Ayahs 31:1–21 قرآن کا تعارف قرآن کی زبان سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ آیتیں ہیں حکمتوں بھری اس کتاب کی "۔ اور ایسی حکمت بھری کتاب کی کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ کبھی ہوئی ہے اور نہ قیامت تک کبھی ممکن ہے۔ اور جس کی مقدس تعلیمات انسان کے لئے دنیا و آخرت کی سعادت و کامیابی کی کفیل وضامن اور راہبر و راہنما ہیں۔ اور جن کو اپنانے سے انسان کے دل و دماغ ایمان و حکمت کے نور سے منور ہوجاتے ہیں۔ اور وہ نور حکمت و معرفت سے سرشار اور مالا مال ہوجاتا ہے۔ لیکن حکمت کے جواہر پاروں کا قدردان ہر شخص نہیں ہوتا بلکہ انکے قدردان محسن لوگ ہی ہوتے ہیں جن کی نیتیں بھی درست ہوتی ہیں اور ارادے بھی صحیح اور وہ اپنے سوچنے سمجھنے کی قوتوں کو صحیح استعمال کرتے ہیں جنہوں نے اپنی فطرت کی صلاحیتوں کو صحیح رکھا ہوتا ہے اور وہ اپنی بصیرت کی حد تک جو قدم بھی اٹھاتے ہیں صحیح سمت ہی کی طرف اٹھاتے ہیں۔ سو ایسے ہی محسن لوگوں کیلئے یہ کتاب سراسر ہدایت اور ایک عظیم الشان رحمت ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 31:32 سراسر ہدایت اور عظیم الشان رحمت : یعنی یہاں پر " ھادی " نہیں " ھدًی " اور " رحمۃً " فرمایا گیا ہے جو کہ مشتق نہیں مصدر ہیں۔ جو تاکید و مبالغہ کے مفہوم پر دلالت کرتے ہیں۔ سو یہ کتاب سراسر ہدایت اور عین رحمت ہے۔ سو یہ کتاب حکیم ایسے محسن لوگوں کو اپنی ہدایت اور راہنمائی سے نوازتی ہے جس سے ان کو صحیح راہ نصیب ہوتی ہے اور وہ زندگی میں حق و ہدایت کی اس شاہراہ پر گامزن ہوتے ہیں جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و مشرف کرنے والی عظیم الشان شاہراہ ہے۔ نیز یہ کتاب حکیم ایسے لوگوں کو اس عظیم الشان رحمت سے نوازتی ہے جو ایک طرف تو ان کو اس دنیا میں حیات طیبہ ۔ پاکیزہ زندگی ۔ کی دولت سے سرفراز کرتی ہے اور دوسری طرف یہ آخرت میں انکو جنت کی ابدی نعمتوں سے بہرہ مند کرتی ہے۔ سو جو اس کتاب حکیم سے منہ موڑتے ہیں وہ سراسر اپنا اور صرف اپنا ہی نقصان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
3 ہدایت قرآنی سے استفادے کے لیے بنیادی شرائط کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے اس کتاب حکیم سے استفادے کیلئے بنیادی شرائط کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ یعنی اس کتاب حکیم کا فیضان ہدایت و ارشاد ہے تو سب کے لئے عام اور اس کا در رحمت سب کے لئے وا ہے مگر اس سے مستفید و فیضیاب وہی ہوسکتے ہیں جو ایمان و احسان کی صفت اپنے اندر رکھتے ہوں۔ جیسا کہ شفاخانہ تو اپنی جگہ قیمتی دواؤں سے بھرا ہوتا ہے اور وہ ہوتا سب کے لئے ہے مگر اس سے فائدہ وہی اٹھا سکتے ہیں جو سچے دل اور طلب صادق کے ساتھ اس کی طرف رجوع کریں اور حسب ہدایت دوا استعمال کریں۔ اور " محسن " احسان سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ اچھا کرنے کے ہیں۔ اور اچھائی ظاہر اور باطن دونوں کے اعتبار سے ہوتی ہے کہ نیت بھی صحیح ہو اور عمل بھی درست۔ یعنی کتاب و سنت کے مطابق ہو۔ جیسا کہ حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے اپنی مشہور حدیث میں احسان کی تعریف میں ارشاد فرمایا کہ " تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو کہ گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ اور اگر تم سے یہ نہ ہو سکے تو کم سے کم یہ سوچو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے " ۔ " اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکَنْ تَرَاہُ فَاِنَّہ ‘ یَرَاکَ " ۔ اللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ الْمُفْلِحِیْنَ بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرحَمَ الرّاحِمِیْنَ ۔ بہرکیف احسان اور ایمان و یقین کی صفات عظیمہ اور خصال حمیدہ اس کتاب حکیم کی ہدایت و رحمت سے مستفید ہونے کا اولین تقاضا اور اس کیلئے بنیادی شرائط ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 31:44 محسنین کی تین اہم صفات کا ذکر وبیان : احسان والوں کی ان تین صفتوں میں سے پہلی کا تعلق عبادات بدنیہ سے ہے۔ دوسری کا عبادات مالیہ سے۔ جبکہ تیسری ان سب کے لئے بمنزلہ شرط اور اساس کے ہے۔ یعنی آخرت پر ایمان و یقین کہ جب آخرت کا یقین ہوگا تو اخلاص بھی ہوگا اور ہر عبادت کی ادائیگی بھی صحیح طریقے سے ہوگی۔ اور بعض علماء کے نزدیک زکوٰۃ سے یہاں اس کے معروف اصطلاحی معنی مراد نہیں۔ کیونکہ ان اصطلاحی معنوں میں زکوٰۃ کی فرضیت کا حکم تو مدینہ منورہ میں نازل ہوا جبکہ یہ سورة کریمہ مکی ہے۔ اس لئے یہاں زکوٰۃ سے اس کے لغوی معنیٰ یعنی طہارت و پاکیزگی مراد ہیں۔ مگر بہتر یہ ہے کہ لفظ کو اپنے ظاہر اور عموم پر رکھا جائے تاکہ یہ ان دونوں مفہوموں کو شامل ہوجائے کہ اسلام کی مقدس تعلیمات میں عبادات مالیہ اور طہارت اخلاق کے یہ دونوں پہلو ہمیشہ ہی مطلوب رہے ہیں۔ اور زکوٰۃ اپنی تفصیلات کے اعتبار سے اگرچہ مدینہ منورہ میں ہی فرض ہوئی مگر اس کی نفس فرضیت مکی دور میں بھی تھی۔ اس لئے مکی سورتوں میں اس کا ذکر آتا ہے۔ یہاں تک کہ سورة مزمل میں بھی جو کہ مکی دور کے بھی بالکل ابتدا میں نازل ہوئی تھی اس میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے محسنین کی ان تین اہم صفات کو بیان فرما دیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے ان صفات کریمہ سے سرشار ومالا مال فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 31:55 فوز و فلاح کا مدار ایمان وعمل پر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کی فوز و فلاح کا مدار اس کے اپنے ایمان وعمل پر ہے نہ کہ کسی نسل ونسب وغیرہ کے انتساب پر۔ جیسا کہ بہت سے گمراہ لوگوں نے سمجھ رکھا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہی لوگ ہیں جو اس دنیا میں اپنے رب کی طرف سے ملنے والی صراط مستقیم پر قائم ہیں۔ اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے " ان کے سوا باقی سب گمراہ ہیں۔ اور ان کو آخرت میں جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ سو دنیا داروں اور مادہ پرستوں کے نزدیک تو ایسے لوگ کل بھی معتوب و ناداں تھے اور آج بھی انہیں رجعت پسند اور تاریک خیال سمجھا جاتا ہے۔ مگر اللہ پاک اپنے کلام حکیم میں ارشاد فرما رہا ہے اور حصر کے ساتھ ارشاد فرما رہا ہے کہ اپنے رب کی طرف سے ملنے والی راہ حق وصواب پر بھی یہی لوگ ہیں اور حقیقی فوزو فلاح اور اصل کامیابی سے سرفراز ہونے والے بھی یہی حضرات ہیں ۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْہُمْ ۔ اور وجہ ظاہر ہے کہ یہ مادی دنیا اور اس کی ہر چیز فانی ہے۔ پس جو شخص اس حقیر وفانی دنیا کے عوض آخرت کی دائمی و بےمثال زندگی کو فراموش کر بیٹھے اور اسے پس پشت ڈال دے اور وہ وہاں کے دائمی عذاب پر راضی ہوجائے تو وہ تسلیم کرے یا نہ کرے، مانے یا نہ مانے، حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ وہ سراسر ناکام و نامراد ہے کہ متاع دنیا کے اس حطام فانی و زائل نے بہرحال یہیں رہ جانا ہے۔ کچھ بھی ساتھ نہیں جائے گا سوائے اس کے جو ایمان و اخلاص کے ساتھ اللہ پاک کی رضا کے لئے دے دیا اور بس۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی کے بعد اپنے خالق ومالک کی اطاعت و بندگی سے سرشار رہنے والے لوگ ہی وہ لوگ ہیں جو صراط مستقیم پر قائم اور راہ حق و ہدایت پر گامزن ہیں۔ اور یہی فوز و فلاح سے سرفراز ہونے والے ہیں۔ اور ان کے سوا باقی سب لوگ گمراہ ہیں۔ اور آخرت میں ان سب کو دوزخ کے عذاب الیم میں جھونک دیا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 31:66 سعداء کے مقابلے میں اشقیاء کا ذکر : سو پہلے کے مقابلے میں یہ ایک دوسرے کردار کا نمونہ پیش فرمایا جا رہا ہے۔ یعنی ایک تو وہ لوگ ہیں جو قرآن حکیم کی روحانی، نورانی اور انقلابی تعلیمات سے مشرف ہو کر حیات طیبہ ۔ پاکیزہ زندگی ۔ کی نعمت کبریٰ اور دولت عظمی سے بہرہ ور ہوتے ہیں اور دوسری طرف یہ لوگ ہیں جو اس متاع لازوال سے خود بھی محروم ہیں اور وہ دوسروں کی راہیں روکنے کے لئے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حضرات مفسرین کرام کا کہنا ہے کہ یہ دونوں آیتیں مشرکین عرب کے ایک سردار نضربن حارث کے بارے میں نازل ہوئیں جو رستم و اسفندیار اور دوسرے شاہان روم وفارس اور روساء و اکابر عجم کے قصے اور ان کی کہانیاں لالا کر لوگوں کو سناتا اور کہتا تھا کہ محمد تم کو عاد وثمود وغیرہ کے قصے سناتا ہے اور میں تمہارے لئے یہ اور یہ قصے لایا ہوں۔ اور حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کے مطابق اس پر مزید یہ کہ اس بدبخت نے کچھ باندیاں بھی ایسی رکھی ہوئی تھیں جن کو وہ لوگوں کو اسلام سے روکنے کے لئے استعمال کیا کرتا تھا۔ سو جب اسے پتہ چلتا کہ فلاں شخص مسلمان ہونے والا ہے تو وہ فوراً اپنی کسی باندی کو لے کر اس کے پاس پہنچ جاتا اور اس کو کھلا پلا کر اور گا سنا کر اور جس طرح ہوسکتا اس کو خوش کرکے اسے راہ حق سے پھیر نے کی کوشش کرتا۔ اور پھر اس غرض کی تکمیل کے بعد یہ بدبخت اس شخص سے کہتا کہ یہ بہتر ہے یا وہ جس کی طرف تم کو محمد بلا رہا ہے کہ نمازیں پڑھو، روزے رکھو، شراب و کباب وغیرہ، نشے و مزے کی فلاں فلاں چیزیں ترک کر دوچھوڑ دو اور پھر اس کے حکم کے مطابق اس کے سامنے جان بھی لڑا دو وغیرہ وغیرہ۔ سو یہاں پر اسی شخص اور اس کی ان مکاریوں کا ذکر ہے مگر قرآن حکیم نے اپنے حکیمانہ اسلوب کے مطابق اس شخص کے اس کردار کا یہاں ذکر تو فرمایا مگر اس کا نام نہیں لیا بلکہ اس کو من الناس ۔ کچھ لوگ کے ۔ کلمہ عام سے تعبیر فرمایا۔ کیونکہ مقصود کسی کی ذات اور اس کی شخصیت سے بحث کرنا نہیں بلکہ اس کے ان افعال و کردار سے خبردار کرنا ہے۔ پس جو بھی کوئی ایسا کام کرے گا وہ اس میں داخل ہوگا، خواہ وہ کوئی بھی ہو، کہیں کا بھی ہو اور کسی بھی رنگ و نسل سے تعلق رکھتا ہو اور کوئی بھی نام رکھتا ہو ۔ والعیاذ باللہ مِنْ کُلِّ زَیْعٍ وّضَلَال وَسُوْئٍ وَّ انْحِرَافٍ ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
7{ لہو الحدیث } کا مفہوم اور اس سے مراد ؟ : " لہو " دراصل ہر غافل کردینے والی چیز کو کہا جاتا ہے خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو۔ اردو میں اسی مفہوم میں " تماشہ " کا لفظ استعمال ہوتا ہے " اَللَّہْوُ کُلَّ مَا اَلْہٰی عَنِ الْخَیْرِ " یعنی " لہو " ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کہ خیر سے غفلت کا ذریعہ بنے۔ (روح، قرطبی، ابن کثیر، صفوہ، محاسن، جامع وغیرہ) ۔ پس آج کل کے سینمے، تھیٹر، کلب، ثقافتی شو، ڈھول ڈھمکے، باجے گا جے، جیسے میلے ٹھیلے وغیرہ وغیرہ جو انسان کو اپنے مقصد زندگی سے دور اور اپنی آخرت سے غافل کریں وہ سب اسی میں داخل ہیں۔ اسی طرح وہ بد عی سماع اور قوالی بھی جو کہ آج جگہ جگہ اور طرح طرح سے رائج ہے اور جس کے ساتھ " شریف " کا لفظ جوڑ کر اسے رواج دیا جا رہا ہے اور " قوالی شریف " کہہ کر ان ڈھول باجوں کی ترویج کا سامان کیا جاتا ہے وہ سب اسی میں داخل ہے۔ اور ان کے بارے میں پیغمبر۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ خود فرماتے ہیں کہ " مجھے ان ۔ معازف و مزامیر۔ کے مٹانے کے لئے بھیجا گیا ہے "۔ بلکہ قوالی کی سنگینی اور اس کی خطورت و شناعت تو اس اعتبار سے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس کو لوگ جائز بلکہ نیکی سمجھنے لگتے ہیں۔ صاحب روح المعانی، علامہ قرطبی اور صاحب ہدایہ وغیرہ اکابر نے قوالی کو حرام قرار دیا ہے۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ وغیرہ کے نزدیک تو " لہو الحدیث " سے ڈھول باجے ہی مراد ہیں۔ اور اہل بدعت کے بعض بڑوں نے بھی قوالی کو حرام قرار دیا ہے۔ چناچہ موصوف اس موقع پر لکھتے ہیں کہ " قوالی حرام ہے کیونکہ آج کل کی عام قوالیاں لہو کے طور پر ہی ہوتی ہیں " مگر اس سب کے باوجود اہل بدعت ہیں کہ " شریف " کا لفظ لگا کر گناہ اور غفلت کے اس کاروبار کو برابر چلائے جا رہے ہیں اور دن رات چلائے جا رہے ہیں اور اس پر بڑے بڑے دعوے بھی کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
8 مفسدین کی کوششوں کا مقصد راہ حق سے بہکانا بھٹکانا ۔ والعیاذ باللہ : ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " مفسدین کی اس تمام سعی نامراد کا مقصد یہ ہے کہ اس طرح وہ بہکا سکیں اللہ کی راہ سے بغیر کسی علم ۔ اور سند ۔ کے "۔ یعنی کسی بھی قسم کے علم کے بغیر۔ نہ نقل صحیح سے اور نہ عقل سلیم سے۔ یعنی ظلم پر ظلم اور جرم پر جرم کہ یہ لوگ روکتے ہیں اس علم صحیح اور راہ حق و صواب سے جس سے حضرت خالق ۔ جل و علا ۔ نے اپنی مخلوق کو نوازا ہے اور جو دنیا و آخرت کی سعادت و کامرانی کا ذریعہ و وسیلہ اور ضامن و کفیل ہے۔ اور اس سے روک کر یہ لوگ دنیا کو اس طرف لے جانا چاہتے ہیں جس کے لئے ان کے پاس نہ کوئی ثبوت ہے نہ سند نہ دلیل ہے نہ برہان۔ بلکہ محض خواہشات نفس کی پیروی ہے اور شیطٰن کا اغوائ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر اس کے باوجود ان لوگوں کی جرات اور جسارت کا عالم یہ ہے کہ یہ حق اور اہل حق کی بات کو سننے اور ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتے اور پوری ڈھٹائی، ہٹ دھرمی اور لاپرواہی سے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور اپنی بےبنیاد اور بےسروپا باتوں کی تائید میں آسمان و زمین کے قلابے ملاتے ہیں۔ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کیلئے طرح طرح کے پاپڑ بیلتے ہیں یہاں تک کہ ایسے لوگ نصوص صریحہ کی بھی طرح طرح سے تاویل و تحریف کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
9 مشرکین و مفسدین کے لیے رسوا کن عذاب ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کیلئے بڑا رسوا کن عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس بناء پر کہ انہوں نے حق کی توہین کی تھی۔ اور سزا جرم کے مطابق ہوتی ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔ " اَلْجَزَائُ مِنْ جِنْسِ الْعَمَلِ " ۔ اس لئے ایسے لوگوں کو اس رسوا کن عذاب سے دوچار کیا جائے گا۔ نیز چونکہ ان لوگوں کے اس اعراض و روگردانی کا اصل سبب ان کا استکبار ہی تھا یعنی اپنی بڑائی کا زعم و گھمنڈ جسکی بناء پر یہ لوگ حق بات سننے اور ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے اور یہ حق اور اہل حق کا مذاق اڑاتے اور ان سے استہزاء کرتے تھے۔ اس لیے اس کے بدلے اور اس کے نتیجے میں ان کو اس عذاب مہین یعنی رسوا کن عذاب سے دوچار کیا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اوپر اہل ایمان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ یہی لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اب یہاں پر ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا جا رہا ہے جو قرآن کی آیات حکمت کے مقابلے میں اپنی خرافات و بدعات کے پھیلانے میں سرگرم تھے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کے لیے ایک نہایت ہی رسوا کن عذاب ہوگا جو ان کے جرم اعراض و استکبار کے عین مطابق ہوگا۔ واضح رہے کہ عذاب عذاب میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ یوں تو ہر عذاب عذاب ہی ہوتا ہے ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ لیکن سب سے زیادہ سخت وہ عذاب ہوتا ہے جو رسوا کردینے والا ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 31:710 حق سے منہ موڑنے والوں کے لیے دردناک عذاب کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے شخص کو خوشخبری سنا دو ایک بڑے ہی دردناک عذاب کی "۔ جو اتنا درد ناک اور اس قدر ہولناک ہوگا کہ اس کا تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں۔ لیکن افسوس کہ آج انسان اس سے غافل ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہ ان منکرین و معاندین کے اس استکبار کی تصویر ہے جس کے باعث یہ لوگ اس رسوا کن عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔ سو فرمایا کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ نہایت کبر و غرور کے ساتھ ان سے اس طرح پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں کہ گویا انہوں نے ان کو سنا ہی نہیں۔ گویا ان کے کانوں میں ڈاٹ پڑے ہوئے ہیں۔ سو فرمایا کہ اگر ان کا پندار اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ ہماری آیتیں ان کے نزدیک لائقِ توجہ ہی نہیں رہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو انکو ایک بڑے ہی دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔ سو سعادت و کامرانی کی راہ یہ ہے کہ انسان حق کے آگے جھک جائے۔ کان لگا کر اس کو سنے اور صدق دل سے اس کو اپنائے۔ اسی میں اس کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayahs 31:8–913 اللہ کی صفت عزت وحکمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی ہے سب پر غالب نہایت ہی حکمت والا۔ پس نہ تو اس کو اپنا وعدہ پورا کرنے میں کوئی دشواری ہوسکتی ہے کہ وہ بڑا زبردست اور غالب ہے اور نہ ہی اس کا کوئی کام حکمت سے خالی ہوسکتا ہے کہ وہ حکیم بھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کا ہر وعدہ پکا، پختہ اور بہرحال سچا اور پورا ہو کر رہنے والا ہے اور اس کی صفات عدل و حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ منکرین و معاندین کو سزا دے اور مومنین مخلصین کو ان کی جزا دے۔ نیز جو اس خدائے عزیز وحکیم کے کلام عزت و حکمت کو اپنائے گا اور اس کو گلے لگائے گا وہ عزت و حکمت کی دولت سے بہرہ مند و مالامال ہوگا۔ اور جو اس سے اعراض و روگردانی برتے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وہ ذلت و رسوائی سے دوچار ہوگا اور دائمی ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں جا گرے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر قائم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 31:1014 آفاقی دلائل میں غور و فکر کی دعوت : سو اس سے کائنات کے بعض اہم دلائل و شواہد میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ " زوج " کے معنیٰ قسم اور جوڑے کے آتے ہیں۔ سو قرآن حکیم نے چودہ صدیاں قبل جس حقیقت کو بیان فرمایا تھا دنیا اپنی طویل تگ و دو کے بعد اب جا کر اس کا ادراک کرسکی ہے اور آج کا ترقی یافتہ علم نباتات تباتا ہے کہ ہر پودے میں نرو مادہ کا سلسلہ ہے اور اس کی تلقیح کی مختلف شکلیں ہیں۔ تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں کائنات کے ان بعض دلائل و شواہد میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے جو اس میں ہر طرف پھیلے بکھرے ہیں اور جن میں غور و فکر سے کام لیکر ایک متوسط درجے کی عقل کا آدمی بھی یہ ماننے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اس کا خالق عزیز یعنی ہر چیز پر غالب و مقتدر بھی ہے اور اس بےپایاں قدرت کے ساتھ ساتھ وہ نہایت ہی حکیم بھی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اسی کی قدرت بےنہایت اور حکمت بےپایاں کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ اس نے آسمان کی اس عظیم الشان چھت کو بغیر ایسے ستونوں کے کھڑا کردیا جو تمہیں نظر آسکیں۔ اور اسی نے زمین کے اندر پہاڑوں کے یہ عظیم الشان لنگر ڈال دیئے کہ کہیں یہ تمہارے ساتھ لڑھک نہ جائے۔ اور اس نے اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیے۔ آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعے ہر قسم کی عمدہ پیداواریں اگائیں۔ پس معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس میں کسی بھی اور کو شامل کرنا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 31:11–1216 حضرت لقمٰن کون تھے اور کیا تھے ؟ : جمہور علما و مفسرین کے نزدیک حضرت لقمٰن نبی نہیں تھے بلکہ ایک دانش مند اور صالح انسان تھے۔ کالے رنگ کے حبشی غلام تھے مگر اللہ پاک نے ان کو باطن کی نورانیت اور ایسی حکمت و دانش مندی سے نوازا تھا کہ لقمٰن کی حکمت ضرب المثل بن گئی اور اللہ پاک نے اپنے کلام معجز نظام میں بھی اس کا تذکرہ فرما دیا جس سے حکمت لقمانی ایک زندئہ جاوید حقیقت بن گئی۔ پس معلوم ہوا کہ اصل چیز ظاہر اور صورت نہیں بلکہ باطن اور سیرت ہے۔ (روح، قرطبی، ابن جریر، ابن کثیر، معارف وغیرہ) ۔ یہاں پر حکمت لقمانی کے ان اقوال کو نقل کر کے مشرکین عرب کے سامنے آئینہ رکھ دیا گیا ہے اور ان کے قلب و ضمیر کو جھنجھوڑنے کا سامان کیا گیا ہے کہ تمہارے اندر جن لوگوں نے اپنی فطرت سلیمہ کو محفوظ رکھا اور ان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت و حکمت کا جو حصہ ملا تھا انہوں نے بھی اپنے متعلقین کو انہی باتوں کی تعلیم و تلقین کی جن کی تعلیم تم لوگوں کو یہ کتاب حکمت دے رہی ہے۔ لیکن یہ تم لوگوں کی بدبختی اور محرومی ہے کہ تم اپنے آباء و اَجداد میں سے ان کی اندھی تقلید تو کرتے ہو جنہوں نے شیطان کی پیروی کی لیکن ان میں سے جو تم کو حکمت کی بات بتائے وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
17 حکمت اور اس کا اولین ثمر معرفت و شکر خداوندی : حکمت کہتے ہیں قول و فعل کی درستگی اور علم و عمل کی پختگی کو۔ اسی لئے اس کے معنیٰ اس طرح کئے گئے ہیں ۔ " اَلاِصَابَۃُ فِی الْقَوْلِ وَالسَّدادُ فِی الرَّاي وّالنُّطْقُ بِمَا یُوَافِقُ الْحَقَّ " ۔ یعنی قول وقرار کی درستگی، فکر و رائے کی صحت و سلامتی اور حق و صدق کی موافقت اور پاسداری۔ اور ظاہر ہے کہ یہ چیز تمام محاسن و محامد کی اساس و بنیاد اور زبدئہ و خلاصہ ہے۔ اسی لئے ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَنْ یُّوْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا } ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ وَمَا ذالک عَلَیْہِ بِعَزِیْز وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر وھو اَکْرَمُ الاَکْرَمِیْنِ واَرْحَمَّ الرَاحِمِیْنَ ۔ یہاں پر حکمت لقمانی کے ذکر وبیان کے سلسلے میں اس کی تشریح و تفسیر { ان اشکرللہ } کے کلمات کریمہ سے فرمائی گئی۔ یعنی یہ کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ حکمت کا اولین ثمر اور بنیادی مقتضیٰ جو اس پر مرتب ہوتا ہے یہی ہے کہ انسان اللہ کا شکر گزار بندہ بن جائے کہ اسی خالق ومالک کا حق سب سے بڑا، سب سے اہم اور سب سے مقدم ہے کہ وہی وحدہ لاشریک ہے جس کی رحمتوں اور عنایتوں میں بندہ سر سے پاؤں تک ڈوبا ہوا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اسی وحدہ لاشریک کی معرفت اور اس کا شکر تمام حقوق اللہ اور حقوق العباد کی معرفت کی اصل اور اساس ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
18 شکر خداوندی حکمت و اَخلاقیات کی اہم اساس و بنیاد : سو حکمت کی اولین شناخت اور بنیادی علامت اللہ پاک کی شکر گزاری ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ " ان " کلمہ تفسیریہ ہے۔ سو حکمت کا اولین ثمر اور اس کا پہلا نتیجہ اور پھل جیسا کہ ابھی گزرا یہ ہے کہ اس کے پانے کے بعد انسان اپنے خالق ومالک کا شکر گزار بن جائے اور یہی شکر خدا وندی کی وہ اصل اور اساس ہے جس سے انسان حقوق اللہ اور حقوق العباد کو صحیح طور پر پہچانتا اور حق شکر ادا کرتا ہے ورنہ وہ کسی کام کا نہیں۔ اگرچہ علم و فلسفے کے بڑے بڑے دعوے کرتا ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کسی شخص کے حکیم اور صاحب حکمت ہونے کی اولین شناخت اور بنیادی علامت یہی ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر گزار ہو۔ اور یہ چیز اگر حاصل نہ ہو تو وہ بالکل کھوکھلا اور بےحقیقت ہے اگرچہ وہ علم و فلسفہ کا کتنا بڑا عامل اور امام کیوں نہ سمجھا جاتا ہو۔ گزشتہ سورة کریمہ میں اس اہم بنیادی حقیقت کو واضح فرمایا گیا کہ یہ قرآن اسی دین فطرت کی دعوت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے۔ اور اس دعوے کی تایید و تصدیق میں آفاق وانفس کے ٹھوس دلائل پیش فرمائے گئے۔ اب اس سورة کریمہ میں حکمت لقمانی کے یہ اقوال نقل فرما کر اسی حقیقت کی مزید تائید وتقویت فرما دی گئی کہ عقل سلیم اور فطرت مستقیم رکھنے والے لوگوں کے قلب و ضمیر کی پکار بھی یہی ہے۔ اخلاقیات پر بحث کرنے والے مغربی فلاسفہ اخلاقیات کی بنیاد عقل عام کے معروف مسلمات پر ہی رکھتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں بتاسکتے کہ یہ اخلاقی مسلمات کہاں سے پیدا ہو گیے۔ اس لیے کہ وہ ایک فاطر حکیم اور فطرت اللہ کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔ اور اس اہم اور بنیادی حقیقت سے گریز کی نقد سزا ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ دی گئی کہ ان کا سارا فلسفہ اخلاق بےبنیاد اور بےمعنیٰ ہو کر رہ گیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر قائم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
19 شکر کا فائدہ خود شکر کرنے والے کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جو کوئی شکر کرے گا وہ اپنے ہی لیے کرے گا " کہ اس کا فائدہ خود اسی کو پہنچے گا کہ دنیا میں اس سے نعمت خداوندی میں برکت و بڑھوتری نصیب ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَئِنْ شَکَرْتُمْ لاَزِیْدَنَّکمْ } ۔ (ابراہیم : 7) اور اسی لئے کہا جاتا ہے ۔ بِالشُّکْرِ تَدُوْمُ النِّعَمُ ۔ کہ شکر سے نعمتوں کو دوام نصیب ہوتا ہے ۔ اور شکر نعمت سے آخرت میں بھی اس کو فائدہ پہنچے گا کہ اصل ثواب تو وہیں ملے گا۔ سو جو کوئی شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی لیے دنیا و آخرت کی بہتری اور بھلائی کا سامان کرتا ہے کہ اس کا فائدہ بہرحال اسی کو اور صرف اسی کو پہنچے گا۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 31:1320 اور ناشکری کا نقصان خود ناشکرے انسان کو ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جو کوئی ناشکری کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا " ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کہ اس ذات اقدس و اعلیٰ ۔ جل و علا ۔ کو تمہارے یا کسی کے بھی شکر وسپاس اور حمد و ثنا سے کسی فائدے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ سب کچھ تو خود تمہارے اپنے ہی لئے ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہِ وَمَنْ اَسَائَ فَعَلَیْہَا } ۔ (حم السجدۃ : 46) وغیرہ۔ اور وہ وحدہ لاشریک ہر کسی سے اور ہر اعتبار سے غنی اور بےنیاز ہے۔ اور وہ حمید یعنی اپنی ذات میں آپ محمود اور ہر تعریف اور حمد و ثنا کا مستحق و سزاوار ہے۔ کوئی اس کی حمد و ثنا کرے گا تو اپنا ہی بھلا کرے گا ورنہ اس کا اپنا ہی نقصان ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ تو نفع و نقصان کے ایسے ہر تصور سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
21 شکر خداوندی کی اصل روح شرک سے اجتناب و بیزاری : سو جس طرح حکمت کا اولین ثمر اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے اسی طرح اصل روح شرک سے اجتناب و بیزاری ہے۔ اس لیے حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو سب سے پہلے اسی کی نصیحت فرمائی اور نہایت شفقت و پیار سے کہا " اے میرے پیارے بیٹے " یعنی " بنی " کی تصغیر شفقت و پیار کے لئے ہے۔ تصغیر اشفاق (جامع البیان : ج 2 ص 152) ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ نصیحت، پوری ہمدردی، شفقت اور پیار سے ہونی چاہیئے کہ اس میں تاثیر زیادہ ہوتی ہے۔ اور ایسی بات دل تک پہنچتی ہے اور دل کو لگتی ہے ۔ اللہ توفیق بخشے ۔ آمین۔ بہرکیف حضرت لقمٰن نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے سب سے پہلی بات یہ کہی کہ اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرنا۔ سو جس طرح حکمت کا اولین ثمر اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری ہے، اسی طرح شکر خداوندی کی اصل روح شرک سے اجتناب ہے۔ کیونکہ بندے کو جو بھی کوئی نعمت ملتی ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ملتی ہے۔ اس لیے جس طرح انسان پر اللہ کا شکر واجب ہے، اسی طرح اس پر یہ بھی واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو کسی اور کی طرف منسوب نہ کرے۔ دوسروں سے انسان کو اگر کوئی نفع پہنچتا بھی ہے تو وہ بھی اصل میں اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے اور ظاہری اسباب کے درجے میں ہی ہوتا ہے۔ ورنہ اصل میں بخشنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
22 شرک سے اجتناب کی تعلیم و تلقین : سو لقمٰن نے اپنے بیٹے سے کہا " پیارے بیٹے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرنا "۔ معلوم ہوا کہ شرک سب سے بڑا جرم و گناہ اور سب سے بری چیز ہے کہ حضرت لقمٰن نے اپنے بیٹے کو نصیحت کے دوران سب سے پہلے اسی سے بچنے کی تلقین کی۔ اور اس کو صاف اور صریح طور پر اور کلمات تاکید کے ساتھ ظلم عظیم قرار دیا اور باپ کی بیٹے کے لئے محبت مسلم بلکہ ضرب المثل ہے کہ باپ جیسا بھی ہو اپنے بیٹے کے حق میں بدخواہ کبھی نہیں ہوسکتا۔ اور وہ اس کو جو بھی کہے گا اس کے بھلے اور فائدے ہی کے لئے کہے گا۔ اور یہیں سے یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ جب ایک باپ کو اپنی اولاد سے اتنا پیار اور اس قدر شفقت ہے، حالانکہ وہ ان کا پیدا کرنے والا نہیں، بلکہ وہ محض ایک ظاہری سبب ہے اس کے وجود و بروز کا، تو پھر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کو اپنی اس مخلوق سے کتنا پیار اور کس قدر محبت ہوگی جبکہ وہ اس کا خالق ومالک بھی ہے اور وہ رحیم و ودود بھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس وہ اپنے بندوں کو جو بھی احکام دیتا ہے وہ سراسر انہی کی بھلائی اور بہتری کے لئے دیتا ہے۔ جس کا فائدہ بہرحال ان ہی کو ملے گا۔ دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ فَکُن اللّٰھُمَّ لَنَا واجَعَلْنَا لَکَ بِکُلِّ حَالٍ مِّنَ الاَحْوَال وَفِیْ کُلّ مَوْطِنٍ مِّن المواطن ۔ نیز اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ایک دانشمند باپ کو اپنی اولاد کو کیا اور کیسی نصیحت کرنی چاہیئے اور اہل دنیا کیا کرتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
23 بلاشبہ شرک بڑا بھاری ظلم ہے : تاکید در تاکید ملاحظہ ہو کہ " اِنَّ " حرف تاکید پھر " لظلم " میں لام تاکید استعمال فرمایا گیا۔ اور پھر جملہ بھی اسمیہ ہے جس سے تاکید در تاکید پیدا ہوگئی۔ سو اسی کو ظاہر کرنے کے لئے ترجمہ میں " بڑا بھاری " کے الفاظ لائے گئے ہیں۔ اور ظلم کا مطلب ہے ناانصافی و حق تلفی۔ پس جو آدمی شرک کرتا ہے وہ اللہ پاک کے حقوق کے بارے میں بھی ظلم اور ناانصافی کا ارتکاب کرتا ہے کہ اس وحدہ لا شریک کی توحید و وحدانیت سے منہ موڑ کر اس کے حق عبادت و بندگی کو دوسروں کیلئے صرف کرتا ہے۔ نیز وہ شرک کے اس ظلم عظیم کا ارتکاب کرکے خود اپنے حق میں بھی ظلم اور ناانصافی سے کام لیتا ہے کہ نور توحید کی بجائے شرک کی نجاست میں مبتلا ہو کر جہنم کی راہ پر چلتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ نیز وہ کائنات کی ہر اس چیز پر بھی ظلم کرتا ہے جس کو وہ استعمال کرتا اور اس سے مستفید ہوتا ہے کہ فائدہ تو اللہ کی نعمتوں سے اٹھاتا ہے لیکن پوجتا پکارتا اوروں کو ہے۔ اور اطاعت و بندگی وہ دوسروں کے لئے بجا لاتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ کھانا کسی کا اور بجانا کسی اور کے لئے۔ نیز اس کے اس شرک کی نحوست کی وجہ سے دوسروں پر طرح طرح کے عذاب اور مصائب بھی نازل ہوتے ہیں۔ پس شرک ہر لحاظ سے اور ہر اعتبار سے ظلم اور ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ مشرک انسان اپنے شرک کے ذریعے اپنے خالق ومالک کے حق میں دوسروں کو شریک کرتا ہے اور اس طرح وہ سب سے بڑے حق کو تلف کرنے والا بنتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 31:1424 ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کردی۔ اس کی ماں نے اس کو پیٹ میں رکھا کمزوری پر کمزوری برداشت کر کے " کہ جوں جوں حمل بڑھتا جاتا ہے اور دن گزرتے جاتے ہیں اس کی کمزوری میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ پھر آخر میں وضع حمل کی وہ تکلیف و کمزوری اس پر مستزاد جو کہ بعض اوقات اس کو موت تک بھی پہنچا دیتی ہے۔ یہ دونوں آیتیں حضرت لقمٰن کی موعظمت کے درمیان اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تضمین ذکر فرمائی گئی ہیں۔ لقمٰن نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے وقت اللہ پاک کی شکرگزاری کا حق ادا کرنے کی تلقین وتعلیم فرمائی لیکن اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے حق کا ذکر نہیں فرمایا کہ اس کو انہوں نے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے ادب کے تقاضوں کے خلاف تصور فرمایا۔ اس لیے اس کو انہوں نے نظرانداز کرکے اس کے آگے قیامت کا ذکر فرمایا۔ اور ایسا انہوں نے ادب کے تقاضوں کی بنا پر کیا۔ اور ان کی شان تواضع کے لائق یہی تھا۔ اسی لیے اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے جو کہ غفور و رحیم اور شکور و کریم ہے یہاں پر والدین کا حق خود ذکر فرما دیا ۔ اللہ تعالیٰ ہر صاحب حق کے حق کی ادائیگی کی توفیق بخشے ۔ آمین۔
25 حق رضاعت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس کا دودھ چھڑانا ہوا دو سال میں "۔ جس کے دوران اس کو مزید طرح طرح کی تکلیفیں اٹھانا اور دقتیں اور دشواریاں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ سو حمل سے تمہارے وجود کا آغاز ہوا اور رضاعت یعنی دودھ پلانے سے تمہیں نشوونما ملی اور تمہارے وجود کو بقا حاصل ہوئی۔ اور حمل و رضاعت کی اس مدت کے دوران تمہاری ماں نے تمہارے لیے اور تمہاری خدمتگاری کے سلسلے میں مشقتوں پر مشقتیں اٹھائیں۔ اس لیے ان کا حق تم پر بہت بڑا ہے۔ اور خالق کے بعد مخلوق میں سب سے بڑا حق تم پر انہی کا واجب ہوتا ہے۔ سو خالق کے حق کے بعد انسان پر مخلوق میں سب سے پہلا اور سب سے بڑا حق اس کے والدین ہی کا عائد ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اس کے وجود میں آنے اور پرورش پانے کا ذریعہ و وسیلہ وہی ہوتے ہیں۔ اس لیے تمام انبیائے کرام اور جملہ آسمانی صحیفوں نے بالاتفاق اسی کی تعلیم دی ہے۔
26 والدین کے شکر کا ذکر شکر خداوندی کے ساتھ : سو ان دونوں کا یکجا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " شکر بجاؤ لاؤ تم میرا اور اپنے ماں باپ کا "۔ کہ میں تمہارا خالق ہوں اور ماں باپ تمہاری پیدائش کا ظاہری سبب اور ذریعہ۔ سب سے پہلے میرا حق مانو اور میرا شکر بجا لاؤ اور پھر اپنے والدین کا ۔ سبحان اللہ ! ۔ والدین کے حق شکر کی ادائیگی کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ اپنے حق شکر کے ساتھ ملا کر بیان فرما رہا ہے۔ سو اس سے حقوق والدین کی عظمت و اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ حضرت سفیان بن عیینہ سے روایت ہے کہ پنجگانہ نماز قائم کرو یہ اللہ پاک کے حق شکر کی ادائیگی ہے۔ اور والدین کے لئے مغفرت و بخشش کی دعا کرو یہ ان کے لئے حق شکر کی ادائیگی ہے ۔ " رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلَوَالِدَیَّ وَلِلْمُوْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَاب " ۔ بہرکیف اس سے یہ ظاہر اور واضح ہوجاتا ہے کہ انسان پر اللہ کے حق کے بعد جو سب سے پہلا اور سب سے اہم حق واجب ہوتا ہے وہ اس کے ماں باپ کا حق ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مختلف مقامات کی طرح یہاں پر بھی پہلے پہلے اپنا حق بیان فرمایا اور اس کے بالکل متصل بعد اپنے ماں باپ کا حق کہ تم میرا شکر ادا کرو اور اپنے ماں باپ کا شکر ادا کرو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 31:1527 ماں باپ کی اطاعت ضروری مگر محدود و مشروط : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر وہ تمہیں مجبور کریں کہ تم میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جسکے لیے تمہارے پاس کوئی سند نہیں تو ان کی بات نہیں مانتا۔ اور ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں کہ اس کی شرکت کے بارے میں کوئی علم و سند ہو سکے کہ اس وحدہ لاشریک کا کوئی شریک ہو ہی نہیں سکتا ۔ { وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ لا بُرْہَانَ لَہ بِہٖ } ۔ (المومنون :117) ۔ پس اللہ کا شریک ماننا کسی طرح درست نہیں ہوسکتا۔ سو شرک کی کوئی اساس و بنیاد نہیں۔ لہذا تم اس بارے ان کی کوئی بات کبھی نہ ماننا کہ شرک سب سے بڑا جرم اور سنگین گناہ ہے۔ سو ماں باپ کی اطاعت ضروری ہے۔ اور حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کے بعد انہی کا حق ہے۔ لیکن ان کی اطاعت محدود و مشروط ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کے خلاف نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سب پر فائق اور سب سے مقدم ہے۔ اور اللہ کے رسول کی اطاعت بھی اصل میں اللہ ہی کی اطاعت ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہَ } ۔ یعنی " جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی "۔ پس جس طرح اللہ کی اطاعت کے خلاف کسی کی اطاعت جائز نہیں اسی طرح اللہ کے رسول کی اطاعت کے خلاف بھی کسی کی اطاعت جائز نہیں۔ کیونکہ رسول کا حکم وارشاد بھی اللہ تعالیٰ کی وحی کی بنا پر ہوتا ہے۔
28 خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر وہ تمہیں میرے ساتھ شرک پر مجبور کریں تو ایسی صورت میں تم ان کی بات نہ ماننا "۔ اور جب والدین کی بھی ایسی کوئی بات نہیں مانی جاسکتی تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جس کی بات حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے ارشاد کے خلاف مانی جائے ؟ ۔ " فَلا طاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ ۔ " یعنی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی معصیت و نافرمانی میں کسی کی اطاعت و فرمانبرداری جائز نہیں کہ اس خالق ومالک کا حق سب سے بڑا اور سب پر فائق اور مقدم ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک وہی وحدہ لا شریک ہے۔ اور انسان کے وجود کے اندر اور اس کے باہر اس پوری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اسی وحدہ لا شریک کا پیدا کردہ اور اسی کا دیا بخشا ہے۔ ان میں سے کسی بھی چیز میں اس کا کوئی بھی شریک وسہیم نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
29 پیروی ہمیشہ اہل حق کے راستے ہی کی کرنی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور پیروی ہمیشہ اسی کے راستے کی کرنا جو میری طرف رجوع کیے ہوئے ہو "۔ یعنی اللہ کے رسول، ان کے صحابہ کرام اور ان لوگوں کی جو کہ اللہ کے رسول اور ان کے صحابہ کے نقش قدم پر چلتے ہوں۔ واضح رہے کہ رسول اللہ کے طریقے کو سنت کہا جاتا ہے اور آپ ﷺ کے پیروکاروں کو جماعت۔ اسی سے اَہْلُ السُّنَّۃِ وَ الْجَمَاعَۃِ " بنا۔ یعنی وہ لوگ جو رسول اللہ کی سنت اور طریقے کو بھی مانتے اور اپناتے ہیں اور آپ کے صحابہ کرام کی پوری جماعت کو بھی مانتے ہیں۔ اور حضرات صحابہ کرام کی ساری جماعت کو وہ حق و صداقت پر مانتے ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ صحیح راستہ وہی ہے جو اہل السنت والجماعت کا راستہ ہے۔ اور اسی کی نشاندہی آنحضرت ﷺ نے اپنی اس مشہور حدیث میں بھی فرمائی ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے جو سب کے سب جہنمی ہوں گے سوائے اس ایک گروہ کے جو کہ میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہوگا۔ سو اس سے اہل حق اور اہل باطل کے درمیان تمیز ہوگئی۔ پس جو لوگ سنت کا انکار کریں، جیسا کہ منکرین حدیث یا وہ سنت کے مقابلے میں اپنی طرف سے طرح طرح کی بدعات ایجاد کریں، جس طرح کہ اہل بدعت یا جو لوگ حضور کے صحابہ کرام سے بغض رکھیں، جیسا کہ روافض، جو کہتے ہیں کہ صرف پنجتن پاک ہیں۔ باقی نعوذ باللہ سب ناپاک ہیں ۔ استغفر اللہ ۔ تو یہ لوگ سب کے سب اہل باطل میں سے ہیں۔ دوسری بات اس ارشاد ربانی سے یہ معلوم ہوئی کہ آنکھیں بند کر کے اپنے باپ دادوں کے طریقے پر چلنا اور اندھی تقلید کو اپنانا مذموم اور قرآن و سنت کی تعلیمات مقدسہ کے خلاف ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان لوگوں کی تقلید و پیروی کرنا اس زمرے میں نہیں آتا جو خود حق پر ہوں اور دوسروں کو بھی حق ہی کی دعوت دیتے ہوں۔ جیسے حضرات ِائمہ اربعہ وغیرہ کہ ایسے اہل صدق و صفا کی پیروی کرنا جائز ہے کہ یہ پیروی اصل میں حق ہی کی پیروی ہے جو کہ مطلوب و مامور ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر کچھ حضرات انبیاء و رسل کے ذکر کے بعد ایک اصول و ضابطہ اور قاعدئہ کلیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اُوْلٓئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہ } ۔ (الانعام : 91) ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ حق اور اہل حق کی پیروی میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
30 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر تم سب کو بہرحال لوٹ کر میری ہی طرف آنا ہے اور اپنے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے "۔ لہذا اس ہولناک وقت کا ہمیشہ خیال رکھو۔ یہ بیچ کی دونوں آیتیں اللہ پاک نے جملہ معترضہ کے طور پر موعظت لقمانی کے درمیان حقوق والدین کے بارے میں ارشاد فرما دیں۔ ان کی عظمت شان کی بناء پر۔ نیز اس بنا پر کہ حضرت لقمٰن نے جب اللہ پاک کے حق کا ذکر فرمایا اور تواضع و عاجزی کی بناء پر اپنا حق بیان نہیں فرمایا تو اللہ پاک نے اس کے بدلے میں اپنے کرم سے ماں باپ اور انکے حق اور ان کی عظمت کو اس طرح خود بیان فرما دیا کہ وہ اکرم الاکرمین ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ !۔ آگے پھر پند و موعظت لقمانی کا ذکر ہوتا ہے۔ اور اس تضمینی ارشاد کے آخر میں اس عظیم الشان اور اہم بنیادی حقیقت کی تذکیر و یاددہانی فرما دی گئی کہ تم سب لوگوں نے آخرکار بہرحال لوٹ کر میری ہی طرف آنا ہے۔ تب میں تم کو بتا دونگا وہ سب کچھ جو کہ تم لوگ زندگی بھر کرتے رہے تھے۔ اور بتانے کا مطلب صرف خبر دے دینا اور رپورٹ پیش کردینا نہیں بلکہ اس کے مطابق تم میں سے ہر کسی نے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پھل پانا ہے۔ لہذا ہر کوئی اپنے بارے میں خود دیکھ لے کہ وہ کیا عمل کررہا ہے قبل اس سے کہ فرصت حیات اس کے ہاتھ سے نکل جائے ۔ { وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ } -
Ayahs 31:16–1732 موعظت لقمانی میں نماز کی تلقین و ہدایت : سو حضرت لقمان نے اپنی نصیحت میں اپنے بیٹے سے مزید کہا کہ " پیارے بیٹے نماز قائم رکھنا اور نیکی کی تعلیم دینا اور برائی سے روکنا "۔ سو نماز اولین فریضہ ہے جو انسان پر اس کے خالق ومالک کے حق واجب کے طور پر عائد ہوتا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ انسان دوسروں کو بھی نیکی کی تعلیم دے اور برائی سے روکے۔ یعنی صرف یہی کافی نہیں کہ انسان خود اچھا مسلمان بن جائے اور بس۔ نہیں بلکہ وہ دوسروں کو بھی اچھا بنانے کی فکر و کوشش کرے اور اس کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے۔ سو اس ارشاد ربانی میں شکر کی تعلیم دینے کے بعد اس کے نتیجہ و اثر کا ذکر فرمایا جارہا ہے جو کہ شکر خداوندی کے بعد انسانی زندگی پر ظاہر اور نمایاں ہوتا ہے اور جسکو اس کی زندگی میں ظاہر اور نمایاں ہونا چاہیئے۔ سو اس سلسلے میں سب سے پہلے اقامت صلوٰۃ یعنی نماز قائم کرنے کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حق شکر کی ادائیگی کا ذریعہ اور اس کا اولین اور واضح مظہر و نمونہ اقامت صلوٰۃ ہی ہے۔ اور یہی تمام انبیاء و رسل اور جملہ ادیان و کتب کی مشترکہ اور متفق علیہ تعلیم ہے۔ اس لیے یہاں پر سب سے پہلے اسی کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس کے بعد دوسری چیز جس کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ ہے امربالمعروف یعنی نیکی کی تعلیم دینا۔ سو نماز بندے کو اس کے خالق ومالک سے جوڑتی اور ملاتی ہے اور امر بالمعروف کے ذریعے بندہ دوسرے بندوں سے جڑتا اور ملتا ہے۔ اور شکر خداوندی کے اثر کا تیسرا بڑا نمونہ و مظہر نہی عن المنکر یعنی برائی سے روکنا ہے کہ اسی سے رذائل کا قلع قمع ہوتا ہے اور فضائل کو پروان چڑھنے کا موقع ملتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جملہ فضائل سے سرشار و بہرہ مند رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
33 صبر و برداشت کی تعلیم و تلقین : سو حضرت لقمان نے اپنی نصیحت میں اپنے بیٹے سے مزید کہا کہ " جو مصیبت بھی تم پر آن پڑے اس پر صبر سے کام لینا " کہ حق کی دعوت و تبلیغ کے کام میں مشکلات کا پیش آنا ایک طبعی امر ہے۔ لہذا ان کے مقابلے کے لئے صبر و ضبط اور استقلال و استقامت ہی سے کام لیا جائے۔ سو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی راہ کوئی آسان راہ نہیں بلکہ اس میں قدم قدم پر مشکلات و مصائب سے سابقہ و واسطہ پڑتا ہے۔ اگر صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو انسان مارا گیا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔
34 بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے : جو ہمت والے لوگ ہی کرسکتے ہیں۔ اور اس کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاکیدی کاموں میں سے ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے صبر و استقامت کے اس کام کی مزید تاکید فرما دی گئی جس کا ذکر اوپر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ کام نیم دلی یا دوں ہمتی سے انجام پذیر نہیں ہوسکتا بلکہ اس کیلئے بڑے عزم و ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اس میں وہی لوگ کامیاب اور سرخرو ہوسکتے ہیں جو پوری عزیمت اور قوت کے ساتھ اس کام کو سرانجام دینے کیلئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ سو اس راہ میں اگر بازیاں جیتنی ہیں اور سرخرو وفائز المرام ہونا ہے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ اس راہ میں جو بھی مشکل پیش آئے اس کا پوری عزیمت سے مقابلہ کرو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ اللہ تعالیٰ ہر قدم اپنی رضا و خوشنودی کے مطابق اٹھانے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 31:1835 متکبرانہ روش سے احتراز و اجتناب کی تعلیم و تلقین : سو متکبرانہ روش سے احتراز و اجتناب کی تعلیم و تلقین کے طور بر ارشاد فرمایا گیا کہ لوگوں کے ساتھ منہ پھیر کر بات نہ کرنا۔ " تصعیرِ خد " کے معنیٰ ہیں تکبر و غرور کی بنا پر لوگوں سے بےرخی اور لاپرواہی برتنا۔ اور یہ لفظ صعر سے ماخوذ ہے جو اونٹ کی ایک ایسی بیماری کو کہتے ہیں جس سے وہ گردن دوسری طرف نہیں موڑ سکتا۔ پس جو شخص تکبر کے طور پر اپنی گردن اکڑا کر، پھلا کر اور منہ ایک طرف پھیر کر بات کرتا ہے وہ درحقیقت ایسے اونٹ کی طرح ہوتا ہے جو ایسی بیماری کی وجہ سے اپنی گردن دوسری طرف نہیں کرسکتا۔ لہذا تم کبھی ایسے نہیں کرنا بلکہ عجز و نیاز اور شرافت و بندگی کی چال ڈھال ہی کو اپنائے رکھنا۔ سو اوپر شکر خداوندی اور اس کے آثار وثمرات اور اس کے نتائج و موجبات کا ذکر فرمایا گیا اور اب یہ ان دونوں باتوں کا مقابل ذکر فرمایا جارہا ہے جو اس شکرگزاری کے منافی ہیں۔ سو شکر کا مظہر و نتیجہ احبات و تواضع ہے اور اس کی ضد غرور وتکبر۔ والعیاذ باللہ ۔ سو تنگ ظرف لوگ نعمت پاکر اکڑنے اور اترانے والے بن جاتے ہیں جس کے باعث وہ ان لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں جو انکے ہمسر نہیں ہوتے۔ اسی لیے حضرت لقمٰن نے اپنے بیٹے کو اس روش کے اختیار کرنے سے روکا اور منع فرمایا کہ تم غرور وتکبر کی اس روش سے ہمیشہ بچ کر رہنا ۔ وباللہ التوفیق -
36 خود پسندی اور شیخی بازی اللہ کو ناپسند : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پسند نہیں فرماتا کسی خودپسند شیخی باز کو "۔ " مختال " وہ شخص کہلاتا ہے جو اپنے جی میں اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتا ہو اور " فخور " وہ جو دوسروں کے سامنے اپنی بڑائی جتا کر فخر کرتا ہو۔ جس کو " شیخی باز " کہا جاتا ہے۔ سو یہ ممنوع و محذور ہے۔ مگر جو اظہار وبیان تحدیث نعمت کے طور پر ہو وہ اس میں داخل نہیں بلکہ وہ مطلوب و محمود ہے۔ ارشاد ربانی ہے ۔ { وَاَمَّا بِنَعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ } ۔ (الضحیٰ : 11) سو اس میں بڑی سخت تنبیہ ہے ان اترانے والوں کیلئے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے مال و جان کو اللہ تعالیٰ کا انعام و احسان سمجھنے کی بجائے اس کو اپنی لیاقت و قابلیت کا نتیجہ اور اپنا استحقاق سمجھنے لگتے ہیں جسکے نتیجے میں ان کے اندر شکر کی بجائے غرور کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے جس سے آگے کئی قسم کے رذائل جنم لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے رذائل سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 31:1937 میانہ روی کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا " اور میانہ روی کو اپنائے رکھنا اپنی چال ڈھال میں "۔ یعنی نہ تو متکبروں کی طرح اکڑ کر اور ایڑیاں مارمار کر چلنا اور نہ مریضوں اور بیماروں کی طرح قدم گن گن کر ڈالنا کہ یہ چال بھی تکبر کی ہی ایک دوسری قسم ہے بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال اور میانہ روی کی روش کو اپنانا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام کے قول و فعل اور طرز عمل سے ثابت ہے کہ وہی اصل سچا اور کامل نمونہ ہے۔ سو اوپر جن باتوں کی نہی کے اسلوب میں تعلیم و تلقین فرمائی گئی تھی اب اسی تواضع اور فروتنی کی تعلیم مثبت انداز میں دی جارہی ہے کہ تم اپنی چال ڈھال میں اکڑنے اور اترانے کی بجائے تواضع اور فروتنی کی روش کو اپنانا اور اللہ کی زمین پر ایڑیاں مار کر چلنے کی بجائے اللہ کے نیک اور صالح بندوں کی طرح عاجزی اور تواضع کے ساتھ چلنا۔ جیسا کہ " عباد الرحمن " کی صفات وخصال کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَعِبَاد الرُّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجَاہِلُوْنَ قَالُوْا سَلاَمًا } ۔ ( الفرقان : 63) نیز دوسرے مقام پر تکبر سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ۔ { ولا تمش فی الارض مرحا انک لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبال طولا } ۔ (بنی اسرائیل : 27) یعنی " تم زمین میں اکڑ کر اور ایڑیاں مار مار کر مت چلا کرو کہ نہ تو اس طرح تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ ہی تم پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو "۔
38 اپنی آواز کو پست رکھنے کی ہدایت : سو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اپنی نصیحت کے دوران مزید کہا " اور کسی قدر پست رکھنا اپنی آواز کو "۔ یعنی متکبر لوگوں کی طرح کڑک کر اور زور سے بولنے کی ضرورت نہیں بلکہ ضرورت موقع کے مطابق عمل کرنا۔ محض چیخنا، چلانا اور بلاضرورت اونچی آواز سے بولنا اگر کوئی محمود اور قابل تعریف چیز ہوتی تو گدھے کی آواز سب سے زیادہ اچھی اور قابل تعریف ہوتی۔ حالانکہ وہ تمام آوازوں میں سب سے بری اور کر یہ آواز ہے۔ پس تم اے میرے بیٹے اس سے بچ کر رہنا کہ اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود اور حسن کلام اور حسن بیان سے مشرف و سرفراز ہونے کے باوصف اپنے مرتبہ و مقام کو چھوڑ کر اور اپنی سطح بلند سے اتر کر گدھوں کی صف میں شامل ہوجانا کتنی بڑی حماقت اور کس قدر خسارے کا سودا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس تم اپنی آواز میں کرختگی و خشونت کی بجائے نرمی اور لینت ہی کو اپنائے رکھنا۔ یہاں پر کلمہ " من " کے استعمال سے ایک اہم درس یہ بھی ملتا ہے کہ خالق نے جب سب لوگوں کو ایک ہی آواز پر پیدا نہیں فرمایا بلکہ اس کو اس صلاحیت اور اختیار سے نوازا ہے کہ وہ اپنی آواز کو جتنا چاہے اونچا یا پست کرسکتا ہے تو اس کو چاہیئے کہ خواہ مخواہ گدھوں کی طرح اپنا حلق اور لوگوں کے کان پھاڑنے کی بجائے موقع و مقام کے مطابق آواز کو پست یا بلند کرے سبحان اللہ ! کتنی لطافتیں اور کس قدر بلاغتیں ہیں اس کلام حکیم میں۔