Explained with ayahs 32–33
اللہ تعالیٰ کے روبرو کیا ہوگا
اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرا رہا ہے اور اپنے تقوے کا حکم فرما رہا ہے۔ ارشاد ہے اس دن باپ اپنے بچے کو یا بچہ اپنے باپ کو کچھ کام نہ آئے گا ایک دوسرے کا فدیہ نہ ہوسکے گا۔ تم دنیا پر اعتماد کرنے والو آخرت کو فراموش نہ کر جاؤ شیطان کے فریب میں نہ آجاؤ وہ تو صرف پردہ کی آڑ میں شکار کھیلنا جانتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عزیر ؑ نے جب اپنی قوم کی تکلیف ملاحظہ کی اور غم ورنج بہت بڑھ گیا نیند اچاٹ ہوگئی تو اپنے رب کی طرف جھکے۔ فرماتے ہیں میں نے نہایت تضرع وزاری کی، خوب رویا گڑگڑایا نمازیں پڑھیں روزے رکھے دعائیں مانگیں۔ ایک مرتبہ رو رو کر تضرع کر رہا تھا کہ…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 57
اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ اقتصاد کو اگر راست روی کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان میں سے کم ہی ایسے نکلتے ہیں جو وہ وقت گزر جانے کے بعد بھی اس توحید پر ثابت قدم رہتے ہیں جس کا اقرار انہوں نے طوفان میں گھر کر کیا تھا اور یہ سبق ہمیشہ کے لیے ان کو راست رو بنا دیتا ہے۔ اور اگر اقتصاد بمعنی توسُّط و اعتدال لیا جائے تو اس کا ایک مطلب یہ ہوگا کہ ان میں سے بعض لوگ اپنے شر و دہریت کے عقیدے میں اس شدت پر قائم نہیں رہتے جس پر اس تجربے سے پہلے تھے، اور دوسرا مطلب یہ ہوگا کہ وہ وقت گزر جانے کے بعد ان میں سے بعض لوگوں کے اندر اخلاص کی وہ کیفیت ٹھنڈی پڑجاتی ہے جو اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
(آیت) ولو ان ما فی الارض من شجرة اقلام، اس آیت میں حق تعالیٰ نے اپنی معلومات اور اپنی قدرت کے تصرفات اور اپنی نعمتوں کی ایک مثال دی ہے کہ وہ غیر متناہی ہیں۔ نہ کسی زبان سے، وہ سب ادا ہو سکتے ہیں نہ کسی قلم سے سب کو لکھا جاسکتا ہے۔ مثال یہ فرمائی کہ ساری زمین میں جتنے درخت ہیں اگر ان سب شاخوں کے قلم بنا لئے جائیں اور ان کے لکھنے کے لئے سمندر کو روشنائی بنادیا جائے اور یہ سب قلم حق تعالیٰ کی معلومات اور تصرفات قدرت کو لکھنا شروع کریں تو سمندر ختم ہوجائے گا اور معلومات و تصرفات ختم نہ ہوں گے۔ اور ایک سمندر نہیں اس جیسے سات سمندر اور بھی شامل کردیئے جائیں، جب بھی سب سمندر ختم ہوجائیں گے لیکن اللہ…
Read the full tafseer →واذ غشیھم موج کا لطل دعو اللہ مخلصین لہ الدین فلما نجھم الی البر فمنھم مقتصدا وما یجحد بایتنا الا کل ختار کفور (32)
یہ اوپر کے اجمال کی تفصیل ہے کہ کشتی کے مسافروں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب تک کشی رواں دواں رہتی ہے اس وقت تک ان کو یہ خیال بھی نہیں آتا کہ یہ خدا کی چلائی ہوئی سازگار ہوا کا کرشمہ ہے کہ وہ سمندر کے سینہ پر سوار اس سکون و راحت کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔ بلکہ وہ اس کو اپنی ذہنی و قابیت کا کرشمہ سمجھتے ہیں اور خدا اور اس کی قدرت کو بھولے رہتے ہیں۔ لیکن جب دفعتہ کسی گوشے سے طوفانی ہوائیں نمودار ہوتی ہیں اور سائبانوں کی مانند اٹھنے والی موجیں ان کو ڈھانک لیتی ہیں تب ان کو خدا یاد آتا ہے…
Read the full tafseer →32-1یعنی جب ان کی کشتیاں ایسی طوفانی موجوں میں گھر جاتی ہیں جو بادلوں اور پہاڑوں کی طرح ہوتی ہیں اور موت کا آہنی پنجہ انھیں اپنی گرفت میں لے لینا نظر آتا ہے تو پھر سارے زمینی معبود ان کے ذہنوں سے نکل جاتے ہیں اور صرف ایک آسمانی اللہ کو پکارتے ہیں جو واقعی اور حقیقی معبود ہے
32-2بعض نے مقتصد کے معنی بیان کیے ہیں عہد کو پورا کرنے والا، یعنی بعض ایمان، توحید اور اطاعت کے اس عہد پر قائم رہتے ہیں جو موج گرداب میں انہوں نے کیا تھا۔ ان کے نزدیک کلام میں حذف ہے، تقدیر کلام یوں ہوگا۔ فمنھم مقتصد ومنھم کافر۔ پس بعض ان میں سے مومن اور بعض کافر ہوتے ہیں، دوسرے مفسرین کے نزدیک اس کے معنی اعتدال پر رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–34
14: یعنی الحمد للہ ! ان لوگوں نے اس حقیقت کا تو اعتراف کرلیا کہ اس کائنات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس سے جو کھلا ہوا نتیجہ نکالنا چاہیے تھا کہ جب یہ کائنات تنہا اسی نے پیدا کی ہے تو عبادت کے لائق بھی تنہا وہی ہے، اس کے نتیجے تک پہنچنے کے لیے انہوں نے سمجھ سے کام نہیں لیا، اور اپنے باپ دادوں کی تقلید میں شرک اختیار کیے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
الم تران الفلک ۔۔۔۔۔۔ کل ختار کفور (31 – 32)
یہ کشتی ان قوانین قدرت کے مطابق چلتی ہے جو اللہ نے شمندر ، کشتی ، ہوا ، زمین اور آسمانوں میں رکھتے ہیں۔ اللہ نے ان چیزوں کو ان خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا کہ کشتی سمندروں میں چلنے لگی ہے ، نہ ڈوبتی ہے ، اور نہ ایک جگہ منجمد رہتی ہے۔ اگر اس خواص میں سے کوئی بھی خاصیت کسی ایک چیز کی ختم ہوجائے تو کشتی سمندر میں نہ چل سکے۔ اگر پانی کی کثافت ختم ہوجائے یا کشتی کے مادے کی کثافت ختم ہوجائے یا اس کی مقدار میں کمی بیشی ہوجائے۔ ہوا کا دباؤ سمندر پر کم ہوجائے ، ہوا کی موجیں یا سمندر کی موجوں میں ظلل ہوجائے اور اگر وہ درجہ حرارت ختم ہوجائے جس کے مطابق پانی پانی…
Read the full tafseer →7 اوپر دلائل و شواہد سے سمجھایا تھا کہ ایک اللہ ہی کا ماننا ٹھیک ہے، اس کے خلاف سب باتیں جھوٹی ہیں۔ یہاں بتلایا کہ طوفانی موجوں میں گھر کر کٹر سے کٹر مشرک بھی بڑی عقیدت مندی اور اخلاص کے ساتھ اللہ کو پکارنے لگتا ہے۔ معلوم ہوا کہ انسانی ضمیر و فطرت کی اصلی آواز یہ ہی ہے۔ باقی سب بناوٹ اور جھوٹے ڈھکوسلے ہیں۔
8 یعنی جب خدا تعالیٰ طوفان سے نکال کر خشکی پر لے آیا تو تھوڑے نفوس ہیں جو اعتدال و توسط کی راہ پر قائم رہیں ورنہ اکثر تو دریا سے نکلتے ہی شرارتیں شروع کردیتے ہیں۔ مترجم (رح) نے " فمنھم مقتصد " کا ترجمہ کیا " تو کوئی ہوتا ہے ان میں بیچ کی چال پر۔ " حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ یعنی جو حال خوف کے…
Read the full tafseer →آیت 32 وَاِذَا غَشِیَہُمْ مَّوْجٌ کَالظُّلَلِ ”
بحری سفر کے دوران جب کبھی یہ لوگ طوفان میں پھنس جاتے ہیں اور سائبانوں کی طرح پھیلی ہوئی موجیں انہیں اپنی طرف ایسے بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں جیسے کہ وہ ان کے اوپر سے گزر جائیں گی۔
فَلَمَّا نَجّٰٹہُمْ اِلَی الْبَرِّ فَمِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌ ط ”
یعنی ان میں سے اکثر و بیشتر توحید خالص سے برگشتہ ہو کر پھر شرک کی راہ اختیار کرلیتے ہیں۔
Read the full tafseer →43 تلاطم خیز موجوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرمایا کہ ایسے طوفان سمندر میں اکثر اٹھتے رہتے ہیں۔ اس وقت تو سب لوگ کیا مشرک اور کیا دہریئے سب ہی اللہ کو پکارنے لگتے ہیں۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود اور توحید باری تعالیٰ دونوں باتیں ہی انسان کی فطرت میں موجود ہیں۔
44 عععع مقتصد ذومعنی لفظ ہے۔ اس کا اصل معنی تو اعتدال پر قائم رہنے والا ہے۔ پھر اس کے مفہوم راہ راست پر آجانے والا بھی شامل ہے۔ یعنی وہ شخص جو اس مصیبت میں اللہ سے کئے ہوئے وعدہ کو یاد رکھے اور اسے پورا کرے جیسا کہ عکرمہ بن ابو جہل کے متعلق پہلے لکھا جاچکا ہے۔ (دیکھئے سورة الانعام کی آیت نمبر 41 کا حاشیہ)
دوسرا مطلب…
Read the full tafseer →34۔ (اور باقی پھر حق سے منحرف ہوجاتے ہیں۔ ) (آیت) ” مقتصد “۔ راہ اقتصاد و اعتدال، توحید کی راہ ہے۔ شرک کی راہ سرتاسر کجی وکجروی ہے۔ (آیت) ” کا لظلل “۔ سمندر میں طوفان و طغیانی کے وقت پانی کی موجیں سطح آب سے گزوں اونچی ہوہوکر جب کشتیوں اور جہازوں پر تھپیڑے مارتی ہیں تو یہی معلوم ہونے لگتا ہے جیسے بدلیاں چھاگئی ہیں۔ قرآن مجید اپنی تشبہات کے ذریعہ سے گویا اصل منظر کو سامنے لا دکھاتا ہے۔
35۔ (اور وہی کافر کہلاتے ہیں) (آیت) ” ختار “۔ بدعہدی کا ظہور یوں کہ توحید کا جو عہد و پیمان مضطر ومضطرب ہو کر کشتی میں میں تھا، اس کو اب توڑ ردیا (آیت) ” کفور “۔ ناشکری کا صدور یوں کہ خشکی پر صحیح و سلامت آجانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
آیت نمبر 31 تا 34
ترجمہ : کیا تم اس پر غور نہیں کرتے کہ دریا میں کشتیاں اللہ کے فضل سے چلتی رہتی ہیں تاکہ اے مخاطبو ! اس کے ذریعہ تم کو اپنی (قدرت) کی نشانیاں دکھا دے یقیناً اس میں اللہ کی معصیت سے ہر صبر کرنے والے اور اس کی نعمتوں کا شکر کرنے والے کے لئے عبرت کی نشانیاں ہیں اور جب ان پر یعنی کفار پر موجیں ایسے پہاڑوں کے مانند چھا جاتی ہیں جو ہر اس شئ پر جو اس کے زیر سایہ
آجائے سایہ فگن ہوجائیں، تو نہایت خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ ہی سے دعاء کرنے لگتے ہیں کہ ان کو (غرق) سے نجات دے یعنی (اس وقت) اس کے ساتھ غیر اللہ کو نہیں پکارتے پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف پہنچا دیتا ہے تو کچھ ان میں…
Read the full tafseer →واذا غشیھم موج کا لظلل دعوا اللہ مخلصین لہ الدین فلما نجھم الی البر فمنھم مقتصد
اور جب ان پر کوئی لہر سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہے تو اللہ کو خالص اطاعت کے ساتھ پکارتے ہیں ‘ پھر جب اللہ ان کو بچا کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو (اس وقت) کچھ تو ان میں سے اعتدال پر رہتے ہیں۔
غَشِیَھُمْ ان کو ڈھانک لیتی ہے ‘ ان کے اوپر آجاتی ہے۔ ظُلَلٌ ظُلَّۃ کی جمع ہے (ظلۃ سائبان) مراد پہاڑ (مقاتل) یا بادل (کلبی) ۔
مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ یعنی اللہ کے سوا کسی دوسرے کو نہیں پکارتے کیونکہ ان کے دماغوں میں فطری طور پر یہ بات جمی ہوئی ہے کہ مصیبتوں کو دور کرنے والا اللہ کے سوا اور کوئی نہیں۔ سخت خطرے اور خوف کے وقت…
Read the full tafseer →اور جب یہ کشتی پر سوار ہوتے ہیں اور ان کو بادلوں کی طرح بلند موجیں طوفان میں گھیر لیتی ہیں تو خالص اعتقاد کر کے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں۔
پھر جب ہم ان کو دریا سے بچا کر خشکی کی طرف لے آتے ہیں تو ان کفار میں سے بعض قول فعل میں نسبت پہلے کے ذرا نرم ہوجاتے ہیں اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کا وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو غدار اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَاِذَا غَشِيَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ۔۔ : پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی نعمت کے ساتھ سمندر میں چلنے والی کشتیوں اور جہازوں کو دیکھ کر ایمان والوں کی حالت کا ذکر فرمایا، جو بہت صبر و شکر کرنے والے ہوتے ہیں کہ ان کے لیے ان کشتیوں میں اللہ تعالیٰ کی توحید کی اور اس کے قادر و مختار ہونے کی بہت سے نشانیاں ہیں۔ اب بتایا کہ مشرکوں کی حالت اس کے برعکس ہوتی ہے، چناچہ جب سمندر میں طوفان آتا ہے اور یک لخت پانی کی موجیں سائبانوں کی طرح انھیں ڈھانپ لیتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ معاملہ ختم ہے تو تمام خداؤں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کو چھوڑ کر اپنے دین یعنی عبادت کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس اکیلے…
Read the full tafseer →واذا غشیھم موج کا الظلل مقاتل نے کہا : پہاڑوں کی مانند۔ کلبی نے کہا : بادلوں کی مانند (5) ؛ یہ قتادہ کا قول ہے یہ ظلۃ کی جمع ہے موج کو اس کے ساتھ تشبیہ اس کے بڑے اور بلند ہونے کی وجہ سے دی ہے۔ نابغہ نے سمندر کی تعریف میں کہا :
یماشیھناخضر ذو ظلال علیحافاتہفلق الدنان (6)
موج کو ظلل کے ساتھ تشبیہ دی موج واحد ہے اور ظلل جمع ہے کیونکہ موج آہستہ آہستہ آتی ہے اور اس کا بعض بعض پر سوار ہوجاتا ہے جس طرح پہاڑ ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ جمع کے معنی میں ہے اسکو جمع کا صیغہ نہیں بنایا گیا کیونکہ یہ مصدر ہے اس کا اصل معنی حرکت اور ازدحام ہے اسی سے ماج البحر اور الناس یموجون ہے۔ کعب نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ماخلقکم ولا بعثکم ال اکنفس واحدۃ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے فرمائیں گے ہوجا پس وہ ہوجائے گا تھوڑا ہو یا زیادہ۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ماخلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا پہلی بار سارے لوگوں کا پیدا کرنا اور ان کا دوبارہ زندہ کرنا ایک جان کے پیدا کرنے اور اس کو دوبارہ زندہ کرنے کی طرح ہے اور فرمایا آتی الم تر ان اللہ یولج الیل کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ داخل کرتا ہے رات کو دن یعنی رات کا کم ہونا اور دن کا زیادہ ہونا آیت…
Read the full tafseer →وَاِذَا غَشِيَهُمْ [اور جب چھا جاتی ہے ان پر ] مَّوْجٌ [کوئی موج ] كَالظُّلَلِ [بادلوں کی مانند ] دَعَوُا اللّٰهَ [تو وہ لوگ پکارتے ہیں اللہ کو ] مُخْلِصِيْنَ [خالص کرنے والے ہوتے ہوئے ] لَهُ الدِّيْنَ ڬ [اس کے لئے دین کو ] فَلَمَّا [پھر جب ] نَجّٰىهُمْ [وہ نجات دیتا ہے ان کو ] اِلَى الْبَرِّ [خشکی کی طرف ] فَمِنْهُمْ [تو ان میں ] مُّقْتَصِدٌ ۭ [میانہ رو (بھی) ہیں ] وَمَا يَجْــحَدُ [اور انکار نہیں کرتا ] بِاٰيٰتِنَآ [ہماری نشانیوں کا ] اِلَّا كُلُّ [مگر ہر ایک ] خَتَّارٍ [کثرت سے غداری کرنے والا ] [كَفُوْرٍ : بہت ناشکری کرنے والا ]
خ ت ر
(ض) خترا بری طرح بےوفائی کرنا۔ غداری کرنا۔
ختار فعال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
سمندر میں کشتیوں کا چلنا اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، مشرکین کو جب موج گھیر لیتی ہے تو اخلاص کے ساتھ دعا کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام بیان فرمایا ہے کہ سمندر میں جو کشتی چلتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و انعام ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ دیکھو آدھا تولہ لوہا سمندر میں ڈالو تو اسی وقت ڈوب جائے گا اور سو من کی لکڑی جو کشتی کی صورت میں ہے وہ نہیں ڈوبتا، یہ کشتیاں ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک لے جاتی ہیں، سامان لاتی ہیں، ضرورت کی چیزیں ان کے آنے جانے کی وجہ سے فراہم ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے انہیں ہواؤں کے تھپیڑوں کے ذریعہ اس حال میں کردیتا ہے کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–32
ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…
Read the full tafseer →31:۔ واذا غشیہم الخ، یہ زجر ہے۔ دریاؤں اور سمندروں میں اگر ان کی کشتیوں کو پہاڑوں ایسی بلند وبالا موجیں گھیر لیں تو وہ اپنے تمام خود ساختہ کارسازوں سے مایوس ہو کر خالص اللہ کو پکارنے لگتے ہیں موحدین لہ لا یدعون لخلاصہم سواہ (قرطبی ج 14 ص 80) ۔ فلما نجھم الخ جب اللہ تعالیٰ ان کو طوفان سے بچا کر کنارے لگا دیتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ تو راہ اعتدال اختیار کرلیتے ہیں اور حق یعنی توحید پر قائم ہوجاتے ہیں فمہم مقیم علی التوحید (روح ج 21 س 106) ۔ البتہ عہد شکنی اور ناشکری جن کی طبیعت ثانیہ بن چکی ہو وہ ایسے واضح اور روشن دلائل سے بھی نہیں سمجھتے بلکہ ضد اور عناد کی وجہ سے جحود و انکار پر ڈٹے رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
رابطہ آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان کئے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے پہلے تخلیق کا مسئلہ سمجھایا اور اس کو الوہیت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ۔ جب خالق اللہ کے سوا اور کوئی نہیں ، واجب الوجود اور مدبر بھی وہی ہے تو پھر عبادت بھی اسی کی ہونی چاہئے ، پھر اس میں دوسروں کو کیوں شریک بناتے ہو ۔ ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رات ، دن ، سورج اور چاند کے تغیرات کا سلسلہ بیان فرمایا کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے دست ِ قدرت میں ہیں ، خدا تعالیٰ کا علم اور قدرت لامحدود ہیں اس کی مثال اس طرح بیان کی گئی کہ اگر روئے زمین کے تمام درخت اور پودے قلمیں بن جائیں اور ہفت اقلیم کے سمندروں کے پانی…
Read the full tafseer →وَاِذَا غَشِيَہُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللہَ مُخْلِصِيْنَ لَہُ الدِّيْنَ 0ۥۚ فَلَمَّا نَجّٰىہُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌ 0 ۭ وَمَا يَجْــحَدُ بِاٰيٰتِنَآ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ 32
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے…
Read the full tafseer →واذا غشیہم موج کا لظلل یہ بھی اس سفر دریائی کی ایک حالت ہے جس میں اور بھی زیادہ خدا تعالیٰ کی قدرت و رحمت کے نشان معلوم ہوتے ہیں اور یہ بھی کہ مصائب کے وقت خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی کس طرح سے دستگیری کرتا ہے اور کس جلدی سے انسان کی دلی حالت پر متنبہ ہوتا ہے اور انسان مصیبت کے وقت اپنی اس فطری حالت پر آجاتا ہے۔ عوارض اٹھ جاتے ہیں، مگر نجات پانے کے بعد بعض تو پھر بھی اسی راہ راست پر رہتے ہیں، بعض پھر اسی ناراستی پر آجاتے ہیں۔ خدا کو بھول جاتے ہیں، اس میں صبر و شکر کی پوری آزمائش ہے، فرماتا ہے کہ سفر دریائی میں جب ان کو پہاڑ جیسی موجیں ڈھانک لیتی ہیں اور ہر طرف سے ان پر سائبان کی طرح محیط ہوجاتی…
Read the full tafseer →وَاِذَا غَشِیَھُمْ مَّوْجٌ کَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَـہُ الدِّیْنَ 5 ج فَلَمَّا نَجّٰھُمْ اِلٰی الْـبَرِّ فَمِنْھُمْ مُّقْتَصِدٌ ط وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰـتِنَـآ اِلاَّ کُلُّ خَتَّارٍ کَفُوْرٍ ۔ (لقمان : 32)
(اور جب موجیں سائبانوں کی طرح ان کو ڈھانپ لیتی ہیں تو وہ اللہ کو پکارتے ہیں، اطاعت کو بالکل اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے، پس جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی راہ راست پر رہتا ہے، اور ہماری نشانیوں کا انکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو غدار اور ناشکرا ہے۔ )
مُقْتَصِدٌ … اقتصاد سے اسم فاعل ہے۔ اقتصاد راست روی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور توسط و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک اور بڑی دلیل جس سے فائدہ اٹھانے کے باوجود لوگ شرک سے توبہ نہیں کرتے۔
قرآن مجید اس بات کی طرف کئی بار توجہ دلاتا ہے کہ سمندروں میں سفر کرنے والے مسافرو ! اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دیکھو اور غور کرو کہ یہ تمہارے رب کا کتنا عظیم کرم ہے کہ تم سمندروں میں اس طرح سفر کرتے ہو جیسے خشکی پر۔ اگر غور کرو تو تمہیں احساس ہوگا کہ سمندر کا سفر تمہارے پیدل چلنے سے بھی آسان بنادیا گیا ہے۔ تم بحری جہازوں پر اس طرح بیٹھے سمندر کا نظارہ کرتے اور آپس میں خوش گپیاں مار رہے ہوتے ہو جیسے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہو۔ پھر غور کرو ! جس سمندر پر ایک قدم رکھو تو ڈوب…
Read the full tafseer →مصیبت میں وہ اللہ کو یاد کرتے ہیں :
32: وَاِذَا غَشِیَہُمْ (اور جب ان کو گھیر لیتی ہیں) یعنی کفار کو مَّوْجٌ کَالظُّلَلِ (سائبانوں کی طرح امواج) موج بلند ہو کر جب لوٹتی ہے تو سائبان کی طرح بن جاتی ہے۔ الظلل یہ ظلۃ کی جمع ہے۔ ہر وہ چیز جو تمہیں سایہ دے خواہ پہاڑ ہو یا بادل اور شئی دیگر۔ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ فَلَمَّا نَجّٰہُمْ (وہ اللہ تعالیٰ کو خالص اعتقاد کر کے پکارتے ہیں پھر جب ان کو نجات) اِلَی الْبَرِّ فَمِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌ (دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے پس ان میں سے بعض اعتدال پر رہتے ہیں) مقتصدؔ کا معنی ایمان و اخلاص پر باقی رہنے والے ہیں جو ایمان پہلے ظاہر ہوا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
31، الم تران الفلک تجری فی البحر بنعمۃ اللہ، بیشک تمہارے اوپر اللہ کی نعمت ہے۔ ، لیریکم من آیاتہ، اس کے عجائب میں سے۔ ، ان فی ذلک لایات لکل صبار، اللہ کے حکم پر ، شکور ، اپنی نعمتوں پر شکر کرنے والے ہیں ۔
بادل ہیں ۔ ظل جمع ہے۔ ظلۃ، کی اس کو موج کے ساتھ تشبیہ دی کثرت اور بلندی کی وجہ سے ۔ موج کو واحد بنایا جیسے ظل کو جمع بنایا کیونکہ موج ایک کے بعد دوسری آتی ہے۔ ، دعوا اللہ مخلصین لہ الدین فلما نجاھم الی البر فمنھم مقتصد، جب اللہ ان کو بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو انہوں نے سمندر میں اللہ سے جو وعدہ کیا ہوتا ہے توحید کا کہ وہ ایمان پر ثابت قدم رہیں گے۔ عکرمہ کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے وقت حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
28 تا 32۔ مطلب یہ ہے کہ ساری مخلوقات کا پیدا کرنا اور بعد مرنے کے پھر اس کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ کی قدرت کے سامنے کچھ مشکل نہیں ہے بلکہ اس کی ایسی مثال ہے جیسا کہ ایک جان پیدا کرنا اور جلانا ہے کس لیے کہ سب کا موجود کرنا فقط کن کے کہنے سے ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا انما امرہٗ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قادر مطلق جب ارادہ کرتا ہے کسی شے کا تو فرماتا ہے ہوجا وہ ہوجاتی ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ سننے والا ہے سب کے قولوں کا اور دیکھنے والا ہے سب کے عملوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ حشر کے منکر جو باتیں کرتے ہیں اور حشر کو جھٹلا کر جس طرح کے کاموں میں مصروف ہیں ان سب کی اللہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
آیت نمبر : 32 ۔ 31
کیا تو نے اللہ تعالیٰ کی قدرت ‘ اس کی رحمت اور اپنے بندوں پر اس کی عنایت کے آثار نہیں دیکھے ؟ اس نے سمندر کو مسخر کیا جس میں اس کے حکم قدری اور اس کے لطف و احسان سے کشتیاں چلتی ہیں۔ (لیریکم من ایتہ) ” تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے۔ “ ان نشانیوں میں نفع اور عبرت ہے۔ (ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور) ” بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔ “ پس یہ وہ لوگ ہیں جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں ‘ وہ ہر تکلیف پر صبر کرتے ہیں اور خوشی پر شکر کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو چھوڑ کر اس کی اطاعت پر صبر کرتے ہیں۔ وہ اس کی قضا و قدر پر صبر کرتے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–33
آخرت میں نسب کی بجائے عمل کام آئے گا
قول باری ہے (واخسوا یوما لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا۔ اور اس دن کا خوف رکھو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ ہوسکے گا اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی بدلہ بن سکے گا) آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی کو اس کے باپ یا نسب کے شرف کی بنا پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو چھوڑ کر کسی ایک کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔
اس مضمون میں حضور ﷺ سے روایت بھی وارد ہے۔ آپ کا ارشاد ہے (من ابطابہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ۔ جس شخص کا عمل اسے سست کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔ ) آپ نے…
Read the full tafseer →63 توحید کی ایک فطری دلیل کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب سمندر میں ان پر سائبانوں کی طرح کوئی موج چھا جاتی ہے تو یہ لوگ اللہ ہی کو پکارتے ہیں "۔ سو یہ توحید کی فطری آواز ہے کہ مصیبت کے وقت انسان اللہ ہی کو پکارتا ہے۔ سو یہ ہے فطرت کی وہ آواز و پکار جو انسان کے اندر سے ایسے موقع پر ابھر کر سامنے آجاتی ہے۔ مگر آج کل کے کلمہ گو مشرک نے اپنی فطرت کو اس قدر مسنح کر کے رکھ دیا کہ وہ مشکل کے اس موقع پر بھی اللہ پاک کو پکارنے کی بجائے اس کی مخلوق ہی میں سے کسی کو پکارتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ مشرک لوگوں کی کشتی جب موجوں کے طوفانوں میں گھر جاتی ہے تو وہ اللہ ہی کو پکارتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
اللہ اور اس کا علم ہی کامل ہے
تشریح : ان آیات میں اللہ کی قدرتوں میں سے ایک بہت بڑی قدرت کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ سائنسی معجزہ بھی ہے کہ اتنی بھاری بھر کم کشتیاں جن میں بوجھ ہوتا ہے مگر اللہ کی قدرت کہ وہ پانی کے اوپر تیرتی رہتی ہیں اور انسان کے ذرائع آمدورفت اور تجارت کا بہت بڑا وسیلہ ہے۔ اب تو اس صنعت میں حیرت انگیز ترقی ہوچکی ہے مگر بنیادی بات تو یہی ہے کہ پانی ہی کشتی کے چلنے کا، تیرنے کا سبب ہوتا ہے۔ مگر انسان انتہائی ناشکری مخلوق ہے جب کبھی سمندر اور لہروں کے طوفان میں پھنس جاتا ہے مطلب یہ کہ مصیبت میں پھنستا ہے تو اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے لیکن جونہی مصیبت ٹلتی ہے اللہ سے غافل ہوجاتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
آیات 31 تا 34
اسرارومعارف
اے مخاطب کیا تو نہیں دیکھتا کہ بہت بڑے بڑے جہاز کتنے گہرے سمندروں میں تیرتے پھرتے ہیں اللہ کی نعمتیں لادے ہوئے اور بندوں کے لیے رزق کے وسائل لے کر یہ سب عقل تمہیں اس لیے عطا ہوئی ہے کہ اللہ کی عظمت سے آشنا ہوسکو جس نے پانی اور لکڑی کو یہ خصوصیات دیں اور تمہیں یہ شعور بخشا مگر یہ سب ایسے لوگوں کی سمجھ میں ہی آسکتا ہے جو ذرا تحمل مزاج اور جذبہء شکر رکھنے والے ہوں ورنہ تو جب سمندری لہریں اٹھی ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے کوئی بادل بڑھتا آرہا ہو تو یہ سب لوگ بڑے خلوص سے صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں اس وقت کوئی اللہ کے بغیر سوجھتا ہی نہیں اور جب اللہ انہیں طوفانوں سے بچا کر زمین…
Read the full tafseer →ف 14 یعنی سمندر میں مصیبت پڑنے کے وقت اللہ تعالیٰ کی بندگی کا جو اقرار اس نے کیا تھا اس پر قائم رہت ا ہے۔ اصل میں ” اقتصاد “ کے معنی راست روی اور میانہ روی کے ہیں اور یہ لفظ ظالم کے مقابل ہمیں بھی اسعتمال ہوا ہے۔ (دیکھیے سورة فاطر (آیت 32) بعض مفسرین نے اس کے معنی ” کافر “ کئے ہیں کیونکہ سورة عنکبوت (آیت 65) میں ہے۔ ” فلما نجاھم الی البر اذا ھم یشرکون “ ” تو جب اس نے انہیں نجات دی تو اچانک وہ شرک پر اتر آئے۔ “ مگر یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔ (ابن کثیر)
1 یعنی جو مصیبت کا وقت ٹل جانے پر سب کچھ بھول جاتے ہیں اور اپنے قول وقرار کا بھی کوئی پاس نہیں کرتے۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ پہلے جملہ میں ’…
Read the full tafseer →(31:32) غشیہم : غشی یغشی (سمع) غشاء وغشاوۃ وغشیان مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اس نے ان کو ڈھانپ لیا۔ وہ ان پر چھا گیا۔ یا ان پر اپڑا ۔ ضمیر فاعل موج کے لئے ہے (اور جب سمندر کی موج ان کو ڈھانپ لیتی ہے) ۔
کا لظلل۔ کاف تشبیہ ہا ہے الظلل الظللۃ کی جمع ہے۔ الظلال بھی جمع ہے شامیانہ۔ سایہ دار۔ چھاؤں۔ ظل سایہ ۔ پرچھائیں۔ ظل سے بھی جمع ظلال ہے۔
موج : ماج یموج موج سے مصدر بھی ہے اور اسم مفرد بھی۔ لہر۔ اس کی جمع امواج ہے۔
واذا غشیہم موج کا لظلل۔ جب (سمندر کی) موجیں ان کو سائبانوں کی طرح ڈھانپ لیتی ہیں۔
دعوا : دعاء سے ماضی جمع مذکر غائب۔ دعو اصل میں دعو وا تھا۔ واؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
لغات القرآن آیت نمبر (31 تا 34) ۔
صبار (بہت صبر کرنے والا) ۔ شکور (شکر ادا کرنے والا) ۔ ظلل (ظل) (سائے) ۔ مقتصد (سنبھل کر چلنے والا۔ اعتدال پسند آدمی) ۔ لا یجزی (کام نہ آئے گا۔ بدلہ نہ دے گا) ۔ مولود (پیدا کیا گیا (بیٹا) ۔ لاتغرن ( ہرگز تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے) ۔ الغرور (دھوکہ۔ فریب) ۔ الساعتہ (گھڑی۔ قیامت) ۔ الغیث (بارش) ۔ الارحام (رحم) (پیٹ) ۔ ماتدری (نہیں جانتا) ۔ غدا (کل صبح۔ آئندہ صبح) ۔
تشریح : آیت نمبر (31 تا 34) ۔ ” اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی کشتیوں اور جہازوں کا ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک حفاظت سے پہنچنا ہے۔ “
سمندر یا دریا میں جو چیز ڈالی جاتی ہے وہ عام طور پر…
Read the full tafseer →(ف 2) شان نزول :
یہ آیت عکرمہ بن ابی جہل کے حق میں نازل ہوئی جس سال مکہ مکرمہ فتح ہوئی تو وہ سمندر کی طرف بھاگ گئے وہاں باد مخالف نے گھیرا اور خطرے میں پڑگئے توعکرمہ نے کہا کہ اگر اللہ ہمیں اس خطرہ سے نجات دے تو میں ضرورنبی ﷺ کی اطاعت کروں گا اللہ تعالیٰ نے کرم کیا ہواٹھہرگئی اور عکرمہ مکہ مکرمہ کی طرف آگئے اور اسلام لائے اور بعض ان میں سے ایسے بھی تھے جنہوں عہدوفا نہیں کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →[18] یعنی ایمان و اخلاص پر قائم رہتے ہوئے کفر کی طرف نہیں لوٹتے ورنہ تو اکثر نجات پاتے ہی شرارتیں شروع کردیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
سمندر بہت بڑی نعمت ہے
1: سمندر پہلے صرف پانی کا ایک اٹھاہ ذخیرہ تھا اس کے بعد اس میں کشتیاں چلنے لگیں اور تجارت کے غیر معلوم دروازے کھلے اور پھر اس کو اقتصادی دنیا میں بہت بڑی اہمیت حاصل ہوگئی ۔ چناچہ آج جس کے پاس بحری قوت زیادہ ہے ۔ وہ سب سے زیادہ خوشحال ہے اور سب سے زیادہ مضبوط ہے قرآن حکیم نے آج سے چودہ سو سال پیشتر سمندر کی سیاسی اور اقتصادی اہمیت کا ان الفاظ میں ذکر کیا ہے کہ ان فی ذالک لایات لکل صبار شکور کو سمندر کے فوائد ان لوگوں پر ظاہر ہوں گے جو مصائب کو برداشت کرینگے اس کی مواج اور متلاطم لہروں سے متصادم ہوجانے کی سکت رکھتے ہوں ۔ اس کی گہرائیوں اور وسعتوں سے ڈر نہ جائیں جو اس کے…
Read the full tafseer →32۔ اور جب ان لوگوں پر دریا کی موجیں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں اور بادلوں کی طرح ان کو ڈھانک لیتی ہیں تو وہ لوگ اللہ تعالیٰ ہی پر خالص اعتقاد رکھ کر اللہ تعالیٰ کو پکارنے لگتے ہیں اور اسی کی نری بندگی کا اعتقاد کر کے اس کو پکارتے ہیں ۔ پھر جب وہ اللہ تعالیٰ ان کو نجات دے کر خشکی پر لے آتا ہے تو کوئی ان میں سے راہ راست پر قائم رہتا اور بیچ کی چال اختیار کرلیتا ہے اور کوئی عہد شکنی کرتا ہے اور ہماری نشانیوں کا بس وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو عہد شکن قول کے جھوٹے اور نا سپاس ہیں ۔
یعنی سمندر میں جب طوفان آجائے اور موج بدلی کی طرح سائبان بن کر گھیرے ڈالے لو اس وقت اللہ تعالیٰ کی توحید خالص کا…
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی کبھی شرک چھوڑ کر توحید کو جو کہ اعدل الطرق ہے اختیار کرلیتے ہیں۔
7۔ کہ کشتی میں جو عہد توحید کا کیا تھا اس کو توڑ دیا، اور خشکی میں آنے کا مقتضا تھا شکر کرنا، اس کو چھوڑ دیا۔
Read the full tafseer →جب کبھی ان پر سمندر کی لہریں چھا جائیں تو وہ اللہ کو خالص کرکے پکار لیتے ہیں :
32۔ بات بیان کی گئی تھی کشتیوں اور پانی کے جہازوں کی اور قدرت الہی کے ان نشانات سے توحید الہی پر استدلال کیا جا رہا تھا اور شرک سے بیزاری کا درس دیا جا رہا تھا کہ یہ لوگ اتنے اتنے بڑے توحید کے نشانات دیکھنے کے باوجود پھر غافل کے غافل ہی رہتے ہیں اور اب بتایا جا رہا ہے کہ جب کبھی ان کو کوئی موج ڈھانک لیتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کو بادلوں نے اپنے گھیرے میں لے لیا ہے گویا ان پر پہاڑ لوٹ آنے والے ہیں تو وہ اس وقت خالصتا اللہ تعالیٰ کی ذات کو پکارنے لگتے ہیں اور اب اسی اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کو پکارنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
Commentary
In the first of the two verses cited above, the address is to common people, believing and disbelieving both. They have been served with a notice that they will face Allah and be accountable before Him for their deeds on the day of Judgment and that they should be prepared for it. It was said: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ( O people, fear your Lord - 33). At this place, the text has not gone by the name of Allah Ta'ala or His some other attribute. Instead of that, it has elected to mention the attribute of Rabb (master, sustainer of all, usually translated as Lord with…
Read the full tafseer →57 "Iqtisad" in the original may mean uprightness or moderateness. In the first case, the verse would mean: "A few of them only remain steadfast on Tauhid, which they had promised to follow when overwhelmed by the stone, and this makes them adhere to uprightness ever afterwards." If it is taken to mean moderateness, it would mean: Some of them become moderate and less rigid in their creed of atheism and polytheism, or they lose some of their fervour and enthusiasm that had been caused by the incident of calamity." Most probably AIlah has used this0 meaningful sentence here in order to allude…
Read the full tafseer →