Ayahs 31:1–3قرآن مجید محسنین کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ سورة لقمان مکہ معظمہ میں نازل ہوئی، اور ان کا ایک قول یہ ہے کہ پوری سورت میں سے تین آیات (وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَامٌ) سے لے کر (اِنَّ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ) تک مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں۔
( الم ) یہ حرف مقطعات میں سے ہے اس کا معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ (تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ) یہ کتاب حکیم یعنی قرآن کریم کی آیات ہیں پر حکمت ہیں۔ (ھُدًی وَّ رَحْمَۃً لِّلْمُحْسِنِیْنَ ) یہ قرآن اچھے کام کرنے والوں کے لیے ہدایت ہے اور رحمت ہے۔ ہدایت اور رحمت تو سارے انسانوں کے لیے ہے لیکن سب اسے قبول نہیں کرتے، قبول کرنے والے وہی لوگ ہیں جو صفت احسان سے متصف ہیں، ان کے قلوب صالح ہیں، نیتوں میں اخلاص ہے، اس لیے قرآن کو سن کر اس کی ہدایت کو قبول کرتے ہیں پھر اس کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، اور یہ قرآن کے مطابق زندگی گزارنا ان کے لیے رحمت کا باعث بن جاتا ہے ان محسنین کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، (الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ ) کہ یہ لوگ نماز قائم کرتے ہیں (وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ ) اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ (وَ ھُمْ بالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ) اور یہ لوگ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ درحقیقت اقامت صلوٰۃ اور ادائیگی زکوٰۃ یہ دونوں اسلام کے اہم رکن ہیں جن کا درجہ توحید اور رسالت پر ایمان لانے کے بعد ہے، باقی دو رکن یعنی صیام رمضان اور حج بیت اللہ اسلام کے ارکان تو ہیں لیکن ان کا درجہ نماز اور زکوٰۃ کے بعد ہے، نماز اور زکوٰۃ کی پابندی ہی رہے اور آخرت کا مضبوط یقین ہو تو انسان اسلام کے دوسرے احکام پر بآسانی چل سکتا ہے اور ان کی ادائیگی کے لیے اپنے نفس کو آمادہ کرسکتا ہے۔ ایسے حضرات کے بارے میں فرمایا کہ (اُولٰٓءِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ ) یہ حضرات اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں (وَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) اور یہ وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔ (اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے، یعنی دوزخ سے بچ جانا اور جنت میں داخل ہونا) جنہیں دنیا میں اس کی بشارت دے دی گئی ان کا عظیم مرتبہ ہے، یہ مضمون سورة بقرہ کے شروع میں بھی گزر چکا ہے۔
چونکہ آیت بالا میں زکوٰۃ دینے کا بھی ذکر ہے اس لیے بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ آیات بھی مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں، اور اس بات کی بنیاد اس پر ہے کہ زکوٰۃ مدینہ منورہ میں فرض ہوئی۔ اور جن حضرات نے مذکورہ بالا آیات کو مکی کہا ہے انہوں نے فرمایا ہے کہ زکوٰۃ بھی مکہ معظمہ میں فرض ہوگئی تھی البتہ اس کے تفصیلی احکام، مقادیر نصاب وغیرہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئے، لیکن اگر زکوٰۃ سے عام صدقہ مراد لیے جائے جیسا کہ چند صفحات پہلے سورة روم کی آیت (وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ ) کے ذیل میں گذر چکا ہے تو پھر ان آیات کو بھی مکی کہنے میں کوئی تامل نہیں رہتا۔
Ayahs 31:4–6قرآن کے دشمنوں کی حرکتیں، ان کے لیے عذاب مہین کی وعید
قرآن پر ایمان لانے والوں کے اعمال اور ان کے ہدایت پر کامیاب ہونے کی بشارت دینے کے بعد قرآن کا انکار کرنے والوں اور اس کے مقابلہ میں بعض چیزیں اختیار کرنے والوں کا شغل پھر ان کے عذاب کا تذکرہ فرمایا ہے جو قرآن کے مخالف رویہ رکھتے ہیں اور قرآن سے خود بھی دور رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) ہر وہ بات جو اللہ کی یاد سے غافل کرے اور کھیل میں لگائے۔ حضرت حسن بصری ؓ نے (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا : (ھو کل ما شغلک عن عبادۃ اللہ تعالیٰ و ذکرہ) یعنی ہر وہ چیز جو اللہ کی عبادت سے ہٹائے وہ (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) ہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ اس سے غِنَاء یعنی گانا بجانا مراد ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ بات منقول ہے۔ حضرت مکحول تابعی ؓ نے فرمایا کہ (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) سے گانے بجانے والی لونڈیاں مراد ہیں۔ (روح المعانی)
آیت بالا کا سبب نزول بیان کرتے ہوئے کئی باتیں منقول ہیں، حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ نضر بن حارث (جو مشرکین مکہ میں سے اسلام کے بڑے کٹر دشمنوں میں سے تھا) نے ایک گانے والی باندی خرید لی تھی اسے جس کسی کے بارے میں یہ خبر ملتی کہ وہ اسلام قبول کرنے کا ارادہ کر رہا ہے تو وہ اسے اس لونڈی کے پاس لے جاتا تھا اور اس لونڈی کو کہتا تھا کہ اس شخص کو کھلا پلا اور گانا سنا، پھر جس شخص کو ساتھ لے جاتا تھا اس سے کہتا تھا کہ یہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تجھے محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں، وہ تو کہتے ہیں کہ نماز پڑھ روزے رکھ اور ان کے ساتھ مل کر ان کے دشمنوں سے جنگ کر، اس پر آیت کریمہ (وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) نازل ہوئی۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ نضر بن حارث تجارت کے لیے فارس جاتا تھا وہاں سے عجمیوں کی کتابیں خریدتا تھا پھر انہیں مکہ معظمہ میں لاکر قریش کو سناتا تھا اور کہتا تھا کہ محمد ﷺ تمہیں عاد اور ثمود کی باتیں سناتے ہیں اور میں تمہیں رستم اور اسفندیار اور فارس کے بادشاہوں کی خبریں سناتا ہوں، لوگوں کو یہ باتیں پسند آتی تھیں اور قرآن کے بجائے ان چیزوں کی طرف متوجہ ہوتے تھے، اس پر آیات بالا نازل ہوئی۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ابن خطل نے یہ حرکت کی تھی کہ اس نے گانے والی باندی خریدی تھی جو ایسے گانے گاتی تھی جو مسلمان کو اور اسلام کے برے الفاظ سے ذکر کرنے پر مشتمل ہوتے تھے۔
حضرت حسن بصری ؓ نے یہ جو فرمایا کہ (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) سے ہر وہ چیز مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اور اس کے ذکر سے ہٹائے یہ لغت کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے اور حدیث شریف سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کل شیءٍ یَلْھُوْبہ الرَّجُلُ بَاطِلاً الاَّ رَمْیَہُ بِقَوْسِہٖ وتأدیبَہٗ وملاعَبتہ امرأَتہٗ فانھن من الحق) (رواہ الترمذی و ابن ماجہ کما فی المشکوٰۃ ص 337) مطلب یہ ہے کہ تین چیزوں کے علاوہ جو بھی کوئی لہو کا کام کوئی شخص کرتا ہے تو وہ باطل ہے ہاں تین کھیل ایسے ہیں جو درست ہیں (1) اپنی کمان سے تیر پھینکنے کی مشق کرنا۔ (2) گھوڑے کو سدھارنا (یہ دونوں جہاد کے کام میں آتے ہیں جو دینی ضرورت ہے۔ ) (3) اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی کرنا (جو نفس و نظر کو پاک رکھنے کا ذریعہ ہے۔ )
گانے بجانے کی مذمت و حرمت
لہو و لعب میں ہر طرح کا جوا اور تاش کھیلنا اور ہر وہ شغل آجاتا ہے جو شرعاً ممنوع ہو اور جو نماز سے اور اللہ کے ذکر سے غافل کرتا ہو۔ کسی شخص کو اللہ تعالیٰ نے اچھی آواز دی ہو اور وہ قرآن مجید کی تلاوت کرے یا نعت کے اشعار پڑھے (جس میں بجانے کا سامان بالکل نہ ہو) یا عبرت کے لیے کچھ اشعار پڑھے تو یہ جائز ہے۔ گندے گانے، عشقیہ غزلیں اگرچہ ان کے ساتھ بجانے کا سامان نہ ہو یہ سب ممنوع ہیں، اس قسم کے گانوں کو بعض اکابر نے رقیۃ الزناء (زنا کا منتر) فرمایا ہے۔
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ (اَلْغِنَاءُ یُنْبِتُ النِّفَاقَ فِی الْقَلْبِ کَمَا یُنْبِتُ الْمَآء الزَّرْعَ ) (کہ گانا دل میں نفاق کو اگاتا ہے جیسے پانی کھیتی کو اگاتا ہے۔ ) (مشکوٰۃ المصابیح ص 411)
اگر عشقیہ غزلیں نہ ہوں تو پھر شعر پڑھنے والا خوش آواز ہو تب بھی اسے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ میرے آس پاس کون ہے، اگر عورتیں آواز سن رہی ہیں تو پھر شعر نہ پڑھے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ انجشہ ؓ ایک صحابی تھے وہ سفر میں جا رہے تھے۔ عرب کا طریقہ تھا کہ سفر میں اونٹوں کو مست کرنے اور اچھی رفتار سے چلانے کے لیے بلند آواز سے شعر پڑھتے ہوئے جاتے تھے۔ انجشہ ؓ خوش آواز آدمی تھے انہوں نے اونٹوں کی رفتار جاری رکھنے کے لیے اشعار پڑھنا شروع کیے جسے حدی پڑھنا کہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ان کی آواز سن لی اور فرمایا کہ اے انجشہ ! ٹھہر جاؤ شیشوں کو نہ توڑو۔ راوی قتادہ نے شرح کرتے ہوئے بتایا کہ شیشوں سے عورتیں مراد ہیں جو جلدی متاثر ہوجاتی ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح 410)
آج کل تو گانا بجانا جزو زندگی بن چکا ہے، حلق سے لقمہ ہی تب اترتا ہے جب گانے کی کیسٹ لگا کر کھانا شروع کریں۔ اور آج کل تو ہر گھر کو ٹیوی نے ناچ گھر اور گانا گھر بنا دیا ہے، چھوٹے بڑے مل کر سب گانا سنتے ہیں جس کی وجہ سے فرض نمازیں تک غارت کی جاتی ہیں اور اللہ کی یاد میں مشغول ہونے کا تو ذکر ہی کیا ہے جن گھروں کو بھی شریف گھرانہ سمجھا جاتا تھا آج ان گھرانوں کی بچیوں کو ناچ گانا سکھایا جاتا ہے اور ان کی ہمت افزائی کی جاتی ہے اور انہیں گلوکارہ اور فنکارہ کے القاب دئیے جاتے ہیں، پھر اوپر سے غضب یہ ہے کہ اسلامی ثقافت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ گانے والی لونڈیوں کی فروخت نہ کرو اور انہیں (گانا) نہ سکھاؤ، اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور فرمایا اسی جیسے معاملے کے لیے آیت کریمہ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) نازل ہوئی۔
حضرت ابو الصہباء نے بیان کیا کہ میں نے اس آیت کے بارے میں حضرت ابن مسعود ؓ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ قسم اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس آیت میں غناء یعنی گانے کی مذمت کی گئی ہے۔ (معالم التنزیل ج 3: ص 490)
گانے بجانے کے شغل نے لوگوں کو بربادی کے گڑھے پر لاکھڑا کردیا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ جو مصیبتیں آتی ہیں انہیں اپنی بدعملی کا نتیجہ نہیں سمجھتے اور اگر سمجھتے ہیں تو جھوٹی زبان سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے لیکن ان اعمال کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے، گناہوں میں جیسے لت پت تھے ایسے ہی مصیبتوں کے آنے پر ان میں مشغول رہتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ ہم نے نفس ہی کو آگے رکھ لیا ہے، اسی کو امام بنالیا ہے، اسے ناراض کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
حضرت ابو عامراشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں ضرور ایسے لوگ ہوں گے جو زنا کو اور ریشم کو اور شراب کو اور گانے بجانے کے سامان کو حلال کریں گے اور بہت سے ایسے لوگ ہوں گے جو ایک پہاڑ کے قریب قیام کریں گے ان کے جانور شام کو ان کے پاس پہنچا کریں گے، ان کے پاس ایک شخص کسی ضرورت سے آئے گا تو اسے کہیں گے کہ کل کو آنا، پھر کل آنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک فرما دے گا، اور ان پر پہاڑ گرپڑے گا اور ان میں سے کچھ لوگوں کو قیامت کے دن تک کے لیے بندر خنزیر بنا دے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح 556 از صحیح بخاری)
ارشاد نبوی ﷺ کہ میں گانے بجانے کی چیزیں مٹانے کے لیے آیا ہوں
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر اور جہانوں کے لیے ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ گانے بجانے کے آلات کو اور بتوں کو اور صلیب کو (جسے عیسائی پوجتے ہیں) اور جاہلیت کے کاموں کو مٹا دوں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 318) اب نام نہاد مسلمانوں کو دیکھو کہ حضور رحمتہ للعالمین ﷺ جن چیزوں کو مٹانے کے لیے تشریف لائے انہیں چیزوں کو آنحضرت ﷺ کی نعت سننے میں استعمال کرتے ہیں، پھر اوپر سے ثواب کی امید کرتے ہیں۔ نفس و شیطان نے ایسا مزاج بنا دیا ہے کہ قرآن و حدیث کا قانون بتانے والوں کی بات ناگوار معلوم ہوتی ہے۔ راتوں رات ہارمونیم اور سارنگی پر اشعار سنتے ہیں اور ساری رات اس کام میں مشغول رہتے ہیں جس کے مٹانے کے لیے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور رات بھر قوالی سن کر فجر کی اذان ہوتے ہی نماز پڑھے بغیر سو جاتے ہیں۔ دیکھ لو یہ ہیں حب نبوی کے متوالے جنہیں فرض نمازوں کے غارت کرنے پر ذرا بھی ملال نہیں، خدارا انصاف کرو یہ راتوں کو جاگنا نبی اکرم ﷺ کی نعت سننے کے لیے ہے یا آپ ﷺ کا اسم گرامی استعمال کرکے نفس و شیطان کو لذیذ گانے کی غذا دینے کے لیے ہے ؟
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے (الْجَرَسُ مَزَامِیْرُ الشَّیْطَان) 1 (گھنٹیاں شیطان کے باجے ہیں) اور یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ (لاَ تَصْحَبُ الْمَلآءِکَۃُ رفقۃً فِیْھَا کَلْبٌ وَلاَ جَرَسٌ) 2 (جن لوگوں کے ساتھ کتا یا گھنٹی ہو رحمت کے فرشتے ان کے ساتھ نہیں رہتے) ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ (مَعَ کُلُّ جَرَس شَیْطَانٌ) 3 (ہر گھنٹی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی خدمت میں ایک لڑکی داخل ہونے لگی، اس کے پاؤں میں بجنے والا زیور تھا، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ اس لڑکی کو میرے پاس ہرگز نہ لائیں جب تک اس کے جھانجن نہ کاٹ دئیے جائیں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے جس گھر میں گھنٹی ہو اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
بات یہ ہے کہ گانے بجانے کا دھندا شیطانی دھندا ہے، جو لوگ شیطانی اعمال کرتے ہیں انہیں بجنے بجانے والی چیزوں سے محبت اور رغبت ہوتی ہے، اسی لیے دیکھا جاتا ہے کہ ہندوؤں کے مندروں اور نصاریٰ کے گرجوں میں اور ان تمام مواقع میں جہاں شیطان کا راج ہو گانے بجانے کا انتظام اور اہتمام ہوتا ہے، شیطان ان سے گانے گواتا ہے اور باجے بجواتا ہے اور خود بھی سنتا ہے مزے لیتا ہے۔
جاہل پیروں کی بدعملی
بعض لوگ جو پیری مریدی کا پیشہ کرتے ہیں وہ اپنی خانقاہوں میں اور قبروں پر ساز سارنگی اور ہارمونیم اور طبلہ بجانے کا خاص
1 مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 338۔ 2 رواھما مسلم۔ 3 مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 379۔
اہتمام کرتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ اس کو کارخیر سمجھتے ہیں اور بزرگوں کا طریقہ بتاتے ہیں، حالانکہ جن بزرگوں سے نعتیہ اشعار سننا منقول ہے انہوں نے فرمایا کہ ایسی محفلوں میں شریک ہونے کی شرط یہ ہے کہ ” بجانے کا سامان نہ ہو اور بےریش لڑکے نہ ہوں اور عورتیں نہ ہوں “ اگر کسی شخص نے ساز اور سارنگی کے ساتھ قوالی سن لی (اگرچہ پیر بنتا ہو) تو اس کا یہ عمل کیسے دلیل بن سکتا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں گانے بجانے کے سامان کو مٹانے کے لیے آیا ہوں۔ اسلام میں جب بجتا ہوا زیور گوارا نہیں اور جانوروں کے گلے میں گھنٹی ڈال دی جاتی ہے اور وہ بھی برداشت نہیں تو گانے بجانے کا اہتمام کرنا اور اس کے لیے جمع ہونا کیسے گوارا ہوسکتا ہے ؟
حضرت نافع ؓ نے بیان کیا ہے کہ میں حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ جا رہا تھا انہوں نے مزمار کی آواز سنی (جو بجانے کی چیز تھی) یہ آواز سن کر انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے دیں اور ایک جانب کو راستہ سے دور ہوگئے، پھر دور چلے جانے کے بعد دریافت فرمایا کہ اے نافع کیا آواز آرہی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اب آواز نہیں آرہی، اس پر انہوں نے اپنے کانوں سے انگلیاں ہٹا دیں اور فرمایا کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ نے ایک بانسری کی آواز سنی اور یہی عمل کیا ہے جو میں نے کیا ہے۔ واقعہ بیان کرکے حضرت نافع ؓ نے فرمایا کہ جس وقت کا یہ واقعہ ہے میں اس وقت کم عمر تھا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 411 از احمد و ابو داؤد)
حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے شراب سے جوے سے طبل اور غبیراء سے منع فرمایا۔ یہ اہل حبشہ کی ایک شراب تھی، اور فرمایا کہ ہر نشہ والی چیز حرام ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 318)
لَھْوَ الْحَدِیْثِ ۔۔ (جو چیز کھیل میں لگائے)
اس کے عموم میں ہر چیز آجاتی ہے، چونکہ سبب نزول میں گانے بجانے کی چیزوں کا بھی ذکر ہے اور یہ اللہ کے ذکر سے اور نماز سے غافل کرنے میں سب سے زیادہ بڑھ کر ہے اور بعض لوگ ساز اور سارنگی کے ساتھ قوالی سننے کو ثواب سمجھتے ہیں اس لیے مندرجہ بالا مضمون کو ہم نے اہتمام سے بیان کیا ہے اور گانے بجانے کے سلسلہ میں جو روایات سرسری طور پر سامنے آئی ہیں ان کو جمع کردیا ہے، جو لوگ کسی بھی ایسے کام میں مشغول ہوں جو اللہ کی یاد سے ہٹائے یہ سب (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) ہے۔
یاد رہے کہ لایعنی باتوں میں مشغول ہونے میں یہ نقصان بہرحال ہے کہ جتنی دیر میں یہ باتیں کی جائیں گی، تلاوت قرآن اور ذکر اللہ سے محروم رہے گا جو بہت بڑا نقصان ہے، مباح ہونا اور بات ہے اور ثواب سے محروم ہونا دوسری چیز ہے اور غیبت اور چغلی جھوٹ تو بہرحال حرام ہی ہے۔
(لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) میں بعض چیزیں حرام ہیں جن میں قمار یعنی جوا کھیلنا بھی شامل ہے اور بعض چیزیں مکروہ ہیں جن میں گناہ تو نہیں مگر وقت ضائع ہوتا ہے، اگر ضیافت طبع اور دماغ کی تفریح کے لیے کوئی شعر پڑھا جائے جو گندا نہ ہو تو یہ مباح ہے۔
شطرنج وغیرہ کا تذکرہ
شطرنج کے بارے میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے فرمایا کہ شطرنج سے وہی شخص کھیلے گا جو گنہگار ہوگا۔ اور انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ باطل چیز ہے اور اللہ تعالیٰ کو باطل چیز پسند نہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 387) حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نرد سے کھیلا (جو شطرنج کی طرح کھیلنے کی ایک چیز تھی) سو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 386) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو کبوتر کے پیچھے لگا ہوا تھا، اسے دیکھ کر آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ شیطان ہے جو شیطان کے پیچھے لگ رہا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 386) روایات حدیث میں تاش کھیلنے کا ذکر نہیں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس زمانے میں نہیں تھا، اگر ہار جیت کی شرط کے ساتھ ہو تو قمار یعنی جوا ہے، اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں اور اگر قمار کے بغیر ہو تو بہرحال اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کرنے والا تو ہے ہی جیسا کہ تاش کھیلنے والوں کو دیکھا جاتا ہے۔
قرآن مجید میں (وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) فرمایا ہے۔ اِشْتَرٰی کے لغوی معنی خریدنے کے ہیں اور ایک کام کے بدلہ دوسرے کام کو اختیار کرنے کے لیے بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے جیسا کہ (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃِ ) میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں آیت کریمہ میں جو (یَّشْتَرِیْ ) فرمایا ہے اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ بعض لوگ قرآن کو چھوڑ کر اس کے عوض (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) کو اختیار کرلیتے ہیں یعنی کھیلنے کی چیزوں میں لگ جاتے ہیں اور قرآن کریم کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جس کی فضیلت سورة کے شروع کی دو آیتوں میں بیان فرمائی، (قال البغوی فی معالم التنزیل ای یستبدل وباختیار الغناء والمزامیر والمعازف علی القرآن) (ج 3 ص 390) (علامہ بغوی ؓ نے معالم التنزیل میں لکھا ہے ” یعنی گانے بجانے اور لہو و لعب کے آلات کو قرآن کے بدلے میں لیتا ہے اور انہیں قرآن کے مقابلہ میں ترجیح دیتا ہے۔ )
Ayahs 31:7–10آسمان و زمین اور پہاڑ سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں، اس کے سوا کسی نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا
یہ دو آیتیں ہیں، پہلی آیت میں آسمان کی تخلیق اور زمین کے بعض احوال بیان فرمائے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بغیر ستون کے پیدا فرمایا ہے تم آسمان کو دیکھ رہے ہو کہیں بھی کوئی ستون نہیں ہے اتنے بڑے اور بھاری ساتوں آسمان محض اللہ تعالیٰ کی قدرت سے قائم ہیں انہیں قائم رکھنے کے لیے اسے ستون بنانے اور ان پر قائم رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اس کے بعد پہاڑوں کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں بڑے بڑے بھاری بھاری پہاڑ ڈال دئیے تاکہ وہ تمہیں لے کر حرکت نہ کریں اگر یہ پہاڑ نہ ہوتے تو سمندر کے پانیوں کی وجہ سے جو اسے گھیرے ہوئے ہیں اور سخت تیز ہواؤں کی وجہ سے زمین حرکت کرتی رہتی جب وہ حرکت کرتی تو بنی آدم بھی اس کے ساتھ متحرک ہوتے گرتے پڑتے اور کوئی کام نہ کر پاتے، یوں تو اللہ تعالیٰ کو قدرت ہے کہ پہاڑوں کے بغیر بھی زمین کو ہلنے جلنے سے محفوظ رکھے لیکن اس نے اسباب کے طور پر اس پر پہاڑ پیدا فرما دئیے۔ اسی لیے جب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے تو پہاڑوں کے ہوتے ہوئے بھی زمین میں زلزلہ آجاتا ہے اور قیامت کے دن تو زمین میں پوری طرح بھونچال آنا ہی ہے جسے (اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَہَا) میں بیان فرمایا ہے۔ یاد رہے کہ آیت کریمہ میں جس حرکت کی نفی فرمائی ہے اس سے زلزلہ جیسی حرکت مراد ہے، اگر زمین کی حرکت مستدیرہ ہو جیسا کہ اہل سائنس کہنے لگے ہیں تو آیت کریمہ میں اس کی نفی نہیں ہے۔
پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں ہر طرح کے چوپائے پیدا فرما دئیے، یہ چوپائے زمین پر پھیلے ہوئے ہیں، چرتے پھرتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں اور انسانوں کی ضرورت میں کام آتے ہیں، نیز اللہ تعالیٰ نے آسمان سے زمین پر پانی برسایا جو بار ہا برستا ہے اور برستا رہتا ہے، اس پانی کی وجہ سے مختلف انواع کی چیزیں پیدا ہوتی رہتی ہیں جو انسانوں کے بھی کام آتی ہیں اور ان کے چوپایوں کو بھی ان میں سے چارہ ملتا ہے۔
دوسری آیت میں فرمایا کہ جو اوپر مذکور ہوا یہ سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے، جو ان چیزوں کا خالق ہے صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے سوا جو معبود تجویز کر رکھے ہیں وہ تو عاجز محض ہیں اگر انہوں نے کوئی چیز پیدا کی ہو تو دکھاؤ وہ کیا ہے۔ جب کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا اور تمہارے تجویز کیے ہوئے باطل معبود بھی اس کی مخلوق ہیں اور ان کے عاجز ہونے کا یہ عالم ہے کہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے (لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وََّ لَو اِجْتَمَعُوْا لَہٗ ) تو انہیں اللہ تعالیٰ کا شریک کیوں ٹھہراتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ کے سوا معبود تجویز کرنا صریح گمراہی ہے، اس بات کو واضح فرمانے کے لیے آیت کریمہ کو (بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ) پر ختم فرمایا۔
Ayahs 31:11–12حضرت حکیم لقمان (علیہ السلام) کے نصائح
اس رکوع میں حضرت لقمان (علیہ السلام) کا اور ان کی نصیحتوں کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھیں، درمیان میں یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو وصیت کی کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھی طرح پیش آئے۔
حضرت لقمان (علیہ السلام) کا تعارف۔
لقمان (علیہ السلام) کون تھے اور کس زمانہ میں تھے ؟ اس بارے میں اصحاب سیر اور علمائے تفسیر نے کئی باتیں لکھی ہیں یہ سب باتیں اسرائیلیات میں سے ہیں صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ وہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بہن کے بیٹے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ ان کی خالہ کے بیٹے تھے، والد کا نام باعوراء اور عنقا لکھا ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آزر کی اولاد میں سے تھے، ایک ہزار سال تک زندہ رہے اور داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ پایا اور ان سے علم بھی حاصل کیا واقدی سے نقل کیا گیا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ کے درمیان جو زمانہ تھا اس میں گزرے ہیں۔ پھر اس میں یہ اختلاف ہے کہ وہ نبی تھے یا نہیں۔ حضرت عکرمہ اور شعبی سے نقل کیا ہے کہ وہ نبی تھے، بعض لوگوں نے انہیں حبشی بتایا ہے، ان کے آزاد اور غلام ہونے میں بھی اختلاف ہے۔ (واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب)
ان کا شغل کیا تھا ؟ اس بارے میں بھی متعدد اقوال ہیں : اول یہ کہ وہ نجار تھے یعنی بڑھئی کا کام کرتے تھے۔ اور دوم یہ کہ گدے اور تکیے بناتے تھے۔ سوم یہ کہ درزی کا کام کرتے تھے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ بکریاں چراتے تھے۔ یہ سب باتیں لکھنے کے بعد صاحب روح المعانی جلد 21: ص 83 میں فرماتے ہیں (ولا وثوق لی بشیءٍ من ھذہ الاخبار غیر أنی اختار انہٗ کان رجلاً صالحاً حکیماً ولم یکن نبیًّا) (یعنی ان باتوں میں سے کسی بات پر بھی وثوق نہیں کیا جاسکتا اور میں یہ مانتا ہوں کہ وہ رجل صالح تھے، حکیم تھے اور نبی نہیں تھے) جب نبی نہیں تھے تو ان کو جو خطاب ہے وہ بذریعہ الہام تھا یا ان کے زمانہ کے نبی کے ذریعہ تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے قاضی تھے۔ حضرت لقمان (علیہ السلام) سے بہت سے کلمات حکمت منقول ہیں، مؤطا امام مالک میں ہے کہ حضرت لقمان حکیم سے دریافت کیا گیا کہ یہ جو آپ کو علم اور فضل ملا ہے اس کا کیا سبب ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تین باتوں پر عمل کرنے سے یہ مقام حاصل ہوا (1) سچی بات کرنا۔ (2) امانت ادا کرنا۔ (3) لایعنی بات اور لایعنی کام کو چھوڑ دینا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 445)
یہ جو فرمایا کہ ہم نے لقمان کو حکمت دی، اس حکمت کی تشریح میں بھی متعدد اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ حکمت سے عقل و فہم اور سمجھداری مراد ہے۔ اور علامہ راغب اصفہانی ؓ نے فرمایا کہ اس سے موجودات کی معرفت اور اچھے کام کرنا مراد ہے۔ امام رازی ؓ نے فرمایا کہ علم کے مطابق عمل کرنا مراد ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے علم و عمل دونوں کی پختگی مراد ہے۔ (روح المعانی)
(اَنِ اشْکُرْ لِلّٰہِ ) (کہ تو اللہ کا شکر ادا کر) جو نعمتیں تمہیں دی ہیں ان سب کا اور خاص کر حکمت جو عطا فرمائی ہے اس کا شکر ادا کرو (وَ مَنْ یَّشْکُرْ فَاِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ ) (اور جو شخص اللہ کا شکر ادا کرتا ہے وہ اپنی ہی جان کے لیے شکر کرتا ہے) کیونکہ اس شکر کا نفع خود اسی کو پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ ثواب بھی عطا فرمائے گا اور مزید نعمتیں دے گا، جیسا کہ (لَءِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزْیْدَنَّکُمْ ) میں واضح فرما دیا ہے، (وَ مَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ) اور جو شخص ناشکری کرے گا تو اس میں اس کا اپنا ہی نقصان ہے اور اللہ تعالیٰ کو کسی کے شکر گزار ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ ساری مخلوق سے اور ساری مخلوق کے اعمال سے اور طاعات سے بےنیاز ہے اور وہ حمید ہے تمام خوبیوں والا ہے، اس کی ذات کامل ہے، صفات عالیہ سے متصف ہے، کوئی شخص اس کی حمدو ثناء بیان کرنے میں مشغول ہو یا نہ ہو وہ بہرحال حمید ہے۔
Ayah 31:13شرک ظلم عظیم ہے
اس کے بعد حضرت لقمان (علیہ السلام) کی ایک اہم نصیحت کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ تو کسی کو اللہ کا شریک نہ بنانا نہ اعتقادیات میں نہ عبادات میں، (اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ) (بلاشبہ شرک ظلم عظیم ہے) جس کسی چیز کو بےمحل استعمال کیا جائے اسے ظلم کہتے ہیں اور اس سے بڑا کیا ظلم ہوگا کہ اپنے خالق اور اپنے مالک کو چھوڑ کر اپنے جیسی مخلوق کی عبادت کی جائے۔
Ayah 31:14والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت
(وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ ) (الآیۃ) اور ہم نے انسان کو تاکید کی کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا رہ، ان کی خدمت کر، حسن سلوک کا رویہ اختیار کر، انسان کو سمجھنا چاہیے کہ کبھی وہ حاجت مند تھا اس وقت اس کی ماں نے اس کی خدمت کی، اس کی ضرورتوں کا خیال رکھا اور اس کے لیے تکلیفیں برداشت کیں، ایک والدہ ہی کی مصیبت کو دیکھ لو اس نے زمانہ حمل میں پیٹ میں رکھا، ضعف پر ضعف کو برداشت کیا کیونکہ جیسے جیسے حمل کی مدت بڑھتی چلی جاتی ہے اس کے ساتھ عورت کا ضعف بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں جو دعا تلقین فرمائی ہے اس میں ماں اور باپ دونوں کی محنت اور مشقت کا ذکر ہے، ارشاد ہے (وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا) (اے انسان تو یوں دعا کر کہ اے رب ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے مجھے چھٹ پنے میں پالا ہے۔ )
(وَّ فِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ ) (اور انسان کا دودھ چھوٹنا دو سال میں ہے) بچے کی پیدائش کے بعد دودھ پلانے کا سلسلہ چلتا ہے، اس زمانہ میں بھی ماں باپ کو تکلیف اٹھانی پڑتی ہے، بچہ دودھ پیتا جاتا ہے، جسم بڑھتا رہتا ہے، توانائی آتی رہتی ہے، ماں دودھ پلانے کا اہتمام کرتی ہے، باپ مال کسب کرتا ہے، بچہ سوتے سوتے ڈر جاتا ہے کبھی بخار آجاتا ہے کبھی کسی اور تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے، ماں باپ جان نثاری کے ساتھ اس کی خدمت کرتے ہیں، اسے آرام سے سلاتے ہیں اپنی نیند کھوتے ہیں اور اسے سینے سے لگائے لگائے پھرتے ہیں، یہ تو چھٹ پنے کی باتیں ہیں اور اس کے بعد بھی بالغ ہونے تک اس کی پرورش اور پرداخت میں لگے ہی رہتے ہیں۔ ان کی محنتوں اور مشقتوں کو سامنے رکھا جائے تو ایک شریف انسان کا دل یہی چاہتا ہے کہ جب بڑا ہوگیا تو اب انہیں آرام پہنچائے اور ان کی خدمت کرے اور ان کی خدمت کا شکر گزار ہو۔ یہ شرافت انسانی کا تقاضا ہے پھر خالق مجدہٗ نے بھی اس کا حکم فرمایا ہے۔ سب سے بڑا شکر اللہ کا ہے جس نے انسان کو پیدا فرمایا اور اس کے ماں باپ کو بھی، اور ماں باپ کے دل میں محبت اور مامتا ڈالی جنہوں نے دکھ سکھ میں پرورش کی، ان کی یہ محنت اور مشقت لائق شکر ہے، اس لیے فرمایا (اَنِ اشْکُرْلِیْ وَ لِوَالِدَیْکَ ) (کہ تو میرا شکر ادا کر اور اپنے ماں باپ کا) ساتھ ہی (اِلَیَّ الْمَصِیْرُ ) بھی فرمایا (کہ سب کو میری طرف لوٹنا ہے) جو شخص جو بھی عمل کرے گا اس کی جزا سزا پالے گا۔
Ayah 31:15اس کے بعد فرمایا (وَاِنْ جَاھَدٰکَ عَلآی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْھُمَا) (اور اگر تیرے والدین تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو ان کی فرمانبرداری نہ کرنا) دنیا میں اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے اور غیر اللہ کی عبادت کرنے کا سلسلہ چلا ہوا ہے، یہ ایک محض اندھی تقلید کے طور پر ہے، ماں باپ کو مشرک پاتے ہوئے شرک کا رواج دیکھتے ہیں تو خود بھی شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے جب مشرکین کو تنبیہ کی جاتی ہے اور شرک سے روکا جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو اسی پر پایا، علمی عقلی دلیل کوئی نہیں محض تقلید ہے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا کہ جو چیز بےدلیل ہے وہ غلط ہے، گمراہی ہے اسے اختیار نہ کرو، اگر ماں باپ زور دیں کہ اللہ کے ساتھ شرک کرو تو اس میں ان کی اطاعت نہ کرنا، انہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیں، سب سے بڑا اللہ تعالیٰ کا حق ہے کیونکہ وہ خالق اور مالک ہے، کسی کے کہنے سے اس کی نافرمانی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ کسی کے کہنے سے نہ شرک اختیار کرنا جائز ہے نہ کسی بھی قسم کا کفر نہ کسی بھی قسم کا گناہ۔ اسی لیے حدیث شریف میں فرمایا (لاَ طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ ) کہ خالق کی نافرمانی میں کسی کی فرمانبرداری نہیں ہے۔
(وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرِوْفًا) (اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی کے ساتھ رہنا سہنا رکھو) یعنی ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ رکھو، مومن ہوں یا کافر، حسن سلوک کے ساتھ پیش آتے رہو، اگر وہ کافر ہیں تو ان کے کفر کی وجہ سے ان کی خدمت اور حسن سلوک سے منہ نہ موڑو، بس اتنا خیال رہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہو۔
(وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ) (اور جو لوگ میرے راستے کی طرف رجوع کریں ان کا اتباع کرنا) اس میں نیک بننے اور نیکیوں پر ثابت قدم رکھنے کا طریقہ بتادیا اور وہ یہ کہ جو بندے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ان کا اتباع کیا جائے۔ انسان کا مزاج ہے کہ وہ صحبت سے متاثر ہوتا ہے، برے آدمیوں میں آنا جانا رکھتا ہے تو ان کا اثر لے لیتا ہے اور اگر صالحین کے پاس آتا جاتا ہے، ان کی مجلسوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے تو نیکی کی طرف طبیعت چلنے لگتی ہے لہٰذا انسان پر لازم ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ان کی بتائی ہوئی راہ پر چلے، انہیں کے ساتھ رہے اور ان کا اتباع کرے ورنہ شیطان اچک لے گا اور بری راہ پر ڈال دے گا۔
(ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) (پھر میری طرف تم سب کو لوٹنا ہے سو میں تمہیں ان کاموں سے باخبر کردوں گا جو تم کیا کرتے تھے) ہر ایک اپنے عمل سے باخبر ہوگا اور اپنے اپنے عمل کے مطابق سزا و جزا کا مستحق ہوگا۔ والدین کی خدمت اور فرمانبرداری کے بارے میں سو رۃ الاسراء کے رکوع نمبر 3 میں اور سورة العنکبوت کے رکوع نمبر 1 میں تفصیل سے لکھا جاچکا ہے اس کا بھی مطالعہ کرلیا جائے۔
Ayahs 31:16–17نماز قائم کرنے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تاکید
انسان کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم فرمانے کے بعد پھر حضرت لقمان کی وصیتوں کا بیان شروع ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا علم بہت وسیع ہے وہ اپنی مخلوق کو اور مخلوق کے ہر عمل کو خوب اچھی طرح جانتا ہے، جب قیامت کے دن حاضر ہوں گے تو وہ چھوٹے بڑے عمل کی جزا دے گا، اگر کسی شخص نے بہت ہی چھپا کر کوئی عمل کیا ہو تو چھوٹا ہونے میں رائی کے دانہ برابر ہو اور اس کے پوشیدہ ہونے کی یہ صورت ہو کہ وہ کسی پتھر کے اندر چھپا ہوا ہو یا آسمانوں کے اندر موجود ہو یا زمین میں ہو تو اللہ شانہ کو اس کا بھی علم ہے، جو چیزیں چھپی ہوئی ہیں وہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ حضرت لقمان نے فرمایا کہ دیکھو بیٹا کسی کا کوئی بھی عمل ہو، کسی بھی طرح اور کہیں بھی پوشیدہ ہو قیامت کے دن اللہ اس کو حاضر فرما دے گا۔ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ میں جو عمل چھپ کرلوں گا اس کی جزا سے بچ جاؤں گا، بلاشبہ اللہ تعالیٰ لطیف ہے، باریک بین ہے ہر ہر چیز کو جانتا ہے اور خبیر بھی ہے اسے ہر شخص ہر فرد اور ہر عمل کی خبر ہے۔
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نماز قائم کرنے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے کی بھی وصیت فرمائی، نماز کو قائم کرنا، اچھی طرح پڑھنا، دنیاوی دھندوں سے دل فارغ کرکے نماز میں لگنا، نماز ہی کی طرف متوجہ رہنا اور نماز کو صحیح طریقہ پر ادا کرنا اور خود نیکی پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کو بھی بھلائی کا حکم کرنا اور برائیوں سے روکنا یہ سب بہت بڑا اور اہم کام ہے۔ پھر جب کوئی شخص لوگوں کو فرائض وواجبات کی طرف متوجہ کرے، نیک کاموں کی تلقین کرے اور گناہوں پر متنبہ کرے تو اس کے مخاطبین بعض مرتبہ آڑے آجاتے ہیں، بےت کے جواب دیتے ہیں، طرح طرح کی باتیں سناتے ہیں جس سے قلبی و روحانی تکلیف ہوتی ہے اور بعض مرتبہ معاند جاہل مخاطب مبلغ اور داعی کو جسمانی تکلیف بھی پہنچاتے ہیں، اس پر صبر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ثابت قدمی کے ساتھ کام کرتے رہنے اور جو تکلیف پہنچے اسے سہنے اور اس پر صبر کرنے کی ہمت بیان کرتے ہوئے (اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ) فرمایا کہ بلاشبہ یہ سب کچھ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔
صبر کرنے کی اہمیت و ضرورت اور تواضع سے پیش آنے کی تاکید
(وَاصْبِرْ عَلٰی مَآ اَصَابَکَ ) جو فرمایا گو یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سیاق میں واقع ہے لیکن الفاظ کا عموم ہر طرح کی مصیبت پر صبر کرنے کو شامل ہے۔ درحقیقت کسی بھی تکلیف پر صبر کرنا عین وقت پر تو بڑا مشکل ہوتا ہے لیکن اس کا پھل میٹھا اور اچھا ہی سامنے آتا ہے جسے (اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ) میں بیان فرمایا ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے یہ بھی فرمایا کہ لوگوں سے اپنا رخ مت پھیر یعنی تکبر نہ کرو اور ایسا انداز رکھو جس سے اپنی بڑائی اور لوگوں کی حقارت ظاہر نہ ہوتی ہو، یعنی لوگوں کے ساتھ بشاشت کے ساتھ پیش آؤ، حق پر قائم رہتے ہوئے گھل مل کر رہو، ان کی طرف سے اپنا رخ پھیر کر اور چہرہ موڑ کر نہ گذر جاؤ، درحقیقت یہ بہت بڑی نصیحت ہے اور ان لوگوں کو تنبیہ ہے جنہیں کچھ علم یا مال یا عہدہ مل جاتا ہے تو وہ دوسروں کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ ان کے ساتھ اٹھیں بیٹھیں یا ان کے ساتھ لطف اور رفق اور مہربانی سے پیش آئیں۔ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اتنی بڑائی دی کہ جو کسی بھی مخلوق کو عطا نہیں فرمائی، آپ ﷺ تواضع کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔ شمائل ترمذی میں آپ کے اخلاق کریمانہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے (وَاِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا) کہ جب آپ ﷺ کسی کی طرف توجہ فرماتے تو پورے بدن کے ساتھ توجہ فرماتے تھے ایسا نہیں کہ جس سے بات ہو رہی ہو اس کے ساتھ لاپرواہی اور بےتوجہی کا معاملہ فرماتے۔
حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ طریقہ تھا کہ جب کسی سے مصافحہ فرماتے تو اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ خود نہیں چھڑاتے تھے جب تک کہ وہی اپنا ہاتھ نہ چھڑالیتا، اور جس سے ملاقات ہوتی تھی اس کی طرف سے اپنا چہرہ نہیں پھیرتے تھے جب تک کہ وہ خود نہ پھیر لیتا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 520 از ترمذی)
حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مومن الفت والا ہوتا ہے، اور اس میں کوئی خیر نہیں جو الفت نہیں رکھتا اور جس سے لوگ الفت نہیں رکھتے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 425 از احمد و بیہقی و مجمع الزوائد جلد 10 ص 273)
Ayah 31:18تکبر کی مذمت
حضرت لقمان ؓ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا یہ زمین پر اتراتے ہوئے اکڑتے مکڑتے ہوئے نہ چلو کیونکہ یہ تکبر کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے اور فخر کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا، سورة الاسراء رکوع نمبر 3 میں بھی یہ مضمون گذر چکا ہے وہاں یہ بھی فرمایا ہے (اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا) (بلاشبہ تو زمین کو نہیں پھاڑ سکتا اور لمبائی کے اعتبار سے پہاڑوں تک نہیں پہنچ سکتا) یعنی تجھ سے بڑی بڑی مخلوق موجود ہے، تجھے اکڑنا مکڑنا، اترانا اور شیخی بھگارنا کہاں زیب دیتا ہے ؟
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے یہ بھی کہا کہ اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کرو یعنی اس طرح چلو کہ دوڑ بھاگ نہ ہو کیونکہ وقار کے خلاف ہے، اور اس میں خود اپنی ذات کو اور زمین پر رہنے اور بسنے والوں اور چلنے پھرنے والوں کے لیے بھی خطرہ ہے، اور نہ بہت آہستہ چلو کہ تکبر اور تصنع والے چلتے ہیں تاکہ لوگوں پر اپنا امتیاز ظاہر کریں ہاں اگر کوئی بیمار اور ضعیف ہے تو وہ دوسری بات ہے۔
Ayah 31:19آواز کو پست کرنے کا حکم
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو یہ نصیحت بھی فرمائی کہ اپنی آواز کو پست کرو یعنی شور نہ کرو اور ضرورت سے زیادہ بلند آواز نہ نکالو، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ آوازوں میں سب سے زیادہ مکروہ آواز گدھوں کی آواز ہے جس طرح گدھوں کی آواز سے تکلیف ہوتی ہے اسی طرح انسانوں کے چیخنے اور چلانے سے بھی وحشت اور اذیت ہوتی ہے۔
Ayah 31:20اللہ تعالیٰ نے انسان کو بھرپور ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا ہے، منکرین آباء و اجداد کی تقلید میں گمراہ ہوئے، اہل ایمان نے مضبوط کڑے کو پکڑ رکھا ہے
حضرت لقمان کی نصائح کا تذکرہ ختم کرنے کے بعد پھر توحید کا مضمون شروع فرمایا۔ ارشاد فرمایا کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخر فرما دیا جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں آسمانوں و زمین میں پیدا فرمائی ہیں انہیں تمہارے کام میں لگا دیا ہے، ان میں بعض چیزیں تو وہ ہیں جو انسان کے حکم کے تابع ہیں اور جو تابع نہیں ہیں وہ بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ انسانوں کے لیے فائدہ مند ہیں، ان کا وجود کسی نہ کسی طرح سے انسان کے منافع کا ذریعہ ہے، انسان اگر غور کرے اور اپنے واقعی نفع و ضرر کو پہچانے تو یہ بات اس کی سمجھ میں آجائے گی۔
پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں انڈیل دی ہیں یعنی بھرپور نعمتیں عطا فرمائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنی زیادہ نعمتیں دی ہیں جن کو شمار بھی نہیں کرسکتا اور یہ نعمتیں جسمانی بھی ہیں اور روحانی بھی، ظاہری بھی اور باطنی بھی، اہل ایمان کے لیے تو ایمان بہت بڑی نعمت ہے بلکہ سب سے بڑی نعمت ہے جو آخرت میں ابدی نعمتیں ملنے کا ذریعہ ہے۔ تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے جسم دیا ہے، صحت و عافیت عطا فرمائی ہے، طرح طرح کی غذائیں دی ہیں، حواس خمسہ (یعنی قوت سامعہ اور باصرہ اور شامہ اور ذائقہ اور لامسہ) عطا فرمائی اور عقل و فہم سے نوازا ہے، اچھی صورت دی ہے، جسم میں جوڑ رکھے ہیں جن کے ذریعہ اٹھتا بیٹھتا اور لیٹتا ہے اور چلتا پھرتا ہے اور ضرورت کی چیزوں کو پکڑتا اور استعمال کرتا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔ ظاہری نعمتوں سے کون سی نعمتیں مراد ہیں اور باطنی نعمتیں کون سی ہیں ؟ اس کے بارے میں صاحب روح المعانی نے متعدد اقوال نقل کیے ہیں، ایک قول یہ ہے کہ ظاہری نعمتوں سے اسلام کا غالب ہونا اور دشمنوں کے مقابلے میں فتح یاب ہونا اور باطنی نعمتوں سے فرشتوں کی امداد آنا مراد ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ نعم ظاہرہ سے دنیاوی نعمتیں اور نعم باطنہ سے اخروی نعمتیں مراد ہیں۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ظاہری نعمتوں سے سمع، بصر، زبان اور تمام اعضاء مراد ہیں اور باطنی نعمتوں سے قلب اور عقل و فہم مراد ہیں، اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ظاہری نعمتیں وہ ہیں جو سب کے سامنے ہیں اور باطنی نعمتیں وہ ہیں جو ہر شخص کے ساتھ مخصوص ہیں۔
Ayah 31:21نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ جس ذات پاک نے یہ نعمتیں دی ہیں صرف اسی کی عبادت کی جائے لیکن بعض لوگ توحید کے بارے میں جھگڑتے ہیں، اللہ تعالیٰ کو معبود حقیقی ماننے کو تیار نہیں نہ ان کے پاس علم ہے نہ ہدایت ہے نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی نازل فرمودہ کتاب ہے جس کی روشنی میں کوئی بات کرتے، محض باپ دادوں کی اندھی تقلید کر رکھی ہے۔ جب انہیں توحید کی دعوت دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نازل فرمایا ہے اس کا اتباع کرو تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے جس دین پر اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اسی کا اتباع کرتے رہیں گے ان لوگوں کی جہالت اور حماقت پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا (اَوَلَوْ کَان الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْھُمْ اِلٰی عَذَاب السَّعِیْرِ ) (کیا یہ لوگ اپنے باپ دادوں کا اتباع کرتے رہیں گے اگرچہ ان لوگوں کو شیطان دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو) اور وہ اس کی دعوت کو قبول کرکے (جو شرک اور کفر کی دعوت ہے) دوزخ میں جاچکے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ ہوش گوش سے کام لو، دنیاوی نقصان اور خسران کے بارے میں تو کسی کا اتباع کرنے کو تیار نہیں ہوتے اور صاف کہہ دیتے ہیں کہ فلاں شخص کنویں میں گرنے لگے تو ہم کیوں گریں، لیکن باپ دادوں کی تقلید کرکے دوزخ کے دائمی عذاب میں جانے کو تیار ہیں۔
Ayah 31:22اہل شرک اور اہل کفر کی حمایت اور ضلالت بتانے کے بعد اہل ایمان کی تعریف فرمائی اور فرمایا (وَمَنْ یُّسْلِمْ وَجْھَہٗٓ اِلَی اللّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی) (اور جو شخص اپنی ذات کو اللہ کا فرمانبردار بنا دے اور وہ مخلص بھی ہو تو اس نے مضبوط کڑے کو اچھی طرح سے پکڑ لیا) یعنی جس نے اپنے جسم اور جان کو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بنا دیا (عقائد میں بھی اعمال میں بھی) اور اس کی یہ فرمانبرداری اخلاص کے ساتھ ہے، ظاہر اور باطن دونوں یکساں ہیں تو اس نے بڑے مضبوط کڑے کو پکڑ لیا، یعنی ایسے دین کو اختیار کیا جو ہلاکت و خسران اور تباہی سے پوری طرح محفوظ ہونے کا سبب بن گیا اور اس کی وجہ سے وہ دارالعذاب یعنی دوزخ میں جانے سے بچ گیا اور اس نے جو دین اختیار کیا یہ دین اسے دارالنعیم یعنی جنت میں لے جانے کا ضامن بن گیا۔ دین توحید مضبوط حلقہ ہے جو ٹوٹنے والا نہیں ہے، جیسا کہ سورة بقرہ میں (لاَ انْفِصَامَ لَھَا) فرمایا ہے۔
(وَاِلَی اللّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ ) (اور اللہ ہی کی طرف سب کاموں کا انجام ہے) یعنی حق کا اتباع کرنے والے اور باطل کے ماننے والے اور ان کے اعمال سب ہی اس کے حضور پیش ہوں گے وہ سب کو ان کے عقائد و اعمال کے مطابق جزا سزا دے گا۔
Ayah 31:23اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لیے ارشاد فرمایا کہ (وَ مَنْ کَفَرَ فَلَا یَحْزُنْکَ کُفْرُہٗ ) (جو شخص کفر کرے اس کا کفر آپ کو رنجیدہ نہ کرے) آپ اپنا کام کرتے رہیں اور واضح طور پر حق کو واضح فرماتے رہیں آپ کی اتنی ہی ذمہ داری ہے پھر آپ کسی کے کفر سے رنجیدہ کیوں ہوں ؟ جو شخص کفر پر رہے گا اپنا ہی برا کرے گا۔ (اِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ فَنُنَبِّءُھُمْ بِمَا عَمِلُوْا) (ہماری ہی طرف سب کو لوٹنا ہے سو وہ جو اعمال کرتے تھے ہم ان کو بتادیں گے) ہر ایک کا عمل سامنے آجائے گا پھر اس کے مطابق جزا سزا پائے گا۔ (اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ ) (بلاشبہ اللہ کو دلوں کی باتیں خوب معلوم ہیں) اسے اہل ایمان کے ایمان اور اہل کفر کے کفر کا پتہ ہے کسی کا کوئی عمل اور عقیدہ اس سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔
Ayah 31:24دنیا میں کافروں کو جو کچھ مال ملا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ان کی دنیاوی زندگی اچھے حال میں گزر رہی ہے ان کے بارے میں فرمایا کہ (نُمَتِّعُھُمْ قَلِیْلًا) (ہم انہیں چند روزہ عیش دیں گے) (ثُمَّ نَضْطَرُّھُمْ اِلٰی عَذَابٍ غَلِیْظٍ ) (پھر انہیں سخت عذاب کی طرف مجبور کریں گے) جب قیامت کے دن حاضر ہوں گے تو دنیا کا چند روزہ عیش انہیں وہاں ذرا بھی فائدہ نہ دے گا اور انہیں دوزخ کے سخت عذاب میں داخل ہونے پر مجبور کیا جائے گا جس سے بچنے کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔
Ayah 31:25اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور تسخیر اور تصرفات تکوینیہ کا تذکرہ (کلمات اللہ غیر متناہی ہیں)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت اور قدرت اور شان بےنیازی اور محمودیت اور عزت و حکمت اور سمع و بصر اور علم اور برتری اور کبریائی کو بیان فرمایا ہے۔ اول تو یہ فرمایا ہے کہ اگر آپ مشرکین سے دریافت فرمائیں کہ بتاؤ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے، آپ فرما دیجیے کہ سب تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، جب تمہارے اقرار سے خالق وہی ہے جس نے اتنے بڑے آسمانوں کو اور زمین کو وجود بخشا تو یہ بھی سمجھ لینا کہ سب تعریفوں کا مستحق بھی وہی ہے، جب یہ بات ہے تو اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہو اور شرک کے مرتکب کیوں ہوتے ہو ؟ (بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (بلکہ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے) ماحول سے متاثر ہو کر اور اپنے باپ دادوں کی تقلید کو سامنے رکھ کر ایسی جہالت میں مبتلا ہوئے ہیں کہ توحید کی طرف آتے ہی نہیں۔ (لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) (اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے وہ سب اللہ ہی کی مخلوق و مملوک ہے) منجملہ اس مخلوق اور مملوک کے وہ چیزیں بھی ہیں جن کی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں، یہ ان کی بیوقوفی ہے، (اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ) یہ بھی سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کی عبادت کی حاجت و ضرورت نہیں ہے۔ وہ ہر حال میں ہر ایک سے بےنیاز ہے اور وہ حمید بھی ہے، تمام صفات کمال سے متصف ہے، اگر کوئی بھی شخص اس کی حمد و ثنا بیان نہ کرے وہ تب بھی حمید ہے اس کی صفت محمودیت میں کوئی فرق نہیں۔
اس کے بعد فرمایا کہ زمین میں جتنے بھی درخت ہیں اگر ان سب کے قلم بن جائیں (جو کروڑوں کی تعداد میں ہوں گے) اور سمندر کو روشنائی کی جگہ استعمال کیا جائے اور ایک سمندر ختم ہوجائے اور اس کے بعد سات سمندر اور ملا دئیے جائیں یعنی ان کی بھی روشنائی بنا دی جائے اور اس روشنائی سے اللہ تعالیٰ کے کلمات کو لکھا جائے تو اللہ تعالیٰ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ کیونکہ اس کے کلمات غیر متناہی ہیں اور متناہی خواہ کتنا بھی زیادہ ہو بہرحال وہ غیر متناہی کے مقابلہ میں کہیں پہنچ کر ختم ہو ہی جائے گا۔ اور سات دریا جو فرمایا یہ بھی بطور فرض ہے ان کے علاوہ جتنے بھی سمندر روشنائی کی جگہ استعمال ہوتے رہیں گے ختم ہوتے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔
Ayahs 31:26–27کلمات سے کیا مراد ہے ؟ بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی صفت قدیم کلام نفسی مراد ہے، اور بعض حضرات نے اس سے اللہ تعالیٰ کی معلومات اور مقدورات مراد لی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی معلومات اور مقدورات غیر متناہی ہیں، جتنے بھی قلم تیار کرلیے جائیں اور جتنے بھی سمندروں کی روشنائی بنالی جائے پھر قلموں سے اللہ تعالیٰ کی معلومات و مقدورات کو لکھا جائے تو یہ معلومات و مقدورات ختم نہیں ہوسکتیں، ان کا احصاء نہیں ہوسکتا۔ اور بعض حضرات نے اس سے اللہ تعالیٰ کی صفات کمالیہ مراد لی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے کمالات کو لکھا جائے تو کبھی ختم نہیں ہوسکتے، ان کو لکھتے لکھتے بےانتہاء کروڑوں قلم اور کروڑوں بڑے بڑے دریا ختم ہوجائیں گے لیکن اللہ کی صفات اور کمالات کو اس طرح نہیں لکھا جاتا کہ وہ ختم ہوجائیں اس کا کچھ بیان سورة کہف کی آیت (قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ ) کے ذیل میں گزر چکا ہے۔ (اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) (بلاشبہ اللہ عزت والا ہے حکمت والا ہے۔ )
Ayah 31:28اس کے بعد فرمایا (مَا خَلْقُکُمْ وَلَا بَعْثُکُمْ اِلَّا کَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ) (تمہارا پہلی بار پیدا کرنا اور موت دے کر دوبارہ زندہ فرمانا یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک جان کو پیدا کرنا) یعنی سارے انسانوں کو دوبارہ زندہ فرمانا اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے، جس نے کثیر تعداد میں جانیں پیدا فرما دیں وہی دوبارہ ان سب کو زندہ اٹھا دے گا، ابتداً پیدا کرنا اور ایک جان کو پیدا کرنا اور بہت بھاری تعداد میں جانوں کا پیدا کرنا اور ان سب کو موت دے کر دوبارہ زندہ فرمانا اس قادر مطلق کے لیے یکساں ہے، لہٰذا بعث کا انکار کرکے اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ (اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ) (بےشک اللہ تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے) جو لوگ اہل ایمان ہیں وہ ان کے اقوال کو سنتا ہے اور اعمال کو دیکھتا ہے اور جو لوگ کافر و منکر ہیں وہ ان کے اقوال و اعمال سے بھی باخبر ہے وہ ہر ایک کو اس کے عقیدہ اور قول کے مطابق جزا اور سزا دے گا۔
Ayah 31:29اس کے بعد ارشاد فرمایا (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ ) (الآیۃ) اے مخاطب کیا تو اس کو نہیں دیکھتا کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے (یہ سب نظروں کے سامنے ہے) اور اس کے علاوہ کسی کو بھی اس تصرف پر قدرت نہیں ہے اور اسی نے چاند اور سورج کو مسخر کیا ہے ان دونوں کو جس کام میں لگایا ہے اس کے کرنے پر مجبور ہیں، ان کے لیے جو محور مقرر فرمایا ہے اسی پر چلتے رہتے ہیں ایک سرمواس سے ہٹ نہیں سکتے، ان کے لیے جو اللہ تعالیٰ نے ایک اجل مقرر فرما دی ہے اسی اجل تک چل رہے ہیں، اپنی ذات میں ان کا اپنا ذاتی کوئی تصرف نہیں۔ (وَّ اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ) (اور تم جو کچھ عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے) وہ اسی کے مطابق جزا و سزا دے گا۔