Explained with ayahs 32–33
اللہ تعالیٰ کے روبرو کیا ہوگا
اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرا رہا ہے اور اپنے تقوے کا حکم فرما رہا ہے۔ ارشاد ہے اس دن باپ اپنے بچے کو یا بچہ اپنے باپ کو کچھ کام نہ آئے گا ایک دوسرے کا فدیہ نہ ہوسکے گا۔ تم دنیا پر اعتماد کرنے والو آخرت کو فراموش نہ کر جاؤ شیطان کے فریب میں نہ آجاؤ وہ تو صرف پردہ کی آڑ میں شکار کھیلنا جانتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عزیر ؑ نے جب اپنی قوم کی تکلیف ملاحظہ کی اور غم ورنج بہت بڑھ گیا نیند اچاٹ ہوگئی تو اپنے رب کی طرف جھکے۔ فرماتے ہیں میں نے نہایت تضرع وزاری کی، خوب رویا گڑگڑایا نمازیں پڑھیں روزے رکھے دعائیں مانگیں۔ ایک مرتبہ رو رو کر تضرع کر رہا تھا کہ…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 59
یعنی دوست، لیڈر، پیر اور اسی طرح کے دوسرے لوگ تو پھر بھی دور کا تعلق رکھنے والے ہیں، دنیا میں قریب ترین تعلق اگر کوئی ہے تو وہ اولاد اور والدین کا ہے۔ مگر وہاں حالت یہ ہوگی کہ بیٹا پکڑا گیا ہو تو باپ آگے بڑھ کر یہ نہیں کہے گا کہ اسکے گناہ میں مجھے پکڑ لیا جائے، اور باپ کی شامت آرہی ہو تو بیٹے میں یہ کہنے کی ہمت نہیں ہوگی کہ اس کے بدلے مجھے جہنم میں بھیج دیا جائے۔ اس حالت میں یہ توقع کرنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ کوئی دوسرا شخص وہاں کسی کے کچھ کام آئے گا۔ لہٰذا نادان ہے وہ شخص جو دنیا میں دوسروں کی خاطر اپنی عاقبت خراب کرتا ہے، یا کسی کے بھروسے پر گمراہی اور گناہ کا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے لوگواپنے رب سے ڈرو (اور کفر و شرک چھوڑ دو) اور اس دن سے ڈرو جس میں نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ مطالبہ ادا کرسکے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی ہے کہ وہ اپنے باپ کی طرف سے ذرا بھی مطالبہ ادا کر دے (اور یہ دن آنے والا ضرور ہے، کیونکہ اس کی نسبت اللہ کا وعدہ ہے اور) یقینا اللہ کا وعدہ سچا (ہوتا) ہے سو تم کو دنیاوی زندگانی دھوکہ میں نہ ڈالے (کہ اس میں منہمک ہو کر اس دن سے غافل رہو) اور نہ تم کو وہ دھوکہ باز (یعنی شیطان) اللہ سے دھوکہ میں ڈالے (کہ تم اس کے بہکانے میں آجاؤ کہ اللہ تم کو عذاب نہ دے گا جیسا کہا کرتے تے (آیت) ولئن رجعت الیٰ ربی ان لی عندہ للحسنیٰ) بیشک اللہ ہی کو قیامت…
Read the full tafseer →یایھا الناس اتقوا ربکم واخشوا یوما لایجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا ط ان وعد اللہ حق فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا ولا یغرنکم باللہ الغرور (33)
یہ آخری تنبیہ ہے کہ لوگو اپنے رب کی پکڑ اور اس کے فہر و غضب سے بچو اور اس دن سے ڈرتے رہو جس دن نہ کوئی باپ اپنی اولاد کے کچھ کام آئے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آنے والا بن سکے گا بلکہ ہر ایک کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔ باپ اور بیٹے کا رشتہ سب سے زیادہ قریبی رشتہ ہے۔ جب یہ ایک دوسرے کے کام آنے والے نہ بن سکیں گی تو تابہ دیگراں چہ رسد !
یہاں اسلوب بیان کی یہ مندرت ملحوظ رہے کہ بیٹے کے کام نہ آسکنے کی نفی میں شدت پائی جاتی…
Read the full tafseer →33-1جاز اسم فاعل ہے جَزْی یَجْزِی سے، بدلہ دینا، مطلب یہ ہے کہ اگر باپ چاہے کہ بیٹے کو بچانے کے لئے اپنی جان کا بدلہ، یا بیٹا باپ کے بدلے اپنی جان بطور معاوضہ پیش کر دے، تو وہاں ممکن نہیں ہوگا، ہر شخص کو اپنے کئے کی سزا بھگتنی ہوگی۔ جب باپ بیٹا ایک دوسرے کے کام نہ آسکیں گے تو دیگر رشتے داروں کی کیا حیثیت ہوگی، اور وہ کیوں کر ایک دوسرے کو نفع پہنچا سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–34
14: یعنی الحمد للہ ! ان لوگوں نے اس حقیقت کا تو اعتراف کرلیا کہ اس کائنات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس سے جو کھلا ہوا نتیجہ نکالنا چاہیے تھا کہ جب یہ کائنات تنہا اسی نے پیدا کی ہے تو عبادت کے لائق بھی تنہا وہی ہے، اس کے نتیجے تک پہنچنے کے لیے انہوں نے سمجھ سے کام نہیں لیا، اور اپنے باپ دادوں کی تقلید میں شرک اختیار کیے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →یایھا الباس اتقوا ۔۔۔۔۔۔ یغرنکم باللہ الغرور (33) ” “۔ یہ نفسا نفسی کا عالم ہوگا۔ یہاں دنیا میں جو خوف ہوتا ہے دلوں میں اور شعور میں اس کی تو مثال ہوتی ہے۔ لیکن قیامت کا یہ خوف بےمثال ہوگا۔ اس میں تمام رشتہ داری اور خون کے تعلقات ختم ہوں گے۔ والدہ اولاد سے بھاگ رہا ہوگا۔ اور اولاد کو والدین کی پرواہ اور فکر نہ ہوگی۔ ہر شخص کو اپنی پڑی ہوگی ، نفسا نفسی کا عالم ہوگا ، کوئی کسی کی جگہ ضامن نہ ہوگا ، کسی کو بھی خود اس کے اپنے اعمال کے سوا کسی کا عمل فائدہ نہ دے سکے گا۔ ایسے حالات ظاہر ہے کہ ایسے خوف میں ہوں گے جس کی کوئی نظیر اس دنیا میں نہ ہوگی۔ لہٰذا یہاں خدا سے ڈرنے کی دعوت دینا بہت سی برمحل…
Read the full tafseer →10 طوفان کے وقت جہاز کے مسافروں میں سخت افراتفری ہوتی ہے۔ ہر ایک اپنی جان بچانے کی فکر میں رہتا ہے۔ تاہم ماں باپ اولاد سے اور اولاد ماں باپ سے بالکل غافل نہیں ہوجاتی۔ ایک دوسرے کے بچانے کی تدبیر کرتا ہے۔ بلکہ بسا اوقات والدین کی شفقت چاہتی ہے کہ ہو سکے تو بچہ کی مصیبت اپنے سر لے کر اس کو بچا لیں لیکن ایک ہولناک اور ہوش ربا دن آنے والا ہے جب ہر طرف نفسی نفسی ہوگی۔ اولاد اور والدین میں سے کوئی ایثار کر کے دوسرے کی مصیبت اپنے سر لینے کو تیار نہ ہوگا۔ اور تیار بھی ہو تو یہ تجویز چل نہ سکے گی۔ چاہیے کہ آدمی اس دن سے ڈر کر غضب الہٰی سے بچنے کا سامان کرے۔ آج اگر سمندر کے طوفان سے بچ گئے تو کل اس سے…
Read the full tafseer →وَلَا مَوْلُوْدٌ ہُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِہٖ شَیْءًا ط ”
باپ اور بیٹے کے حوالے سے قریب ترین رشتے کا ذکر کر کے گویا اس سے نچلے درجوں کے تمام رشتوں اور تعلقات کے بارے میں واضح کردیا گیا کہ اس دن کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا۔ جیسا کہ سورة البقرۃ میں ارشاد ہوا : وَاتَّقُوْا یَوْماً لاَّ تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْءًا وَّلاَ یُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَۃٌ وَّلاَ یُؤْخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ وَّلاَ ہُمْ یُنْصَرُوْنَ ”اور ڈرو اس دن سے جس دن کام نہ آسکے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی اور نہ کسی سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ ہی کسی سے کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ ہی انہیں کوئی مدد مل سکے…
Read the full tafseer →46 دنیا میں باپ بیٹے کا ہی رشتہ ایسا ہے جو مصیبت کے وقت ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن دہشت اتنی زیادہ ہوگی کہ باپ بیٹے چھپتا پھرے گا۔ اور بیٹا باپ سے ہر ایک اپنی مصیبت میں ہی ایسا گرفتار ہوگا کہ دوسرے کی طرف توجہ کرنے کی ہوش نہ ہوگی۔ اور نہ ہی کوئی شخص دوسرے کی مصیبت اپنے سر لینے کے لئے تیار ہوگا۔ نہ بیٹے میں اتنی ہمت ہوگی کہ وہ یہ کہہ سکے کہ باپ کے بدلے مجھے جہنم میں بھیج دیا جائے اور نہ باپ ہی ایسا کہہ سکے گا جب ایسے قریبی رشتہ داروں تک کا یہ حال ہوگا تو اور کوئی شخص کیسے کسی دوسرے کے کام آسکتا ہے ؟ لہذا ہر انسان کو اس دن کی ہولناکی سے اپنے بچاؤ کی فکر خود کرنا چاہئے۔ چناچہ جب…
Read the full tafseer →36۔ باطل مذہبوں میں جو اہمیت کفارہ اور معاوضہ کے عقیدوں کو حاصل ہے۔ آیت ان سب کی تردید کیے دے رہی ہے۔ (آیت) ” والد “۔ اور مولود “۔ کی تخصیص اس لئے کہ اول تو کوئی رشتہ اس سے قریب تر اور کیا ہوگا، دوسرے یہ کہ بعض مذہبوں میں اولاد ہی کو ” پانی دے کر “ اپنے والد کا نجات دہندہ بتایا گیا ہے۔
37۔ (کہ تم اسی دنیا کی چمک دمک پر فریفتہ ہو کر یاد آخرت سے غافل ہوجاؤ) (آیت) ” الغرور “۔ غرور ہر وہ چیز ہے جو انسان کو غفلت اور دھوکہ میں ڈال دے، مال ہو، جاہ ہو، خواہش شہوانی ہو، یا خود شیطان ہو۔ الغرور کل مایغر الانسان من مال وجاہ وشھوۃ و شیطان (راغب) یہاں مراد شیطان ہے، جیسا کہ صحابہ وتابعین سے مروی ہے۔ قد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
آیت نمبر 31 تا 34
ترجمہ : کیا تم اس پر غور نہیں کرتے کہ دریا میں کشتیاں اللہ کے فضل سے چلتی رہتی ہیں تاکہ اے مخاطبو ! اس کے ذریعہ تم کو اپنی (قدرت) کی نشانیاں دکھا دے یقیناً اس میں اللہ کی معصیت سے ہر صبر کرنے والے اور اس کی نعمتوں کا شکر کرنے والے کے لئے عبرت کی نشانیاں ہیں اور جب ان پر یعنی کفار پر موجیں ایسے پہاڑوں کے مانند چھا جاتی ہیں جو ہر اس شئ پر جو اس کے زیر سایہ
آجائے سایہ فگن ہوجائیں، تو نہایت خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ ہی سے دعاء کرنے لگتے ہیں کہ ان کو (غرق) سے نجات دے یعنی (اس وقت) اس کے ساتھ غیر اللہ کو نہیں پکارتے پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف پہنچا دیتا ہے تو کچھ ان میں…
Read the full tafseer →یایھا الناس اتقوا ربکم واخشوا یوما لا یجزی والدعن ولدہ ولامولود ھوجازعن والدہ
شیئا . اے لوگو ! اپنے رب سے خوف کرو اور ڈرو اس دن سے جب کوئی باپ اپنی اولاد کی طرف سے بدلہ نہیں دے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا ہوگا۔
یعنی مؤمن باپ کافر بیٹے کی طرف سے اور مؤمن بیٹا کافر باپ کی جانب سے معاوضہ نہیں دے گا۔ البتہ مؤمن مؤمن کی شفاعت کرے گا۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعُتْھُمْ ذُرِّیَّتُھُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے : جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَھَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآءِ ھِمْ وَاَزْوَاجِھِمْ…
Read the full tafseer →اے اہل مکہ اپنے پروردگار کی اطاعت کرو اور اس دن کے عذاب سے ڈرو جس دن عذاب الہی کے سامنے نہ باپ بیٹے کے اور نہ بیٹا باپ کے ہی کچھ کام آسکے گا۔ نہ باپ بیٹے کے اور نہ بیٹا ہی اپنے باپ کے عذاب خداوندی کے سامنے کچھ کام آسکے گا۔
بعث بعد الموت کا وعدہ سچا ہے ضرور پورا ہو کر رہے گا سو تمہیں دنیا کی زیب وزینت دھوکے میں نہ دالے اور نہ تمہیں شیطان اللہ کی طرف سے دھوکے میں ڈالے۔
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ۔۔ : مختلف طریقوں سے توحید اور آخرت کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب تقویٰ کا حکم دیا، جو اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل اور اس کی نافرمانی سے بچنے کا نام ہے اور قیامت کے دن سے ڈرتے رہنے کا حکم دیا، کیونکہ اسی سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔ اگر باز پرس کا خوف نہ ہو تو کوئی چیز آدمی کو تقویٰ پر آمادہ نہیں کرسکتی۔
وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ : یعنی دنیا میں سب سے قریب باہمی تعلق والدین اور اولاد کا ہے، جب وہ ایک دوسرے کے کام نہ آسکے تو کوئی اور رشتے دار، دوست، لیڈر یا پیر فقیر کیا کام آسکے گا۔ دیکھیے سورة بقرہ (48) ، عبس (34 تا 37) ، اور…
Read the full tafseer →آیت یا ایھا الناس اتقوا ربکم، الناس سے مراد مومن اور کافر ہے، یعنی اس سے ڈرو اور اس کی وحدانیت کا انکار نہ کرو۔
آیت واخشو یوما الخ سورة بقرہ وغیرہ میں یجزی کا معنی گزرچکا ہے اگر یہ کہا جائے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس کے ایسے تین بیٹے فوت ہوجائیں جو بلوغت کی عمر کو نہ پہنچے ہوں انہیں جہنم کا عذاب نہیں پہنچے گا مگر قسم پوری کرنے کے لیے “ (1) ۔ فرمایا : جس آدمی کو ان بیٹیوں کے ساتھ آزمایا گیا اس نے ان پر احسان کیا تو وہ بچیاں اس کے لیے جہنم سے پردہ ہوں گی “ (2) ۔ اسے جواب دیا جائے گا : اس آیت سے مراد ہے کوئی والد اپنے بچے کا گناہ نہیں اٹھائے گا، کوئی بچہ اپنے والد کا گناہ نہیں اٹھائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ماخلقکم ولا بعثکم ال اکنفس واحدۃ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے فرمائیں گے ہوجا پس وہ ہوجائے گا تھوڑا ہو یا زیادہ۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ماخلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا پہلی بار سارے لوگوں کا پیدا کرنا اور ان کا دوبارہ زندہ کرنا ایک جان کے پیدا کرنے اور اس کو دوبارہ زندہ کرنے کی طرح ہے اور فرمایا آتی الم تر ان اللہ یولج الیل کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ داخل کرتا ہے رات کو دن یعنی رات کا کم ہونا اور دن کا زیادہ ہونا آیت…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ [اے لوگو !] اتَّقُوْا [تم لوگ تقوی اختیار کرو ] رَبَّكُمْ [اپنے رب کا ] وَاخْشَوْا [اور ڈرو ] يَوْمًا [ایک ایسے دن سے جب ] لَّا يَجْزِيْ [بدلے میں نہیں دے گا ] وَالِدٌ [کوئی والد ] عَنْ وَّلَدِهٖ ۡ [اپنی اولاد کی طرف سے (کچھ بھی)] وَلَا مَوْلُوْدٌ [اور نہ کوئی اولاد (ہوگی)] هُوَ [(کہ) وہ ] جَازٍ [بدلے میں دینے والی ہو ] عَنْ وَّالِدِهٖ [اپنے والد کی طرف سے ] شَـيْـــــًٔا ۭ [کچھ بھی ] اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ [یقینا اللہ کا وعدہ ] حَقٌّ [برحق ہے ] فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ [تو ہرگز دھوکا نہ دے تم لوگوں کو ] الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۪ [دنیوی زندگی ] وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ [اور ہرگز…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ سے ڈرو، قیامت کے دن کی حاضری کا فکر کرو، شیطان دھوکہ باز تمہیں دھوکہ نہ دیدے
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم فرمایا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ قیامت کے دن سے ڈرو یعنی اس دن کی بےبسی اور بےکسی کا دھیان کرو اور اس کا انتظام کرو اور وہ انتظام یہ ہے کہ ایمان لاؤ اور اعمال صالحہ اختیار کرو، اس دن بےکسی کا یہ عالم ہوگا کہ آپس میں کوئی کسی کی طرف سے کوئی بدلہ دینے کو تیار نہ ہوگا، سب سے بڑا قریب تر رشتہ باپ اور بیٹے کا ہے، قیامت کا دن بڑا ہولناک ہوگا۔ سب کو اپنی اپنی فکر لگی ہوئی ہوگی، جب محاسبہ ہونے لگے گا اور کفر پر اور اعمال بد پر سزا ملنے کا فیصلہ ہوگا تو نہ باپ بیٹے کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
خاتمہ سورت برحکم تقویٰ وتذکیر آخرت
قال اللہ تعالیٰ یایھا الناس اتقوا ربکم۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ علیم خبیر۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دلائل قدرت اور مبدا اور معاد کی تفصیل تھی اب سورت کو تقویٰ کی نصیحت اور وصیت پر ختم کرتے ہیں کما قال تعالیٰ ولقد وصینا الذین اوتوا الکتاب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ یعنی صرف ایک خدا سے ڈرو اور قیامت کے دن سے ڈرو کہ جس دن سوائے تقویٰ کے کوئی قرابت اور مودت کام نہ آئے گی تقویٰ کی وصیت اور نصیحت سے بڑھ کر کوئی وصیت اور نصیحت نہیں اور آخرت کے لئے تقویٰ سے بڑھ کر کوئی توشہ نہیں۔
بعد ازاں یہ بتلایا کہ روز جزا کا کسی کو علم نہیں اور کسی کو خبر نہیں کہ میری موت کب آئے گی خوب…
Read the full tafseer →32:۔ یا ایہا الناس الخ، یہ تخویف اکروی ہے قیامت کے دن اللہ کے عذاب سے ڈروا۔ اس دن میں باپ بیٹے کے کام نہیں آئیگا اور بیٹا باپ کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکے گا اور نہ دنیا کا ساز و سامان اور مال و زر ہی کسی کام آئی گا جس پر آج تم نازاں ہو اور جس پر مغرور ہو کر توحید سے منہ موڑ رہے ہو۔ الغرور دھوکہ دینے والا یعنی شیطان اور شیطان کے دھوکے میں بھی نہ آنا جو تمہیں جھوٹی آرزوئیں اور تمنائیں دلا کر اس کی توحید، اسلام اور آخرت سے غافل کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
رابطہ آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان کئے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے پہلے تخلیق کا مسئلہ سمجھایا اور اس کو الوہیت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ۔ جب خالق اللہ کے سوا اور کوئی نہیں ، واجب الوجود اور مدبر بھی وہی ہے تو پھر عبادت بھی اسی کی ہونی چاہئے ، پھر اس میں دوسروں کو کیوں شریک بناتے ہو ۔ ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رات ، دن ، سورج اور چاند کے تغیرات کا سلسلہ بیان فرمایا کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے دست ِ قدرت میں ہیں ، خدا تعالیٰ کا علم اور قدرت لامحدود ہیں اس کی مثال اس طرح بیان کی گئی کہ اگر روئے زمین کے تمام درخت اور پودے قلمیں بن جائیں اور ہفت اقلیم کے سمندروں کے پانی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِہٖ 0 ۡوَلَا مَوْلُوْدٌ ہُوَجَازٍ عَنْ وَّالِدِہٖ شَـيْـــــًٔا 0 ۭ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا 0 ۪ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللہِ الْغَرُوْرُ 33
نوس
النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب،
قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1]
( ن و س ) الناس ۔
بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور…
Read the full tafseer →یا ایھا الناس اتقوا ربکم یہاں سے حجت تمام کرکے ایک ایسا حکم دیتا ہے جو تمام نیکیوں کا اصل الاصول ہے، وہ کیا اتقوا ربکم کہ اپنے رب سے ڈرا کرو، جو اپنے رب سے ڈرے گا کسی مصیبت کے پاس نہ جائے گا اور کسی حکم الٰہی کے بجالانے میں کوتاہی نہ کرے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ اوصیکم بتقوی اللہ الحدیث رواہ احمد والترمذی وابن ماجۃ کہ میں تم کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، یعنی بتاکید حکم دیتا ہوں، چونکہ خدا سے ڈرنا بغیر یاد دلانے کسی آنے والی بلائے عظیم کے جو اللہ کے ہاں سے آنے والی ہو مشکل ہے، اس لیے اس آنے والی بلا کا ذکر فرماتا ہے۔ واخشوا یو مالا یجزی والدعن ولدہ ولا مولود ھوجاز عن والدہ شیئا کہ اس…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّّقُوْا رَبَّـکُمْ وَاخْشَوْا یَوْمًا لاَّ یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِہٖ ز وَلاَ مَوْلُوْدٌ ھُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِہٖ شَیْئًا ط اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ فَلاَ تَغُرَّنَّـکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وقفۃ وَلاَ یَغُرَّنَّـکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ ۔ (لقمان : 33)
(اے لوگو ! اپنے رب کے غضب سے بچو، اور ڈرو اس دن سے جس دن نہ کوئی باپ اپنی اولاد کے کام آئے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کے کام آنے والا بن سکے گا، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے، یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے، اور نہ دھوکہ باز تم کو اللہ کے معاملے میں دھوکہ دینے پائے۔ )
آخری تنبیہ
گزشتہ کئی آیات میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جو شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے دراصل وہ اپنے رب سے جھگڑتا ہے۔ انسان کو اپنے رب سے جھگڑنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور قیامت کے عذاب سے بچنا چاہیے۔
اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن سے خوف کھاؤ جس دن باپ اپنے بیٹے کے اور بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام نہیں آسکے گا۔ اس دن کو برپا کرنا اور لوگوں سے ان کے اعمال کا حساب لینا اللہ تعالیٰ کے ذمّہ ہے۔ تمہیں اس دن کے بارے میں دنیا کی زندگی دھوکے میں مبتلا نہ کرے اور نہ ہی شیطان تمہیں تمہارے رب کے بارے میں کسی فریب میں مبتلا کرے۔ قرآن مجید میں یہ بات پوری طرح کھول کر بیان کی گئی ہے کہ قیامت کے دن نہ سفارش چلے…
Read the full tafseer →33: یٰٓـاَ یُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ (اے لوگو اپنے رب سے ڈرو ! ) َاخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌعَنْ وَّلَدِہٖ اور اس دن سے ڈرو جس میں نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ مطا، لبہ ادا کرسکے گا) اس کی طرف سے کوئی حق ادا نہ کرسکے گا۔ اصل کلام یہ ہے لا یجزی فیہ مگر فیہؔ کو حذف کردیا گیا۔ وَلَا مَوْلُوْدٌ ھُوَ جَازٍ عَنْ وَّ الِدِہٖ شَیْئًا (اور نہ بیٹا اپنے باپ کی طرف سے ذرا بھر مطالبہ ادا کرسکے گا) ۔
ایک نکتہ :
یہ جملہ تاکید کے ایسے طریقہ پر وارد ہوا ہے کہ معطوف علیہ اس طرح نہیں کیونکہ جملہ اسمیہ جملہ فعلیہ کی نسبت زیادہ تاکید والا ہے۔ اور اس میں مزید ھوؔ کاملانا اور مولودؔ کا…
Read the full tafseer →تفسیر 33۔ ، یایھا الناس اتقواربکم واخشوایوما لایجزی ، نہ وہ فیصلہ کرے گا اور نہ ہی وہ اس سے بےپرواہ ہے۔ ، والدعن ولدہ ولا مولودہ ھوجاز، اس سے بھی وہ غنی ہوگا۔ ، عن والدہ شیئا، ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا :۔
، ان وعد اللہ حق فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا ولا یغرنکم باللہ الغرور ، اس سے مراد شیطان ہے ۔ سعیدبن جبیر (رح) کا قول ہے کہ اس سے مرادیہ ہے کہ شیطان گناہ کا کام کرواتا ہے ، مغفرت کرنے کی تمنا کرواتا ہے ۔ (یعنی گناہ کرلے پھر بعد میں تو بہ کرلینا لیکن گناہ کرنے والے کو توبہ کی توفیق نہیں ہوتی) ۔
Read the full tafseer →33۔ قیامت کے دن کا معاملہ بڑا سخت ہے صحیح حدیثوں 1 ؎ سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل دوزخ میں سے ادنی عذاب والا شخص بھی ماں باپ مال اولاد جو کچھ تمام دنیا کا سامان و اسباب ہے سب اپنی نجات کے معاوضہ میں دینے کو تیار ہوجائے گا خیر یہ تو جنت اور دوزخ میں ہوجانے کے بعد کا ذکر ہے اس سے پہلے پل صراط سے گزرنے کے بعد دوزخ اور جنت کے مابین میں ایک بلند مقام پر سب لوگ ظلم و زیادتی کا بدلہ دلائے جانے کے لیے روکے جاویں گے چناچہ صحیح بخاری 2 ؎ کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آنحضرت ﷺ نے اس ظلم و زیادتی کے بدلہ کا ذکر جو فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ وہاں کسی کے پاس کچھ روپیہ پیسہ تو ہے نہیں کہ ظالم مظلوم کو روپیہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 33
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے تقویٰ کا حکم دیتا ہے۔ تقویٰ سے مراد اس کے حکم کی تعمیل کرنا اور منہیات کو ترک کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے سخت دن کے خوف کی طرف ان کی توجہ مبذول کرواتا ہے۔ جس روز ہر شخص کو اپنے سوا کسی کا ہوش نہیں ہوگا پس (لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا) ” نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے گا نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکے گا۔ “ یعنی وہ اس کی نیکیوں میں اضافہ کرسکے گا نہ اس کے گناہوں میں کوئی کمی کرسکے گا۔ ہر بندے کا عمل پورا ہوچکا ہوگا اور اس پر اس کی جزا و سزا بھی متحقق ہوچکی ہوگی۔ تو اس ہولناک دن کی طرف دیکھ ‘ جو بندے کو قوت عطا کرکے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–33
آخرت میں نسب کی بجائے عمل کام آئے گا
قول باری ہے (واخسوا یوما لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا۔ اور اس دن کا خوف رکھو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ ہوسکے گا اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی بدلہ بن سکے گا) آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی کو اس کے باپ یا نسب کے شرف کی بنا پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو چھوڑ کر کسی ایک کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔
اس مضمون میں حضور ﷺ سے روایت بھی وارد ہے۔ آپ کا ارشاد ہے (من ابطابہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ۔ جس شخص کا عمل اسے سست کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔ ) آپ نے…
Read the full tafseer →65 قیامت کے یوم عظیم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اے لوگو ڈرو اس ہولناک دن سے جس میں نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آسکے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کے "۔ یہاں پر " ولد " نہیں " مولود " فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ " مولود " صلبی بیٹے کو کہا جاتا ہے جبکہ " ولد " کا اطلاق بیٹے پوتے وغیرہ سب پر آتا ہے۔ تو معنیٰ یہ ہوئے کہ اس دن باپ اپنے حقیقی اور صلبی بیٹے کے بھی کچھ کام نہیں آسکے گا جس سے انسان کی اصل اور بڑی توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔ اور جب اس قدر قریبی رشتوں میں سے بھی کوئی کام نہ آئے گا تو اور کوئی کیا اور کیسے کچھ کام آسکے گا ؟ ہر کسی کو اس دن اپنی ہی پڑی ہوگی اور ہر ایک اس روز اپنی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
اللہ اور اس کا علم ہی کامل ہے
تشریح : ان آیات میں اللہ کی قدرتوں میں سے ایک بہت بڑی قدرت کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ سائنسی معجزہ بھی ہے کہ اتنی بھاری بھر کم کشتیاں جن میں بوجھ ہوتا ہے مگر اللہ کی قدرت کہ وہ پانی کے اوپر تیرتی رہتی ہیں اور انسان کے ذرائع آمدورفت اور تجارت کا بہت بڑا وسیلہ ہے۔ اب تو اس صنعت میں حیرت انگیز ترقی ہوچکی ہے مگر بنیادی بات تو یہی ہے کہ پانی ہی کشتی کے چلنے کا، تیرنے کا سبب ہوتا ہے۔ مگر انسان انتہائی ناشکری مخلوق ہے جب کبھی سمندر اور لہروں کے طوفان میں پھنس جاتا ہے مطلب یہ کہ مصیبت میں پھنستا ہے تو اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے لیکن جونہی مصیبت ٹلتی ہے اللہ سے غافل ہوجاتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
آیات 31 تا 34
اسرارومعارف
اے مخاطب کیا تو نہیں دیکھتا کہ بہت بڑے بڑے جہاز کتنے گہرے سمندروں میں تیرتے پھرتے ہیں اللہ کی نعمتیں لادے ہوئے اور بندوں کے لیے رزق کے وسائل لے کر یہ سب عقل تمہیں اس لیے عطا ہوئی ہے کہ اللہ کی عظمت سے آشنا ہوسکو جس نے پانی اور لکڑی کو یہ خصوصیات دیں اور تمہیں یہ شعور بخشا مگر یہ سب ایسے لوگوں کی سمجھ میں ہی آسکتا ہے جو ذرا تحمل مزاج اور جذبہء شکر رکھنے والے ہوں ورنہ تو جب سمندری لہریں اٹھی ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے کوئی بادل بڑھتا آرہا ہو تو یہ سب لوگ بڑے خلوص سے صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں اس وقت کوئی اللہ کے بغیر سوجھتا ہی نہیں اور جب اللہ انہیں طوفانوں سے بچا کر زمین…
Read the full tafseer →ف 2 اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل ذکر کرنے کے بعد اب تقویٰ کا حکم دیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی نافرماین سے بچا جائے۔ (کبیر) مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن تو قریب ترین تعلقات بھی ختم ہوجائیں گے، نہ باپ اپنے بیٹے کے آلام و مصائب کو دور کرسکے گا اور نہ بیٹا باپ کو کسی قسم کی اہانت و روسائی سے محفوظ رکھ سکے گا۔ لکل امرء منھم یومئذ شان یغنیہ دیکھیے سورة عبس آیت 37)3 لفظی ترجمہ یہ ہے ” اور نہ دھوکہ دینے والا شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے میں ڈال دے۔ “ اللہ کے بارے میں شیطان کا یہ دھوکہ کئی طرح سے ہوتا ہے کسی کو دھوکا دیتا ہے کہ خدا ہی نہیں ہے۔ کسی کو دھوکا دیتا ہے…
Read the full tafseer →(31:33) اتقوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ اتقی یتقی اتقاء (افتعال) مصدر سے ۔ وقی مادہ۔ تم ڈرو۔ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ تم تقوی اختیار کرو۔
اخشوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ خشی یخشی (سمع) خشیۃ مصدر تم ڈرو۔
لایجزی۔ مضارع منفی۔ واحد مذکر غائب۔ وہ بدلہ نہ دے سکے گا۔ جزی یجزی (ضرب) جزاء مصدر۔ کسی کا بدلہ دینا۔ جزی مادہ۔
والد عن ولدہ (نہ بدلہ دے سکے گا) (اس دن) کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے۔
مولود۔ اسم مفعول ۔ مذکر ۔ واحد۔ ولادۃ مصدر۔ باب ضرب۔ جنا ہوا۔ بیٹا یا بیٹی
جاز جزاء سے اسم فاعل واحد مذکر۔ کفایت کرنے والا۔ بدلہ دینے والا۔ کام آنے والا۔
شیئا۔ کوئی چیز۔ (یعنی کچھ بھی بدلہ نہ دے سے گا) ۔
لا تغرنکم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
لغات القرآن آیت نمبر (31 تا 34) ۔
صبار (بہت صبر کرنے والا) ۔ شکور (شکر ادا کرنے والا) ۔ ظلل (ظل) (سائے) ۔ مقتصد (سنبھل کر چلنے والا۔ اعتدال پسند آدمی) ۔ لا یجزی (کام نہ آئے گا۔ بدلہ نہ دے گا) ۔ مولود (پیدا کیا گیا (بیٹا) ۔ لاتغرن ( ہرگز تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے) ۔ الغرور (دھوکہ۔ فریب) ۔ الساعتہ (گھڑی۔ قیامت) ۔ الغیث (بارش) ۔ الارحام (رحم) (پیٹ) ۔ ماتدری (نہیں جانتا) ۔ غدا (کل صبح۔ آئندہ صبح) ۔
تشریح : آیت نمبر (31 تا 34) ۔ ” اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی کشتیوں اور جہازوں کا ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک حفاظت سے پہنچنا ہے۔ “
سمندر یا دریا میں جو چیز ڈالی جاتی ہے وہ عام طور پر…
Read the full tafseer →(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے ڈروجس دن ہر انسان، نفسی نفسی، کہتا ہوگا، یعنی کسی ظالم نے جس قدر ظلم کسی مظلوم پر کیا ہے اس ظلم کے حساب سے کچھ ثواب اس ظالم کی نیکیوں کا مظلوم کو دلایاجائے گا اور اگر اس طرح کے معاوضہ میں نیکیاں اور نیکوں کا ثواب کم پڑجائے گا تو ظلم کے حساب سے مظلوم کے گناہوں کا عذاب ظالم کو بھگتنا پڑے گا، اس ظلم اور زیادتی کے معاوضہ اور بدلہ کو باپ بیٹے اور بیٹا باپ کی شکل سے گھبراوے گا کہ کہیں باپ کی بیٹے پر یا بیٹے کی باپ پر کچھ زیادتی نہ نکل آئے۔ اور اس زیادتی کے بدلہ میں ایک کی نیکیاں دوسرے کے پاس نہ چلی جائیں اور نہ کافروں کی مسلمان اولاد، نہ مسلمان ماں باپ کافر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
[19] یعنی قیامت میں نفسی نفسی کا وہ عالم ہوگا کہ اولاد اور والدین میں سے کوئی ایثار کر کے دوسرے کی مصیبت اپنے سر پر لینے کو تیار نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →ف 2: یعنی ہر شخص کو چاہیے ۔ کہ وہ اپنی ذاتی ذمہ داری کو محسوس کرے ۔ کیونکہ مکافات عمل کے دن کوئی شخص کسی کی مصیبتوں کو برداشت نہیں کریں گا ۔ نہ کوئی باپ اپنی اولاد کو گرفت سے بچا سکے گا اور نہ اولاد اپنے باپ کے کام آسکیں گی ۔ ہر شخص براہ راست خود اپنے اعمال کے لئے خدا کے سامنے جوابدہ ہوگا ۔
Read the full tafseer →33۔ اے افراد نوع انسانی اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو اور اس دن سے ڈرو جس دن نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آسکے گا اور نہ بیٹا ہی اپنے باپ کے کچھ کام آسکے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق اور سچا ہے سو تم کو کہیں دنیوی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے اور دھوکے میں مبتلا نہ کردے اور تم کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہ دھوکے باز یعنی شیطان کسی دھوکے میں نہ ڈال دے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس خوفناک دن سے ڈرتے رہو جس دن بیٹے کی طرف سے کوئی مطالبہ اس کا باپ نہ پورا کرسکے اور باپ پر اگر کوئی مطالبہ ہو تو اس کو بیٹا نہ بھگتا سکے بلکہ ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہو۔
لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ
اس افراتفری میں…
Read the full tafseer →ف 8۔ یعنی وہ دن آنے والا ضرور ہے، کیونکہ اس کی نسبت اللہ کا وعدہ ہے۔
9۔ کہ اس میں منہمک ہو کر اس دن سے غافل رہو۔
Read the full tafseer →اے لوگو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو ‘ اسی سے ڈرو کہ کوئی شخص کسی کے کام نہ آسکے گا :
33۔ ” اے بنی نوع انسان ! اللہ کے غضب اور اس کے عذاب سے ڈرو اور قیامت سے بھی ڈرتے رہو جس میں کوئی بیٹا بھی اپنے باپ کے اور کوئی باپ بھی اپنے کسی بیٹے کے ذرہ برابر کام نہ آئے گا ۔ “ غور کرو کہ دنیا میں جتنے تعلقات اور رشتہ داریاں ہیں سب سے زیادہ قریب کی رشتہ داری یہی ہے کہ باپ بیٹے کے قریب ہے اور بیٹا باپ کے اور پھر جب ان دونوں رشتہ داروں کا واضح ذکر کرکے بتا دیا کہ قیامت کے روز اتنا گہرا تعلق بھی کسی کے کام نہیں آئے گا تو اس کا مطلب واضح ہوگیا کہ کوئی پیر و بزرگ اور مرشد ولیڈر اور اس طرح دوسری رشتہ داریوں کو کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
Commentary
In the first of the two verses cited above, the address is to common people, believing and disbelieving both. They have been served with a notice that they will face Allah and be accountable before Him for their deeds on the day of Judgment and that they should be prepared for it. It was said: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ( O people, fear your Lord - 33). At this place, the text has not gone by the name of Allah Ta'ala or His some other attribute. Instead of that, it has elected to mention the attribute of Rabb (master, sustainer of all, usually translated as Lord with…
Read the full tafseer →59 That is, "The relationship of a person with his friend, or his leader, or his spiritual guide, etc. is not so close and intimate as the relationship that exists between the children and their parents. But on the Day of Resurrection even the son and the father will not be able to help each other. The father will not have the courage to come forward and say that he may be seized instead of the son for his sins, nor will the son have the nerve to say that he may be sent to Hell instead of the father. How can then a person expect that one will be able to avail something for the other there?…
Read the full tafseer →