان کریں، جب اُن کے پاس کچھ پیغمبر آئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

` اور ان کے لیے بستی والوں کو بطور مثال بیان کر، جب اس میں بھیجے ہوئے آئے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ انہیں اس بستی والوں کی مثال بیان کیجئے جبکہ ان کے پاس رسول آئے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کو بستی والوں کی مثال سنائو، جب کہ ان کے پاس فرستادے آئے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور سناؤ ان کو قصہ ان بستی والوں کو (عبرت و) مثال کے طور پر جب کہ آئے ان کے پاس رسول

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ ان کے سامنے ایک قصہ بیان کیجیے ایک بستی والوں کا جب کہ ان کے پاس رسول آئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان کے لیے آپ ﷺ اس بستی والوں کی مثال بیان کیجیے جب کہ ان کے پاس رسول آئے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان سے گاؤں والوں کا قصہ بیان کرو جب ان کے پاس پیغمبر آئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Recite to them, as a case in point, the story of the people of the town when the Messengers came to them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Cite to them the example of the People of the Town, when the messengers came to it,

— Muhammad Taqi Usmani

Cite to them the example of the People of the Town, when the messengers came to it,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And put forward to them a similitude; the Dwellers of the Town, when there came Messengers to them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Coin for them a similitude: The people of the city when those sent (from Allah) came unto them;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And present to them an example: the people of the city, when the messengers came to it -

— Saheeh International

Tell them the story of the people of the town to whom Messengers came.

— Muhammad Sarwar

And set out to them an example of the people of the town, when the apostles came to it.

— Muhammad Habib Shakir

And propound thou Unto them the similitude of the inhabitants of a town, When there came thereto the sent ones;

— Abdul Majid Daryabadi

Set forth to them, by way of a parable, the (story of) the Companions of the City. Behold!, there came messengers to it.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–17

ایک قصہ پارینہ۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرما رہا ہے کہ آپ اپنی قوم کے ساتھ ان سابقہ لوگوں کا قصہ بیان فرمایئے جنہوں نے ان سے پہلے اپنے رسولوں کو ان کی طرح جھٹلایا تھا۔ یہ واقعہ شہر انطاکیہ کا ہے۔ وہاں کے بادشاہ کا نام انطیخش تھا اس کے باپ اور دادا کا نام بھی یہی تھا یہ سب راجہ پر جابت پرست تھے۔ ان کے پاس اللہ کے تین رسول آئے۔ صادق، صدوق اور شلوم۔ اللہ کے درود وسلام ان پر نازل ہوں۔ لیکن ان بدنصیبوں نے سب کو جھٹلایا۔ عنقریب یہ بیان بھی آ رہا ہے کہ بعض بزرگوں نے اسے نہیں مانا کہ یہ واقعہ انطاکیہ کا ہو، پہلے تو اس کے پاس دو رسول آئے انہوں نے انہیں نہیں مانا ان دو کی تائید میں پھر تیسرے نبی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 13–14

سورة یٰسٓ 10 قدیم مفسرین بالعموم اس طرف گئے ہیں کہ اس بستی سے مراد شام کا شہر انطاکیہ ہے اور جن رسولوں کا ذکر یہاں کیا گیا ہے انہیں حضرت عیسیٰ ؑ نے تبلیغ کے لیے بھیجا تھا۔ اس سلسلے میں قصے کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ اس زمانہ میں انطیخش اس علاقے کا بادشاہ تھا لیکن یہ سارا قصہ ابن عباس، قتادہ، عِکرِمہ، کَعب اَحْبار اور وہب بن مُنَبِہ وغیرہ بزرگوں نے عیسائیوں کی غیر مستند روایات سے اخذ کیا ہے اور تاریخی حیثیت سے بالکل بےبنیاد ہے۔ انطاکیہ میں سلوتی خاندان (Saleu cid dynasty) کے 13 بادشاہ انتیوکس (Antiochus) کے نام سے گزرے ہیں اور اس نام کے آخری فرمانروا کی حکومت،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور آپ ان (کفار) کے سامنے (اس غرض سے کہ رسالت کی تائید اور ان کو انکار توحید و رسالت پر تہدید ہو) ایک قصہ یعنی ایک بستی والوں کا قصہ اس وقت کا بیان کیجئے جبکہ اس بستی میں کئی رسول آئے یعنی جبکہ ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا سو ان لوگوں نے اول دونوں کو جھوٹا بتلایا پھر تیسرے (رسول) سے (ان دونوں کی) تائید کی (یعنی تائید کے لئے پھر تیسرے کو وہاں جانے کا حکم دیا) سو ان تینوں نے (ان بستی والوں سے) کہا کہ ہم تمہارے پاس (خدا کی طرف سے) بھیجے گئے ہیں (تا کہ تم کو ہدایت کریں کہ توحید اختیار کرو بت پرستی چھوڑو کیونکہ وہ لوگ بت پرست تھے، کما یدل علیہ قولہ تعالیٰ (آیت) ومالی لا اعبد الذی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

2۔ آگے کا مضمون۔ آیات 13۔ 32 آگے قریش کے سامنے رسولوں کی تکذیب کا انجام واضح کرنے کے لئے ایک بستی کی مثال پیش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بستی والوں کے انداز کے لئے اپنے دو رسول بھیجے لیکن انہوں نے ان کی تکذیب کردی۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے ایک تیسرے منذر سے اپنے رسولوں کو کمک پہنچائی لیکن بسی والوں نے اس کی بھی کوئی پروا نہ کی۔ ان کی تنبیہ کے لئے جو نشانیاں ظاہر ہوئیں ان کو انہوں نے رسولون کی نحوست پر محمول کیا اور ان کو سنگسار کردینے کی دھمکی دی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک فیصلہ کن عذاب بھیج کر ان کو بالکل پامال کردیا۔ قرآن نے اس بستی کا نام نہیں لیا ہے اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

13۔ 1 تاکہ اہل مکہ یہ سمجھ لیں کہ آپ کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں، بلکہ رسالت و نبوت کا یہ سلسلہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–17

5: قرآن کریم نے نہ اس بستی کا نام ذکر فرمایا ہے، اور نہ ان رسولوں کا جو اس بستی میں بھیجے گئے تھے، بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ بستی شام کا مشہور شہر انطاکیہ تھی ؛ لیکن نہ تو یہ روایتیں مضبوط ہیں اور نہ تاریخی قرائن سے اس کی تصدیق ہوتی ہے، دوسری طرف رسول کا لفظ عربی زبان میں ہراس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی کا پیغام لے کر دوسرے کے پاس جائے ؛ لیکن قرآن کریم میں زیادہ تر یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کے لئے استعمال ہوا ہے، اس لئے ظاہر یہی ہے کہ یہ حضرات انبیاء کرام تھے، اور بعض روایات میں ان کے نام بھی صادق، صدوق اور شلوم یا شمعون بتائے گئے ہیں ؛ لیکن یہ روایات بھی زیادہ مضبوط…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 13–14

وحی و رسالت کے مسئلے کے اس تاکیدی بیان اور قضیہ حساب و کتاب کے اس اٹل اعلان کے بعد ، اب اسی مضمون کو قصے کی صورت میں لایا جاتا ہے۔ اس قصے میں ایمان اور کفر کے جو دو باہم متقابل موقف سامنے آتے ہیں وہ نفس انسانی پر نہایت گہرے اثرات چھوڑتے ہیں اور دونوں مواقف کا انجام بھی آنکھوں کے سامنے منقش نظر آتا ہے۔ واضرب لھم مثلا ۔۔۔۔۔۔۔ بل انتم قوم مسرفون (13 – 19) ” “۔ رسولوں نے کہا ” ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم ضرور تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں ، اور ہم پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے “۔ بستی والے کہنے لگے ” ہم تو تمہیں اپنے لیے فال بد سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یہ گاؤں اکثر کے نزدیک شہر " انطاکیہ " ہے۔ اور بائیبل کتاب اعمال کے آٹھویں اور گیارہویں باب میں ایک قصہ اسی قصہ کے مشابہ کچھ تفاوت کے ساتھ شہر انطاکیہ کا بیان ہوا ہے۔ لیکن اب کثیر نے تاریخی حیثیت سے اور سیاق قرآن کے لحاظ سے اس پر کچھ اعتراضات کیے ہیں۔ اگر وہ صحیح ہوں تو کوئی اور بستی ماننی پڑے گی واللہ اعلم۔ اس قصہ کا ذکر مومنین کے لیے بشارت اور مکذبین کے لیے عبرت ہے۔ 6 ان کے ناموں کی صحیح تعیین نہیں ہوسکتی اور نہ یقینی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ بلاواسطہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے یا کسی پیغمبر کے واسطہ سے حکم ہوا تھا اس کے نائب ہو کر فلاں بستی کی طرف جاؤ۔ دونوں احتمال ہیں۔ گو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 { وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلاً اَصْحٰبَ الْقَرْیَۃِ 7 اِذْ جَآئَ ہَا الْمُرْسَلُوْنَ } ”ان کے لیے آپ ﷺ اس بستی والوں کی مثال بیان کیجیے ‘ جب کہ ان کے پاس رسول آئے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

15 اصحاب القریہ اور مرد حق گو :۔ یہ بستی کون سی تھی ؟ اس کے متعلق قرآن و حدیث میں کوئی صراحت نہیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد روم میں واقع انطاکیہ شہر ہے۔ پھر اس بات میں بھی اختلاف ہے کہ یہ رسول بلاواسطہ رسول تھے یا بالواسطہ رسول یا مبلغ تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ مبلغ سیدنا عیسیٰ نے ہی بھیجے تھے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ سیدنا عیسیٰ کے حواریوں میں سے تھے۔ قرآن کے بیان سے سرسری طور پر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلاواسطہ اللہ کے رسول تھے۔ اور اگر یہی بات ہو تو ان کا زمانہ سیدنا عیسیٰ سے پہلے کا زمانہ ہونا چاہئے کیونکہ سیدنا عیسیٰ کے بعد رسول اللہ کی بعثت تک کوئی نبی یا رسول مبعوث نہیں ہوا۔ اور بستی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ (آیت) ” القریۃ “۔ سے مراد شام کا شہر انطاکیہ (AntiAcA) لیا گیا ہے۔ (آیت) ” المرسلون “۔ اس سے اصطلاحی رسول (یعنی اللہ کے فرستادے) نہیں۔ بلکہ رسول وقت حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے نائبین مراد لیے گئے ہیں۔ لیکن کوئی حدیث صحیح اس باب میں موجود نہیں اور سیاق قرآنی سے بھی اس تفسیر منقول کی تائید نہیں ہوتی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس تفسیر پر اصل نکلتی ہے مشائخ کے اس طریق کی کہ اپنے خلفاء کو ارشاد خلق کے لیے مختلف شہروں، ملکوں میں بھیجتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–32

آیت نمبر 13 تا 32 ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واضرب لھم مثلاً اصحٰب القریۃ اذاجاء ھا المرسلون . اور آپ ان کے سامنے ایک قصبہ والوں کا اس وقت کا قصہ بیان کیجئے جب کہ اس بستی میں کئی رسول آئے تھے۔ اِضْرِبْ لَھُمْکفار مکہ سے بطور مثال ایک قصہ بیان کیجئے۔ محاورہ میں بولا جاتا ہے : یہ سب چیزیں ایک ضرب کی ہیں ‘ یعنی ایک جیسی ہیں۔ اِضْرِبْ کچھ دو مفعولوں کی جانب متعدی ہوتا ہے ‘ اس جگہ مثلاً پہلا مفعول ہے اور اصحاب القریۃ دوسرا مفعول۔ اَصْحٰبَ الْقَرْیَۃِ سے انطاکیہ والے مراد ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے : علماء تاریخ کا بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دو حواری قاصد بنا کر انطاکیہ شہر کو بھیجے۔ یہ دونوں جب شہر کے قریب پہنچے تو ایک بوڑھا آدمی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 13–14

(13۔ 14) اور آپ ان مکہ والوں سے انطاکیہ والوں کا ایک واقعہ بیان کردیجیئے کہ ہم نے ان کو کس طرح ہلاک کیا جبکہ ان کے پاس حضرت عیسیٰ کے بھیجے ہوئے رسول شمعون الصفار آئے ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا اور ان پر ایمان نہیں لائے اور اس سے پہلے ہم نے ان کے پاس دو رسولوں یعنی سمعان اور ثومان کو بھیجا تو اس بستی والوں نے ان دونوں جو جھٹلایا تو پھر ہم نے ان کے پاس شمعون کو بھیجا کہ انہوں نے پہلے دونوں رسولوں کی تبلیغ رسالت کی تصدیق کی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ : یعنی جن لوگوں کو ڈرانے کے لیے آپ کو یہ قرآن حکیم دے کر مبعوث کیا گیا ہے اور جن کے اکثر لوگ کفر پر اصرار کی وجہ سے عذاب کے مستحق بن چکے ہیں، انھیں اس بستی کے لوگوں کا حال بطور مثال سنائیں، جن کی طرف ہمارے بھیجے ہوئے رسول آئے۔ انھوں نے بھی اپنے رسولوں کو انھی کی طرح جھٹلایا تھا، سو ان کا انجام یہ لو گ بھی پیش نظر رکھیں۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں جسے اس کی قوم نے جھٹلایا ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–19

خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ ﷺ اپنی قوم کے سامنے اصحب قریہ کا واقعہ بیان کریں (1) ۔ ماوردی نے بیان کیا ہے کہ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس بستی سے مراونطاکیہ ہے یہ اہل انطبیس کی طرف منسوب ہے یہ اس آدمی کا نام ہے جس نے اس کے بارے میں ایک لفظ یہ بی ہے ان تاکیہ یعنی طاء کی جگہ تاء وہاں ایک بادشاہ تھا جسے انطیخس بن انطنیحس کہا جاتا ہے ‘ وہ بتوں کی پوجا کیا کرتا تھا ‘ مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ ابو جعفر نے اسے کعب اور وہب سے نقل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف تین رسولوں کو بھیجا وہ حضرت صادق ‘ حضرت مصدوق اور حضرت شمعون تھے شمعون ہی تیسرا تھا ‘ یہ طبری کا قول ہے۔ دوسرے علماء نے کہا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ الفریابی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ “ (اور آپ ان کے لئے ایک بستی والوں کا قصہ بیان کیجئے) من القریہ سے مراد انطاکیہ ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب القریۃ “ میں قریہ سے مراد انطاکیہ ہے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ جآء ھا المرسلون “ (بستی والے جب ان کے پاس بھیجے ہوئے آئے) (اس میں) القریہ سے مراد انطاکیہ ہے۔ ؛ 4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب القریۃ، اذ جآء ھا المرسلون “ کے بارے میں ہم کو بتایا گیا کہ وہ بستی روم کی بستیوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاضْرِبْ لَهُمْ [اور آپ ﷺ بیان کریں ان کے لئے ] مَّثَلًا [ایک مثال ] اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ[جو اس بستی والوں کی ہے ] اِذْ جَاۗءَهَا [جب آئے اس (بستی) میں ] الْمُرْسَلُوْنَ [بھیجے ہوئے (رسول)] نوٹ۔ 1: قدیم مفسرین بالعموم اس طرف گئے ہیں کہ آیت 13 میں القریہ سے مراد شام کا شہر انطاکیہ ہے اور جن رسولوں کا ذکر ہے انہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ کے لئے بھیجا تھا۔ لیکن یہ سارا قصہ عیسائیوں کی غیر مستند روایات سے اخذ کیا گیا ہے اور تاریخی حیثیت سے بالکل بےبنیاد ہے۔ (تفہیم القرآن) سہل اور بےغبار بات وہی ہے جسے مولانا تھانوی نے بیان القرآن میں اختیار فرمایا ہے کہ ان آیات کا مضمون سمجھنے کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ایک بستی میں پیامبروں کا پہنچنا اور بستی والوں کا معاندانہ طریقہ پر گفتگو کرنا ان آیات میں ایک واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے اور وہ یہ کہ ایک بستی (جس کا نام مفسرین نے انطاکیہ بتایا ہے) میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو فرستادہ گئے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ دونوں نبی نہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے آدمی تھے جو انہوں نے اپنے حوارین میں سے بھیجے تھے، چونکہ اللہ تعالیٰ کے ایک رسول نے انہیں بھیجا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف نسبت فرمائی اور (اِذْ اَرْسَلْنَآ اِلَیْھِمُ ) فرمایا اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ حضرات مستقل نبی تھے، پہلے دو حضرات تشریف لے گئے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–21

قصہ اصحاب القریہ برائے عبرت ونصیحت مکذبین رسالت قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وہم مھتدون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں معاندین اور مکذبین رسالت کا ذکر تھا اب آگے ان کی تہدید اور عبرت کے لئے ایک آبادی کا قصہ بیان کرتے ہیں تاکہ مشرکین مکہ کو معلوم ہوجائے کہ مستکبرین اور منکرین نبوت کا کیا انجام ہوتا ہے اور ایسوں کو ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے اس قصہ کے ذکر کرنے سے مسئلہ نبوت و رسالت کی تائید اور تکذیب کرنے والوں کی تہدید مقصود ہے تاکہ مکذبین رسالت اس سے عبرت پکڑیں۔ اور جان لیں کہ ذکر اور نصیحت سے اعراض کا کیا انجام ہوتا ہے۔ جمہور مفسرین یہ کہتے ہیں کہ اس قصہ میں جس قریہ کا ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9:۔ واضرب لہم الخ : یہ تخویف دنیوی ہے اصحاب القریۃ (بستی والوں) کا قصہ بیان کر کے اہل مکہ کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ انہوں نے ہمارے رسول کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ لیکن ان کے مزعومہ سفارشیوں میں سے کسی نے بھی ان کو اللہ کی گرفت سے نہ چھڑایا۔ اذ جاءھا المرسلون، حصن حصین میں ہے کہ یہ اجابت دعا کا مقام ہے۔ القریۃ سے اکثر مفسرین کے نزدیک شہر انطاکیہ مراد ہے اور المرسلون سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبلغ مراد ہیں۔ یعنی یحیی، یونس اور شمعون (کما فی التفاسیر) ۔ لیکن بعض ائمہ تفسیر کو اس پر اشکال ہے کہ قریہ سے انطاکیہ اور مرسلین سے رسل عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہوں چناچہ مفسر ابن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–19

ربط آیات سورۃ کی ابتداء میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا بیان ہوا ، پھر رسالت کا ذکر ہوا۔ اللہ نے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ اکثر لوگ حجاب طبع یا حجاب رسم میں مبتلا رہ کر ہی زندگی ختم کرلیتے ہیں اور عمر بھر نہ تو وہ ایمان کے معاملے میں غور و فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اسے قبول کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ مردوں کو زندہ کرنا ہمارا کام ہے ، ہم مقررہ وقت پر انہیں دوبارہ زندہ کریں گے ، ان کے تمام اعمال اور ان کی ہر ہر نقل و حرکت ہمارے پاس لکھی ہوئی ہے جو انہیں نئی زندگی ملنے پر پیش کردی جائے گی اور پھر اس اعمالنامے کی بنیاد پر ان سے حساب کتاب لیا جائے گا اور جزا اور سزا کے فیصلے ہوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْيَۃِ۝ 0 ۘ اِذْ جَاۗءَہَا الْمُرْسَلُوْنَ۝ 13ۚ ضَرْبُ المَثلِ هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ، ضرب اللبن الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] خدا ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] اور ان سے قصہ بیان کرو ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–25

ترکیب : اصحٰب القریۃ معناہ واضرب لہم مثلا مثل اصحاب القریۃ فترک المثل و اقیم الاصحاب مقامہ فی الاعراب کقولہ و اسئل القریۃ کشاف وقیل المعنی اجعل اصحاب القریۃ لھم مثلاً علی ان یکون مثلا و اصحٰب القریۃ مفعولین لاضرب او یکون اصحاب القریۃ بدلا من مثلا فعلی ھذا اضرب بمعنی مثل وھو یتعدی الی مفعولین لتضمنہ معنی الجعل و ھما مثلا اصحٰب القریۃ علی حذف مضاف اذ جاء بدل من اصحٰب القریۃ بدل الاشتمال اَئِنْ ذکرتم شرط و جو ابہ محذوف مثل تطیرتم لما جمیع قریٔ مشدد او مخففا قال الفراء من شدو جعل لما بمعنی الاوان بمعنی ما۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا۔ انک لمن المرسلین اور اس کے بعد یہ بھی فرمایا تھا کہ ازلی گمراہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَضْرِبْ لَھُمْ مَّثَلاً اَصْحٰبَ الْقَرْیَۃِ م اِذْجَـآئَ ھَاالْمُرْسَلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 13) (اور انہیں بستی والوں کی مثال سنائیے، جبکہ اس بستی میں رسول آئے۔ ) اس سے پہلے کے رکوع میں سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کی رسالت کو حتمی انداز میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ قرآن کریم جیسی مسکت دلیل اس کے لیے پیش کی گئی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی کی بعثت کے بعد سب سے اہم نکتہ جس پر اللہ تعالیٰ کے رسول اور مخالفین کے درمیان بحث ہوتی اور مخالفت کا طوفان اٹھتا ہے وہ رسالت ہی کا نکتہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا رسول لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو رسول کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن مخالفین ہر ممکن طریقے سے اس کا رد کرتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–13

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے ارشاد ہوا ہے کہ ہم موت وحیات پر اختیار رکھنے والے اور ہر بات کو اپنے ہاں لکھنے والے ہیں۔ اب موت وحیات کے حوالے سے ایک قریہ کی مثال بیان کی جاتی ہے۔ اے محبوب پیغمبر ﷺ اپنے سامعین کے سامنے اس بستی کی تاریخ اور مثال پیش فرمائیں جس کے پاس آپ کے رب نے یکے بعد دیگرے تین رسول مبعوث فرمائے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم نے اس بستی کے رہنے والوں کے لیے دو رسول بھیجے جنہوں نے بڑے خلوص اور جانفشانی کے ساتھ اہل قریہ کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن قریہ والوں نے انہیں یکسر طور پر مسترد کردیا۔ ان کی تائید کے لیے ہم نے تیسرا رسول بھیجا اس نے پہلے دو انبیاء کی تائید کی اور ان کے ساتھ مل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بستی والوں واقعہ : 13: وَاضْرِبْ لَھُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَۃِ (اور ان لوگوں کے سامنے ایک قصہ) یعنی ایک بستی والوں کا قصہ اس وقت کا بیان کردیں) اضرب کا معنی مثل لھم ہے ان کے سامنے بیان کریں۔ اہل عرب کہتے ہیں عندی من ہذا الضرب کذا ای من ہذا المثل اور کہتے ہیں : ہٰذہ الاشیاء علٰی ضرب واحد ای علٰی مثال واحد مطلب یہ ہوا ان کے سامنے ایک مثال بیان کریں۔ مثال ایسی بستی والوں کی۔ القریۃؔ سے مراد انطاکیہ ہے۔ یعنی ان کو بستی والوں کا عجیب واقعہ سنائیں۔ دوسرا مثل اول کا بیان ہے۔ اِذْ : یہ اصحاب القریۃ سے بدل ہے۔ جَآ ئَ ھَا الْمُرْسَلُوْنَ (جبکہ اس بستی میں کئی رسول آئے) المرسلون سے مراد عیسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

اصحاب القریۃ اور مرسلون سے کیا مرادہے 13، واضرب لھم مثلا اصحاب القریۃ، یعنی کفار مکہ سے بطور مثال ایک قصہ بیان کیجئے جو بستی انطاکیہ کا ہے۔ ، اذجاء ھا المرسلون، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو حواری اپنے قاصد انطاکیہ بستی میں بھیجے (یہ علماء نے لکھا ہے) جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو ایک بوڑھا آدمی بکریاں چراتا ہواملا۔ اس کا نام حبیب نجار تھا۔ دونوں نے اس کو سلام کیا ۔ بوڑھے نے کہا تم کون ہو ؟ قاصدوں نے کہا کہ ہم عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد ہیں ، وہ تمہیں بتوں کی پاجا چھوڑ کر رحمن کی عبادت کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ بوڑھے نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کوئی نشانی ہے، قاصدوں نے کہا ہاں ہم اللہ کے حکم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–19

13۔ تا 19۔ اوپر ذکر تھا کہ نصیحت انہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جو علم الٰہی میں نیک قرار پا چکے ہیں جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کے دل پر کسی نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہوتا اس قصے میں ایک شخص نیک کا اور بستی کے تمام سرکشوں کا حال بیان کر کے اوپر کی بات کی مثال سمجھائی حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک بستی میں دو رسول بھیجے جب بستی کے لوگوں نے ان دونوں رسولوں کو جھٹلایا تو تیسرے رسول کو ان دونوں کی مدد کے لیے بھیجا گیا لیکن بستی کے لوگوں نے ان تینوں رسولوں کو جھٹلایا اور تمام گمراہ قوموں کی طرح یہ کہا کہ اللہ کے رسول انسان نہیں ہوسکتے اس لیے تم تینوں جھوٹے ہو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–20

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

18 اصحاب القریۃ ۔ بستی والوں ۔ سے مراد ؟ : عام طور پر مفسرین کرام نے اس بستی سے مراد انطاکیہ کی بستی لی ہے جو کہ شام میں واقع ہے۔ مگر علامہ ابن کثیر وغیرہ محققین کے نزدیک یہ بات بوجوہ درست نہیں۔ ایک تو اس لئے کہ انطاکیہ تو ان چند مراکز میں سے ایک تھا جہاں مسیحی کلیسا کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی اور عیسائیت کی دعوت پہنچتے ہی وہاں کی بھاری اکثریت نے اس پر لبیک کہا اور اس کو قبول کیا۔ جبکہ یہاں جس بستی کا ذکر ہو رہا ہے اس بارے میں صاف طور پر بتایا جارہا ہے کہ اس کے باشندوں نے کھلم کھلا اور صاف طور پر انکار و تکذیب سے کام لیا۔ دوسرے اس لئے کہ یہاں اس بستی کے باشندوں کا مکمل طور پر ہلاک و تباہ کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 13–21

انطاکیہ کی ایک بستی میں داعیان حق کی روئیداد تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی قوم کے پاس ہدایت کے لیے کوئی پیغمبر بھیجا گیا انہوں نے اس کو جھٹلایا سوائے چند افراد کے انہوں نے اکثر پیغمبروں کو قتل بھی کردیا۔ اسی سلسلہ میں نبی اکرم ﷺ کو کہا گیا ہے کہ آپ ان کفار کی نافرمانی سے ہرگز پریشان نہ ہوں بلکہ ان کو عبرت دلانے کے لیے اس گاؤں کا قصہ سناؤ۔ یہ عبرت ناک قصہ صرف اہل مکہ کے لیے ہی نہیں بلکہ تاقیامت تمام لوگوں کے لیے یہ سبق کا مقام ہے۔ قصہ یوں ہے کہ شام میں ایک گاؤں انطاکیہ تھا وہاں پر لوگوں کو ہدایت دینے کے لیے دو رسول بھیجے گئے بعض روایات میں ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–13

رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 12: اسرار و معارف : سورة یس کے بیشمار فضائل ہیں جو مفسرین کرام نے لکھ دئیے ہیں اور احادیث مبارکہ میں ارشاد ہیں اسی کو قرآن حکیم کا دل قرار دیا گیا ہے کسی بھی ضرورت یا مصیبت میں پڑھ کر دعا کرنا اس سے رہائی کا باعچ ہوتا ہے۔ یس حروف مقطعات میں سے ہے۔ قسم ہے قرآن حکیم کی یعنی یہ پر از حکمت کتاب کہ انسانی زندگی کے بہترین انداز میں بسر کرنے کا پورا طریقہ و سلیقہ موجود۔ طب و حکمت۔ عقل و دانش۔ سائنس و ایجادات۔ کیمیا و مرکبات۔ تاریخ و حقائق اور آئندہ کی پیشگوئیاں سب کچھ اس ایک کتاب میں موجود جس کا ایک ایک لفظ حق۔ سچ اور کھرا ہے یہی سب سے بڑا گواہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 اس بستی سے مراد کونسی بستی ہے اور وہ پیغمبر کون تھے جو اس بستی کی طرف بھیجے گئے تھے ؟ اس کی قرآن یا کسی صحیح حدیث میں تصریح نہیں ہے۔ ابن اسحاق کی روایت کے مطابق گر قدیم مفسرین (رح) بالعموم اس طرف گئے ہیں کہ اس بستی سے مراد شام کا شہرانطاکیہ ہے اور جن پیغمبروں کا ذکر کیا گیا ہے حضرت عیسیٰ کے حواری تھے جنہیں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے تبلیغ کے لئے وہاں بھیجا تھا۔ شاہ صاحب (رح) نے بھی اپنی توضیح میں یہی لکھا ہے مگر یہ توضیح بچندوجوہ صحیح معلوم نہیں ہوتی۔ اول یہ ہے کہ قرآن نے ان پیغمبروں کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کی تصریح کی ہے اور پھر اگر وہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے حواری ہوتے تو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:13) اضرب، فعل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ ضرب سے۔ جس کے معنی ایک چیز کو دوسری چیز پر واقع کرنے کے ہیں۔ مختلف اعتبارات سے یہ لفظ بہت سے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) ہاتھ، لاٹھی یا تلوار سے مارنا۔ مثلاً اضرب بعصاک الحجر۔ (2:61) اپنی لاٹھی پتھر پر مار۔ (2) ضرب الارض بالمطر۔ بمعنی بارش برسنا۔ (3) ضرب الدراہم درہم کو ڈھالنا۔ (4) ضرب فی الارض۔ سفر کرنا۔ (5) فاضرب لہم طریقا فی البحر یبسا (20:77) تو ان کے لئے سمندر میں خشک راستہ بنا دے۔ (6) ضرب الفحل الناقۃ۔ نر کا مادہ سے جفتی کرنا۔ (7) ضرب الخیمۃ۔ خیمہ لگانا۔ کیونکہ خیمہ لگانے کے لئے میخوں کو زمین میں ہتھوڑے سے ٹھونکا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے ضربت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–32

لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے) تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–32

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔ ( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–17

[7] یعنی نیک و بداعمال جو آگے بھیج چکے۔ [8] یعنی وہ اعمال جن کے اچھے یا برے اثرات یا نشان پیچھے چھوڑے۔ [9] یعنی لوح محفوظ میں۔ اصل میں لفظ '' امام '' استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی پیشوا اور شارع عام کے ہیں اور لوح محفوظ پر دونوں باتیں صادق آتی ہیں کہ تمام واقعات گزشتہ اور آئندہ اسی کے مطابق ہوئے اور ہوں گے۔ گویا تمام دنیا ومافیہا اسی پر چل رہی ہے۔ اور اس کو واضح اس لئے فرمایا کہ اس میں تمام باتیں وضاحت سے لکھی ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–14

ضبط اعمال کا نظریہ 1: ضبط اعمال کا نظریہ قرآن حکیم نے پیش فرمایا ہے ۔ اور یہ نظریہ ان محترعات علمی سے ہے جن کو آج پیش کیا جارہا ہے ۔ جہاں تک گفتگو کا تعلق تھا ۔ اب یہ مشاہدہ ہے ۔ کہ ہر لفظ جو زبان سے نکلتا ہے ۔ پتھر کے تموجات اس کو فضا میں پھیلا دیتے ہیں ۔ اور وہ گم نہیں ہوتا ۔ اور اگر کہیں ایسے آلات نصب ہوں ۔ جو ان تموجات کو اپنی گرفت میں لے سکیں ۔ تو فضا میں منتشر اقوال صاف سنائی دینے لگتے ہیں ۔ چاہے متکلم اور سامع میں ہزاروں کوس کا فاصلہ ہوا ۔ اس طرح یہ بھی صحیح ہے ۔ کہ نفس اعمال کے الزات بھی ضائع نہیں جاتے ۔ فضا میں ایسے برقی ذرات ہیں (الیکڑان) جو ان کو زندہ جاوید بنا دیتے ہیں ۔ مگر ابھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(13) اور اے پیغمبر آپ ان کی عبرت کے لئے ان کے سامنے گائوں والوں کا قصہ عجیبہ اس وقت کا بیان کیجئے جب اس گائوں میں کئی رسول آگے پیچھے آئے۔ یعنی پہلے دو صاحب تشریف لائے پھر ان کے بعد ان دو کی تقویت اور تعزز کیلئے ایک صاحب اور بھیجے گئے۔ چونکہ اس قصے سے رسالت کا اثبات بھی ہے اور منکرین رسالت کی تہدید بھی ہے اس لئے اس واقعہ میں عبرت بھی ہے کیونکہ یہ لوگ رسولوں کی مخالفت کے باعث تباہ و ہلاک ہوئے آگے قصہ کی تفصیل مذکور ہے۔ اذجاء ھا اصحاب قریہ سے بدل اشتمال ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–16

ف 7۔ اوپر مسئلہ رسالت مع تسلیہ مذکور تھا، آگے رسالت کی تائید اور مکذبین کی تہدید کے لئے ایک قصہ مذکور ہے جو مکذبین رسالت کی تشنیع و تقریع پر ختم کیا گیا ہے جس سے مضمون مترتب سزا کی بھی تائید ہوگئی، جو اوپر مذکور تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے رسول ! آپ ﷺ ایک بستی کی طرف ہمارے بھیجے ہوئے جو گئے تھے ان کا ذکر ان کو سنائیں : 13۔ یہ ذکر سب سے پہلے کن لوگوں کو سنانے کا حکم دیا تھا ؟ اس کا صرف ایک ہی جواب ہو سکتا ہے کہ مشرکین مکہ کو پھر کیا مکہ والوں نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ بستی کون سی بستی تھی اور کون کون رسول اس کی طرف بھیجے گئے ؟ دو پہلے اور ایک بعد میں کیوں آیا ؟ پھر یہ کہ ان کا واقعہ ہم کو کیوں سنانے جا رہے ہو ؟ اس طرح ایک ایک تفسیر کا مطالعہ کرتے جاؤ سب تفاسیر میں ایسے سوال درج ہیں لیکن کسی نے اس بات کی نشاندہی نہیں کی کہ یہ سوال مکہ کے مشرکوں نے اٹھائے تھے جس سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ مخاطبین اول بہرحال اس واقعہ سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The expression: ضرب مثل (cite an example) in verse 13: وَاضْرِ‌بْ لَهُم مَّثَلًا أَصْحَابَ الْقَرْ‌يَةِ (And cite to them the example of the People of the Town) is generally used to prove something by giving the example of a similar thing. The following event has been narrated by the Holy Qur'an to alert people against disbelievers who rejected the very notion of there being a prophet or messenger. The town in which this event took place The Qur'an does not tell us the name of this town. In historical narrations, Muhammad Ibn Ishaq has reported from Sayyidna Ibn ` Abbas, Ka'b…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–14

10 The early commentators, generally, have expressed the opinion that the "habitation" implies the Syrian city of Antioch, and the messengers mentioned here were the ones sent by the Prophet Jesus for the preaching of his message there. Another thing that has been mentioned in this connection is that Antiochus was the king of this land at that time. But historically this story which Ibn 'Abbas, Qatadah, 'Ikrimah, Ka'b Ahbar and Wahb bin Munabbih, and others have related on the basis of unauthentic Christian traditions is baseless. There have been 13 kings of the Seleucid dynasty named…

Read the full tafseer →