31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 31:34

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

بلاشبہ قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی جانتا ہے جو کچھ (ماؤں کے) پیٹ میں ہے اور کسی نفس کو علم نہیں کہ کل وہ کیا کام کرے گا اور نہ کسی نفس کو یہ خبر ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا ، بلاشبہ اللہ بڑا جاننے والا خبر رکھنے والا ہے

علوم خمسہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کے لئے خاص ہیں وہی غیوب کا جاننے والا ہے : 34۔ ” اس گھڑی کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے “ (الساعۃ) کے معنی قیامت کی گھڑی ، قیامت کا ذکر قرآن کریم نے بار بار کیا ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ قرآن کریم کے مخاطبین اول یعنی قریش مکہ کو اس سے کلی طور پر انکار تھا بلکہ ان کو اس نظریہ سے ایک چڑ سی ہوگئی تھی کیونکہ مکی سورتوں میں سے ایک سورت بھی ایسی نہیں خواہ وہ تین چار آیتوں ہی پر مشتمل کیوں نہ ہو جس میں اس گھڑی کا ذکر نہ کیا گیا ہو بلکہ اس کے لئے استعارات ‘ اشارات اور محاورات سے کام لے کر اس کی بار بار تفصیل سامنے لائی گئی گویا جس چیز سے ان کو چڑ تھی اس چیز کو ان کے سامنے بار بار مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا اور ان سے جواب طلبی کی گئی اور اس طرح ان پر سوال کئے گئے کہ وہ جواب دینے سے قاصر رہے ۔ اس جگہ بھی ان کو بتایا جارہا ہے کہ تم کو ان سارے سوالوں کا ایک جواب آتا ہے کہ لے آؤ اس گھڑی کو اگر تم سچے ہو تو ہم اعلان کرکے پرزور الفاظ میں تم کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ اس کا علم اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کو ہے کہ وہ گھڑی یعنی قیامت کب آئے گی اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص ہے میں تو تم کو صرف اس کی اطلاع دینے والا ہوں ‘ اس کا متعین وقت بتانے والا نہیں کو ن کہ اس نے اس متعین وقت کا علم کسی کو بھی عطا نہیں کیا اور میری حالت یہ ہے کہ جو اس نے بتایا اس کو چھپا نہیں سکتا اور جو اس نے نہیں بتایا اس کو اپنے پاس سے بتا بھی نہیں سکتا ۔ اس گھڑی کے متعلق جتنی باتیں اس نے مجھ کو بتائیں میں نے بھی تم کو بتا دیں جیسا کہ ابھی گزشتہ آیت میں ذکر گزر چکا اور جو باتیں مجھے نہیں بتائیں بلاشبہ وہ اس نے کسی کو بھی نہیں بتائیں اور انہیں باتوں میں سے ایک قیامت کا صحیح وقت بھی ہے اور متعین دن اور تاریخ بھی ہے ، نہ اس نے اس کا علم مجھے عطا کیا اور نہ ہی کسی اور کو لہذا نہ تو میں ہی اس دن کے متعلق تم کو بتا سکتا ہوں اور نہ ہی میرے علاوہ کوئی دوسرا تم کو بتلا سکتا ہے لیکن اس کا متعین دن اور وقت نہ بتانے سے نہ تو یہ لازم آتا ہے کہ وہ سرے سے کوئی چیز ہی نہیں ہے اور نہ یہ لازم آتا ہے کہ جو اس کا وقت متعین نہ بتا سکے وہ اس کا ذکر ہی نہ کرے اور نہ اس پر یقین رکھے کیونکہ یہ ایک ہی بات نہیں بیسیوں بلکہ سینکڑوں باتیں اور چیزیں ایسی ہیں کہ ان کا ہونا ہم جانتے ہیں بیان کرتے ہیں لیکن یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ کس وقت ہوگی اور کتنی مقدار میں ہوں گی اور یہ بھی کہ ان میں ‘ میں اور تم سب برابر ہیں ، ان میں سے چار کا ذکر اس جگہ کیا گیا اور چاروں ہی اس کے لئے دلیل کے طور پر ارشاد ہوئی ہیں ۔ 2۔ ” وہی بارش برساتا ہے ۔ “ اور وہی جانتا ہے کہ بارش کب ہوگی اور کتنی ہوگی اور اس بارش کا نتیجہ کیا رہے گا ؟ غور کرو کہ آج سائنسی علوم ترقی کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گئے ، اس زمین اور اس فضا کا چپہ چپہ لوگوں نے چھان مارا لیکن آج بھی یہ حقیقت اپنی جگہ اسی طرح قائم ہے اس پر سرمو فرق نہیں آیا ۔ بارش کیوں برستی ہے ‘ کیسے برستی ہے اور کہاں سے برستی ہے ؟ اس سلسلہ میں بیسیوں حقائق پوشیدہ تھے جو اب روز روشن کی طرح ظاہر ہوچکے ہیں اور ان میں سے کتنے ہیں جو ہم مشاہدہ کرسکتے ہیں اور کتنے ہیں جن کو ان ظاہری نظروں سے مشاہدہ نہیں کرسکتے مگر آلات کی مدد سے وہ مشاہدہ کئے جاسکتے ہیں ، قابل غور بات اس سلسلہ میں یہ ہے کہ جو کچھ سائنس کہتی ہے یہ صرف اس کی دریافت ہے یا اس کی تخلیق وپیدائش جہاں تک ہم کو علم ہے ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب کچھ دریافت ہے اور ابھی بہت کچھ ہے جو دریافت نہیں ہوا اگر یہ محنت جاری رہی تو یقینا وہ بھی دریافت ہوگا ۔ کسی چیز کا دریافت کرنا بلاشبہ خوبی ہے لیکن تخلیق وپیدائش اصل چیز ہے تو وہ کس نے کی اور کون کر رہا ہے ‘ یہ سارا نظام جس نظام کے تحت بارش برستی ہے کس نے چلایا ہے ‘ وہ کون ہے جس نے سورج بنایا اور اس میں اس قدر تمازت رکھی کہ وہ کروڑوں میل ہماری زمین سے دور ہونے کے باوجود اس کے پانی کو کھینچ لے جانے میں مصروف ہے ، پانی کو بھاپ میں بدلا تو کس نے پھر اس عمل کثیر سے اربوں ٹن پانی اٹھا کر فضا میں پھیلا دیا تو کس نے ، اس فضا میں پانی کی اتنی مقدار ہونے کے باوجود وہ فضا کی کسی چیز کو خراب نہیں کرتا آخر کیوں ؟ لاکھوں انسان اس ریسرچ میں لگے ہوئے ہیں اور اربوں ‘ کھربوں روپے انہوں نے خرچ کئے تو صرف یہ معلوم ہوا کہ بارش برسنے کے یہ اسباب ہیں ۔ پھر موسمیات والے جو کچھ کہتے ہیں وہ ابھی تک تخمینہ اور اندازہ ہے ۔ تخمینہ اور اندازہ اور چیز ہے اور حقیقت اور شے کا نام ہے ، وہ حقیقت کس کے قبضہ قدرت ہیں ہے تعجب ہے کہ انسان یہ تخمینہ اور اندازہ لگانے والوں پر تو تعجب کا اظہار کرے اور جس کے قبضہ قدرت میں اصل حقیقت ہے اس کی طرف سے بالکل غافل ہوجائے ۔ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ تخمینہ اور اندازہ کتنا غلط ثابت ہوتا ہے اور حقیقت میں جس کے قبضہ وقدرت میں یہ سارا نظام ہے وہ ثابت کر دکھاتا ہے کہ اس سارے نظام پر اصل کنٹرول میرا ہے اور جو میں چاہوں گا دراصل وہی ہوگا اور بلاشبہ جو وہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے ۔ مختصر یہ کہ قرآن کریم کی بیان کردہ حقیقت کہ ” بارش وہی برساتا ہے “ اس کے علم میں ہے کہ بارش کہاں ہوگی اور کتنی کتنی ہوگی اور اس سے کیا کیا نفع کی نوعیت کیا کیا نفع پیدا ہوں گے اور کیا کیا نقصان پھر وہ نفع کس کس کا پہنچے گا اور نقصان کس کس کا ہوگا ۔ جس کو نفع پچے اس گا اس کے نفع کی نوعید کیا ہوگی اور نقصان کی نوعیت کیا اور اب انسان کو اعتراف ہیی کہ وہ بہت کچھ جاننے کے باوجود ابھی کچھ نہیں جانتا ، کیوں ؟ اس لئے کہ اصل جاننے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے انسان کو جو کچھ ملا ہے اس کی طرف سے ملا ہے ‘ اس میں انسان کا اپنا کوئی کمال نہیں کیونکہ انسان نے جو جانا وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کی تخلیق ہے اور جس نے جانا وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی تخلیق ہے اور جتنا جانا وہ بھی اسی کی تخلیق کا ایک حصہ ہے اور ابھی بہت کچھ ہے جس کو انسان نے نہیں جانا اور اللہ تعالیٰ کے وہ علم میں ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ آج سائنس دان زیادہ تر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے تخیل سے نا آشنا ہے اس لئے جو کچھ اس نے دریافت کیا اس کے متعلق وہ یہ فیصلہ نہیں کرسکا کہ یہ جو آج تک مستور تھا وہ کیوں تھا اور کس نے اس کو مستور رکھا اور جتنا معلوم ہے وہ اتنا ہی ہے یا ابھی اس کا بہت سا حصہ وہ دریافت نہیں کرسکا اور وہ جو دریافت نہیں کرسکا اس کو بھی کوئی جانتا ہے یا نہیں ؟ اگر اللہ تعالیٰ یہ توفیق مسلم سائنس دانوں کو بھی عطا فرما دیتا اور وہ بھی اس دریافت میں برابری کے طور پر حصہ لیتے تو وہ ان کا بتا دیتے کہ تم ابھی کہاں پہنچے ہو اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے اس کی وسعت کو کہاں تک پھیلایا ہوا ہے اور وہی اس سارے نظام کا مالک حقیقی ہے ، تمہاری حالت تو اس عورت کی سی ہے جو آگ لینے آئی اور گھر کی مالک بن بیٹھی ، تمہاری ویلیو اس مالک حقیقی کے سامنے کیا ہے ‘ جس کی ملکیت میں تم بھی ہو اور تمہارا یہ سارا علم بھی ‘ جس کو تم نے دریافت کیا اور وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تم کو یہ صلاحیتیں بخشیں اور وہی ہے جس نے یہ سارا نظام بنایا اور چلایا اور تم کو اس نے تجربات کا موقعہ فراہم کیا اور تم ہو کہ اتنی بات دریافت کرکے پھولے نہیں سماتے اور اپنے سے باہر نکل رہے ہو حالانکہ وہ چاہے تو آن کی آن میں تمہارا نام ونشان ہی مٹا کر رکھ دے ۔ بلاشبہ تم اس کی تخلیق ہو اور اس کی ملکیت ہو تم تسلیم کرو یا نہ کرو تم نے جن سے سیکھا وہ کہاں ہیں ؟ اور کل تم کہاں چلے جاؤ گے ؟ تم بہت کچھ جاننے کے باوجود ابھی تک اس بات سے غافل ہو کہ تم اپنی مرضی سے نہیں آئے اور اپنی مرضی سے نہیں جاؤ گے اگر تم کو اس بات پر یقین ہوتا تو تم اپنے بھیجنے والے اپنے لے جانے والے کو پہچانتے ہوتے ۔ بہرحال تم پہچانو یا نہ پہچانو ! تمہارا بھیجنے والا بھی اللہ ہے اور تمہیں یہاں سے واپس لے جانے والا بھی وہی اور بلاشبہ وہی جانتا ہے کہ بارش کہاں ہوگی اور کتنی ہوگی اور وہی بارش کو اتارنے والا ہے ۔ 3۔ ” وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پارہا ہے ۔ “ وہی جانتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ وہی ہے جو خود بخود جانتا ہے کہ فلاں مادہ کے رحم میں مذکر پرورش پارہا ہے یا مؤنث ۔ ایسا نہیں کہ اس کو کسی نے بتایا ہو گویا بغیر بتائے جانتا ہے اور دنیا میں کوئی ایسا نہیں جو بغیر کسی کے بتائے یہ جان جائے کہ اس مادہ کے رحم میں مذکر ہے یا مؤنث یہاں تک کہ وہ مادہ خود بھی اس کا علم بغیر کسی کے بتائے نہیں رکھتی اور کسی کے بتانے سے اگر کوئی جان جائے تو اس کو غیب نہیں کہتے ۔ غیب کہتے ہی اس کو ہیں جو بغیر کسی کے بتائے جانتا ہو اور ظاہر ہے کہ کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو اس بات کا علم رکھتا ہے اور خود بخود رکھتا ہے نہ کہ اس کو کسی نے بتایا ہے اگر انسان نے ایسے آلات ایجاد کر لئے ہیں اور وہ ان کی مدد سے یہ بتا سکتا ہے کہ اس مادہ کے رحم میں نر پرورش پا رہا ہے یا مادہ تو ظاہر ہے کہ اس انسان کو بھی کوئی بتانے والا ہے بغیر کسی کے بتائے وہ نہیں بتا سکتا اگرچہ جس نے اس کو بتایا وہ ایک آلہ ہے لیکن یہ آلہ کس نے ایجاد کیا ہے اور جس چیز سے یہ آلہ تیار ہوا وہ میٹریل اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے اور وہ چیز جس سے کسی نے اس آلہ کو تیار کیا وہ بھی اللہ تعالیٰ کی تخلیق یعنی موجد کا دماغ اور بنانے والے کی عقل وفکر اور جس نے اس آلہ کا استعمال کیا اس کی عقل و دانش پھر یہ بتانے والا کون ہے ؟ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس میٹریل میں اور موجد کے دماغ میں یہ صلاحیت رکھی ‘ انسان کا جو کمال ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیت سے ان صلاحیتوں کو دریافت کیا اور اگر دریافت کرنے والے کا یہ کمال ہے تو کیا یہ صلاحیتیں پیدا کرنے والے کا کوئی کمال نہیں ؟ بلاشبہ اصل کمال تو اسی کا ہے جس نے یہ صلاحتیں مخلوق کیں اور اپنی اس اشرف المخلوق انسان کو ان سے کام لینے کی صلاحیت ودیعت کردی ۔ پھر غور کرو کہ کیا کسی سے بات سن کر آگے پہنچانے والا اصل جاننے والا ہے یا جس کی بات اس نے آگے پہنچائی ہے وہ اصل جاننے والا ہے ؟ ظاہر ہے کہ جس کی بات آگے پہنچائی گئی وہ اصل ہے کیونکہ وہ پیغام اس کا تھا جو آگے پہنچایا گیا ، پیغام پہنچانے والا تو ایلچی ہے جس کی حیثیت پیغام سنانے والے کے سوا کچھ نہیں ہے اور جس کی طرف سے پیغام سنایا گا ت اور جو یہ پیغام بھجوانے والا ہے وہ بلاشبہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے اور وہی اصل جاننے والا ہے اور یہی قرآن کریم کا دعوی ہے جو آج بھی بلاشبہ اپنی جگہ پر اسی طرح قائم ہے اور رہتی دنیا تک قائم رہے گا ۔ کسی ماں کے رحم میں پرورش پانے والی چیز کہاں سے آئی اور کیسے آئی ‘ فطری طریقہ پر آئی یا غیر فطری طریقہ سے رکھی گئی ‘ شرعی طور پر حرام طریقہ سے آئی یا حلال طریقہ سے ۔ اس جگہ یہ پرورش پاجائے گی یا یہ پرورش کے دوران ہی ڈیڈ ہوجائے گی ، اس کے پرورش پا جانے کے بعد اس کے اخراج کا طریقہ کیا ہوگا ‘ فطری یا غیر فطری پھر اگر یہ صحیح طریقہ سے وضع ہوگئی تو آنے والی پرورش میں اس کے ساتھ کیا کچھ گزرے گا اور کب تک یہ اس دنیا میں پرورش پاتی رہے گی اور کس وقت اس کو اٹھا کر گاڑ دیا جائے گا یا جلا دیا جائے گا ۔ گاڑنے یا جلانا کے بعد اس کے ساتھ کیا کیا عوارضات گزریں گے اور پھر اس کا انجام کیا ہوگا ۔ ان ساری باتوں کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام جاننے والا ہے لیکن لوگ اتنی باتوں کی طرف کبھی توجہ نہیں دیتے اور اگر کوئی مصنوعی طریقہ سے اس کوشش میں تھوڑی سی چیز دریافت کرلیتا ہے تو اس کے بارے میں آرٹیکل چھپنے شروع ہوجاتے ہیں حالانکہ اس دریافت کرنے والے نے کوئی کمال نہیں دکھایا بلکہ ایسا کام کیا جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا تھا کیونکہ دریافت کرنے کی چیز تو اس مالک حقیقی نے پیدا کر کے پہلے ہی رکھ دی ہیں اور انسانوں کو وہ صلاحیتیں بھی اس نے ودیعت کی ہیں کہ ان صلاحیتوں کو استعمال کرکے ان چیزوں کی دریافت میں لگ جا اور جہاں سے اور جیسے کیسے تجھے کوئی چیز دریافت ہوجائے تو اس دریافت شدہ چیز کا اعلان کرکے اس پیدا کرنے والے خالق اور صانع حقیقی کی عقل وفکر کے ساتھ تصدیق کردے کہ وہ ذات کتنی سچی ہے جس نے اس دریافت چیز کو تخلیق کر کے ہمارے دریافت کرنے کے لئے مستور کردیا تھا اور انسان کو نیابت عطا کرکے اس کے دریافت کرنے کے لئے پیدا کیا تھا لیکن تف ہے ہماری عقل پر کہ ہم نے جس کی توحید کے گیت گانا تھا اور جس کی توحید کا اعلان کرنا تھا اس کا نام ہی بھول گئے اور دریافت کرنے والے کو خدا ماننے لگے اور اس معاملہ ہمیں شک گزرنے لگا کہ قرآن کریم میں تو یہی لکھا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں جو کچھ ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا لیکن اس کو تو ہمارے ہسپتال کا ایک کمپیوٹر بھی جانتا ہے حالانکہ حقیقت اس کی یہ ہے کہ کمپیوٹر کو جاننے کا علم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے کیونکہ وہ آلات جن سے ان ایگز اور سیلز کو دیکھا گیا ان کا سارا خام مال اللہ تعالیٰ نے بنایا اور وہ عقل و دانش جس سے یہ آلات تیار کیے گئے جس سے یہ آلات تیار کیے گئے وہ خدا داد چیز تھی اور ان ایگز اور سزلت کو پیدا کرنے والا بھی وہی قادر مطلق ہے پھر اس دریافت کرنے والے کی ذمہ داری بھی اس نے لگائی تھی لیکن ان ساری چیزوں کے باوجود ہم نے اس دریافت کرنے والے کو سب کچھ مان لیا اور سب کچھ پیدا کرنے والے کو اس طرح بھول گئے کہ گویا وہ کوئی چیز ہی نہیں تھا کتنا بڑا ظلم ہے جو اس ظالم نے کمایا کہ خالق حقیقی اور حقیقی طور پر جاننے والے کو اس نے کوئی جگہ ہی نہ دی اور ایک ملازم کو جس نے اپنی ملازمت کی ذمہ داری کے لئے ڈیوٹی دی اس کی پوجا شروع کردی ۔ 4۔ ” کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ول کل کیا کمائی کرنے والا ہے ۔ “ سیدہ آمنہ کی شادی سیدنا عبداللہ سے ہوئی جو ایک جواں سال نوجوان تھا ‘ دونوں نے اس فطری خواہش کو پورا کیا جس غرض سے شادی کی گئی تھی ۔ ابھی چند ہی ماہ گزرے تھے کہ سیدنا عبداللہ ایک تجارتی سفر کے لئے تشریف لے گئے لیکن سیدہ آمنہ کے پاس واپس آنا نصیب نہ ہوا ‘ غور کرو کہ وہ کون تھا جو راستہ میں حائل ہوگیا ؟ بلاشبہ وہ اللہ رب کریم ہی کی ذات تھی کہ اس نے جو مدت عمر سیدنا عبداللہ کو دی تھی وہ پوری ہوگئی ‘ آمنہ حاملہ تھی لیکن نہیں جانتی تھی کہ اس کے حمل میں کیا ہے ؟ سردار عبداللہ کی وفات کے چند ماہ بعد ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا اور انہوں نے اس کا نام احمد رکھا اور اس نومولود کے دادا نے اس کا نام محمد رکھا ‘ تاریخ میں اس کا عکس بھی بیان کیا گیا ہے ، پھر اس بےباپ بیٹے کو عرب کے رواج کے مطابق تین دن کے بعد حلیمہ سعدیہ کے سپرد کردیا گیا کہ وہ اس کی پرورش کریں ۔ ذرا غور کریں کہ سیدنا عبداللہ کو معلوم تھا کہ وہ جس سفر پر جا رہا ہے اس سکے واپس نہیں آئے گا ؟ کیا اس کو معلوم تھا کہ وہ مدینہ منورہ ہی میں وفات پائے گا ؟ کیا آمنہ کو معلوم تھا کہ جس نوجوان سے میری شادی ہو رہی ہے وہ میری شادی کے چند ماہ بعد وفات پاجانے والا ہے ؟ کیا آمنہ کو معلوم تھا کہ وہ عبداللہ سے اس مختصر مدت میں کوئی بچہ جنم دے گی ؟ جب تک آمنہ نے اس بچہ کو جنم نہیں دیا اس کو معلوم تھا کہ میرے ہاں بچہ ہوگا یا بچی ؟ جب آمنہ کا حمل وضع ہوا تو اس کو معلوم تھا کہ یہی بچہ بڑا ہو کر خاتم النبیین ہوگا ؟ کیا اس نومولود بچہ کو معلوم تھا کہ میری عمر جب چالیس سال کی ہوگی تو مجھے نبوت دی جائے گی ؟ قرآن کریم ہم کو بتاتا ہے کہ ان میں سے ایک بھی بات ایسی نہ تھی جس کا ان میں سے کسی ایک کو بھی کوئی علم تھا لیکن جو کچھ ہوا بلاشبہ علم الہی میں سب کا سب موجود تھا اور جو کچھ ہوا بالکل اسی طرح ہوا جس طرح اس کے ہونے کا پروگرام علم الہی میں موجود تھا ۔ آج بھی ہر انسان کی زندگی میں مختلف واقعات رونما ہوت ہیں لیکن کوئی انسان کسی واقعہ کے رونما ہونے سے قبل ہرگز یہ نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کل کیا ہونے والا ہے حالانکہ ہم انسانوں میں بڑے بڑے دعوے رکھنے والے لوگ موجود ہیں ۔ پھر کتنی سچی بات ہے جو قرآن کریم نے ہم کو بتا دی کہ ” کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے ۔ “ اگر اس سلسلہ میں کوئی شخص کوئی دعوی بھی کرتا ہے تو بلاشبہ وہ اپنے دعوی میں سچا نہیں ہوسکتا اور اندازے اور تخمینہ کا سچائی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور اس سلسلہ میں ابھی بہت کم دریافت ہوا ہے لیکن دریافت ہونے والی باتیں یقینا اس میں بھی موجود ہیں اگرچہ ان کے دریافت ہونے کے بعد بھی بات وہیں کی وہیں رہے گی اس میں کچھ بھی فرق نہیں آئے گا ‘ جیسے گزشتہ دریافت ہونے والی باتوں سے ان باتوں میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ 5۔ ” نہ کسی شخص کو یہ معلوم ہے کہ کس سرزمین میں اس کو موت آئے گی ۔ “ غور کرو کہ انسان کی موت جتنی اس کے قریب ہے شاید ہی اتنی کوئی اور چیز اس کے قریب ہو۔ آج سائنس نے کتنی ترقی کی اور کیا کچھ دریافت کر دکھایا لیکن یہ حقیقت بھی ابھی جوں کی توں موجود ہے اور بلاشبہ رہتی دنیا تک رہے گی کہ کوئی شخص آج تک یہ نہ جان سکا کہ مجھے کس سرزمین میں مرنا ہے ۔ آج کل اپنے ملک سے باہر ملک غیر کو جانے کا لوگوں کو بہت شوق ہے اور بلاشبہ اس شوق کے وجوہ بھی ہیں لیکن کیا آپ نے کبھی ایسا بھی سنا یا دیکھا کہ ایک شخص اچانک اٹھا اور اس کا سبب اتنی جلدی بنا کہ کسی کے وہم میں بھی نہ آیا اور وہ امریکہ یا فرانس پہنچ گیا اگرچہ اس کے اڑھائی ‘ تین لاکھ خرچ ہوگئے لیکن آج اس ارضی جنت میں اگر کوئی اتنی رقم میں پہنچ جائے تو گویا اس نے وہ کامیابی حاصل کرلی جو بہت کم لوگوں کو میسر آتی ہے ۔ بہرحال آج وہ اس ارضی جنت میں داخل ہوا اور ٹھیک ایک ہفتہ بعد خبر آگئی کہ ایکسیڈنٹ سے اس کی موت واقع ہوگئی اور ہمارا ایک ایک فرد جب یہ کہانی سنتا ہے تو اس کی زبان پر یہی جملہ آتا ہے کہ یہ شخص وہاں مرنے ہی کے لئے گیا تھا یا موت ہی نے اس کو اتنی جلدی وہاں پہنچا دیا لیکن کیا اس کے مرنے سے پہلے بھی کوئی شخص جانتا تھا یا خود اس کو معلوم تھا کہ وہ وہاں پہنچ کر مر جائے گا ؟ بلاشبہ آپ بھی کہیں گے ‘ میں بھی کہوں گا اور ہر سننے والا یہی کہے گا کہ کسی کو اس بات کا علم نہیں تھا ۔ عقل وفکر اس لئے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے کہ انسان اس سے کام لے اور سوچنے کی بات کو ضرور سوچے اور اس سے جو سبق حاصل ہو سکتا ہو وہ ضرور حاصل کرے ۔ آپ کو معلوم ہے کہ تقسیم ہند کے بعد جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس کا پہلا گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح بنے تھے کیونکہ اس وقت وزیراعظم اور صدر پاکستان کے دونوں عہدے معرض وجود میں نہیں آئے تھے بہرحال قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کے گورنر جنرل بنے تو ان کو معلوم تھا کہ وہ ٹھیک ایک سال اور ایک ماہ اس عہدہ پر فائز رہ کر اس دنیا سے بلالئے جائیں گے ؟ یقینا نہ تو ان ہی کو معلوم تھا اور نہ ہی اس وقت کے کسی دوسرے سیاست دان ‘ قانون دان یا کسی دوسری شخصیت کو یہ معلوم تھا حالانکہ وہ اس ملک عزیز کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے عہدے پر فائز تھے ۔ آپ کو معلوم ہے کہ ملک عزیز کے سب سے پہلے وزیر اعظم کون تھے ؟ یاد رہے کہ وہ لیاقت علی خان تھے ، کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ جب اس وزارت عظمی کا عہدہ سنبھال رہے تھے تو ان کو معلوم تھا کہ وہ جلد ہی 16 ۔ اکتوبر 1951 ء کو لیاقت باغ راولپنڈی میں قتل کردیئے جائیں گے ؟ آپ کا جواب یقینا یہی ہوگا کہ ہرگز ان کو یہ بات معلوم نہیں تھی اگرچہ وہ اس وقت ملک کی سب سے بڑی شخصیت اور سب سے بڑے عہدے پر قائم تھے ، آپ کو معلوم ہوگا کہ اس ملک عزیز کے پہلے صدر کون منتخب ہوئے ؟ سکندر مرزا ‘ کیا جب وہ صدر مقرر ہوئے تو ان کو معلوم تھا کہ میں جس ملک کا صدر مقرر ہو رہا ہوں مجھے وہاں موت بھی نصیب نہیں اور دفن ہونا بھی ؟ بلاشبہ ان کو یہ معلوم نہیں تھا وہ مارچ 1956 ء میں پاکستان کے صدر بنے اور اکتوبر 1958 ء میں اس عہد سے معزول کردیئے گئے اور عزل کے بعد تقریبا گیارہ سال زندہ رہے اور ان کو موت لندن میں آئی ۔ 13 ۔ نومبر 1969 ء کو مرے اور تہران میں ان کو لا کر سپرد خاک کردیا گیا ۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ اس ملک عزیز کی ایک نئی نویلی قیادت قائد عوام کا خطاب حاصل کیا ۔ ان کا اصل نام کیا تھا ؟ ہاں ! ذوالفقار علی بھٹو جو اس ملک عزیز کے دوسرے فیلڈ مارشل اور بعد میں وزیراعظم بنے کیا ان کو معلوم تھا کہ اس سب سے بڑی قیادت سے مجھے معزول کردیا جائے گا اور پھر تخت سے اتار کر تختہ دار پر لٹکا دیا جائے گا ؟ لیکن بلاشبہ ان کو 5 ۔ جولائی 1977 ء کو اس عہدہ سے معزول کردیا گیا اور پھر جیل میں بند کرنے کے بعد نواب احمد خاں قصوری کے مقدمہ قتل میں ان کو 4 ۔ اپریل 1979 ء کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ۔ آپ کو معلوم ہے کہ جنرل محمد ضیاء الحق چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کب بنے ؟ ہاں ! 5 ۔ جولائی 1977 ء کو لیکن اس کے بعد 15 ۔ ستمبر 1978 ء کو وہ باقاعدہ اس ملک عزیز کے صدر بنے کیا ان کو معلوم تھا کہ اس عہدے سے میں کس طرح فارغ ہوں گا ؟ ہرگز نہیں اگر ان کو معلوم ہوتا تو وہ 17 اگست 1988 ء کو اسلام آباد سے کیوں نکلنے میں اتنی جلدی کرتے جتنی انہوں نے کی اور پھر 17 ۔ اگست 1988 ء کو طیارے کے حادثے میں کیوں جل کر مرتے ۔ بلاشبہ یہ سارے لوگ ہی پاکستان کی اہم شخصیات تھیں ‘ اقتدار ان کے پاس تھا اور ملک کی باگ دوڑ ان کے پاس تھی لیکن جب موت کا وقت آیا تو نہ ان کے اقتدار نے ان کو بچایا اور نہ ان کے اعوان وانصار ہی کچھ ان کے کام آسکے ۔ ان چند آدمیوں کے نام تو محض یادداشت کے لئے ہم نے عرض کئے اور پھر کتنی بڑی حقیقت ہے جس کو قرآن کریم نے چند الفاظ میں ادا کردیا کہ (آیت) ” وما تدری نفس بای ارض تموت “۔ اعتراف حقیقت : مجھے اعتراف ہے کہ ان پانچ چیزوں کو ہمارے مفسرین نے جس طرح بیان کیا ہے اور جو جو بحثیں ان پانچ چیزوں سے اٹھائی ہیں ہم نے ان کو چھوا تک نہیں کیونکہ ہمارے خیال میں وہ بحثیں وقتی طور پر اٹھائی گئیں اور ان کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالا گیا اور قرآن کریم کی اس آیت کو ایک معرکہ کارزار بنا کر رکھ دیا گیا ، اس ملک عزیز کے دو گروہوں دیوبندیوں اور بریلویوں نے ایک دوسرے کو شکست دینے کے لئے مناظر تیار کئے اور ایک فرقے کے شیخ القرآن کو دوسرے فرقے کے شیخ القرآن سے مرغوں اور بیٹروں کی طرح لڑایا گیا ۔ شرطیں لگائی گئیں اور دونوں فریقوں کے مناظرین نے ان تیاریوں میں خوب روپیہ کمایا اور کرائے کے واعظوں نے قوم کو دو مختلف گروہوں میں تقسیم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور خرچ کیا اور اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھی گئیں اور اس اکھاڑے کے دو پہلوانوں کے نام آج تک اس ملک عزیز کے ہر ذی شعور شخص کی زبان پر موجود ہیں ۔ محمد عمر اچھرہ لاہور اور غلام اللہ خاں راولپنڈی اور دونوں کو سواد اعظم ہونے کا دعوی تھا اور دونوں کے مستقل اکھاڑے بھی چلتے تھے ۔ لیکن ہمارے خیال میں اس آیت میں امور غیب کی کوئی فہرست نہیں دی گئی جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہے اس میں تو صرف چند چیزیں بتائی گئیں ہیں جن کا تعلق انسان کی روز مرہ زندگی سے ہے اور اس کے باوجود انسان ان سے بیخبر ہے خواہ وہ کوئی ہو اور کون ہو لیکن اس کا نتیجہ نکالنا کہ یہی پانچ چیزیں امور غیب ہیں کسی حال میں بھی درست نہیں ہے اور غیب تو نام ہی اس چیز کا ہے جو مخلوقات سے پوشیدہ ہو اور صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی پر روشن ہو اور جو چیز کسی کو بتا دی جائے یا جتنا حصہ کسی کو بتا دیا جائے تو وہ اس کے لئے غیب نہیں ہوتا جس کو وہ بتا دیا گیا ہو۔ اس لئے اس جگہ قابل غور یہ بات ہو سکتی ہے کہ ان پانچ چیزوں کا ذکر پھر اس جگہ کیوں کیا گیا یا دوسری چیزوں سے ان پانچ کو علیحدہ کرکے کیوں بیان کیا گیا ۔ بخاری میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایمان ‘ اسلام اور احسان کے متعلق سمجھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ” الساعۃ “ وہ گھڑی یا قیامت کب ہے ؟ اور پھر جواب دیا کہ اس کے متعلق سائل سے زیادہ مسئول نہیں جانتا اور اس کے بعد فرمایا کہ یہ ان پانچ باتوں میں سے ایک ہے جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا اور آپ ﷺ نے اس کے بعد یہ آیت بھی پڑھ کر سنا دی اور اسی طرح ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا غیب کے خزانے پانچ ہیں اور ازیں بعد بھی آپ نے یہی آیت تلاوت کی ، رہی یہ بات کہ ان پانچ باتوں کو اکٹھا کیوں بیان کیا گیا کیونکہ غیب کی تو اور بھی بہت سی باتین ہیں جن کا علم بلاشبہ کسی کو نہیں ہے اس لئے اگر اس آیت میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان پانچ باتوں کا تعلق حق کی کامیابی اور باطل کی ناکامی سے ہے ۔ اس لئے ان کو ان استعارات میں بیان کیا گیا ہے کہ (الساعۃ) سے مراد عرب کی مردہ زمین کو زندہ کرنا ہے جو وحی الہی سے ہونا طے پائی تھی جیسا کہ بار بار بارش کا ذکر کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ جس طرح مردہ زمین کو بارش سے زندہ کا۔ جاتا ہے اسی طرح تمہیں وحی الہی کے ذریعہ زندہ کیا جائے گا اور بلاشبہ وہ ہجرت کے بعد چند ہی سالوں میں کردیا گیا ۔ اور ارحام میں جو ہیں ان سے مراد آئندہ نسل ہے جن کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور انہی کفار کی نسل سے ان کی اولاد کے مسلمان ہوجانے کی طرف اشارہ ہے اور اس کا وقوع بھی بلاشبہ ہوا اور کل کیا کرے گا اس میں اشارہ ہے کہ جو آج حق کی مخالفت کر رہے ہیں وہی آنے والے کل میں اس کے حامی وناصر بن جائیں گے اور یہ بات بھی روز روشن کی طرح واضح ہے اور کس زمین پر مرے گا میں بتایا گیا کہ یہ لوگ پیغام حق لے کر دور دراز علاقوں میں نکل جائیں گے اور اس دنیا کے منہ پر کوئی کچا اور پکا گھر نہیں رہ جائے گا جہاں دین اسلام کا نام نہیں پہنچے گا اور یہ بات بھی دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی ۔ ان تصریحات سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہے کہ امور غیبیہ کے متعلق جن کی گنتی نہیں کی جاسکتی یہ خیال کرنا کہ کوئی خواہ وہ کتنا رفیع المرتبت ہو خود بخود اس کو جان سکتا ہے یہ کذب صریح اور افتراء محض ہے بلکہ قرآن کریم کی کثیر التعداد آیات کا انکار ہے جن آیات میں زیر نظر آیت بھی ہے اور غیب کے متعلق ہم نے عروۃ الوثقی جلد ششم ‘ سورة النحل کی آیت 65 ‘ 66 میں تفصیل بیان کردی ہے وہیں سے ملاحظہ کرلی اور اسی مضمون پر ہم سورة لقمان کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں الحمد للہ علی ذلک ۔ عبدالکریم اثری : 10 ۔ جولائی 1997 ء قبل از نماز ظہر ۔