Explained with ayahs 22–25
راہ حق کا شہید۔
وہ نیک بخت شخص جو اللہ کے رسولوں کی تکذیب و تردید اور توہین ہوتی دیکھ کر دوڑا ہوا آیا تھا اور جس نے اپنی قوم کو نبیوں کی تابعداری کی رغبت دلائی تھی وہ اب اپنے عمل اور عقیدے کو ان کے سامنے پیش کر رہا ہے اور انہیں حقیقت سے آگاہ کرکے ایمان کی دعوت دے رہا ہے، تو کہتا ہے کہ میں تو صرف اپنے خالق مالک اللہ وحدہ لاشریک لہ کی قدرت کی ہی عبادت کرتا ہوں جبکہ صرف اسی نے مجھے پیدا کیا ہے تو میں اس کی عبادت کیوں نہ کروں ؟ پھر یہ نہیں کہ اب ہم اس کی قدرت سے نکل گئے ہیں ؟ اس سے اب ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا ہو ؟ نہیں بلکہ سب کے سب لوٹ کر پھر اس کے سامنے جمع ہونے والے ہیں۔ اس وقت وہ ہر بھلائی…
Read the full tafseer →سورة یٰسٓ 18
اس فقرے کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ استدلال کا شاہکار ہے، اور دوسرے حصے میں حکمت تبلیغ کا کمال دکھایا گیا ہے۔ پہلے حصے میں وہ کہتا ہے کہ خالق کی بندگی کرنا تو سراسر عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔ نامعقول بات اگر کوئی ہے تو وہ یہ کہ آدمی ان کی بندگی کرے جنہوں نے اسے پیدا نہیں کیا ہے، نہ یہ کہ وہ اس کا بندہ بن کر رہے جس نے اسے پیدا کیا ہے۔ دوسرے حصے میں وہ اپنی قوم کے لوگوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ مرنا آخر تم کو بھی ہے، اور اسی خدا کی طرف جانا ہے جس کی بندگی اختیار کرنے پر تمہیں اعتراض ہے۔ اب تم خود سوچ لو کہ اس سے منہ موڑ کر تم کس بھلائی کی توقع کرسکتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
(آیت) وجاء من اقصی المدینہ رجل یسعیٰ ، پہلی آیت میں اس مقام کو جس میں یہ قصہ پیش آیا لفظ قریہ سے تعبیر کیا گیا جو عربی زبان کے اعتبار سے صرف چھوٹے گاؤں کو نہیں بلکہ مطلق بستی کو کہتے ہیں، چھوٹی بستی ہو یا بڑا شہر۔ اور اس آیت میں اس مقام کو لفظ مدینہ سے تعبیر کیا جو صرف بڑے شہر ہی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس بستی میں یہ واقعہ ہوا ہے وہ کوئی بڑا شہر تھا، اس سے بھی اس قول کی تائید ہوتی ہے جس میں اس کو انطاکیہ قرار دیا ہے۔ اقصی المدینہ سے مراد شہر کے کسی گوشہ سے آنا ہے۔ رجل یسعیٰ ، لفظ یسعیٰ سعی سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی دوڑ کر چلنے کے ہیں۔ اس لئے معنی یہ ہوئے کہ شہر کے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
آیت 22۔ 25
اندازِ کلام دلیل ہے کہ یہ بات انہوں نے قوم کے لیڈروں کی ملامت کے جواب میں فرمائی ہے۔ جب انہوں نے کھلم کھلا لوگوں کو رسولوں کی پیروی کی دعوت دی ہوگی تو ظاہر ہے کہ مفاد پرست لیڈروں نے ان کو قوم اور دین آبائی کا دشمن ٹھہرایا ہوگا۔ ان کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ آخر اس کی بندگی میں کیوں نہ کروں جس نے مجھے وجود بخشا اور جس کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے۔ ’ والیہ ترجعون ‘ میں خطاب کا صیغہ تنبیہ کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج جس رب کی بندگی سے تم لوگ اس شدو مد کے ساتھ مجھے روک رہے ہو، ایک دن پیشی سب کی اسی کے حضور میں ہونی ہے اور تمہیں اس کے آگے جواب دہی کرنی ہے۔
ء اتخذمن دونہ الھۃ الایۃ ‘۔…
Read the full tafseer →22۔ 1 اپنے مسلک توحید کی وضاحت کی، جس سے مقصد اپنی قوم کی خیر خواہی اور ان کی صحیح رہنمائی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی قوم نے اس سے کہا ہو کہ کیا تو بھی اس معبود کی عبادت کرتا ہے، جس کی طرف یہ مرسلین ہمیں بلا رہے ہیں اور ہمارے معبودوں کو تو بھی چھوڑ بیٹھا ہے ؟ جس کے جواب میں اس نے کہا۔ مفسرین نے اس شخص کا نام حبیب نجار بتایا۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
8: روایتوں میں ان کا نام حبیب نجار بتایا گیا ہے۔ یہ پیشے کے لحاظ سے بڑھئی تھے، اور ان رسولوں کی دعوت پہلے ہی قبول کر کے ایمان لا چکے تھے، اور شہر کے سرے پر کہیں تنہا رہ کر عبادت میں لگے رہتے تھے۔ جب انہیں پتہ چلا کہ ان کی قوم کے لوگ ان رسولوں کو تکلیف پہنچانے کے درپے ہیں تو یہ جلدی سے وہاں پہنچے، اور بڑے مؤثر انداز میں اپنی قوم کے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔
Read the full tafseer →پارہ ۔۔۔۔ 23
سورة یسین۔ 36
آیات 22 ۔۔۔ تا۔۔۔ 83
وما لی لا اعبد۔۔۔۔۔ امنت بربکم فاسمعون (22 – 25) ” “۔
یہ سوچ اور یہ سوالات ایک ایسی فطرت کے ہیں جسے خالق کائنات کا شعور حاصل ہوچکا ہو ، جو اپنے مقصد و جود کو پا چکی ہو اور اس کے ساتھ پوری طرح وابستہ ہوچکی ہو۔ پھر اس کی پکار یہ ہوتی ہے۔
ومالی لا اعبد الذی فطرنی (36: 22) ” آخر کیوں نہ میں اس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیا “۔ آخر میں اس فطری منہاج سے کیوں ہٹ جاؤں جو میرے دل میں پیوست ہوچکا ہے۔ کیونکہ انسان کے اندر اس ذات کی کشش ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ سب سے پہلے انسانی فطرت خدا اور خالق کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ اور اگر فطرت اس راہ سے…
Read the full tafseer →1 یہ اپنے اوپر رکھ کر دوسروں کو سنایا۔ یعنی تم کو آخر کیا ہوا کہ جس نے پیدا کیا اس کی بندگی نہ کرو۔
2 یعنی یہ مت سمجھنا کہ پیدا کر کے آزاد چھوڑ دیا ہے۔ اب کچھ مطلب اس سے نہیں رہا۔ نہیں، سب کو مرے پیچھے اسی کے پاس واپس جانا ہے۔ اس وقت کی فکر کر رکھو۔
Read the full tafseer →آیت 22 { وَمَا لِیَ لَآ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ } ”اور مجھے کیا ہے کہ میں عبادت نہ کروں اس ہستی کی جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹا دیے جائو گے۔“
دیکھو ! یہ لوگ جو دعوت دے رہے ہیں وہ یہی تو ہے کہ تم اس اکیلے معبود کی پرستش کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم سب لوگوں نے پلٹ کر بھی جانا ہے۔ چناچہ مجھے تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ میں اس اللہ کی عبادت نہ کروں جو میرا خالق ہے۔
Read the full tafseer →24 تیسری بات جو مرد صالح نے سمجھائی۔ اس میں قوم کو مخاطب نہیں کیا تاکہ وہ چڑ نہ جائیں بلکہ اسے اپنی ذات سے منسوب کرتے ہوئے کہا کہ میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ عبادت کی مستحق وہی ہستی ہوسکتی ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور اسی لئے میں صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں۔ اور اللہ کے سوا جن ہستیوں کو تم نے اپنا حاجت روا قرار دے رکھا ہے ان کا میرے پیدا کرنے اور رزق دینے میں کچھ حصہ ہی نہیں تو آخر میں انہیں کیوں پکاروں اور کیوں ان کی عبادت کروں۔
25 چوتھی بات ان کے انجام سے متعلق انہیں سمجھائی کہ آخر تم سب نے مرنا ہے۔ اور تم سب کی روحیں اللہ کے قبضہ میں ہیں۔ اور تمہیں اس ہستی کی طرف لوٹ کر جانا ہے جس کی بندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
15۔ مرد مومن کی تقریر کا حاصل یہ ہے کہ جب پروردگار وہی ایک اور داور حشر بھی وہی ایک، اور سارے دیوی دیوتا بےاختیار محض، تو آخر دین توحید چھوڑ کر شرک اختیار کرنے کے معنی ہی کیا ؟ یہ تو سرتاسر محض بےعقلی ہی ہوئی۔ (آیت) ” الذی فطرنی والیہ ترجعون “۔ خالق بھی وہی داور حشر بھی وہی۔ مبدا بھی وہی۔ منتہی بھی وہی۔ ہر سادہ وسلیم فطرت والا بعینہ یہی استدلال کرے گا۔ (آیت) ” ومالی لا اعبد۔ ء اتخذ۔ انی اذا “۔ ہر جگہ صیغہ واحد متکلم کے استعمال سے مفسر تھانوی (رح) نے یہ استنباط کیا ہے کہ مرد مومن نے یہ سب اپنے اوپر رکھ کر اس لیے کہا کہ مخاطبین کو اشتعال نہ ہو، جو غور و تدبر کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ (آیت) ” انی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
آیت نمبر 13 تا 32
ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم…
Read the full tafseer →وما لی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون . اور میرے پاس کونسا عذر ہے کہ میں اس (معبود) کی عبادت
نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔
اس کلام میں لطیف طرز میں ہدایت کی ہے اپنے نفس کو نصیحت کرنے کے پیرایہ میں ‘ دوسروں کو خالص نصیحت کی ہے کہ دوسروں کو بھی اسی بات کو اختیار کرنا چاہئے جو ناصح نے اپنے لئے اختیار کی ہے۔ حقیقت میں کفار کو اس امر پر رجز کرنا مقصود ہے کہ انہوں نے خالق کی عبادت کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت پسند کی ہے۔
وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ اس کلام میں پرزور تہدید ہے۔
ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ کا بیان نقل کیا ہے کہ حبیب ایک غار کے اندر اللہ کی…
Read the full tafseer →اس پر حبیب نجار کہنے لگے میرے پاس کون سا عذر ہے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور مرنے کے بعد تم سب کو اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔
Read the full tafseer →وَمَالِيَ لَآ اَعْبُدُ الَّذِيْ فَطَرَنِيْ : توحید کی دعوت دیتے ہوئے اس مرد صالح نے نہایت حکیمانہ اسلوب اختیار کیا کہ انھیں مخاطب کرنے کے بجائے اپنے آپ کو مخاطب کرلیا، تاکہ وہ چڑ نہ جائیں۔ یعنی آخر مجھے کیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور ان کی عبادت کروں جنھوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا، بلکہ خود لوگوں نے انھیں بنایا ہے۔
وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ : اور یہ بھی نہ سمجھنا کہ اس نے ہمیں پیدا کر کے آزاد چھوڑ دیا ہے، اب اس کا کوئی تعلق واسطہ ہم سے نہیں رہا، بلکہ تم سب کو مرنے کے بعد اسی کے پاس واپس لے جایا جائے گا، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–29
رجل سے مراد حبیب بن مری ہے وہ بڑھئی تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ اسکاف) جوتا ( بنانے والا تھا۔ ایک قول کیا گیا۔ وہ دھوبی تھا۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاد اور مقاتل نے کہا۔ وہ حبیب بن اسمائیل نجاز تھا وہ بت تراشا کرتا تھا یہ نبی کریم ﷺ پر ایمان لایا جب کہ درمیان میں چھ سو سال کا عرصہ ہے جس طرح تعہ اکبر ورقہ بن نوفل اور دوسرے لوگ ایمان لائے کوئی فرد کسی نبی پر ایمان نہیں لایا تھا ‘ مگر اس وقت جب وہ نبی ظاہر ہوچکا تھا (1) ۔
وہب نے کہا ’ حبیب کو جزام کا مرض تھا اس کا گھر شہر کے دروازوں میں سے آخری دروازے کے پاس تھا وہ ستر سال تک بتوں کی عبادت میں مصروف رہا اور دعا کرتا رہا ممکن ہے وہ بت اس پر رحم کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
وقولہ تعالیٰ : (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی قال یقوم اتبعو المرسلین (20) اتبعوامن لا یسئلکم اجراوھم مھتدون (21) ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون (22) ۔
19:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وجآء من اقصا المدینۃ رجل یسعی “ کے بارے میں روایت کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ آدمی نماز میں اللہ کی عبادت کرتا تھا اور اس کا نام حبیب تھا (جب) اس نے ان لوگوں کے بارے میں سنا جن کو عیسیٰ (علیہ السلام) نے انطاکیہ والوں کی طرف بھیجا تھا وہ ان کے پاس آیا اور کہا تم کسی اجرت کا تقاضا کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں تو…
Read the full tafseer →وَمَالِيَ [اور مجھے کیا ہے کہ ] لَآ اَعْبُدُ [میں بندگی نہ کروں ] الَّذِيْ [اس کی جس نے ] فَطَرَنِيْ [وجود بخشا مجھ کو ] وَاِلَيْهِ [اور اس کی طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ [تم سب لوٹائے جاؤ گے ] ۔
ترکیب : (آیت۔ 22) مالی در اصل مالیْ ہے۔ اس کو اگر مالیْ ہی پڑھیں تو اس پر وقف آجاتا ہے اور یہ اگلی عبارت لااعبد سے منفصل ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں معنی ہوجاتے ہیں ” مجھے کیا ہے ! میں عبادت نہیں کرتا یا نہیں کروں گا۔ “ لیکن اس کو اگر لا اعبد سے متصل مانیں تو پھر اسے وقف کے بغیر پڑھنا ہوگا اور ایسی صور میں معنی ہوں گے ” مجھے کیا ہے کہ میں عبادت نہ کروں۔ “ یہ ظاہر کرنے کے لئے یہاں اس کو وقف کے بغیر پڑھنا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
اس کے بعد اس شخص نے اپنے دین توحید کا کھل کر اعلان کردیا کہ (اِنِّیْ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنَ ) (بلاشک و شبہ میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا تم میرے اس اعلان کو سن لو) اس اعلان میں (بِرَبِّیْ ) نہیں کہا بلکہ (بِرَبِّکُمْ ) کہا جس میں انہیں تنبیہ کردی اور یہ بتادیا کہ جو تمہارا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے، دوسرے یہ بتایا کہ تم اسی کی طرف واپس جاؤ گے، تیسرے یہ بتایا کہ تم نے جو اس کے علاوہ معبود بنا رکھے ہیں بےحقیقت ہیں، چوتھے یہ بتایا کہ تم کھلی ہوئی گمراہی میں ہو، اور پانچویں یہ بتادیا کہ میں نے یہی دین اختیار کیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کروں تم بھی یہ دین اختیار کرلو۔
معالم التنزیل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
بقیہ قصہ مرد صالح مشتمل برپندو نصائح برائے اصلاح قوم
قال اللہ تعالیٰ وما لی لا اعبد الذی فطرنی۔۔۔ الی۔۔۔ وان کل لما جمیع لدینا محضرون۔
خلاصہء کلام یہ کہ منتہائے شہر سے ایک مرد صالح دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو نصیحت کرنے لگا کہ تم مرسلین کی پیروی کرو کیونکہ یہ لوگ خود غرضی سے بالکلیہ پاک ہیں جو مانع اتباع ہے اس لئے کہ وہ تم سے کسی قسم کا معاوضہ نہیں مانگتے لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا کے مصداق کامل ہیں اور خود حق اور راہ راست پر ہیں اور تم کو بھی حق اور راہ راست کی دعوت دے رہے ہیں جو اتباع اور پیروی کا داعی اور مقتضی ہے اور میں نے تو حق کو پہچان لیا اور دل وجان سے ان کو قبول کرلیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
15:۔ وما لی الخ، حبیب نجار نے جب قوم کے سامنے تقریر کی تو انہوں نے کہا اچھا ! تو بھی ان کا ساتھی ان کے عقیدے پر ہے۔ اور ہمارے دین کا مخالف ہے فلما قال ذالک قالوا لہ وانت مخالف لدیننا و متابع دین ھؤلاء الرسل (مظہری ج 8 ص 78) ۔ اس پر اس نے کہا، وما لی لا اعبد الخ، آخر کیا وجہ ہے کہ میں اس ذات پاک کی بلا شرکت غیرے خالص عبادت نہ کروں جس نے مجھے زندگی عطا فرمائی ہے اور آخر کار جزاء و سزا کے لیے قیامت کے دن تم سب اس کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے، اس لیے بہتر ہے کہ تم بھی اس کے رسولوں پر ایمان لے آؤ اور اس کی توحید کو مان لو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ والیہ ترجعون بعد الموت فیجازیکم باعمالکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–32
مکی سورتوں کے چار بنیادی عقائد میں سے اس رکوع میں رسالت کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ گزشتہ درس میں انطاکیہ کی بستی کا ذکر ہوا کہ اس میں اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبغلین دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آئے تو اہل بستی نے ان کی تکذیب کی ، بدسلوکی کرنے اور ایذا پہنچانے کے علاوہ ان کو طعن بھی کیا کہ تمہاری آمد کی وجہ سے ہم پر نحوست چھا گئی ہے ، ہمارے علاقے میں خشک سالی پیدا ہوگئی ہے اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ رسولوں نے جواب دیا کہ یہ نامبارکی ہماری وجہ سے نہیں ہے بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھنے والے ہو۔ جس کی سزا تمہیں مل رہی ہے۔
ایک مومن کی خیر خواہی
مرسلین نے…
Read the full tafseer →وَمَالِيَ لَآ اَعْبُدُ الَّذِيْ فَطَرَنِيْ وَاِلَيْہِ تُرْجَعُوْنَ 22
عبادت
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان :
عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود .
وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] .
( ع ب د ) العبودیۃ
کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–25
ترکیب : اصحٰب القریۃ معناہ واضرب لہم مثلا مثل اصحاب القریۃ فترک المثل و اقیم الاصحاب مقامہ فی الاعراب کقولہ و اسئل القریۃ کشاف وقیل المعنی اجعل اصحاب القریۃ لھم مثلاً علی ان یکون مثلا و اصحٰب القریۃ مفعولین لاضرب او یکون اصحاب القریۃ بدلا من مثلا فعلی ھذا اضرب بمعنی مثل وھو یتعدی الی مفعولین لتضمنہ معنی الجعل و ھما مثلا اصحٰب القریۃ علی حذف مضاف اذ جاء بدل من اصحٰب القریۃ بدل الاشتمال اَئِنْ ذکرتم شرط و جو ابہ محذوف مثل تطیرتم لما جمیع قریٔ مشدد او مخففا قال الفراء من شدو جعل لما بمعنی الاوان بمعنی ما۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا۔ انک لمن المرسلین اور اس کے بعد یہ بھی فرمایا تھا کہ ازلی گمراہ…
Read the full tafseer →وَمَا لِیَ لَآ اَعْبُدُالَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 22)
(اور میں کیوں نہ بندگی کروں اس ہستی کی جس نے مجھ کو پیدا کیا ہے، اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ )
قوم کی ملامت کا جواب
اسلوبِ کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس مخلص بندے کی تقریر کے جواب میں اس بپھری ہوئی قوم نے اس کی مخلصانہ دعوت کو قبول کرنے کی بجائے اسے ملامت شروع کردی کہ تم ایسا لگتا ہے کہ ان رسولوں سے کوئی سازباز کرچکے ہو۔ یا ان کے خفیہ ایجنٹ ہو۔ تم پروگرام کے تحت عین وقت پر ان کی حمایت کے لیے پہنچے ہو تاکہ تم لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوسکو۔ تم درحقیقت دین آبائی کے دشمن ہو اور اس کے لیے تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
فہم القرآن
ربط کلام : مضافات شہر سے آنے والے صالح انسان کا اپنی قوم کو خطاب جاری ہے۔
انبیائے کرام (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ اور ان کی اتباع کی تلقین کرنے کے بعد صالح انسان نے اپنا عقیدہ قوم کے سامنے پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے پاس کیا عذر ہے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں ؟ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم نے بھی لوٹ کرجانا ہے کیا میں اسے چھوڑ کر کسی اور کو معبود بنا لوں جبکہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہی انسان کے نفع و نقصان کا مالک ہے۔ اگر رب رحمن میرے نقصان کا فیصلہ کرے تو جن کی تم عبادت کرتے ہو ان کی سفارش نہ مجھے فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ ہی یہ کسی مصیبت…
Read the full tafseer →22: وَمَالِیَ لَآ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ (اور میرے پاس کونسا عذر ہے کہ میں عبادت نہ کروں اس کی جس نے مجھ کو پیدا کیا) ۔ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (اور تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے) ۔
قراءت : حمزہ نے ومالی پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر 22۔ ، ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون، حمزہ اور یعقوب نے یاء کے سکون کے ساتھ ، مالی، پڑھا ہے جبکہ دوسرے قراء نے یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ پھر حبیب نجارنے ان کے جواب میں کہا، ومالی لا اعبدالذفطرنی والیہ ترجعون، اس شخص نے فطرت کی نسبت اپنی طرف کی اور اللہ کی طرف لوٹ کرجانے کی نسبت قوم کی طرف کی ۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ فطرت (تخلیق الٰہیہ ) ایک نعمت ہے جس کو ظاہرکرنا اس شخص پر لازم ہے اور اللہ کی طرف لوٹ کرجانے میں ایک طرح کی توبیخ وزجر ہے۔ بعض نے کہا جب حبیب نجار کو قوم والوں نے کہا کہ کیا تم نے قاصدوں کی اتباع کرلی اس کو پکڑا اور اس کو بادشاہ کے پاس لے گئے ۔ ان کو بادشاہ نے کہا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
20 تا 25۔ جس بستی کا اوپر ذکر تھا اسی بستی کے پرے سرے سے یہ نیک شخص دوڑتا ہوا آیا شاہ (عبدالقادر) صاحب اپنے فائدہ 2 ؎ جس طرح لکھا ہے (2 ؎ یہ شہر تھا انطاکیہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے دو یار وہاں پہنچے ‘ شہروالوں نے ٹال دیا ‘ پھر تیسرے یار بھی پہنچے یہ تیسرے بڑے یار تھے (موضح القرآن) اسی طرح ابن اسحاق کی روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اور کعب احبار اور وہب بن منبہ اور عکرمہ وقتاوہ اور زہری وغیرہ نے بھی اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ ان آیتوں میں جس شہر کا ذکر ہے وہ شہر انطاکیہ تھا اور جن رسولوں کا ذکر ہے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تین حواری تھے مگر حافظ عماد الدین ابن کثیر 3 ؎ نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
آیت 22
اس شخص نے کہا : (ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون) یعنی میرے لئے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کو نسی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندے کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے، وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کرسکتی ہیں نہ محروم کرسکتی ہیں، جن کی…
Read the full tafseer →26 عبادت و بندگی خالق ہی کا حق ہے ۔ سبحانہ وتعالی : سو اس بندئہ مومن نے کہا کہ " میرے لیے کیا عذر ہوسکتا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے "۔ سو اس سے اس داعی حق کے صدق و اخلاص کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے۔ سو اخلاص و دردمندی ملاحظہ ہو کہ وہ بندئہ خدا خطاب ان لوگوں کو نہیں اپنے آپ کو کرتا ہے تاکہ وہ کہیں ضد میں آ کر حق کا انکار نہ کردیں۔ سو اس سے دعوت الی اللہ کا ایک اہم اور بڑا بنیادی اصول بھی ملتا ہے کہ طیش آمیز اور طنزیہ کلام و کام سے بچا جائے۔ نیز یہ کہ جب انسان کو پیدا اس وحدہ لاشریک نے کیا ہے تو عبادت و بندگی بھی اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے کہ جب خالق ومالک وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
قوم موسیٰ سے ایک مومن کا تذکرہ اور رسولوں کی تکذیب کرنیوالوں پر افسوس
تشریح : ان آیات میں بھی انسانی فطرت کا بیان ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا برگز یدہ بندہ تھا سیدھا جنت میں گیا۔ اب یہاں سے ایک نکتہ نکلتا ہے۔ کیونکہ مسلمان کو تو عالم برزخ کے بعد جنت میں جانا ہوگا۔ یہاں شہید کی فضیلت ظاہر کی گئی ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے۔ ” قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا “۔ یوں ثابت ہوگیا کہ عالم برزخ تو ضروری ہے۔ اسی لئے تو مسلمان باقی دعاؤں کے ساتھ قبر کے عذاب سے بھی پناہ مانگتا ہے۔ اصل میں اس قبر کے قیام کی بھی اتنی حالتیں ہوتی ہیں۔ نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 32:
اسرار و معارف :
اس کی بات کیا مانتے الٹا اسے بھی کہنے لگے کہ تم بھی یہ نیا دین کیوں اپنا رہے ہو بھلا باپ دادا کا مذہب خراب تھا کیا یا وہ سب گمراہ تھے تو اس نے کہا کہ میرے پاس تو ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ میں اس ذات کریم کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے قائم رکھا ہے نیز اس کے یہی احسانات تم سب پر بھی ہیں اور پھر بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی سب کو پلٹ کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور اپنے کردار و عمل کا حساب دینا ہے پھر کتنی احمقانہ بات ہے کہ میں اس اتنے بڑے مہربان کو چھوڑ کر کسی بھی دوسرے کو معبود بنا لوں کہ اگر وہ ناراض ہو کر مجھے سزا دے تو یہ بت یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ف 1 مقصود قوم کو توجہ دلانا ہے کہ جس طرح میرے لئے یہ صحیح نہیں ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کی عبادت نہ کروں اسی طرح تمہارے لئے بھی صحیح نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے باز رہو، کیونکہ میں ہوں یا تم سب کا پیدا کرنے والاوہی اللہ ہے۔2” اور اپنے اعمال کا بدلہ پانا چاہیے “
Read the full tafseer →(36:22) وما لی۔ واو عاطفہ ہے۔ جملہ ہذا کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ما نافیہ بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا !
میرے پاس کوئی عذر نہیں۔۔
اور ما استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں یہ استفہام انکاری کے لئے ہے ترجمہ ہوگا ! میرے پاس عذر ہی کیا ہے کہ۔۔ (یعنی میرے پاس کوئی عذر ہی نہیں ہے) ۔
لا اعبد مضارع منفی واحد متکلم۔ (کہ ) میں عبادت نہ کروں۔
فطرنی۔ فطر ماضی واحد مذکر غائب فطر مصدر ( باب ضرب ونصر) بمعنی عدم سے وجود میں لانا۔ نیست سے ہست کرنا۔ پیدا کرنا۔ فطر کے معنی میں پھاڑنے کا مفہوم ضرور ہونا چاہیے ۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم اس نے مجھے پیدا کیا۔ وہ عدم کے پردہ کو بھاڑ کر مجھے وجود میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے)
تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–32
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔
( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
[10] یعنی جب سے تم نے آ کر ہمارے معبودوں کے خلاف باتیں کرنی شروع کی ہیں وہ ہم سے ناراض ہوگئے ہیں۔ اب جو مصیبت بھی ہم پر آتی ہے وہ تمہاری بدولت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ف 2: اللہ کے ان رسولوں نے جب یہ سنا تو فرمایا نحوست و محرومی تو تمہارے حصہ میں آئی ہے ۔ خدا سے نہیں ڈرتے ہو ۔ کیا وعظ ونصیحت کے معنے نحوست کی طرف دعوت دیتا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ تمہارے نفس توازن کھوچکے ہیں ۔ اور تم مسرف لوگوں میں سے ہو ۔ اتنے میں ان لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ نے توفیق ہدایت دی ۔ اور وہ بھاگا ہوا آیا اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہنے لگا کہ یہ خدا کا پیغمبر ہیں ۔ ان کا تتبع کرو ۔ دیکھو وہ تم سے اجر اور صلہ نہیں مانگتے ۔ خودراہ راست پر گامزن ہیں اور تم کو بھی صراط مستقیم پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں ۔ سارے قصہ سے مقصود یہ ہے کہ حضور کو تسلی دی جائے اور بتایا جائے ۔ کہ آپ سے پہلے…
Read the full tafseer →(22) اور میرے لئے کون سا عذر ہے کہ جس نے مجھ کو پیدا کیا ہے اور مجھ کو بنایا ہے میں اس کی عبادت اور پرستش نہ کروں اور تم سب اسی کی جانب واپس کئے جائو گے اور تم سب کی بازگشت اسی کی جا ہے۔ یعنی جس کا مجھ پر اتنا بڑا احسان ہے کہ جس نے مجھ کو عدم سے وجود بخشا میں اس کی عبادت نہ کروں تو مجھ سے زیادہ احسان فراموش کون ہوسکتا ہے۔ یہ بات اپنے پر رکھ کر کہی تاکہ کسی کو ناگوار نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–34
ف 5۔ اصل مطلب یہی ہے کہ تم کو کون سا عذر ہے۔
Read the full tafseer →اس نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں ایک اللہ کی بندگی نہ کروں :
22۔ غور کرو کہ قرآن کریم کا انداز کتنا پیارا اور کتنا اصلاحانہ ہے اس اللہ کے بندے نے اپنے آپ کو مخاطب کرکے عرض کیا کہ مجھے کی حق پہنچتا ہے کہ میں اس ایک اللہ کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے ایک حقیر سے قطرہ سے پیدا فرمایا اور تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ، اس نے ایک چیز کو اپنی طرف نسب دی اور دوسری چیز کو ان سب کی طرف نسبت دے دی اور قوم کو یہ باور کرا دیا کہ وہی تمہارا بھی پیدا کرنے والا ہے اور اس حقیر بوند سے تم بھی پیدا ہوئے ہو اگر تم کو عزت واقتدار اور مال و دولت ‘ خاندان اور برادری زیادہ مل گئی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
In verse 20, it was said: وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَىٰ (And there came a man rushing from the farthest part of the city.) In the first verse (13), the place where this incident transpired was expressed as: اَلقَریَۃ (al-qaryah: town) which, according to the Arabic lexical usage, does not signify a small village, instead, it means a habitation in the absolute sense. It may be a small habitation or a big city. Now, in this verse, this place has been identified as: اَمَدِینۃ (al-madinah), a name used only for a big city. From here, we learn that the habitation where this…
Read the full tafseer →18 This sentence has two parts. The first part is a masterpiece of reasoning, the second of the wisdom of preaching. In the first part he says: "To worship the Creator is the demand of both reason and nature; it would be highly unreasonable that one should worship those who have not created him and should deny to be the servant of Him Who has created him." In the second part he warns his people to the effect: "All of you ultimately have to die and return to that God adoption of Whose service you object to. Therefore, you should consider for yourselve's as to what goodness you could expect by…
Read the full tafseer →