Ayahs 31:1–3ترکیب : ھدی و رحمۃ حالان عن الآیات والعامل فیھما معنی الاشارۃ و تکریر ضمیر ھم للتوکیدو لما فصل بنیہ خبرہ۔ الذین مبتداء اولئک الخ الجملۃ خبرہ ویتخذھا بالنصب عطفا علی لیضل والرفع عطف علی یشتری والضمیر یعود الی السبیل وقیل الی الحدیث لانہ یراد بہ الاحادیث وقیل الی الایات کان لم یسمعہا موضوعہ حال والعامل ولی کان بدل منھا۔
تفسیر : چونکہ اخیر سورة روم میں ولقد ضربنا للناس فی ھذا القرآن من کل مثل فرمایا تھا، جس میں اعجاز قرآن کی طرف اشارہ تھا اور اس کے بعد قوم کی سرکشی بیان ہوئی تھی۔ ان دونوں باتوں کی تاکید اس سورة کے اوائل میں فرماتا ہے اور سورة کو انہیں مفردات الم کے ساتھ شروع کیا۔ اس رمز کے لیے کہ جس کا ہم سورة عنکبوت کے ابتداء میں ذکر آئے ہیں۔ اس جگہ الف سے اشارہ اللہ کی طرف اور ل سے جبرئیل ( علیہ السلام) کی طرف اور م سے محمد ﷺ کی طرف ہے جس کے یہ معنی کہ یہ کتاب اللہ نے جبرئیل ( علیہ السلام) کے واسطہ سے محمد ﷺ پر نازل فرمائی، پھر اس کی تصریح تلک آیات الکتاب الحکیم میں کردی کہ یہ آیات کتاب پر حکمت کی ہیں۔
پہلی بات کی تاکید المفلحون تک ہے، ان جملوں میں بظاہر تو کتاب یعنی قرآن مجید کی مدح ہے کہ یہ کتاب پر حکمت ہے جو کچھ اس میں ہے وہ بندوں کے لیے عین حکمت ہے۔ نیک بختوں کے لیے ہدایت ہے، ان کو مقاصد دینی و دنیاوی میں راہ راست دکھاتی ہے اور نیز رحمت بھی ہے کہ بہ نسبت امم سابقہ کے اس امت کے لیے اس میں نہایت سہل احکام ہیں اور نیز یہ بھی ہے کہ اس کے ماننے والے تلاوت کرنے والے پر خدا کی رحمت ہوتی ہے اور نیز قرآن پر عمل کرنے والے کے دل میں رحمت یعنی نرم دلی پیدا ہوتی ہے۔ یہ کتاب رحم دلی کا برتاؤ سکھاتی ہے، اگر میں ان آیات اور احادیث کو اس بارے میں نمونہ کے طور پر بھی لکھوں تو ایک جداگانہ کتاب تیار ہوجاوے۔
Ayah 31:4الذین یقیمون الصلوٰۃ سے محسنین کا بیان ہوتا ہے کہ محسنین یعنی نیک بخت لوگ کون ہیں ؟ وہ ہیں جو نماز ادا کرتے ہیں۔ زکوٰۃ دیتے ہیں، اس میں حکمت عملیہ کے دونوں جزو بدنی اور مالی عبادت آگئی۔ وہم بالآخرۃ ہم یوقنون اور آخرت پر یقین بھی رکھتے ہیں۔ یہ حکمت نظریہ کے جمیع اجزاء کو شامل ہے کس لیے کہ جو دار آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ ضرور اللہ تعالیٰ پر بجمیع صفاتہ بھی ایمان رکھتا ہے جو دار آخرت میں جزاء و سزا کا دینے والا ہے اور اس طرح ملائکہ اور انبیاء اور کتب منزلہ پر بھی ایمان رکھتا ہے جو دار آخرت کے لیے سعادت کے ہادی اور شقاوت سے مانع ہیں۔ اب ایمان اور عمل صالح دونوں کا ہونا نیک بختی میں ضروری ہے اور ایمان میں دار آخرت کا ذکر اس لیے ہوا کہ یہی مسئلہ اہم تھا، مخالف زیادہ تر اس کے منکر تھے اور اعمال صالحہ کے بعد اس کا ذکر اس لیے آیا تھا کہ معلوم رہے کہ اعمال صالحہ نماز و خیرات آخرت کا توشہ ہے، سورة بقرہ میں ہدی للتقین آیا تھا اور یہاں ہدی و رحمۃ للمحسنین آیا، ایک تو ہدایت کے بعد رحمت کا لفظ زیادہ ہوا، اس لیے محسنین کا لفظ بھی آیا، کس لیے کہ احسان کا مرتبہ تقویٰ سے بالا ہے کیونکہ حدیث جبرئیل ( علیہ السلام) میں کہ جس کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے، اسلام و ایمان کے بعد احسان سے سوال ہوا ہے، جس کے معنی آنحضرت ﷺ نے یہ بیان فرمائے۔
تعبد اللہ الخ کہ اللہ کی یہ سمجھ کر عبادت کرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو، اگر یہ نہ ہو تو یہ سمجھ لو کہ وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ پس جس طرح کتاب کے حق میں ازد یاد کیا گیا تو اسی طرح کتاب سے نفع اٹھانے والے کے حق میں اور زیادہ مدح کا لفظ آیا۔ ولطفہ مما لا یخفی علی ارباب البصیرۃ۔ پھر ان کے لیے دو باتیں انعام میں عطاء کرتا ہے۔ اول اولئک علی ھدی من ربہم کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی ہدایت پر قائم ہیں نہ وہ کہ جو دیگر اعمال بدکرکے ان کو سعادت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ گویا ان کے ہدایت پر ہونے کی اللہ نے شہادت ادا کردی، پورا اطمینان دلادیا۔ دوسری و اولئک ھم المفلحون کہ یہی فلاح پانے والے ہیں۔ دنیا میں بھی آخرت میں بھی نہ ان کے برخلاف لوگ، نجات کا بھی پورا اطمینان کردیا اور میں نے نیک بندوں کو بھی بتلادیا۔ اس کے بعد اس طریقہ فلاح کے برخلاف لوگوں کا ذکر فرماتا ہے۔ وہ لوگ کہ جن کا ذکر ولئن جئتہم بآیۃ الخ میں آیا تھا کہ جو آیات الٰہی کے منکر ہیں۔ پس فرماتا ہے ومن الناس الخ کہ ایسے بھی لوگ ہیں جو بےہودہ باتیں لوگوں کو اللہ کے رستہ سے بہکانے کے لیے خریدا کرتے ہیں۔ لہو الحدیث الاضافہ بمعنی من ای الحدیث الذی ہو لھو و منکر (نیشاپوری) ما یلھی عما یعنی کالا حادیث التی لا اصل لھا والاساطیر التی لا اعتبار فیھا والمضاحیک و فضول الکلام (بیضاوی) کہ لہو الحدیث لایعنی اور بےفائدہ کلام جیسا کہ وہ باتیں کہ جن کی اصل نہ ہو اور وہ قصے کہ جن میں کچھ عبرت نہ ہو اور ہنسانے والی باتیں اور فضول کلام۔ ابن عباس اور ابن مسعود ؓ قسم کھاکر کہتے تھے کہ لہو الحدیث راگ ہے۔ (مدارک) قرطبی کہتے ہیں۔ لہو الحدیث کی تفسیر میں جو عمدہ بات کہی گئی ہے، یہ ہے کہ اس سے مراد راگ ہے اور یہی صحابہ اور تابعین کا قول ہے اور بخاری نے الادب المفرد میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ اس سے مراد غنا یعنی راگ ہے۔ اس کو وہ قسم کھا کر کہتے تھے۔ طبری کہتے ہیں کہ علمائِ امصار راگ کے ممنوع اور مکروہ ہونے پر متفق ہیں، مگر ابراہیم بن سعد و عبداللہ عنبری جماعت کے مخالف ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لہو الحدیث میں بےفائدہ باتیں اور لغو قصے کہانیاں اور ہنسی مسخرے پن کی باتیں داخل ہیں۔ جن سے محفلیں گرم کی جاتی ہیں، اس میں وہ اشعار بھی داخل ہیں کہ جن میں معشوقوں کے خدوخال اور اعضائِ مستورہ کی توصیف اور دیگر شہوت انگیز باتیں ہوتی ہیں اور بہت سے علماء کے نزدیک راگ بھی مطلقاً اس میں داخل ہے اور ستار، سارنگی وغیرہ تو بالاتفاق حرام ہیں۔ فقہاء و محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ باجوں میں طبل غازی اور عیدین اور شادیوں میں دف بجانا مستثنیٰ ہے، مگر نفس راگ میں قدرے کلام ہے۔ وہ کہ شہوت انگیز مضامین کا گانا حرام ہے۔ رہے وہ اشعار کہ جن میں دنیا کی نفرت اور خدا تعالیٰ کی محبت ہے۔ پس جس طرح ان اشعار کا تصنیف کرنا ممنوع نہیں، اسی طرح کسی خاص وقت میں ان کا سننا بھی ممنوع نہیں، خواہ وہ خوش آوازی کے ساتھ ہو یا بغیر اس کے ان احادیث و اقوال پر نظر کرکے جو اس کی اباحت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ عوارف المعارف اور احیاء العلوم میں اس کا بخوبی فیصلہ کردیا ہے اور اس کی بھی اباحت اہل اللہ کے لیے مخصوص کی ہے۔ جن پر غلبہ ٔ حال اور شوق ہے، پھر اس کے لیے مکان اور زمان اور اہل مجلس کے اہل ہونے کی قید لگائی ہے۔ بعض صوفیہ کرام جو راگ سنتے تھے انہیں احتیاطوں سے نہ اس طور سے کہ جیسا آج کل مروج ہے اس کے ممنوع ہونے میں کسی اہل علم کو کلام نہیں۔ تفسیر احمدی وغیرہ۔
ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ایک قریشی کے بابت نازل ہوئی ہے جو ایک گانے والی چھوکری خرید کر لایا تھا اور جو سر نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ نضر بن حارث کے حق میں نازل ہوئی ہے جو گانے والی چھوکریاں خرید کر لایا تھا، جس کو سنتا تھا کہ وہ اسلام لانا چاہتا ہے، اس کے پاس بھیجتا تھا اور گانا سنواتا اور شراب پلاتا تھا اور کہتا تھا، یہ بہتر ہے یا وہ باتیں کہ جن کی طرف تم کو محمد ﷺ بلاتا ہے کہ نماز پڑھو، روزہ رکھو، جہاد کرو، بعض کہتے ہیں کہ وہ رستم و اسفندیار کے قصے بھی لایا تھا جن کو لوگوں کو سناکر قرآن سے روکتا اور یہ کہتا تھا کہ محمد ﷺ عاد وثمود کے قصے سناتا ہے، میں رستم و اسفندیار کے۔ (مدارک)
Ayahs 31:5–6ترکیب : ویتخذھا و الضمیر یعود الی السبیل وقیل الی الحدیث لانہ یراد بہ الاحادیث وقیل الی الآیات (تبیان)
تفسیر : کہ وہ آیات الٰہی کے ساتھ تمسخر کرتا ہے۔ اس کجرو کے دو فعل بیان ہوئے۔ اول یہ کہ وہ لہو الحدیث اللہ کے رستہ سے روکنے کے لیے خریدتا ہے کہ لوگ اس طرف متوجہ ہوں، اس کو چھوڑ دیں۔ دوسرا یہ کہ وہ اللہ کے رستہ یا اس کی آیات سے تمسخر کرتا ہے یا ان لہو الحدیث کو مسخری کے لیے اختیار کرتا ہے۔ اس تمسخر کی سزا بیان فرماتا ہے۔ اولئک لہم عذاب مہین کہ ان کو ذلت کا عذاب ہوگا۔ عذاب بمقابلہ لہو الحدیث خرید کر گمراہ کریں گے۔ ذلت تمسخر کے سبب اور تمسخر کا نتیجہ ذلت ہے، ٹھٹھے باز آدمی کا رعب نہیں رہا کرتا۔ نظروں میں ذلیل ہوجاتا ہے۔ واذا تتلٰی علیہ آیتنا الخ یہ اس بدکردار کی تیسری حرکت ناشائستہ ہے کہ جب اس کو آیات الٰہی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو منہ موڑ کر اس طرح سے چل دیتا ہے کہ گویا سنا ہی نہیں اور گویا اس کے کانوں میں ثقل ہے، یعنی بہرا ہے، اس کی سزا فبشرہ بعذاب الیم کہ اس کو درد ناک یعنی بڑے دکھ دینے والے عذاب کا مژدہ سناؤ کہ تجھ کو عذاب الیم ہے، اگرچہ آیات مذکورہ میں ایک شخص کی طرف روئے سخن ہے، مگر اس کی کچھ خصوصیت نہیں جو کوئی ایسا ہو۔ اس زمانے میں بھی ایسے لوگ ہیں جو اسلام اور کار خیر سے روکنے کی سینکڑوں تدبیریں کیا کرتے ہیں، کہیں اسلام پر جھوٹے اعتراضات کرتے ہیں، کبھی اہل اسلام کے نماز روزہ پر تمسخر کیا جاتا ہے، کہیں ناچ و رنگ کی محفلیں کرکے صدہا بندگان خدا کو آلودہ کیا جاتا ہے، کہیں علوم اسلام اور علمائِ کرام کی توہین کرکے علم دین سے روکا جاتا اور کفار کے لایعنی علوم کی طرف رغبت دلائی جاتی ہے۔
Ayahs 31:7–8ان الذین آمنوا الخ قرآن کی عادت ہے کہ جب اہل شقاوت کا ذکر اور ان کی سزا کا بیان ہوتا ہے تو اہل سعادت اور ان کے انعام و اکرام کا بھی ذکر آتا ہے، اس لیے یہاں اہل سعادت کا ذکر کرتا ہے کہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے، ان کے لیے جنات النعیم ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہا کریں گے، مسخرے پڑے تمسخر کیا کریں، لیکن وعداللہ حقا اللہ کا وعدہ برحق ہے۔ ھو العزیز وہ زبردست ہے اس کو وعدہ پورا کرنے میں کوئی عجز لاحق نہیں ہوتا۔ الحکیم حکمت والا ہے۔ ان کے تمسخر پر جو حلم ہے اور مومنوں کو جلدی بدلہ نہیں ملتا، اس کی کوئی حکمت ہوتی ہے۔ خلق السموات بغیر عمد یہاں العزیز الحکیم ہونے پر ایک دلیل لاتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے بنایا جن کو تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔ آسمانوں کو کروی الشکل بنایا یعنی گول ‘ ستونوں سے بےپروا کردینا ہے۔ والقی فی الارض رواسی اور زمین میں ثقل یعنی بوجھ ڈال دیا کہ تم کو لے کر ادھر ادھر نہ ہلے۔ وبث فیہا من کل دابۃ آسمانوں اور زمین کو تیار کرکے زمین پر گوناں گوں جانور پھیلائے، دو پاؤں پر چلنے والے ‘ بغیر پاؤں کے چلنے والے اور پاؤں سے چلنے والے پھر چار پاؤں سے پھر اس سے بھی زیادہ پاؤں سے چلنے والے جن کی صدہا اقسام ہیں، پھر ان کی روزی کا یہ بندوبست کیا۔ وانزلنا من السماء الخ کہ آسمان سے پانی برسایا اور اس سے ہر قسم کی جڑی بوٹیاں اناج اور گھاس اگائیں۔ پھر ایسے شخص سے زیادہ کون عزیز ہے اور کون حکیم ہے۔
اس موقعہ پر مسئلہ توحید کے بیان کرنے کا بھی عمدہ قرینہ نکل آیا، اس لیے فرماتا ہے ھذا خلق اللہ یہ سب کچھ تو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ فارونی ماذا خلق الذین من دونہ اب تم مجھ کو دکھاؤ کہ اس کے سوا کسی اور نے کیا بنایا ہے ؟ کسی نے کچھ بھی نہیں پھر جب کچھ بھی نہیں بنایا تو ان کی خدائی کیسی اور ان کی عبادت کیا ؟ بل الظلمون فی ضلال مبین۔ کمبخت بدنصیب صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں، جو کسی اور کو اس کا شریک کرتے ہیں۔
ردّ شرک کے لیے کیا عمدہ برہان ہے، جس کو حکیم سے لے کر جاہل تک برابر سمجھ سکتا ہے۔ نقل ہے کہ ایک پادری برسر راہ بڑے زور و شور سے کہہ رہے تھے کہ عیسیٰ مسیح خدا ہے اور خدا کا بیٹا ہے، اتفاقاً وہاں ایک دہقانی گنوار بھی موجود تھا، اس نے کہا پادری صاحب اگر عیسیٰ خدا کا سپوت یعنی لائق بیٹا ہے تو کوئی آسمان و زمین اس کا بنایا ہوا بھی دکھاؤ اور جو اس نے باپ کی طرح کوئی چیز نہیں بنائی تو کپوت یعنی نالائق بیٹے کا ذکر کیا ہے ؟ پادری صاحب بغلیں جھانکنے لگے۔
Ayahs 31:9–12ترکیب : ان اشکر للہ تفسیر للحکمۃ لان ابتاء الحکمۃ فی معنی القول یا بنی بیاء التصغیر و یاء ہی لام الکلمۃ والیاء الثالثہ یاء التکلم ولکنھا حذفت لد لالۃ الکسرۃ علیھا فرار امن توالی الیایات و یقرء بالفتح و فیہ و جہان احدھما انہ ابدال الکسرۃ فحتہ فانقلبت باء الاضافۃ الاثم حذفت الالف کما حذفت الیاء مع الکسرۃ لانھا اصلھا بالثانی ان الا لف حذفت من اللفظ لا لتقاء الساکنین۔ وھنا المصدر حال من الام بتقدیر مضاف ای ذات و ھن اوھو مفعول مطلق لفعل محذف ای تھن وہنًا معروفاً صفۃ لمصدر محذوف ای صحابا معروفا وقیل التقدیر بمعروف۔ انھا الضمیر للقصۃ۔
تفسیر : شروع میں فرمایا تھا کہ یہ آیات پر حکمت کتاب کی ہیں، اس جگہ بعض اہل حکمت کے اقوال نقل فرماتا ہے تاکہ ناظرین کو معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ کی عبادت اور اس کی توحید کا اعتقاد ان حکیموں کا بھی قول ہے کہ جن کی حکمت کے تم بھی قائل ہو اور جن کے اقوال دلائلِ عقلیہ پر مبنی ہوتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوجاوے گا کہ قرآن مجید کس قدر حکیم ہے ؟ اس لیے یہاں لقمان حکیم کا ذکر کرتا ہے، فقال ولقد آتینا لقمن الحکمۃ کہ ہم نے لقمان کو حکمت عطاء کی تھی، حکمت کے معنی طبابت کے نہیں بلکہ (الحکمۃ فی عرف الحکمہاء استکمال النفس الانسانیۃ باقتباس العلوم النظریۃ واکتساب الملکۃ التامۃ علی الافعال الفاضلۃ علی قدر طاقتھا، بیضاوی) حکمت حکماء کے ہاں بقدر طاقت علوم نظریۃ حاصل کرنے کے بعد عمدہ افعال عمل میں لانے کا ملکہ تامہ حاصل کرکے نفس انسانیہ کے کامل کرنے کا نام ہے بعض کہتے ہیں، ھی الاصابۃ فی القول والعمل (مدارک) کہ بات اور عمل کرنے میں راہ صواب پر ہونا حکمت ہے۔
لقمان کا حال : لقمان ایک شخص بڑا حکیم اور باخدا شخص تھا، عرب میں بھی اس کی حکمت اور دانائی نزول قرآن کے عہد تک ضرب المثل تھی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں لقمان نہ کوئی نبی تھا نہ فرشتہ تھا، ایک سیاہ رنگ کا چرواہا تھا لیکن اللہ نے اس کو علم و حکمت عطاء کردیا تھا۔ اس روایت کے موافق اکثر علماء اس بات کے قائل ہوگئے ہیں کہ لقمان نبی نہ تھا بلکہ شخص باخدا اہل علم و حکمت تھا، مگر عکرمہ اور شعبی کہتے ہیں کہ وہ نبی تھا۔ نیشاپوری، و مدارک، و بیضاوی۔
اب ہم کو یہ تحقیق کرنا ہے کہ وہ کس ملک کے رہنے والے اور کس زمانے میں تھے ؟ افسوس ہے کہ اس بارے میں ہم کو آنحضرت ﷺ کی کوئی حدیث نہ ملی، ناچار کتب تاریخ سے پتا لگانا پڑا۔ مؤرخوں کے اس بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ کتب تفاسیر میں یہ ہے کہ باعور کا بیٹا ہے جو حضرت ایوب ( علیہ السلام) کا بھانجا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ آذر کی اولاد میں سے تھا، ان کی عمر ہزار برس کی تھی۔ حضرت داؤد ( علیہ السلام) کے زمانہ تک زندہ تھے۔ عرب میں بھی رہے ہیں اور شام میں بھی اور یونان وغیرہ دوسرے ملکوں میں بھی گئے تھے، اس لیے بعض مورخوں نے کہہ دیا کہ وہ ایک یونانی حکیم تھے، حکیم انبذ قلس کے استاد تھے۔ حکمائِ یونان کی تاریخ میں ان کا ذکر پایا جاتا ہے۔
بعض کہتے ہیں، یہ لقمان کہ جس کا قرآن مجید میں ذکر آیا ہے، یمن کا بادشاہ تھا۔ لقمان بن عاد شداد کے بعد تخت نشین ہوا تھا۔ برخلاف شداد کے یہ بڑا نیک اور حکیم تھا، اس کے بعد اس کا بھائی ذوسدو بادشاہ ہوا اس کے بعد ذوسدو کا بیٹا حارث الرایش تخت نشین ہوا۔ یہی تبع اول ہے جو لقمان کا بھتیجا ہے اور تبع کے بعد اس کا بیٹا صعب تخت نشین ہوا، یہی وہ ذوالقرنین ہے جس کا قرآن مجید میں ذکر ہے۔ ذوالقرنین لقمان کے بھتیجے کا بیٹا ہے۔ شداد کے بعد اس خاندان میں لقمان کی دینداری کے سبب تبع اور ذوالقرنین بھی باخدا ہوئے ہیں۔ انہی کے تذکرے عرب میں خوردو کلاں کے زبان زد تھے۔ واللہ اعلم۔
اس باخدا حکیم کی بہت سی دل پسند نصیحتیں ہیں۔ منجملہ ان کے یہ ہیں کہ جن کو خدا تعالیٰ اس جگہ بیان فرماتا ہے اور لطف یہ ہے کہ اگر کتاب الٰہی میں کسی حکیم کی یوں ہی نصیحتیں نقل کردی جاویں تو اس کتاب الٰہی پر دھبہ لگتا ہے کہ گویا خدا حکیموں سے نصیحتیں سیکھ کر بیان فرماتا ہے اس لیے اسی جگہ یہ اسلوب بدل دیا اور کلام اللہ ہونے کی اس میں بھی شان دکھادی، پس اول یہ فرمادیا۔ ولقد آتینا لقمن الحکمۃ کو ہم نے لقمان کو حکمت سکھائی تھی، تاکہ ناظرین کو یہ معلوم رہے کہ لقمان کی یہ نصیحتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام کی ہوئی ہیں، اس کے بعد اس حکمت کی تفصیل کرتا ہے۔ ان شکر للہ الخ کہ اللہ کی شکر گزاری کیا کر۔ دنیا میں کوئی ایسا بشر نہیں کہ جس کو خدا تعالیٰ کی ہزاروں نعمتیں نہ ملی ہوں۔ تندرستی، ہاتھ پاؤں، آنکھ، ناک، قوائے ظاہر یہ و باطنیہ اس کے بعد عقل و ادراک معاش پیدا کرنے کی تدابیر کا علم، پھر دولت اولاد و زن و فرزند کس کس کو کوئی بیان کرے اور نعمت کے مقابلہ میں منھم کا شکر کرنا چاہیے۔ شکر کیا ہے، زبان سے اس کی ثناء و صفت بیان کرنا ‘ دل میں احسان ماننا ہاتھ پاؤں کو یا دیگر اعضاء کو اور مال کو اس کی خوشنودی کے کاموں میں لگانا، پھر فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو تو کسی کے شکر کی کچھ بھی حاجت نہیں کیونکہ ومن یشکر فانما یشکر لنفسہ کہ جو کوئی شکر کرتا ہو تو اس میں اسی کا فائدہ ہے، کیونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو کوئی کسی نعمت پر شکر کرے گا، ہم اور زیادہ دیں گے۔ شکر کرنے سے بندے کی لائق مندی اور سعادت مندی کا اظہار ہوتا ہے۔ ومن کفرفان اللہ غنی حمید اور جو کوئی ناشکری کرتا ہو تو خود اس کی نالائقی ثابت ہوتی ہے۔ اللہ تو بےپروا ہے اس کا کوئی اس میں حرج نہیں اور وہ اس کی ثناء و صفت کا محتاج نہیں کیونکہ وہ حمید ہے وہ خود بخود لائق ثناء و صفت بیشمار قدوسی آسمانوں میں شب و روز اس کی حمد وثناء کرتے ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
اس کے بعد لقمان کی وہ نصیحتیں بیان کرتا ہے جو اس نے بوقت فہمایش اپنے پیارے فرزند سے کی تھیں۔ کما قال اذ قال لقمن لابنہ وھو یعظہ اور یہ اس لیے کہا تھا کہ ناظرین کو معلوم ہو کہ نصائح مذکورہ ذیل کچھ ایسے ویسے نہیں ہیں بلکہ وہ ہیں جو اس نے اپنے فرزندِ دلبند سے بیان کی تھیں۔ غیر کو جو کوئی نصیحت کرتا ہو تو اس میں یہ بھی گمان ہوسکتا ہے کہ شاید ان میں نفع نہ ہو، بہکا دیا ہو مگر اپنے فرزند دلبند کو جو کوئی حکیم نصیحت کرتا ہو تو وہاں یہ گمان نہیں ہوسکتا۔ خصوصاً جبکہ وہ بوقت نصیحت بیان کرے تو اس کا تو اور بھی زیادہ اعتبار کرنا چاہیے، گویا یہ ایسے درّ نفیس اور جواہرِ بےبہا ہیں جو بغیر فرزند دلبند کے کسی اور کو انسان طبعاً نہیں دیتا (حکیم اور نبی میں یہ بھی فرق ہے کہ وہ تمام مخلوقِ الٰہی کو فرزند سے زیادہ عزیز سمجھتا ہے، کوئی بات دریغ نہیں کرتا) پھر ان نصائح کا ذکر فرماتا ہے یا بنی لاتشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم کہ اے میرے پیارے فرزند اللہ کے ساتھ کسی اور کو شامل نہ کیجئو کہ اس کو بھی خدائی میں یا اس کے کاروبار یا دیگر اوصاف میں اس کے ساتھ ملانے لگے، کس لیے کہ شرک بڑا ہی ظلم ہے۔ خدا تعالیٰ کی شکر گزاری کا ذکر تھا اور شرک کرنا بڑی ناشکری ہے، اس لیے اس کے بعد اس کا ذکر آیا، کیونکہ نعمت تو کوئی اور دے منسوب کسی اور کی طرف کی جاوے تو اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوگا۔
حضرت لقمان کے نصائح میں ماں باپ کی شکر گزاری کا ذکر نہ آیا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے لقمان کی نصیحت کو کامل بنانے کے واسطے اس کے نصائح میں بطور جملہ معترضہ ماں باپ کی شکر گزاری کا کس تاکید شدید کے ساتھ حکم دیا۔ فقال ووصینا الانسان بوالدیہ کہ ہم نے انسان کو حکم دیا ہے کہ اپنے ماں باپ سے نیکی سے پیش آئے۔ باپ کے احسانات تو ہوش و حواس کے زمانہ میں ظاہر ہوتے ہیں، کھلاتا پہناتا ہے، ماں کے احسانات اس کی عالم بیخبر ی میں اس سے بھی بڑھ کر تھے، اس لیے ان کو یاد دلاتا ہے۔ فقال حملتہ امہ وھنا علی وھن ای تضعف ضعفاً فوق ضعف فانھا لاتزال یتضا عف ضعفھا، بیضاوی کہ اس کی ماں نے اس کو پیٹ میں رکھا۔ ضعف پر ضعف اٹھائے، کس لیے کہ جوں جوں حمل بڑھتا جاتا ہے، ضعف زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ اس کے بعد وفصالہ فی عامین اور دو برس تک اس کے پاس رہا۔ جدا نہ ہوا، دودھ پلاتی اور ساتھ سلاتی رہی۔ اس کے بعد جدا ہوا۔ اس زمانہ میں بھی جو کچھ ماں بےچاری پر تکلیفیں پہنچتی ہیں، ان کا بیان نہیں ہوسکتا۔ سردی کی راتوں میں ہگ دیتا ہے، رات بھر میں کئی کئی بار پیشاب کرتا ہے، اس کو سو کھے میں سلاتی ہے، آپ گیلے میں سونا گوارا کرتی ہے، پھر اس کی ذرا سی تکلیف دیکھتی ہے تو بےچین ہوجاتی ہے۔ فصالہ فی عامین میں سب باتیں آگئیں۔ اس آیت سے امام شافعی و ابو یوسف و محمد (رح) نے استدلال کرکے یہ فتویٰ دیا ہے کہ دودھ پینے کی مدت جس کو مدت رضاعت کہتے ہیں۔ دو برس تک ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں کہ یہ مدت اڑھائی برس تک ہے، کیونکہ ایک آیت میں آگیا ہے۔ حملہ و فصالہ ثلثون شھر اور یہاں جو دو برس بیان ہوئے ہیں تو کثیر الوقوع معاملات پر نظر کی گئی ہے، کس لیے کہ اکثر بچوں کا دودھ اس عرصہ میں بڑھ جاتا ہے، یہ کوئی حکم نہیں ہے نہ غایت مدت بیان ہوئی ہے۔ اس کی پوری بحث کتب فقہ میں موجود ہے۔
ان کے احسانات جتلا کر فرماتا ہے، ان اشکرلی ولوالدیک کہ میرا اور اپنے ماں باپ کا شکر کیا کر۔ اپنا شکر اس لیے بیان کیا کہ ان سے بھی زیادہ محسن میں ہوں اور نیز اس میں یہ بھی رمز ہے کہ خدا تعالیٰ کے بعد دنیا میں ماں باپ کا بڑا حق ہے۔ الیّ المصیر میرے پاس پھر کر آنا ہے۔ یہ اس لیے فرمایا کہ نہایت سرگرمی اور تن دہی سے حقوق اللہ اور حقوق والدین ادا کیا کرے۔ یہ نہ سمجھے کہ اب خدا سے کیا کام پڑے گا ؟ نہیں پھر مجھ سے کام پڑنا ہے، میرے پاس آنا ہے۔
ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ خدمت اور سلوک کا زیادہ کون مستحق ہے ؟ آپ نے فرمایا تیری ماں اس نے عرض کیا کہ پھر کون ؟ فرمایا تیری ماں۔ پھر عرض کیا پھر فرمایا تیرا باپ (متفق علیہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ماں باپ کی خوشنودی میں خدا کی خوشنودی ہے اور ان کی ناراضگی میں خدا کی ناراضی ہے۔ (رواہ الترمذی)
اس اطاعت کے حکم پر یہ خیال ہوسکتا تھا کہ ماں باپ خواہ بری بات کا حکم دیں، خواہ بھلی کا بہرحال ان کی اطاعت فرض ہے، حالانکہ ان سے زیادہ ایک اور بھی قابل ادب و اطاعت موجود ہے، یعنی خدا تعالیٰ اگر ماں باپ اس کے ساتھ شریک کرنے کا حکم دیں تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے ؟ اس لیے اس کا حکم بھی بیان فرمادیا۔ فقال و ان جاھداک علی ان تشرک، بی مالیس لک بہ علم فلاتطعہما کہ ایسی صورت میں ان کی اطاعت نہ کرنی چاہیے، وہ ہزار زور ڈالیں اور اڑ جاویں کہ تو خدا کے ساتھ اور کو بھی شریک کر کہ جس کو تو جانتا بھی نہیں جہاں گمان ہوسکتا ہے کہ شاید یہ شخص اس قابل ہے کہ اس میں شریک ہونے کا وصف ہو تو اس بات کو نہ ماننا چہ جائیکہ جس کو تو جانتا ہے کہ مخلوق الٰہی ہے اور کسی طرح شریک نہیں ہوسکتا۔ اس آیت سے یہ بات ثابت ہوئی کہ خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں ماں باپ کی اطاعت فرض نہیں بلکہ اس وقت ان کا حکم ہرگز نہ ماننا چاہیے لیکن ایسی حالت میں بھی وصاحبہما فی الدنیا معروفا کہ دنیا میں ان سے سعادت مندانہ طریقہ سے پیش آ۔ گو وہ مشرک و کافر ہی کیوں نہ ہوں، مگر تاہم ان کا ادب کر ‘ کھانے پینے کی تکلیف نہ دے۔
اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں کہ زمانہ معاہدہ قریش مکہ میں میری ماں میرے پاس آئیں اور وہ اس وقت مشرکہ تھیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ میری ماں آئی ہے اور وہ اسلام سے نفرت رکھتی ہے، پھر کیا میں اس سے کچھ سلوک کروں ؟ آپ نے فرمایا، ہاں اس سے سلوک کر (متفق علیہ)
مفسرین نے اس مقام پر نقل کیا ہے کہ سعد بن ابی وقاص ؓ جب مسلمان ہوئے تو ان کی ماں نے قسم کھائی کہ نہ تو میں دھوپ میں سے اٹھوں گی نہ کھانا کھاؤں گی جب تک کہ سعد اسلام ترک نہ کرے گا اور سعد نے کہا میں ہرگز اسلام ترک نہ کروں گا، اس حالت میں اس پر تین روز گزر گئے، آنحضرت ﷺ کو خبر کی گئی، تب یہ آیت ان جاھداک الخ نازل ہوئی کہ اس امر میں اطاعت نہ کر۔
اور ایسی حالت میں کہ ماں باپ گمراہ ہوں تو ان کی پیروی نہ کرنا چاہیے۔ و اتبع سبیل من اناب الی ان کے رشتہ پر چلنا چاہیے کہ میری طرف رجوع ہوئے ہیں، یعنی باخدا لوگوں کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے، جس میں حضرات انبیاء و اولیائِ کرام و علمائِ عظام کی طرف اشارہ ہے کیونکہ یہ لوگ روحانی باپ دادا ہیں اور اپنے اصلی بزرگ بھی ہیں، پھر ان سب باتوں کی تاکید کے لیے یہ جملہ ارشاد ہوا۔ ثم الی مرجعکم فانبئکم بماکنتم تعملون کہ تم سب کو میرے پاس واپس آنا ہے۔ پھر میں تم کو بتلادوں گا کہ تم کیا کیا کرتے تھے ؟ ظاہر داری اور خلوص نیت سب کا حال معلوم ہوجاوے گا۔
اصول سعادت کی تعلیم : وصینا سے یہاں تک جملہ معترضہ تمام ہوا، اس کے بعد پھر نصائحِ لقمان شروع ہوئے یا بنی انہا ان تک مثقال حبۃ من خردل الخ خدا تعالیٰ کی شکر گزاری کا اول ذکر کرکے جو اصل اصول حکمت ہے اور مابعد کے احکام کے لیے ایک بڑا محرک ہے، اس کے اوصاف حمیدہ ذکر فرماتے ہیں۔ خصوصاً وہ وصف کہ جس کو اگر انسان پیش نظر رکھے تو خدا تعالیٰ کی نافرمانی پر کبھی جرأت نہ کرے اور نیکی کرنے میں بڑا سرگرم رہے، وہ کیا ؟ کہ اللہ تعالیٰ لطیف ہے۔ نہایت باریک بیں ہے خبیر ہے، کوئی شے اس سے مخفی نہیں، یہاں تک کہ رائی کے دانہ کے برابر بھی کوئی چیز ہو، یعنی ذرہ کی مانند ہو کسی قدر کم کیوں نہ ہو۔ (رائی کے دانہ کے برابر ایک محاورہ کی بات ہے، قلت بیان کرنے کے لیے اس فقرہ کو استعمال کرتے ہیں) پھر وہ زمین میں خصوصاً پتھر کے پردوں میں یا زمین پر کسی جگہ ہو یا آسمانوں میں ہو، اللہ سے مخفی نہیں اور صرف یہی بات نہیں کہ اللہ کو اس کا علم ہے، بلکہ وہ حاضر کرنے پر بھی قادر ہے، وہ اس کو ہر جگہ سے نکال دے گا، قیامت میں سامنے کردے گا۔ پھر جب وہ ایسا ہے تو اس بھروسہ پر چھپ کر گناہ کرنے میں جرأت نہ کیجیو کہ اللہ تعالیٰ کو خبر نہ ہوگی اور اسی طرح تیری کوئی نیکی بھی رائیگاں نہ جاوے گی۔ یہ خیال نہ کیجئو کہ دنیا کے بادشاہوں کی طرح شاید اس کو اس کی خبر نہ ہو پس یا بنی اقم الصلٰوۃ اے فرزند نماز ادا کرتا رہ۔ یہ معلوم نہیں کہ حضرت لقمان کے عہد میں نماز کا کیا دستور تھا، رکوع و سجود ‘ قیام وسلام کے ساتھ تھی یا کسی اور طرح سے ؟ نماز اس کے آگے عجز و نیاز کرنے کا نام ہے، اس کے طریقے ہر نبی اور ہر زمانہ کے موافق مختلف رہے ہیں، کہیں صرف دعاوگریہ وزاری تھا، کہیں سجدہ کرنا، کہیں اس کی تسبیح و تقدیس و استغفار کرنا، ہمارے حضرت ﷺ کے عہد میں وہ طریقہ قائم ہوا کہ جس میں یہ سب باتیں آگئیں۔ تکمیل نفس کے بعد تکمیل غیر کا بھی حکم دیتا ہے، کس لیے کہ کامل حکیم کے لیے دونوں باتیں ضرور ہیں۔ آپ اچھا ہونا اور لوگوں کو راستی کی طرف لانا، اس لیے فرمایا و امر بالمعروف و انہ عن المنکر نیک باتوں کی تعلیم کر اور بری باتوں سے روک، کسی کام کے نیک یا بد قرار دینے میں بھی طبائعِ بشر یہ یکساں نہیں، ایک بات ہے کہ اس کو بعض نیک کام سمجھتے ہیں اور بعض اس کو برا جانتے ہیں، اس لیے نیک کام کو معروف سے اور برے کو منکر سے تعبیر فرمایا کیونکہ اگر کوئی لوث شیطانی نہیں لگا ہے تو فطرت انسانیہ خود مفتی ہے۔ اچھی باتیں اعلانیہ کرنے میں دل کو شرمندگی نہیں ہوتی، ان کو سب کے سامنے کرسکتا ہے یا ظاہر کرسکتا ہے، بخلاف بری بات کے کہ اس کو مخفی کیا کرتا ہے۔ اس لیے نیکی معروف اور بدی منکر اوپری بات قرار پائی۔
حسن معاشرت کی تعلیم : اس کے بعد حسن معاشرت کا طریقہ بتلاتا ہے۔ واصبر علی ما اصابک کہ تجھ پر اگر خدا کی طرف سے یا لوگوں کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچے، کیونکہ جو خلق خدا کی خیر خواہی کا بیڑا اٹھاتا ہے، ناعاقبت اندیش اس کی ایذا کے درپے ہوا کرتے ہیں، اس پر کوئی تکلیف پہنچنا بڑی بات نہیں۔ گالی ‘ سخت کلامی تو معمولی بات ہے، پس صبر کرنا چاہیے۔ اول شکر کی تعلیم تھی جو نعمتوں کی طرف اشارہ کرتی تھی اور حقیقت میں انسان کو نعمتیں بیشمار دی گئی ہیں اور مصائب کم۔ اس لیے اس کے بعد صبر کی تعلیم کی۔ فرمایا کہ یہ بڑی ہمت کا کام ہے، اس کے بعد تین باتیں اور تعلیم ہیں۔ اول ولا تصعر الخ کہ لوگوں سے تکبر سے پیش نہ آنا ‘ بےرحمی نہ کرنا۔ متکبر کے لوگ دشمن ہوجاتے ہیں۔ دوم ولاتمش اترا کر نہ چلنا بلکہ واقصد فی مشیک درمیانی چال چل۔ اس میں جملہ معاملاتِ دُنیاوی کی طرف بھی اشارہ ہے نہ لکھ لٹ قلندر بن نہ کنجوس بن ‘ واغضض الخ کہ بات چیت دھیمی آواز کے ساتھ کیا کر یہ مہذب لوگوں کا دستور ہے۔ چیخ چلاکر بات نہ کر، جو گدھے کی آواز کے مشابہ ہوجاوے کیونکہ آوازوں میں گدھے کی آواز مکروہ معلوم ہوتی ہے۔
Ayahs 31:13–20ترکیب : ان اللہ جملہ قایم مقام دو مفعولوں کے کہ جن کو تروا چاہتا ہے واسبغ الاسباغ الاکمال ھو معطوف علی سخر نعمہ بالجمع والاضافۃ وابو عمر و وحفص و قری نعمۃً مفردًا ظاھرۃ وباطنۃً یمکن ان یکون حالاً من النعمۃ ای حال کونھا ظاہرۃً و باطنۃً محسوسۃً معقولۃً تعرفونہ وما لاتعرفونہ وقد مر شرح النعمۃ وتفصیلھا فی الفاتحہ ویمکن ان یکون نعتا من یجادل من مبتداء ومن الناس خبرہ المقدم اولو الھمزۃ للاستفہام و الو او للعطف و لو شرطیۃ و جو ابھا محذوف مثل لا اتبعوہ الاستفہام للانکار والتعجب والجملۃ معطوف علی الکلام السابق۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ لقمان نے شرک کی ممانعت کی تھی اور یہ حکمت کا بڑا خزانہ ہے، اب اس آیت الم تروا ان اللہ الخ سے یہ بات ظاہر فرماتا ہے کہ کچھ لقمان کے کہنے ہی پر موقوف نہیں، ہر شخص دلائل و شواہدِ آفاقیہ و انفسیہ میں غور کرکے کہہ سکتا ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں، وہی ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کی چیزوں کو انسان کے لیے مسخر کردیا، یعنی ان کے کام میں لگادیا اور انسان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بھرپور کردیا۔ ہاتھ پائوں تندرستی وغیرہ ظاہری نعمتیں ہیں جو محسوس میں عقل سلیم ادراک اور دیگر قوائے باطنیہ غیر محسوس نعمائِ باطنیہ ہیں، ومن الناس یہاں سے یہ بتلاتا ہے کہ دنیا میں ایسے ہی کوڑھ مغز لوگ ہیں جو اللہ کے معاملہ میں یعنی اس کی ذات وصفات کی بابت یا احکام دینیہ کی بابت دلائل کو پس پشت ڈال کر انبیاء اور ان کے نائبوں سے جھگڑتے ہیں، کوئی اس کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کرکے امیروں، وزیروں کا محتاج ثابت کرتا ہے اور پھر اس کے امیر وزیر کہیں ملائکہ کہیں انبیاء و صلحا قرار دیے جاتے ہیں، کہیں عناصر و کواکب اس لیے ان کی پرستش جائز بلکہ واجب بتاتے ہیں۔ بغیر علم ولا ھدی ولا کتٰب منیر نہ ان کے پاس اس بارے میں کوئی دلیل عقلی ہے نہ کسی بزرگ باخدا کا قول ہے نہ کسی کتاب الٰہی سے ثابت ہے، یعنی نہ عقل سے کہتے ہیں نہ نقل سے صرف تقلیدِ آبائی پر بھروسہ ہے کہ بڑے بزرگوں سے یوں ہی سنتے چلے آئے ہیں، اس پر جو ان سے کہا جاتا ہے، اتبعوا ما انزل اللہ کہ اللہ نے جو کچھ نازل کیا ہے، اس پر چلو تو کہتے ہیں بل نتبع ماوجدنا علیہ آباء نا ہم تو اپنے باپ دادا کی لکیر کے فقیر ہیں۔ اولو کان الشیطن یدعوھم الی عذاب السعیر کہ کیا تب بھی ان کے رستہ پر چلیں گے جب آپ کو معلوم کرادیا گیا کہ شیطان ان کو جہنم کی طرف لیے جارہا ہے، یعنی آبائی طریقہ کی قباحت ظاہر ہونے کے بعد بھی کیا اس پر چلیں گے ؟ اب کہاں لقمان کی نصیحت اور کہاں برہان عقلی اور کہاں ان کی یہ جہالت۔
Ayahs 31:21–22ومن یسلم وجہ الی اللہ یہاں سے سلامت روی کا نتیجہ ظاہر فرماتا ہے، ان کجرو وں کے مقابلہ میں کہ جو کوئی اللہ کے آگے اپنا منہ جھکاوے یعنی اس کا دل سے فرمانبردار ہوجاوے اور اس کے بعد اس دلی ارادت کے مطابق نیک کام بھی کرے تو اس نے مضبوط رسی کو تھام لیا، یعنی نجات کا بڑا قوی ذریعہ اس کے ہاتھ آگیا، جس طرح کوئی پستی سے بلندی کی طرف چڑھنے والا مستحکم رسی کو تھام کر مطمئن ہوجاتا ہے۔ یہی حال اس کا ہے اور اس کا انجام اللہ اچھا کرے گا۔ بیچ میں رسی کو نہ ٹوٹنے دے گا، ہر چیز کا انجام اسی کے ہاتھ میں ہے یا یوں کہو ہر معاملہ اسی کے حضور میں پیش ہوتا ہے، ومن کفر اور جو اس کے برخلاف ہوگا، کفر اختیار کرے گا۔ اے نبی آپ اس سے کچھ غم نہ کریں، انجام کار ہمارے پاس آنا ہے، وہاں اس کو معلوم ہوجاوے گا اب دنیا میں چند روز کھاپی لے پھر تو جہنم ہے۔
Ayahs 31:23–25ترکیب : اقلام جمع قلم خبر ان ‘ ما موصولہ فی الارض صل تھا والجملۃ اسم ان من شجرۃ بیان ماو البحر رفعہ للعطف علی محل ان و معمولھا ویمدہ سبعۃ ابحر الجملۃ مع الفعل یمدو فاعلہ سبعۃ ابحرحال اویقال والبحر المبتداء یمدہ الجملۃ خبرہ۔
تفسیر : ولئن سالتہم الخ یعنی گو وہ دلائل پر غور و فکر نہیں کرتے، محض تقلیدِ آبائی میں گرفتار ہیں، لیکن باایں ہمہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور خالق ہونے کا اور نیز قادر ومالک آسمان و زمین ہونے کا فطری طور پر ایسا علم ہے کہ اگر تو ان سے دریافت کرے گا کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا ہے تو یہی کہیں گے کہ اللہ نے اس میں کسی کی بھی شرکت نہ بتلائیں گے۔ قل الحمد للہ تو کہہ الحمدللہ کہ وہ ملزم تو ہوئے اور لاچار ہو کر ایسی بات کے قائل ہوگئے کہ ان کے اعتقاد فاسد کے برخلاف ہے۔ بل اکثرھم لایعلمون وہ نادان ہیں، نہیں جانتے کہ ان کا اقرار ان کے اعتقاد کو باطل کررہا ہے یا کہو کہ اکثر تو ان میں سے اتنا بھی نہیں جانتے جاہل محض ہیں۔
Ayah 31:26للہ مافی السموات والارض آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں تو ان کا حصہ ہے ہی نہیں آسمانوں اور زمین کے اندر کی چیزیں بھی اللہ کی ہیں، ان میں بھی کوئی حصہ نہیں، پھر اللہ کی عبادت و ستائش نہیں کرتے۔ ان اللہ ھو الغنی الحمید اللہ کو کچھ پروا نہیں اس کی تعریف خود بخود ہورہی ہے۔
Ayah 31:27ولو ان ما فی الارض الخ یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ اس کی قدرت وکبریائی کا حال تو معلوم ہوگیا، اب اس کے علم اور دیگر صفات و شیون کا حال سنو کہ دنیا بھر کے تمام درختوں کے قلم بنائے جائیں اور سات سمندروں کی سیاہی بناکر اس کے اوصاف اور شیون اور معلومات کو لکھا جاوے تو وہ کم ہوجاویں گے، مگر وہ کلمات کہ جن سے اس کے معلومات اور شیون کو تعبیر کیا جاوے ہرگز کم نہ ہوں گے۔ ان اللہ عزیز حکیم کس لیے کہ اللہ زبردست ہے، اس کے عجائبات قدرت اس حد تک نہیں پہنچ سکتے کہ ان کے بعد پھر وہ کچھ اور عجائبِ قدرت پیدا نہ کرسکے۔ حکیم ہے کوئی شے اس کے علم سے باہر نہیں نہ اس کے اسرار حکمت کا احاطہ کرسکتا ہے۔ الغرض بےانتہا علم وقدرت رکھتا ہے اور قلم اور دوات متناہی ہے اور متناہی غیر متناہی کا احاطہ نہیں کرسکتا، اس لیے اس جملہ کو غنی حمید کے بعد لایا کہ اس کے غنی اور حمید ہونے کے لیے دلیل ہوجاوے۔ ابن جریر نے عکرمہ سے اور ابن اسحاق نے عطاء بن بسیار سے روایت کی ہے کہ جب مکہ میں یہ نازل ہوا کہ ما اوتیتم من العلم الاقلیلا اور پھر حضرت رسول اللہ ﷺ مدینہ میں ہجرت کرکے تشریف لائے تو احبار یہود نے آکر پوچھا کہ یہ کس کی بابت ہے، آپ کی قوم کی نسبت یا سب کی ؟ اگر ہماری نسبت ہے تو غلط ہے، کس لیے کہ ہم کو توریت ملی ہے اور اس میں ہر چیز کا بیان ہے، پھر ہماری نسبت کیونکر صادق آسکتا ہے کہ تم کو کم علم دیا گیا ؟ حضرت ﷺ نے فرمایا سب کی نسبت کس لیے کہ علم الٰہی کی نسبت یہ بھی قلیل ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، یعنی ان کے اس اعتراض کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے سورة لقمان کی یہ آیت پڑھی جو پہلے نازل ہوچکی تھی، جس کو راوی نے نازل ہونا بیان کیا۔
1 ؎ سات یا یعنی سات سمندر سمندر تو تمام زمین کے اردگرد ایک ہی ہے مگر اہل جغرافیہ نے اس کے احاطہ کے اعتبار سے اس کے سات حصہ پر تقسیم کی ہے بحر احمر بحر فلاں جیسا کہ کتب جغرافیہ میں مصرعاً مذکور ہے اس لیے لوگوں کی زبان پر سات سمندر کا لفظ جاری ہونے لگا اور بحر عرب کی زبان میں سمندر ہی کو کہتے ہیں چلتے اور بہتے ہوئے دریاؤں کو جیسا کہ دجلہ فرات نیل ان کو نہر کہتے میں یہاں کلام بطور تمثیل کے ہے کچھ سات سمندروں سے کام نہیں کہ وہ کون سی ہیں اور کہاں سے کہاں تک یعنی سمندر سیاہی ہوجاوے اور اسی طرح کے اور سات اس کی مدد کریں سیاہی بن کر تب ہی کلمات اللہ نہ تمام ہوں گے یہ خشک ہوجائیں گے اور کلمات باقی رہ جائیں گے۔ 12 منہ
Ayah 31:28ماخلقکم ولابعثکم الخ یہاں سے اپنے بعض عجائبِ قدرت کا اظہار اس لیے فرماتا ہے کہ اس کے منکرین سخت منکر تھے۔ فرماتا ہے سب کا پیدا کرنا اور پھر زندہ کرنا اس کے نزدیک ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کرنے کے برابر ہے، کس لیے کہ جس طرح ایک سے علم وقدرت کا تعلق ہے، اسی طرح سب سے پھر کیوں تعجب کرتے ہو کہ تمام خلائق کی یادداشت کس طرح کرسکے گا ؟ ان اللہ سمیع وہ ہر ایک کی بات سنتا دلی ارادت سے خبر رکھتا ہے، بصیر ہر چیز کو دیکھتا ہے۔
Ayah 31:29الم تر ان اللہ یہاں سے اپنی قدرت کاملہ اور علم پر اور دلیل قائم کرتا ہے کہ وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں گھسا دیتا ہے۔ آفتاب اور ماہتاب اس کے حکم پر چلتے ہیں اور وہ تمہارے سب کاموں سے واقف ہے،
Ayah 31:30ذلک یہ کہ وہ ایسا قادر اور ایسا عالم ہے اس لیے ہے بان اللہ ھو الحق اللہ ہی برحق اور واجب الوجود ہے۔ وان مایدعون من دونہ الباطل اور اس کے سوا جس کو وہ پکارتے ہیں وہ غلط ہے۔ فانی الذات ہے، وان اللہ ھو العلی الکبیر اور یہ کہ اللہ ہی سب سے بالا دست اور سب سے بڑا ہے، اس کے سوا کوئی قابل پرستش نہیں۔ یہ دلائل کا نتیجہ ہے، جس پر مخاطبین کو متنبہ کیا جاتا ہے۔
Ayah 31:31ترکیب : بنعمت اللہ الباء متعلق تجری اے بسبب نعمۃ ویجوزان یکون حالامن ضمیر فی تجری فیکون الظرف مستقرا ای مصحوبۃ بنعمۃ اللہ، لیریکم علۃ لتجری من آیتہ الی بعض ایتہ الدالۃ علی قدرتہ کا لظلل جمع الظلۃ وھی ما اظلک من جبل اوسحاب ولامولود وعطف علی والد و یکون مابعدہ صفۃ لہ ویجوزان یکون مبتداً وان کان نکرۃ لانہ فی سیاق النفی ومابعدہ الخبر و علی الثانی فایرا دالجملۃ الاسمیۃ للتوکید و قد انضم الی ذلک قولہ ھو وقولہ مولود دون ان یقول ولا ولد لان الوالدیقع علی ولد الولد ایضا بخلاف المولود لانہ یطلق علی الا بن خاصۃ ومن شانہ ان یکون جازیاً عن والدہ لماعلیہ من الحقوق۔ لایجزی لایقضٰی عنہ مالزمہ من الغرامۃ۔ وقری لایجزی من اجزی اذا اغنی۔ والراجع الی الموصوف محذوف ای لایجزٰی فیہ۔
تفسیر : الم تران الفلک یہ ایک دوسری دلیل ہے جو اس کی کمال قدرت اور حکمت اور شمول انعام پر دلالت کرتی ہے کہ دریا میں کشتیوں کا اس کی رحمت سے چلنا اس کی قدرت کی نشانی ہے، بنعمت اللہ کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ کشتی اس کی نعمت کو لے کر دریا میں چلتی ہے، اناج وغیرہ ہزاروں نعمتیں ایک ملک سے دوسرے ملک میں کشتیوں کے ذریعہ سے پہنچتی ہیں۔ فیکون الباء للتعدیہ ان فی ذلک البتہ اس کشتی کے چلنے میں ایک نشانی نہیں بلکہ لایت بہت سی نشانیاں ہیں، ایک تو یہ کہ پانی پر اس قدر بھاری بوجھ چلتا ہے، ڈوبتا نہیں۔ دوسری یہ کہ جدھر چاہتے ہو لے جاتے ہو، پانی کو تو مسخر کیا ہی تھا، ہوا کو بھی کیا، تیسری یہ کہ تم کو کیسی نافع چیز کی تعلیم کی اور عناصر کے متعلق کیسے کیسے کارآمد علوم سکھائے۔ یہاں تک کہ کشتی کو انجن کے زور سے بھی چلانا سکھادیا اور اس کے ساتھ برقی چیزیں اس کی حفاظت کے لیے استعمال کرنے کا علم سکھایا، چوتھی باایں ہمہ جب چاہتا ہے طوفان کے گرداب میں مبتلا کردیتا ہے۔ سب کاری گری دھری رہ جاتی ہے، لیکن پھر تم کو اس خوفناک رستے سے صحیح و سلامت لے آتا ہے۔ یہ نشانیاں ہر ایک شہوت پرست غافل کے لیے نہیں وہ تو اس کو معمولی بات سمجھتا ہے بلکہ لکل صبار شکور ہر ایک صبر و شکر کرنے والے کے لیے جو گناہوں سے نفس کو روکتا اور اس کے حملوں پر صبر کرتا ہے اور پھر جو اس کو نعمت الٰہی ملتی ہے، اس کا شکریہ ادا کرتا ہے، کیونکہ ایسی حالت میں نفس کی کدورتیں زائل ہوجاتی ہیں۔ پھر وہ اس آئینہ میں نظر و تامل کرکے ان دلائل کو دیکھ سکتا ہے اور انسان کی حالتیں بھی دو ہیں، مصیبت کی یا راحت کی پھر جو ان دونوں حالتوں میں ثابت قدم رہتا ہے وہ صابر بھی ہے، شاکر بھی ہے اور جس کو ان دونوں حالتوں میں استقامت حاصل ہوگئی وہ کامل اور حکیم ہوگیا۔ اس پر ایسی باتوں کے اسرار منکشف ہونے لگتے ہیں، اسی لیے آیا ہے کہ ایمان کے دو حصے ہیں صبر اور شکر۔ الغرض انسان کے کمال کی یہ دو حالت ہیں، انہی میں مرتاض اور پختہ کار ہوتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں پر اسرار حکمت منکشف ہوتے ہیں۔ وللدرر ومن قال ؎
گنج صبر اختیار لقمان ست
ہر کز صبر نیست حکمت نیست
وقال قطعہ
گہ اندر نعمتے مغرور و غافل
گہ اندر تنگدستی خستہ وریش
چو درسرا اوضرا حالت اینست
ندانم کے بحق پروازی از خویش
اس میں اور بھی لطیفہ ہے کہ دریائی سفر میں طوفان وغیرہ کی تکلیفیں اور منزل مقصود تک پہنچنے کی راحتیں بھی ہوتی ہیں۔ اس کو صبر و شکر سے زیادہ کام پڑتا ہے، اس لیے صبار شکور فرمایا اور بھی لطائف ہیں کہ جن کے ذکر کی اس مختصر کتاب میں گنجائش نہیں۔
Ayah 31:32واذا غشیہم موج کا لظلل یہ بھی اس سفر دریائی کی ایک حالت ہے جس میں اور بھی زیادہ خدا تعالیٰ کی قدرت و رحمت کے نشان معلوم ہوتے ہیں اور یہ بھی کہ مصائب کے وقت خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی کس طرح سے دستگیری کرتا ہے اور کس جلدی سے انسان کی دلی حالت پر متنبہ ہوتا ہے اور انسان مصیبت کے وقت اپنی اس فطری حالت پر آجاتا ہے۔ عوارض اٹھ جاتے ہیں، مگر نجات پانے کے بعد بعض تو پھر بھی اسی راہ راست پر رہتے ہیں، بعض پھر اسی ناراستی پر آجاتے ہیں۔ خدا کو بھول جاتے ہیں، اس میں صبر و شکر کی پوری آزمائش ہے، فرماتا ہے کہ سفر دریائی میں جب ان کو پہاڑ جیسی موجیں ڈھانک لیتی ہیں اور ہر طرف سے ان پر سائبان کی طرح محیط ہوجاتی ہیں تو دعوا اللہ اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں، کس طرح سے مخلصین لہ الدین خاص اسی کی طرف اخلاص اور نیاز پیدا کرکے فلما نجہم الی البرفمنہم مقتصد پھر جب ان کو خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو بعض ان میں سے درمیانی رستہ پر رہ جاتے ہیں اور وہ توحید اور شکر گزاری کا طریقہ ہے۔ (ای مقیم علی طریق القصد الذی ھو التوحید او متوسط فی الکفر لانز جاء ہ بعض الانز جاء، بیضاوی مقتصد کے بیضاوی نے دوسرے معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ درمیانی رستہ سے مراد کفر کا درمیانی رستہ ہے، یعنی اس جوش و خروش سے کفر پر نہیں رہتے، کس لیے کہ اس کو کچھ تو نصیحت ہوگئی ہے۔
وما یجحد بایتنا الاکل ختار کفور اس حالت میں جس نے ناشکری کی تو اللہ کی آیتوں کا انکار کردیا اور آیتوں سے انکار ختار یعنی غدار عہد شکن ہی کیا کرتے ہیں، جو عہد فطری کو توڑ دیتے ہیں۔ کفور ناشکریہ پورا مقابلہ ہے۔ صبار شکور کا صبار کے مقابلہ میں ختار اور شکور کے مقابلہ میں کفور آیا۔
Ayah 31:33یا ایھا الناس اتقوا ربکم یہاں سے حجت تمام کرکے ایک ایسا حکم دیتا ہے جو تمام نیکیوں کا اصل الاصول ہے، وہ کیا اتقوا ربکم کہ اپنے رب سے ڈرا کرو، جو اپنے رب سے ڈرے گا کسی مصیبت کے پاس نہ جائے گا اور کسی حکم الٰہی کے بجالانے میں کوتاہی نہ کرے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ اوصیکم بتقوی اللہ الحدیث رواہ احمد والترمذی وابن ماجۃ کہ میں تم کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، یعنی بتاکید حکم دیتا ہوں، چونکہ خدا سے ڈرنا بغیر یاد دلانے کسی آنے والی بلائے عظیم کے جو اللہ کے ہاں سے آنے والی ہو مشکل ہے، اس لیے اس آنے والی بلا کا ذکر فرماتا ہے۔ واخشوا یو مالا یجزی والدعن ولدہ ولا مولود ھوجاز عن والدہ شیئا کہ اس روز سے ڈرو یعنی قیامت کے دن سے کہ جس دن باوجود شفقت پدری کے کوئی باپ اپنے بیٹے کے کام نہ آوے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آوے گا۔ ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی، بغیر ایمان اور عمل صالح کے کچھ چارہ نہ ہوگا، جب باپ بیٹے کا یہ حال ہوگا تو اور کسی کی قرابت یا محبت کا تو کیا ذکر ہے۔ بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے۔ اے قریش ! اپنی خلاصی ڈھونڈو میں تمہارے کچھ کام نہ آئوں گا۔ اے بنی عبد مناف میں تمہارے کچھ کام نہ آئوں گا، اے عباس میں تیرے کچھ کام نہ آئوں گا۔ اے صفیہ محمد ﷺ کی پھوپھی میں تیرے کچھ کام نہ آئوں گا۔ اے فاطمہ محمد ﷺ کی بیٹی مجھ سے جو مال چاہے لے لے اللہ کے معاملہ میں تیرے کچھ کام نہ آئوں گا، یعنی اعمال و ایمان چھوڑ کر یہ تکیہ نہ کر بیٹھو کہ ہم پیغمبر کے اقارب ہیں۔ جیسا کہ عیسائیوں نے مسیح ( علیہ السلام) کے کفارہ ہونے پر تکیہ کرکے اعمال صالحہ کو بےفائدہ ٹھہرادیا اور ضمناً ہر قسم کی بدکاری کی اجازت دے دی، اس سے شفاعت کا انکار نہیں نکلتا، کیونکہ وہ ایمانداروں خدا کے فرمانبرداروں کے لیے ان کے رفع درجات یا قصوروں کی بابت ہوگی۔ سو یہ اور بات ہے، کفار سمجھتے تھے کہ ایسا دن کبھی نہیں آئے گا، کیونکہ وہ قیامت کے منکر تھے، اس لیے فرماتا ہے، ان وعداللہ حق کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے، ضرور وہ دن آئے گا فلا تغرنکم الحیٰوۃ الدنیا پھر تم دنیا کی زندگی پر دھوکا نہ کھائو، سدا کوئی نہیں جئے گا، ولا یغرنکم باللہ الغرور اور اسی طرح اللہ کے معاملہ میں بھی دھوکے میں نہ رہو کہ ہم کو دنیا میں سرداری دی ہے، وہاں بھی دے گا اور جس طرح یہاں ہمارے اقارب اور اعزہ حمایت کرکے چھڑا لیتے ہیں، چھڑا لیں گے یا ہمارے معبود جو اللہ کے گھر کے مختار ہیں، ہمیں بچالیں گے۔ الغرور فریب یا فریب دہندہ الشیطان کہ شیطان تم کو فریب نہ دے۔ اس کے بعد کفار یہ پوچھتے ہوں گے کہ وہ کب آوے گی، اس کی مدت بیان کر اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 31:34ان اللہ 1 ؎ عندہ علم الساعۃ کہ اس گھڑی کا علم اللہ ہی کو ہے، اس کو اس مصلحت سے مخفی رکھا ہے کہ بندوں کے دل کو ہر وقت کھٹکا رہے، لیکن اس کے قائم ہونے پر دو دلیلیں بیان فرمائیں۔ اول ینزل الغیث کہ وہ مینہ برساتا ہے، جس سے مردہ زمین زندہ ہوتی ہے۔ دوم ویعلم ما فی الارحام اور رحم میں بچہ کو پیدا کرتا ہے اور اس کی کیفیت سے وہی آگاہ ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ نر ہے یا مادہ کس شکل کا ہوگا۔ پس جو ابتداء پر قادر ہے وہ اعادہ پر بھی بطریق اولیٰ ۔ دیکھو ماں کے پیٹ میں بچہ ہوتا ہے، اس کا تم کو مفصل علم نہیں، پھر کیا وہ ظہور میں نہیں آتا، اسی طرح قیامت کا معاملہ ہے اور تم تو اپنی معاش اور حیات کے متعلق بھی علم نہیں رکھتے۔ پھر اگر قیامت کا تم کو علم نہ دیا گیا تو کیا ہوا۔ فقال و ما تدری نفس ماذا تکسب غدا کوئی نہیں جانتا، کل کیا کرے گا، کیا پیش آوے گا۔ وما تدری نفس بای ارض تموت اور یہ بھی نہیں کہ کہاں جاکر مرے گا، پھر باوجود اس علم نہ ہونے کے ضرور کچھ نہ کچھ کل کرتا ہے اور کہیں نہ کہیں جاکر مرتا ہے، ان اللہ علیم خبیر خدا ہی کو ہر چیز کا علم اور ہر چیز کی خبر ہے اس میں ان کے معبودوں کی عاجزی اور دنیا بھر کے حکماء کے علم و دانش کی بھی حقیقت بیان کردی کہ وہ یہ ضروری باتیں بھی نہیں جانتے۔ بخاری نے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ غیب کے پانچ خزانے ہیں، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی ان اللہ عندہ علم الساعۃ الخ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
1 ؎ اس جگہ ان پر علم کا اقتصاص ظاہر فرماتا ہے کہ تمہارے فرضي معبود اور چیزوں کو تو کیا جان سکتے ہیں یہ پانچ چیزیں جن سے ہر ایک کا تعلق ہے ان کو بھی تو کوئی یقینی طور پر نہیں جانتا نجوم وغیرہ کو جانتا علم یقینی نہیں بلکہ ظنی ہے اسی لیے ہدیا اس کے احکام غلط ثابت ہوئے ہیں وہ پانچ چیزیں یہ ہیں۔ (1) قیامت کا علم کہ کب آئے گی (2) بارش کا علم فرائن والات سے صرف ظن حاصل ہوتا ہے (3) ماؤں کے رحم کا حال کہ بچہ ہے یا خالی مادہ فاسد ہے پھر نر ہے یا وہ مادہ نیک ہے یا بد اور پیدا ہو کر کیسا ہوگا۔ اگر آلہ عکسی سے کسی نے دکھا دیا جائے تو ان باتوں میں سے کوئی بات بھی معلوم نہیں ہوسکتی یہ دکھا دینا ایسا ہے کہ جیسا کہ پیٹ چیر کر دکھا دے۔ (4) کل کیا پیش آئے گا (5) کہاں مرے گا۔ نقل ہے کہ خلیفہ عباس اپنی زندگی کا حال دریافت کیا کرتا تھا کہ کب تک ہے کسی نے 5 برس کسی نے 5 مہینے کسی نے 5 روز عمر بتلائی ایک شب خواب میں دیکھا کہ دجلہ سے ایک سوار نے اپنا پنجہ پانی سے نکال کر دکھا دیا آخر امام ابوحنیفہ (رح) کو بلایا گیا آپ نے فرمایا فرشتہ نے یہ بتایا ہے کہ ان پانچ چیزوں کا سوائے باری تعالیٰ کے اور کسی کو علم نہیں۔ حقانی۔