31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 31:19

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر (ایسا انکسار نہ کر کہ لوگ تجھے بیوقوف سمجھیں اور متکبر بھی نہ ہو) اور اپنی آواز نیچی رکھ بلاشبہ گدھے کی آواز تمام آوازوں میں بری (یعنی کرخت) ہوتی ہے

بیٹا ! میانہ روی اختیار کرنا ‘ اپنی آواز کو نیچی رکھ کر گدھے کی آواز بری آواز ہے : 19۔ (اقصد) تو اعتدال اختیار کر۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر رفتار کا ادب یہی ہے کہ آدمی ہلکا پاؤں رکھ کر زمین پر چلے نہ تو پاؤں زور سے مارے اور نہ پوچھ پوچھ کر قدم رکھے سبک رفتاری سے چلے اور نظریں نیچی رکھے ‘ منہ نہ تو اوپر کو اٹھائے اور نہ ہی دائیں بائیں جھانکے خصوصا جب کسی کے دروازے کے سامنے سے گزرے تو دروازہ کھلا ہونے کی صورت میں اندر کی طرف مت دیکھے بلکہ نظر بچا کر گزرے ‘ کسی سے گفتگو کرے تو چلتے چلتے نہ کرے اور راستے میں کھڑا ہو کر باتیں نہ کرے بلکہ ایک طرف ہو کر بیٹھ جائے ، بات کرے تو نہ اتنی اونچی آواز ہو کہ جیسے کسی سے لڑائی لڑ رہا ہے اور نہ ہی اتنا پست بولے کہ پاس بیٹھنے والے اور خصوصا بات سننے والے بھی اچھی طرح سے نہ سن سکیں اور خصوصا وحشت زدہ آواز سے نہ بولے کہ وحشت زدہ آواز گدھے کی آواز ہے کہ جب وہ ہینگتا ہے تو سارا ماحول ناگوار شور سے بھر جاتا ہے کیونکہ اس طرح کا بولنا نہایت ہی برا بولنا ہے جو ایک انسان کا شیوہ نہیں ہونا چاہئے ، اسی مضمون پر لقمان ؓ کی نصائح ختم ہو رہی ہے ۔ لقمان ؓ کا مختصر بیان : لقمان یا حکیم لقمان ؓ اہل عرب کے ہاں ایک مشہور شخصیت تھی لیکن اس قدر مشہور ومعروف ہونے کی باوجود ان کے ہاں ان کے حالات ‘ خاندان اور حسب ونسب کے متعلق کوئی حتمی چیز موجود نہ تھی اتفاق تھا تو صرف اس بات میں کہ وہ ایک بہت بڑے دانا حکیم تھے اور ان کے حکیمانہ اقوال صحیفہ لقمان کے نام سے ان کے درمیان پائے جاتے تھے رہی یہ بات کہ وہ صحیفہ لقمان بھی کسی کے پاس موجود تھا تو اس کی کوئی دلیل ہمارے پاس نہیں ۔ اس وقت کے لٹریچر میں بھی ان کے متعلق متضاد آراء پائی جاتی تھیں جن کی اصل وجہ یہ تھی کہ لقمان نام کی ایک شخصیت قوم عاد یعنی عاد ثانیہ میں بھی ذکر کی گئی تھی جو ایک نیک بادشاہ کے طور پر معروف تھے اگرچہ یہ لقمان جن کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے ایک افریقی النسل تھے لیکن ان کے حالات آپس میں اس طرح گڈمڈ کردیئے گئے کہ ان کے متعلق کوئی فیصلہ کن بات اور واضح رائے مقرر نہیں کی جاسکتی یہی وجہ ہے کہ ہم نے ان کے حالات میں ان متضاد رائیوں کا ذکر مناسب نہیں سمجھا خصوصا جب کہ ان کے متعلق کوئی واضح اور دو ٹوک بیان بھی موجود نہیں ہے ۔ ان کے حالات کو دیکھنے کا شوق ہو تو روض الانف ج اول ‘ تاریخ ابن کثیر ج دوم اور جلد سوم اور تفسیر ابن کثیر سورة لقمان میں دیکھے جاسکتے ہیں اور ابن جریر میں بھی قدرے حالات موجود ہیں اگرچہ ان کا رنگ مورخانہ نہیں ہے ۔ قرآن کریم میں صرف ایک جگہ ان کا ذکر ہے اور اسی مناسبت سے قرآن کریم کی اس سورت کا نام بھی سورة لقمان رکھا گیا ہے اور قرآن کریم نے ان کی چند ایک نصائح کا ذکر مخصوص انداز سے کیا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کے نام کیں اس کے علاوہ آپ کی شخصیت سے کوئی بحث نہیں کی ‘ نہ یہ بتایا ہے کہ وہ نبی تھا یا نہیں اور نہ ہی کسی طرح کی کوئی وضاحت کی ہے اور جب قرآن کریم میں ان باتوں کی ضرورت نہیں سمجھی گئی تو ہم کو بھی اس بحث میں الجھنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہم تاریخی روایات کو چھیڑ کر کوئی نتیجہ نکال سکتے ہیں ۔ لقمان ؓ نے اپنے بیٹے کے نام جو نصیحتیں کی ہیں ان کی وضاحت ہم نے آیات کے تحت کردی ہیں اس لئے دوبارہ اس کی وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں البتہ اس سورت لقمان میں جو نصائح مذکور ہیں ان میں سے حسن خلق اور تواضع کی ترغیب بیان کی گئی ہے شیخی اور بدخلقی کی مذمت کی گئی ہے اور لقمان ؓ نے امرونہی میں ان باتوں کو خصوصیت کے ساتھ اس لئے انتخاب فرمایا ہے کہ کائنات میں جس قدر بھی بھلائی اور برائی پیش آتی ہے ان سب کی جڑ اور بنیاد یہی امور ہیں ہمارے پیارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی امت کو ان امور کی اہمیت پر بہت زیادہ توجہ دلائی ہے چناچہ آپ ﷺ نے حسن خلق کے متعلق فرمایا : 1۔ بعثت لا تمم حسن الاخلاق (موطا امام مالک) ” میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ محاسن اخلاق کو درجہ کمال تک پہنچا دوں ۔ “ 2۔ عبداللہ بن عمر ؓ سے منقول ہے کہ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ کون مسلمان سب سے زیادہ صاحب فضیلت ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” احسنھم خلقا “ جوان میں سب سے زیادہ حسن اخلاق رکھتا ہے وہی سب سے زیادہ افضل ہے ۔ (بیہقی) 3۔ ” انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ ایک بندہ باوجود عبادت میں کمزور ہونے کے اپنے حسن اخلاق کی وجہ سے آخرت کے بلند درجات اور منازل علیا کو حاصل کرلیتا ہے اور اس طرح عابد ہونے کے باوجود بدخلقی کی وجہ سے جہنم پاتا ہے ۔ “ (مجمع الزوائد ج 8 ص 25) الفاظ اس طرح ہیں کہ ان العبد الیلغ بحسن خلقہ درجات الاخرۃ وشرف المنازل وانہ لضعیف العبادۃ وانہ لیبلغ بسوء خلقہ درک جھنم وھو عابد۔ 4۔ ” میمون بن مہران نے نبی کریم ﷺ سے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے نزدیک بدخلق سے زیادہ بڑا کوئی گناہ نہیں ہے ۔ “ ما من ذنب اعظم عند اللہ من سوء الخلق (تفسیر ابن کثیر جلد 3) تواضع کے متعلق آپ ﷺ کا ارشاد اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ : ” رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بشارت ہے نیکو کار بےنفس لوگوں کے لئے جن کی حالت یہ ہے کہ مجلس میں موجود ہوں تو کوئی تعارف نہ کرے اور جب غائب ہوجائیں تو کوئی تلاش نہ کرے یہی ہیں روشن چراغ اور ہر تاریک وپراگندہ فتنہ سے محفوظ ۔ “ الذین اذا حضروا لم یعرفوا واذا غابوا لم یتفقدوا واولئک مصابیح مجردون من کل فتنۃ غبرآء مشتۃ (تفسیر ابن کثیر ج 3) اس تواضع کے متعلق وہ سب کچھ ان مختصر الفاظ میں فرما دیا جو فرمایا جاسکتا تھا ۔ لقمان ؓ نے کبر و غرور اور شیخی کی برائی بیان کی ہے اور اس کے متعلق نبی کریم ﷺ کے ارشادات اس طرح بیان ہوئے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا : 1۔ عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں وہ شخص ہرگز داخل نہ ہوگا جس کے قلب میں ذرہ کی مقدار بھی غرور ہوگا ۔ لا یدخل الجنۃ من کان فی قلبہ مثقال ذرۃ من کبر (اصحاب السنن) 2۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی کبر ہے اس کو اللہ تعالیٰ جہنم میں اوندھے منہ گرا دے گا ۔ من کان فی قلبہ مثقال ذرۃ من کبر اکبہ اللہ علی وجھہ فی النار (اصحاب السنن) 3۔ حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے لباس کو ازراہ غرور زمین پر کھینچتا ہوا چلتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی جانت رحمت سے نہ دیکھے گا من جرثوبہ خیلاء لم ینظر اللہ الیہ (مسلم) لقمان ؓ نے درشت اور کرخت آواز سے بات چیت کرنے کو بھی منع فرمایا اور یہ بھی واضح بات ہے اس لئے کہ نرم گفتاری حسن خلق کا شعبہ ہے اور درشت وکرخت لہجہ بدخلقی کا جزواعظم ہے اسی وجہ سے اس طرز گفتگو کو صوت حمار سے مشابہ بتایا گیا ہے اور نیق حمار کے متعلق یہ حدیث بھی بہت مشہور ہے کہ ” حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے فرمایا کہ جب تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے فضل طلب کرو اور گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو اس لئے کہ وہ شطان کو دیکھ کر آواز کرتا ہے ۔ “ اذا سمعتم صیاح الدیکۃ فاسئلوا اللہ من فضلہ واذا سمعتم نھیق الحمیر فتعوذوا باللہ من ال شیطان فانھارات شیطانا (ابن کثیر ج 8 ص 11) لقمان ؓ نے اپنے بیٹے کو جو نصائح کی ہیں ان میں یہ بھی کہا ہے کہ زمین پر اکڑ کر مت چلو اور اسی مضمون کو قرآن کریم میں دوسری جگہ اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ (آیت) ” فلا تمش فی الارض مرحا انک لن تخلق الارض ولن تبلغ الجبال طولا “۔ (الاسراء 17 : 37) ” زمین پر اتراتا ہوا مت چل تو اپنے اس انداز رفتار سے نہ زمین کو پھاڑ سکے گا اور نہ پہاڑوں کی چوٹیوں تک طویل ہوجائے گا ۔ “ مغرور انسان کے انداز رفتار کو کس معجزانہ بلاغت کے ساتھ ادا کیا ہے گویا وہ اس طرح چلتا ہے کہ اپنی اکڑی ہوئی گردن کے ذریعہ پہاڑوں کی بلندی سے بھی اونچا ہوجانا چاہتا ہے اور قدم کو اس طرح زمین پر رکھتا ہے کہ گویا اس کو پھاڑ ڈالے گا مگر یہ نہیں سمجھتا کہ وہ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں کرسکے گا پھر بلاوجہ اکڑ کر چلنے کے کیا معنی ؟ اس کے برعکس متواضع اور بااخلاق انسانوں کی یہ کیفیت ہے کہ : (آیت) ” وعباد الرحمن یمشون علی الارض ھونا واذا خاطبھم الجاھلون قالوا سلاما “ (الفرقان 25 : 63) ” اور جو رحمن کے بندے ہیں وہ زمین پر پروقار اور تواضع کے ساتھ چلتے ہیں اور جب ان سے جاہل لوگ مخاطب ہوتے ہیں تو وہ جہالت سے بچنے کے لئے سلام کہہ کر الگ ہوجاتے ہیں ۔ “ ہم نے قبل ازیں ذکر کیا ہے کہ عرب میں حکمت لقمان کا بہت چرچا تھا اور وہ لوگ اکثر مجالس میں ان کے حکیمانہ اقوال کو دہراتے رہتے تھے چناچہ تابعین صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین بلکہ بعض خود نبی کریم ﷺ سے بھی اس سلسلہ میں اقوال بیان کئے گئے ہیں ان میں سے چند ایک ہم اس جگہ بیان کرتے ہیں تاکہ ایک دانا وبینا انسان کے متعلق جو کچھ کہا جاتا ہے اس کو یاد رکھا جاسکے ۔ 1۔ حکمت و دانائی مفلس کو بادشاہ بنا دیتی ہے ۔ 2۔ جب کسی مجلس میں داخل ہو تو اول سلام کرو پھر ایک جانب بیٹھ جاؤ اور جب تک اہل مجلس کی گفتگو نہ سن لو خود گفتگو شروع نہ کرو اگر وہ اللہ کے ذکر میں مشغول ہوں تو تم بھی اس سے اپنا حصہ لے لو اور اگر وہ فضولیات میں مشغول ہوں تو وہاں سے علیحدہ ہوجاؤ اور کسی دوسری عمدہ مجلس کو حاصل کرو۔ 3۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کو امانت دار بنائے تو امین کا فرض ہے کہ اس امانت کی حفاظت کرے ۔ 4۔ اے بیٹے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ریاکاری سے اللہ تعالیٰ کے ڈر کا مظاہرہ مت کرو کہ لوگ اس وجہ سے تیری عزت کریں اور تیرا دل حقیقتا گناہگار رہے ۔ 5۔ اے بیٹے ! جاہل سے دوستی نہ کر کہ وہ یہ سمجھنے لگے گا کہ تجھ کو اس کی جاہلانہ باتیں پسند ہیں اور دانا کے عنصر کو بےپرواہی سے نہ ٹال کہ کہیں وہ تجھ سے جدائی نہ اختیار کرلے ۔ 6۔ واضح رہے کہ داناؤں کی زبان میں اللہ کی طاقت ہوتی ہے ان میں سے کوئی کچھ نہیں بولتا مگر یہ کہ اس بات کو اللہ تعالیٰ اسی طرح کرنا چاہتا ہے ۔ 7۔ اے بیٹے ! خاموشی میں کبھی ندامت اٹھانا نہیں پڑتی اور اگر کلام چاندی ہے تو سکوت سونا ہے ۔ 8۔ اے بیٹے ! ہمیشہ شر سے دور رہو تو شر تم سے دور رہے گا اس لئے شر ہی سے شر پیدا ہوتا ہے ۔ 9۔ اے بیٹے ! غیظ وغضب سے بچو اس لئے شدت غضب دانا کے قلب کو مردہ بنا دیتی ہے ۔ 10۔ اے بیٹے ! خوش کلام بنو طلاقت وجہ اختیار کرو تب تم لوگوں کی نظروں میں اس شخص سے بھی زیادہ محبوب ہوجاؤ گے جو ہر وقت ان کو داد دہش کرتا رہتا ہے ۔ 11۔ نرم خوئی دانائی کی جڑ ہے ۔ 12۔ جو بوؤ گے وہی کاٹو گے ۔ 13۔ اپنے اور اپنے والد کے دوست کو محبوب رکھو ۔ 14۔ کسی نے لقمان سے دریافت کیا کہ سب سے زیادہ صابر کون شخص ہے ؟ کہا جس کے صبر کے پیچھے ایذا نہ ہو ۔ پھر دریافت کیا سب سے بڑا عالم کون ہے ؟ جواب دیا جو دوسروں کے علم کے ذریعہ اپنے علم میں اضافہ کرتا رہے پھر سوال کیا سب سے بہتر آدمی کون ہے ؟ فرمایا غنی ۔ پوچھا گیا کہ غنی سے مال دار مراد ہے ؟ جواب دیا کہ نہیں بلکہ غنی وہ ہے جو اپنے اندر خیر کو تلاش کرے تو موجود پائے ورنہ خود کو دوسروں سے مستغنی رکھے ۔ 15۔ کسی نے دریافت کیا کہ بدترین انسان کون ہے ؟ فرمایا جو اس کی پروانہ کرے کہ لوگ اس کو برائی کرتا دیکھ کر برا سمجھیں گے ۔ 16۔ اے بیٹے ! دستر خوان پر ہمیشہ نیکو کاروں کا اجتماع رہے تو بہتر ہے اور مشورہ صرف علماء حق سے طلب کرنا ۔ (تفسیر ابن کثیر) قرآن کریم نے لقمان کا ذکر نصائح تک ہی محدود رکھا ہے اور ہم بھی اس جگہ اس کو ختم کرتے ہیں اور ان سچائیوں کی تاکید کرتے ہیں کہ ہم کو اللہ تعالیٰ ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔
Ayah 31:20

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم لوگوں نے دیکھا کہ اللہ نے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب کو تمہارے ہی کام میں لگا دیا ہے اور اس نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر پوری کردی ہیں اور بعض ایسے لوگ ہیں کہ اللہ کے بارے میں بلا علم ، بلا بصیرت اور بلا کسی روشن کتاب کے جھگڑتے رہتے ہیں (نہ خود سمجھتے ہیں نہ دوسروں کو سمجھنے دیتے ہیں)

وہ کون ہے جس نے انسان کے لئے اس کائنات کی ہر ایک چیز مسخر کردی ہے ؟ ۔ 20۔ منکرین کے لئے اب تکوینی دلائل پیش کئے جا رہے ہیں تاکہ وہ توحید الہی پر غور کریں اور اس کے لئے انداز ایسا دل نشین اختیار کیا گیا ہے جس سے انسان کی تفہیم ہو سکے اس کائنات کی ایک ایک چیز کو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو جس کام پر لگا دیا ہے وہ اسی پر لگی ہوئی ہے اور ایک لمحہ کے لئے بھی وہ نہیں رکتی مسلسل اپنا کام کیے چلی جا رہی ہے کیوں ؟ اس لئے کہ اس نے کسی چیز کو ارادہ اور اختیار نہیں دیا کہ وہ اپنے ارادے اور اختیار سے رک جائے ارادہ اور اختیار صرف اور صرف انسان کو دیا گیا اور یہی وہ شاہکار خداوندی ہے جو اپنی مرضی کرجاتا ہے ، فرمایا کبھی ان لوگوں نے غور وفکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک چیز کو انسان کے لئے بھی مسخر کردیا ہے کہ انسان جو کام اس سے لینا چاہے لے سکتا ہے اور ان چیزوں میں سے کسی کی یہ مجال نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے منہ پھیر دے پھر صرف یہی نہیں کہ زمین کی ہرچیز اس کے لئے مسخر کی گئی ہے بلکہ آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ بھی اس کے لئے فرما نبردار ہے ۔ اور بلاشبہ یہ وہ اعزاز ہے جو کسی اور مخلوق کو عطا نہیں کیا گیا ۔ ہاں ! تم انسان ہو ذرا ان بلندیوں اور پستیوں پر نظر ڈالو یہ تمہارے سر پر کیا ہے جو تم کو نظر آرہا ہے ؟ یہ آسمان ‘ ستارے ‘ مہروماہ ہی تو ہیں یہ سب کے سب کس کی خدمت کے لئے رواں دواں ہیں اور کس کے حکم سے فرمانبردار بنا دیئے گئے ہیں ، بلاشبہ یہ انسانوں ہی کی خدمت میں لگے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جس نے ان کو مسخر کردیا ہے اور وہ اس فرمانبرداری سے ایک لمحہ بھر سستی نہیں کرتے اور اسی طرح اگر تم اپنے پاؤں کی طرف دیکھو تو تم کو کیا نظر آتا ہے ؟ زمین پانی ‘ کھلے میدان ‘ لہلہاتے ہوئے کھیت ‘ اونچے اونچے پہاڑ ‘ سرسبز وادیاں ‘ طیور ووحوش اور ہزاروں قسم کے میوے اور پھل یہ سب کے سب کس کے لئے ہیں ؟ بلاشبہ انسان ہی کے لئے ہیں اور انسان ہی کی خاطر وہ اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے اپنی نعمتیں تمام کردی ہیں کچھ ان میں سے ظاہر ہیں اور کچھ باطن ہیں اگر تم ان کو شمار کرنا چاہو تو ہرگز شمار نہیں کرسکتے اور ان کا شکریہ ادا کرنا چاہو تو کسی ایک کا شکر بھی نہیں ادا کرسکتے پھر اتنی عنایات اور اتنی نوازشات کے باوجود اگر تم اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراؤ تو بتا اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے ؟ غور کرو کہ ظاہری نعمتیں کیا ہیں ؟ شیشہ ہاتھ میں لو اور ذرا اپنی ہی صورت اور من موہنی مورت کو تو دیکھو تمہارے منہ کے ان اعضاء کو کس طرح اس نے فٹ کردیا ہے اور جہاں فٹ کیا ہے ذرا غور کر کے بتاؤ کہ کیا اس فٹنگ میں کوئی نقص وعیب ہے ؟ کیا تم بتا سکتے ہو کہ اگر تمہاری دو آنکھوں کی بجائے ایک ہوتی تو اچھی لگتی ۔ اچھا نہیں تو اگر تین ہوتیں تو زیادہ مفید ہوتیں کیا تمہاری پیشانیاں دو ہوتیں تو زیادہ اچھی لگتیں ‘ نہیں تو اگر ناکیں دو مل جاتیں پھر اور کان اگر ایک ہوتا یا منہ ہی دو ہوتے تو کیا اچھے لگتے ؟ جہاں تک چاہتے ہو غور کرو اور صرف اس چہرے کے خدوخال ہی کو دیکھتے جاؤ تم ایک چیز کے لئے متعلق بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کی بجائے یہ ہوتا تو صحیح ہوتا ؟ نہیں اور یقینا نہیں تو کیا تم نے اس فٹنگ کے لئے کوئی تجویز پیش کی تھی ؟ اگر اس نے بغیر تمہارے مشورے کے تم کو یہ سب کچھ عطا کردیا اور تم اس کی عطا میں کوئی نقص بھی نہیں نکال سکتے تو کیا جب تم اپنی طلب اس سے مانگو گے تو وہ تم کو نہیں دے گا ؟ ضرور دے گا اور یقینا دے گا پھر تم اس کو چھوڑ کر غیروں سے کیوں مانگتے ہو ؟ تم تو اشرف المخلوقات ہو تمہارا یہ حال ہے لیکن جو اشرف المخلوقات نہیں ان میں سے بھی تم نے کسی کو کبھی دیکھا کہ وہ غیروں سے جا کر اپنی ضروریات طلب کرتے ہوں ‘ نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر تم کو کیوں شرم نہیں آتی اور تم اتنے بےشرم کیوں ہوگئے کہ اس کا دروازہ چھوڑ کر کبھی کسی خانقاہ اور مزار کی طرف رواں دواں ہو اور کبھی کسی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو تف ہے تم پر تمہاری عقل کیوں ماری گئی ۔ اللہ تعالیٰ کی ظاہری نعمتوں پر آپ نے ایک نظر ڈال لی اور اب اس کی باطنی نعمتوں کی طرف بھی ذرا دھیان دو تم نے دل کا نام سنا ہے لیکن کبھی اپنا دل دیکھا بھی ہے ۔ تم کو یقین ہے کہ تم کو عقل دی گئی ہے کیا اس کو دکھا سکتے ہو غور کرو کہ تمہارے اندر کتنے قوی اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے رکھے ہیں ۔ قوت ذائقہ ہے ‘ قوت باصرہ ہے ‘ قوت سماع ہے ‘ قوت لامسہ ہے ۔ خوشی اور غمی کا احساس ہے ۔ سردی گرمی کا احساس ہے ۔ درد و تکلیف کا احساس ہے کیا ان میں سے کوئی ایک دکھا سکتے ہو ؟ نہیں ‘ تو پھر ان کو باطن نہ کہیں تو اور کیا کہیں ؟ تمہارے علم کی انتہا ایک طرف تو یہ ہے کہ اپنے جسم کے اندر کا مکمل کھوج تم نہیں لگا سکتے اور وہ چیزیں جن سے ہر روز بلکہ ہر آن تم کو واسطہ ہے اور تمہارے جسم کے اندر وہ موجود بھی ہیں لیکن تم نہ دیکھ سکتے ہو اور نہ دکھا سکتے ہو پھر دوسری طرف وہ تم ہی ہو کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے بارے میں جھگڑا ڈال دیتے ہو حالانکہ نہ تو تمہارے پاس اتنا علم ہے اور نہ ہی کوئی روشن دلیل تم رکھتے ہو ۔ پھر خواہ مخواہ جھگڑا تم کیوں ڈالتے ہو ؟ اور اس بحث میں کیوں مبتلا ہوتے ہو ۔ اپنی حیثیت کو پہچانو ‘ عقل کے ناخن لو اور انسانوں کی صف سے نکل کر حیوانوں کی صف میں مت داخل ہو۔ تمہاری عقل پر کس نے پردہ ڈال دیا اور تمہاری مت کس چیز نے مار دی ؟ تم اللہ تعالٰن کی ذات میں کیوں جھگڑتے ہو ۔ ہوش میں آؤ اور اپنا مقام پہچاننے کی کوشش کرو۔
Ayah 31:21

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) اللہ نے اتاری ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ، (بھلا ان سے پوچھو کہ) اگرچہ انہیں شیطان دوزخ کے عذاب کی طرف بلا رہا ہو (تو بھی انہی کی پیروی کرو گے)

توحید الہی کی طرف بلایا جائے تو کہتے ہیں ہم وہی کریں گے جس پر ہم نے باپ دادا کو پایا : 21۔ جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ تم اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا ہے اور باقی سب چیزوں کو چھوڑ دو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے آباء و اجداد کی تقلید میں انہی قوانین ‘ رسومات ‘ عقائد اور نظریات کی پیروی کریں گے اور اسی ضابطہ اخلاق پر قائم رہیں گے جن پر ہم نے اپنے بڑوں کو کار بند پایا ہے ان سے سرمو انحراف نہیں کریں گے کیا ان کی یہ بہکی بہکی باتیں شیطان کی وسوسہ اندازی کا نتیجہ نہیں ؟ اس کی تو کوشش ہی یہ ہے کہ ان کو جہنم کا سیدھا راستہ بتا دے اور ان کی آنکھیں بند کر کے اس کی طرف چلنے کی ہدایت کرے اور ان کو باور کرا دے کہ بس منہ کے بل چلتے جاؤ تمہاری منزل بالکل قریب آچکی ہے کیا عقل مند آدمی ایسا کرے گا ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر تم نے یہ قسم کیوں کھالی ہے کہ اگر باپ دادا کو شیطان نے بہکا کر بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کی طرف دعوت دے دی ہے اور وہ اسے قبول کرچکے ہیں تو پھر بھی ہم انہیں نظریات و عقائد اور ضابطہ اخلاق کی پیروی کیے چلے جائیں گے ، بڑے احمق ہوں گے اگر جان بوجھ کر اور سوچ سمجھ کر ایسا کریں گے ، یہ مضمون ہم نے عروۃ الوثقی جلد سوم سورة المائدہ کی آیت 104 ‘ سورة الاعراف کی آیت 28 ‘ سورة یونس کی آیت 78 ‘ سورة الانبیاء کی آیت 53 ‘ سورة الشعراء کی آیت 74 میں وضاحت سے بیان کردیا ہے اس لئے محولہ حوالوں کی طرف رجوع کریں ۔
Ayah 31:22

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جس نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردیا اور نیکی کی راہ اختیار کی تو اس نے ایک بڑا ہی مضبوط حلقہ تھام لیا (جو ٹوٹنے والا نہیں) اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے

اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنے والے نے مضبوط حلقہ تھام لیا : 22۔ جس شخص نے اپنی پوری زندگی پورے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دین یعنی اس کے بھیجے ہوئے ضابطہ حیات کے تابع کردی اور اپنے جسم اور روح کو ‘ اپنے قالب اور قلب کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے سرانگندہ کردیا اور پھر جو کچھ اس نے کیا وہ صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ حسن عمل سے اپنے اس قوی کی صداقت بھی ثابت کردی کہ وہ اللہ تعالیٰ کا مطیع اور فرما نبردار بندہ بن گیا تو بلاشبہ ایسا شخص نیکو کار ہے اور اس نے ایک بڑا ہی مضبوط اور قابل اعتماد سہارا تھام لیا جس سے اب اس کا انجام خراب نہیں ہوگا اور اس طرح اس کے سارے امور اور معاملات کا اخری فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہوگا کیونکہ اس نے اللہ سے روگردانی کرکے غیروں کو اس کا شریک نہیں بنایا اور یہ اس کی دانش مندی کا ثبوت ہے اور اس آیت کی مکمل تشریح ہم پیچھے سورة البقرہ کی آیت 256 میں بیان کر آئے ہیں اس لئے وضاحت وہیں سے دیکھ لیں ۔
Ayah 31:23

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جو کفر کرتے ہیں تو ان کا کفر (اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ﷺ کو غمگین نہ کرے ہماری طرف ہی ان کو واپس آنا ہے پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو جتا دیں گے بلاشبہ اللہ دلوں کے رازوں سے بھی اچھی طرح واقف ہے

جس نے کفر کیا اس کا کفر آپ کو غمگین نہ کرے ہم اس کو اس کے عمل کی حقیقت بتا دیں گے : 23۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ جو شخص بھی کفر وشرک کی روش اختیار کرتا ہے اور آپ ﷺ کی رسالت کی تکذیب کرکے گویا آپ ﷺ کو زک پہنچاتا ہے اور کفر پر جم جاتا ہے تو اس کی آپ قطعا کوئی پرواہ نہ کریں اور نہ ہی غم کریں آخر کار ایک نہ ایک دن پلٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہے ہم اس وقت تک نہیں بتائیں گے کہ دنیا میں کیا عمل وکردار اور افعال کرکے آئے ہیں جو کچھ وہ لے کر آئے ہوں گے اس کے مطابق ان کو پوری پوری جزا دی جائے گی بلاشبہ اللہ تعالیٰ سینوں کی اتھاہ گہرائیوں میں چھپے ہوئے رازوں اور بھیدوں تک کو خوب جانتا ہے اور کوئی بات بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے ۔
Ayah 31:24

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم ان کو تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر ان کو سخت عذاب کی طرف مجبور کردیں گے

ہم ان کو تھوڑا فائدہ پہنچائیں گے پھر سخت عذاب کی طرف مجبور کردیں گے : 24۔ ہم نے اس پوری کائنات کو بنایا ہے اور اس پوری کائنات سے اشرف المخلوق انسان ہی کو پیدا کات ہے اور اس کائنات کی ہرچیز کو اس کا فرمانبردار کردیا ہے اور ہرچیز کی فرمانبرداری آخر کب تک ہے ؟ جب تک انسان اس کائنات کے اندر موجود ہے وہ انسان خواہ کوئی ہو یعی عالم ہو یا جاہل ہو ‘ مسلم ہو یا غیر مسلم ہو ۔ چونکہ وہ مخلوق ہماری ہے اس لئے زندگی میں اس کو فائدہ دینا بھی ہم پر لازم ہے اور یہی تھوڑا فائدہ دینا ہے جیسا کہ پیچھے ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر میں گزر چکا فرمایا ” اور جب ایسا ہوا تھا کہ ابراہیم نے اللہ کے حضور دعا مانگی تھی کہ اے پروردگار ! اس جگہ کو امن وامان کا ایک آباد شہر بنا دے اور اپنے فضل و کرم سے ایسا کر کہ یہاں کے بسنے والوں میں جو لوگ تجھ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں ان کے رزق کے لئے ہر طرح کی پیداوار مہیا ہوجائے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو کوئی کفر کا شیوہ اختیار کرے گا سو اسے بھی ہم فائدہ اٹھانے دیں گے البتہ یہ فائدہ اٹھانا بہت تھوڑا ہوگا کیونکہ بالآخر اسے چار وناچار دوزخ میں جانا ہے اور کیسا ہی برا اس کا ٹھکانہ ہوا۔ “ (البقرہ 2 : 126) اور یہی بات زیر نظر آیت میں ارشاد فرمائی کہ ” ہم ان لوگوں کو دنیا کی نعمتیں ‘ خوشی اور مسرت دے کر تھوڑی مدت دنیا میں مزے لوٹنے ‘ عیش و عشرت کرنے کا موقع دے رہے ہیں پھر بےبس اور لا چار کرکے انہیں ایک سخت عذاب کردیں گے ۔ “ بلاشبہ اس سے مراد اس دنیا کی عیش و عشرت ہی ہے جس میں سب لوگ برابر کے شریک ہیں خواہ وہ کون ہوں اور جو شخص بھی ان میں سے جتنی محنت اور کوشش کرے گا اور اپنی محنت اور کوشش کے مطابق حاصل کرے گا یہ بات اگر لوگوں کی سمجھ میں آجائے تو بہت سے جھگڑے جو اس جگہ کھڑے ہوتے ہیں خود بخود ختم ہو کر رہ جائیں لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہمیں قرآن کریم صحیح طریقہ سے سمجھایا نہیں جاتا اور نہ ہی علمائے کرام ہماری آنکھوں سے پٹی اترنے دیتے ہیں ۔
Ayah 31:25

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور اگر آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے ؟ تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ سب اچھی تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ، ہاں ! (ان لوگوں) میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے

اگر آپ ان سے آسمان کے بارے میں سوال کریں کہ کس نے بنایا ہے تو کہیں گے اللہ نے : 25۔ یہ لوگ جو اپنی حاجات ومشکلات میں غیر اللہ کو پکارتے ہیں اور کبھی کسی کو اپنا حاجت روا قرار دیتے ہیں اور کبھی کسی کو اپنا مشکل کشا کہتے ہیں اور اسی طرح چھوٹی چھوٹی باتوں میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں اور اس طرح کفر وشرک میں مگن یہ خرمستیاں کر رہے ہیں اگر آپ ان خدا فراموشوں سے پوچھو کہ آسمان کا خالق کون ہے ؟ زمین کو کس نے پیدا کیا اور اس طرح تمہارے فائدہ کے لئے بچھا دیا ہے ؟ کیا ان معبودوں اور حاجت رواؤں نے اور مشکل کشاؤں نے جن کو تم اللہ کے سوا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہو تو اس وقت یہ کسی اور کا نام نہیں لیں گے بلکہ صاف صاف کہیں گے کہ اللہ نے آسمانوں کو بنایا ہے اور اللہ ہی نے زمین کو بچھایا ہے آپ بھی فرما دیں کہ سب اچھی تعریفوں کا مالک اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی ہے اور اس کے سوا اور کوئی نہیں لیکن ان میں سے اکثریت انہیں لوگوں کی ہے جو اتنی بات بھی نہیں جانتے کہ اتنے اتنے بڑے آسمان اور اتنی بڑی زمین کا پیدا کرنے والا تو اللہ ہے لیکن یہ چھوٹی چھوٹی تمہاری حاجات جو ہیں تو ان کے لئے اللہ نے دوسروں کو مقرر کر رکھا ہے تف ہے تم پر کہ کیسی باتیں تم بناتے ہو ۔
Ayah 31:26

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے ، بلاشبہ اللہ بےنیاز ، لائق حمد (وثنا) ہے

اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ‘ وہ غنی ہے تعریف کیا گیا : 26۔ آسمانوں کو بلند کرنے والا اور زمین کو بچھانے والا اللہ ہے تو بلاشبہ جو کچھ ان آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے ان کا خالق ومالک بھی وہی ہے اور ان میں جو کچھ ہے اس کا خالق ومالک بھی وہی ہے کوئی زبان قال سے مانے یا نہ مانے زبان حال سے ہر ایک اس بات کا اقراری ہے اور اس کی ثناء میں ہرچیز بزبان حال مصروف ہے بلاشبہ وہ غنی ہے اسے کسی کی ضرورت نہیں لیکن سب کو اس کی ضرورت ہے ۔ اس تعلیم کی پوری وضاحت سورة اخلاص میں کردی گئی ہے ۔
Ayah 31:27

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اور اگر تمام درخت جو رُوئے زمین پر ہیں قلمیں بن جائیں اور یہ سمندر اور ان کے علاوہ سات سمندر اور بھی سیاہی بن جائیں تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی (صفاتِ الٰہی شمار میں نہیں آسکتیں کیونکہ ان کا احاطہ ممکن نہیں) بلاشبہ اللہ (زبردست) غالب آنے والا ، حکمت والا ہے

زمین کے درخت قلمیں بنا دی جائیں اور سمندر سیاہی تو بھی اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوسکتے : 27۔ زمین پر جتنے درخت ہیں سب کی قلمیں بنائی جائیں اور سمندر کے پانی سیاہی ہوجائیں اور مزید سات سمندر بھی ساتھ ملا لئے جائیں یا سارے سمندروں کو اکٹھا کریں اور اتنے اتنے بڑے سات سمندر اور بھی ساتھ مل جائیں اور سب کی سیاہی بن جائے پھر سارے جن وانس اور ملائکہ مل کر اللہ تعالیٰ کے کلمات کو لکھنا شروع کردیں تو اس کے علم کی وسعت ‘ اس کی قدرت کے کرشموں ‘ حکمت کی باتوں کو تحریر کرنا شروع کردیا جائے جو کچھ بھی ہے یہ سب کا سب ختم ہوجائے اور اللہ کی باتیں ختم نہیں ہو سکتیں اور نہ ہی ان کا احاطہ تحریر میں لایا جا ساتر ہے ، وہ نہایت ہی زبردست اور بہت ہی حکمت والا ہے ۔ ایک نہ ہونے والی بات کو بیان کیا جائے تو اس کے لئے یہ پیرایہ بیان عام ہے اور مطلب اس کا یہی ہے کہ خالق کی قدرتوں کا شمار مخلوق کرلے یہ ممکن ہی نہیں بلکہ ممتنع ہے گویا اس بات کو سوچا ہی نہیں جاسکتا کیونکہ خالق اور مخلوق میں کوئی نسبت قرار نہیں دی جاسکتی ہے ۔ رہے جن اور فرشتے تو ان کی حیثیت تو ایک انسان کے سامنے کچھ نہیں وہ انسان کی اس معاملہ میں کیا مدد کریں گے ، اس مضمون کو دراصل اس سے پہلے سورة الکہف کی آیت 109 ‘ 110 میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے اس لئے تفصیل دیکھنا چاہیں تو عروۃ الوثقی جلد پنجم میں سورة الکہف کی محولہ آیات کی تفسیر دیکھیں ۔ شیخ سعدی (رح) نے اس مضمون کو ایک ہی شعر میں بند کردیا ‘ اس دانائے شیراز کا کلام بھی نہایت دقیق ہے وہ رقم طراز ہیں ۔ دفتر تمام گشت وبپایاں رسید عمر ماہمچناں راول وصف تو ماندہ ایم : ” کاغذ ختم ہوگیا عمر انتہا کو پہنچ گئی ‘ ہم ساری عمر مسمند قلم دوڑاتے رہے تیری صفات کا احاطہ تو کجا ابھی تو تیری پہلی صفت (وصف) کا بیان بھی مکمل نہیں ہوا۔ “ ہمارے بہت سے وہم پرستوں نے ان دونوں آیات کو اپنی وہم پرستی کے لئے ایک اصل قرار دیا ہے اور جو خرافات وہ گھڑ سکے سب کے سب گھڑ کر بیان کرتے گئے اور کلمات الہی کا سہارا لیا لیکن خالق حقیقی کی مخلوق اور مخلوق کی گھڑنت کا فرق اتنا واضح ہوتا ہے کہ وہ اس تحریف میں بری طرح ناکام ہوئے ، قابل غور بات یہ ہے کہ معجزہ بلاشبہ معجزہ ہے اور وہم بھی بہرحال وہم ہے وہم پرست کیا کرتا ہے ؟ یہی کہ وہ اپنے وہم کے باعث اپنے ہاتھ سے بت گھڑتا ہے ‘ قبربناتا ہے ‘ تصویر کھینچتا ہے اور پھر اس کو متبرک سمجھ کر اپنا مسجود بنا لیتا ہے لیکن اس کا وہم اس کو کبھی وہم تسلیم نہیں کرتا وہ اس کو حقیقت سمجھتا رہتا ہے ۔ اللہ ان وہم پرستوں کے وہم سے بچائے ، مثل ہے کہ اونٹ پھسلنے پر آئے تو اپنے پیشاب ہی سے پھسل جاتا ہے ۔
Ayah 31:28

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

تم (سب) کو پیدا کرنا اور مرنے کے بعد (سب کو) زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے ایک آدمی کو (پیدا کرنا یا مارنا ہے) بلاشبہ اللہ سننے والا ، دیکھنے والا ہے (اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں)

ساری دنیا کے انسانوں کو پیدا کرنا ایسا ہی ہے جیسے ایک فرد کا پیدا کرنا : 28۔ منکرین قیامت کا اثبات نہایت مشکل ہے انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اربوں آتی کہ اربوں سال گزرنے کے بعد ان سارے مردوں کو کس طرح زندہ کردیا جائے گا ؟ ایک طرف تو ان کو یہ تعجب ہے اور دوسری طرف وہ گننے لگتے ہیں کہ دیکھو عیسیٰ (علیہ السلام) نے کتنے مردے زندہ کئے اور فلاں پیر اور فلاں بزرگ نے فلاں انسان کو ‘ فلاں بچے کو فلاں فلاں انسانوں کو اس طرح زندہ کیا اور بارہ برس کے بعد زندہ کرنے والے کا زکر تو ہر خاص وعام کی زبان پر ہے ایک طرف ان کی یہ حالت ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا دوبارہ انسانوں کو پیدا کردینا ان پر نہایت شاق گزرتا ہے اس لئے ہم نے ان کو اور ان جیسے ان کے بھائیوں کو وہم پرست قرار دیا ہے کہ وہ اپنے وہم کے باعث جو مانیں بس مان لیں لیکن اللہ تعالیٰ پر ان کو یقین نہیں آتا ۔ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ ان کے اس وہم کے ازلہ کے لئے فرما رہا ہے کہ اے وہم پرستوں ! تم سب کو پہلی مرتبہ پیدا کرنا اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لئے بس ایسا ہی ہے جیسے کسی ایک نفس کو پیدا کرنا کیونکہ اس کو اوزاروں اور ہتھیاروں کی ضرورت نہیں وہ بلاشبہ (کن) کہتا ہے تو (فیکون) ہوجاتا ہے ۔ وہ سب کچھ سنتا ہے یاد رکھو کہ تمہارے وہم بھی اس کے کچھ پوشیدہ نہیں ۔
Ayah 31:29

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ (ہی ہے جو) رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے ہر ایک نے اپنے وقت مقرر تک چلنا ہے اور (یہی نہیں بلکہ) اللہ تمہارے کاموں سے (بھی) اچھی طرح واقف ہے

وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے والا ہے ‘ کائنات میں اسی کا تصرف ہے : 29۔ اے مخاطب ! کیا تو نے نہیں دیکھا اور کبھی غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح دن کو رات میں اور رات کو دن میں داخل کرتا رہتا ہے اور ان دونوں کو گھٹاتا بڑھاتا رہتا ہے اور پھر ان کا کم وبیش ہونا ساری دنیا کے اندر یکساں بھی نہیں ہوتا ‘ موسموں میں تغیر وتبدل بھی ہوتا ہے اور پوری دنیا میں موسموں کی یکسانیت بھی نہیں ہوتی اور پھر یہ کمی بیشی بدستور ایک جیسی ہے اس میں ذرا فرق نہیں آتا اتنی بڑی زمین اور زمین سے کئی گنا بڑا سورج لیکن اس کمی بیشی کی مقدار پر غور کرو کہ وہ ہر روز کس مقدار سے ہے پھر اس مقدار میں کبھی ایک پل کا فرق ‘ ایک پلک کے جھپکنے کے برابر بھی کمی بیشی ؟ کروڑہا سال گزر گئے لیکن اس نظام میں ایک لمحہ کا فرق ؟ ہرگز نہیں ۔ غور کرو کہ کس طرح سورج اور چاند اور دوسرے سیارے ضابطہ بندی سے اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے کسی تندہی کے ساتھ خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور سب کے سب اپنی اپنی عمر تک اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے ، ایسی فرمانبردار ‘ حادث اور مٹنے والی چیزیں معبود کیسے بن سکتی ہیں ۔ یاد رکھو کہ تمہارا ہر ایک فعل اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو معلوم ہے اس لئے تم بھی ذرا ہوش سے کام لو اور دیکھو تمہارے سامنے انفسی دلائل بھی پیش کئے گئے اور آفاقی دلائل بھی لیکن تم ایسے گمراہ ہو کہ تم نے نہ تو کبھی انفسی دلائل پر غور کیا ہے اور نہ ہی آفاقی دلائل پر ‘ کیا تمہاری یہ زندگی انسانوں کی زندگی ہے یا حیوانوں کی ؟ فیصلہ خود ہی کرلو اگر تم انسان ہو ۔ زیر نظر آیت عروۃ الوثقی جلد دوم میں سورة آل عمران کی آیت 27 ‘ جلد ششم سورة الحج کی آیت 61 میں گزر چکی ہے اور وہاں اس کی وضاحت بھی کردی ہے وہیں سے ملاحظہ کرلیں ۔
Ayah 31:30

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ اللہ کی ذات ہی حق ہے اور اس کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں سب باطل (جھوٹ اور لغو) ہیں اور بلاشبہ اللہ بڑی شان والا ، بڑے رتبے والا ہے

اللہ کی پکار حق ہے اور غیر اللہ کی باطل ‘ اللہ ہی کی ذات العلی الکبیر ہے : 30۔ اللہ تعالیٰ ہی کی وہ ذات ہے جس کا علم محیط ‘ قدرت کامل ‘ اس کی حکمت بالغہ اور اس کی رحمت بےپایاں اور اس کی فکر بہت عمیق ہے اور بلاشبہ اس کی جلوہ طرازیاں اس بات کی تصدیق کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات حق ہے ‘ اس کی قدرت حق ہے ‘ اس کی کبریائی اور عظمت وبڑائی حق ہے ‘ اس کی دانش وفکر حق ہے اور صرف وہی معبود حق ہے اور اس کی ذات کے علاوہ لوگ جس جس کو بھی الہ اور معبود ‘ حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہیں اور جس جس کی بھی وہ عبادت کرتے ہیں ‘ جس جس کو بھی ملجاوماوی سمجھتے ہیں وہ بلاشبہ باطل ہے جس کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔
Ayah 31:31

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ کے فضل (مال تجارت) سے (لدی ہوئی) کشتیاں سمندر میں چلتی ہیں تاکہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے بلاشبہ اس میں ہر صابر و شاکر کے لیے (بڑی ہی) نشانیاں ہیں

قدرت الہی کے مزید دلائل جن کو ہر آدمی مشاہدہ کرسکتا ہے : 31۔ کیا زندگی میں تم کبھی کشتی میں سوار ہوئے یا نہیں ؟ چلو سیر کے بہانے ہی سہی ‘ غور کیا تم نے کہ سمندر کیا ہے ؟ اس کی وسعتوں پر کبھی نظر کی ‘ اس کی گہرائیوں کے متعلق کبھی سوچا پھر اس کے اندر وہ مناظر جو حسین بھی ہیں اور جان کا خطرہ بھی جب اس میں پہاڑوں کی طرح اٹھنے والی موجیں اٹھتی ہیں اور قدم قدم پر حلقہ ہائے گرداب نظر آتے ہیں اور پھر اس میں پانی کا جہاز سینکڑوں نہیں ہزاروں انسانوں کو بٹھائے پانی کی پشت پر لئے جا رہا ہوتا ہے اس کے دامن میں لاکھوں ٹن سامان سمیٹا ہوتا ہے اور وہ بپھری ہوئی لہروں سے آنکھ موں لی کر رہا ہوتا ہے کبھی گردابوں میں پھنس کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بس یہ زندگی کے آخری لمحات ہیں جن سے ہم دو چار ہیں اور کبھی پھر امید زندگی بندھ جاتی ہے اور جہاز اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے کیا یہ قدرت الہی کی کرشمہ سازی نہیں ‘ کیا اس کو معجزہ نہیں کہا جاسکتا ؟ کبھی غور کیا تم نے کہ اس سمندر کے اندر قدرت الہی کا کیا مینا بازار لگا ہوا ہے اور اس کی ایک ایک لہر میں کئی جہاں آباد ہیں اور کئی خزانے پنہاں ہیں اور کتنی قوتیں خوابیدہ ہیں لیکن قدرت کے یہ سارے عجائبات اور سارے جلوے ان باہمت لوگوں کے لئے اپنے رخ سے نقاب اٹھاتے ہیں جو صبر کی صفت سے متصف ہیں ‘ تفکر و تدبر کے خوگر ہیں اور جو پیہم ناکامیوں سے بھی شکستہ خاطر نہیں ہوتے بلکہ ہمت سے آگے ہی آگے بڑھتے چلے جا رہے ہوتے ہیں اور آگے بڑھنے کا ان کو اس قدر شوق ہے کہ وہ اس شوق پر سو زندگیاں بھی قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں وہ بلاشبہ کوئی نہ کوئی منزل رکھتے ہیں اور کوئی نہ کوئی ولولہ ان کے اندر موجود ہے اور وہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں اور یہی وہ باہمت لوگ ہیں جن پر انعام واکرام کی بارش ہوتی ہے اور انہی لوگوں کو قرآن کریم نے اپنی زبان معجزانہ میں (صبار شکور) کہا ہے لیکن یہ نوجوان کون ہیں ؟ یہ انسان ہیں لیکن انسانوں میں سے وہ خاص انسان جن کی یہ ذمہ داری تھی وہ اس سے غافل پڑے ہیں اور یہ لوگ ان کی جگہ سوار ہوچکے ہیں ۔ کاش کہ ہماری قوم کے نوجوان بھی خواب غفلت سے بیدار ہوں اور تن آسانی اور آرام طلبی کے گوشوں سے ذرا باہر نکلیں اور اس کتاب حکیم کی طرف وہ ایسی توجہ کریں جس توجہ کی وہ مستحق ہے انہوں نے قرآن کریم کو ملاں کی میراث کیوں سمجھ لیا ہے یہ تو محمد رسول اللہ ﷺ کے سینہ اقدس پر نازل ہوئی ہے اور ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ پڑھنے والے کا اس پر بڑا حق ہے ۔ میری قوم کے نوجوانو ! اٹھو اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی یہ کتاب اپنے ہاتھوں سے اٹھاؤ اور اس کو اپنے سینوں میں جگہ دو حاش اللہ ! تمہارے سینے ہی اس کا مسکن ہیں خدا گواہ ہے کہ ملاں کا طاق اس کا مسکن نہیں اس جزدان کی اس کو کوئی ضرورت نہیں ‘ اپنی عقل وفکر سے اس کو سمجھو بلاشبہ یہ سمجھنے کی چیز ہے قسم خدا کی جس نے حاصل کیا ہے اس نے اس سے حاصل کیا ہے یہی وہ کتاب ہے جو فضاؤں میں اڑتے ستاروں پر کمند ڈالنے ‘ چاند اور ستاروں سے آگے نکلنے کی تلقین کرتی ہے ، یہی وہ کتاب ہے جس نے لوگوں کو اس قدر وسعت دی کہ ان کو باور کرایا کہ حرکت ہی میں برکت ہے حرکت کے رک جانے کا نام موت ہے ، یہی وہ کتاب ہے جس نے اس کائنات میں غور وفکر کرنے کو عبادت قرار دیا پہاڑوں کے دامن پھاڑ کر وہاں سے ضرورت کی چیزیں نکالنے کو ضروری سمجھا ‘ زمین کا پیٹ چاک کر کے اس کے دفینوں کو باہر نکال لانے کو فرض قرار دیا اور ان چیزوں کو انعامات الہی قرار دیا ۔ اس کے نشانات کو لوگوں کے سامنے رکھنے کو اللہ تعالیٰ کی نشانی ٹھہرایا ۔ وہ حامل قرآن کریم ہی تھے جنہوں نے اس پر عمل کرنا باعث سعادت جانا ہاں ہاں ! وہ قرآنی کارواں تھے جنہوں نے ان صحراؤں کو علم و حکمت کے گلشن بنا دیا ‘ وہ جن ویرانوں سے گزرے وہاں شہر آباد ہوگئے ‘ جس سنگ خار کو انہوں نے چھوا اسے حسن و جمال کا مظہر بنا دیا ‘ انہوں نے مردہ علوم کو حیات نو بخشی اور قرآنی علوم کی تخم ریزی کی اور تخم ریزی سے پہلے زمین کو حکم الہی کے مطابق ہموار کیا ۔ ہائے کاش کہ جب اپنے اسلاف کے علمی ‘ تحقیق اور تخلیقی کارناموں کے فائدہ اٹھانے کا وقت آیا تو ہمارے مذہبی پیشواؤں نے ہمارے ان نوجوانوں پر غفلت کی چادر تان دی اور اوپر سے ایسی تھپکیاں دیں کہ ان کو گہری نیند سلا دیا اور پھر وہ ایسے بھولے کہ سینکڑوں سال گزر گئے اور دوبارہ ان کو جگانے کا نام ہی نہ لیا اور اس طرح جو فصل انہوں نے بوئی تھی وہ فرنگی طبقہ کاٹ کرلے گیا اور جب وہ دور گزر گیا تو ملاں نے قرآن کریم کو اپنی میراث قرار دے کر مردوں کے لئے مختص کردیا اور زندوں کا اس پر کوئی حصہ بھی نہ رہنے دیا مگر یہ کہ وہ اس پر ہاتھ پھیر کر اپنے منہ پر مار لیں اور اس سے برکت حاصل کریں اور اسی طرح برکت حاصل کرتے رہیں اور یہ برکت ان کو حاصل ہوتی رہے گی سود سے ‘ شراب سے ‘ جوئے سے ‘ بدکاروں سے ‘ مکاریوں سے ‘ کم تولنے ‘ کم ماپنے سے اور اس طرح کے سارے گناہ کمانے سے اور پھر جب وہ اس طرح کے گناہ کر کر کے مرجائیں گے تو پھر قرآن کریم کی تلاوت کر کے اور قرآن کریم ان کی قبروں پر پڑھ کر مرنے والوں کے گھروں میں پڑھ پڑھ کر ان مرنے والوں کو بخشوا دیں گے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
Ayah 31:32

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب کبھی ان پر سمندر کی لہریں سائے کی طرح چھا جاتی ہیں تو وہ محض اللہ کے ہو کر اللہ کو پکارتے ہیں پھر جب اللہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے بعض اعتدال پر رہتے ہیں اور ہماری نشانیوں سے وہی منکر ہوتے ہیں جو عہد پر قائم نہ رہنے والے احسان فراموش ہیں

جب کبھی ان پر سمندر کی لہریں چھا جائیں تو وہ اللہ کو خالص کرکے پکار لیتے ہیں : 32۔ بات بیان کی گئی تھی کشتیوں اور پانی کے جہازوں کی اور قدرت الہی کے ان نشانات سے توحید الہی پر استدلال کیا جا رہا تھا اور شرک سے بیزاری کا درس دیا جا رہا تھا کہ یہ لوگ اتنے اتنے بڑے توحید کے نشانات دیکھنے کے باوجود پھر غافل کے غافل ہی رہتے ہیں اور اب بتایا جا رہا ہے کہ جب کبھی ان کو کوئی موج ڈھانک لیتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کو بادلوں نے اپنے گھیرے میں لے لیا ہے گویا ان پر پہاڑ لوٹ آنے والے ہیں تو وہ اس وقت خالصتا اللہ تعالیٰ کی ذات کو پکارنے لگتے ہیں اور اب اسی اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کو پکارنا خالص دین سمجھتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو پھر بعض ان میں سے درمیانی راہ اختیار کرتے ہیں اور اکثریت ان کی گمراہ ہوجاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جھگڑا شروع کردیتے ہیں اور کفار اور مشرکین اس طرح احسان فراموش نکلتے ہیں کہ غداری اور ناشکری پر اتر آتے ہیں اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کبھی بھول کر بھی ان کو یاد نہیں آیا ۔