Luqman 31:31

Luqman · from ayah 31

31:31

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ ؕ— اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ ۟اَلَمۡ تَرَ اَنَّ الۡفُلۡكَ تَجۡرِىۡ فِى الۡبَحۡرِ بِنِعۡمَتِ اللّٰهِ لِيُرِيَكُمۡ مِّنۡ اٰيٰتِهٖؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی کی مہربانی سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں۔ تاکہ وہ تم کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔ بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے (اور) شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do you not see that ships sail through the sea by the favor of Allah that He may show you of His signs? Indeed in that are signs for everyone patient and grateful.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 4 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Luqman

All translations of 31:31

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے؟ در حقیقت اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی کی مہربانی سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں۔ تاکہ وہ تم کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔ بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے (اور) شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تم اس پر غور نہیں کرتے کہ دریا میں کشتیاں اللہ کے فضل سے چل رہی ہیں اس لئے کہ وه تمہیں اپنی نشانیاں دکھاوے، یقیناً اس میں ہر ایک صبر وشکر کرنے والے کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کشتیاں سمندر میں اللہ کی مہربانی سے چلتی ہیں، تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے ؟ یقینا اس میں ہر اس شخص کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو صبر کا پکا، اعلی درجے کا شکر گزار ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تو نے نہ دیکھا کہ کشتی دریا میں چلتی ہے، اللہ کے فضل سے تاکہ تمہیں وہ اپنی کچھ نشانیاں دکھائے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر کرنے والے شکرگزار کو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ کشتیاں سمندر میں اﷲ کی نعمت سے چلتی ہیں تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھا دے۔ بیشک اس میں ہر بڑے صابر و شاکر کے لئے نشانیاں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بیشک کشتیاں سمندر میں اللہ کی نعمت سے چلتی ہیں، تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔ بیشک اس میں ہر بڑے صابر، بڑے شاکر کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے سمندر میں کشتی چلاتا ہے تاکہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے۔ اس میں ہر صابر و شاکر کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ ہی کے فضل سے کشتی دریا میں چلتی ہے تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔ بیشک اس کے اندر نشانیاں ہیں ہر صبر و شکر کرنے والے کے لئے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم نے کبھی غور نہیں کیا کہ یہ کشتیاں (اور دیو ہیکل جہاز کس طرح) رواں دواں ہیں سمندر میں اللہ کے فضل (و کرم) سے تاکہ وہ تمہیں دکھائے اپنی کچھ نشانیاں بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو بڑا صبر کرنے والا شکر گزار ہے

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تو نے اس پر نظر نہیں کی کہ اللہ ہی کے فضل سے کشتی سمندر میں چلتی ہے تاکہ تم کو (اللہ) اپنی نشانیاں دکھلائے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر صابر شاکر کے لئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم دیکھتے نہیں کہ کشتیاں چلتی ہیں سمندر میں اللہ کی نعمتوں کو لے کرتا کہ وہ دکھائے تمہیں اپنی نشانیوں میں سے یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی کی مہربانی سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں تاکہ وہ تم کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do you not see that ships sail in the sea by Allah's Grace that He may show you some of His Signs? Surely there are Signs in this for everyone who is steadfast, thankful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Did you not see that the ships sail through the sea by the grace of Allah, so that He shows you some of His signs? In that, indeed, there are signs for every man of patience and gratitude.

— Muhammad Taqi Usmani

Did you not see that the ships sail through the sea by the grace of Allah, so that He shows you some of His signs? In that, indeed, there are signs for every man of patience and gratitude.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

See you not that the ships sail through the sea by Allah's grace that He may show you of His signs Verily, in this are signs for every patient, grateful (person).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hast thou not seen how the ships glide on the sea by Allah's grace, that He may show you of His wonders? Lo! therein indeed are portents for every steadfast, grateful (heart).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do you not see that ships sail through the sea by the favor of Allah that He may show you of His signs? Indeed in that are signs for everyone patient and grateful.

— Saheeh International

Have you not seen that the ships sail in the ocean through the bounty of God so that He may show you the evidence (of His existence). There is evidence (of the truth) in this for every forbearing and grateful one.

— Muhammad Sarwar

Do you not see that the ships run on in the sea by Allah's favor that He may show you of His signs? Most surely there are signs in this for every patient endurer, grateful one.

— Muhammad Habib Shakir

Observest thou not that the ship saileth in the sea by the favour of Allah that he may shew you of His signs? Verily therein are signs for every persevering, grateful heart.

— Abdul Majid Daryabadi

Seest thou not that the ships sail through the ocean by the Grace of Allah?- that He may show you of His Signs? Verily in this are Signs for all who constantly persevere and give thanks.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 31:31

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 30–31

طوفان میں کون یاد آتا ہے ؟ اللہ کے حکم سے سمندروں میں جہاز رانی ہو رہی ہے اگر وہ پانی میں کشتی کو تھامنے کی اور کشتی میں پانی کو کاٹنے کی قوت نہ رکھتا تو پانی میں کشتیاں کیسے چلتیں ؟ وہ تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھارہا ہے مصیبت میں صبر اور راحت میں شکر کرنے والے ان سے بہت کچھ عبرتیں حاصل کرسکتے ہیں۔ جب ان کفار کو سمندروں میں موجیں گھیر لیتی ہیں اور ان کی کشتی ڈگمگانے لگتی ہیں اور موجیں پہاڑوں کی طرح ادھر سے ادھر ادھر سے ادھر کشتیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگتی ہیں تو اپنا شرک کفر سب بھول جاتے ہیں اور گریہ وزاری سے ایک اللہ کو پکارنے لگتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة لُقْمٰن 55 یعنی ایسی نشانیاں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اختیارات بالکل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ انسان خواہ کیسے ہی مضبوط اور بحری سفر کے لیے موزوں جہاز بنا لے اور جہاز رانی کے فن اور اس سے تعلق رکھنے والی معلومات اور تجربات میں کتنا ہی کمال حاصل کرلے، لیکن سمندر میں جن ہولناک طاقتوں سے اس کو سابقہ پیش آتا ہے ان کے مقابلے میں وہ تنہا اپنی تدابیر کے بل بوتے پر بخیریت سفر نہیں کرسکتا جب تک اللہ کا فضل شامل حال نہ ہو۔ اس کی نگاہ کرم پھرتے ہی آدمی کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے ذرائع و وسائل اور کمالات فن کتنے پانی میں ہیں۔ اسی طرح آدمی امن و اطمینان کی حالت میں چاہے کیسا ہی سخت دہریہ یا کٹا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–32

(آیت) ولو ان ما فی الارض من شجرة اقلام، اس آیت میں حق تعالیٰ نے اپنی معلومات اور اپنی قدرت کے تصرفات اور اپنی نعمتوں کی ایک مثال دی ہے کہ وہ غیر متناہی ہیں۔ نہ کسی زبان سے، وہ سب ادا ہو سکتے ہیں نہ کسی قلم سے سب کو لکھا جاسکتا ہے۔ مثال یہ فرمائی کہ ساری زمین میں جتنے درخت ہیں اگر ان سب شاخوں کے قلم بنا لئے جائیں اور ان کے لکھنے کے لئے سمندر کو روشنائی بنادیا جائے اور یہ سب قلم حق تعالیٰ کی معلومات اور تصرفات قدرت کو لکھنا شروع کریں تو سمندر ختم ہوجائے گا اور معلومات و تصرفات ختم نہ ہوں گے۔ اور ایک سمندر نہیں اس جیسے سات سمندر اور بھی شامل کردیئے جائیں، جب بھی سب سمندر ختم ہوجائیں گے لیکن اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

الم تر ان الغلک تجری فی البحر بنعمت اللہ لیریکم من ایتہ ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (31) اب یہ کشتی کی مثال سے مخاطبوں کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ذرا میں مغرور اور مایوس ہوجانے والے نہ بنو بلکہ امتحان و آزمائش میں صبر کرنے والے اور نعمت میں شکر کرنے والے بنو۔ یہی راستہ سلامی کا ہے اور اسی پر چل کر فلاح حاصل کرنے والے بن سکو گے مگر تمہارا حال یہ ہے کہ اس وقت خدا کی عنایت سے جو تمہارے حالات سازگار ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر تمہارے پائوں ہی نہیں پڑ ہے ہیں، حالانکہ یہ سارا نشتہ بالکل عارضی ہے۔ اگر ابھی خدا کی کسی پکڑ میں آگئے تو سارا نشہ ہرن ہوجائے گا اور توبہتوبہ پکار اٹھو گے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

31-1یعنی سمندر میں کشتیوں کا چلنا، یہ بھی اس کے لطف و کرم کا ایک مظہر اور اس کی قدرت تسخیر کا ایک نمونہ ہے، اس نے ہوا اور پانی کو ایسے مناسب انداز سے رکھا کہ سمندر کی سطح پر کشتیاں چل سکیں، ورنہ وہ چاہے تو ہوا کی تندی اور موجوں کی طغیانی سے کشتیوں کا چلنا ناممکن ہوجائے۔ 31-2تکلیفوں میں صبر کرنے والے، راحت اور خوشی میں اللہ کا شکر کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 25–34

14: یعنی الحمد للہ ! ان لوگوں نے اس حقیقت کا تو اعتراف کرلیا کہ اس کائنات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس سے جو کھلا ہوا نتیجہ نکالنا چاہیے تھا کہ جب یہ کائنات تنہا اسی نے پیدا کی ہے تو عبادت کے لائق بھی تنہا وہی ہے، اس کے نتیجے تک پہنچنے کے لیے انہوں نے سمجھ سے کام نہیں لیا، اور اپنے باپ دادوں کی تقلید میں شرک اختیار کیے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 31–32

الم تران الفلک ۔۔۔۔۔۔ کل ختار کفور (31 – 32) یہ کشتی ان قوانین قدرت کے مطابق چلتی ہے جو اللہ نے شمندر ، کشتی ، ہوا ، زمین اور آسمانوں میں رکھتے ہیں۔ اللہ نے ان چیزوں کو ان خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا کہ کشتی سمندروں میں چلنے لگی ہے ، نہ ڈوبتی ہے ، اور نہ ایک جگہ منجمد رہتی ہے۔ اگر اس خواص میں سے کوئی بھی خاصیت کسی ایک چیز کی ختم ہوجائے تو کشتی سمندر میں نہ چل سکے۔ اگر پانی کی کثافت ختم ہوجائے یا کشتی کے مادے کی کثافت ختم ہوجائے یا اس کی مقدار میں کمی بیشی ہوجائے۔ ہوا کا دباؤ سمندر پر کم ہوجائے ، ہوا کی موجیں یا سمندر کی موجوں میں ظلل ہوجائے اور اگر وہ درجہ حرارت ختم ہوجائے جس کے مطابق پانی پانی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی جہاز بھاری بھاری سامان اٹھا کر خدا کی قدرت اور فضل و رحمت سے کس طرح سمندر کی موجوں کو چیرتا پھاڑتا ہوا چلا جاتا ہے۔ 6 یعنی اس بحری سفر کے احوال و حوادث میں غور کرنا انسان کے لئے صبر و شکر کے مواقع بہم پہنچاتا ہے۔ جب طوفان اٹھ رہے ہوں اور جہاز پانی کے تھپیڑوں میں گھرا ہو، اس وقت بڑے صبرو تحمل کا کام ہے اور جب اللہ نے اس کشمکش موت وحیات سے صحیح وسالم نکال دیا تو ضروری ہے کہ اس کا احسان مانے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 31 اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْکَ تَجْرِیْ فِی الْْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰہِ لِیُرِیَکُمْ مِّنْ اٰیٰتِہٖ ط ” یعنی یہ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ دریاؤں اور سمندروں میں کشتیاں اور بڑے بڑے جہاز ہزاروں ٹن وزنی سازو سامان اٹھائے رواں دواں ہیں۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ” صَبَّار ‘ فَعَّال کے وزن پر اور شَکُوْر ‘ فَعُوْل کے وزن پر مبالغے کے صیغے ہیں ‘ یعنی بہت زیادہ صبر کرنے والا اور بہت زیادہ شکر کرنے والا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

42 کشتیوں اور جہازوں کے سطح آب پر چلنے میں اللہ کی کئی نشانیاں اور مہربانیاں ہیں۔ پانی کی یہ خاصیت ہے کہ وہ ہر چیز کو اوپر کی اٹھاتا ہے۔ بالفاظ دیگر پانی میں ہر چیز کا وزن ہوا میں وزن کی نسبت کم ہوتا ہے اور یہ کمی کسی چیز کے حجم کے برابر پانی کے حجم کے مطابق ہوتی ہے۔ یہی وہ طبیعی قانون ہے جس کے باعث انسان سمندر پر کشتیاں اور جہاز چلانے پر قادر ہوسکا ہے۔ پھر سمندر میں تلاطم خیز موجیں اور آندھی کے طوفان انسان کو ہلاکت سے فوراً دوچار کرسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں سمندر میں اتنی عظیم الجثہ مخلوق موجود ہے جو ایک ٹکر ہی کشتیوں اور جہازوں کو ڈبو سکتی ہے۔ یہ بس اللہ کی خاص مہربانی ہی ہوتی ہے کہ انسان اکثر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

33۔ اتھاہ اور بےپناہ جوش مارتے ہوئے سمندر پر انسان جیسے مشت خاک کو قدرت دینا اسے اتنی عقل وفہم سے بہرہ ور کرنا کہ وہ لکڑی کے تختوں کو جوڑ جاڑ، اور ان میں کیلیں ٹھونک ٹھانک اور ہوا اور بھاپ اور بجلی کی قوتوں سے کام لے کر چھوٹی بڑی کشتیاں اور آبدوزیں اور اسٹیمر اور لائنیر اور ڈریڈ ناٹ وغیرہ تیار کرسکے۔ اور ان کے ذریعہ سے سینکڑوں نہیں، ہزاروں میل کے فاصلے شدید خطرات وموانع کے باوجود طے کرتا رہے، اور بحری تجارت و سیاحت سے عظیم الشان نفع حاصل کرتا رہے، یہ سب فضل الہی (نعمۃ اللہ) ہی کے حکم میں داخل اور اس کی قدرت، رحمت، حکمت کی نشانیوں کے مشاہدہ ہی کیلئے ہیں۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی اس فضل خداوندی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–34

آیت نمبر 31 تا 34 ترجمہ : کیا تم اس پر غور نہیں کرتے کہ دریا میں کشتیاں اللہ کے فضل سے چلتی رہتی ہیں تاکہ اے مخاطبو ! اس کے ذریعہ تم کو اپنی (قدرت) کی نشانیاں دکھا دے یقیناً اس میں اللہ کی معصیت سے ہر صبر کرنے والے اور اس کی نعمتوں کا شکر کرنے والے کے لئے عبرت کی نشانیاں ہیں اور جب ان پر یعنی کفار پر موجیں ایسے پہاڑوں کے مانند چھا جاتی ہیں جو ہر اس شئ پر جو اس کے زیر سایہ آجائے سایہ فگن ہوجائیں، تو نہایت خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ ہی سے دعاء کرنے لگتے ہیں کہ ان کو (غرق) سے نجات دے یعنی (اس وقت) اس کے ساتھ غیر اللہ کو نہیں پکارتے پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف پہنچا دیتا ہے تو کچھ ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم تر ان الفک تجری فی البحر بنعمت اللہ لیریکم من ایتہ . کیا آپ کو نہیں معلوم کہ سمندر میں کشتیاں اللہ کے کرم سے چلتی ہیں تاکہ اللہ تم کو اپنی قدرت کی کچھ نشانیاں دکھا دے۔ ا اللہ کی قدرت و کرم کے عموم پر یہ دوسری دلیل ہے۔ نعمت سے مراد ہے احسان یعنی اللہ کا یہ کرم کہ اس نے اسباب نعمت فراہم کر دئیے۔ مِنْ اٰیَاتِہٖ میں مِنْ تبعیضیہ ہے یعنی سمندر کے اندر بعض عجائب قدرت۔ ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور . بیشک اس میں ہر ایسے شخص کے لئے جو صابر و شاکر ہو ‘ بہت نشانیاں ہیں۔ صَبَّارٍ سے وہ شخص مراد ہیں جو آفاق اور انفس (یعنی اندرون و بیرون یا اپنی ذات اور سارے جہاں) کا گہرا مطالعہ کرتا ہے اور اس سوچ وچار…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے مخاطب کیا تمہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ کشتیاں اللہ ہی کے فضل سے چلتی ہیں تاکہ وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے۔ اس میں ہر ایک ایسے شخص کے لیے دلائل قدرت ہیں جو اس کی اطاعت پر ثابت قدم اور اس کی نعمتوں پر شکر گزار ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ۔۔ : اس سے پہلے اللہ نے ”اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ“ میں اور ”اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُوْ لِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ۔۔“ میں اپنی بعض نعمتوں کی طرف توجہ دلائی، اب ”اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ“ میں سمندر میں چلنے والے جہازوں کی نعمت کی طرف متوجہ فرمایا۔ یعنی کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کشتیاں اور بحری جہاز سمندر میں محض اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے احسان کی بدولت چل رہے ہیں ؟ کیونکہ اگر اس کا احسان نہ ہو تو پانی جو ایک سوئی نہیں اٹھاتا بلکہ غرق کردیتا ہے، پہاڑوں جیسے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 30–31

الم تر ان الفلک، فلک سے مراد کشتیاں ہیں۔ تجری یہ جملہ خبر بن رہا ہے۔ فی البحر بنعمت اللہ تم پر جو وہ مہربانی فرماتا ہے اور تم پر جو رحمت فرماتا ہے کہ تمہیں اس سے خلاصی عطا فرماتا ہے۔ ابن ہرمز نے بنعمات اللہ قراءت کی۔ یہ نعمۃ کی جمع ہے اس کا معنی سلامتی ہے۔ اصل یہ تھا کہ عین کو حرکت دی جاتی پھر اسے ساکن کردیا گیا۔ لیریکم من ایاتہ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی جو نشانیاں تم دیکھتے ہو۔ نقاش نے کہا : اللہ تعالیٰ انہیں جو رزق عطا فرماتا ہے (1) ۔ حضرت حسن بصری نے کہا : سمندر کی چابیاں کشتیاں ہیں اور زمین کی چابی راستے ہیں اور آسمان کی چابی دعا ہے (2) ۔ آیت ان فی ذلک لایت لکل صبار شکورجو آدمی اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–33

1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ماخلقکم ولا بعثکم ال اکنفس واحدۃ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے فرمائیں گے ہوجا پس وہ ہوجائے گا تھوڑا ہو یا زیادہ۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ماخلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا پہلی بار سارے لوگوں کا پیدا کرنا اور ان کا دوبارہ زندہ کرنا ایک جان کے پیدا کرنے اور اس کو دوبارہ زندہ کرنے کی طرح ہے اور فرمایا آتی الم تر ان اللہ یولج الیل کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ داخل کرتا ہے رات کو دن یعنی رات کا کم ہونا اور دن کا زیادہ ہونا آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلَمْ تَرَ [کیا تو نے غور نہیں کیا ] اَنَّ الْفُلْكَ [کہ کشتی ] [تَجْرِيْ : چلتی ہیں ] [فِي الْبَحْرِ : سمندر میں ] بِنِعْمَتِ اللّٰهِ [اللہ کی نعمت (یعنی فضل) سے ] لِيُرِيَكُمْ [تاکہ وہ کھائے تم لوگوں کو ] مِّنْ اٰيٰتِهِ ۭ [اپنی نشانیوں میں سے (کچھ)] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [یقینا نشانیاں ہیں ] لِّكُلِّ صَبَّارٍ [ہر ایک کثرت سے تحمل کرنے والے کے لئے ] شَكُوْرٍ [بہت شکر کرنے والے کے لئے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–32

سمندر میں کشتیوں کا چلنا اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، مشرکین کو جب موج گھیر لیتی ہے تو اخلاص کے ساتھ دعا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام بیان فرمایا ہے کہ سمندر میں جو کشتی چلتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و انعام ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ دیکھو آدھا تولہ لوہا سمندر میں ڈالو تو اسی وقت ڈوب جائے گا اور سو من کی لکڑی جو کشتی کی صورت میں ہے وہ نہیں ڈوبتا، یہ کشتیاں ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک لے جاتی ہیں، سامان لاتی ہیں، ضرورت کی چیزیں ان کے آنے جانے کی وجہ سے فراہم ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے انہیں ہواؤں کے تھپیڑوں کے ذریعہ اس حال میں کردیتا ہے کہ ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–32

ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

30:۔ الم تر الخ، یہ توحید پر ساتویں عقلی دلیل ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی رحمت شاملہ سے ہماری کشتیاں دریاؤں اور سمندروں میں صحیح سلامت سفر کرتی ہیں اس میں ہر صابر و شاکر بندے کے لیے عبرت ہے اور اس میں اللہ کی وحدانیت کا واضح نشان موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری کشتیوں کو صحیح سلامت کنارے لگا کر ہمیں اپنی وحدانیت اور قدرت کاملہ کا مشاہدہ کرانا چاہتا ہے لیریکم من ایتہ ای بعض دلائل الوہیتہ تعالیٰ ووحدتہ سبحانہ و قدرتہ جل شانہ و علمہ عز وجل (روح ج 21 ص 105 و ابو السعود ج 6 ص 746) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 31–33

رابطہ آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان کئے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے پہلے تخلیق کا مسئلہ سمجھایا اور اس کو الوہیت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ۔ جب خالق اللہ کے سوا اور کوئی نہیں ، واجب الوجود اور مدبر بھی وہی ہے تو پھر عبادت بھی اسی کی ہونی چاہئے ، پھر اس میں دوسروں کو کیوں شریک بناتے ہو ۔ ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رات ، دن ، سورج اور چاند کے تغیرات کا سلسلہ بیان فرمایا کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے دست ِ قدرت میں ہیں ، خدا تعالیٰ کا علم اور قدرت لامحدود ہیں اس کی مثال اس طرح بیان کی گئی کہ اگر روئے زمین کے تمام درخت اور پودے قلمیں بن جائیں اور ہفت اقلیم کے سمندروں کے پانی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رکوع نمبر 13 اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللہِ لِيُرِيَكُمْ مِّنْ اٰيٰتِہٖ۝ 0 ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ۝ 31 رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : بنعمت اللہ الباء متعلق تجری اے بسبب نعمۃ ویجوزان یکون حالامن ضمیر فی تجری فیکون الظرف مستقرا ای مصحوبۃ بنعمۃ اللہ، لیریکم علۃ لتجری من آیتہ الی بعض ایتہ الدالۃ علی قدرتہ کا لظلل جمع الظلۃ وھی ما اظلک من جبل اوسحاب ولامولود وعطف علی والد و یکون مابعدہ صفۃ لہ ویجوزان یکون مبتداً وان کان نکرۃ لانہ فی سیاق النفی ومابعدہ الخبر و علی الثانی فایرا دالجملۃ الاسمیۃ للتوکید و قد انضم الی ذلک قولہ ھو وقولہ مولود دون ان یقول ولا ولد لان الوالدیقع علی ولد الولد ایضا بخلاف المولود لانہ یطلق علی الا بن خاصۃ ومن شانہ ان یکون جازیاً عن والدہ لماعلیہ من الحقوق۔ لایجزی لایقضٰی عنہ مالزمہ من الغرامۃ۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْکَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰہِ لِیُرِیَکُمْ مِّنْ اٰیٰـتِہٖ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّـکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ۔ (لقمان : 31) (کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کرائے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لیے۔ ) گزشتہ مضمون پر ایک تمثیل اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا ذکر ہورہا ہے اسی مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے چند اور نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اندازِخطاب وہی اختیار کیا گیا ہے جو سابقہ آیت میں تھا۔ جس میں زور بھی ہے اور تاکید بھی۔ فرمایا تم کشتی یعنی بحری…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–32

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک اور بڑی دلیل جس سے فائدہ اٹھانے کے باوجود لوگ شرک سے توبہ نہیں کرتے۔ قرآن مجید اس بات کی طرف کئی بار توجہ دلاتا ہے کہ سمندروں میں سفر کرنے والے مسافرو ! اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دیکھو اور غور کرو کہ یہ تمہارے رب کا کتنا عظیم کرم ہے کہ تم سمندروں میں اس طرح سفر کرتے ہو جیسے خشکی پر۔ اگر غور کرو تو تمہیں احساس ہوگا کہ سمندر کا سفر تمہارے پیدل چلنے سے بھی آسان بنادیا گیا ہے۔ تم بحری جہازوں پر اس طرح بیٹھے سمندر کا نظارہ کرتے اور آپس میں خوش گپیاں مار رہے ہوتے ہو جیسے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہو۔ پھر غور کرو ! جس سمندر پر ایک قدم رکھو تو ڈوب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

31: اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْکَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ (کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کشتیاں سمندر میں) اللہ تعالیٰ کے بِنِعْمَتِ اللّٰہِ (فضل سے چلتی ہے۔ ) قراءت : الفُلْکَ کو الفُلُک بھی پڑھا گیا ہے۔ ایک کلیہ : اس کے لئے قانون یہ ہے کہ ہر وہ لفظ کہ جو فُعْلٌ کے وزن پر ہو اس کے عین پر ضمہ جائز ہے جیسا کہ فُعُلٌ کو فُعْلٌ پڑھنا جائز ہے۔ نعمت اللہ ؔ کا معنی احسان و رحمت ہے یا ہوا کی نعمت سے تعبیر کیا کیونکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ہے۔ لِیُرِیَکُمْ مِّنْ ٰایٰتِہٖ (تاکہ وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے) سمندر میں اپنی قدرت کے عجائبات دکھائے جب تم سمندر میں سفر کرو۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 31–32

31، الم تران الفلک تجری فی البحر بنعمۃ اللہ، بیشک تمہارے اوپر اللہ کی نعمت ہے۔ ، لیریکم من آیاتہ، اس کے عجائب میں سے۔ ، ان فی ذلک لایات لکل صبار، اللہ کے حکم پر ، شکور ، اپنی نعمتوں پر شکر کرنے والے ہیں ۔ بادل ہیں ۔ ظل جمع ہے۔ ظلۃ، کی اس کو موج کے ساتھ تشبیہ دی کثرت اور بلندی کی وجہ سے ۔ موج کو واحد بنایا جیسے ظل کو جمع بنایا کیونکہ موج ایک کے بعد دوسری آتی ہے۔ ، دعوا اللہ مخلصین لہ الدین فلما نجاھم الی البر فمنھم مقتصد، جب اللہ ان کو بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو انہوں نے سمندر میں اللہ سے جو وعدہ کیا ہوتا ہے توحید کا کہ وہ ایمان پر ثابت قدم رہیں گے۔ عکرمہ کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے وقت حضرت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 28–32

28 تا 32۔ مطلب یہ ہے کہ ساری مخلوقات کا پیدا کرنا اور بعد مرنے کے پھر اس کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ کی قدرت کے سامنے کچھ مشکل نہیں ہے بلکہ اس کی ایسی مثال ہے جیسا کہ ایک جان پیدا کرنا اور جلانا ہے کس لیے کہ سب کا موجود کرنا فقط کن کے کہنے سے ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا انما امرہٗ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قادر مطلق جب ارادہ کرتا ہے کسی شے کا تو فرماتا ہے ہوجا وہ ہوجاتی ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ سننے والا ہے سب کے قولوں کا اور دیکھنے والا ہے سب کے عملوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ حشر کے منکر جو باتیں کرتے ہیں اور حشر کو جھٹلا کر جس طرح کے کاموں میں مصروف ہیں ان سب کی اللہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 31–32

آیت نمبر : 32 ۔ 31 کیا تو نے اللہ تعالیٰ کی قدرت ‘ اس کی رحمت اور اپنے بندوں پر اس کی عنایت کے آثار نہیں دیکھے ؟ اس نے سمندر کو مسخر کیا جس میں اس کے حکم قدری اور اس کے لطف و احسان سے کشتیاں چلتی ہیں۔ (لیریکم من ایتہ) ” تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے۔ “ ان نشانیوں میں نفع اور عبرت ہے۔ (ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور) ” بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔ “ پس یہ وہ لوگ ہیں جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں ‘ وہ ہر تکلیف پر صبر کرتے ہیں اور خوشی پر شکر کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو چھوڑ کر اس کی اطاعت پر صبر کرتے ہیں۔ وہ اس کی قضا و قدر پر صبر کرتے اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 20–33

آخرت میں نسب کی بجائے عمل کام آئے گا قول باری ہے (واخسوا یوما لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا۔ اور اس دن کا خوف رکھو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ ہوسکے گا اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی بدلہ بن سکے گا) آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی کو اس کے باپ یا نسب کے شرف کی بنا پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو چھوڑ کر کسی ایک کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔ اس مضمون میں حضور ﷺ سے روایت بھی وارد ہے۔ آپ کا ارشاد ہے (من ابطابہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ۔ جس شخص کا عمل اسے سست کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔ ) آپ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 30–31

61 سمندر میں چلتے بحری جہازوں اور کشتیوں میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تم نے غور نہیں کیا کہ یہ کشتیاں اور بحری جہاز کس طرح رواں دواں ہیں سمندر میں اللہ کے فضل و کرم سے ؟ "۔ کہ جس پانی کی سطح پر ایک چھوٹا سا کنکر بھی نہیں ٹک سکتا اس پر ہزاروں ٹن وزن کے یہ دیوہیکل جہاز کس طرح رواں دواں ہیں ؟ اور اتنے وزن کا لوہا کس طرح پانی پر دوڑے چلا جا رہا ہے ؟ پہاڑوں جیسی طوفان خیز موجوں کو کس طرح دبایا اور زیر کیا جاتا ہے ؟ کیسے کیسے طوفانوں سے سابقہ پڑتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور جس ذات نے انسان ضعیف البنیان کو اس قدر عقل و خرد، سمجھ بوجھ اور قوت و طاقت سے نوازا وہ کس قدر وہاب و کریم اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–34

اللہ اور اس کا علم ہی کامل ہے تشریح : ان آیات میں اللہ کی قدرتوں میں سے ایک بہت بڑی قدرت کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ سائنسی معجزہ بھی ہے کہ اتنی بھاری بھر کم کشتیاں جن میں بوجھ ہوتا ہے مگر اللہ کی قدرت کہ وہ پانی کے اوپر تیرتی رہتی ہیں اور انسان کے ذرائع آمدورفت اور تجارت کا بہت بڑا وسیلہ ہے۔ اب تو اس صنعت میں حیرت انگیز ترقی ہوچکی ہے مگر بنیادی بات تو یہی ہے کہ پانی ہی کشتی کے چلنے کا، تیرنے کا سبب ہوتا ہے۔ مگر انسان انتہائی ناشکری مخلوق ہے جب کبھی سمندر اور لہروں کے طوفان میں پھنس جاتا ہے مطلب یہ کہ مصیبت میں پھنستا ہے تو اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے لیکن جونہی مصیبت ٹلتی ہے اللہ سے غافل ہوجاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–34

آیات 31 تا 34 اسرارومعارف اے مخاطب کیا تو نہیں دیکھتا کہ بہت بڑے بڑے جہاز کتنے گہرے سمندروں میں تیرتے پھرتے ہیں اللہ کی نعمتیں لادے ہوئے اور بندوں کے لیے رزق کے وسائل لے کر یہ سب عقل تمہیں اس لیے عطا ہوئی ہے کہ اللہ کی عظمت سے آشنا ہوسکو جس نے پانی اور لکڑی کو یہ خصوصیات دیں اور تمہیں یہ شعور بخشا مگر یہ سب ایسے لوگوں کی سمجھ میں ہی آسکتا ہے جو ذرا تحمل مزاج اور جذبہء شکر رکھنے والے ہوں ورنہ تو جب سمندری لہریں اٹھی ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے کوئی بادل بڑھتا آرہا ہو تو یہ سب لوگ بڑے خلوص سے صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں اس وقت کوئی اللہ کے بغیر سوجھتا ہی نہیں اور جب اللہ انہیں طوفانوں سے بچا کر زمین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 یعنی تم دو دراز سمندروں میں سامان تجارت لے کر سفر کرتے ہو۔ اگر جہاز رانی کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ اسباب و وسائل پیدا نہ کئے ہوتے تو یہ بحری سفر ممکن نہ ہوتے۔13 یعنی مومن کے لئے جو مصیبت و تنگدستی میں صبر اور فراخی و خوشحالی میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر کرتا ہے مشرک کی حالت اس کے برعکس ہے کہ برا وقت پڑے تو وہ اللہ کے سامنے گڑ گڑانے لگتا ہے اور اچھا وقت آئے تو سب کچھ بھول جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(31:31) صبار : صبر سے فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بڑا صبر کرنے والا۔ بڑا تحمل کرنے والا۔ شکور۔ بڑا شکر گزار۔ بڑا احسان ماننے والا۔ شکر سے فعول کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ جب اس کا استعمال خدا تعالیٰ کی صفات میں ہو تو اس کے معنی ہوں گے ! بڑا قدردان تھوڑے کام پر زیادہ ثواب دینے والا۔ شکر یشکر (نصر) سے مصدر بھی ہے شکور یہاں مومن کی صفت میں سبار شکور آیا ہے کہ وہی صفات صبروشکر میں کامل ہوتا ہی ان دو صفات کی تخصیص اس پر موقعہ پر اس لئے ہے کہ بحری سفر و سیاحت میں ان دونوں صفات کے ظہور کا موقع خوب ہوتا ہے (الماجدی)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 31–34

لغات القرآن آیت نمبر (31 تا 34) ۔ صبار (بہت صبر کرنے والا) ۔ شکور (شکر ادا کرنے والا) ۔ ظلل (ظل) (سائے) ۔ مقتصد (سنبھل کر چلنے والا۔ اعتدال پسند آدمی) ۔ لا یجزی (کام نہ آئے گا۔ بدلہ نہ دے گا) ۔ مولود (پیدا کیا گیا (بیٹا) ۔ لاتغرن ( ہرگز تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے) ۔ الغرور (دھوکہ۔ فریب) ۔ الساعتہ (گھڑی۔ قیامت) ۔ الغیث (بارش) ۔ الارحام (رحم) (پیٹ) ۔ ماتدری (نہیں جانتا) ۔ غدا (کل صبح۔ آئندہ صبح) ۔ تشریح : آیت نمبر (31 تا 34) ۔ ” اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی کشتیوں اور جہازوں کا ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک حفاظت سے پہنچنا ہے۔ “ سمندر یا دریا میں جو چیز ڈالی جاتی ہے وہ عام طور پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–31

توحید کابیان۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا دریا میں کشتیاں چلتی ہیں تاکہ تم اپنی قدرت کی نشانی دکھائے کہ دریا کہ تمہارا تابعدار بنادیا ہے یہ اس کی مہربانی ہے اگر اللہ تعالیٰ پانی میں یہ طاقت پیدا نہ کرتا کہ کشتی اٹھائے تو کبھی پانی پر کشتیاں نہ چلتیں، پھر فرمایا اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے، شکر کرنے والے کے لیے ، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کے شکرگزار ہیں اور خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور تکلیف پر صبر کرتے ہیں تو یہ صفتیں مومن کی ہیں ، ایسوں کے لیے اللہ کی قدرت کی باتوں میں بڑی نشانیاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[16] یعنی ایسی نشانیاں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اختیارات صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ انسان خواہ کیسے ہی مضبوط اور موزوں جہاز بنائے اور جہاز رانی سے متعلق کتنا ہی علم حاصل کرے لیکن جب سمندر کی ہولناک طاقتوں سے اس کا سابقہ پڑتا ہے تو ان کے مقابلے میں صرف اپنی فنی معلومات اور تدابیر پر بخریت سفر نہیں کرسکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم شامل حال نہ ہو۔ [17] یعنی بحری سفر کے احوال و حوادث میں غور کرنا انسان کو صبروشکر کے مواقع بہم پہنچاتا ہے۔ جب طوفان اٹھ رہے ہوں اور جہاز سمندر کے تھپیڑوں میں گھرا ہوا ہو اس وقت بڑے صبر و تحمل کا کام ہے۔ اور اگر اللہ نے اس کشمکش موت وحیات سے صحیح وسالم نکال دیا تو…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–32

سمندر بہت بڑی نعمت ہے 1: سمندر پہلے صرف پانی کا ایک اٹھاہ ذخیرہ تھا اس کے بعد اس میں کشتیاں چلنے لگیں اور تجارت کے غیر معلوم دروازے کھلے اور پھر اس کو اقتصادی دنیا میں بہت بڑی اہمیت حاصل ہوگئی ۔ چناچہ آج جس کے پاس بحری قوت زیادہ ہے ۔ وہ سب سے زیادہ خوشحال ہے اور سب سے زیادہ مضبوط ہے قرآن حکیم نے آج سے چودہ سو سال پیشتر سمندر کی سیاسی اور اقتصادی اہمیت کا ان الفاظ میں ذکر کیا ہے کہ ان فی ذالک لایات لکل صبار شکور کو سمندر کے فوائد ان لوگوں پر ظاہر ہوں گے جو مصائب کو برداشت کرینگے اس کی مواج اور متلاطم لہروں سے متصادم ہوجانے کی سکت رکھتے ہوں ۔ اس کی گہرائیوں اور وسعتوں سے ڈر نہ جائیں جو اس کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

31۔ اے مخاطب کیا تو نے توحید کی اس دلیل پر غور نہیں کیا کہ سمندر میں اللہ تعالیٰ ہی کی نعمت اور اس کے فضل ہی سے جہاز چلتے ہیں تا کہ وہ تم کو کچھ اپنی قدرت کی نشانیاں مشاہدہ کرائے یقینا اس امر مذکور یعنی جہاز رانی اور بحری سفر میں ہر سفر کرنیوالے شکر بجا لانے والے کیلئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں ۔ یعنی یہ بات غور کرنے کی ہے کہ مسافروں سے اور مال سے بھرے ہوئے جہاز کس طرح سمندروں کو چیرتے پھاڑتے چلے جاتے ہیں اور تم اللہ کے فضل اور اس کے احسانات سے کس طرح سود مند ہوتے ہو ۔ یہ اس کی قدر ت کی کتنی بڑی نشانی ہے اس نے اس لئے یہ احسان کیا ہے تا کہ تم کو اپنی توحید اور اپنی قدرت کے دلائل سے روشناس کرائے ۔…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قدرت الہی کے مزید دلائل جن کو ہر آدمی مشاہدہ کرسکتا ہے : 31۔ کیا زندگی میں تم کبھی کشتی میں سوار ہوئے یا نہیں ؟ چلو سیر کے بہانے ہی سہی ‘ غور کیا تم نے کہ سمندر کیا ہے ؟ اس کی وسعتوں پر کبھی نظر کی ‘ اس کی گہرائیوں کے متعلق کبھی سوچا پھر اس کے اندر وہ مناظر جو حسین بھی ہیں اور جان کا خطرہ بھی جب اس میں پہاڑوں کی طرح اٹھنے والی موجیں اٹھتی ہیں اور قدم قدم پر حلقہ ہائے گرداب نظر آتے ہیں اور پھر اس میں پانی کا جہاز سینکڑوں نہیں ہزاروں انسانوں کو بٹھائے پانی کی پشت پر لئے جا رہا ہوتا ہے اس کے دامن میں لاکھوں ٹن سامان سمیٹا ہوتا ہے اور وہ بپھری ہوئی لہروں سے آنکھ موں لی کر رہا ہوتا ہے کبھی گردابوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–33

Commentary In the first of the two verses cited above, the address is to common people, believing and disbelieving both. They have been served with a notice that they will face Allah and be accountable before Him for their deeds on the day of Judgment and that they should be prepared for it. It was said: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَ‌بَّكُمْ ( O people, fear your Lord - 33). At this place, the text has not gone by the name of Allah Ta'ala or His some other attribute. Instead of that, it has elected to mention the attribute of Rabb (master, sustainer of all, usually translated as Lord with…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

55 That is, "Such Signs as show that aII powers rest only with Allah. Man may make as strong and suitable ships for his sea journeys as he likes, and may achieve whatever perfection in marine science and in the related knowledge and experience, these by themselves cannot avail him anything to perform safe voyages especially when confronted by the terrible forces at the sea, unless he is succoured by the grace of Allah. As soon as Allah's grace is withdrawn, man immediately realizes how meagre and insufficient are the means and resources and knowledge of the sciences. Similarly, man in the…

Read the full tafseer →