31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 31:33

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو اور اس دن کا خوف کرو جب باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکے گا ، بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہے پس دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اور وہ فریب دینے والا (شیطان) اللہ کے بارے میں تم کو دھوکا میں نہ ڈال دے (احکامِ الٰہی سے غفلت شیطان کا دھوکا ہے)

اے لوگو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو ‘ اسی سے ڈرو کہ کوئی شخص کسی کے کام نہ آسکے گا : 33۔ ” اے بنی نوع انسان ! اللہ کے غضب اور اس کے عذاب سے ڈرو اور قیامت سے بھی ڈرتے رہو جس میں کوئی بیٹا بھی اپنے باپ کے اور کوئی باپ بھی اپنے کسی بیٹے کے ذرہ برابر کام نہ آئے گا ۔ “ غور کرو کہ دنیا میں جتنے تعلقات اور رشتہ داریاں ہیں سب سے زیادہ قریب کی رشتہ داری یہی ہے کہ باپ بیٹے کے قریب ہے اور بیٹا باپ کے اور پھر جب ان دونوں رشتہ داروں کا واضح ذکر کرکے بتا دیا کہ قیامت کے روز اتنا گہرا تعلق بھی کسی کے کام نہیں آئے گا تو اس کا مطلب واضح ہوگیا کہ کوئی پیر و بزرگ اور مرشد ولیڈر اور اس طرح دوسری رشتہ داریوں کو کون پوچھے گا ، دنیا میں قریب ترین تعلق اگر کوئی ہے تو وہ باپ بیٹے ہی کا ہے لیکن قیامت کے دن تو حال یہ ہوگا کہ اگر بیٹا پکڑا گیا تو باپ آگے بڑھ کر یہ نہیں کہے گا کہ اس کو چھوڑ دو اور مجھے اس کی جگہ پکڑ لو اور اگر باپ کی شامت آرہی ہوگی تو بیٹے میں یہ ہمت نہیں ہوگی کہ وہ یہ کہہ دے کہ یہ میرا باپ ہے اس کو چھوڑ دو اور مجھے اس کی جگہ دوزخ میں ڈال دو پھر اس حالت میں دوسرا کون ہوگا جو وہاں کھڑا ہوجائے اور کہے کہ یہ میرا مرید ہے اس کو میری خاطر چھوڑ دو یا مجھے پکڑ لو اور اس کو چھوڑ دو ۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ اس کی خود ہی وضاحت فرما دی ہے کہ ” آخر جب وہ کان بہرے کردینے والی آواز بلند ہوگی ۔ اس روز آدمی اپنے بھائی اور اپنی ماں اور اپنے باپ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا ‘ ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا ۔ “ (عبس 80 : 33 تا 37) آیت کے اس حصہ کی وضاحت عروۃ الوثقی جلد اول میں سورة البقرہ کی آیت 48 میں اور آیت 123 میں گزر چکی ہے اور اسی طرح سورة البقرہ میں اس کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ : ” دیکھو انسانوں میں سے کچھ انسان ایسے بھی ہیں جو اللہ رب العزت کے سوا دوسری ہستیوں کو اس کا ہم پلہ بنا لیتے ہیں وہ انہیں اسی طرح چاہنے لگتے ہیں جیسی چاہت خالص اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہونی چاہئے حالانکہ جو لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ان کے دلوں میں تو سب سے زیادہ محبت اللہ ہی کی ہوتی ہے ۔ جو بات ان ظالموں کو اس وقت سوجھے گی جب عذاب ان کے سامنے آجائے گا ‘ کاش ! یہ ان کو اس وقت سوجھتی ‘ اس دن یہ دیکھیں گے کہ قوت اور ہر طرح کی قوت صرف اللہ ہی کی ذات کو حاصل ہے اور اس کا عذاب بڑا ہی سخت ہے اور غور کرو کہ جب ایسا ہوگا کہ وہ جن کی پیروی کی گئی تھی اپنے پیروؤں کو دیکھیں گے تو ان سے بیزاری ظاہر کرنے لگیں گے ‘ کہیں گے کہ ہمیں ان لوگوں سے کوئی واسطہ نہیں ‘ کیونکہ وہ عذاب الہی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور ان کے باہمی رشتوں اور وسیلوں کا تمام سلسلہ ٹوٹ جائے گا تب وہ لوگ جنہوں نے ان کی پیروی کی تھی پکار اٹھیں گے ‘ کاش ہمیں ایک دفعہ پھر دنیا میں لوٹ جانے کی مہلت مل جائے تو ہم ان سے اسی طرح بیزاری ظاہر کریں جس طرح یہ ہم سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں سو دیکھو اس طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اعمال کی حقیقت دکھلا دے گا کہ سراسر حسرت اور پیشمانی کا منظر ہوگا اور وہ (پیرومرید سب کے سب) آتش عذاب سے چھٹکارا پانے والے نہیں۔ “ (البقرہ 2 : 165 تا 167) زیر نظر آیت میں فرمایا گیا کہ ” فی الواقع اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ “ اور بلاشبہ اس وعدے سے مراد قیامت کے آنے کا وعدہ ہی ہو سکتا ہے کہ اسی روز اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی عدالت قائم ہوگی جس میں ہر ایک شخص کو اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہوگی اور کوئی بھی اس سے مستثنی قرار نہیں دیا جائے گا یہاں تک کہ نبیوں اور رسولوں سے بھی سوال و جواب ہوں گے ۔ ” یہ دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈالے “۔ یہ بات اس لئے ارشاد فرمائی کہ اس دنیا میں انسان مختلف قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے غور کرو کہ آج بھی ہمارے کتنے بھائی ہیں جو اس غلطی میں مبتلا ہیں کہ جینا اور مرنا جو کچھ ہے بس اسی دنیا میں ہے اس کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے لہذا جو کچھ بھی تم کو کرنا ہے بس یہی کرنا ہے اس لئے وہ مال و دولت کو اکٹھا کرتا ہے اور اس دنیا کی عیش میں ایسا مست ہوتا ہے کہ اس مستی میں وہ قبر کی مٹی میں جا ملتا ہے ، کوئی سمجھتا ہے کہ دنیوی خوشحالی ہی حق و باطل کا اصل معیار ہے اور وہ طریقہ حق ہے جس پر چل کر یہ نتیجہ حاصل ہوجائے اور اس کے برعکس جو کچھ ہے وہ سب اس کے نزدیک باطل ہے اور کوئی اس خوش حالی کو مقبول بارگاہ الہی ہونے کی علامت سمجھتا ہے اور اپنے ذہن میں یہ قاعدہ تجویز کرلیتا ہے کہ جس کی دنیا خوب بن رہی ہے خواہ وہ کیسے ہی طریقوں سے بن رہی ہے جیسے آج کل ہمارے ایم پی اے اور ایم این اے اور وزیر ومشیر ہی اس ملک کے باشندوں میں اللہ میاں کے زیادہ چہیتے اور پیارے ہیں اور ان کے بعد اگر کوئی نمبر ہے تو وہ ہمارے ملک کے مذہبی پیشواؤں ‘ پیروں اور مرشدوں کا ہے اور پھر اگر کوئی اللہ کا پیارا ہے تو وہ ہیروئن بیچنے اور خریدنے والیے ‘ دلال ‘ سٹہ باز اور اسی طرح کی ہیری پھیری کرنے والے ہیں اور ان سب پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہے کہ راتوں رات ان کو لاکھوں اور کروڑوں سے نوازتا ہے اور پھر ان لوگوں کے بعد اگر کوئی نمبر ہے تو وہ نور جہاں اور اسی طرح کی دوسری بازاری حسینوں کا ہے جن کی دکانداریاں خوب چمکی ہوئی ہیں کہ ان کے گاہک بڑے بڑے امیر وکبیر لوگ ہیں ، کیونکہ ہم خود اور ہمارے علمائے گرامی قدر جس کے پاس دولت کی ریل پیل دیکھتے ہیں اس کے متعلق ان کا ارشاد گرامی یہی ہوتا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے اور وہ خدا اور اس کے رسول کے بہت چاہنے والے ہیں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ارشاد الہی زیر نظر آیت کے اخیر پر اس طرح ہے کہ ” اور کوئی دھوکا باز تم کو اللہ تعالیٰ کے معاملے میں دھوکا دینے نہ پائے ۔ “ انسان کو دھوکا دینے کے لئے شیطان کے روپ میں اتنے ہیں کہ اگر ان کا بیان شروع کردیں تو پھر ایک دفتر تیار ہوجائے ان میں سب سے پہلا روپ انسان کا اپنا نفس ہے ماحول کے رسم و رواج ہیں ‘ خاندانی اور گروہی تعصب ہے ‘ اپنے خاص مکتب فکر کی چھاپ ہے ‘ دنیا کا مال و دولت اور اقتدار ہے ، مختصر یہ کہ انسان کے لئے کوئی دوسری چیز بھی دھوکے کا باعث ہو سکتی ہے کسی شخص خاص اور شئے خاص کا تعین کئے بغیر اس وسیع المعنی لفظ کو اس کی مطلق صورت میں ہی رکھنا چاہئے کیونکہ لوگوں کے لئے مختلف اسباب فریب خوردگی کے ہو سکتے ہیں جس شخص نے خاص طور پر جس ذریعہ سے بھی فریب کھایا ہو جس کے اثر سے اس کی زندگی کا رخ صحیح سمت سے غلط سمت میں مڑ گیا ہو وہی اس کے لئے (الغرور) ہے بلاشبہ اس کی جتنی وضاحت کرتے چلے جاؤ گے وہ وسیع سے وسیع ہوتی چلی جائے گی ۔ بس اللہ سے التجا ہے کہ اے اللہ ! ہم کو تیرے معاملہ میں کوئی دھوکہ دینے نہ پائے ۔ ہم بلاشبہ کمزور ہیں اور تو ہی العلام الغیوب ہے تجھے تیری ربوبیت کا واسطہ ہے ‘ تجھے تیری الوہیت کا واسطہ ہماری دعا قبول فرما اور ہمیں سیدھی راہ دکھا اور چلا ۔ خیال رہے کہ شفاعت کا معاملہ اس سے بالکل الگ ہے اور باذن اللہ شفاعت ہوگی ۔ شفاعت کا حق اپنی جگہ قائم ہے اور اس کے اصول و ضوابط کی وضاحت بھی شفاعت کے مقام میں کردی گئی ہے کسی کو اس سے غلط فہمی پیدا نہ ہو جس طرح سے آخرت میں کام آنے کی اس جگہ نفی کی گئی ہے اس کا اپنا مقام ہے ۔ ایک کے عوض میں دوسرے کو پکڑ لیا اور بات ہے جس کی اس جگہ نفی کی گئی ہے لیکن سفارش کا ایک اپنا مقام ہے جس کی وضاحت ہم نے پیچھے کئی ایک مقامات پر کردی ہے اگر اس کو دیکھنا درکار ہو تو عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرۃ آیت 48 ‘ 123 ‘ 254 ‘ جلد دوم سورة النساء 85 ‘ جلد ہفتم ‘ سورة الزمر میں مزید وضاحت دیکھی جاسکتی ہے ۔ اس جگہ ایصال ثواب کا مسئلہ واضح کیا جاتا ہے جس کا تعلق زیر نظر آیت سے ہے ۔ ایصال ثواب کی حقیقت قرآن کریم میں کیا ہے ؟ وضاحت سن لو : لفظ ایصال کے معنی پہنچانا ‘ ملانا اور وصول کرنے کے ہیں اسی طرح ایصال ثواب کے معنی ہوئے ثواب پہنچانا جس طرح ایصال حرارت اس عمل کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ سے سیال اشیاء میں حرارت ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہے اور ایصال مال گزاری ۔ مال گزاری وصول کرنا یا داخل کرنا کے ہیں ۔ اب سمجھنا ہے کہ ثواب کیا ہے ؟ ثواب نیک کام کے بدلہ کو کہا جاتا ہے جس میں عقیدہ کا مسئلہ یہ ہے کہ نیک کام کا وہ بدلہ جو دوسری دنیا میں ملے گا اور اس طرح ایصال ثواب کے معنی ہوئے کہ ” الف “ نے جو نیک کام کئے اس کا بدلہ وہ ” ب “ کو پہنچا دے کہ ” الف “ کا جو بدلہ ہے وہ آخرت میں ” ب “ کو مل جائے ، اور ثواب بخشنا محاورہ ہے جس کا مطب یہ ہے کہ اپنا کمایا ہوا ثواب دوسرے کو دے دینا ۔ اس معاملہ میں سب سے پہلی بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ” الف “ نے جو نیک کام کیا اس کا اجر یا بدلہ اس کو اس وقت مل گیا یا اس کو قیامت کے روز ملے گا ؟ اگر اس کا بدلہ اسی وقت مل گیا تو بلاشبہ وہ قیامت کے روز اس کا مستحق نہ رہا اور اگر اس کو قیامت کے روز ملنے کی امید ہے تو اس وقت بہرحال اس کو وہ اجر نہیں ملا بلکہ وہ سارا ادھار ہے جو آخرت کو ملے گا ۔ اب ” الف “ کے نیک عمل کی دو صورتیں ہوئیں ایک صورت اس وقت ثواب ملنے کی ہے اور دوسری صورت آخرت میں ملنے کی پھر ” الف “ کو اگر اس کا بدلہ اسی وقت مل گیا ہے تو اس کو مشاہدہ میں آنا چاہئے کیونکہ اس زندگی کا ہر پہلو مشاہدہ میں ہے اور اگر آخرت کو ملنا ہے تو اس وقت اس نے ” ب “ کو کیا پہنچایا ؟ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچو کہ جس طرح اسلام میں نیک عمل کے بدلہ یا اجر کو ثواب کہا جاتا ہے اسی طرح برے عمل کے اجر یا بدلہ کو عذاب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ، قرآن کریم نے اس کو اتنی وضاحت سے بیان کردیا ہے کہ اس میں کوئی بات راز میں یا پوشیدہ نہیں رکھی گئی جسام کہ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ، ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ “۔ (الزلزال 99 : 7 ‘ 8) ” جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا ۔ “ اگر ” الف “ اپنے نیک عمل کا اجر یا بدلہ ” ب “ کو دے سکتا ہے تو بلاشبہ ” الف “ کو اپنے برے عمل کا اجر یا بدلہ بھی ” ب “ کو دے سکنا چاہئے یا اس کے لئے کم از کم کوئی قطعی نص موجود ہونی چاہئے جس سے یہ معلوم ہوجائے کہ ” الف “ کو اپنے نیک عمل کا بدلہ دینے یا پہنچانے کا حق ہے اور اس طرح پہنچانے سے پہنچ جاتا ہے لیکن برے عمل کا اجر یا بدلہ پہنچانے سے نہیں پہنچتا جس طرح یہ وضاحت ہے کہ اچھے عمل کا بدلہ 0 ا سے سات سو تک بڑھا کردیا جاسکتا ہے لیکن برائی کا بدلہ اتنا ہی ملتا ہے زیادہ نہیں ملتا ۔ لیکن اس کی وضاحت تو آج تک کسی نے نہیں کی کہ ” الف “ کو اچھے عمل کا بدلہ ” ب “ کو دینے کا حق ہے اور برے عمل کا بدلہ دینے کا حق نہیں یا یہ کہ ” الف “ سے اچھے عمل کا بدلہ ہی ” ب “ کو پہنچ سکتا ہے برے عمل کا بدلہ نہیں پہنچ سکتا چاہے وہ اپنی طرف سے پہنچانے کی کوشش کرے ۔ اگر اس کی وضاحت نہ ہو تو جس طرح ” الف “ کے اچھے عمل کا بدلہ ” ب “ کا پہنچتا ہے جبکہ اس نے اپنی طرف سے پہنچا دیا تو اس طرح ” الف “ کے برے عمل کا بدلہ بھی ” ب “ کو پہنچ سکے گا پھر اسی دشمنی کے باعث جو اکثر انسانوں میں پائی جاتی ہیں ہے اگر ” الف “ نے اپنے برے عمل کا بدلہ ” ب “ کو پہنچانا شروع کردیا تو خود سوچ لو کہ معاملہ کیا بنے گا ؟ مسئلہ ایصال ثواب کا ایک پہلو تو وہ ہے جو پیچھے بیان کیا گیا اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہر آدمی کے ثواب پہنچانے سے ثواب نہیں پہنچتا بلکہ اس کے لئے ایک محلہ یا دہ کی یونٹ سے لے کر بڑے بڑے شہروں تک کچھ خاص قسم کے لوگ رکھے گئے جو ایصال ثواب یا عذاب کرسکتے ہیں یہ معاملہ ہر آدمی کے بس کا روگ نہیں ہے اور یہ لوگ وہی ہیں جن کو ہم اپنی زبان میں ملاں ‘ میاں ‘ مولوی ‘ مولانا ‘ علامہ ‘ حضرت العلام ‘ مفتی ‘ قاضی اور پیر ومرشد کے ناموں سے یاد کرتے ہیں مثلا ” ج “ کی ماں ‘ باپ ‘ دادا ‘ دادی ‘ بہن ‘ بھائی یا اولاد میں سے کوئی وفات پا گیا تو اس نے اپنی بساط ‘ طاقت وہمت کے مطابق اوپر بیان کی گئی فہرست میں سے جس کو وہ بلانے کا اہل تھا یا اس کی جیب اجازت دیتی تھی یا معاشرہ کے اندر جو اس کا مقام ہے اس مقام کے مطابق ان لوگوں میں سے جس کو وہ مدعو کرسکتا تھا کرلیا اور ” ج “ نے روپے پے سا ‘ کپڑے برتن ‘ مکان زمین جو کچھ وہ ان ایشاء میں سے پیش کرسکتا تھا یا جس حیثیت کا وہ مالک تھا اس حیثیت کے مطابق اس نے پہنچانے والے صاحب کو پیش کردیا ۔ اب غور کرو کہ یہ اشیاء کس کو ملیں جس کو ” ج “ نے مدعو کیا تھا کہ وہ اس کے مرنے والے کو ایصال ثواب کرے تو اس کا ثواب کس کو ملا جو اس آنے والے نے ایصال کرنا یعنی بھیجنا ہے اصول کے مطابق تو اس کا بدلہ ” ج “ کو ملنا چاہئے کیونکہ یہ اشیاء تو اس نے پیش کیں لیکن ” ج “ نے تو نہ وہ بدلہ وصول کیا اور نہ ہی آگے روانہ کیا کیونکہ اس نے اس کا بدلہ بھیجنے کے لئے ایک آدمی کو بلایا ہے جس کو یہ اشیاء پیش کی ہیں بلاشبہ اس نے وہ اشیاء وصول کیں نہ کہ ان اشیاء کا بدلہ تو اس طرح یا تو وہ اشیاء اس مرنے والے کو پہنچا دیتا کیونکہ اس نے وہ وصول کی تھیں وہ تو اس نے آگے بھجوائیں اور جو آگے پہنچانے کا اس نے ” ج “ کو باور کرایا وہ اس کے پاس موجود ہی نہ تھا پھر اس نے ” ج “ کے مرنے والے کو آخر کیا بھجوایا ؟ غور کرو کہ ” ج “ نے جس دلال کو بلایا وہ کتنا چالاک اور کتنا ہوشیار ہے کہ اس نے ” ج “ سے چیزیں بھی وصول کیں اور اس کا بدلہ جو ” ج “ کو چیزیں دے دینے کے بعد وصول ہونا تھا وہ بھی وصول کرلیا اور پھر ” ج “ پر بہت بڑا احسان بھی کیا کہ اس نے اس کے مردہ تک اجر و بدلہ پہنچا دیا اس کو کہتے ہیں کہ ” ہم خرما وہم ثواب “۔ بلاشبہ دنیا میں بڑے بڑے فریب اور مکر ہوتے آئے ہیں ‘ ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے لیکن اس سے بڑا فریب آج تک آپ نے نہیں سنا ہوگا کہ دلال نے ایسی دلالی کی ہو اور پھر وہ کامیاب بھی قرار پایا ہو کہ جو پلاٹ خریدا وہ بھی اپنے نام سے رجسٹری کرا لیا اور رقم بھی خود ہی حاصل کرکے دونوں گھروں کو مطمئن کردیا کہ میں نے تمہاری خاطر اس معاملہ میں بہت قربانی دی کہ تمہارے مرنے والے کو اتنا ثواب بھجوا دیا حالانکہ جو کچھ اس نے کہا وہ سراسر جھوٹ تھا اس کو کہتے ہیں کہ ” چور بھی اور چتر بھی ۔ “ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ” ج “ نے جس کو ثواب پہنچانے کی خاطر بلایا اس نے قرآن کریم کی تلاوت کی درود شریف پڑھا جو بلاشبہ اس کا عمل تھا اور اس نے اس کا عمل کا بدلہ واجر ” ج “ کے مرنے والے کو پہنچا دیا ۔ آپ کو غلطی لگ رہی ہے غور سے سوچو کہ جو اس نے قرآن پڑھا اور درود پڑھا اور جھوم جھوم کر دعا کی اس کا اجر تو اس نے ” ج “ سے وصول کرلیا اور سب کچھ اپنے ساتھ لے گیا جس میں وہ ساری اشیاء شامل تھیں جو ” ج “ نے اس کو ادا کیں آپ کا کیا خیال ہے جس کو ” ج “ نے بلایا وہ اتنا شاطر ہے کہ اس نے ” ج “ سے بھی اجر حاصل کرلیا اور اللہ میاں سے بھی اور اللہ میاں کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ اس نے اجر و بدلہ ” ج “ سے وصول کرلیا ہے اب مجھ سے کس چیز کا بدلہ طلب کر رہا ہے کیا اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو بھی اس طرح کوئی دھوکا دے سکتا ہے حالانکہ وہ تو انسانوں کے دلوں کے رازوں تک سے واقف ہے اور کوئی بات بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے وہ نہ تو کسی کو دھوکا دیتا ہے اور نہ ہی کسی سے دھوکا کھاتا ہے جو ایسا سمجھتا ہے بلاشبہ وہ خود اپنے آپ کو دھوکا دیتا ہے اور ایسے ہی لوگوں کے متعلق قرآن کریم نے بیان کیا ہے کہ (آیت) ” وما یخدعون الا انفسھم وما یشعرون “۔ ہم پورے وثوق اور مکمل تحقیق سے یہ بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ قرآن کریم میں ایصال ثواب یا ایصال عذاب کا کہیں اشارہ تک نہیں پایا جاتا نہ اس دنیا کے اسلامی قانون میں اور نہ ہی آخرت میں ۔ جو شخص اس نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم کی صرف اور صرف ایک آیت ہی پیش کر دے جس سے واضح ہو کہ کوئی انسان اپنا نیک یا بد عمل کسی دوسرے انسان کو پیش کرسکتا ہے اور وہ اس کو پہنچ جاتا ہے وہ قابل صد احترام ہے اور ساتھ ہی وہ انعام کا مستحق بھی ہے اور ہم اپنی طرف سے اپنی حیثیت کے مطابق انعام بھی اس کو پیش کریں گے اور اپنی غلطی کا اعتراف بھی واضح الفاظ میں کرلیں گے ۔ خیال رہے کہ یہ بات ہم صرف قرآن کریم کے متعلق کر رہے ہیں کیونکہ قرآن کریم ہی اصل ہے اور قرآن کریم سے ہم کو جو بات معلوم ہے وہ یہ ہے کہ ایک کا عمل دوسرے کے کام نہیں آسکتا خواہ وہ عمل نیک ہو یا عمل بد ۔ جاسح کہ ارشاد الہی ہے : 1۔ (آیت) ” ومن یکسب اثما فانما یکسبہ علی نفسہ “۔ (النساء 4 : 111) جو شخص گناہ کا کام کرتا ہے تو وہ فقط اپنی ذات پر اس کا اثر پہنچاتا ہے ۔ “ 2۔ (آیت) ” ولا تکسب کل نفس الا علیھا ولا تزروازرۃ وزر اخری “۔ (الانعام 6 : 164) ” اور ہر آدمی اپنے عمل سے جو کچھ کماتا ہے وہ اس کے ذمہ ہوتا ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ۔ “ 3۔ (آیت) ” من اھتدای فانما یھتدی لنفسہ ومن ضل فانما یضل علیھا ولا تزر وازرۃ وزر اخری “۔ (الاسراء 17 : 15) ” جو سیدھے رستے چلا تو اپنے ہی لئے چلا اور جو بھٹک گیا تو بھٹکنے کا خمیازہ بھی وہی اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ۔ “ گویا ہر جان کو خود اپنی ہی اعمال کا بوجھ اٹھانا ہے ۔ 4۔ (آیت) ” وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَۃٌ إِلَی حِمْلِہَا لَا یُحْمَلْ مِنْہُ شَیْْء ٌ وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبَی إِنَّمَا تُنذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُم بِالغَیْْبِ وَأَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَمَن تَزَکَّی فَإِنَّمَا یَتَزَکَّی لِنَفْسِہِ وَإِلَی اللَّہِ الْمَصِیْرُ (فاطر 35 : 18) ” کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور اگر کوئی لدا ہوا شخص اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے کسی کو پکارے گا تو اس کے بار کا ایک ادنی سا حصہ بھی اٹھانے والا کوئی نہیں آئے گا چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ﷺ آپ ﷺ صرف انہی لوگوں کو متنبہہ کرسکتے ہیں جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں جو شخص بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنی ہی بھلائی کے لئے کرتا ہے اور سب کو لوٹ کر اللہ رب کریم ہی کی طرف جانا ہے ۔ “ 5۔ (آیت) ” إِن تَکْفُرُوا فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنکُمْ وَلَا یَرْضَی لِعِبَادِہِ الْکُفْرَ وَإِن تَشْکُرُوا یَرْضَہُ لَکُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلَی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ إِنَّہُ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (الزمر 39 : 7) اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بےنیاز ہے لیکن وہ اپنے بندوں کے لئے کفر کو پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر کرو تو اسے وہ تمہارے لئے پسند کرتا ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا آخر کار تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کی کرتے رہے ہو وہ تو دلوں کے حال تک جانتا ہے ۔ “ 6۔ (آیت) ” أَمْ لَمْ یُنَبَّأْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوسَی (36) وَإِبْرَاہِیْمَ الَّذِیْ وَفَّی (37) أَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی (38) وَأَن لَّیْْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی (النجم 53 : 36 تا 39) ” کیا اسے ان باتوں کی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں اور ابراہیم کے صحیفوں میں بیان ہوئی ہیں جس نے وفا کا حق ادا کردیا ؟ یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور یہ کہ انسان کے لئے کچھ نہیں مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے ۔ “ بات کس قدر صاف ہوگئی کہ ہر شخص جو کچھ بھی پائے گا اپنے عمل کا پھل پائے گا ‘ یہ کہ ایک شخص کے عمل کا پھل دوسرا نہیں پاسکتا الا یہ کہ اس عمل میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو ‘ یہ کہ کوئی شخص سعی وعمل کے بغیر کچھ نہیں پا سکتا ۔ 7۔ (آیت) ” ذلک بما قدمت یدک وان اللہ لیس بظلام للعبید “۔ (الحج 22 : 10) ” یہ ہے تیرا وہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لئے تیار کیا ہے ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے ۔ “ 8۔ (آیت) ” ومن اراد الاخرۃ وسعی لھا سعیھا وھو مؤمن فاولئک کان سعیھم مشکورا “۔ (الاسراء 17 : 19) ” لیکن جو کوئی آخرت کا طالب ہو اور اس کے لئے جیسی کوشش کرنی چاہئے ویسی کوشش کی نیز وہ ایمان بھی رکھتا ہے تو ایسے ہی لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہوگی ۔ “ 9۔ (آیت) ” وما تقدموا لا نفسکم من خیر تجدوہ عند اللہ ھو خیرا و اعظم اجرا “۔ (المزمل 73 : 20) ” اور جو اچھا عمل اپنے لئے آگے بھیج دو گے اس کو اللہ کے پاس پہنچ کر اس سے اچھا اور اجر میں بڑا پاؤ گے ۔ “ 10۔ (آیت) ” فمن یعمل من الصلحت وھو مؤمن فلا کفران لسعیہ انا لہ کاتبون “۔ (الانبیاء 21 : 94) ” پس جس کسی نے نیک کام کئے اور وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے تو اس کی کوشش اکارت جانے والی نہیں ہم اس کی نیکیاں لکھ لینے والے ہیں ۔ “ اوپر دس آیات کریمات بیان کی گئی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان دس آیات کے سوا اور کوئی آیت نہیں ۔ ان دس آیات کے علاوہ ایک سو سے بھی زائد مزید آیات بیان کی جاسکتی ہیں لیکن ہم ان ہی پر اکتفا کر رہے ہیں کہ جگہ کی گنجائش نہیں ہے لیکن ان کے مقابلہ میں ہمارا مطالبہ صرف ایک آیت کا ہے اگر وہ کوئی صاحب علم پیش کردیں اور یہ تحقیق ہوجائے کہ فی الواقعہ اس کا مضمون وہی ہے جو ہم نے طلب کیا ہے بلاشبہ وہ اس انعام کے مستحق ہیں جس کا ہم نے اوپر اعلان کیا ہے ۔ (آیت) ” ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین “۔ ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اس قرآن کریم سے جو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک پر نازل کیا ہے اس سے ایسی آیت کوئی ماں کا لال نہیں دکھا سکے گا یہ ماں کا لال ہم نے محاورتا استعمال کردیا ہے اس کا مطلب یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ہم اس کو بغیر باپ کے مان لیں گے کیونکہ ہم نے ماں کی طرف اس کی نسبت دی ہے سو یوں کہہ لیتے ہیں کہ کوئی باپ کا ایسا لاڈلا نہیں ہو سکتا جو ایسی ایک آیت نکال دکھائے اور اس انعام کا مستحق ٹھہرے یہ تو عام اعمال کی بات ہے جو ہم نے اس جگہ بیان کی اب ہم خاص اعمال کی طرف آتے ہیں جو ہمارے معاشرے میں اس طرح پھوٹ پڑے ہیں جس طرح کوئی متعدی بیماری پھوٹ پڑتی ہے ۔ کسی مرنے والے کے لئے قرآن خوانی کا جواز کتاب وسنت سے نہیں پیش کیا جاسکتا ؟ : آپ سب حضرات کو معلوم ہے کہ قرآن خوانی کے ذریعہ مردوں کو ثواب پہنچانے کا رواج اب تقریبا ہر دہ ہر گاؤں ‘ ہر قصبہ ‘ ہر شہر بلکہ اس پورے ملک عزیز میں عام ہوگیا ہے ۔ وزراء وصدر مملکت خدا داد پاکستان اور ملک کی بڑی بڑی شخصیتوں کی وفات کے موقع پر ملک کا ریڈیو اپنے مقررہ پروگراموں کو چھوڑ کر قرآن کریم کی تلاوت نشر کرنے لگتا ہے عوام اپنے اپنے مردوں کو ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی مجلسیں منعقد کرتے ہیں اور حاضرین مجلس میں سے ہر شخص جو قرآن پڑھ سکتا ہے یا آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہلنا اور جھومنا اس کو آتا ہے وہ اس کار خیر میں حصہ لیتا ہے یا مخصوص پیشہ ور قرآن خوان جیسے تی سے قرآن کریم ختم کرکے اس کا ثواب میت کو پہنچانے کی حسب توفیق کوشش کرتے ہیں ۔ بلاشبہ اس رسم سے اب پیشہ کی شکل اختیار کرلی ہے اور ” میلاد خوانوں “ کی طرح ” قرآن خواں “ بھی اب ہر جگہ بسہولت مل جاتے ہیں اور قرآن خوانی کی اجرت بھی قرآن خوانوں کی حیثیت کے مطابق گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اور ” قرآن خواں “ بھی میت کے ورثاء کی حیثیت کے مطابق ” قرآن خوانی “ پر وقت صرف کرتے ہیں۔ قبرستانوں میں پیشہ ور ” قرآن خوانوں “ کی جماعت مستقل طور پر موجود رہتی ہے جو میت کی حالت کے مطابق ہی سودا چکا لیتی ہے ، یتیم خانوں اور مدارس دینیہ کے مسکین طلبہ نیز حفاظ وقراء کی روزی کا ایک مخصوص ذریعہ ” قرآن خوانی “ ہی بن گیا ہے اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ بڑے بڑے دینی مدارس اور بین الاقوامی شہرت رکھنے والے دارالعلوم بھی آئے دن قرآن خوانی اور ختم خواجگان کی مجلسیں منعقد کرتے ہیں جس میں آیت کریمہ اور آیت الکرسی اور درود شریف کے لاکھ سوا لاکھ بار پڑھنے کے کھلے سودے طے پاتے ہیں ۔ بڑے بڑے لیڈر ‘ وزراء وامراء مختلف محکموں کے ڈائریکٹر اور سیکٹری اور ان جیسے لوگوں کے والدین اور عزیز و اقارب جب مرتے ہیں تو یہ لوگ مدارس دینیہ اور ان دارالعلوموں سے سینکڑوں کی تعداد میں پڑھے گئے قرآن وں کا اکٹھا سودا چکا لیتے ہیں اور پھر اس مدرسہ اور دارالعلوم کے مہتمم صاحب تیسرے ‘ چوتھے ساتویں ‘ دسویں اور چالیسویں کی رسومات میں موقع پر پہنچ کر مرنے والے کو قرآن وں کا ثواب پہنچاتے ہیں اور اس قرآن وں کے ثواب پہنچانے کی الگ فیس لے لیتے ہیں بلاشبہ ایسی حالت میں ان خرافات کی آندھی کاروکنا اور اس سیل بدعت کے سامنے بند باندھنا اتنا آسان کام نہیں ۔ جس طرح ہم نے اوپر بیان کیا ہے اور انعام کی رقم کا اپنی حیثیت کے مطابق اعلان کیا ہے اب ہم یہ دوبارہ اعلان کرتے ہیں کہ قرآن کریم اور صحیح احادیث میں میت کے لئے اس طرح قرآن خوانی کرنے یا کرانے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے اس لئے ہمارے یہ دوسرا اعلان ہے کہ اگر کوئی قرآن کریم کی ایک آیت یا صرف ایک صحیح حدیث سے یہ ثابت کردے کہ رسول اللہ صلی اللہ علہم والہ وسلم نے کبھی اپنی زندگی میں اس طرح کا اجر وثواب دیا یا لیا ہے تو اس کو الگ اپنی حیثیت کے مطابق انعام پیش کیا جائے گا اور اپنی غلطی کا کھلا اعتراف بھی کیا جائے گا جو نقد انعام پیش کرنے کے ساتھ ہی کردیا جائے گا ، اٹھو ہمت کرو اگر کرسکتے ہو اگر نہیں اور یقینا نہیں تو قرآن کریم کو اس طرح بیچنا چھوڑ دو اور جس مقصد کے لئے قرآن کریم کا نزول ہوا ہے اس کی لوگوں کو تلقین کرو اور اس بےثبات دنیا کی زندگی کے لیے کوئی اور کاروبار تجویز کرو اور اپنی آخرت کی فکر کرو ایک دن تم کو بھی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے حاضر ہونا ہے ‘ اس کو کیا جواب دو گے ۔ ایصال ثواب کی حقیقت احادیث کی روشنی میں اور اس کی وضاحت : ذخیرہ احادیث میں مرنے والے کے بارے میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کی تفصیل تو بہت لمبی ہے لیکن اس کے متعلق خلاصتا جو بیان کیا گیا ہے وہ اس طرح ہے کہ : اذا مات الا نسان انقطع عملہ الا من ثلاث صدقۃ جاریۃ او علم ینتفع بہ او ولد صالح یدعوالہ “۔ (صحیح مسلم) جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل بند ہوجاتا ہے صرف تین قسم کے اعمال باقی رہ جاتے ہیں ۔ (1) صدقہ جاریہ ۔ (2) ۔ علم جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ اور (3) صالح اولاد جو اس کے لئے دعا کرے ۔ “ غور کیجئے کہ اس حدیث میں جو چیزیں انسان کی موت کے بعد اس کو کچھ نفع پہنچا سکتی ہیں وہ وہی ہیں جن میں اس کے اپنے عمل کا دخل موجود ہے فرق یہ ہے کہ وہ مر گیا ہے لیکن اس کا عمل ابھی جاری ہے وہ نہیں مرا اور جو عمل اس کے مرنے کے ساتھ ہی مر گیا اب اس کا کوئی اجر بھی نہیں ملے گا اجر اس کو ملے گا گا تو صرف اس کے اس عمل کا جو اس کے مرنے کے بعد بھی جاری ہے اور اس طرح جو جو اس سے مستفید ہوگا اس کے عمل جاری کے باعث اس کو اجر ملتا رہے گا ۔ اس کو ایک مثال سے سمجھ لو جو محض آپ کی تفہیم کے لئے پیش کی جارہی ہے ۔ ” ا “ کی وفات ہوگئی وہ ایک صالح انسان تھا اور اس کی زندگی بظاہر اسلام کے اصولوں کے مطابق گزر رہی تھی اس نے اپنی زندگی میں اپنے مال سے ایک مسجد بنوائی ‘ ایک سرائے تعمیر کی ‘ چند بچے اور بچیاں حفظ کرائے اور دوران حفظ ان سے کوئی اجرت نہیں لی اور اسی طرح بہت سے لوگوں کو علم سکھایا یا اپنی اولاد کی اچھی تربیت کی ‘ شعبان میں بیمار ہوا ‘ رمضان میں اپنی بیماری کے باعث کوئی روزہ نہیں رکھ سکا ‘ شوال ہی میں اس نے وفات پائی اس کے مرنے کے ساتھ ہی اس کے وہ اعمال منقطع ہوگئے جو اس کی زندگی میں اس پر فرض تھے لیکن اس کی وفات کے بعد وہ مسجد بحمد اللہ اپنی جگہ موجود ہے اور لوگ نمازیں ادا کر رہے ہیں وہ سرائے بھی موجود ہے اور آنے جانے والے مسافروں کو آرام پہنچ رہا ہے جن بچوں کو اس نے تعلیم دی ‘ حفظ کرایا اور علم سکھایا سب اپنی اپنی جگہ اس علم کو آگے پھیلا رہے ہیں اس کی اولاد اچھے کام کرتی ہے اور اس کے لئے نیک دعائیں کر رہی ہے غور کرو کہ یہ جتنے کام اوپر مذکور ہوئے ان میں ” الف “ کے عمل کا کتنا تعلق ہے اگر یہ کہا جائے کہ اس کا اجر ” الف “ کو مل رہا ہے تو کیا یہ صرف دوسروں ہی کے اعمال کا اجر ہے یا اس کے اپنے اعمال کا جو اس کے مرنے کے بعد بھی جاری وساری ہیں ؟ احادیث کی روشنی میں جہاں بھی اور جس طرف بھی تم جاؤ گے ‘ جس حدیث کا بھی تم مطالعہ کرو گے ‘ احادیث کی روشنی میں جو کچھ بھی تم کو بتایا ‘ سمجھایا اور پڑھایا جائے گا وہ سب کا سب اسی قسم میں آئے گا جس کا تعلق صدقہ جاریہ یا علم نافع کے ساتھ قائم ہوگا یا اس کی نیک اولاد کی وہ دعائیں ہیں جو وہ قرآن کریم کی عبارات کو پڑھ کر کر رہے ہیں یا نمازوں کے بعد اپنے والدین کے لئے کر رہے ہیں تو ان ساری چیزوں کو نہ تو اس کے نام کوئی ہدیہ کیا جا رہا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی اہتمام ہو رہا ہے بلکہ اعمال ہیں کہ وہ اپنی جگہ قانون کے مطابق ہوتے چلے جا رہے ہیں اور اس کو اجر ملنے کا ذکر اس کے عمل کے باعث خود بخود جاری ہے ، آپ کو معلوم ہوگا کہ پیچھے ہم نے ذکر کیا تھا کہ اس کے ذمہ رمضان کے روزے تھے جو وہ بوجہ بیماری نہیں رکھ سکا وہ عمل اس کی زندگی کے ساتھ خاص تھا لیکن جب وہ فرض اس پر عائد ہوا تو اس وقت وہ اس فرض کے ادا کرنے کے قابل نہ تھا شریعت کے مطابق اگر ” الف “ صحت مند ہوجاتا تو یقینا وہ روزے اس کو رکھنے پڑتے اگر اس کی اولاد میں سے کسی کو یہ رغبت ہوئی کہ اس نے کسی غریب کو ان روزوں کے عوض میں کھانا کھلا دیا یا وہ ” الف “ کی میراث کا وارث تھا لیکن اس کے باوجود اسلام نے اس کو پابند نہیں کیا تھا کہ تم پر لازم ہے کہ تم اس کے رہ جانے والے روزوں کا فدیہ ضرور ادا کرو اس کے باوجود انہوں نے مل کر یا کسی ایک نے اپنی طرف سے اس کو ادا کردیا اور اس ادا کرنے والے کو شاباش دی گئی کہ تم نے اچھا کام کیا تو اس میں سے آخر کس چیز کا جواز نکل آیا جس پر یہ فاتحہ خوانیاں اور یہ تیسرے ‘ چوتھے ‘ ساتویں ‘ دسویں اور چالیسویں کی بنیاد رکھ دی گئی اور ایصال ثواب کے نام سے مرنے والے کے وارثوں کو خوب لوٹنا شروع کردیا گیا اور جب یہ رسم و رواج میں راسخ ہوگیا تو اب ان چیزوں کو باپ دادا کی رسوم کے نام سے اس طرح لازم کردیا گیا کہ گویا سارے اسلام کا نچوڑ یہی رسم و رواج رہ گئے اس طرح دکھاوے اور ناک کی لاج کا ایسا مرکب تیار کیا کہ اس کا جواز قرآن وحدیث سے گھڑنا شروع کردیا تاکہ قوم اس سے چھٹکارا حاصل نہ کر پائے ، ہم نے اس مضمون کی جابجا وضاحت کردی ہے اس لئے اس جگہ اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے اگر وضاحت مطلوب ہو تو عروۃ الوثقی جلد دوم سورة النساء کی آیت 101 اور آیت 164 ‘ جلد سوم سورة الانعام کی آیت 70 کی تفسیر دیکھیں جلد پنجم سورة الاسراء کی آیت 15 کو ملاحظہ کریں اور جلد 7 کی سورة فاطر کی آیت 18 ‘ سورة الزمر کی آیت 7 کی تفسیر ملاحظہ کریں ۔ نزول قرآن کریم کا مقصد کیا تھا اور یاروں نے کیا سمجھا ؟ قرآن کریم نازل کرنے والے نے بار بار یہ ارشاد فرمایا کہ اس قرآن کو ہم نے ہدایت کے طور پر نازل کیا ہے کہ یہ کتاب انسانوں پر ہدایت کی راہ کھولتی ہے ۔ ہاں ! بلاشبہ وہ زندوں ہی کی ہدایت کے لئے نازل ہوئی ہے جن کو ایمان بالغیب کی تلقین کرتی ہے اور نماز قائم کرنے کا حکم دیتی ہے اور زکوۃ کو ان پر لازم ٹھہراتی ہے اور آخرت کے ماننے پر مجبور کرتی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ سب کام تو زندوں ہی کے کرنے کے ہیں مرنے والوں پر نہ نماز فرض ہے نہ زکوۃ کی ادائیگی لازم ہے اور نہ ہی شریعت کے دوسرے کام کیونکہ یہ سارے کام تو دارالعمل میں رہنے والوں کے لئے خاص تھے اور مرنے والے دارالعمل سے رخصت ہوگئے اور اب وہ دارالجزاء میں داخل ہوں گے جہاں اپنے کئے ہوئے اعمال کے نتیجہ سے دو چار ہوں گے ۔ غور کرو کہ کیا ہمارے رب نے یہ قرآن کریم اس لئے نازل کیا تھا کہ : 1۔ اس سے تعویذ گنڈے بنائے جائیں اور بچوں اور مریضوں کو پیتل ‘ چاندی ‘ سونے اور چمڑے میں رکھ کر پہنائے جائیں ؟ ۔ 2۔ اس لئے کہ اس کو قبرستان میں مردوں پر پڑھا جائے اور کٹھ ملا اس کو مال سمیٹنے کا ذریعہ بنا لیں ؟ ۔ 3۔ اس لئے کہ مکار لوگ اس کو برتنوں پر لکھ لکھا کر اور پھر ان برتنوں کو دھو کر اس کا پانی مریضوں اور سحرزدہ لوگوں کو پلائیں ؟ ۔ 4۔ اس لئے کہ کام چور اور بھیک مانگنے والے راستوں ‘ مسجدوں اور مجلسوں میں پڑھ کر بھیک مانگا کریں ؟ ۔ 5۔ اس لئے کہ پورے قرآن کریم کو ایک ورق میں چھاپ کر زینت اور برکت کے لئے دیواروں اور کمروں کی زینت بنایا جائے ؟ ۔ 6۔ اس لئے کہ پیشہ ور لوگ اس کے تعویذ بنائیں اور مسجدوں کے دروازوں پر گلا پھاڑ پھاڑ کر فروخت کریں ؟۔ 7۔ اس لئے کہ اس کی مختلف آیتوں اور سورتوں کو جنوں کو تسخیر کرنے کے لئے مختلف طریقوں سے پڑھا کریں اور جنوں کو تسخیر کرکے قوم کی نوجوان بچیوں کو ڈالتے اور نکالتے رہیں ؟ ۔ 8۔ اس لئے کہ ہمارے گوئیے اور ڈوم ڈانگری اس کو طبلے کی تھاپ پر گائیں اور عوام ان پر نوٹ نچھاور کریں ؟۔ 9۔ اس لئے کہ مرے ہوؤں کو بخشوانے کے لئے اس کو ان کے تیسرے ‘ چوتھے ساتویں دسویں اور چالیسویں پر جتنی زیادہ سے زیادہ اس کی تلاوت کرسکیں تلاوت کرکے مردوں کے نام بھجوائیں ؟ ۔ 10۔ اس لئے کہ بغیر سوچے سمجھے محض طوطوں کی طرح اس کی تلاوت کی جائے ؟ ۔ بلاشبہ قرآن کریم کا نزول اس لئے ہوا تھا کہ اس کی ہدایات کے مطابق اس دنیا کی زندگی گزاری جائے تاکہ جو اس کی ہدایت کے مطابق عمل کریں ان کی یہ دنیوی زندگی بھی آسائش و آرام کی گزرے اور آخری زندگی بھی ان کی سنور جائے ، صدر اول میں جو لوگ ایمان لائے اور اس کی ہدایت کے مطابق عمل کیا انہوں نے چند ہی سالوں میں دنیا فتح کر ڈالی اور قوم کو انہوں نے گہرے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لا کھڑا کیا اور پھر اس کو دینی ودنیوی ترقی کے آسمان تک پہنچایا اور اس طرح ایک مردہ قوم کو دینی ودنیوی زندگی بخشی ۔ افسوس کہ اس کے بعد ہم ایسے ناخلف پیدا ہوئے کہ ہم نے قرآن کریم کی تعلیمات کو آہستہ آہستہ ایسا بدلا کہ بالکل نقشہ الٹ ہوگیا ہم نے قرآن کریم کے مقاصد اور پروگرام ترک کردیئے اور قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب تسلیم کرنے کے باوجود اس کے خلاف عملی بغاوت کردی اور اسی بغاوت کے نتیجے میں ہم پستی اور بدبختی کے قعر مذلت میں دوبارہ گرتے ہی چلے گئے اور آج ہم نے قرآن کریم کا مفہوم اور اس کے مقاصد کو کچھ اس طرح عجیب و غریب طریقے سے بدل ڈالا جس کی مثال گذشتہ امتوں میں بھی نہیں ملتی ۔ ہاں ! گزشتہ امتوں نے بھی آسمانی کتابوں کا انکار کیا ان میں تحریف کی ‘ ان کی عبارات کو بدل ڈالا لیکن ہم نے یہ بات کسی امت کے متعلق نہیں سنی کہ اس نے آسمانی کتاب کو زندوں سے لے کر مردوں کے لئے خاص کردیا ہو اور اللہ کی کتاب کو ان کی بخشش کا نسخہ بنادیا ہو ۔ دنیا کی امتوں میں ہم پہلی امت ہیں جنہوں نے کتاب اللہ کے ساتھ یہ ظلم روا رکھا ہے ۔ ہمارے نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ نے اس دناے سے رخصت ہوتے وقت یہ بشارت سنائی تھی کہ ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بھما کتاب اللہ وسنتی ” میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر چلا ہوں کہ جب تک تم ان دونوں کو مضبوطی سے پکڑے رکھو گے تو تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے اور وہ اللہ کی کتاب اور میری سنت ہے ۔ “ پھر ہمارا حق تو یہ ہے کہ جو بات ‘ جو چیز نہ کتاب اللہ میں ہو اور نہ سنت رسول اللہ ﷺ سے اس کا کوئی تعلق ہو اس کو دین کا کام نہ سمجھیں اسلام کا کام نہ سمجھیں اور دین کا کام سمجھ کر نہ کریں ‘ اس کام کو اچھا اور بہتر کام نہ سمجھیں ۔ اپنے مرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں بشرطیکہ وہ کافر و مشرک نہ ہوں جب عزیز و اقارب زندہ ہوں اگر وہ ہدایت پر نہ ہوں تو ان کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں اگر وہ ہدایت یافتہ ہوں تو ان کے اور اپنے لئے سیدھی راہ پر قائم رہنے کی دعا کریں اور پھر جس طرح ان کی زندگی میں ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں بالکل اسی طرح ان کے وفات پاجانے کے بعد ان کی مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کرتے رہیں اور ان کی دعا کے لئے رسم و رواج کے طریقے نہ اپنائیں بلکہ دین اسلام کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق ان کے لئے اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے دعا کریں ۔ ان کے قریبی رشتہ داروں اور ان کے دوست احباب کے ساتھ اچھا سلوک کریں ، ان کا ذکر آئے تو بھلائی کی بات کریں ‘ اگر ان میں کوئی ایسی بات تھی جو اچھی نہ تھی تو اس کا ذکر بالکل نہ کریں ۔ ماں ‘ باپ اور دوسرے عزیز و اقارب کی قبر پر جائیں تو سنت کے مطابق ان پر سلام پیش کریں ۔ ان کی قبر کو دیکھ کر اپنی قبر کو یاد کریں ‘ آپ کا سلام یقینا ان تک پہنچایا جائے گا جہاں وہ عالم بزرخ میں موجود ہیں ۔ مرنے والوں کا سلام رسول اللہ ﷺ نے ہم کو اس طرح سکھایا ہے السلام علی اھل الدیار من المؤمنین والمسلمین ویرحم اللہ المستقدمین منا والمستاخرین وانا ان شاء اللہ بکم اللاحقون “۔ (صحیح مسلم کتاب الجنائز باب مایقول عند دخول المقابر حدیث 974 ‘ سنن نسائی حدیث 2037 ‘ مسند احمد بن حنبل ج 6 ص 221 صحیح سند کے ساتھ) وہ کام جن سے مرنے والے کو فائدہ پہنچتا ہے بشرطیکہ شرائط پوری ہوں : 1۔ کسی مسلمان کا میت کے حق میں دعا کرنا بشرطیکہ قبولیت دعا کی شرائط پوری ہوں جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ : (آیت) ” وَالَّذِیْنَ جَاؤُوا مِن بَعْدِہِمْ یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُونَا بِالْإِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوبِنَا غِلّاً لِّلَّذِیْنَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّکَ رَؤُوفٌ رَّحِیْمٌ (الحشر 59 : 10) ” اور وہ لوگ جو اگلوں کے بعد آتے ہیں کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اور ہمارے ان سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لئے کوئی بغض نہ رکھ ۔ اے ہمارے رب تو بڑا مہربان اور رحیم ہے ۔ “ غور کرو کہ دعا کس لئے کرنا ہے میت کے لئے اور دعا کس سے کرنا ہے اللہ تعالیٰ سے ۔ اگر مرنے والے سے محبت ہے اور خالص اس کے لئے دعا کرنا ہے تو پھر دعا جہاں بھی کرو گے خلوص نیت سے کرو گے اور مرنے والا اگر مومن ہے تو بلاشبہ دعا اس کے حق میں بہتر ہوگی اور دعا مانگنے والے کے حق میں بھی بہتر اور مفید ہوگی لیکن اس میں اس اہتمام کی ضرورت آخر کیوں کہ دعا مرنے والے کے لواحقین ہی کے پاس جا کر کی جائے اور دعا کے آداب کو بھی ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے پھر دعا کیا کرنا ہے اے اللہ ہم کو معاف فرما اور مغفرت فرما اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی معاف فرما اور ان کی مغفرت فرما جو ہم سے پہلے تیری طرف لوٹ گئے اور اے اللہ ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لئے کوئی بغض نہ رکھ ۔ ایک گاؤں کے دو و ڈیرے جن کے ڈیرے الگ الگ ہوں ‘ جن کے حواری اور دوست و احباب الگ الگ ہوں اور دونوں آپس میں الیکشن لڑ چکے ہوں ‘ دونوں کی خاندانی رقابتیں چل رہی ہوں ‘ دونوں ایک دوسرے کے خلاف متحارب ہوں لیکن اتفاق سے ایک کی موت واقع ہوجائے تو دوسرا کیا کرتا ہے یہی کہ نہایت اہتمام کے ساتھ اس کے جنازے میں شریک ہوتا ہے ‘ اس کی فاتحہ خوانی میں شریک ہوتا ہے ‘ اس کے لئے دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا ہے ‘ دعا کرنے والوں کے ساتھ مل کر پکار پکار کر آمین کہتا ہے کیا وہ اپنے دل میں مرنے والے کے بارے میں کوئی بغض نہیں رکھتا تھا ؟ یقینا اس کا دل تو بغض وعداوت سے بھرا ہوا تھا لیکن کیا اب اس کے مرنے کے بعد اس کا دل اس کے متعلق صاف ہوگیا ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس پورے معاشرے کو دھوکا دینے کی کوشش نہیں کی ؟ کیا وہ اس طرح اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکا دے لے گا یا اس آیت کا مصداق ہوگا کہ (آیت) ” وما یخدعون الا انفسھم وما یشعرون “۔ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکا دینے والا ہمیشہ اپنی ہی ذات کو دھوکا دینے والا ہوتا ہے لیکن ہمارا ماحول یہ ہے کہ اس طرح دھوکا دے کر مرنے والے کی رسم میں شریک ہونے والے کو اچھی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور لوگ اس کی تحسین کرتے ہیں حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کی نافرمانی کر رہا ہوتا ہے بلکہ دھوکا دے رہا ہوتا ہے کہ اس طرح وہ مرنے والے کے لئے دعا نہیں کرتا جس طرح دعا کرنے کا اس کو حکم دیا گیا تھا اور اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتا ہے ۔ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے اندر اور اپنے ماحول کے اندر نگاہ پھیر کر دیکھیں اور سلامتی کے ساتھ خود ہی فیصلہ کرلیں کہ ہم کو حکم کیا ملا ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں ۔ 2۔ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں کے حق میں خود دعا فرمائی اور دوسروں کو بھی دعا کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا دعوۃ المرء المسلم لا خیہ بظھر الغیب مستجابۃ عند راسہ ملک موکل کلما دعا لاخیہ بخیر قال الملک الموکل بہ امین ولک بمثل (صحیح مسلم کتاب الذکر وال دعا حدیث 2733 ‘ سنن ابی داود حدیث 1534) ” ایک مسلمان جب اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے لئے دعا کرتا ہے تو وہ قبول ہوتی ہے اس آدمی کے پاس ایک نگران فرشتہ ہوتا ہے اور جب بھی آدمی اپنے بھائی کے لئے دعا کرتا ہے تو نگران فرشتہ آمین کہتا ہے اور کہتا ہے کہ تجھے بھی ایسا ہی ملے ۔ “ 3۔ جنازہ اس بات کی دلیل ہے کہ میت کے حق میں دعا کرنا ہی اصل چیز ہے کیونکہ جنازہ میں زیادہ حصہ انہیں دعاؤں کے لئے ہے اور آداب دعا کے لئے جنازہ کے اندر گڑ گڑا کر دعائیں مخصوص میت کے لئے میت کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہیں اور امام مرد کے سر کے برابر اور عورت کی میت ہو تو درمیان میں کھڑا ہوگا ۔ نماز جنازہ آہستہ بھی پڑھی جاسکتی ہے اور بلند آواز سے بھی ‘ چار سے نو تکبیرات پڑھی جاسکتی ہیں تاہم زیادہ روایات ہیں 4 تکبیرات سے جنازہ پڑھنا بیان ہوا ہے ۔ پہلی تکبیر میں فاتحہ اور کوئی سورت دوسری میں درود نماز کے تشہد کی طرح ‘ تیسری میں دعائیں اور چوتھی کے بعد سلام لیکن تکبیر اولی میں فاتحہ اور درود ملا کر بھی پڑھا جاسکتا ہے اور باقی تین تکبیروں کے بعد مختلف دعائیں بھی پڑھی جاسکتی ہیں جنازہ کے لئے ایک ہی طریقہ مناسب نہیں لوگوں کو عملا سب طریقوں کی تعلیم دینی چاہئے چونکہ دعا میت کے لئے اصل چیز ہے اور وہ سب طریقوں میں پڑھی جاتی ہے ۔ وضاحت ہماری کتاب قرۃ عینی فی الصلوۃ میں مل جائے گی اگر دیکھنا مطلوب ہو تو اصل کتاب سے دیکھ سکتے ہیں ۔ 4۔ مرنے والے کے ذمہ روزے باقی ہوں تو ان کی قضا دینا جائز ہے اگر روزے فرض روزوں میں سے ہوں یعنی رمضان کے روزے ہوں تو ان کے بدلے میں کھانا کھلایا جائے اگر روزے نذر کے ہوں تو میت کے قریبیوں میں سے کوئی ایک ان کی قضا دے دے اور دوسروں کو بتا دے کہ یہ ذمہ داری میں نے قبول کرلی ہے اور یہ روزے میت کے قرض کے ضمن میں آتے ہیں چونکہ قرض ادا کرنا ضروری ہے اس لئے اس قرض کو بھی ادا کردینا مناسب اور صحیح ہے ۔ 5۔ مرنے والے کی نیک اولاد جو بھی اچھا عمل کرے گی اس کا برابر اس کے والدین کو فائدہ ہوگا اور ان کے اپنے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی اس میں نہ تو مرنے والے کی نیت سے کوئی تعلق ہے کہ ان کی نیت سے عمل کیا گیا ہے بلکہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ اولاد بذاتہ والدین کے عمل کا نتیجہ ہے اور اس کی پرورش بھی والدین کا اپنا عمل ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ان اطیب ما اکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ (سنن ابی داؤد و کتاب البیوع حدیث 3528 ‘ سنن الترمذی کتاب الاحکام حدیث 1358) ” سب سے پاکیزہ غذا آدمی کی اپنی کمائی ہے اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی میں شمار ہوتی ہے ۔ “ یہ وجہ ہے کہ اولاد کا ہر نیک عمل مسلم والدین کے لئے خیر و برکت کا باعث ہوتا ہے ۔ 6۔ مرنے والا اپنے بعد ایسے اعمال چھوڑ جائے جو اس کے مرنے کے بعد بھی جاری رہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ونکتب ما قدموا واثارھم “۔ (یس 36 : 12) ” جو کچھ افعال انہوں نے کئے ہیں وہ سب ہم لکھ رہے ہیں اور جو کچھ آثار انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ثبت کر رہے ہیں ۔ “ اور رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اذا مات الانسان انقطع عنہ عملہ الا من ثلاثۃ (اشیاء) من صدقۃ جاریۃ او علم ینفع بہ او ولد صالح یدعولہ (صحیح مسلم کتاب الوصیۃ حدیث 1631) ” جب انسان مر جاتا ہے تو ان تین چیزوں کے سوا اس کا اعمال نامہ منقطع ہوجاتا ہے ۔ (1) جاری رہنے والا نیک عمل ۔ (2) ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں (3) نیک اولاد جو اس کے حق میں دعا کرے ۔ “ 7۔ مرنے والے نے کوئی وصیت کی ہو یا اس کی خواہش کے متعلق لواحقین کو معلوم ہو اگرچہ وہ مرتے وقت اس سلسلہ میں کوئی بات نہ کرسکا ہو تو بھی اگر وہ وصیت جائز ہے یا اس کی خواہش اسلام کے مطابق ہے تو اس کو اس کے لواحقین پورا کردیں گے تو اس کو فائدہ ہوگا کیونکہ یہ بات بھی مرنے والے کی اپنی نیت سے متعلق ہے بلکہ جائز وصیت کو پورا کرنا نہایت ضروری ہے جو اس کے ترکہ سے کی جائے گی لیکن وصیت پر قرض کو اولیت دی جائے گی اور سب سے پہلے اس کو ادا کیا جائے گا اگر اس کے پاس اتنا اثاثہ موجود نہ ہو تو اسلامی حکومت کے ذمہ وہ قرض لازم ہوتا ہے اگر لواحقین اس کو اتاریں تو بھی جائز ہے ۔ (الاذکار ص 150 باب وصیۃ المیت) قبر پر یا قبرستان میں جو کام کرنا حرام ہیں ان کا ذکر : کسی مخصوص قبر یا قبرستان کے قریب مندرجہ ذیل کام حرام ہیں : 1۔ اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کرنا بھی قبر کے پاس یا قبرستان میں جائز نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے سخت منع فرمایا ہے ۔ (سنن ابی داؤد کتاب الجنائز حدیث نمبر 3222) 2۔ قبر پر کسی طرح کی کوئی عمارت بنانا جیسا کہ ہمارے ملک میں روضے بنانے کا رواج عام ہے جیسا کہ بزرگوں اور ملک کی بڑی شخصیتوں کی قبروں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الجنائز حدیث 1564) 3۔ گچ وغیرہ سے قبر کو لیپ دینا بھی حرام ہے ۔ (صحیح مسلم کتاب الجنائز حدیث 970 ‘ ابی داؤد حدیث 3225 ‘ 3226) 4۔ قبروں پر کچھ لکھنا (ایضا) 5۔ قبروں کو بہت زیادہ اونچا کرنا (ایضا) 6۔ قبر پر بیٹھنا اور قبروں پر سے گزرنا (ایضا) 7۔ قبر کے قریب یا قبر کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنا ۔ (الترمذی کتاب الصلوۃ حدیث 317) 8۔ کسی قبر کے قریب مسجد بنانا جس طرح آج کل مزاروں کے قریب ضرور مسجد بنائی جاتی ہے ۔ (سنن ابی داؤد کتاب الصلوۃ حدیث 492) 9۔ قبروں پر ملہ لگانا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” لا تتخذوا قبری عیدا “ کہ میری قبر کو عید یعنی میلہ نہ بنا لینا۔ (مسند احمد ج 2 ص 367 حدیث 8790) 10۔ سفر کر کے قبروں کی زیارت کے لئے جانا بھی حرام ہے کیونکہ تین مسجدوں کے سوا کسی اور جگہ بغرض ثواب سفر کرنا جائز نہیں تو ظاہر ہے کسی قبر کے لئے بھی یا کسی دوسری متبرک جگہ کی بھی سیر کرنے کے لئے جانا صحیح نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ۔ (صحیح بخاری اور صحیح مسلم حدیث نمبر 1297 ‘ 1132 ‘ علی الترتیب) میت کے متعلقین سے تعزیت کرنا شرعی حکم ہے اس کا طریقہ ؟ : (1) حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب تشریف رکھتے تو کئی ایک صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین آپ ﷺ کی خدمت میں آکر بیٹھ جاتے ان میں سے ایک صاحب کا چھوٹا سا بچہ تھا وہ اس کو اپنی پشت پر بٹھا کر لاتا اور اپنے سامنے بٹھا لیتا رسول اللہ ﷺ نے ایک بار دریافت کیا کہ تم اس سے محبت کرتے ہو ؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ آپ سے ایسی محبت فرمائے جیسی میں اس سے محبت کرتا ہوں ۔ وہ بچہ فوت ہوگیا چناچہ وہ آدمی اپنے بیٹے کی یاد اور غم کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی محفل میں حاضر نہ ہوسکا ، آپ ﷺ نے جب اسے نہ دیکھا تو دریافت کیا میں فلاں آدمی کو نہیں دیکھ رہا ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے کہا اس کا جو بچہ آپ ﷺ نے دیکھا تھا وہ فوت ہوگیا ۔ چناچہ آپ ﷺ نے اس سے ملاقات کی اور اس بچے کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ وہ تو وفات پا گیا ۔ آپ ﷺ نے اس سے اظہار ہمدردی کی ” فعزاہ علیہ “ پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے فلاں ! تجھے کونسی صورت پسند ہے یہ کہ تم اس سے دنیا میں فائدہ اٹھاتے یا کل قیامت کے روز وہ تجھ سے آگے بڑھ کر تمہارے لئے جنت کا دروازہ کھول دے ؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے زیادہ پسند ہے کہ وہ آگے بڑھ کر میرے لئے جنت کا دروازہ کھول دے تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو تیرے لئے طے ہوچکا ہے ۔ (پاس بیٹھے ہوئے ایک) انصاری نے دریافت کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں قربان جاؤں (جعلنی اللہ فدائک) یہ اس کی خصوصیت ہے یا ہم سب کے لئے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ یہ تم سب کے لئے ہے ۔ “ (سنن نسائی کتاب الجنائز حدیث 2088 ‘ مستدرک حاکم ج اول ص 384 سندہ صحیح) مختصر یہ کہ احادیث اور تاریخ میں جتنے واقعات مذکور ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی کے ہاں تعزیت کے لئے تشریف لے گئے تو ہر واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اس جنازہ کا معلوم نہیں ہوا یا آپ ﷺ وہاں موجود نہیں ہوئے تو کسی کی وفات ہوئی کسی واقعہ سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ جنازہ سے قبل آپ وہاں پہنچ گئے تو بھی آپ ﷺ نے لواحقین کو صبر کی تلقین کی جیسا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیٹی کے ہاں ان کے بیٹے کی اطلاع پاتے ہی تشریف لے گئے تو جاتے ہی بیٹی سے اظہار ہمدردی کے الفاظ کہے ۔ (صحیح بخاری کتاب الجنائز حدیث 1224) اور اسی طرح آپ ﷺ ایک انصاری عورت کے بچے کی وفات پر ان کے گھر تشریف لے گئے اور اس کو صبر کی تلقین کی اور جزع فزع سے منع کیا ۔ (مسند البزار حدیث 857 مستدرک حکم ج اول ص 3984) ابوسلمہ کی وفات کے وقت رسول اللہ ﷺ ام سلمہ کے ہاں تشریف لے گئے دیکھا تو ابھی بو سلمہ کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں آپ ﷺ نے ان کی آنکھیں بند کیں ‘ واویلا کرنے والوں کو منع فرمایا اور ابو سلمہ کے لئے دعا فرمائی اللھم اغفرلا بی سلمۃ وارفع درجتہ فی المھدیین واخلفہ فی عقبہ فی الغابرین واغفرلنا ولہ یا رب العالمین وافسح لہ فی قبرہ ونورلہ فیہ (صحیح مسلم کتاب الجنائز حدیث 920) ” اے اللہ ! ابو سلمہ کی مغفرت فرما ‘ آخرت میں اس کے درجات بلند فرما ۔ اے اللہ ! پسماندگان کا والی بن جا ‘ اے رب العالمین ہماری اور اس کی بخشش فرما ‘ اس کی قبر کو کشادہ کر کے نور سے بھر دے ۔ “ قابل غور امر یہ ہے کہ ابو سلمہ کی ابھی جان ہوا ہوئی تھی اور میت آپ کے سامنے رکھی تھی اور آپ اپنی زبان سے اس کی میت کو دیکھ کر یہ الفاظ نکال رہے تھے لیکن ہمارے ہاں رواج کیا ہے ؟ یہی کہ جب تک مردے کو دفن نہ کردیا جائے ہم دعائیہ الفاظ منہ سے نکال ہی نہیں سکتے کہ مرنے والے کو قبر میں رکھنے کے بعد ہی ان کے حق میں دعا کی جاسکتی ہے اور پھر جو کچھ اس دعا کے ساتھ کرتے ہیں وہ سب کو معلوم ہے اور اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ۔ میں نے غالبا عروۃ الوثقی کی دوسری جلد میں ایک عالم کے نام کے ساتھ (رح) کا لفظ لکھ دیا تو مجھے ایک خط آیا کہ آپ نے اس کو زندگی ہی میں (رح) لکھ دیا گویا زندوں کے لئے رحمت ومغفرت کی دعا ممنوع ہے حالانکہ خط لکھنے والے ایک صاحب علم ہیں لیکن رواج کی چھاپ اتنی سخت ہوتی ہے کہ اس کی زد سے کلی طور پر شاید ہی کوئی بچ سکے حالانکہ زندوں کے لئے بخشش اور رحمت کی دعا کرنا کوئی ممنوع نہیں کیا گیا بلکہ حکم دیا گیا ہے ، خیال رہے کہ ہم دعا میں ہاتھ اٹھانا اور پھر خاص حالت بنانا اور لواحقین کے پاس جا کر مخصوص طریقہ سے دعا کرنا اور اس طرح دعا کی حالت کو خراب کرنا کہ الامان والحفیظ ۔ تعزیت اور دعا دونوں ملا دینا اور مخصوص طریقہ کا دعا میں التزام کرنا ضروریات اسلام نہیں ہیں بلکہ یہ ساری رسومات ہیں اور ان کو بدعات ہی کے نام سے موسوم کیا جاسکتا ہے یہ کوئی مشروع طریقہ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کر توفیق عطا فرمائے اور سنت کے مطابق عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ وہ بدعات جو سنت رسول اللہ ﷺ سے زیادہ اہمیت حاصل کر گئیں : عوام و خواص آج کل جن بدعات کو کرتے ہیں اور ان کو اس قدر ضروری سمجھتے ہیں کہ ان کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی سنت کی کوئی حیثیت ہی باقی نہیں رہی ان کو نہایت ہی اہمیت حاصل ہوچکی ہے ان کی چند مثالیں اس جگہ پیش کی جارہی ہیں تفصیل کا یہ مقام نہیں ۔ 1۔ مرنے والے کے ساتھ جو شفقت نبی رحمت ﷺ کو تھی کیا اس کا سواں حصہ بھی ان وقت کے ملاؤں کو حاصل ہو سکتی ہے ؟ یقینا نہیں تو آپ ﷺ نے میت پر رحمت کی نیت سے قبروں پر قرآن کریم پڑھنے کا حکم کیوں نہ دیا اور پھر آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین میں سے کسی ایک کو بھی یہ خیال کیوں نہ آیا ؟ کیا جو کام نہ نبی کریم ﷺ نے کیا ہو اور نہ ہی آپ ﷺ کے کسی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے اسلام کی نظر میں اس کو بدعت نہیں کہا جائے گا ؟ کیوں نہیں یقینا بدعت کہا جائے گا ۔ غور کرو پھر اس وقت جو اہمیت اس کو دی گئی ہے کسی دوسرے سنت عمل کو بھی دی گئی ہے ؟ ۔ 2۔ بلاشبہ قرآن کریم سمجھ کر پڑھنے والے کے لئے بذاتہ عبادت ہے بندہ اس کی تلاوت اور اس کی سماعت سے اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے اس میں کسی کو کلام نہیں لیکن میت کی گردن کو دوزخ سے نجات دلانے کے لئے قرآن کریم پڑھنا کہاں سے نازل ہوگیا ؟ کیا قرآن کریم مردوں کو دوزخ سے نجات دلانے کے لئے نازل ہوا یا زندوں کو دوزخ کی آگ سے بچانے کے لئے بطور نصیحت نازل ہوا ہے اس کا فیصلہ قرآن کریم ہی سے پوچھ لیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان ھو الا ذکر وقران مبین ، لینذر من کان حیا ویحق القول علی الکفرین “۔ (یس 36 : 69 ‘ 70) ” یہ تو ایک نصیحت ہے اور صاف پڑھی جانے والی کتاب ہے تاکہ وہ ہر اس شخص کو خبردار کر دے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پر حجت قائم ہوجائے ۔ “ غور وفکر کرو اس طرح قرآن کریم کی محبت منکرین پر قائم ہو رہی ہے یا نہیں کہ قرآن کریم زندوں کے لئے ہے مردوں کے لئے نہیں لیکن اس کے باوجود آج مسلمانوں کی اکثریت اس بدعت کو اس پابندی کے ساتھ کر رہی ہے کہ کوئی سنت بھی اس اہتمام کے ساتھ ادا نہیں کی جاتی ۔ 3۔ قرآن کریم کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ اطاعت اور عمل کرنے والے کو انعام کی بشارت دے اور نافرمانوں کو سزا کی وعید سنائے ۔ یہ اس لئے نازل ہوا تھا کہ ہم اس کے ذریعے اپنے نفوس کو سنواریں اور اپنے حالات کی اصلاح کریں ‘ اس کی ہدایت پر لوگ عمل کریں اور اس کی راہنمائی کے مطابق دنیوی زندگی گزاریں چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ (آیت) ” ان ھذا القران یھدی للتیھی اقوم ویبشر المومنین الذین یعلمون الصلحت ان لھم اجرا کبیرا وان الذین لا یؤمنون بالاخرۃ اعتدنا لھم عذابا الیما “۔ (بنی اسرائیل 17 : 9 : 10) ” بلاشبہ یہ قرآن اس راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھی راہ ہے اور ایمان والوں کو جو نیک عمل میں سرگرم رہتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ انہیں بہت بڑا اجر ملنے والا ہے اور جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے ان کے لئے ہم نے عذاب دردناک تیار کر رکھا ہے ۔ “ غور کرو کہ رسم قل ‘ ساتویں ‘ دسویں اور چالیسویں میں کیا پڑھا جاتا ہے ؟ قرآن کریم کیا یہ رسمیں زندوں کے لئے ادا ہوتی ہیں یا مردوں کے لئے ؟ کیا ان رسومات میں سے کسی رسم کا وجود نبی کریم ﷺ کی زندگی میں بھی موجود تھا یا عہد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین میں ؟ یقینا نہیں تو پھر ان بدعات ہی کو آج اسلام کا ستون سمجھ کر ادا کیا جا رہا ہے جب کہ ان میں سے کسی ایک رسم کا تعلق بھی اسلام کے ساتھ نہیں ہے ، ان بدعات کو گویا وہ اہمیت حاصل ہے جو کسی سنت رسول کو بھی حاصل نہیں اور یہی گمراہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے ۔ 4۔ غور کیجئے کہ کیا آپ نے کبھی یہ بھی سنا ہے کہ آسمانی کتابوں میں سے کوئی ایسی کتاب بھی تھی جو مردوں پر پڑھی جاتی تھی یا جس کو پڑھ کر مزدوری یا صدقہ لیا جاتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے تو اپنے رسول کو یوں ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” قل ما اسئلکم علیہ من اجر وما انا من المتکلفین ، ان ھو الا ذکر للعلمین ، ولتعلمن نباہ بعد حین “۔ (ص 38 : 86 تا 88) ” اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان سے کہہ دو کہ میں اس پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی میں بناوٹی لوگوں میں سے ہوں یہ تو ایک نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لئے اور تھوڑی مدت ہی گزرے گی کہ تم کو اس کا حال خود بخود معلوم ہوجائے گا ۔ “ کیا نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کو معلوم نہیں تھا کہ جو لوگ خطاء معصوم نہیں ہیں ان کو گناہوں کے کفارہ اور مرتبہ کی بلندی کی سخت حاجت ہے لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ کی سنت تو یہ رہی کہ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کو دفن فرماتے تھے اور لوگ اپنے اپنے کام پر چلے جاتے تھے کبھی بھی آپ ﷺ یا آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کسی مرنے والے پر قرآن کریم نہ پڑھتے تھے ‘ نہ قبر پر اور نہ اس کے گھر جا کر ‘ نہ اس کے لئے کوئی مجلس بٹھا کر پھر تم نے یہ بدعات کیوں جاری کیں اور ان بدعات کو سنت رسول اللہ ﷺ پر کیوں فوقیت دے دی اور محض ملاؤں نے ان رسوم کو اپنے پیٹوں کو جہنم کی آگ سے بھرنے کے لئے روا رکھا اور ان کی اس طرح تشہیر کر رہے ہیں کہ اس طرح کسی اسلام کے کام کی تشہیر بھی نہیں کی جاتی اور چند سالوں سے رسم قل تو مسجدوں میں ادا کی جانے لگی ہے اور دیکھتے ہیں کہ باقی رسومات کو مسجد میں کب لایا جاتا ہے کیوں کہ ملاؤں کی تائید ان کو حاصل ہے اور ان کو اپنے پیٹوں کا دوزخ بھرنے کے لئے اسی سے وافر سامان مہیا ہوتا ہے اور لوگوں کو بیٹھنے اور کھانے کی جگہ آرام سے میسر آتی ہے ۔ خلاصہ کلام صاحب تفسیر المنار علامہ رشید رضا کی زبان وقلم سے : صاحب تفسیر المنار علامہ رشید رضا مصری نے سورة الانعام کی آیت 164 کی تفسیر میں ایک لمبی بحث کے بعد تحریر فرمایا ہے کہ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ” قرآن خوانی اور ادوار ووظائف کا ثواب مردوں کو بخشنے کا جو رواج عام ہوگیا ہے نیز اجرت پر قرآن کریم پڑھوانے اور اس مقصد کے لئے جائیداد وقف کرنے کا جو چلن عام ہو چلا ہے وہ سب کا سب بدعت اور غیر شرعی عمل ہے اور اسی طرح ” اسقاط الصلوۃ “ کا مسئلہ ہے اگر ان باتوں کی دین اسلام میں کوئی اصل ہوتی تو ہمارے اسلام اس سے ناواقف نہ رہتے ہماری حدیث کی کتابوں میں اس کا ذکر عام ہوتا ‘ اگر محدثین اور امت کے مشہور آئمہ کے زمانہ میں بھی اس کا کوئی ذکر ہوتا تو وہ یقینا اس کو اس طرح بےکار اور مہمل نہ چھوڑ جاتے ‘ ضرور اس پر عمل کرتے اور یاد رکھو کہ سورة یس کو مردوں پر پڑھنے کی جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں سب ضعیف اور کمزور ہیں اور کوئی چیز بھی ان میں سے صحیح نہیں ہے اور اس کی پوری وضاحت محدث دار قطنی نے بیان کردی ہے جس میں کوئی پہلو بھی تشنہ نہیں رہتا ۔ معلوم ہونا چاہئے کہ آج شہروں اور دیہاتوں میں مردوں کے لئے فاتحہ پڑھنے کا رواج جو عام ہوگیا ہے اس بارے میں بھی نہ کوئی صحیح حدیث ہے ‘ نہ ضعیف اور نہ موضوع کیونکہ حدیث کی کسی قسم میں بھی اس رسم کا ذکر نہیں ہے جس سے اس کے بدعت ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں رہتا ۔ بلاشبہ یہ ایک بدعت ہے جو دلائل اور نصوص قطعیہ کے سراسر منافی ہے ‘ اس کا رواج تو محض اس لئے پڑگیا کہ نام نہاد علماء جبہ پوش نے اس پر پہلے چپ سادھ لی اور جب عوام اس کے ساتھ چپک گئے تو انہوں نے اس کے جواز کے لئے مواد گھڑنا اور بیان کرنا شروع کردیا اور اس طرح انہوں نے دوزخ کا ایندھن اکھٹا کرنے کے لئے اس کو سنت مؤکدہ بلکہ فرض کا درجہ دے دیا ۔ بلاشبہ یہ مسئلہ امور تعبدیہ میں سے ہے جس کا دارومدار کتاب وسنت کی دلیل اور قرن اول کے لوگوں کا عمل ضروری ہے اور وہ بالاتفاق میسر نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خاص رشتہ داروں کو اللہ کا حکم پہنچاتے ہوئے ارشاد فرمایا اعملو الا اغنی عنکم من اللہ شیئا۔ ” لوگو ! اے اہل قریش ! اے میرے خاندان کے لوگو ! عمل کرو میں تم کو اللہ کی طرف سے کچھ بھی فائدہ نہ پہنچا سکوں گا ۔ “ یہ بات پہلے واضح کی جا چکی ہے کہ آخرت میں نجات کا دارومدار ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ نفس کو صاف ستھرا کرنے پر ہے ۔ بات ہماری لمبی ہوچکی ہے اس لئے علامہ رشید رضا کے اس کلام پر ہم بات کو ختم کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے اور ہدایت پر قائم ودائم رکھے ۔ ” وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب۔