Yaseen 36:12

Yaseen · from ayah 12

36:12

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰی وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ؔؕ— وَكُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ ۟۠اِنَّا نَحۡنُ نُحۡىِ الۡمَوۡتٰى وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَاٰثَارَهُمۡؕؔ وَكُلَّ شَىۡءٍ اَحۡصَيۡنٰهُ فِىۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ

بےشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے اور (جو) ان کے نشان پیچھے رہ گئے ہم ان کو قلمبند کرلیتے ہیں۔ اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن (یعنی لوح محفوظ) میں لکھ رکھا ہے۔

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, it is We who bring the dead to life and record what they have put forth and what they left behind, and all things We have enumerated in a clear register.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juzع

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:12

ہم یقیناً ایک روز مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں جو کچھ افعال انہوں نے کیے ہیں وہ سب ہم لکھتے جا رہے ہیں، اور جو کچھ آثار انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم ثبت کر رہے ہیں ہر چیز کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے اور (جو) ان کے نشان پیچھے رہ گئے ہم ان کو قلمبند کرلیتے ہیں۔ اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن (یعنی لوح محفوظ) میں لکھ رکھا ہے۔

— مولانا فتح محمد جالندہری

بےشک ہم مُردوں کو زنده کریں گے، اور ہم لکھتے جاتے ہیں وه اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے وه اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں، اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقینا ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے، اور جو کچھ عمل انہوں نے آگے بھیجے ہیں ہم ان کو بھی لکھتے جاتے ہیں اور ان کے کاموں کے جو اثرات ہیں ان کو بھی۔ اور ہم نے ایک واضح کتاب میں ہر ہر چیز کا پورا احاطہ کر رکھا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہم مُردوں کو جِلائیں گے اور ہم لکھ رہے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا اور جو نشانیاں پیچھے چھوڑ گئے اور ہر چیز ہم نے گن رکھی ہے ایک بتانے والی کتاب میں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ہم ہی تو مُردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم وہ سب کچھ لکھ رہے ہیں جو (اَعمال) وہ آگے بھیج چکے ہیں، اور اُن کے اثرات (جو پیچھے رہ گئے ہیں)، اور ہر چیز کو ہم نے روشن کتاب (لوحِ محفوظ) میں احاطہ کر رکھا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم لکھ رہے ہیں جو عمل انھوں نے آگے بھیجے اور ان کے چھوڑے ہوئے نشان بھی اور جو بھی چیز ہے ہم نے اسے ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں۔ ہم ان کے وہ اعمال بھی لکھتے جاتے ہیں جو وہ آگے بھیج چکے اور وہ آثار بھی جو پیچھے چھوڑ گئے۔ اور ہم نے ہر چیز کا ایک واضح کتاب (لوح محفوظ) میں ریکارڈ رکھا ہوا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم نوٹ کر رہے ہیں جو کچھ انہوں نے آگے کے لئے بڑھایا اور جو کچھ پیچھے چھوڑا اور ہم نے ہر چیز ایک واضح کتاب میں محفوط کرلی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ ہم زندہ کرتے ہیں (اور کریں گے) مردوں کو اور ہم لکھتے جا رہے ہیں ان کے وہ اعمال بھی جو انہوں نے آگے بھیج دئیے ہیں اور ان کے وہ آثار (اور نشانات) بھی جو انہوں نے اپنے پیچھے چھوڑے ہیں اور (اس سے بھی بہت پہلے) ہم نے ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ایک واضح کتاب میں

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک ہم ہی تو مردوں کو جلائیں گے اور ہم لکھتے جاتے ہیں اسے جو یہ آگے بھیجتے جاتے ہیں اور پیچھے چھوڑے جاتے ہیں۔ اور ہم نے ہر شیء کو ایک واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا ہم ہی زندہ کریں گے ُ مردوں کو اور ہم لکھ رہے ہیں جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا اور جو اثرات وہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں ور ہرچیز کا احاطہ ہم نے ایک واضح کتاب میں کررکھا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے ہیں اور جو ان کے نشان پیچھے رہ گئے ہیں ہم ان کو لکھتے ہیں اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن یعنی لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We shall surely raise the dead to life and We record what they did and the traces of their deeds that they have left behind. We have encompassed that in a Clear Book.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely We will give new life to the dead, and We are recording whatever (deeds) they send before them and whatever effects they leave behind. Every thing is fully computed by Us in a manifest book of record.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely We will give new life to the dead, and We are recording whatever (deeds) they send before them and whatever effects they leave behind. Every thing is fully computed by Us in a manifest book of record.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them), and their traces and all things We have recorded with numbers in Imam Mubin (a Clear Book).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! We it is Who bring the dead to life. We record that which they send before (them, and their footprints. And all things We have kept in a clear Register.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, it is We who bring the dead to life and record what they have put forth and what they left behind, and all things We have enumerated in a clear register.

— Saheeh International

It is We who bring the dead to life and records the deeds of human beings and their consequences (of continual effects). We keep everything recorded in an illustrious Book.

— Muhammad Sarwar

Surely We give life to the dead, and We write down what they have sent before and their footprints, and We have recorded everything in a clear writing.

— Muhammad Habib Shakir

Verily We! We shall guicken the dead. And We write down that which they send before and their footsteps. And everything We have counted up in a Book luminous.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily We shall give life to the dead, and We record that which they send before and that which they leave behind, and of all things have We taken account in a clear Book (of evidence).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–12

شب ہجرت اور کفار کے سرخاک۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان بدنصیبوں کا ہدایت تک پہنچنا بہت مشکل بلکہ محال ہے۔ یہ تو ان لوگوں کی طرح ہیں جن کے ہاتھ گردن پر باندھ دیئے جائیں اور ان کا سر اونچا جا رہا ہو۔ گردن کے ذکر کے بعد ہاتھ کا ذکر چھوڑ دیا لیکن مراد یہی ہے کہ گردن سے ملا کر ہاتھ باندھ دیئے گئے ہیں اور سر اونچے ہیں اور ایسا ہوتا ہے کہ بولنے میں ایک چیز کا ذکر کر کے دوسری چیز کو جو اسی سے سمجھ لی جاتی ہے اس کا ذکر چھوڑ دیتے ہیں عرب شاعروں کے شعر میں بھی یہ بات موجود ہے۔ غل کہتے ہی ہیں دونوں ہاتھوں کو گردن تک پہنچا کر گردن کے ساتھ جکڑ بند کردینے کو۔ اسی لئے گردن کا ذکر کیا اور ہاتھوں کا ذکر چھوڑ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یٰسٓ 9 اس سے معلوم ہوا کہ انسان کا نامۂ اعمال تین قوم کے اندراجات پر مشتمل ہے۔ ایک یہ کہ ہر شخص جو کچھ بھی اچھا یا برا عمل کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے دفتر میں لکھ لیا جاتا ہے۔ دوسرے، اپنے گرد و پیش کی اشیاء اور خود اپنے جسم کے اعضاء پر جو نقوش (Impressions) بھی انسان مرتسم کرتا ہے وہ سب کے سب ثبت ہوجاتے ہیں، اور یہ سارے نقوش ایک وقت اس طرح ابھر آئیں گے کہ اس کی اپنی آواز سنی جائے گی، اس کے اپنے خیالات اور نیتوں اور ارادوں کی پوری داستان اس کی لوح ذہن پر لکھی نظر آئے گی، اور اس کے ایک ایک اچھے اور برے فعل اور اس کی تمام حرکات و سکنات کی تصویریں سامنے آجائیں گی۔ تیسرے اپنے مرنے کے بعد اپنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) ونکتب ما قدموا و آثارہم، ”یعنی ہم لکھیں گے ان اعمال کو جو انہوں نے آگے بھیجے ہیں“ عمل کرنے کو آگے بھیجنے سے تعبیر کر کے یہ بتلا دیا کہ جو اعمال اچھے یا برے اس دنیا میں کئے ہیں وہ یہیں ختم نہیں ہوگئے، بلکہ وہ تمہارا سامان بن کر آگے پہنچ گئے ہیں جن سے اگلی زندگی میں سابقہ پڑنا ہے، اچھے اعمال ہیں تو جنت کی باغ و بہار بنیں گے، برے ہیں تو جہنم کے انگارے۔ اور ان اعمال کو لکھنے سے اصل مقصود ان کو محفوظ رکھنا ہے، لکھنا بھی اس کا ایک ذریعہ ہے کہ خطاء و نسیان اور زیارت و نقصان کا احتمال نہ رہے۔ اعمال کی طرح اعمال کے اثرات بھی لکھے جاتے ہیں وآثارہم، یعنی جس طرح ان کے کئے ہوئے اعمال لکھے جاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 12 یہ اسی روز جزا کی یاد دہانی ہے جو اس کی رحمانیت کا لازمی تقاضا ہے۔ فرمایا کہ ایک دن آئے گا کہ ہم تمام مردوں کو زندہ کریں گے اور اس دنیا میں انہوں نے آگے کے لئے جو کچھ کیا اور پیچھے کے لئے جو کچھ چھوڑا ہے، ہم اس سارے کو قلم بند کر رہے ہیں۔ مقصود اس سے اس کے لازم کو واضح کرنا ہے کہ جب ہم سب کو زندہ بھی کریں گے اور ہر ایک کے اعمال نوٹ بھی کرر ہے ہیں تو لازماً ہر ایک کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق معاملہ بھی کریں گے۔ اس لازمی نتیجہ کی یہاں وضاحت نہیں کی۔ اس کی وجہ اول تو یہ ہے کہ یہ بغیر ذکر کے بھی واضح ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قیامت کے باب میں منکرین کا اصلی شبہ صرف دو پہلوئوں سے تھا۔ ایک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

12۔ 1 یعنی قیامت والے دن یہاں احیائے موتی کے ذکر سے یہ اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں میں سے جس کا دل چاہتا ہے، زندہ کردیتا ہے جو کفر و ضلالت کی وجہ سے مردہ ہوچکے ہوتے ہیں۔ پس وہ ہدایت اور ایمان کو اپنا لیتے ہیں۔ 12۔ 2 اس سے مراد لوح محفوظ ہے اور بعض نے صحائف اعمال مراد لیے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

4: یعنی ان لوگوں کی ساری بدعملیاں بھی لکھی جارہی ہیں اور ان بد عملیوں کے جو برے اثرات ان کے مرنے کے بعد بھی باقی رہ جاتے ہیں وہ بھی لکھے جارہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

چناچہ یہاں یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ ایک دن تم نے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے ، تمہارا حساب نہایت وقت کے ساتھ تیار ہوگا اور اس میں سے کوئی بات چھوٹی ہوئی نہ ہوگی۔ انا نحن ۔۔۔۔۔ امام مبین (36: 12) ” یقیناً ہم ایک روز مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں۔ جو کچھ افعال انہوں نے کیے ہیں وہ سب ہم لکھتے جا رہے ہیں اور جو کچھ آثار انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم ثبت کر رہے ہیں۔ ہر چیز کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے “۔ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا وہ مسئلہ ہے جس پر ہمیشہ مباحثہ ہوتا رہا ہے ۔ اس سورت میں بھی اس کے امکان پر کئی مثالیں دی جائیں گی۔ یہاں ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ وہ جو اعمال بھی کر رہے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی موت کے بعد دوسری زندگی یقینی ہے جہاں سب اپنے کیے کا بدلہ پائیں گے اور شاید ادھر بھی اشارہ ہو کہ یہ قوم (عرب) جس کی روحانی قوتیں بالکل مردہ ہوچکی ہیں، حق تعالیٰ کو قدرت ہے کہ پھر ان میں زندگی کی روح پھونک دے کہ وہ دنیا میں بڑے بڑے کارہائے نمایاں کرے اور آنے والی نسلوں کے لیے اپنے آثار عظیمہ چھوڑ جائے۔ 3 یعنی نیک و بد اعمال جو آگے بھیج چکے اور بعض اعمال کے اچھے برے اثرات یا نشان جو پیچھے چھوڑے مثلا کوئی کتاب تصنیف کی یا علم سکھلایا، یا عمارت بنائی یا کوئی رسم ڈالی نیک یا بد، سب اس میں داخل ہیں بلکہ الفاظ کے عموم میں وہ نشان قدم بھی شامل ہوسکتے ہیں جو کسی عبادت کے لیے چلتے وقت زمین پر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12 { اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰی وَنَکْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَہُمْ } ”یقینا ہم ہی زندہ کریں گے ُ مردوں کو ‘ اور ہم لکھ رہے ہیں جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا اور جو اثرات وہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔“ انسان مرنے سے پہلے اپنی زندگی میں جو اچھے برے اعمال آگے بھیجتا ہے وہ ساتھ ہی ساتھ اس کے اعمال نامے میں درج ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن انسان کے کچھ اعمال و افعال ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے اثرات اس کی موت کے بعد بھی اس دنیا میں رہتے ہیں۔ چناچہ یہاں پر ”آثار“ سے مراد انسان کے ایسے ہی کام ہیں۔ بہر حال انسان کو آخرت میں ان ”آثار“ کا بدلہ بھی دیا جائے گا۔ مثلاً اگر کسی شخص نے اپنی زندگی میں کسی ایسے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

12 اس کا ایک مفہوم تو واضح ہے اور یہی مفہوم دنیا میں بھی ہر آن مشاہدہ میں آرہا ہے۔ اور یہی مفہوم عقیدہ آخرت کی بنیاد ہے اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ قرآن نے بعض مقامات پر موتی سے مراد مردہ دل کافر بھی لئے ہیں۔ اس لحاظ سے اس جملہ کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ عرب قوم جس کی اخلاقی اور روحانی قوتیں بالکل مرچکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو یہ قدرت حاصل ہے کہ پھر ان میں زندگی کی روح پھونک دے کہ وہ دنیا میں بڑے بڑے کارہائے نمایاں سرانجام دے اور بعد میں آنے والی نسلوں کے لئے اپنے عظیم آثار چھوڑ جائے۔ خ اثر کا لغوی مفہوم :۔ اثر کا معنی دراصل قدموں کے نشان ہیں۔ جو کسی انسان کے چلنے کے بعد زمین پر پڑجاتے ہیں۔ پھر اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ یعنی ان کا ہر وہ عمل جس پر جزاؤسزا مرتب ہوسکتی ہے۔ برابر لکھا جاتا رہتا ہے۔ (آیت) ” ماقدموا “۔ سے مراد ہیں وہ کام جو انہیں کی ذات پر ختم ہوگئے یعنی اعمال ذاتی۔ (آیت) ” واثارھم “۔ سے مراد ہیں ان کے وہ اعمال جو سبب بنے دوسروں کی ہدایت وضلالت کے یعنی اعمال متعدی۔ (آیت) ” نکتب “۔ فرشتوں کے عمل کتابت اعمال کو اپنی جانب منسوب فرمایا ہے۔ (آیت) ” انا نحن نحی الموتی “۔ یعنی ہم ہی مردوں کو دوبارہ اٹھا کر کھڑا کریں گے، اور اس وقت جزاوسزا دونوں کا پورا ظہور ہوگا۔ 8۔ مراد ہے لوح محفوظ، جس میں چھوٹا بڑا ہر واقعہ درج ہے۔ اے اللوح المحفوظ (بحر۔ عن مجاہد وقتادہ وابن زید) یعنی اللوح المحفوظ لانہ اصل الکتب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–12

آیت نمبر 1 تا 12 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یسٓن اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے محکم قرآن کی جو عجیب نظم اور انوکھے معانی سے محکم ہے بلاشبہ اے محمد آپ مرسلین میں سے ہیں (اور) سیدھے راستہ پر ہیں علیٰ اپنے ماقبل (مرسلین) سے متعلق ہے (اور طریق مستقیم سے مراد) انبیاء سابقین کا طریقہ ہے، جو کہ توحید اور ہدایت کا راستہ ہے، اور قسم وغیرہ کے ذریعہ تاکید کافروں کے قول لَسْتَ مُرسَلاً کو رد کرنے کے لئے ہے یہ قرآن اس (خدا) کا نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب اور اپنی مخلوق پر مہربان ہے (تنزیل العزیز) مبتداء محذوف یعنی القرآن کی خبر ہے تاکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انا نحن نحی الموتی ونکتب ما قدموا واثارھم بیشک ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھتے جاتے ہیں وہ اعمال (بھی) جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں اور وہ اعمال (بھی) جن کو وہ پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ یعنی قبروں سے اٹھانے کے وقت ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جہالت اور گمراہی (جو حقیقت میں موت ہیں) کے بعد ہم علم اور ہدایت (جو حقیقت میں زندگی ہیں) دیتے ہیں۔ آثار سے مراد اعمال صالحہ (حسنہ) بھی ہیں جیسے سکھایا ہوا علم ‘ وقت کیا ہوا مال (مردہ سنت کو زندہ کرنا) اور اچھا طریقہ جاری کرنا اور برے اعمال بھی ہیں جیسے باطل کو رواج دینا ‘ ظلم کی بنیاد ڈالنا ‘ کفر کی مدد کرنا ‘ بدعت ایجاد کرنا۔ رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ہم ایک روز مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم ان کے وہ اعمال بھی لکھتے جاتے ہیں جنہیں وہ آگے بھیجتے جاتے ہیں اور ان کے چھوڑے ہوئے وہ اچھے اور برے طریقے جن پر ان چھوڑنے والوں کے مرنے کے بعد عمل کیا جاتا ہے اور ہم نے ان کے سب اعمال کو لوح محفوظ میں ضبط کردیا تھا۔ شان نزول : اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ (الخ) امام ترمذی نے تحسین کے ساتھ اور امام حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری سے روایت نقل کی ہے کہ بنی سلمہ مدینہ منورہ کے کنارے پر رہتے تھے انہوں نے مسجد میں منتقل ہونا چاہا اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی یعنی ہم ایک دن مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھتے جاتے ہیں وہ اعمال بھی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى : یعنی ہم ان سب کو مرنے کے بعد زندہ کریں گے، ان کو بھی جو آپ کے ڈرانے کے باوجود کفر پر اڑے رہے اور انھیں بھی جنھوں نے آپ کی نصیحت سن کر اس کی پیروی کی، تاکہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دیں۔ بعض مفسرین نے مردوں کو زندہ کرنے سے مشرکین کو شرک سے نکال کر ایمان میں لانا مراد لیا ہے، مگر سیاق کے لحاظ سے پہلا معنی زیادہ ظاہر ہے۔ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا : اور اچھے یا برے جو عمل بھی انھوں نے کیے ہیں، ہم سب لکھ رہے ہیں۔ مراد اس سے وہ اعمال ہیں جو انھوں نے اپنی زندگی میں خود کیے۔ وَاٰثَارَهُمْ : ”اٰثَارَ“ ”أَثَرٌ“ کی جمع ہے۔ اس کی تفسیر میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ اس سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(1) اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرتا ہے مقصود کافروں کا رد ہے۔ ضحاک اور حسن نے کہا : ہم انہیں جہالت کے بعد ایمان کے ساتھ زندہ کرتے ہیں (1) پہلا قول زیادہ ظاہر ہے ہم جزا کے لئے بعث کے ساتھ انہیں زندہ کریں گے پھر تمام اعمال لکھنے کے ساتھ انہیں دھمکی دی۔ (2) اللہ تعالیٰ ہر چیز کا شمار کئے ہوئے ہے اور انسان جو کچھ کرتا ہے اسے شمار کئے ہوئے ہے۔ قتادہ نے کہا : یعنی اس نے جو عمل کیا۔ مجاہد اور ابن زید نے بھی یہی کہا ہے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : علمت نفس ما قدمت و اخرت) الانفطار ( اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ینبوا الانسان یومئذ بمام قدم و اخر) القیامۃ (13: اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ عبدالرزاق (رح) والترمذی (وحسنہ) والبزار وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (وصححہ) وابن مردویہ و بیہقی نے شعب الایمان میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ بنوسلمہ ؓ سے مدینہ کی ایک جانب میں رہتے تھے انہوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب منتقل ہوجائیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” انا نحن نحی الموتی ونکتب ما قدموا واثارھم “ (بلاشبہ ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھتے جاتے ہیں وہ اعمال جن کو لوگ آگے پیچھے ہیں اور وہ اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ان کو بلایا اور فرمایا وہ تمہارے آثار لکھتا ہے۔ پھر ان پر یہ آیت پڑھی تو انہوں نے (ارادہ)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ [بیشک ہم ہی زندہ کرتے ہیں ] الْمَوْتٰى [مردوں کو ] وَنَكْتُبُ [اور ہم لکھتے ہیں ] مَا قَدَّمُوْا [جو انھوں نے آگے بھیجا ] وَاٰثَارَهُمْ ڳ [اور ان کے نقوش قدم کو ] وَكُلَّ شَيْءٍ [اور ہر چیز !] اَحْصَيْنٰهُ [ہم نے مکمل شمار کیا اس کو ] فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ [ایک واضح ریکارڈ میں ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 12 ۔ سے معلوم ہوا کہ انسان کا نامہء اعمال تین قسم کے اندراجات پر مشتمل ہے۔ ایک یہ کہ ہر شخص جو کچھ بھی اچھا یا برا عمل کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے دفتر میں لکھ لیا جاتا ہے۔ دوسرے اپنے گردو پیش کی اشیاء اور خود اپنے جسم کے اعضاء پر جو نقوش انسان مرتسم کرتا ہے وہ سب کے سب ثبت ہوجاتے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰی) (الآیۃ) بلاشبہ ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم ان کے آثار کو یعنی اچھے اور برے اعمال کو لکھ رہے ہیں جو وہ آگے بھیج رہے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو واضح کتاب یعنی لوح محفوظ میں پوری طرح محفوظ کردیا ہے۔ لفظ (وَاٰثَارَھُمْ ) اچھے برے تمام اعمال کو شامل ہے، اور اعمال کی بجائے (اٰثَارَ ) کا لفظ لانے میں یہ نکتہ ہے کہ جس کسی نے کوئی ایسا عمل کیا (اچھا ہو یا برا) جس کا اتباع بعد کے آنے والے لوگ کرتے ہیں اور جس سے نفع حاصل کرتے رہے ہیں وہ بھی اس کے عموم میں داخل ہوجائے، جو اپنی نماز خود پڑھی یا قرآن مجید کی تلاوت کی اس کا ثواب تو ملتا ہی ہے لیکن اگر کسی کو نماز سکھا دی،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–12

اثبات رسالت محمد موکد بقسمے کہ آں دلیل نبوت است ومقرون بہ بیان تفاوت استعداد درقبول حق وہدایت وتہدید مکذبین نبوت ومنکرین قیامت قال اللہ تعالی۔ یس والقران الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین۔ (ربط) گزشتہ سورت میں کفار کے استکبار اور انکار کا ذکر تھا کہ وہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کے منکر ہیں اور آپ ﷺ کو جھوٹا بتلاتے ہیں اب اس سورت میں آپ کی نبوت و رسالت کو قسم کے ساتھ بیان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ یٰسین۔ اس کی مراد اور اس کے معنی کو اللہ ہی خوب جانتا ہے یٰسین حروف مقطعہ میں سے ہے جو خزانہ غیب کا ایک سرمکتوم ہے۔ جمہور صحابہ وتابعین کے نزدیک اس کی مراد سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

8:۔ انا نحن الخ : یہ تخویف اخروی ہے۔ ہم مردوں کو ضرور زندہ کریں گے۔ اور ہر ایک کو اس کے اعمال و آثار کے مطابق جزا وسزا ملے گی۔ کیونکہ ہم سب کے اعمال خیر و شر لکھوا رہے ہیں۔ نیک اور برے کاموں کے جو نمونے قائم کرچکے ہیں ان کا بھی ہمارے پاس ریکارڈ موجود ہے ای و نکتب ما سنوا من سنۃ حسنۃ او سئۃ (خازن و معالم ج 6 ص 3) ۔ امام مبین سے نامہ اعمال یا لوح محفوط مراد ہے۔ ای کتاب اعمالہم الشاھد علیہم بما عملوہ من خیر او شر (ابن کثیر جلد 3 ص 566) ۔ یعنی اللوح المحفوظ (مدارک ج 4 ص 3) ۔ حاصل یہ کہ ہم ان کے تمام اعمال و افعال کو نگاہ میں رکھتے اور ان کو ان کے اعمالناموں میں لکھوا رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–12

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا اور پھر ساتھ نبوت و رسالت کی تصدیق کی کہ حضور خاتم النبیین ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ پھر اللہ نے قرآن حکیم کے نزول کی غایت یہ بیان کی کہ تاکہ آپ اپنے اولین مخاطبین مشرکین مکہ کو ڈرا دیں جن کے آبائو اجداد کے پاس قریبی زمانہ میں کوئی ڈرانے والا نہیں آیا مگر ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ آپ کی تمام تر مساعی کے باوجود ان لوگوں کی اکثریت ایمان سے محروم رہے گی۔ گلے کے طوق اب آج کی آیات میں ایمان نہ لانے والوں کی حالت کا تذکرہ کیا گیا ہے اور خوف خدا رکھنے والوں کے بعض اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ اس کمے بعد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَہُمْ۝ 0 ۭوَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰہُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ۝ 12 ۧ حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

انا نحن نحی الموتٰی الخ کہ کامل بدلہ پانے کا گھر دار آخرت ہے اور وہ اس طرح سے ہے کہ ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ لوگ کرتے ہیں۔ نیک بداعمال ان کو ہم دفتر غیب میں لکھتے ہیں اور جو کچھ مرنے کے بعد وہ دنیا میں نیک و بد بات برا بھلا اثر پہنچانے والی چھوڑ کر جاتے ہیں اس کو بھی ہم لکھتے جاتے ہیں اور ہمارے دفتر میں ہر ہر بات لکھی ہوتی ہے، پس اس کے مطابق وہاں بدلہ دیں گے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰی وَنَـکْتُبُ مَاقَدَّمُوْا وَاٰثَارَھُمْ ط وَکُلَّ شَیْ ئٍ اَحْصَیْنٰـہُ فِیْٓ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ ۔ (یٰسٓ: 12) (بےشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے، اور ہم لکھ رہے ہیں جو کچھ انھوں نے آگے بھیجا ہے اور جو کچھ پیچھے چھوڑا ہے، اور ہم نے ہر چیز ایک واضح کتاب میں محفوظ کرلی ہے۔ ) آخرت کی یاد دہانی حق و باطل کی یہ کشمکش یونہی بےنتیجہ جاری نہیں رہے گی بلکہ وہ دن بہت دور نہیں جب اس کشمکش کے مختلف کرداروں کو ان کے اعمال کے مطابق جزا و سزا سے گزرنا ہوگا۔ ایک دن ایسا آئے گا جب ہر چیز تباہ کردی جائے گی۔ ہر زندہ چیز موت سے ہمکنار ہوجائے گی۔ پھر ایک وقت آئے گا جب زندگی کی کارفرمائی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–13

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے ارشاد ہوا ہے کہ ہم موت وحیات پر اختیار رکھنے والے اور ہر بات کو اپنے ہاں لکھنے والے ہیں۔ اب موت وحیات کے حوالے سے ایک قریہ کی مثال بیان کی جاتی ہے۔ اے محبوب پیغمبر ﷺ اپنے سامعین کے سامنے اس بستی کی تاریخ اور مثال پیش فرمائیں جس کے پاس آپ کے رب نے یکے بعد دیگرے تین رسول مبعوث فرمائے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم نے اس بستی کے رہنے والوں کے لیے دو رسول بھیجے جنہوں نے بڑے خلوص اور جانفشانی کے ساتھ اہل قریہ کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن قریہ والوں نے انہیں یکسر طور پر مسترد کردیا۔ ان کی تائید کے لیے ہم نے تیسرا رسول بھیجا اس نے پہلے دو انبیاء کی تائید کی اور ان کے ساتھ مل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ان کے اگلے پچھلے اعمال کو لکھ لیتے ہیں : 12: اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰی (بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے) ان کی موت کے بعد ان کو اٹھا کھڑا کریں گے نمبر 2۔ شرک سے ایمان کی طرف نکالیں گے۔ وَنَکْتُبُ مَا قَدَّ مُوْا (اور ہم لکھتے جاتے ہیں وہ اعمال جن کو وہ آگے بھیجتے جاتے ہیں) جو اعمال صالحہ وغیرہا انہوں نے آگے بھیجے۔ وَ ٰاثَارَ ھُمْ (اور ان کے وہ اعمال بھی جن کو وہ پیچھے چھوڑ جاتے ہیں) جو کسی اچھے عمل کا اثر انہوں نے باقی چھوڑا۔ جیسے کسی کو علم سکھایا یا کتاب تصنیف کردی یا سرائے بنائی یا مسجد تعمیر کرادی، جہاد کیلئے گھوڑا وقف کردیا۔ یابرے کام پیچھے چھوڑے جیسے ظالم کوئی ٹیکس لگا دے۔ اسی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 12، انا نحن الموتی ، یعنی جب قبروں سے اٹھا یا جائے گا۔ ، ونکتب ماقدموا، اور لکھتے ہیں ان کے اعمال نیک ہوں یابد۔ آثار سے کیا مراد ہے مختلف تفاسیر ، وآثارھم، اس سے مراد اچھے اعمال اور برے اعمال بھی ہیں۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا جس پر آنے والے لوگوں نے عمل کیا تو اس شخص کو اپنے کیے کا بھی اجرملے گا اور دوسرے کے اعمال کرنے کا بھی (ڈبل اجر ملے گا) اس کے اعمال میں بغیر کسی اجر میں کمی کیے اور جس نے اسلام میں کوئی بری چیز ایجاد کی جس پر بعد والے لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اس فعل کے ایجاد کرنے اور دوسرے لوگوں کا اس پر چلنے کا (ڈبل گناہگار ہوگا) لیکن بعد کو عمل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

12۔ صحیح مسلم میں جابر بن عبداللہ ؓ سے 1 ؎ ترمذی اور حاکم میں ابوسعید خدری ؓ کی روایت 1 ؎ سے اور طبرانی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 65‘ 566 ج 3 وتفسی الدد المنثور ص 260 ج 5) اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک قبیلہ بنی سلمہ کے مکانات مسجد نبوی سے فاصلہ پر تھے دور سے نماز کے لیے مسجد نبوی میں آنے کے قوت ان لوگوں کو ذرا تکلیف ہوتی تھی اس واسطے انہوں نے چاہا کہ مسجد نبوی کے پاس اپنے نماز کے لیے مسجد نبوی میں آنے کے وقت ان لوگوں کو ذرا تکلیف ہوتی تھی اس واسطے انہوں نے چاہا کہ مسجد نبوی کے پاس اپنے مکانات بنالیویں اس پر اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–20

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بےانتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ” حکم “ اور ” حکمت “ کے تذکرے کو یکجا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ (انک لمن المرسلین) ” بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نیق سم کھائی اور وہ ہے محمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

16 روز جزا اور اس کے تقاضوں کی تذکیر و یاددہانی : سو روز جزا جو کہ خدائے رحمن کی رحمانیت کا تقاضا ہے اس کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم یقینا مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھ رہے ہیں جو کچھ کہ انہوں نے آگے بھیجا اور انکے نشانات کو "۔ خواہ انکے وہ آثار و نشانات اچھے ہوں یا برے۔ آثار حسنہ کی مثال جیسے کوئی علم چھوڑا۔ یعنی کچھ لوگوں کو علم دین سکھا گیا۔ اللہ کے لئے کوئی علمی و دینی کتاب لکھ گیا یا کوئی مدرسہ قائم کر گیا۔ یا مسجد بنا گیا وغیرہ وغیرہ۔ اور آثار سیئہ جیسے برائی کا کوئی اڈہ قائم کر گیا۔ کچھ لوگوں کو غلط راہ پر ڈال گیا۔ کوئی گندہ لڑیچر چھوڑ گیا۔ کوئی بدعت نکال…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

رسول کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : اللہ نے قرآن کی قسم قرآن کی فضیلت کے لیے کھائی ہے۔ جیسا کہ کئی دفعہ بیان کیا جا چکا ہے کہ قرآن اتنی مکمل اور بہترین کتاب ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رہ گئی کہ اب کوئی اور کتاب بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے بھیجی جائے۔ پھر اس کو بھیجنے والا غالب اور مہربان ہے۔ غالب اس طرح کہ اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں کہ جس کو بیان کرنا رہ گیا ہو۔ بلکہ اس میں تو ان تمام چھپی ہوئی اور آنیوالے زمانے کی باتیں بھی بڑی وضاحت اور آسان الفاظ میں بیان کردی گئی ہیں۔ مثلاً فرشتوں کے بارے میں، آخرت کے بارے میں، قیامت کے بارے میں، یہ سب علم الغیب ہے۔ مہربان اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–13

رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 12: اسرار و معارف : سورة یس کے بیشمار فضائل ہیں جو مفسرین کرام نے لکھ دئیے ہیں اور احادیث مبارکہ میں ارشاد ہیں اسی کو قرآن حکیم کا دل قرار دیا گیا ہے کسی بھی ضرورت یا مصیبت میں پڑھ کر دعا کرنا اس سے رہائی کا باعچ ہوتا ہے۔ یس حروف مقطعات میں سے ہے۔ قسم ہے قرآن حکیم کی یعنی یہ پر از حکمت کتاب کہ انسانی زندگی کے بہترین انداز میں بسر کرنے کا پورا طریقہ و سلیقہ موجود۔ طب و حکمت۔ عقل و دانش۔ سائنس و ایجادات۔ کیمیا و مرکبات۔ تاریخ و حقائق اور آئندہ کی پیشگوئیاں سب کچھ اس ایک کتاب میں موجود جس کا ایک ایک لفظ حق۔ سچ اور کھرا ہے یہی سب سے بڑا گواہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی از اعمال خیر و شر ( فتح الرحمن) پیچھے چھوڑے جانیوالے نشانیوں سے مراد وہ نیکیاں یا برائیاں ہیں جن کے ثواب، گناہ کا سلسلہ آدمی کے مرنے کے بعد بھیزجاری رہے جیسے کوئی شخص ایسا نیک یا بد طریقہ جاری کرے جس پر لوگ اس کے بعد بھی عمل کریں اور ان کے ساتھ ساتھ اسے بھی اس کا ثواب یا گناہ ملتا رہے۔ بعض صحابہ ؓ وتابعین ؓ نے آثار سے مراد پائوں کے نشان لئے ہیں۔ جیسا کہ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو سلمہ نے جو مدینہ کے ایک گوشہ میں رہتا تھا، یہ چاہا کہ اپنے پرانے گھروں کو چھوڑ کر مسجد نبوی ﷺ کے قریب آ کر آباد ہوجائے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی، چناچہ آنحضرت ﷺ نے انہیں بلایا اور فرمایا ( یا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

36:12 واثارہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے پیچھے۔ ان کے نشانات قدم۔ وائو عاطفہ ہے اثارہم کا عطف ما قدموا پر ہے ای ونکتب اثارہم اور ہم لکھتے جاتے ہیں ان کے نیک وبد اعمال جو وہ پیچھے چھوڑے جاتے ہیں۔ وکل شیء احصینہ۔ ای واحصینا کل شیئ۔ احصینا ماضی جمع متکلم احصاء (افعال) مصدر جس کے اصل معنی عدد کو حاصل کرنے کے ہیں احصیت کذا میں نے اسے شمار کیا۔ اصل میں یہ لفظ حصی (کنکریاں) سے مشتق ہے اور اس سے گننے کے معنی اس لئے لئے جاتے ہیں کہ عرب کے لوگ گنتی میں کنکریوں پر اس طرح اعتماد کرتے تھے جس طرح ہم انگلیوں پر کرتے ہیں۔ ہ ضمیر مفعول کل شیء کے لئے ہے یعنی ہم نے ہر شی کو گن رکھا ہے یا ضبط کر رکھا ہے یا درج کر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–12

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ الحکیم (پختہ اور مستحکم) حق القول ( بات پکی ہوچکی ہے ( عذاب ثابت ہوچکا ہے) اغناق ( عنق) (گردنیں) اغلال (طوق) الاذقان (ذقن) (ٹھوڑیاں) مقمحون ( مقمح) ( سر اونچا کرنے والے ( جو آگے نہیں جھکا سکتے) سد (دیوار) اغشینا ( ہم نے ڈھانپ دیا) خشی ( ڈرا) نکتب ( ہم لکھتے ہیں) قدموا ( آگے بھیجا) اثار ( اثر) پیچھے چھوڑی ہوئی نشانیاں ( اعمال) احصینا (ہم نے گھیر لیا) امام مبین ( کھلی کتاب) تشریح : آیت نمبر 1 تا 12 :۔ اس سورت کا آغاز بھی ایسے حروف سے کیا گیا ہے جن کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے یعنی وہ حروف جو معنی سے کٹے ہوئے ہیں اور ان کے معنی کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن اس جگہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–12

اللہ کی قدرت کی نشانی۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ کامل بدلہ پانے کا مقام آخرت ہے اور وہ اس طرح سے ہے کہ ہم مردوں کو زندہ کریں گے پھر فرمایا کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا اور نیک وبد عمل اور ان کی جزا وسزا دینے کے واسطے لوح محفوظ میں لکھتے ہیں اور ہم ان کے ان طریقوں کو بھی اسمیں لکھتے ہیں جن کو وہ اپنے بعد والوں کے واسطے مقررکرگئے ہم نے لوح محفوط میں تمام چیزوں کو اکٹھا کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–17

[7] یعنی نیک و بداعمال جو آگے بھیج چکے۔ [8] یعنی وہ اعمال جن کے اچھے یا برے اثرات یا نشان پیچھے چھوڑے۔ [9] یعنی لوح محفوظ میں۔ اصل میں لفظ '' امام '' استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی پیشوا اور شارع عام کے ہیں اور لوح محفوظ پر دونوں باتیں صادق آتی ہیں کہ تمام واقعات گزشتہ اور آئندہ اسی کے مطابق ہوئے اور ہوں گے۔ گویا تمام دنیا ومافیہا اسی پر چل رہی ہے۔ اور اس کو واضح اس لئے فرمایا کہ اس میں تمام باتیں وضاحت سے لکھی ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–14

ضبط اعمال کا نظریہ 1: ضبط اعمال کا نظریہ قرآن حکیم نے پیش فرمایا ہے ۔ اور یہ نظریہ ان محترعات علمی سے ہے جن کو آج پیش کیا جارہا ہے ۔ جہاں تک گفتگو کا تعلق تھا ۔ اب یہ مشاہدہ ہے ۔ کہ ہر لفظ جو زبان سے نکلتا ہے ۔ پتھر کے تموجات اس کو فضا میں پھیلا دیتے ہیں ۔ اور وہ گم نہیں ہوتا ۔ اور اگر کہیں ایسے آلات نصب ہوں ۔ جو ان تموجات کو اپنی گرفت میں لے سکیں ۔ تو فضا میں منتشر اقوال صاف سنائی دینے لگتے ہیں ۔ چاہے متکلم اور سامع میں ہزاروں کوس کا فاصلہ ہوا ۔ اس طرح یہ بھی صحیح ہے ۔ کہ نفس اعمال کے الزات بھی ضائع نہیں جاتے ۔ فضا میں ایسے برقی ذرات ہیں (الیکڑان) جو ان کو زندہ جاوید بنا دیتے ہیں ۔ مگر ابھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(12) بلاشبہ ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم ان کے ان تمام اعمال کو لکھتے رہتے ہیں جو وہ آگے بھیج جاتے ہیں اور وہ اعمال بھی جن کے اثرات وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو ایک کھلی کتاب میں گھیر رکھا ہے اور محفوظ کر رکھا ہے یعنی لوح محفوظ میں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں جو کچھ کرتا ہے وہ عمل مرتے وقت ختم ہوجاتے ہیں لیکن بعض اعمال کا اثر مرنے کے بعد بھی رہتا ہے کوئی مدرسہ بنوا دیا یا اچھا طریقہ جاری کردیا۔ یا کوئی بری رسم قائم کر گیا۔ بہرحال خواہ پہلی قسم ہو اعمال کی یا دوسری اعمال اچھے ہوں یا برے ہوں سب ضبط تحریر میں آتے رہتے ہیں اور ہم تو ہر چیز کو اس کے وقوع سے پہلے ہی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ ما قدموا سے مراد جو کام اپنے ہاتھ سے کیا، اور اثارھم سے مراد وہ جو اس کے کام کے سبب پیدا ہوا اور بعد مرگ بھی قائم رہا، غرض یہ سب لکھے جارہے ہیں، اور وہاں ان سب پر جزا و سزا مرتب ہوجاوے گی۔ 6۔ یعنی لوح محفوظ میں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور جو انہوں نے آگے بھیجا ہے اس کو لکھ بھی رہے ہیں : 12۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان کفر کی موت ہوؤں کو بھی ہم زندہ کردیتے ہیں اپنے قانون کے مطابق کہ اگر وہ کفر سے نکلنا چاہتے ہیں اور اسلام کی زندگی اختیار کرنا چاہتے ہیں تو ہماری ہدایت تو ان کے لئے ہر وقت تیار ہے اور آپ ﷺ کو اس زندگی کے لئے بھیجا گیا اور آپ ﷺ سے پہلے بھی اسی مقصد کے تحت آئے تھے نہ گزشتہ نبیوں اور رسولوں میں ہم نے ہدایت دی تھی کہ وہ چاہے جس کو ہدایت دے دیں اور نہ ہی آپ ﷺ کو یہ اختیار دیا گیا ہے یہ لوگ اچھا یا برا جو کچھ بھی کریں گے وہ محفوظ کیا جا رہا ہے انہی سے وہ نکلیں گے جو قرآن کی روشنی کو قبول کریں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In verse 12, by saying: وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَ‌هُمْ (and We are recording whatever (deeds) they send ahead and whatever effects they leave behind.), the doing of deeds has been equated with 'sending ahead' to point out that good or bad deeds done in the mortal world have not gone the way of all flesh right here. Instead of that, these were their wherewithal, their baggage that has gone ahead of them to their destination in the next world that they have to confront. Now, if these deeds were good, they will make them look handsome in Paradise, and if they were bad, the embers of Hell…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

9 This shows that three kinds of the entries are made in the conduct-book of men. First, whatever a person does, good or bad is entered in the Divine Register. Second, whatever impressions a man makes on the objects of his environment and on the limbs of his own body itself, become recorded, and all these impressions will at one time become so conspicuous that man's own voice will become audible and the whole history of his ideas and intentions and aims and objects and the pictures of all of his good and bad acts and deeds will appear before him. Third, whatever influences he has left behind…

Read the full tafseer →