31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsبیان القرآن

Ayahs 31:1–2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ آیتیں ایک پر حکمت کتاب کی ہیں۔ (ف 10)

ف 10۔ یعنی قرآن کی۔
Ayahs 31:3–5

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

جو کہ ہدایت اور رحمت ہے نیک کاروں کے لیے۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ لوگ آخرت کا پورا یقین رکھتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہ لوگ اپنے رب کے سیدھے راستے پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (ف 11)

ف 11۔ پس قرآن اس طرح ان کے لئے ہدایت و رحمت جس کا اثر فلاح ہے سبب ہوگیا۔
Ayah 31:6

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور بعضا آدمی (ایسا) بھی ہے جو ان باتوں کا خریدار بنتا ہے (ف 1) جو اللہ سے غافل کرنے والی ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بےسمجھے بوجھے گمراہ کرلے اور اس کی ہنسی اڑا دے ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔

ف 1۔ یعنی ایسی باتیں اختیار کرتا ہے۔
Ayah 31:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ شخص تکبر کرتا ہوا منہ موڑ لیتا ہے جیسے اس نے سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں ثقل ہے (ف 2) سو اس کو ایک درناک عذاب کی خبر سنا دیجیئے۔

ف 2۔ یعنی جیسے بہرا ہے۔
Ayahs 31:8–9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ان کے لیے عیش کی جنتیں ہیں۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ اللہ نے سچا وعدہ فرمایا ہے اور وہ زبردست حکمت والا ہے۔ (ف 3)

ف 3۔ پس کمال قدرت سے وعدہ اور وعید کو واقع کرسکتا ہے اور حکمت سے اس کو حسب وعدہ واقع کرے گا۔
Ayahs 31:10–12

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بلاستون بنایا تم ان کو دیکھ رہے ہو اور زمین میں پہاڑ ڈال رکھے ہیں کہ وہ تم کو لے کر ڈانوا ڈول نہ ہونے لگے اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا رکھے ہیں اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس زمین میں ہر طرح کے عمدہ اقسام اگائے۔

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ تو اللہ تعالیٰ کی بنائی چیزیں ہیں اب تم مجھ کو دکھاؤ کہ اس کے سوا جو ہیں انہوں نے کیا کیا چیزیں پیدا کیں بلکہ یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور ہم نے لقمان کو دانشمندی عطا فرمائی (ف 4) کہ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے رہو اور جو شخص شکر کرے گا وہ اپنے ذاتی نفع کے لیے شکر کرتا ہے (ف 5) اور جو ناشکری کرے گا تو اللہ تعالیٰ بےنیاز خوبیوں والا ہے۔

ف 4۔ لقمان (علیہ السلام) نبی نہ تھے، ان کا زمانہ قریب داود (علیہ السلام) کے تھا، پس ان کے نبی نہ ہونے کی بنا پر ان کو یہ حکم ہونا ان اشکر اللہ یا بطور الہام کے ہوگا یا اس زمانے کے کسی نبی کی تعلیم کے ذریعہ سے، اور جس فرزند کو انہوں نے نصیحت کی ہے صحیح اور صریح طور پر کہیں نہیں دیکھا کہ ان کے فرزند کا کیا طریقہ تھا، پہلے سے موحد تھے یا اس نصیحت کے بعد موحد ہوئے یا کیا ہوا۔ 5۔ یعنی خود اسی کا نفع ہے کہ اس سے نعمت میں ترقی ہوتی ہے، دنیوی نعمت میں تو باعتبار نفس نعمت کے کبھی اور باعتبار ثواب کے ہمیشہ اور دینی نعمت میں مثل علم وغیرہ کے دونوں طرح پر یعنی علم بھی بڑہتا ہے اور ثواب بھی ملتا ہے۔
Ayah 31:13

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہ کہا بیٹا خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرانا بیشک شرک کرنا بڑا بھاری ظلم ہے۔ (ف 6)

ف 6۔ ظلم کی حقیقت ہے وضع الشی اور ظاہر ہے کہ فی غیر محلہ۔ یہ وضع الشی فی غیر المحل شرک میں بدرجہ اشد ہے۔
Ayah 31:14

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے (ف 7) اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے کہ تو میرے اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کیا کر (ف 8) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

ف 7۔ کہ ان کی اطاعت اور خدمت کرے، کیونکہ انہوں نے اس کے لئے بڑی مشقتیں جھیلی ہیں بالخصوص ماں نے۔ 8۔ حق تعالیٰ کی شکر گزاری تو عبادت و اطاعت حقیقیہ کے ساتھ، اور ماں باپ کی خدمت دادائے حقوق شرعیہ کے ساتھ۔
Ayah 31:15

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر تجھ پر دونوں اس بات کا زور ڈالیں تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھیرا جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہ ہو (ف 9) تو تو ان کا کچھ کہنا نہ ماننا اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کرنا اور اسی کی راہ پر چلنا جو میری طرف رجوع ہو (ف 1) پھر تم سب کو میرے پاس آنا ہے پھر میں تم کو جتلا دوں گا جو کچھ تم کرتے تھے۔

ف 9۔ اور ظاہر ہے کہ کوئی چیز بھی ایسی نہیں کہ جس کے استحقاق شرکت پر کوئی دلیل قائم ہو بلکہ عدم استحقاق پر دلیلیں قائم ہیں۔ 1۔ یعنی میرے احکام کا معتقد و عامل ہو۔
Ayah 31:16

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

بیٹا اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر ہو پھر وہ کسی پتھر کے اندر ہو یا وہ آسمان کے اندر ہو یا وہ زمین کے اندر ہو تب بھی اس کو اللہ تعالیٰ حاضر کر دے گا (ف 2) بیشک اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین باخبر ہے۔

ف 2۔ یہی اسباب ہیں خفاء شی کے علم خلق سے کیونکہ کبھی غایت صغر سے ایک شے مخفی ہوجاتی ہے کبھی حجاب کے شدید ہونے سے کبھی مکان کے بعید ہونے سے کبھی ظلمت سے۔
Ayahs 31:17–19

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

بیٹا نماز پڑھا کر اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور تجھ پر جو مصیبت واقع ہو اس پر صبر کیا کر یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور لوگوں سے اپنا رخ مت پھیر اور زمین پر اترا کر مت چل بیشک اللہ تعالیٰ کسی تکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتے۔

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور اپنی رفتار میں اعتدال اختیار کر (ف 3) اور اپنی آواز کو پست کر (ف 4) بیشک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی آواز ہے۔

ف 3۔ نہ بہت دوڑ کر چل کر وقار کے خلاف ہے، اور نہ بہت گن گن کر قدم رکھ، بلکہ بےتکلف اور متوسط رفتار تواضع و سادگی کے ساتھ اختیار کر جس کو دوسری آیت میں اس عنوان سے ذکر کیا ہے۔ یمشون علی الارض ھونا۔ 4۔ یعنی بہت غل مت مچا۔ یہ مطلب نہیں کہ اتنی پست کر کہ دوسرا سنے بھی نہیں۔
Ayah 31:20

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں اور اس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اور باطنی پوری کر رکھی ہیں (ف 5) اور بعضے آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدون واقفیت اور بدون دلیل اور بدون کسی روشن کتاب کے جھگڑا کرتے ہیں۔

ف 5۔ ظاہری وہ کہ حواس سے مدرک ہوں اور باطنی وہ جو عقل سے مدرک ہوں، اور مراد نعمتوں سے وہ نعمتیں ہیں جو تسخیر سموات وارض پر مرتب ہوتی ہیں۔
Ayah 31:21

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کا اتباع کرو جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہیں تو کہتے ہیں کہ نہیں ہم اسکا اتباع کریں گے جس پر اپنے بڑوں کو پایا ہے (ف 6) کیا اگر شیطان ان کے بڑوں کو عذاب دوزخ کی طرف بلاتا رہا ہو تب بھی۔ (ف 7)

ف 6۔ مطلب یہ کہ ایسے معاند ہیں کہ باوجود اس کے کہ ان کو دلیل کی طرف بلایا جاتا ہے، مگر پھر بھی بلا دلیل بلکہ خلاف دلیل محض آباء ضالین کی راہ پر چلتے ہیں۔ 7۔ یعنی فرمانبرداری اختیار کرے عقائد میں بھی اعمال میں بھی، مراد اسلام و توحید ہے۔
Ayah 31:22

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جو شخص اپنا رخ اللہ کی طرف جھکا دے (ف 8) اور مخلص بھی ہو تو اس نے بڑا مضبوط حلقہ تھام لیا (ف 9) اور اخیر سب کاموں کا اللہ ہی کی طرف پہنچے گا۔

ف 8۔ یعنی محض ظاہری اسلام نہ ہو۔ 9۔ یعنی وہ اس شخص کے مشابہ ہوگیا جو کسی مضبوط رسی کا حلقہ تھام کر گرنے سے مامون رہتا ہے، اسی طرح یہ شخص ہلاکت و خسران سے محفوظ ہے۔
Ayahs 31:23–27

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جو شخص کفر کرے سو آپ کے لیے اس کفر کا باعث غم نہ ہونا چاہیے ان سب کو ہمارے پاس لوٹنا ہے سو ہم جتلا دیں گے جو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کو دلوں کی باتیں خوب معلوم ہیں۔

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم ان کو چند روزہ عیش دیئے ہوئے ہیں پھر ان کو کشاں کشاں ایک سخت عذاب کی طرف لے آویں گے۔

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھ لیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو ضرور یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے آپ کہیئے کہ الحمد لله بلکہ ان میں اکثر نہیں جانتے۔

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں موجود ہے سب اللہ ہی کا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ بےنیاز سب خوبیوں والا ہے۔

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اور جتنے درخت زمین بھر میں ہیں اگر وہ سب قلم بن جائیں اور یہ جو سمندر ہے اس کے علاوہ سات سمندر اور ہوجاویں تو اللہ تعالیٰ کی باتیں ختم نہ ہوں (ف 1) بیشک اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والا ہے۔

ف 1۔ اللہ کی باتیں یعنی وہ کلمات جن سے اللہ تعالیٰ کے کمالات کی حکایت ہو۔
Ayah 31:28

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

تم سب کا پیدا کرنا اور زندہ کرنا بس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا سب کچھ دیکھتا ہے۔ (ف 2)

ف 2۔ پس جو لوگ باوجود ان دلائل کے بعث کا انکار کر رہے ہیں اور اس جرات پر فسق و فجور کرتے ہیں، ان سب کو سن رہا ہے دیکھ رہا ہے۔
Ayah 31:29

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تجھ کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے ہر ایک مقرر وقت تک (ف 3) چلتا رہے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے سب عملوں کی پوری خبر رکھتا ہے۔

ف 3۔ یعنی قیامت تک۔
Ayah 31:30

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہستی کامل ہیں اور جن چیزوں کی اللہ کے سوا یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں بالکل ہی لچر ہیں اور اللہ ہی عالی شان اور بڑا ہے۔ (ف 4)

ف 4۔ اس لئے یہ سب تصرفات اس کے ساتھ مختص ہیں۔
Ayah 31:31

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تجھ کو یہ (دلیل توحید کی) معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے فضل سے کشتی دریا میں چلتی ہے تاکہ تم کو اپنی نشانیاں دکھلائے اس میں نشانیاں ہیں ہر ایک ایسے شخص کے لیے جو صابر و شاکر ہو۔ (ف 5)

ف 5۔ مراد اس سے مومن ہے کہ صبر و شکر میں کامل ہونا اسی کی صفت ہے۔
Ayah 31:32

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں کو موجیں سائبان کی طرح گھیر لیتی ہیں تو وہ خالص اعتقاد کر کے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں پھر جب ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے سو بعضے تو ان میں اعتدال پر رہتے ہیں (ف 6) اور ہماری آیتوں کے بس وہی لوگ منکر ہوتے ہیں جو بد عہد اور ناشکر ہیں۔ (ف 7)

ف 6۔ یعنی کبھی شرک چھوڑ کر توحید کو جو کہ اعدل الطرق ہے اختیار کرلیتے ہیں۔ 7۔ کہ کشتی میں جو عہد توحید کا کیا تھا اس کو توڑ دیا، اور خشکی میں آنے کا مقتضا تھا شکر کرنا، اس کو چھوڑ دیا۔
Ayah 31:33

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

اے لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن سے ڈرو جس میں نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ مطالبہ ادا کرسکے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی ہے کہ وہ اپنے باپ کی طرف سے ذرا بھی مطالبہ ادا کرے یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف 8) سو تم کو دنیوی زندگانی دھوکے میں نہ ڈالے (ف 9) اور نہ تم کو دھوکہ باز شیطان اللہ سے دھوکے میں ڈالے۔

ف 8۔ یعنی وہ دن آنے والا ضرور ہے، کیونکہ اس کی نسبت اللہ کا وعدہ ہے۔ 9۔ کہ اس میں منہمک ہو کر اس دن سے غافل رہو۔
Ayah 31:34

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی کو قیامت کی خبر ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی جانتا ہے جو کچھ رحم میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا عمل کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا بیشک اللہ تعالیٰ سب باتوں کا جاننے والا باخبر ہے۔ (ف 1)

ف 1۔ اوپر وعید تھی یوم قیامت کی اور منکرین بقصد انکار اسی کا وقت پوچھا کرتے تھے، اس لئے اس آیت میں (کہ اس کے شان نزول میں بھی بعض لوگوں کا حضور ﷺ سے اس کے متعلق سوال کرنا مذکور ہے) بطور جواب کے اپنا اختصاص علم غیب کے ساتھ ارشاد فرمایا، حاصل جواب یہ ہوا کہ نبی ﷺ کا وقت قیامت کو نہ جاننا مستلزم اس کے عدم وقوع کو نہیں ہے۔