31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

(سورۃ نمبر۔ ٣١) ، (کل رکوع ۔ ٤) ، (آیات۔ ٣٤) ، (الفاظ و کلمات۔ ٥٥٤) ، (حروف۔ ٢٢١٧) ، (مقام نزول۔ مکہ مکرمہ) ، (دوآیتیں۔ مدینہ منورہ) ۔ ( سورة لقمان قیام مکہ مکرمہ کے اس دور میں نازل ہوئی جب کفار عرب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تبلیغ دین کے راستے میں شدید رکاوٹیں پیدا کر رہے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) (رض) پر ظلم و زیادتی شروع کردی تھی ۔ اس میں صرف دو آیتیں مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں بقیہ ساری آیات مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں۔ ) حضرت لقمان کو عرب میں ایک نہایت عقل مند اور صاحب بصیرت شخص مانا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو اور دنیا کو ہر فلاح اور کامیابی وابستہ ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورة کا نام سورة لقمان رکھا گیا ہے۔ حضرت لومان کون تھے ؟ کب اور کہاں پیدا ہوئے ؟ ان کا ذکر قرآن کریم جیسی عظیم کتاب میں اتنی اہمیت کے ساتھ کیون کیا گیا ہے ؟ اور ان کی نصیحتوں کا خلاصہ کیا ہے ؟ اس سورة کو پڑھتے ہوئے ہر ایک کے ذہن میں یہ سوالات ابھرتے ہیں جس کے جوابات اس سورة کے مضامین سے سمجھ میں آتے ہیں۔ علماء و مفسرین نے فرمایا ہے کہ حضرت لقمان ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے بہت پہلے آئے جو اپنی عقل و فہم اور بصیرت کی وجہ سے ا کی خاص مقام رکھتے تھے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ قوم عادثانیہ کے عربی النسل ایک بادشاہ تھے اور انہوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کا زمانہ پایا ہے اور حضرت ہود (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ حضرت لقمان حبشہ کے رہنے والے سیاہ فام ایک آزاد کردہ غلام تھے ۔ حضرت لقمان کے متعلق مفسرین کے یہ الگ الگ بیانات ہیں لیکن تمام مفسرین کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ حضرت لقمان نبی تو نہیں تھے مگر ایک صالح، متقی، پرہیز گار شخص تھے جن کو اللہ نے عقل و بصیرت اور فہم و فراست میں ایک خاص مقام عطا فرمایا تھا۔ ان کی عقل و فہم کی باتوں سے عرب میں سارے لوگ اچھی طرح واقف تھے اور مختلف موقعوں پر ان کی دانائی اور عقل و سمجھ کی باتوں کو نقل کیا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کی نصیحتوں کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کفار عرب ان کی عقل مندیوں کی داستانیں تو بیان کرتے ہیں لیکن وہ اللہ کی توحید کے کس طرح قائل تھے اور ان کو کفر و شرک سے کس قدر نفرت تھی اس کو بیان نہیں کرتے۔ حالانکہ ان کی عزت و عظمت کا تقاضایہ تھا کہ کفار مکہ بھی کفر و شرک سے اسی طرح نفرت کرتے جس طرح لقمان جیسے آدمی کرتے تھے۔ حضرت لقمان اور ان کی نصیحتوں کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو اس طرف رغبت دلائی ہے کہ وہ بھی ان کی طرح توحید و رسالت کو مان کر اپنی آخرت سنوار لیں۔ (پورے جزیرۃ العرب میں نضرابن حارث وہ پہلا شخص تھا جس نے ایران کے بادشاہوں اور رستم و سہراب کے قصوں کہانیوں سے عرب والوں کو آشنا کیا اور دین اسلام سے نفرت پیدا کرنے کے لیے اس نے نہ صرف قصے کہانیوں کو رواج دیا بلکہ ناچنے گانے والی ایک لونڈی کو خرید کر اس سے ناچ گانے کو رواج دیا۔ مقصد صرف یہ تھا کہ نوجوان گانے، ناچ اور قصوں میں لگ جائیں تاکہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حق وصداقت کی آواز کو نہ سن سکیں۔ ) اسی سورة میں نضر ابن حارث جیسے شخص کا بھی نام لیے بغیر ذکر کیا ہے جس نے ایران کے بادشاہوں اور رستم و سہراب کے قصے کہانیاں لا کر مکہ کے تمام نوجوانوں اور عرب معاشرہ کے بوڑھے جوانوں کو اسلام مے نفرت دلانے کے لیے جھوٹے قصے، کہانیوں اور ناچ رنگ میں لگا دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان اور نضر ابن حارث دونوں کا ایک جگہ ذکر کر کے کفار مکہ پر سخت طنز کیا ہے کہ ایک شخص جو نہایت پرہیز گار، عقل مند آدمی ہے جو اپنے بیٹے کو توحید خالص کی تعلیم دے رہا ہے جس کے قصے نہایت ادب احترام سے سنے اور سنائے جاتے ہیں اس کی توحید کی تعلیم پر توجہ نہیں دی جاتی۔ اس کی اتباع اور پیروی سے دور بھاگتے ہیں اور وہ نضر ابن حارث جو صرف مال و دولت اکٹھا کرنے اور دین اسلام کی تعلیم سے نفرت دلانے کے لیے قصے کہانیوں اور ناچ رنگ میں پوری قوم کو مبتلا کر رہا ہے یہ اس کے پیچھے گے ہوئے ہیں اور اپنے آخرت برباد کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں حضرت لقمان کی ان نصیحتوں کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو نہایت پیار و محبت اور شفقت سے کی ہیں تاکہ وہ دنیا کی اونچ نیچ اور آخرت کے سچے عقیدے کو اپنا کر اپنی دنیا اور دین کو سنوار سکے۔ حضرت لقمان سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں کیونکہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا سب سے بڑی سعادت ہے اور کفر و شرک سے بچنا بڑی نیکی ہے۔ جو لوگ کفروشرک میں مبتلا ہوتے ہیں وہ در حقیقت ایک بہت بڑا ظلم کرتے اور بےانصافی سے کام لیتے ہیں۔ اسی بات کی انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی کہ وہ ہمیشہ شرک سے بچتا رہے کیونکہ شرک کرنا سب سے بڑا ظلم ہے۔ دوسری نصیحت یہ فرمائی کہ ماں باپ کا ادب و احترام اور ہر حال میں ان کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے خاص طور پر ماں جو بوجھ پر بوجھ اٹھا کر اس کی پرورش کرتی ہے اس کے ساتھ بھی حسن سلوک کیا جائے لیکن اگر وہی ماں باپ کفر اور شرک پر چلنے کرلیے کہیں تو اس سے صاف انکار کردینا چاہیے کیونکہ معصیت اور گناہ میں کسی کی اطاعت کرنا حرام ہے۔ لہٰذا اس سب کے باوجود والدین کے ادب و احترام میں تو کوئی کمی نہ کی جائے لیکن کفروشرک میں ان کی ایک بات بھی نہ مانی جائے۔ تیسری نصیحت یہ فرمائی کہ انسان کا اس بات پر پکا یقین ہونا چاہیے کہ انسان جو کچھ بھی کرتا ہے اللہ اس سے پوری طرح واقف ہے۔ اگر کوئی آدمی ہزارپردوں میں چھپ کر بھی گناہ کرتا ہے تو وہ اس سے نہ چھپ سکتا ہے نہ چھپا سکتا ہے۔ چوتھی نصیحت یہ فرمائی کہ نماز ایک اہم ترین عبادت ہے اس کو قائم کرنے کی جدہ جہد کرتے رہنا۔ پانچویں نصیحت یہ فرمائی کہ میرے پیارے بیٹے ! تم خود بھی نیکیوں پر ثابت قدم رہو اور ہر طرح کی برائیوں اور گناہوں سے اپنا دامن بچائے رہو اور دوسروں کو بھی نیکیوں پر لانے اور گناہ بھری زندگی سے بچانے کی کوشش اور جدو جہد کرتے رہو اور اگر اس راہ حق و صداقت میں تکلیفیں آئیں تو ان کا ہمت و جرات اور بھر پور حوصلے کے ساتھ مقابلہ کرو اور عزم و ہمت کے ساتھ سچائی پر ڈٹے رہو کیونکہ سچائی پر قائم رہنا بہت بڑے عزم کی بات ہے۔ چھٹی نصیحت یہ فرمائی کہ لوگوں سے غرور وتکبر سے پیش مت آنا۔ اترانا اور خود پسندی کا مظاہرہ کرنا اللہ کو سخت ناپسند ہے کیونکہ جو لوگ ذرا ذرا سی باتوں پر اتراتے اور خود اپنے منہ سے اپنی پڑائیاں کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگوں پر ان کا رعب جم جائے تو ایسے لوگ بڑے پن کا نہیں بلکہ اپنی گھٹیا ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہیں جو اللہ کو اور اس کے بندوں کو بھی سخت ناگوار گذرتی ہے۔ ساتویں نصیحت یہ فرمائی کہ اپنی چال میں اعتدال قائم رکھنا کیونکہ اکڑ کر چلنا اور غرور وتکبر کا انداز اختیار کرنا اللہ کو پسند نہیں ہے اللہ کے بندے جب زمین پر چلتے ہیں تو وہ بڑے وقار اور دھیمے پن سے چلتے ہیں۔ ان کی چال میں اکڑ اور تکبر نہیں ہوتا۔ آٹھویں نصیحت یہ فرمائی کہ جب کسی سے بات کی جائے تو اس میں سنجیدگی، متانت اور سلیقہ کا خیال رکھا جائے۔ گفتگو میں آواز کو بلند کرنا، چلا چلا کر بولنا اور جاہلوں کا جیسا انداز اختیار کرنا نہ تو اللہ کو پسند ہے اور نہ اس کے بندے ہی پسند کرتے ہیں۔ گدھا جو بہت زور سے چلاتا ہے اس کا چلانا اور آواز نکالنا کس کو پسند ہے وہ آوازوں میں بد ترین آواز ہے جس پر بچے بھی ہنس پڑتے ہیں۔ فرمایا کہ آواز میں مناسب دھیما پن اور سنجیدگی ہونی چاہیے۔ یہ ہیں وہ نصیحتیں جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو فرمائیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یہ اللہ کی قدرت ہے کہ اس نے کائنات کی ہر چیز کو انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے اور اس طرح اللہ نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں سے انسان کو نواز رکھا ہے جس پر ہر آن اللہ کا شکر ادا کرنا واجب ہے مگر اکثرلوگ وہ ہیں جو اس کی ناشکری کرتے ہیں اور اس کا ساتھ عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ جب ایسے لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے سوا کسی کو نہ پکاریں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں معلوم۔ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی راستے پر چلتے دیکھا ہے اور ہم بھی اسی راستے پر قائم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سوال فرمایا ہے کہ اچھا یہ بتائو کہ اگر تمہارے باپ دادا کو شیطان نے گمراہ کر کے غلط راستے پر ڈال دیا تھا کیا پھر بھی تم ان ہی کی پیروی کرو گے ؟ اگر تمہارے باپ دادا نے جہنم کا گڑھا کھودا تھا تو کیا تم بھی اسی گڑھے میں جا کر گرو گے ؟ اس سوال کا مشرکین و کفار کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ فرمایا اس کے برعکس وہ لوگ جو محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے اسی کی عبادت و بندگی کرتے ہیں وہ در حقیقت ایک ایسی مضبوط گرہ کو پکڑ لیتے ہیں جو ان کو گمراہی اور جہنم کی آگ میں گرنے سے بچا لیتی ہے اور ان کو قیامت میں بہترین انجام تک پہنچائے گی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جاں نثار صحابہ کرام (رض) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آج یہ کفارو مشرکین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اور آپ کے لائے ہوئے قرآن کریم کی تعلیمات کا مذاق اڑا رہے ہیں تو آپ اس سے رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ ان سب کو آخر کار میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے پھر میں ان کو بتاؤں گا کہ وہ دنیا میں کیا کرتے رہے ہیں اور جس سامان زندگی پر وہ اترا رہے ہیں وہ سب ان سے ختم ہوجائے گا اور یہ لوگ ایک برے انجام سے دوچار ہو کر رہیں گے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ زمین و آسمان اور اس کے درمیان جو کچھ ہے وہ سب کا سب اسی کے تابع ہے اور اسی کے حکم سے ہر چیز چل رہی ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے اس کو چلاتا ہے وہ اس کے چلانے میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔

Ayahs 31:1–5

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ حکمت سے پھر پور کتاب کی آیات ہیں۔

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

نیکیاں کرنے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر (1 تا 5) تلک یہ (اسم اشارہ) ۔ المحسنین (نیکیاں کرنے والے) ۔ یقیمون (وہ قائم کرتے ہیں) ۔ یوتون (وہ دیتے ہیں۔ ادا کرتے ہیں) ۔ یوقنون (وہ یقین کرتے ہیں) ۔ المفلحون (فلاح و کامیابی حاصل کرنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر (1 تا 5) ” اس سورت کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے۔ سورة بقرہ اور دوسری چند سورتوں کی ابتداء میں جہاں یہ حروف آئے ہیں وہاں اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو ہے کیونکہ یہ اسی کا کلام ہے۔ ممکن ہے نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ان حروف کے معنی بتا دیئے ہوں لیکن نبی کریم ﷺ نے اپنے جاں نثاروں کو نہیں بتائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ قرآن کریم وہ کتاب ہے جو حکمت و دانائی کے اصولوں سے پھر پور ہے اور اس کے ہر حکم میں اللہ نے حکمت و دانائی کو اس طرح بھر دیا ہے کہ ہر وہ شخص جو حسن عمل پیش کرتا ہے اس کے لئے سراسر ہدایت اور رحمت ہے۔ لیکن جو بڑی سے بڑی حکیمانہ بات سے منہ پھیر کر گذر جائے اور اس پر غور و فکر کر کے حسن عمل کا پیکر نہ بن جائے وہ یقینا ناکام و نامرادشخص ہے۔ فرمایا کہ وہ لوگ جو ” محسن “ ہیں یعنی ہر نیکی کو قبول کرتے اور ہر گناہ سے بچتے ہیں ان کے لئے قرآن کریم کی آیات سراسررحمت و ہدایت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ” محسنین “ ان لوگوں کو قرار دیا ہے جو (1) نمازوں کو قائم کرتے ہیں یعنی نمازوں کے آداب اور شرائط کا پوری طرح لحاظ کرکے ان کی پابندی کرتے ہیں۔ نماز در حقیقت اللہ کی عبادت و بندگی کا سب سے بہتر اور اعلیٰ معیاری عمل ہے۔ وہ لوگ جو نمازوں کو قائم کرتے ہیں وہی دین اسلام کی عمارت کو مضبوط کرتے ہیں لیکن جن کے نزدیک نماز کی کوئی اہمیت نہیں ہے وہ سارے دین کی بنیادوں کو ڈھادینے والے ہیں۔ (2) ” محسنین “ کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ ” زکوۃ “ دیتے ہیں یعنی مال و دولت سے اس طرح چمٹ کر نہیں رہ جاتے کہ ان کے ہاتھوں سے ایکم سکہ بھی غریبوں اور بےکسوں کی جیب میں نہ جائے بلکہ صدقات کے علاوہ وہی زکوۃ بھی ادا کرتے ہیں اس میں کوتاہی نہیں کرتے۔ سورة لقمان کی آیات اگرچہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں جہاں زکوۃ کی ساری تفصیلات اور احکامات نازل نہیں ہوئے تھے لیکن نماز کی طرح زکوۃ بھی مکہ مکرمہ میں فرض کردی گئی تھی۔ مدینہ منورہ میں زکوۃ کے احکامات، اس کا نصاب ، مقدار اور زکوۃ کے مستحقین کی تفصیلات کا تعین کردیا گیا تھا۔ مکہ مکرمہ میں یہ حکم تھا کہ اپنی ضرورت سے جو کچھ زائدہو وہ دوسرے مسلمان بھائیوں کو دے دیا جائے لیکن مدنیہ منورہ میں اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے یہ متعین فرمادیا کہ صرف حاحب نصاب لوگ اپنے مال میں سے ڈھائی فیصد ادا کریں۔ اگر وہ اس کو ادا نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے مالوں کو دو منہ والے سانپ کی شکل میں ان کے گلے میں لٹکا دیں گے جو ان کو ڈستا رہے گا اور کہتا رہے گا کہ میں ہوں تیرا مال، میں ہوں تیرا خزانہ۔ (3) ” محسنین “ کی تیسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں یعنی ان کا اس بات پر پختہ یقین ہوتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب پیش کریں گے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجائے گی کہ فکر آخرت ہی انسان کے اعمال و کردار کی سچی بنیاد ہے۔ اگر آخرت کا فکر دامن گیر نہ ہو تو انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ اسی لئے اگر قرآن کریم کا غوروفکر سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کریم نے سب سے زیادہ جس بات پر زور دیا ہے وہ آخرت کی فکر ہے۔ فکر آخرت سے بےنیاز تو صرف کفارہی ہو سکتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم سراسر ہدایت اور رحمت ہے لیکن اس سے فائدہ حاصل کرنے والے لوگ وہی ہیں جو نیکیوں پر قائم رہتے ہیں اور برائیوں سے بچ کر فکر آخرت میں لگے رہتے ہیں۔ کفار مکہ کہتے تھے کہ یہ مسلمان جس خطرناک راستے پر بےسوچے سمجھے چلے جارہے ہیں ہماری عقلوں میں یہ بات نہیں آتی کہ ان کا بہتر انجام کیسے ہوگا ۔ ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ دنیا کے ناکام ترین لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زور دے کر فرمایا کہ وہ اہل ایمان جو حسن عمل کا پیکر ہیں ، اللہ کی اطاعت وفرماں برداری کرنے والے، نمازیں قائم کرنے والے، زکوۃ دینے اور فکر آخرت میں لگے ہوئے ہیں یہی راہ مستقیم پر ہیں اور ان لوگوں کی کامیابی یقینی ہے صرف اس دنیا کی حد تک نہیں بلکہ آخرت میں بھی ہر طرح کی کامیابیاں ان کے قدم چو میں گی۔
Ayahs 31:6–11

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

ان میں سے کوئی تو ایسا (بد نصیب ہے) جو بےہودہ اور غافل کرنے والی چیزیں خرید کر لاتا ہے تاکہ وہ کم علم لوگوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکادے۔ اور اسے ہنسی مذاق سمجھتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے ذلت والا عذاب ہے۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ تکبر سے اس طرح منہ پھیر کر چل دیتا ہے جیسے اس نے سنا ہی نہیں یا جیسا کہ اس کے کانوں میں بہراپن ہے۔ (اے نبی ﷺ ! ) آپ اس کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجئے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے تو ان کے لئے نعمتوں سے پھر پور جنتیں ہیں۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور وہ زبردست ہے اور غالب حکمت والا ہے۔

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

وہ اللہ جس نے بغیر ستوں کے ان سات آسمانوں کو بنایا جنہیں تم (ہر روز) دیکھتے ہو۔ اسی نے زمین پر پہاڑ (بوجھ بنا کر) رکھ دیئے تاکہ وہ (زمین) تمہیں ایک طرف لے کر ڈھلک نہ جائے۔ اسی نے زمین میں ہر طرح کے جان داروں کو پھیلا دیا۔ اور ہم نے ہی آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے ہی عمدہ قسم کی چیزیں اگائیں۔

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ تو اللہ کی تخلیق ہے (آپ ﷺ کہئے کہ) مجھے دکھائو جو اللہ کے سوا (من گھڑت) معبود ہیں کہ انہوں نے کیا کچھ پیدا کیا ہے ؟ بلکہ (در حقیقت) ظالم لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 6 تا 11۔ یشتری (خریدتا ہے) ۔ لھو (فضول۔ بےہودہ کام) ۔ الحدیث (بات) ۔ ھزو (مذاق) ۔ ولی (وہ پلٹ گیا) ۔ اذن (کان) ۔ القیٰ (اس نے ڈالا) ۔ تمید (وہ ایک طرف ڈھلک جاتا ہے) ۔ زوج (جوڑا (شوہر۔ بیوی) ۔ خلق (بناوٹ۔ پیدائش) ۔ تشریح : آیت نمبر (6 تا 11) ۔ ” سورة لقمان کی ان آیات میں قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے خطاب عام ہے لیکن واحد کے صیغے اور واحد کی ضمیریں لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی خاص شخص تھا جس کی بد ترین سازشوں اور کوششوں سے اہل ایمان کو خبر دار کیا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں تاکہ ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا نہ ہو۔ احادیث کی معتبر کتابوں میں نضر ابن حارث کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ شخص مشرکین مکہ میں سے ایک ہوشیار تجارت پیشہ آدمی تھا جو اپنی تجارت کے فروغ کے لئے دنیا بھر کے ملکوں کا سفر کرتا رہتا تھا۔ اسے نبی کریم ﷺ اور قرآنی تعلیمات سے ایک خاص قسم کی نفرت تھی۔ چناچہ ایک مرتبہ وہ ملک فارس گیا وہاں اس کو ایرانی بادشاہوں اور رستم و اسفند یار جیسے بہادروں کے قصے نظر پڑے وہ ان کو خرید کرلے آیا اس نے مشرکین مکہ سے یہ کہا کہ محمد ﷺ تمہیں قوم عاد، قوم ثمود اور دوسرے تباہ و برباد ہونے والی قوموں کے قصے سناتے اور ڈراتے رہتے ہیں۔ میں تمہارے لئے ایران کے بہادروں اور بادشاہوں کے قصے خرید کر لایا ہوں ان کو سنو۔ درمنشور میں تو یہ بھی لکھا ہے کہ وہ شخص ایک گانے والی کنیز (لونڈی) کو بھی خرید کرلے آیا تھا۔ قصے کہانیوں کے ذریعہ وہ لوگوں کو نبی کریم ﷺ کی باتوں سے اور تلاوت کلام اللہ سے روکنے کی کوشش کرتا اور اس کنیز سے گانے سنوا کر کہتا تھا کہ محمد ﷺ تو تمہیں قرآن سنا کر یہ کہتے ہیں کہ نماز پڑھو، روزہ رکھو اور (اللہ کی راہ میں) جانوں کا نذرانہ پیش کرو۔ ان خشک باتوں سے بڑی تکلیف پہنچتی ہے۔ تم آئو۔ ان باتوں کو چھوڑو، گانے سنو اور خوشیاں منائو۔ چونکہ آدمی قصے کہانیاں بڑے شوق سے سنتا ہے اس لئے نضر ابن حارث کی ان کوششوں سے کفار مکہ کو ایک مشغلہ ہاتھ آگیا اور وہاں کے نوجوان اور بوڑھے مردوں، عورتوں نے ان میں خاص دلچسپی لینا شروع کردی۔ اس واقعہ کو پڑھ کر یہ سوچتا ہوں کہ یہ تو نزول قرآن کے زمانے کی باتیں ہیں لیکن اگر غور کیا جائے تو ہمارے دور میں ایک دو نہیں بلکہ ہزاروں نضر ابن حارث پیدا ہوچکے ہیں جن کا کام ہی یہ ہے کہ وہ بھولے بھالے لوگوں کو قصے کہانیوں، ناولوں، افسانوں، گانے بجانے اور میلوں ٹھیلوں کی طرف اس قدر تیزی سے لارہے ہیں کہ عام آدمی کو جتنی دلچسپی ان چیزوں سے ہے اتنی دلچسپی قوموں کے عروج وزوال اور ان کے برے انجام سے نہیں ہے۔ دین کی بات کرنا ” ملائیت “ ہے اور فضول چیزوں کی طرف لا نے کو فیشن قرار دیا جاچکا ہے۔ یہ مرض اب ایک خطر ناک وبائی شکل اختیار کرچکا ہے اور کینسر کی طرح دین کی تعلیمات اور اخلاقی قدروں کو تیزی سے چاٹتا چلا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو اس عالمی سازش اور گناہوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔ اللہ تعالیٰ نے ” لھوالحدیث “ کہہ کر ان تمام بےہودہ کا روائیوں کو دو لفظوں میں سمیٹ دیا ہے۔ ” لھو “ کے معنی ہیں بےفائدہ، بےہودہ، لائق نفرت، دین سے غافل کرنے والے کھیل تماشے، گانے بجانے، جھوٹے قصے، کہانیاں، ناول، افسانے وغیرہ سب چیزیں شامل ہیں۔ ” لھوالحدیث “ وہ باتیں اور مشغلے جو انسان کو دین اسلام اور اس کی سچائیوں سے غافل کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں لوگوں کے اخلاق و کردار کو تباہ کرنے اور بگاڑنے والی باتوں کا ذکر کرکے فرمایا کہ ان فضول اور بےہودہ باتوں سے انسانیت کو سوائے زندگی کے بگاڑ کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ حالانکہ اصل چیز دنیا اور آخرت کی زندگی کو سنوارنا اور بنانا ہے۔ قصے کہانیاں وقت کو ضائع کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ مگر شیطانوں نے ان فضولیات کو لوگوں کی نظروں میں اتنا خوبصورت بنا دیا ہے کہ اب یہ فیشن بن کر رہ گیا ہے اور پوری نسل اس میں ڈوبتی چلی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات میں ان ہی سب باتوں کے خطرے سے پوری طرح آگاہ فرمادیا ہے۔ ارشاد ہے۔ لوگوں میں سے کوئی بد نصیب ایسا بھی ہے جو بےہودہ باتوں کو خریدکر لاتا ہے اور کم علم لوگوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کو وہ ہنسی مذاق سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا۔ اللہ نے ایسے لوگوں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔ کیونکہ جب اس کو اللہ کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ تکبر سے منہ پھیر کر چل دیتا ہے جیسے اس نے ان باتوں کو سنا ہی نہیں یا ایسا لگتا ہے جیسے اس کے کانوں میں کوئی ڈاٹ لگی ہوئی ہے یا وہ بہرا ہوچکا ہے ۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ایسے لوگوں کو یہ خوش خبری سنا دیجئے کہ ان کے لئے دردناک عذاب تیار کیا جاچکا ہے۔ فرمایا اس کے بر خلاف جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح اختیار کئے تو اللہ نے ان کے لئے ایسی جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن میں ہر طرح کی نعمتیں موجود ہوں گی اور وہ ان جنتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ فرمایا کہ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا کیونکہ اللہ کائنات کی ہر چیز پر غالب اور قوت والا ہے اور اس کی حکمت ہر چیز پر غالب ہے۔ فرمایا کہ اللہ وہ ہے جس نے اپنی ْدرت کاملہ سے سات آسمان بغیرستونوں کے بنائے ہیں اور آسمان کو شامیانے کی طرح ان پر تان دیا ہے۔ یہ وہ سات آسمان ہیں جن کو ہر انسان ہر روز اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اللہ نے اپنی قدرت سے زمین کا تو ازن برقرار رکھنے کے لئے بڑے بڑے پہاڑ ایک بوجھ کی طرح زمین پر رکھ دیئے ہیں اگر یہ پہاڑ نہ ہوتے تو زمین اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکتی اور سارے انسانوں کو لے کر کسی ایک طرف الٹ جاتی اسی اللہ نے تمام جان داروں کو پیدا کیا اور ان کے رزق کا سامان مہیا فرمایا۔ اسی کی قدرت کا یہ شاہکار ہے کہ اس نے بارشوں کا انتظام کیا جس سے زمین تروتازہ ہوجاتی ہے طرح طرح کے پھل، سبزہ، سبزی اور ہر چیز کے جوڑے پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک سوال کیا ہے کہ یہ تمام چیزیں تو اللہ نے پیدا کی ہیں لیکن وہ جھوٹے معبود جن سے یہ لوگ آس لگائے بیٹھے ہیں اور ان کو اپنا مشکل کشامانتے ہیں انہوں نے ان چیزوں میں سے کن چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان جب بھی غور و فکر سے کام لے گا اس پر یہ حقیقت پوری طرح کھل جائے گی کہ یہ سب کچھ اللہ نے پیدا کیا وہی ان چیزوں کا مالک ہے اور وہی ہر طرح کی عبادت و بندگی کے لائق ہے۔
Ayahs 31:12–15

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے لقمان کو حکمت و دانائی عطا کی تھی ( اور کہا تھا کہ) تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ اور جو شخص شکت کرتا ہے وہ اپنے ہی بھلے کے لئے کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے (اس کا وبال اسی پر ہے) بیشک اللہ تو بےنیاز ہے اور تمام تعریفوں کا مستحق ہے۔

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا اے میرے بیٹے ! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا کیونکہ شرک کرنا بہت بڑا ظلم (بےانصافی) ہے۔ “

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ (حسن سلوک کرے) اس کی ماں نے دکھ پر دکھ جھیل کر اس کو اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑایا۔ اور تم میر اور اپنے ماں باپ کا شکر ادا کرنا۔ اور تم سب کو میری ہی طرف لوٹنا ہے۔

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ دونوں (ماں باپ) تم پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تم اللہ کے ساتھ شرک کرو جس کا تمہیں علم نہیں ہے تو ان دونوں (ماں باپ) کی اطاعت مت کرنا لیکن دنیا کے معاملات میں ان سے حسن سلوک کرتے رہنا۔ اور تم اس راستے کی پیروی کرنا جو تمہیں میر طرف پھیر دے۔ بہر حال تمہیں میری طرف ہی لوٹنا ہے۔ پھر میں بتائوں گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔

تشریح : آیت نمبر (12 تا 15) ۔ سورئہ لقمان کی اس سے پہلے آیات میں نظر ابن حارث کا نام لئے بغیر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بعض کافر و مشرک وہ ہیں جو بےہودہ اور دین سے غافل کرنے والی چیزویں خرید کر لاتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو اور نئی نسل کو جھوٹے قصے کہانیوں میں لگا کر دین کی سچائیوں کو بےحقیقت ثابت کرسکیں۔ اب ان زیر مطالعہ آیات میں عرب کے ذہین شخص حکمت و دانائی، علم و دانش کے پیکرشکر گذار توحید پرست حضرت لقمان کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ وہ حضرت لقمان جنہیں اللہ نے علم و حکمت الہام فرمایا تھا جن کی عقل و سمجھ کی باتوں سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا انہوں نے اپنے بیٹے کو یعنی نوجوان نسل کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میرے بیٹے ! اللہ (کی ذات، صفات اور عبادت میں) کسی کو شریک نہ کرنا کیونکہ کسی کو بھی اللہ کے ساتھ شریک کرنا انتہائی زیادتی، بےانصافی اور گناہ کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کی اس شدت کا بیان کرنے کے لئے فرمایا کہ ہم نے انسان کو اس بات کی تاکید کردی ہے کہ اس کے وہ والدین خاص طور پر ماں جس نے اپنے بچے کو دکھ پر دکھ اٹھا کر نو مہینے اپنے پیٹ میں پرورش کیا۔ دو سال تک دودھ پلا کر نہایت شفقت و محبت سے اس کو پروان چڑھایا اور وہ باپ جس نے زندگی کی کڑی دھوپ میں اس کے لئے زندگی گذارنے کے وسائل مہیا کئے ان دونوں کی اطاعت و فرماں برادری کی جائے۔ ان کا کہا مانا جائے۔ ادب و احترام کا پوری طرح خیال رکھا جائے ان کی دل داری کرتے ہوئے اگر وہ کچھ کہہ دیں تو اس پر اف تک نہ کہا جائے لیکن وہی والدین جن کی خدمت کو عبادت قرار دیا گیا ہے اگر اس کو کفروشرک پر آمادہ کریں اور شرک کرنے کے لئے زور ڈالیں تو صاف انکار کردینا جاہیے کیونکہ کسی گناہ اور معصیت میں کسی شخص ہیاں تک کہ والدین کی بات بھی نہیں مانی جائے گی۔ البتہ اس کے باوجود ان سے دنیاوی حسن سلوک، خدمت، ادب واحترام اور اچھے برتائو میں کمی نہیں آنی چاہیے۔ کیونکہ اصول کی بات یہ ہے کہ ہر اس شخص کی پیروی کی جائے گی جو اللہ کی طرف لانے کی جدوجہد اور کوشش کرتا ہے کیونکہ سب لوگوں کو آخر کار اسی ایک اللہ کی طرف لوٹنا ہے ۔ جہاں وہ ہر ایک کے نامہ اعمال کے مطابق یہ بتادے گا کہ وہ دنیا میں کیا کرتا رہا ہے۔ اسی پر جنت یا جہنم میں داخلے کا حکم دیا جائے گا۔ ان آیات کی وضاحت کے لئے عرض ہے کہ (1) اللہ تعالیٰ کے بعد انسان پر سب سے زیادہ ادب و احترام اور اطاعت و فرماں برداری کا حق والدین کا ہے جنہوں نے سخت مصیبتیں اور دکھ جھیل کر نہایت شفقت و محبت سے اس کی پرورش کی ہے۔ لہذا اولاد میں سے ہر ایک پر یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کی بےانتہا اطاعت و فرماں برداری کرے اور ان کو غیر محسوس تکلیف بھی نہ ہونے دے لیکن اگر کسی کے والدین اپنی اولاد کو کسی گناہ یا شرک کرنے پر زور ڈالیں تو صاف انکار کردینا لازمی ہے کیونکہ والدین کی اطاعت و فرماں برداری کے حدود مقرر ہیں۔ شرک میں ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ (2) تقریباً تمام علما، محدثین اور مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت لقمان اللہ کے نبی یا رسول نہیں تھے بلکہ نہایت نیک اور پارسا شخص تھے ان کی عقل و دانش کے پورے عرب میں چرچے عام تھے۔ اور وہ لوگ ان کی حکمت و دانائی سے بہت متاثر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے عقل مند انسان نے بھی یہی بتایا ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنا ظلم عظیم ہے اس سے زیادہ بےادبی، بےانصافی اور گستاخی کوئی نہیں ہے کہ اللہ کی ذات، صفات اور عبادت میں دوسروں کو شریک سمجھا جائے۔ فرمایا کہ وہ حضرت لقمان کو بہت دانش مند شخص سمجھتے ہیں وہ بھی شرک کو بد ترین گناہ سمجھتے ہیں وہ کیسے لوگ ہیں جو دین اسلام کا راستہ روکنے کے لئے اپنے کفر و شرک میں اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ لوگوں کو اور نئی نسل کے نوجوانوں کو وحدانیت اور شکر کی طرف لانے کے بجائے ان کو ناچ گانے، کھیل کود، قصے کہانیوں اور دین سے غافل کرنے والی چیزوں میں لگا رہے ہیں۔ (3) قرآن کریم میں توحید کی تعلیم اس قدر واضح اور تفصیل سے بیان کی گئی ہے کہ اس کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جو پوری روشنی میں نہ آگیا ہو۔ اللہ نے اسی پرزور دیا ہے اور تمام رسول اسی تعلیم کو لے کر آئے تھے۔ گذشتہ امتوں کو جس وجہ سے تباہ و برباد کیا گیا ہے وہ ان کا شرک تھا۔ شرک ایک ایسی خرابی اور برائی ہے جو کسی حال میں معاف نہیں کی جاتی۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی امتوں کو کفر و شرک سے روکتے رہے۔ جب وہ اپنی مشرکانہ حرکتوں سے باز نہیں آئے تو اللہ کا فیصلہ آگیا اور قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹاکر نشان عبرت بنا دیا گیا۔
Ayahs 31:16–19

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

اے میرے بیٹے ! اگر (برائی) رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگی پھر وہ کسی سخت پتھر کی چٹان کے اندر یا اسمانوں اور زمین میں (کسی جگہ بھی چھپی ہوئی ہوگی) تو اللہ اس کو (باہر نکال) لائے گا۔ بیشک اللہ تمام چھپی ہوئی چیزوں کو جانتا ہے اور خبر رکھتا ہے۔

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

اے میرے بیٹے ! نماز قائم کر، اچھے کاموں کا حکم دے، برائیوں سے روکنے کی کوشش کر اور جو حالات پیش آئیں ان پر صبر کر۔ بیشک یہ بڑے عزم و ہمت کے کاموں میں سے ہے ۔

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر۔ نہ زمین پر اکڑ کر چل۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر اترانے والے اور مغرور آدمی کو پسند نہیں کرتا۔

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اپنے چلنے میں (رفتار میں) اعتدال پیدا کر اور اپنی آواز کو پست رکھ۔ بیشک آوازوں میں سب سے زیادہ ناپسند یدہ آواز گدھے کی ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 19۔ مثقال (وزن) ۔ حبتہ (دانہ) ۔ صخرۃ (سخت پتھر۔ چٹان) ۔ یات بھا (وہ اس کو لے آئے گا) ۔ اصاب (پہنچا) ۔ عزم الامور (ہمت کے کام) ۔ لا تصعر (تصعیر) (ٹیڑھانہ کر ۔ چہرہ نہ پھلا) ۔ خد (گال۔ رخسار) ۔ لا تمش (تو نہ چل) ۔ مرح (اکڑنا۔ تکبر کرنا) ۔ مختال (اترانے والا) ۔ فخور (بڑائیاں کرنے والا) ۔ اقصد (اعتدال۔ میانہ روی اختیار کر) ۔ مشی (چلنا) ۔ اغضض (پست کر۔ دھیما کر) ۔ صوت (آواز) ۔ انکر (بد ترین۔ ناگوار) ۔ الحمیر (گدھا) ۔ تشریح ـ آیت نمبر (16 تا 19) ۔ حجرت لقمان جو اللہ کے نیک اور برگذیدہ بندے تھے عرب کے رہنے والے ان کی عقل و فہم اور دانش پر بہت اعتماد کرتے تھے انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے پہلی بات یہ فرمائی کہ اس کائنات کا مالک صرف ایک اللہ ہے اس کی ذات، صفات اور عبادت میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے جو لوگ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ در حقیقت بڑی بےانصافی، گستاخی اور ظلم عظیم کرتے ہیں۔ یہاں تک فرمایا ایک گھر میں کہ والدین جو انسان کی محبت و عقیدت کا مرکز ہوتے ہیں وہ بھی اگر اپنی اولاد کو شرک کرنے کا حکم دیں تو اولاد کو اس سے انکار کردینا فرض ہے۔ البتہ دنیاوی حسن سلوک میں کمی نہیں آنی چاہیے۔ کیونکہ والدین کافر ہوں یا اللہ کے فرماں بردار ہر حال میں ان کے ساتھ حسن معاملہ کرنا ضروری اور لازمی ہے۔ دوسرے نصیحت یہ فرمائی کہ انسان کا کوئی عمل یا کوئی بات کسی حال میں اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی چٹان یا زمین و آسمان میں کوئی چیز ایسی ہو جو لوگوں کی نگاہوں سے چھپی ہوئی ہو یا ہزاروں پردوں کے پیچھے کوئی گناہ کیا گیا ہو جو لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو لیکن رب العالمین سے وہ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ ہر بات اور عمل سے اچھی طرح واقف ہے۔ تیسری نصیحت یہ فرمائی کہ نماز کو ہمیشہ قائم رکھا جائے یعنی اس کے تمام آداب و ارکان کا خیال رکھتے ہوئے اس کو ادا کیا جائے۔ اصل میں توحید خالص کو مان کر اور اللہ کو ہر جگہ حاضر و ناظر جان کر عمل کرنا اور یہ یقین رکھنا کہ اس کو ایک دن اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے یہ دین اسلام کی روح ہے جس کا بہترین اظہار نماز کے ذریعہ ہوتا ہے اسی لئے حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نماز کی تاکید فرمائی۔ چوتھی نصیحت یہ فرمائی کہ ” امر بالمعروف اور نہی عن المنکر “ یعنی ہر نیک بات کو پھیلانے کی مسلسل جو جہد کرنا اور دنیا سے ہر برائی کو مٹانے کی کوشش کرنا ہر مومن کی ذمہ داری ہے کیونکہ اللہ نے اس کو بہترین امت بنایا ہے جس کا بنیادی فرض یہ ہے کہ دنیا میں نیکیاں پھیلائے اور برائیوں کے خاتمہ کی کوششوں میں لگی رہے۔ اصل میں جب تک ایک مومن کوئی بھی نیکی کرتا ہے نماز، روزہ اور احکام الہی کی پابندی کرتا ہے تو وہ عبادت ہے لیکن جب انسان کو یہ فکر دامن گیر ہوجائے کہ کسی طرح دوسرے لوگ بھی اس نیکی کو اپنالیں اور برائیوں سے بچ جائیں جب وہ اس کی جدوجہد کرتا ہے تو اس کو دعوت کہتے ہیں۔ عبادت اور دعوت دونوں ہی ضروری ہیں۔ عبادت کرنا تو شاید آسان ہو کیونکہ وہ انسان کی ذات تک محدود رہتی ہے لیکن دوسروں تک نیکی کا پیغام پہنچانا یہ بڑی ہمت اور حوصلہ مندی کی بات ہے اسی لئے فرمایا کہ اگر تمہیں اس راستے میں کوئی تکلیف پہنچے یا مشکل در پیش ہو تو اس پر صبر کرنا کیونکہ یہ بڑے حوصلے مندی کی بات ہے اسی لئے فرمایا کہ اگر تمہیں اس راستے میں کوئی تکلیف پہنچے یا مشکل در پیش ہو تو اس پر صبر کرنا کیونکہ یہ بڑے حوصلے ، جرات اور عزم و ہمت کی بات ہے۔ پانچویں نصیحت یہ فرمائی کہ لوگوں سے منہ پھیر پھیر کر بات مت کرنا کیونکہ یہ تکبر کر نشانی ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی مکرم ﷺ جب کسی سے بات کرتے تو پوری طرح متوجہ ہو کر بات کرتے تھے۔ یہی اہل ایمان کا طریقہ اور شریفانہ اخلاق کا تقاضا ہے۔ چھٹی نصیحت یہ فرمائی کہ زمین پر اکٹر کر چلنا تکبر اور غرور کی نشانی ہے جو کسی حال میں ایک مومن کو زیب نہیں دیتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کے بندے جب زمین پر چلتے ہیں تو بڑے وقار اور دھیمے پن سے چلتے ہیں یعنی متکبروں کی طرح نہ گردن اکڑا کر چلتے ہیں اور نہ زور سے پاؤں مار کر اپنی بڑائی کا اظہار کرتے ہیں بلکہ تواضع اور انکساری کا طریقہ اختیار کرتے ہیں جو اللہ کو بہت پسند ہے۔ چلنے میں اس بات کا خیال ضرور رہے کہ نہ تو بیماروں کی طرح چلے نہ متکبر لوگوں کی طرح۔ درمیانہ اور اعتدال کی راہ سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ چلنے میں وقار ہو بناوٹ نہ ہو۔ ساتویں نصیحت یہ فرمائی کہ بیٹا ! اپنی آواز کو دھیما رکھنا۔ چیخنا، چلانا اور خوامخواہ زور زور سے بولنا پسندیدہ نہیں ہے جہاں جیسی ضرورت ہو اس کے مطابق آواز کو بلند یا پست کیا جائے لیکن بلا ضرورت گلا پھاڑنا اور اپنی بڑائی کا اظہار کرنا کسی طرح اچھی عادت نہین ہے۔ فرمایا کہ سب ہی جانور بولتے ہیں لیکن گدھے کی آواز اس لیے ناپسندیدہ ہے کہ وہ گلاپھاڑ کر چلاتا ہے اور اس پر بچے بھی ہنستے ہیں۔ اس بری عادت سے چھٹکارا پانا ضروری ہے۔ جب نبی کریم ﷺ بولتے تھے تو آپ حسب موقع اپنی آواز کو دھیما اور باوقار رکھتے تھے ۔ شہید کربلا حضرت حسین ؓ نے اپنے والد حضرت علی فرتضی ؓ سے پوچھا کہ حضور اکرم ﷺ جب لوگوں کے درمیان بیٹھتے تھے تو آپ کا انداز کیا ہوتا تھا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ خوش و خرم نظر آتے تھے۔ آپ کے اخلاق میں نرمی اور برتائو میں سہولت مندی ہوتی تھی۔ آپ کی طبعیت میں سختی نہیں تھی نہ آپ شور مچاتے تھے نہ کوئی ایسی بات منہ سے نکالتے تھے جو فحش اور گندی ہو، نہ کسی کو عیب لگاتے تھے نہ کنجوسی اور بخل سے کام لیتے تھے۔ جو چیز آپ کو پسند نہ آتی تو آپ اس کے پیچھے نہیں پڑتے تھے نہ اس میں عیب نکالتے تھے بلکہ اعراض فرمایا کرتے تھے یعنی خاموشی اختیار کرلیتے تھے۔ فرمایا کہ آپ ﷺ میں تین عادتیں نہیں تھیں (1) لڑائی جھگڑا کرنا۔ (2) تکبر کرنا۔ (3) جو چیز کام کی نہ ہو اس میں مشغول نہ ہونا۔ (شمائل ترمذی) اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت لقمان کی ان نصیحتوں پر پوری طرح عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں مکہ کے کافروں اور مشرکوں سے فرمایا ہے کہ تم حضرت لقمان کو عقل مند تو مانتے ہو لیکن ان کی ان باتوں کو نہیں مانتے کہ انہیں شرک اور تکبر سے کتنی نفرت تھی۔ وہ اللہ کے عبادت گذار اور نیک بندے تھے۔ جب کہ تمہاری زندگی میں ان باتوں کا اثر تک نہیں پایا جاتا۔ کم از کم جس کی تم عزت کرتے ہو اس کی نیک باتوں کو تسلیم تو کرو۔
Ayahs 31:20–24

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس کو اللہ نے تمہارے لئے مسخر (تابع) کردیا ہے۔ اور تمہیں ظاہری اور پوشیدہ بھر پور نعمتیں عطا کی ہیں۔ اور کو گوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو بغیر علم، بغیر ہدایت اور بغیر روشن کتاب کے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ (فرمایا کہ اچھا بتائو تو سہی) اگر شیطان نے ان کو دوزخ کی طرف بلایا ہو (کیا پھر بھی وہ اس کی پیروی کریں گے) ؟

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جس نے اپنے چہرے کو اللہ کی طرف جھکا دیا۔ اور وہ نیکوکار بھی ہے تو یقینا اس نے ایک مضبوط گرہ کو پکڑ لیا۔ اور (یاد رکھو) اللہ ہی کی طرف تمام کاموں کی انتہا ہے۔

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ جو شخص کفر کرتا ہے تو آپ اس سے رنجیدہ نہ ہوں۔ ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہے۔ پھر ہم انہیں ضرور بتائیں گے کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے۔ بیشک اللہ دلوں کے بھید کو بھی جانتا ہے۔

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم انہیں (دنیا کا ) تھوڑا سا تھوڑاسا زندگی گزارنے کا سامان دیں گے۔ پھر ہم انہیں ایک سخت ترین عذاب کی طرف کھینچ لائیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر (20 تا 24) اسبغ (اس نے پورا کیا۔ پھیلایا) ۔ یجادل (وہ جھگڑتا ہے) ۔ منیر (روشن۔ منور) ۔ یدعوا (بلاتا ہے) ۔ السعیر (بھڑک دار (جہنم) ۔ یسلم (وہ جھکا دیتا ہے) ۔ استمسک (اس نے تھام لیا) ۔ العروۃ (گرہ۔ حلقہ) ۔ الوثقیٰ (مضبوط) ۔ نمتع (ہم سامان دیں گے) ۔ نضطر (ہم کھینچیں گے) ۔ غلیظ (سخت۔ بدترین) ۔ تشریح : آیت نمبر (20 تا 24) ۔ ” اگر انسان اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ کر ذرا بھی غور و فکر سے کام لے تو اس کو اس نتیجے تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں ہر چیز کو اس کے کام میں لگا رکھا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے چیزوں کو استعمال کرتا ہے۔ اس طرح اللہ نے ظاہری اور باطنی نعمتوں کو اس پر مکمل فرمادیا ہے۔ اللہ کی نعمتوں کا اقرار کر کے اس کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اس کی طرف سے جو بھی حکم دیا جائے اس پر عمل کرنا چاہیے۔ جو اللہ کے نیک اور صالح بندے ہیں وہ ہر آن اللہ کا شکر ادا کرکے ایمان اور عمل صالح کی زندگی گذارتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو بغیر علم و ہدایت اور روشن کتاب کے اللہ کے بارے میں ہی جھگڑتے رہتے ہیں اور اس کی نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں۔ جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے بھیجی گئی وحی کے مطابق اپنی زندگی گذاریں تو وہ رسم و رواج کا سہارا لے کر کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ ہم تو صرف یہ جانتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا جس طرح عبادت و بندگی کرتے تھے ہم بھی اسی کے پابند ہیں اور ان کے طریقوں کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں سے سوال کیا ہے کہ اچھا اگر شیطان نے انہیں جہنم کی آگ کی طرف بلایا ہوا ور وہ شیطان کے بہکائے میں آکر اس غلط راستے پر چل پڑے ہوں کیا وہ پھر بھی باپ دادا کی اندھی تقلید کرتے رہیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اصل چیز باپ دادا کی رسمیں نہیں ہیں بلکہ اللہ کے سامنے مکمل طور پر اپنی گردن جھکا کر اس کی اطاعت و فرماں برداری کرنا ہے۔ یقینا یہ وہ مضبوط اور مستحکم سہارا، حلقہ یا گرہ ہے جس کو تھام کر انسان گمراہی کی گندگی میں گرنے سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ تمام بہتر کاموں کا انجام اللہ ہی کے پاس ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ کفار کی نافرمانیوں اور غلط عقیدوں سے رنجیدہ نہ ہوں بلکہ اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہیے وہ وقت دور نہیں ہے جب تمام لوگوں کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے جہاں ان کو بتادیا جائے گا کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔ کیونکہ ان کا کوئی عمل اللہ کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہے وہ دلوں کے اندر کے بھید کو بھی اچھی طرح جانتا ہے۔ فرمایا کہ ہم نے ان کو زندگی گذارنے کو جو سامان دے رکھا ہے جس پر وہ اترا رہے ہیں بہت جلد ان کو ایک بدترین عذاب میں کھینچا اور گھسیٹا جائے گا۔ اس وقت دنیا کا یہ سازوسامان ان کے کسی کام نہ آسکے گا۔ ان آیات کی مزیدوضاحت کے لئے چند باتیں عرض ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے ہر چیز کا انسان کے لئے پیدا کیا ہے تاکہ وہ اس سے پوری طرح فائدے حاصل کرسکے یہ اللہ کی نعمتیں ہیں جن کی قدر کرنا ہر انسان پر فرض ہے۔ ان میں بہت سی نعمتیں تو وہ ہیں جن کو انسان اپنی کھلی آنکھیں سے دیکھتا ہے اور بعض نعمتیں وہ ہیں جن کو دل اور ایمان کی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ہر روز سورج نکلتا ہے، چاند چمکتا ہے، ستارے اپنی روشنی بکھیرتے ہیں، بلندی سے بادل برس کر انسان اور حیوانوں کی پیاس بجھانے اور مردہ زمین کو زندہ کرنے کا سبب بنتا ہے، کھیت لہلہانے لگتے ہیں، پھل اور پھول اور سبزہ، سبزی کو ایک نئی زندگی مل جاتی ہے۔ اسی پانی سے نہریں، دریا اور ندی نالے بہتے ہیں غرضیکہ ہزاروں نعمتیں بکھری ہوئی نظر آتی ہیں۔ یہ تو ظاہری نعمتیں ہیں لیکن ہزاروں وہ نعمتیں بھی ہیں جو آنکھوں سے تو نظر نہیں آتیں مگر دل کی نظروں سے وہ صاف نظر آتی ہیں مثلاً اللہ کی ذات وصفات کی صحیح طور پر پہچان، وحی کے ذریعہ انسانوں کی ہدایت کا سامان، انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تشریف آوری، دین کے غلبہ کے لئے ان کی کوششیں اور جدوجہد، فہم و فراست، عقل و بصیرت، سوچ سمجھ اور دور اندیشی یہ سب کی سب باطنی نعمتیں ہیں۔ ہم سب کے لئے سب سے بڑی نعمت نبی کریم ﷺ کی ذات بابرکات ہے جن کے ذریعہ قیامت تک آنے والوں کی وہ رہنمائی ہوئی ہے کہ اب آپ کے بعد کسی دوسرے نبی کی ضرورت باقی نہیں ہے۔ اللہ کا یہ کتنا بڑا کرم ہے کہ اس نے ہمیں نبی مکرم ﷺ کا امتی بنایا۔ (2) سب سے بڑے بد قسمت لوگ وہ ہیں جو اللہ کے احسانات ماننے کے بجائے بغیر کسی علم و ہدایت اور روشن دلیلوں کے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اس پر وہ اڑے بیٹھے ہیں اور کفرو شرک کے بد ترین راستے کو اپنائے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے پاس اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے کوئی واضح دلیل اور ثبوت موجود نہیں ہے۔ (3) دوسری بد نصیبی یہ ہے کہ جب بھی ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ کے احکامات کی پیروی کریں۔ اسی کے مطابق اپنی زندگی گذاریں اور صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں تو ان کا جاہلانہ جواب یہی ہوتا ہے کہ ہم کسی حال میں اپنے باپ دادا کے طریقوں کو نہیں چھوڑسکتے جس راستے پر وہ چلتے آئے ہیں ہم بھی اسی راستے پر چلیں گے۔ حالانکہ یہ کوئی دلیل نہیں ہے لیکن وہ لوگ یہ کہہ کر اپنے آپ کو مطمئن کرلیتے ہیں اور زندگی پھر رسم و رواج کے بندھنوں میں جکڑے رہتے ہیں۔ اس جگہ تقلید کرنا یا نہ کرنا اس بحث کی گنجائش تو نہیں ہے لیکن موقع کی مناسبت سے اتنا ضرور سمجھ لیا جائے کہ رسم اور دین کیا ہے۔ عرض ہے کہ رسم اس کو کہتے ہیں جس کے پیچھے کوئی دلیل نہیں ہوتی لیکن دین بہترین دلائل کی روشنی میں ایک سچائی کا نام ہے۔ جو لوگ رسموں میں پھنسے رہتے ہیں ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اندھی تقلید کر رہے ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے لیکن وہ لوگ جو دین پر چلنے والے ہیں وہ سچائی کی پیروی کرنے والے ہیں جس طرح صحابہ کرام ؓ نے نبی کریم ﷺ کی تقلید اور اتباع کی۔ تابعین نے صحابہ کرام ؓ کی تقلید کر کے اپنے دلوں کو قرآن و سنت کے نور سے روشن ومنور کیا اور اسی طرح آئمہ مجتھدین نے اپنے سے پہلے گذرے ہوئے صحابہ کرام اور تابعین اور تبع تابعین کی پیروی اور تقلید۔ لہذا اگر آج ہم ان چاروں اماموں کو قابل تقلید سمجھ کر کسی ایک کی تقلید کرتے ہیں تو اس کو اندھی تقلید نہیں کہا جائے گا بلکہ ایسی تقلید کرنا عین شریعت ہے اور قرآن و سنت کے تقاضوں کی تکمیل ہے۔ (4) خوش نصیب لوگ وہ ہیں جو اپنی ذات اور جذبات کو اللہ کے سامنے جھکا دیتے ہیں اور ہر اس کام میں سب سے آگے ہوتے ہیں جو نیکی اور بھلائی کا کام ہے۔ درحقیقت ایسے لوگ اس مضبوط اور مستحکم گرہ کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں جو ان کو گمراہی کے گہرے گڑھوں میں گرنے سے بچا لیتی ہے۔ یہ تقلید شخصیتوں کی ہنسی بلکہ اللہ اور رسول ﷺ کی تقلید ہے۔ (5) نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر کفار ان سچائیوں کو نہیں مانتے اور انکار کرتے چلے جارہے ہیں تو آپ اس سے رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ آخر کار ایسے منکرین کا بد ترین انجام ہے اور وہ عذاب الہی سے نہیں بچ سکتے۔
Ayahs 31:25–30

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ اگر آپ ان (منکرین حق سے) پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ کہیں گے کہ اللہ نے۔ آپ کہہ دیجئے الحمدللہ (تمام تعریفوں کا مستحق اللہ ہی ہے) ۔ اکثر لوگ وہ ہیں جو (اس حقیقت کو) جانتے نہیں ہے۔

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ ہی کا ہے بیشک وہ بےنیاز اور تمام تعریفوں کا مستحق ہے۔

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

(اور اگر ایسا ہو کہ ) زمین میں جتنے بھی درخت ہیں وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر (لکھنے کی) سیاہی بن جائیں اور مزید سات سمندر اور ہوں (جو سیاہی بن جائیں اور ان سے لکھا جائے) تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ بیشک اللہ زبردست اور غالب حکمت والا ہے۔

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

تم سب کا پیدا کرنا اور دوبارہ جی اٹھنا ایسا ہے جیسے ایک شخص کا پیدا کرنا۔ بیشک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے۔ ان میں سے ہر ایک مقرر مدت تک (قیامت تک) چلتا رہے گا اور بلا شبہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ سب اس لئے ہے کہ بیشک اللہ ہی برحق ہے اور اس کو چھوڑ کر جن چیزوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ سب باطل اور جھوٹ ہیں۔ اور بیشک اللہ نہایت بلندو برتر اور عظمتوں والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر (25 تا 30) سالت (تو نے پوچھا۔ سوال کیا) ۔ یقولن (وہ ضرور کہیں گے) ۔ ابحر (بحر) (سمندر) ۔ کلمات اللہ (اللہ کی باتیں) ۔ مانفدت (ختم نہیں ہوئی (ختم نہ ہوں گی) ۔ بعث (دوبارہ اٹھانا) ۔ یولج (وہ داخل کرتا ہے) ۔ تشریح آیت نمبر (25 تا 30) ۔ ” جو لوگ اللہ کی ذات، صفات، قدرت اور کمالات کا انکار کرتے ہیں اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان اور ان میں بسنے والی مخلوق کو کس نے پیدا کیا ہے تو ان کے منہ سے بےساختہ یہی نکلے گا کہ اللہ نے پیدا کیا ہے۔ ضمیر کی اس سچی اور پر خلوص آواز کے باوجود جب عبادت کرنے اور سر جھکا نے کا وقت آتا ہے تو وہ کائنات کے حقیقی خالق ومالک کو چھوڑ کر بےحققیت معبودوں کے سامنے سر جھکانے اور ان سے اپنی مرادیں مانگنے لگتا ہے۔ یہ کیسے تعجب کی بات ہے کہ اس کائنات کا خالق تو اللہ کو مانا جائے لیکن عبادت اوروں کی کی جائے۔ حالانکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ اس عظیم کائنات کا مالک صرف ایک اللہ ہی ہے۔ زمین ہزاروں، لاکھوں سال سے اپنے محور پر گردش کر رہی ہے۔ سروں پر آسمان کو ایک محفوظ چھت اور خیمے کی طرح تان دیا گیا ہے۔ چاند، سورج، ستارے اور سیارے اپنی رفتار سے چل رہے ہیں اور اپنی روشنی سے دنیا کو منور کر رہے ہیں۔ زمین پر ہر طرف مخلوق پھیلی ہوئی ہے جن کے زندہ رہنے کے تمام اسباب مہیا کردیئے گئے ہیں۔ ان تمام سچائیوں کے باوجود اگر کوئی اللہ کو خالق ومالک نہ سمجھے اور اس کا انکار کردے تو اس سے بڑا نادان اور کوئی ہو سکتا ہے ؟ اس کائنات میں اللہ کی عظمت کو ایک محسوس مثال سے سمجھایا گیا ہے۔ فرمایا کہ اس کے کمالات اتنے زیادہ ہیں کہ اگر دنیا بھر کے درختوں کو کاٹ کر ان کے قلم بنالئے جائیں اور موجودہ سمندر بلکہ اس جیسے سات اور سمندروں کو لکھنے کی روشنائی بناکر ان سے اللہ کے کلمات یعنی کمالات اور خوبیوں کو لکھا جائے تو قلم گھس کر، روشنائی استعمال ہو کر اور لکھنے والوں کی عمریں ختم ہوجائیں گی مگر اس کے کمالات کبھی ختم نہ ہوں گے۔ یقینا وہ لوگ انتہائی خوش نصیب اور کامیاب و بامراد ہیں جو اس سچائی کو مان کر پورے خلوص اور یقین سے اللہ کے ساتھ اپنا تعلق قائم کر کے اس کے سامنے سر جھکاتے ہیں اور اسی سے اپنی مرادیں مانگتے ہیں اور دل کی گہرائیوں اور خلوص کی سچائیوں کے ساتھ اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے سپرد کردیتے ہیں۔ اپنے تمام معاملات زندگی کو اس کے حوالے کر کے اس کی بھیجی ہوئی ہدایات اور تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گذارتے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کے مضبوط سہارے اور حلقے کو پکڑ کر ہر طرح کی گمراہیوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ ان ہی باتوں کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اگر آپ ان منکرین حق سے یہ پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین اور اس میں بسنے والی مخلوق کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ یہی کہیں گے کہ اللہ نے پیدا کیا ہے فرمایا کہ آپ کہہ دیجئے کہ واقعی تمام تعریفوں کا مستحق صرف ایک اللہ ہی ہے اگرچہ اکثر لوگ اس حقیقت کو جانتے نہیں ہیں۔ فرمایا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس کا مالک صرف ایک اللہ ہی ہے۔ کوئی اس کے کمالات کی تعریف کرے یا نہ کرے وہ اپنی ذات میں تمام تعریفوں کا مستحق ہے۔ فرمایا کہ اگر آسمانوں اور زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور سمندر اور مزید سات سمندر لکھنے کی روشنائی بن جائیں اور ان سے لکھا جائے تب بھی اللہ کے کلمات یعنی کمالات کبھی ختم نہ ہوں گے۔ بیشک اس کی حکمت ہر چیز پر غالب ہے۔ اس کی قدرت یہ ہے کہ اس نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے لہذا تم سب کا پیدا کرنا اور دوبارہ جی اٹھنا ایسا ہے جیسے ایک شخص کا پیدا کرنا۔ بلا شبہ وہ ہر ایک کی سنتا اور ہر ایک کے حالات سے پوری طرح باخبر ہے۔ فرمایا کہ کیا تم یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں کس طرح ڈھالتا چلا جاتا ہے۔ اسی کی ذات کا یہ کمال ہے کہ اس نے چاند سورج کو کام پر لگا رکھا ہے۔ ہر ایک کے لئے ایک مدت مقرر ہے جس کے مطابق وہ تمام چیزیں چلتی رہیں گی یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔ فرمایا کہ یہ سب کچھ برحق ہے ان کا مالک اللہ ہی ہے لہذا جو لوگ اس ایک کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت و بندگی کرتے ہیں وہ ایک جھوٹ اور باطل کے پیچھے دوڑ رہے ہیں اور جن کو وہ اللہ کے ساتھ شریک کر رہے ہیں اللہ ان سب چیزوں سے بلندو برتر ہے۔
Ayahs 31:31–34

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

(اے مخاطب) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے فضل و کرم سے کشتی ( جہاز) دریا میں چلتی ہے تاکہ وہ تمہیں اپنی بعض نشانیاں دکھائے۔ بیشک ان میں ہر صبر و شکر کرنے والے شخص کے لئے نشانیاں موجود ہیں۔

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب (اس دریا کی) موج ان پر سائبان کی طرح چھا جاتی ہے تو وہ خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر لے آتا ہے تو بعض تو ان میں سے اعتدال اور تو ازن اختیار کرتے ہیں اور سوائے عہد شکن اور نا شکرے لوگوں کے کوئی ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتا۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

اے لوگو ! تم اپنے پروردگار کے غضب سے بچو ! اور اس سے ڈرو جب کوئی باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا اور نہ بیٹا باپ کے کام آسکے گا بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تمہیں دنیا کی زندگی ہر گز دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ کوئی دھو کے باز تمہیں اللہ کے معاملے میں فریب میں ڈال دے

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

بیشک قیامت کا علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے وہی بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے (کیا پرورش پا رہا ہے) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ (آئندہ کل) کیا کمائی کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین پر مرے گا بیشک اللہ ہی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر (31 تا 34) ۔ صبار (بہت صبر کرنے والا) ۔ شکور (شکر ادا کرنے والا) ۔ ظلل (ظل) (سائے) ۔ مقتصد (سنبھل کر چلنے والا۔ اعتدال پسند آدمی) ۔ لا یجزی (کام نہ آئے گا۔ بدلہ نہ دے گا) ۔ مولود (پیدا کیا گیا (بیٹا) ۔ لاتغرن ( ہرگز تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے) ۔ الغرور (دھوکہ۔ فریب) ۔ الساعتہ (گھڑی۔ قیامت) ۔ الغیث (بارش) ۔ الارحام (رحم) (پیٹ) ۔ ماتدری (نہیں جانتا) ۔ غدا (کل صبح۔ آئندہ صبح) ۔ تشریح : آیت نمبر (31 تا 34) ۔ ” اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی کشتیوں اور جہازوں کا ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک حفاظت سے پہنچنا ہے۔ “ سمندر یا دریا میں جو چیز ڈالی جاتی ہے وہ عام طور پر ڈوب جاتی ہے لیکن اللہ نے اپنی قدرت سے ا کی ایسا نظام بنایا ہے کہ وہ کشتی یا جہاز جو پانی کے مقابلے میں ایک تنکے کی حیثیت رکھتا ہے وہ انسانی ضرورت کی چیزوں اور خود سیکڑوں لوگوں کو لے کر منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔ اگر سمندر میں زبردست طوفان آجائے اور کشتی یا جہاز اس کے بھنور میں پھنس جائے تو اس کے مسافر اس وقت پنے جھوٹے معبودوں کو چھوڑ کر پورے خلوص سے اللہ ہی کو پکارتے ہیں لیکن جب وہ اس طوفان سے بچ کر کنارے پر پہنچتے ہیں تو سوائے کچھ اعتدال پسندوں کے اکثر ناشکری اور کفر و شرک کرنے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو دنیا کے طوفان اور بھنور ہیں جن سے انسان نجات پا لیتا ہے لیکن اس دن سے ڈرنا چاہیے جب قیامت کا ہولناک منظر ہوگا اور کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ باپ بیٹے کے لئے اور بیٹا باپ کے لئے سوائے اللہ کی بارگاہ میں سفارش کرنے کے کچھ نہ کرسکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگو ! دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ کوئی دھوکے باز تمہیں فریب میں مبتلا کردے کیونکہ قیامت جس کا علم اللہ کا ہے اس دن کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ آخری آیت کو سمجھنے سے پہلے بخاری شریف کی یہ روایت سامنے رکھ لیجئے کہ ایک مرتبہ ایک صحابی نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ (1) قیامت کب آئے گی ؟ (2) بارش کب ہوگی ؟ (3) میری بیوی کے ہاں لڑکا ہوگا یا لڑکی ؟ (4) میں کل کی کروں گا ؟ (5) میں کہاں مروں گا ؟ نبی کریم ﷺ نے سورة لقمان کی اسی آیت کی تلاوت فرمائی جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پانچ چیزیں وہ ہیں جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے ہمیں کچھ چیزوں کا ظاہری علم حاصل ہوگیا ہے مثلاً بارش کب ہوگی ؟ کتنی ہوگی ؟ پیدا ہونے والا لڑکا ہوگا یا لڑکی ہوگی ؟ اسی سلسلہ میں عرض ہے کہ آدمی کو یہ تو معلوم ہو سکتا ہے کہ بارش کب اور کتنی ہوگی لیکن وہ بارش انسانوں کے لئے رحمت ہوگی یا باعث عذاب اس کا علم سوائے اللہ رب العالمین کے اور کسی کو نہیں ہے۔ یہاں اسی بات کو فرمایا گیا ہے دوسری بات یہ ہے کہ پیدا ہونے والا لڑکا ہوگا یالڑ کی ہوگی اس کو بھی آج الڑاسائونڈ کے ذریعہ معلوم کیا جاسکتا ہے لیکن ایسی کوئی مشین ایجاد نہیں ہوئی جو یہ معلوم کرلے کہ پیدا ہونے والا نچہ یا بچی کتنے دن زندہ رہے گی۔ وہ اللہ کی اور والدین کی فرماں بردار ہوگی یا نافرمان۔ اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ الحمد للہ سورة لقمان کی آیات کا ترجمہ اور اس کی تشریح مکمل ہوئی۔ اللہ ہمیں حسن عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین واخر دعو انا ان الحمد للہ رط العالمین