31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 31:1–14

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ حکمت کی (بھری ہوئی) کتاب کی آیتیں ہیں

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

نیکو کاروں کے لئے ہدایت اور رحمت

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

جو نماز کی پابندی کرتے اور زکوٰۃ دیتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہی اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور لوگوں میں بعض ایسا ہے جو بےہودہ حکایتیں خریدتا ہے تاکہ (لوگوں کو) بےسمجھے خدا کے راستے سے گمراہ کرے اور اس سے استہزا کرے یہی لوگ ہیں جن کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب اسکو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اکڑ کر منہ پھیر لیتا ہے گویا اس کو سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں ثقل ہے تو اس کو درد دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لئے نعمت کے باغ ہیں

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو اور زمین پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دئیے تاکہ تم کو ہلا نہ دے اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دئیے اور ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر (اس سے) اس میں ہر قسم کی نفیس چیزیں اگائیں

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ تو خدا کی پیدائش ہے تو مجھے دکھاؤ کہ خدا کے سوا جو لوگ ہیں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی کہ خدا کا شکر کرو اور جو شخص شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو خدا بھی بےپروا اور سزاوار حمد (وثنا) ہے

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو جسے اس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کے آنا ہے

طاعت والدین قول باری ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ۔ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق وصیت کی) تاقول باری (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا ۔ اور اگر دونوں تجھ پر اس معاملہ میں زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو تو ان کا کہا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کیے جا) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے یہ واضح کردیا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں اس کا حکم مسلمان اور کافر تمام والدین کے لئے عام ہے۔ کیونکہ پہلے یہ فرمایا (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم) پھر اس کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرمایا (وصاحبھما فی الدنیا معروفا) اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ بیٹے کو اپنے باپ سے قصاص کا حق نہیں ہے یعنی اگر باپ اپنے بیٹے کو قتل کردے تو اس سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔ نیز اگر باپ اپنے بیٹے کو قذف کرے گا تو اسے حد قذف نہیں لگائی جائے گی۔ علاوہ ازیں باپ پر اگر بیٹے کا قرضہ ہو تو اس کی ادائیگی کے سلسلے میں بات کو قید میں نہیں ڈالا جائے گا۔ اگر والدین ضرورت مند ہوں تو بیٹے پر ان کی کفالت ضروری ہوگی کیونکہ یہ تمام باتیں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کرنے میں داخل ہیں۔ ان کے خلاف عمل اس مصاحبت کے منافی ہوگا۔ اسی پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ باپ کو بیٹے کے قرضہ کی بنا پر قید میں نہیں ڈالا جائے گا۔ امام یوسف سے مروی ہے کہ اگر وہ سرکشی کرتا ہو تو اس صورت میں بیٹا اسے قید کرسکتا ہے۔ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے قول باری ہے : (حملتہ امہ وھنا علی وھن) اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا۔ ضحاک کا قول ہے ” ضعف پر ضعف اٹھا کر “ یعنی ماں کی کمزوری پر بچے کی کمزوری ۔ ایک قوال کے مطابق اس کے ذریعہ مشقت کی شدت بیان کی گئی ہے جو عورت کو حمل کے دوران اٹھانی پڑتی ہے : (و فصالہ فی عامین) اور دو برس میں اس کادودھ چھوٹتا ہے۔ یعنی دو برس کے اختتام تک ایک اور ایٓت میں ذکر ہے (وحملہ وفصالہ ثلثون شھرا اور حمل اور دودھ چھوٹنے کی مدت تیس مہینے ہے) ان دونوں آیتوں سے یہ بات حاصل ہوئی کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے۔ حمل کی کم سے کم مدت کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے اس سے استدلال کیا تھا۔ تمام اہل علم کا اس پر اتفاق ہے۔
Ayah 31:15

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع لائے اس کے راستے پر چلنا پھر تم کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے تو جو کام تم کرتے رہے میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا

قول باری ہے (واتبع سبیل من اناب الی۔ اور اس شخص کی راہ پر چلو جو میری طرف رجوع کیے ہوئے ہو) یہ قول باری اجماع المسلمین کی صحت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کی راہ پر چلنے کا حکم دیا ہے اس کی مثال یہ قول باری ہے (ویتبع غیر سبیل المومنین ) اور وہ اہل ایمان کی راہ کو چھوڑ کر کسی اور راہ پر چلتا ہے۔
Ayahs 31:16–17

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

(لقمان نے یہ بھی کہا کہ) بیٹا اگر کوئی عمل (بالفرض) رائی کے دانے کے برابر بھی (چھوٹا) ہو اور ہو بھی کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں (مخفی ہو) یا زمین میں خدا اس کو (قیامت کے دن) لا موجود کرے گا کچھ شک نہیں کہ خدا باریک بین (اور) خبردار ہے

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں

امر بالمعروف نہی عن المنکر ، عزیمت کا کام ہے قول باری ہے : (یا بنی اقم الصلوٰۃ وامر بالمعروف واتہ عن المنکر واصبر علی ما اصابک) اے میرے بیٹے ! نماز کو قائم رکھ اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور جو کچھ پیش آئے اس پر صبر کیا کر۔ یعنی…واللہ اعلم…امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے کے سلسلے میں لوگوں کے ہاتھوں جو تکلیفیں اٹھانی پڑیں ان پر صبر کر۔ ظاہر آیت صبر کے وجوب کا مقتضی ہے خواہ جان کا خطرہ کیوں نہ ہو، تاہم اللہ تعالیٰ نے دوسری آیات میں جن کا ہم نے ذکر کردیا ہے جان کے خطرے کی حالت میں تقیہ کرلینے کی رخصت عطا کردی ہے۔ درج بالا آیت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے وجوب کی مقتضی ہے۔
Ayah 31:18

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور (ازراہ غرور) لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا کہ خدا کسی اترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا

مغرورانہ انداز میں گفتگو نہ کی جائے قول باری ہے : (ولا تصعر خدک للناس) اور لوگوں سے اپنا رخ مت پھیرو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے کہ آیت کے معنی ہیں۔” غرور کی بنا پر اپنا رخ لوگوں سے نہ پھیرو۔ “ ابراہیم نخعی کا قول ہے اس سے تشدق مراد ہے یعنی باچھیں کھولنا۔ یہ معنی بھی پہلے معنی کی طرف راجع ہے کیونکہ باچھیں پھیلا کر باتیں کرنے والا متکبر ہوتا ہے۔ ایک کے مطابق صعر دراصل ایک بیماری کا نام ہے جو اونٹوں کے سروں اور گردنوں میں پیدا ہوجاتی ہے اور ان کے چہروں اور گردتوں کو ٹیڑھا رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ اس شخص کو تشبیہ دی گئی ہے جو لوگوں سے اپنی گردن ٹیڑھی رکھتا ہے یعنی ان سے اپنا رخ پھیرے رکھتا ہے۔ شاعر کا شعر ہے : وکنا اذا الجبار صعر خدہ اقمنالہ من میلہ فتقوما ہم تو ایسے لوگ ہیں کہ اگر کوئی مغرور ہمارے سامنے اپنی گردن ٹیڑھی کرتا تو ہم اس کی کجی دور کردیتے اور پھر وہ سیدھی ہوجاتی ۔ یعنی ہم اس کا غرور ختم کردیتے۔ غرور انسان کو زیب نہیں دیتا قول باری ہے (والا تسمش فی الارض مرحبا۔ اور زمین پر اکڑ کر مت چلو) مرح اترانے لوگوں کو حقارت کی نظروں سے دیکھنے اور انہیں ذلیل سمجھنے نیز خود پسندی کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمادیا اس لئے کہ یہ حرکت صرف وہی شخص کرسکتا ہے جو حقیقت سے آگاہ نہ ہو اور اسے اپنی ابتداء اور انتہا کی خبر نہ ہو۔ حسن بصری کا قول ہے کہ ابن آدم کیسے تکبر کرتا ہے حالانکہ اس کا خروج دودفعہ پیشاب کی راہ سے ہو رہا ہے۔ قول باری ہے (ان اللہ لا یحب کل مختال دخور۔ بیشک اللہ تعالیٰ کسی تکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا) مجاہد کا قول ہے کہ مختال متکبر کو کہتے ہیں۔ فخور اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر لوگوں کے سامنے ڈینگیں مارتا اور انہیں حقارت کی نظروں سے دیکھتا ہے۔ اس کا یہ رویہ قابل مذمت ہوتا ہے کیونکہ اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکرادا کرنا چاہیے نہ کہ ان نعمتوں کو اس کی نافرمانی کا ذریعہ بنایا جائے۔ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ” میں اولاد آدم کا سردار ہوں لیکن میں اس پر فخر کا اظہار نہیں کرتا۔ “ آپ نے یہ بتادیا کہ اولاد آدم کے سردار ہونے کی بات کا ذکر شکر کے طور پر ہوا تھا اظہار فخر کے طور پر نہیں ہوا تھا۔ جس طرح یہ قول باری ہے (واما بنعمۃ ربک فحدث اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرو) ۔
Ayah 31:19

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور اپنی چال میں اعتدال کئے رہنا اور (بولتے وقت) آواز نیچی رکھنا کیونکہ (اونچی آواز گدھوں کی ہے اور کچھ شک نہیں کہ) سب آوازوں سے بری آواز گدھوں کی ہے

قول باری ہے (واقصدفی مشیک ۔ اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو) یزید بن ابی حبیب نے کہا ہے کہ اس سے تیز رفتاری مراد ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یزید نے اس سے یہی مراد لی ہے کیونکہ تکبر کرنے والا شخص اپنی رفتار تیز نہیں رکھتا ہے۔ اس طرح چال میں سرعت تکبر اور غرور کے منافی ہوتی ہے ۔ چیخ چیخ کر بات کرنا بہت معیوب ہے قول باری ہے (واغضض من صوتک ان انکر الاصوات لصوت الحمیر۔ اور اپنی آواز پست رکھو بیشک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہوتی ہے) آیت میں آواز پست رکھنے کا حکم ہے اس لئے کہ یہ بات تواضع اور انکساری سے زیادہ قریب ہے جیسا کہ قول باری ہے (ان الذین یغضون اصواتھم عند رسول اللہ۔ وہ لوگ جو اللہ کے رسول کے سامنے اپنی آواز نچی رکھتے ہیں۔ ) لوگوں پر رعب ڈانے اور نہیں پست سمجھنے کی بنا پر آواز بلند کرنا قابل مذمت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس فعل کی قباحت واضح کردی ۔ نیز یہ بتادیا کہ یہ کوئی فضیلت کی بات نہیں ہے کیونکہ گدھے بھی اپنی آواز اونچی رکھتے ہیں حالانکہ ان کی یہ آواز سب سے بری آواز ہے۔ مجاہد نے (اتکرالاصوات) کی تفسیر اقبح الاصوات (قبیح ترین آواز) سے کی ہے جس طرح کہا جاتا ہے۔ ” ھذا وجد منکر “ (یہ توجیہ ناپسندیدہ ہے) یعنی قباحت کی بنا پر ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرما کر بندوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ اپنی آواز بلند کرنے سے پرہیز کیا کریں۔
Ayahs 31:20–33

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو خدا نے تمہارے قابو میں کردیا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں ؟ اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں نہ علم رکھتے ہیں اور نہ ہدایت اور نہ کتاب روشن

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی ؟ )

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جو شخص اپنے تئیں خدا کا فرمانبردار کر دے اور نیکو کار بھی ہو تو اس نے مضبوط دستاویز ہاتھ میں لے لی اور (سب) کاموں کا انجام خدا ہی کی طرف ہے

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جو کفر کرے تو اس کا کفر تمہیں غمناک نہ کر دے ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو جتائیں گے بیشک خدا دلوں کی بات سے واقف ہے

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم ان کو تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر عذاب شدید کی طرف مجبور کر کے لے جائیں گے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو بول اٹھیں گے کہ خدا نے کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) خدا ہی کا ہے بیشک خدا بےپرواہ اور سزاوار حمد (و ثنا) ہے

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو (اور) اسکے بعد سات سمندر اور (سیاہی ہوجائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اس کی صفتیں) ختم نہ ہوں بیشک خدا غالب حکمت والا ہے

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

(خدا کو) تمہارا پیدا کرنا اور جلا اٹھانا ایک شخص (کے پیدا کرنے اور جلا اٹھانے) کی طرح ہے بیشک خدا سننے والا دیکھنے والا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو (تمہارے) زیر فرمان کر رکھا ہے ہر ایک ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے اور یہ کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ لغو ہیں اور یہ کہ خدا ہی عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی کی مہربانی سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے (اور) شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب ان پر (دریا کی) لہریں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو خدا کو پکارنے (اور) خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو بعض ہی انصاف پر قائم رہتے ہیں اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور ناشکرے ہیں

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

لوگوں اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکے بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ فریب دینے والا (شیطان) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے

آخرت میں نسب کی بجائے عمل کام آئے گا قول باری ہے (واخسوا یوما لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا۔ اور اس دن کا خوف رکھو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ ہوسکے گا اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی بدلہ بن سکے گا) آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی کو اس کے باپ یا نسب کے شرف کی بنا پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو چھوڑ کر کسی ایک کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔ اس مضمون میں حضور ﷺ سے روایت بھی وارد ہے۔ آپ کا ارشاد ہے (من ابطابہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ۔ جس شخص کا عمل اسے سست کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔ ) آپ نے فرمایا : (یابنی عبدالمطلب لا یاتینی الناس باعمالھم وتاتون بانسابکم فاقول انی لا اغنی عنکم من اللہ شیئا) اے بنو عبدالمطلب ! ایسا نہ ہو کہ لوگ میرے پاس اپنے اچھے اچھے اعمال لے کر آئیں اور تم صرف اپنا نسب لے کر آئو۔ سنو، میں صاف کہتا ہوں کہ اللہ کے سامنے میں تمہارے کسی کام نہ آئوں گا۔ قول باری (لا یجزی والد عن ولدہ) کا مفہوم ہے کہ کوئی والد اپنے ولد کے کوئی کام نہ آسکے گا۔ محاورہ ہے ” جزیت عنک یعنی میں تمہارے کام آگیا۔
Ayah 31:34

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کو کیا کام کرے گا اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے

علم غیب صرف اللہ کو ہے قول باری ہے (ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم مافی الارحام بیشک اللہ ہی کو قیامت کی خبر ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے) اس خطاب کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے ان امور کی خبر دی ہے جن کا علم صرف اس کی ذات کو ہے اور بندوں کی ان تک رسائی نہیں ہے۔ کسی کو ان باتوں کا علم صرف اسی وقت ہوسکتا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے آگاہ کردیا جائے۔ اپنی بیوی کے حمل سے منکر قاذف نہیں ہوگا اس بات میں یہ دلیل موجود ہے کہ حمل کے وجود حقیقت کا ہمیں علم نہیں ہوتا۔ اگرچہ ظن غالب کی حد تک اس کے وجود کا احساس ہوتا ہے۔ اس بنا پر یہ ضروری ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کے حمل کے متعلق یہ کہہ دے کہ یہ اس کا نہیں ہے وہ اپنی بیوی کا قاذف شمار نہیں ہوگا۔ ہم نے اس مسئلے پر پچھلے مباحث میں روشنی ڈالی ہے۔