Ayah 31:1الف ۔۔۔۔۔۔ لا ۔۔۔۔۔۔۔ م می ۔۔۔۔ حروف مقطعات میں سے ہے :
1۔ حروف مقطعات کی بحث سورة البقرہ کی پہلی آیت کے تحت گزر چکی ہے تفصیل وہاں سے معلوم کریں ۔ حروف مقطعات کل 39 سورتوں کے شروع میں آئے ہیں اور سورة لقمان سترہویں سورت ہے جن سورتوں کے شروع میں یہ حروف بیان ہوئے ہیں اور (الم) اس جگہ پانچویں دفعہ آیا ہے ۔ البقرہ ‘ آل عمران ‘ العنکبوت ‘ الروم ‘ اور زیر نظر سورت لقمن پر ۔
Ayah 31:2یہ حکمت والی کتاب کی آیات ہیں جو بیان کی جا رہی ہیں :
2۔ (الحکیم) اس جگہ ال کتاب کی صفت کے طور پر آیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کریم وہ کتاب ہے جس کا فیصلہ دو ٹوک اور بےلاگ ہوتا ہے اگر تم سچائی پر ہو تو بلاشبہ اس کا فیصلہ تمہارے حق میں ہے خواہ تم کون ہو اور کہاں اور اگر تم راہ حق سے روگرداں ہو تو وہ یقینا تمہاری غلطی سے تم کو آگاہ کرے گا خواہ تم کون ہو اور کہاں ہو کیونکہ وہ ہمیشہ سچائی کا ساتھی ہے اور ہر حال میں اس کی حیثیت یہی ہے ایسا ممکن نہیں کہ ایک آدمی کے پاس دس سچائیاں ہیں لیکن ایک بات ایسی ہے جو سچی نہیں اور دوسرے کے پاس ایک سچائی ہے اور دس باتیں اس کی سچی نہیں ہیں تو قرآن کریم یہ نہیں کرے گا کہ دس سچائیوں والے کی ایک بات جو سچی نہیں اس کو بھی سچائی قرار دے دے اور نہ ہی وہ ایسا کرے گا کہ جس شخص کی دس باتیں سچی نہیں اس کی ایک سچائی کو بھی جھٹلا دے ۔ یہ ممکن ہی نہیں اور یہ وہ خوبی ہے جو اس کلام معجزانہ میں بدرجہ اتم موجود ہے اور اس کے سوا شاید ہی کسی کلام مین یہ خوبی موجود ہو اور یہی وہ حکمت ہے جو اس کتاب کے لئے مخصوص صفت کے طور پر استعمال ہوئی ہے یہ اتنا بڑا کمال ہے کہ ایسا کمال کسی دوسری جگہ دیکھنے میں نہیں آتا اور بلاشبہ یہی صفت نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کے اندر کامل اور مکمل طور پر پائی جاتی ہے ۔ آپ صیں اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم یہی ہے کہ اگر مجسمہ برائی میں کوئی ایک بات بھی ایسی ہے جس کو برائی نہیں کہا جاسکتا تو آپ ﷺ نے اس کو برائی نہیں کہا بلکہ اس کی اچھائی کا اعتراف کیا حتی کہ شیطان جیسا شریر بھی اگر کوئی سچی بات کہہ دے تو اس کی شرارت کے باعث آپ ﷺ نے اس کو جھوٹی بات قرار نہیں دیا کہا تو زیادہ سے زیادہ یہ کہا کہ بلاشبہ شیطان شریر ہے لیکن یہ بات اس نے سچی کی ہے احادیث میں اس کی وضاحت موجود ہے ، قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کا منشا بھی یہی ہے کہ لوگ اس حقیقت کو اپنائیں اور سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ تسلیم کریں بلاشبہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام جھوٹ سے پاک ہے اگر کوئی جھوٹ اس کی طرف منسوب کیا گیا اگر کوئی جھوٹی بات کسی نبی اور رسول کی طرف منسوب کی گئی ہے تو یہ منسوب کرنے والے کی غلطی ہے اس لئے اس کا رد ہر حال میں ضروری ہے لیکن ہمارے مفسرین نے اس بات کا خیال نہیں کیا اس لئے وہ بعض اوقات حق سے بہت دور نکلتے ہوئے نظر آتے ہیں ہم ان کو بزرگ مانتے ہیں لیکن ان کی اس غلطی کو غلطی کہنا بھی ضروری سمجھتے ہیں اس لئے برملا کہہ دیتے ہیں اور قرآن کریم کی یہ آیت اور اس جیسی دوسری آیات ہی ہم کو ایسا کرنے پر واضح اشارہ کرتی ہیں اور انہی کے پیش نظر ہم کسی بزرگ کی بزرگی کو ایسی اہمیت نہیں دیتے جو محض اللہ اور اس کے رسول کے لئے مخصوص ہے اگر آپ نے بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا تو بلاشبہ حکمت میں سے خاصا حصہ آپ کو مل گیا اور اس بات کا جتنا شکریہ ادا کرو اتنا ہی کم ہے کیونکہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم کے علاوہ میسر نہیں آتی ۔
Ayah 31:3بلاشبہ یہ کتاب نیکوکاروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے خواہ وہ کسی دور میں ہوں :
3۔ قرآن کریم کیا ہے ؟ فرمایا سراسر ہدایت اور رحمت ہے لیکن اس ہدایت اور رحمت سے جو لوگ استفادہ کرتے ہیں وہی نیکو کار ہوتے ہیں وہی اس سے استفادہ حاصل کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ طوطے کی طرح کسی چیز کو رٹ دینا استفادہ نہیں کہلاتا اور یہ بھی کہ نیکوکار اس کو نہیں کہتے ہیں جس میں کوئی ایک بات نیکی کی بھی پائی جاتی ہو بلکہ نیکوکار وہی ہیں جو برائیوں کے قریب بھی نہیں بھٹکتے اور اگر کوئی بھول سرزد ہوجاتی ہے تو وہ اس کو تسلیم کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے اور نہ ہی اس کی کوئی تاویل تلاش کرتے ہیں بلکہ بالکل سیدھے انداز سے اس کو تسلیم کر کے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کیبارگاہ میں سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور نہایت گڑ گڑا کر اپنی لغزش کی معافی طلب کرتے ہیں اور جب تک وہ معاف کرا نہیں لیتے وہ سخت بےچین رہتے ہیں ان کے چین کی علامت ہی یہ ہے کہ ان کی غلطی کی معافی ان کو مل گئی ہے اور وہ بلاشبہ وہی ہیں جن کو قرآن کریم نے اس جگہ محسنین کے خطاب سے نوازا ہے اور دوسری جگہ ان کو اور بھی خطاب دیئے گئے ہیں جیسے سورة البقرہ کے شروع میں ان کو متقین کا خطاب دیا گیا ہے اور پھر ان کی مزید صفات بھی گنوائی گئی ہیں ۔
Ayah 31:4یہ وہی ہیں جو نماز قائم کرتے ‘ زکوۃ ادا کرتے اور آخرت پر یقین لاتے ہیں :
4۔ محسنین کی تین علامتیں اس جگہ مزید بیان کی گئیں ہیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں ، نماز کے پڑھنے اور نماز کے قائم کرنے میں کیا فرق ہے ؟ اس کی وضاحت گزشتہ کئی ایک مقامات پر کی جا چکی ہے اور خصوصا سورة المومنون کی شروع کی آیات میں اس کی بہت وضاحت بیان کی گئی ہے وہ زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اگر ان کے پاس اتنا مال جمع ہوجائے ورنہ وہ اتنا مال جمع ہی کب ہونے دیتے ہیں ۔ اصل حقیقت زکوۃ کی یہی ہے کہ مال کی محبت آخرت کے مقابلہ میں کم ہوجائے اور دل یقین پا جائے کہ جو مال رضائے الہی کے لئے دیا گیا وہی اصل مال ہے جو محفوظ ہے اور جو ہمارے پاس جمع ہے وہ کسی وقت بھی ضائع ہو سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی تیسری نشانی یا تیسری صفت جو اس جگہ بیان کی گئی وہ یہی ہے کہ وہ آخرت پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور اگر یہ تیسری صفت فی ولواقع حاصل ہوجائے تو اس کی پہچان ہی یہ ہے کہ نیکیوں کی طرف دوڑتے ہیں اور برائیوں سے ان کو فطری نفرت ہوجاتی ہے اور بلاشبہ یہ وہ کمال ہے کہ جس کو میسر آجائے تو وہ باکمال ہوجاتا ہے اور اس کو فی الواقع محسن کہنا صحیح اور درست ہوجاتا ہے اور فلاح بھی یقینا انہی محسنین کے حصہ میں آئے گی اور یہ وہی بات ہے جو سورة البقرہ کے شروع میں بیان کی جا چکی ہے ملاحظہ ہو عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 5۔
Ayah 31:5بلاشبہ یہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں اور یہی کامیاب ہونے والے ہیں :
5۔ زیر نظر آیت وہی ہے جو سورة البقرہ کی آیت 5 کے طور پر قبل ازیں گزر چکی ہے اور اتفاق دیکھئے کہ وہاں بھی اس آیت کا نمبر 5 ہے اور زیر نظر سورة لقمان میں بھی اس کو یہی نمبر ملا ہے ۔ (المفلحون) فلاح پانے والے ۔ قرآن کریم نے ان لوگوں کی اس صفت کو تیرہ بار ذکر کیا ہے بارہ بار (المفلحون) اور ایک بار (المفلحین) کا لفظ بولا گیا اور یہ تلفظ سورة القصص کی آیت 67 میں ذکر کیا گیا ہے جبکہ پہلا تلفظ سورة البقرہ کی آیت 5 میں آل عمران کی آیت 104 میں ‘ سورة الاعراف 7 کی آیت 8 ‘ 157 میں ‘ سورة التوبہ 9 کی آیت 88 میں ‘ سورة المومنون 23 کی آیت 202 میں ‘ سورة النور 24 کی آیت 51 میں ‘ سورة الروم 30 کی آیت 38 ‘ سورة لقمان 31 کی آیت 5 میں ‘ سورة المجادلہ کی آیت 22 میں ‘ سورة الحشر کی آیت 9 میں اور سورة التغابن کی آیت 16 میں ملاحظہ کریں ۔
Ayah 31:6رسوا ہونے والے عذاب کے مستحق کون لوگ ہیں ؟ :
6۔ وہ کون ہیں جو فلاح پانے والے ہیں ؟ بلاشبہ وہ لوگ ہی ہیں یعنی انسان ہی ہیں لیکن انسانوں میں سے بعض انسان ایسے بھی ہیں جو فلاح و کامیابی کے کام کرنے کی بجائے ایسے کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں جو ان کو مقصد حیات سے غافل کردیتے ہیں تاکہ خود بھی سیدھی راہ نہ چلیں اور دوسروں کو بھی سیدھی راہ نہ چلنے دیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے ان کو روک دیں ۔ غور کرو کہ انسانی زندگی کیا چیز ہے ؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ نہایت ہی قیمتی چیز ہے اور اس کا ایک ایک لمحہ بہت قیمتی ہے اور اس کے قیمتی ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہ صرف اس دنیا میں ایک بار انسان کو عطا ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اس کے بدلے میں انسان کی آخری زندگی کے آرام و آسائش اور مصیبت ودکھ کا انحصار ہے کیونکہ اس سے جو نتائج مرتب ہوں گے انہیں نتائج پر آخرت کی زندگی کا سارا انحصار ہے کیونکہ یہ دارالعمل ہے اور وہ دارالجزا ہے جو کچھ اس زندگی میں انسان کرے گا اس کا رزلٹ اس کو وہاں ملے گا گویا انسان کی جنت اور دوزخ خود اس کے اعمال و عقائد ہیں کیونکہ انہی کے نتائج ہیں ۔ لیکن انسانوں کی اکثریت اس طرح سے بہت غافل ہے اور وہ اس غفلت سے نکلنے کے لئے تیار بھی نہیں ۔ زیر نظر آیت میں ان بیکار باتوں اور کاموں کو ” لھو الحدیث “ کہا گیا ہے جو کام انسان کو اپنے اندر اس قدر مشغول کرلیتے ہیں کہ باقی ساری باتوں کی طرف سے وہ غافل ہوجاتا ہے حالانکہ ان کاموں یا باتوں کا کوئی فائدہ بھی انسانی زندگی کے لئے نہیں نہ اس دنیا میں اور نہ ہی آخرت میں اور پھر انسان ان کاموں کی طرف سے غافل جو انسان کے لئے فائدہ مند اور مفید ہیں تو اس طرح گویا انسان دوہرے خسارے میں پڑگیا ایک بیکار کاموں اور باتوں میں مشغول ہونا اور دوسرا کار آمد اور مفید باتوں سے رک جانا ۔ اب غور کرو کہ چار یاری میں بیٹھ کر گپیں ہانکنا ‘ خرافات میں مبتلا ہونا ‘ ہنسی مذاق میں وقت ضائع کرنا ‘ فرضی داستانیں سنا سنا کر اپنے ذہن و دماغ کو گندہ کرنا ‘ افسانے اور ناول پڑھ کر خیالات کو منتشر کرنا ‘ گانا بجانا سن کر عیاش اور بےلگام ہونا ‘ سیکس کو بڑھانے والی باتوں میں مشغول ہو کر نہایت کار آمد قوتوں کو ضائع کرنا ‘ سب کا سب لھو الحدیث نہیں تو اور کیا ہے ؟ لیکن آج فی زماننا ہم مسلمانوں کے گھروں میں آخر ان میں سے وہ کونسی چیز ہے جو نیں و ہو رہی اور کون سا وہ گھر ہے جو اس میں مبتلا نہیں ہماری نوجوان نسل خواہ وہ ذکور ہے یا اناث کیا کر رہی ہے ؟ اگر آپ کو کسی قسم کا کوئی شک ہے تو آپ کسی طالب علم کے تکیہ کو ذرا ادھر ادھر سرک کر دیکھیں کہ نیچے کیا پڑا ہے ؟ ان کی مخصوصالماریوں اور طاقوں کو دیکھو کہ وہاں کیا کیا رکھا ہے ؟ کونسا وہ گھر ہے جس میں اس طرح کی ساری چیزیں کھلے بندوں دیکھی اور پڑھی نہیں جا رہی ہیں ۔
ایک کاغذ اور قلم ہاتھ میں پکڑ لیں اور خیالات کو سنوارنے والی چیزوں اور اخلاق کو بگاڑنے والی چیزوں کی ایک فہرست بنانا شروع کردیں ہاں ہاں ! اپنے ہی گھر سے شروع کریں جب سب کو نوٹ کرلیں تو اس فہرست پر نظر دوڑائیں کہ ان میں کتنی چیزیں ہیں جو اخلاق کو بگاڑنے والی ہیں اور کتنی ہیں جو اخلاقیات کو سنوارنے والی ہیں ۔ کیا اخلاق و عادات کا بگاڑ لھو الحدیث نہیں ہے اگر ہے تو ہمارے گھر میں اس وقت زیادتی کس چیز کی ہے ؟ اخلاق سنوارنے والی چیزوں کی یا اخلاق و عادات کو بگاڑنے والی چیزوں کی ؟ ہماری مفسرین اس جگہ لھو الحدیث کی وہ چیزیں تو بیان کرتے ہیں جو نزول قرآن کریم کے وقت میں قریش مکہ اور دوسرے لوگوں میں پائی جاتی تھیں اور آج زمانہ اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ ان باتوں اور چیزوں کا تصور بھی شاید ہی کسی ذہن میں رہ گیا ہو لیکن اس وقت لھوالحدیث کی بجائے نئی نئی لھوالحدیث کی چیزیں اور باتیں پیدا ہوگئی ہیں چونکہ ان نوزائیدہ باتوں اور چیزوں کا ذکر وہاں موجود نہیں ہے لہذا وہ ان کا نام لینے کے لئے بھی تیار نہیں تاکہ یہ نئی نسل ان کو گریبان سے نہ پکڑ لے اور پوچھنا شروع کر دے کہ ان چیزوں اور باتوں کو کہاں قرآن وحدیث میں بیان کیا گیا ہے جو تم ان کو بیان کرکے اپنا وقت ضائع کرتے ہو اور پھر یہ بھی کہ آج ان چیزوں سے منع کرنے والے خود ان کا شکار ہیں اس لئے وہ ان نئی لھوالحدیث کا آخر نام لیں گے تو کیوں ؟ اس وقت ہماری بدقسمتی کا یہ حال ہے کہ ہمارے علمائے کرام نے قرآن وحدیث کو اس طرح پیش کرنا شروع کردیا ہے کہ ان کو لھوالحدیث بنا کر رکھ دیا ہے اور ان کی حقیقت کو اس طرح مستور کردیا ہے کہ وہ ہم سے بالکل پردہ میں چلے گئے ہیں ۔ گویا ادرک جو باد کو مٹادینے والی چیز تھی اسی کو شاطروں نے باد بنا کر رکھ دیا اب وہ باد کو دفع نہیں کرتی بلکہ باد کو پیدا کر رہی ہے ، اور بلاشبہ یہی اللہ کی راہ سے خود دور ہونا اور دوسروں کو دور کرنا ہے اور جس چیز کا نام علم ہے وہ ہم سے اس قدر دور بھاگ گیا ہے کہ اس وقت ہم جہالت کو علم سے تعبیر کر رہے ہیں اور یہ سب ہماری مذہبی پیشواؤں کی مہربانی ہے کہ ان کے ناموں کے ساتھ مصنوعی ڈگریاں لگا دی گئی ہیں اور عوام کو ان ڈگریوں کے پڑھنے اور ادا کرنے پر لگا دیا گیا ہے کہ وہ ان ڈگریوں کا تلفظ سیکھیں اور فضیلۃ الشیخ کے رعب کے نیچے ایسے دب کر رہ جائیں کہ ان کو انسانوں سے کوئی ماورا شے سمجھیں اور ان کی طرف دیکھتے رہیں کہ ان کا لباس کیا ہے اور چال ڈھال کیسی ؟ اور یہ پاک باز جب کھانے پر چھوڑے جاتے ہیں تو اس کا کیا حشر کرتے ہیں اور ان کو سیٹھ لوگوں کے گناہوں کے ازالہ کے کیا کیا گر آتے ہیں جو یہ لوگ استعمال کرکے سارے وڈیروں کو گناہوں سے پاک کردیتے ہیں اور ان کو معلوم ہی نہیں ہے کہ یہ جو کاروبار انہوں نے شروع کر رکھا ہے اس کے نتائج کتنے ہولناک ہیں وہ لمحہ بھر کی عیش ونشاط کے لئے دوسروں کی دولت کو کس طرح سمیٹے چلے جا رہے ہیں ان کے نتایج کتنے ہولناک ہیں وہ لمحہ بھر کی عیش ونشاط کے لئے دوسروں کی دولت کو کس طرح سمیٹے چلے جا رہے ہیں اپنی آخرت کو کس طرح اپنے ہاتھوں برباد کر رہے ہیں اور اپنے رب کریم کی آتش غضب کو بھڑکا کر اپنی عاقبت بھی تباہ وبرباد کر رہے ہیں ۔ وہ تقوی وپرہیزگاری کی راہ پر چلنے والوں پر طرح طرح کے آوازے کستے ہیں ان کا مذاق اڑاتے ہیں بلاشبہ وہ خود بیوقوف ہیں لیکن دوسروں کو بیوقوف سمجھتے ہیں وہ دن کے اجالے میں راہ راست کو چھوڑ کر خارزاروں میں الجھتے پھر رہے ہیں مگر بیوقوفی کو رزوقی اور نادانی کی تہمت ان حقیقت شناسوں پر لگاتے ہیں جنہوں نے سچے دل سے حق کو قبول کیا ہے اور ہر قیمت پر حتی کہ جان کی بازی لگا کر بھی اس کا ساتھ دینے کا عزم صمم دل میں رکھتے ہیں ۔ (ویتخذھا) کی ھا کا مرجع سبیل ہے یہ مذکر اور مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے اور بہت سے ایسے اسم ہیں جو دونوں طرح استعمال ہوتے ہیں لیکن الجھاؤ پیدا کرنے والے انہیں باتوں میں آکر الجھاؤ پیدا کردیتے ہیں ، فرمایا جن لوگوں کی نشاندہی زیر نظر آیت میں کی گئی ہے یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کن عذاب ہے جس طرح کامیاب ہونے والوں کے لئے قرآن کریم نے (المفلحون) کا لفظ استعمال کیا ہے اسی طرح ناکام ہونے والوں کے لئے (عذاب مھین) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ اور (مھین) کا لفظ قرآن کریم میں دس بار استعمال ہوا ہے اور ہر بار ایسے ہی ناکام ہونے والوں کے لئے یہ لفظ بولا گیا ہے بلاشبہ ان مقامات کا مطالعہ بھی قارئین کے لئے مفید رہے گا اگر وہ سورة البقرہ کی آیت 90 ‘ سورة آل عمران کی آیت 178 ‘ سورة النساء کی آیت 14 ‘ سورة الحج کی آیت 57 ‘ سورة لقمان کی آیت 6 ‘ سورة سباء کی آیت 14 ‘ سورة الفرقان کی آیت 30 ‘ سورة الجاثیہ کی آیت 9 اور سورة المجادلہ کی آیت 5 ‘ 16 کا مطالعہ کریں اور اسی طرح (مھینا) کا لفظ بھی قرآن کریم میں چار بار استعمال ہوا ہے تین بار سورة النساء کی آیت 37 ‘ 102 اور 151 میں اور سورة الاحزاب کی آیت 57 میں اور اس لفظ کا استعمال بھی انہیں معنوں میں ہوا ہے جس معنوں میں مھین کا ۔
بلاشبہ جو لوگ اپنی قوم کو راہ حق سے بھٹکاتے ہیں اور اپنے نوجوانوں کے شہوانی جذبات کو مشتعل کرنے کے اسباب فراہم کرکے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں زندگی کی تلخ حقیقتوں اور سنگین ذمہ داریوں سے غافل کرکے انہیں عیش ونشاط کا خوگر بناتے ہیں ، ان کی حیاء وعفت کی چادر کو لطائف الحیل سے تار تار کرتے ہیں اور انہیں فسق وفجور کے بازار میں لا کر ننگا کھڑا کردیتے ہیں وہ کان کھول کر سن لیں اور اچھی طرح سمجھ لیں کہ یہ سودا انہیں بہت ہی مہنگا پڑے گا انہیں اس دنیا میں بھی اور اس آخرت کی زندگی میں بھی رسوا کن حالات سے دو چار کردیا جائے گا ۔
کاش ! میں مر گیا ہوتا کہ آج میں اپنے معاشرہ میں عریانی اور بےحیائی کا امڈ کر آتا ہوا سیلاب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ۔ وہ لوگ جو اس بات کا احساس رکھتے ہوئے اس کا نام لیتے ہیں وہ ایسے طریقے اپنا رہے ہیں کہ وہ خود اس سیلاب میں بہہ چکے ہیں ‘ وہ منہ سے شور لگاتے ہیں لیکن ان کے اعمال کی حالت ان سے بھی گر چکی ہے جن کو اس سیلاب میں بہتا ہوا دیکھ کر انہوں نے شور مچانا شروع کیا تھا آج ہماری زندگی سراسر لہو ولعب بنتی چلی جا رہی ہے ‘ سنجیدگی اور متانت کا عنصر تیزی سے ناپید ہو رہا ہے ‘ جاہ طلبی ‘ لذت کوشی اور زروسیم کی ہوس کی قربان گاہ پر ملی اور قومی مفادات کو بھینٹ چڑھا دینے ہمارے لئے کوئی مشکل نہیں ہمارے اہل قلم کی عظیم اکثریت ‘ ہماری فلم انڈسٹری ‘ شبینہ کلبیں ‘ ثقافتی تقریبات اور مینا بازار قیامت برپا کر رہے ہیں یہ سب کچھ کھلے بندوں بےروک ٹوک ہماری اس اسلامی مملک کے مسلمان حکام کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے نہیں وہ خود یہ سب کچھ کرا رہے ہیں اور ان تباہ کن عوامل کو حکومت کی سرپرستی اور حکام کی حمایت حاصل ہے یہ سوچ کر دل کانپ جاتا ہے کہ شاید ہم اپنے آپ کو عذاب مہین کے لئے تیار تو نہیں کر رہے ‘ ہماری نئی نسل کے ہاتھوں میں گیند اور بلا اس طرح پکڑا دیا گیا ہے کہ گویا ہماری دینی اور دنیوی کامیابی کا انحصار اسی پر ہے ۔
Ayah 31:7ہماری آیات کو سن کر منہ پھیر لیتا ہے گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں :
7۔ جن لوگوں کی کارستانیوں کے نتیجہ میں قوم کی آنے والی نسل دین و دنیا میں ناکام ہوتی چلی جا رہی ہے جو اس سارے بگاڑ کا اصل باعث ہیں چونکہ وہ قوم کے و ڈیرے ہیں اور قوم کی قسمت کے فیصلے بھی ان کے ہاتھ میں دے دیئے گئے ہیں ان کے سامنے جب یہ قرآن کریم کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور ان کا مفہوم ان کے سامنے رکھا جاتا ہے اور انہیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے کہ اللہ کے لئے اس نوخیز نسل پر رحم کرو ‘ اس پر ترس کھاؤ ‘ معاشرہ کے امن و سکون کو غارت نہ کرو ‘ اپنی فرعونیت کے نشہ میں اس قدر چور نہ ہوجاؤ کہ تم کو اپنے انجام اور اپنی قوم کے انجام کی خبر تک نہ رہے تو ان پر جو اثر ہوتا ہے وہ منفی ہی ہوتا ہے اور وہ غصہ کے ساتھ منہ پھیر لیتے ہیں اور دل میں ٹھان لیتے ہیں کہ یہ دقیانوسی ملاں ہیں ‘ نئی روشنی کا ان کو کچھ پتہ نہیں اس لئے یہ لوگ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں ‘ یہ قوم کے نوجوانوں کو ملاں بنانا چاہتے ہیں اور ان کے یہی نظریات دراصل ان کے کانوں میں ” وقر “ یعنی بوجھ بنتے ہیں اور جس جگہ یہ جا کھڑے ہوتے ہیں وہاں سے واپس آنا شاید ان کے بس کی بات ہی نہیں رہی ان کی نظریں یورپ پر لگی ہیں ‘ اپنے ملک کی کوئی چیز ان کو اچھی نہیں لگتی چونکہ ان کے نام کے مسلمانوں کے لئے ان کی مذہبی شناخت بھی اسلام ہی کے نام پر ہوتی ہے اس لئے وہ اسلام کو ماڈرن بنا دینا چاہتے ہیں اسلام کی وہ تصویر ان کو قطعا پسند نہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ نے بتائی اور سمجھائی تھی وہ امریکہ ‘ لندن ‘ فرانس ‘ جرمنی اور یورپ کے دوسرے ممالک سے اسلام لانے کے متمنی ہیں کہ جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں وہ عین اسلام ہے اور ہم اسلام کے داعی ہیں ۔ قرآن کریم نے آج نہیں آج سے چودہ سو سال پہلے ان کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ وہ ہیں کہ جب ان کے سامنے قرآن کریم کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ ان آیات سے اور ان آیات کے پڑھنے والوں سے اس طرح منہ پھیر جاتے ہیں گویا کہ انہوں نے ان کو سنا ہی نہیں گویا ان کے کانوں میں ایسا بوجھ ہے کہ ان کو کچھ سنائی ہی نہیں دیتا بلاشبہ ان کے لئے دردناک عذاب لازم ہے جس سے وہ کبھی نہیں سکیں گے ۔
Ayah 31:8ہاں ! وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل ہوئے ان کے لئے انعام و باغات ہیں :
8۔ ہاں ! جو لوگ اس زندگی میں ایمان لے آئیں جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی دی گئی ہدایات کے مطابق اپنی عملی زندگی ڈھال لیں تو بلاشبہ آخرت میں نعمت بھری جنتیں ان کے سپرد کردی جائیں گی اور بےدھڑک اور بےکھٹک ان میں جدھر چاہیں گے چلتے رہیں گے اور وہاں ان کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی کہ اب ان سے اختیار واپس لے لیا جا چکا ہوگا اور وہ قوت جو ان کو آوارہ گردی پر لگا دیتی تھی اب ان کے پاس موجود ہی نہیں ہوگی ۔
Ayah 31:9وہ ان باغات میں ہمیشہ رہیں گے یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو کبھی خطا نہیں ہوتا :
9۔ ایسا نہیں ہے کہ اہل جنت کو جنت میں داخل کرنے کے بعد پھر کبھی وہاں سے رخصت بھی کردیا جائے یا وہ وہاں سے کبھی نکلنا پسند ہی کریں ان کا آخرت کے باغات میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہنا یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور یہ بات پہلے معلوم ہے اور طے شدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کبھی خطا نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ خطا ہونے دیتا ہے وہ غالب آنے والا ہے اور بہت ہی دانا وبینا ہے ، جو اس نے وعدہ کیا ہے وہ بلاشبہ پتھر پر لکیر ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر وعدہ کا کوئی سچا ہو ہی نہیں سکتا ۔ ان باغات میں جو انعامات دیئے جائیں گے ان کی تصویر کشی قرآن کریم نے کئی ایک مقامات میں کردی ہے اور اس کی وضاحت بھی فرما دی ہے کہ یہ جو کچھ تم کو بتایا جا رہا ہے یہ محض تمہاری تفہیم کے لئے ہے ورنہ وہاں کی نعمتیں تو ایسی ہیں کہ ان کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ‘ کسی کان نے سنا نہیں اور کسی دل میں ان کا حقیقی تصور آجائے یہ بات ممکن ہی نہیں کیونکہ انسان صحیح طریقہ سے انہیں چیزوں کو بیان کرسکتا ہے جن کا اس نے مشاہدہ کیا ہو جو چیز اس کے مشاہدہ میں نہیں ہے اس کو محض تمثیل ہی سے سمجھایا جاسکتا ہے اور یہی پیرایہ قرآن کریم نے اختیار کیا ہے ۔
Ayah 31:10آسمانوں کا پیدا کرنے والا ‘ پہاڑوں کا گاڑنے والا ‘ جانداروں کو پھیلانے والا وہی ہے :
10۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے عزیز و حکیم ہونے کی دلیل بیان کی جا رہی ہے تم اس کو غور سے سن لو اور اچھی طرح یاد رکھو کہ وہی ہے جس نے اپنی قدرت کاملہ سے آسمانوں کو بغیر ستون وسہارا کے بنایا ہے جیسا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو کہ وہ بغیر کسی سہارا کے قائم ہے اور زمین کو مضبوط پہاڑی میخیں گاڑ کر اپنے محور پر قائم رہنے والی بنا دیا تاکہ ایسا نہ ہو کہ تمہارے لئے وہ کسی پریشانی اور حیرانی کا باعث ہو اور اپنے محور پر ایک ہی رخ پر قائم رہے تاکہ گردش سے وہ ایک طرف جھک نہ پڑے اور پھر اس زمین پر اس نے ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے تاکہ تم ان سے فائدہ اٹھاؤ اور آسمان سے پانی برسا کر زمین میں کتنی بہترین اور عمدہ چیزیں اگا دیں تاکہ تم اس سے اپنی روزی حاصل کرو۔
آدمی اوپر کو نظر اٹھائے تو جو کچھ اوپر نظر آتا ہے اس کو آسمان ہی کے لفظ سے موسوم کیا جاتا ہے اب غور کرو کہ اوپر کیا کچھ ہے ؟ بلاشبہ اوپر تو بہت ہی کچھ ہے اور پھر جو کچھ ہے اس کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور یہ بھی کہ جو کچھ اوپر نظر آتا ہے وہ نظر تو آرہا ہے کہ وہ ہے لیکن وہ کیسے قائم ہے ظاہر ہے کہ اس کے قائم ہونے کے لئے کوئی سہارا تو ہم کو نظر نہیں آتا خواہ ان چیزوں کی گردش ہی نے ان کو روک رکھا ہے اور خواہ کسی مقام پر کشش کے نظام نے جو ہم کو دکھائی نہیں دیتی تاہم وہ کسی نظام میں باندھ دی گئی ہیں اور اگر یہ صحیح ہے تو کیا ان کا باندھنے والا نہیں ہوگا ؟ بلاشبہ ہے اور وہی اللہ تعالیٰ ہے اور اسی کے باندھنے سے یہ سب کچھ بندھا ہوا ہے اور جب تک وہ چاہے گا بندھا رہے گا ۔
Ayah 31:11یہ سب تخلیق اللہ تعالیٰ کی ہے کیا تمہارے شریکوں نے جو بنایا ہے وہ بھی کہیں موجود ہے :
11۔ فرمایا غور کرو کہ آسمان کا یہ وسیع گنبد جسے تھامنے کے لئے کوئی ستون اور سہارا تم کو نظر نہیں آرہا یہ کشادہ زمین اور اس میں گاڑے گئے فلک بوس پہار اور زمین کے اندر مختلف طرح کے گوناگوں جانور ‘ موسموں کا تغیر وتبدل ‘ بارش کے آنے کا پورا نظام ان رنگا رنگ فصلوں ‘ سبزیوں ‘ درختوں کا اگنا اور اس کائنات کے اندر جو کچھ تم کو نظر آتا ہے اس میں سے ایک ایک چیز پر غور کرتے جاؤ کیا یہ ساری کی ساری مخلوق اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی نہیں ؟ اگر ہے اور یقینا ہے تو پھر غور کرو کہ جن کو تم نے اپنے حاجت روا اور مشکل کشاء معبود والہ مان لیا ہے جن کی تم نذر ونیاز دیتے ہو کیا انہوں نے بھی کچھ پیدا کیا ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر تم نے یہ ظلم کیونکر روا رکھا کہ مخلوق کو خالق کے ساتھ شریک بنا دیا اور اس کھلے شرک کے تم کیوں مرتکب ہوئے ۔
Ayah 31:12لقمان کو حکمت کس نے عطا کی ؟ اس کی حکمت کی باتوں میں سے پہلی بات کیا ہوئی ؟
12۔ لقمان کون تھے ؟ قرآن کریم نے ان کے زمانہ اور قوم کا کوئی ذکر نہیں کیا اور نہ ہی اس بحث کی اس وقت کوئی ضرورت ہے ۔ بلاشبہ وہ اللہ کے ایک نیک بندہ تھے اور اس وقت جب قرآن کریم کا نزول ہوا عربوں میں وہ ایک معروف شخصیت کے طور پر تسلیم کئے جاتے تھے ہاں مفسرین ومؤرخین نے ان کے زمانہ اور قوم کی بحث کو اٹھایا ہے اور مختلف طریقوں سے اس پر بحث کی ہے لیکن اس بحث میں اس قدر اختلاف ہے کہ اس کا ذکر کرنے سے زیادہ بہتر ہے کہ ذکر نہ کیا جائے کیونکہ اس تاریخی بحث کے لئے تاریخ ہی کا موزوں مقام ہے ہم صرف انتا جانتے ہیں کہ لقمان ایک نیک سیرت اور نیک کردار شخصیت تھی ، روایات میں آیا ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ لقمان بن نہیں تھے بلکہ وہ غور وفکر کے خوگر اور دولت یقین سے مالا مال تھے ۔ ان کو اللہ تعالیٰ سے محبت تھی اور اللہ تعالیٰ بھی ان سے محبت کرتے ۔ ” اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت عطا فرمائی تھی ۔ “ بلاشبہ ان کی نصائح اس بات کا ثبوت ہیں کہ کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے علم و حکمت سے مالا مال کیا تھا ، ان کی پہلی نصیحت انسانوں کے نام جو بیان کی گئی ہیں وہ یہ ہے کہ لوگو ! اللہ کا شکر ادا کرو بلاشبہ جس نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا شکر ادا کیا اس ن کے اپنے ہی بھلے کی بات کی کیونکہ شکر کرنے والے ہی کو دیا جاتا ہے جس سے اس کی اپنی جان ہی کا بھلا ہوتا ہے کہ اس کی آخرت سنورتی ہے اور دنیا میں اس کا نام نیکی سے لیا جاتا ہے اور جو شخص کفران نعمت کرتا ہے اس کا وبال بھی اسی پر پڑتا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو غنی ہے اور وہ تعریف کیا گیا ہے ۔
شکر کیا ہے ؟ ایک انسان نے دوسرے انسان کا کوئی معمولی کام کردیا تو دوسرے نے اس کی پوری قدر کی یہ قدر شناسی تین طریقوں سے ہوسکتی ہے دل سے ‘ زبان سے اور ہاتھ پاؤں سے یعنی دل میں اس کی قدر شناسی کا جذبہ ہو ‘ زبان سے اس کے کاموں کا اعتراف ہو اور ہاتھ پاؤں سے اس کے اس کام کے جواب میں ایسے افعال صادر ہوں جو کام کرنے والے کی بزرگی کو ظاہر کریں ۔ شکر کا مخالف یا شکر کی ضد کفر ہے جس کے لغوی معنی چھپانے کے ہیں اور محاورہ میں کسی کے کام یا احسان پر پردہ ڈالنے اور زبان ودل سے اس کا اقرار نہ کرنے اور عمل سے اس کا اظہار نہ کرنے کے ہیں اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جس طرح کفر سے زیادہ بری شے اسلام میں اور کوئی نہیں ہے اسی طرح شکر سے زیادہ بہتر چیز بھی اور کوئی نہیں ہے اور اس تقابل سے یہ معلوم ہوگیا کہ اگر کفر اللہ تعالیٰ کے احسانوں اور نعمتوں کی ناقدری کرنے کا نام ہے تو اس کے مقابلہ میں شکر کی حقیقت یہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے احسانات اور نعمتوں کی قدر جان کر اس کے احکامات کی اطاعت اور دل سے فرمانبرداری کی جائے ۔ ہم نے اس کی وضاحت عروۃ الوثقی جلد سوم ‘ سورة النساء کی آیت 14 جلد پنجم سورة النحل کی آیت 121 میں کردی ہے وہیں سے ملاحظہ کرلیں ۔
بلاریب اگر انسان کے دل میں ایک شکر ہی کا جذبہ پیدا ہوجائے تو دین ودینا میں بھلائی کے لئے اس کو کسی اور تنبیہہ کی ضرورت نہیں رہتی ، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر جان کر اس کو مانے گا اور اس کے حکموں پر چلے گا اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ شکرانہ میں بھلائی کرے گا اور خود بندوں کے احسانات کے جواب میں بھی ان کے ساتھ نیکی اور خیر خواہی کرے گا ۔ نبی کریم ﷺ نے خود آپس میں ایک انسان کی دوسرے انسان کے ساتھ شکر گزاری کے جذبہ کو اللہ تعالیٰ کے احسانات کی شکر گزاری کا معیار مقرر فرمایا ہے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا من لا یشکر الناس لا یشکر اللہ “ (ترمذی کتاب البر والصلہ) یعنی ” جو شخص انسانوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا اور اس حدیث کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو انسانوں کا شکر یہ ادا نہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اپنے احسانوں کا شکریہ اس سے قبول نہیں فرمائے گا ۔ “
Ayah 31:13لقمان نے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا بیٹا ! شرک مت کرو کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے :
13۔ گزشتہ آیت کا بیان اگر لقمان (علیہ السلام) کا ہے تو وہ بلاشبہ تمام انسانوں کے نام ہے اور زیر نظر آیت میں وہ نصیحت کرتے ہیں تو آپ کی نصیحت اپنے فرزند ارجمند کے نام ہے خواہ وہ آپ کا حقیقی بیٹا ہے اور خواہ قوم کے فرزندوں کو مخاطب کرنے کے لئے یہ پیرایہ بیان اختیار کیا گیا ہے دونوں صورتیں جائز اور صحیح ہیں ۔ آپ نے جو نصیحت کی وہ وہی ہے جو سارے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اپنی قوموں کو مخاطب کرکے کرتے رہے ہیں آپ نے بیٹے کو نصیحت کی کہ اے بیٹے شرک مت کر ‘ شرک سے بڑا اور کوئی ظلم نہیں اس لئے تجھے چاہئے کہ ہر حال میں اپنے دامن کو شرک کی ناپاکی اور آلودگی سے پاک رکھے قرآن کریم نے لقمان (علیہ السلام) کے اقوال زریں کتنے دلنشیں انداز میں بیان کئے ہیں اور اس کی حققتڑ کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ بیٹے کا نام لے کر یہ نصیحتیں اس لئے بیان کیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ عام انسانوں کے ساتھ تو معاملہ کی بنیاد ریا کاری ‘ تصنع اور فریب دہی کے طور پر بھی ممکن ہے لیکن ایک باپ جب اپنے بیٹے کو مخاطب کرے گا تو بلاشبہ اس میں سراسر سچائی اور اخلاص ہوگا کیونکہ یہاں غلط بیانی اور عیاری کا امکان تک نہیں ہوگا ۔
عربوں کے معاشرہ میں شرک اس طرح سرایت کرچکا تھا کہ کوئی گھر اور کوئی خاندان بھی اس کی زد سے بچا ہوا نہ تھا بالکل یہی پوزیشن تھی جو اس وقت سواد اعظم کی ہے جو مسلمانوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا گروہ مانتے اور تسلیم کرتے ہیں اور جو اس وقت ہماری مجموعی حالت ہے اگرچہ ان کی آبادی محدود تھی اور آج ہماری آبادی میں بہت زیادہ وسعت پائی جاتی ہے ، قریش مکہ کو مخاطب کرکے کہا جا رہا ہے کہ اے قریش مکہ ! لقمان (علیہ السلام) کو تو تم بھی حکیم اور دانا مرد تسلیم کرتے ہو ‘ ان کے اقوال کو اپنے اشعار میں استعمال کرتے ہو لقمان (علیہ السلام) کو اچھی نگاہ سے یاد کرتے ہو ‘ اپنی مجلسوں میں ان کا ذکر فخریہ انداز میں پیش کرتے ہو اور ان کے کلام کی بہت تعریف کرتے ہو اور ان کی تعلیم پر بھی غور کرو ‘ ان کی نصیحتوں کو گوش ہوش سے سنو جو انہوں نے اپنے بیٹے کے نام بیان کیں ان کو تو تم ایک بہترین انسان تسلیم کرتے ہو اور ان کے اقوال کی تعریف کرتے ہو تم ان کی نصائح کو بگوش ہوش سے سنو اور اپنی خرافات سے باز آجاؤ ۔ لقمان (علیہ السلام) نے شرک کے رد میں جو پہلی دلیل پیش کی وہ عقلی دلیل پیش کی اور آپ نقلی دلیل پیش کر رہے ہیں اور اسطرح بیٹے پر اتمام حجت کر رہے ہیں کہ بیٹے عقل اور نقل دونوں شرک کے بطلان پر متفق ہیں تم اس لغو عقیدے کو ترک کر دو ‘ توحید کے عقیدے کو اپنا لو اور اللہ وحدہ لا شریک لہ پر سچے دل سے ایمان لے آؤ ۔
Ayah 31:14لقمان (علیہ السلام) کے وعظ کے درمیان جملہ معترضہ کے طور پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد بیان کیا جا رہا ہے :
14۔ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو از راہ شفقت تبلیغ شروع کی تھی کہ درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے والدین کی عزت واحترام کرنے کا بیان فرما دیا کہ اولاد کو اپنے ماں باپ کی فرمانبرداری اور خدمت گزاری کا جو حکم دیا گیا ہے اور اس کی تاکید کی گئی ہے وہ ایسے ہیں نہیں بلکہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ والدین اولاد کے لئے نہایت ہی شفیق اور نہایت ہی پیار کرنے والے ہوتے ہیں ‘ اولاد کی تکلیف ان سے ایک منٹ بھی برداشت نہیں ہوتی اولاد کے ساتھ دنیوی محبت کا یہ حال ہے کہ ماں نے کتنی صعوبت برداشت کی جو اپنی اولاد کو پیٹ میں رکھا اور اس کی محبت میں کتنی ستیوں پر ستیاں تھی جو انہوں نے اولاد کی خاطر برداشت کیں اور خصوصا ماں تو بہرحال ماں ہی ہے جس نے نہایت ہی تکلیف اور کرب کے ساتھ اس کو پیٹ میں اٹھائے رکھا اور اپنے سارے کام کاج بھی کرتی رہی اور پھر اس کو وضع کیا اور وضع کے وقت جان کی بازی لگائی جاتی ہے جب درد زہ شروع ہوجاتا ہے تو اس کی تکلیف کو ایک ماں ہی بیان کرسکتی ہے جس کے ساتھ یہ سب کچھ گزرتا ہے اور وضع کے بعد رضع کی مدت بھی بہت صبر آزما ہوتی ہے وہ ماں ہی ہے جس کی مامتا میں اللہ تعالیٰ یہ چیز ودیعت کردی ہے کہ وہ راتوں کو جاگتی اور دنوں کو اپنے بچے کے لئے بےآرام ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود اس بےآرامی میں وہ کتنا لطف محسوس کرتی ہے ، جب وضع کا وقت ہوجائے تو اس کی جان نہایت خطرہ میں ہوتی ہے اور کرب کو کوئی الفاظ میں بیان کرنا چاہے تو کر ہی نہیں سکتا لیکن شان خداوندی کہ جس نے اس کو کرب واذیت میں مبتلا کیا ہے اس پر وہ جان نچھاور کرنے کے لئے ہر آن تیار رہتی ہے کسی دوسرے انسان کی وجہ سے کسی کو ذرا دکھ پہنچ جائے تو وہ اس کے پے آزار ہوجاتا ہے لیکن اس تکلیف کو وہ برداشت کرتی ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ اس سے کئی بار زیادہ تکلیف برداشت کرنے کے لئے دوبارہ تیار رہتی ہے اور اس دکھ دہندہ کو وہ چھاتی سے لگاتی ہے اور اس کے ایک ایک اعضا کو وہ چومتی اور دل میں راحت پاتی ہے ۔ پھر اگر وہ اپنا دودھ پلاتی ہے یا اپنا دودھ نہیں پلاتی بلکہ کسی سے پلواتی ہے یا کوئی دوسرا دودھ پلاتی ہے تو بھی اس کی مشکلات کو برداشت کرتی ہے اس لئے ارشاد فرمایا کہ انہیں باتوں کے پیش نظر ہم نے انسان کے لئے ضروری قرار دیا ہے کہ وہ میرا یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرے اور ساتھ ہی والدین کا شکر گزار بھی ہو اگر اس نے اس میں کوتاہی کی تو بہرحال لوٹ کر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف جانا ہے وہ ضرور اس کی ان کوتاہیوں کے متعلق گرفت کرے گا ۔
Ayah 31:15والدین اگر شرک پر مجبور کریں تو یہ بات ان کی مانی نہیں جاسکتی :
15۔ والدین کی اطاعت کا حکم بار بار قرآن کریم میں آیا ہے اور جہاں بھی اس حکم کو اللہ تعالیٰ نے وضاحت سے بیان کیا ہے تو اپنی توحید کے بیان کے ساتھ ہی اس کا بیان شروع کردیا ہے گزشتہ آیت 14 میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے شکر کے ساتھ ہی والدین کے شکریہ کا بھی حکم دیا ہے اس سے ممکن تھا کہ کسی کو غلطی لگ جاتی کہ اگر والدین شرک کی تلقین کریں تو شرک بھی کیا جاسکتا ہے اس لئے غلطی کا ازالہ کردیا اور بتا دیا کہ ایسا ممکن ہے کہ کسی کے والدین مشرک ہوں اور وہ اولاد کو شرک کرنے پر مجبور کریں اگر ایسا ہو تو ان کی یہ بات تسلیم نہیں کی جاسکتی کیونکہ شرک کا معاملہ ان کی ذات کے ساتھ نہیں ہے بلکہ شرک کا تعلق انسان کی اپنی ذات سے ہے اور شرک اس تعلق کو مجروح کرتا ہے جو اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ہے اس کا تعلق والدین سے ہرگز نہیں ‘ والدین کے تعلق کی جتنی باتیں ہیں ان میں ان کی فرمانبرداری لازم اور ضروری ہے لیکن جو حق اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ہے اس میں والدین کی بات کو بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ مشرک والدین کے ساتھ بول چال بند کر دے اور ان کی خدمت سے باز رہے اور ان کو اولاد کے سلوک کی ضرورت ہو تو اولاد اچھا سلوک نہ کرے نہیں ان باتوں میں والدین کے حقوق اپنی جگہ پر بدستور قائم ہیں جن کو کوئی چیز بھی منسوخ نہیں کرسکتی اسی طرح اللہ اور بندے کے جو حقوق ہیں ان کو والدین متاثر نہیں کرسکتے اللہ کا حق بھی ادا کرنا ہوگا اور والدین کا بھی اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے متعلق کوئی بات کریں تو وہ بات ماں باپ کی نہیں مانی جاسکتی اور دنیا کے کاموں میں ان کا تعاون اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا پھر بھی لازم ہے یاد رہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کرنا ‘ خندہ پیشانی سے پیش آنا ‘ مروت و احسان کرنا اور بات ہے اور اطاعت واتباع اور چیز ہے ‘ اتباع صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہوتی ہو اگر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی لازم آئے تو وہ اتباع نہیں کیونکہ یہ اتباع صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول ہی کی کی جاسکتی ہے ۔ والدین کے حقوق کے متعلق چونکہ ہم پیچھے نہایت تفصیل کے ساتھ لکھ چکے ہیں اس لئے آپ کو اگر تفصیل معلوم کرنا ہو تو عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ 2 : 38 ‘ 215 ‘ جلد دوم سورة النساء کی آیت 36 ‘ جلد پنجم سورة بنی اسرائیل کی آیت 23 ‘ جلد ھذا سورة العنکبوت کی آیت 8 ملاحظہ کریں ۔ اور سورة بنی اسرائیل میں بھی مکمل تفصیل سے بیان موجود ہے جو بلاشبہ قابل ملاحظہ ہے ۔
Ayah 31:16اے بیٹے اگر رائی کے برابر کوئی چیز ہوئی تو وہ بھی اللہ تعالیٰ لے آئے گا :
16۔ لقمان (علیہ السلام) کی نصائح بیٹے کے نام جو بیان کی جا رہی تھیں ان کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو رہا ہے ۔ پہلے آپ نے بیٹے کو شرک سے باز رہنے کا حکم دیا تھا اب وہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور قدرت کاملہ کا وعظ کرتے نظر آتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ بیٹا ! غور کرو کہ رائی کا دانہ کیا چیز ہے ؟ بہت ہی حقیر چیز کہ دن کی روشنی میں آنکھ اس کو بعض اوقات نہیں دیکھ سکتی اتنا باریک ہوتا ہے تو یقین جانو ! اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر ہو اور وہ بھی سات زمینوں کے نیچے پتھر کی چٹان میں چھپا ہو یا آسمان میں پوشیدہ ہو یا زمین میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن وہ عمل بھی عمل کرنے والے کے روبرو لا کھڑا کرے گا کیونکہ اس کا علم ہر ایک چیز پر حاوی ہے وہ نہایت ہی باریک بیں ہے اور باخبر بھی ہے اس کے علم اور گرفت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے یہ لقمان (علیہ السلام) کی بیٹے کے نام دوسری نصیحت تھی جو اس جگہ بیان ہوئی ۔
Ayah 31:17اے بیٹے نماز قائم کرو ‘ نیکی کا حکم دو ‘ برائی سے روکو جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کرو :
17۔ ایک مسلمان کی ذمہ داری کیا ہے ؟ یہی کہ وہ خود برائی سے بچے اور دوسروں کو برائی سے بچانے کی حتی المقدور کوشش کرے اور انسان کو برائی سے بچانے کے لئے قرآن کریم بار بار صلوۃ قائم کرنے کا حکم دیتا ہے اور یہی نصیحت لقمان (علیہ السلام) نے بھی بیٹے کو کی ہے کہ بیٹا ! نماز قائم کرو یقینا تم برائی سے بچ جاؤ گے اور لوگوں کو اچھے کاموں کا حکم دو اور برے کاموں سے لوگوں کو منع کرو ‘ اس طرح تمہاری اخلاقی حالت یقینا ترقی کرے گی اور تم اعلی اخلاق کے مالک بن جاؤ گے پھر جب تم یہ کام سرانجام دو گے تو ضروری ہے کہ لوگ تمہاری مخالف میں اٹھ کھڑے ہوں کیونکہ برائیوں سے روکنے اور نیکیوں کا حکم دینے والوں کے خلاف لوگوں کو اکثر کد ہوتی ہے اور وہ ہر طرح سے مزاحمت کرتے ہیں کہ ایسے لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے باز رہیں اگر ایسا ہو تو تم کو کیا کرنا ہوگا ؟ فرمایا کہ تم کو صبر سے کام لینا ہوگا اور نہایت سختی کے ساتھ خود اچھے کام کرنے ہوں گے اور برائیوں سے باز رہنا ہوگا اور لوگوں کو اس کی تعلیم دینا ہوگی یہ تمہاری گویا ذمہ داری ہوگی جس کو تم نے ذمہ داری سمجھ کر پورا کرنا ہوگا پھر لوگوں کی طرف سے جو مصیبت بھی تم پر آئے اس کو بخوشی برداشت کرنا ہوگا بلاشبہ ان کا برداشت کرنا نہایت ہی پختہ کاموں سے ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ مذکورہ احکام ان اہم امور میں سے ہیں جن کے انجام دینے کے لئے انسان کو ہمت اور مردانگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور جو کچھ اس راستے میں پیش آئے اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے برداشت کرنا چاہئے ۔
Ayah 31:18لوگوں سے بےرخی سے مت ملو ‘ زمین پر اکڑ کر مت چلو ‘ تکبر کرنے والے کو پسند نہ کرو :
18۔ انسانی کمزوریوں کی خوب تصویر اس آیت میں کھینچی گئی ہے ، خیال رہے کہ تکبر ‘ نخوت ‘ اترانا ‘ منہ موڑنا ‘ منہ چڑھانا ‘ ماتھے پر بل پڑنا سب کی سب چیزیں انسانی کمزوریاں ہیں لیکن ان کو کمزوری نہیں سمجھتے بلکہ زور آوری سمجھتے ہیں حالانکہ ایسی بات نہیں بلاشبہ یہ سب کمزوریاں ہیں لیکن چونکہ ان کا صدور اکثر بڑے لوگوں سے ہوتا ہے وہ بڑے جو بڑے تو نہیں ہوتے لیکن بڑے بنے بیٹھے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہوئی ‘ خاندان اور برادری کا تفوق حاصل ہوا کسی بڑے عہدے پر فائز ہوگئے تو لوگوں نے ان کو بڑا سمجھ لیا وہ خود لوگوں میں بڑے بن بیٹھے اور اس طرح کی حرکتیں کرنے لگے اور لوگوں نے ان کی ان کمزوریوں کو ان کے زور کی علامت سمجھا اور اس طرح ان کی ان کمزوریوں کو کمزوریاں کہنے سے گزیز کیا بہرحال یہ ساری چیزیں جو اوپر گنائی گئی ہیں نہایت ہی بری عادات میں سے ہیں اور لقمان ؓ ان بری عادتوں سے اپنے بیٹے کو منع کر رہے ہیں اور بیٹے کو مخاطب کرکے کہہ رہے ہیں کہ بیٹا ! لوگوں سے بےرخی کے ساتھ مت مل ۔ (تصعر) نہایت تکبر کے ساتھ کسی سے منہ موڑنے کو کہتے ہیں جس منہ موڑنے سے انسان کے گال خصوصا متاثر ہوجاتے ہیں اور جو کچھ ان سے ظاہر ہوتا ہے وہ غصہ اور حقارت کی ملی جلی تصویر ہو سکتی ہے اور اس آدمی کو دیکھ کر انسان کی یہ حالت ہوتی ہے جس کو وہ اپنے خیال میں حقیر سمجھتا ہے اور جو حقیر سمجھا جاتا ہے اس کو اس سے کچھ مطالبہ کرنا ہوتا ہے اور اس مطالبہ کے باعث وہ اپنی شکل و صورت کو ایسا بناتا ہے یا اس کی شکل و صورت ایسی بن جاتی ہے اور بلاشبہ یہ کوئی اچھی اور خوبی کی علامت نہیں اسی طرح انسان کا اتراتے ہوئے چلنا بھی ایک خاص علامت ہے اور ظاہر ہے کہ اکڑنا اور اترانا بھی انسانی خوبیوں میں سے نہیں بلکہ کمزوریوں میں سے ایک کمزوری ہے اگرچہ اترانے والا اپنے آپ کو زور آور ہی ثابت کرنا چاہتا ہو اس کا اظہار انسان کی چال ڈھال سے بھی ہوتا ہے اور گفتگو کے انداز سے بھی اور یہ گھمنڈ اور فخر ہی کی ایک نازیبا صورت ہے ، چناچہ زیر نظر آیت میں جو الفاظ (تصعر۔ خدک ۔ مرحا۔ مختال) اور (فخور) کا استعمال ہوا ہے اور یہ سارے الفاظ بہت کم استعمال ہوئے ہیں ۔ (تصعر) کا لفظ صرف اس جگہ بیان ہوا ہے اور اس مادہ کا لفظ کسی دوسری جگہ استعمال نہیں ہوا ۔ (خدک) کا لفظ بھی صرف اسی جگہ آیا ہے علاوہ ازیں اس مادہ سے (الا خدود) کا لفظ ایک بار استعمال ہوا ہے پس (مرحا) کا لفظ بھی صرف دو بار استعمال ہوا ہے ایک اس جگہ اور دوسری بار سورة الحدید کی آیت 23 میں اور (فخور) کا لفظ بھی صرف تین بار استعمال ہوا ہے ایک سورة ہود کی آیت 10 میں ‘ اس جگہ اور سورة الحدید کی آیت 23 میں ۔ ان الفاظ میں وہ ساری انسانی کمزوریاں ظاہر ہوتی ہیں جو اس حاشیہ کے شروع میں گنوائی گئی ہیں اور خیال رہے کہ ہر وہ چیز جو انسان کے لئے کسی خوبی کی حامل نہ ہو اس کو ہم کمزوری ہی کہیں گے خواہ وہ بادشاہوں اور امیروں میں ہو ‘ خواہ درمیانہ درجہ کے انسانوں میں جو اپنے آپ کو اپنے سے کمزور انسانوں کے سامنے بڑا بناتے ہیں یا اس کوشش میں رہتے ہیں خواہ وہ حقیر لوگوں میں اپنی حقارت چھپانے کے لئے ہوں صورت کوئی بھی ہو اور یہ علامت کسی بھی انسان میں پائی جاتی ہو بہرحال اس کو کمزوری ہی سے تعبیر کریں گے اور بلاشبہ انسانوں کی اکثریت ان کمزوریوں میں مبتلا ہے بہت ہی کم لوگ ہیں جو ان کمزوریوں سے بچے ہوئے ہیں اور یہ بھی کہ جو بچے ہوئے ہیں وہی خوبیوں کے مالک ہیں خواہ وہ کون ہیں اور خواہ کہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کمزریوں سے بچائے اور ان خوبیوں کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جن کمزوریوں سے بچنے کی تلقین لقمان ؓ اپنے بیٹے کو کر رہے ہیں اور یہ وہ کمزوریاں ہیں جن سے انسان کے لئے بچنا ہی نہایت ضروری ہے ہاں ! جو بچ گیا اس نے نجات حاصل کی ۔