31. Surah Luqman
لقمانLuqman · 34 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
(سورۃ نمبر۔ ٣١) ، (کل رکوع ۔ ٤) ، (آیات۔ ٣٤) ، (الفاظ و کلمات۔ ٥٥٤) ، (حروف۔ ٢٢١٧) ، (مقام نزول۔ مکہ مکرمہ) ، (دوآیتیں۔ مدینہ منورہ) ۔ ( سورة لقمان قیام مکہ مکرمہ کے اس دور میں نازل ہوئی جب کفار عرب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تبلیغ دین کے راستے میں شدید رکاوٹیں پیدا کر رہے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) (رض) پر ظلم و زیادتی شروع کردی تھی ۔ اس میں صرف دو آیتیں مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں بقیہ ساری آیات مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں۔ ) حضرت لقمان کو عرب میں ایک نہایت عقل مند اور صاحب بصیرت شخص مانا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو اور دنیا کو ہر فلاح اور کامیابی وابستہ ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورة کا نام سورة لقمان رکھا گیا ہے۔ حضرت لومان کون تھے ؟ کب اور کہاں پیدا ہوئے ؟ ان کا ذکر قرآن کریم جیسی عظیم کتاب میں اتنی اہمیت کے ساتھ کیون کیا گیا ہے ؟ اور ان کی نصیحتوں کا خلاصہ کیا ہے ؟ اس سورة کو پڑھتے ہوئے ہر ایک کے ذہن میں یہ سوالات ابھرتے ہیں جس کے جوابات اس سورة کے مضامین سے سمجھ میں آتے ہیں۔ علماء و مفسرین نے فرمایا ہے کہ حضرت لقمان ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے بہت پہلے آئے جو اپنی عقل و فہم اور بصیرت کی وجہ سے ا کی خاص مقام رکھتے تھے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ قوم عادثانیہ کے عربی النسل ایک بادشاہ تھے اور انہوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کا زمانہ پایا ہے اور حضرت ہود (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ حضرت لقمان حبشہ کے رہنے والے سیاہ فام ایک آزاد کردہ غلام تھے ۔ حضرت لقمان کے متعلق مفسرین کے یہ الگ الگ بیانات ہیں لیکن تمام مفسرین کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ حضرت لقمان نبی تو نہیں تھے مگر ایک صالح، متقی، پرہیز گار شخص تھے جن کو اللہ نے عقل و بصیرت اور فہم و فراست میں ایک خاص مقام عطا فرمایا تھا۔ ان کی عقل و فہم کی باتوں سے عرب میں سارے لوگ اچھی طرح واقف تھے اور مختلف موقعوں پر ان کی دانائی اور عقل و سمجھ کی باتوں کو نقل کیا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کی نصیحتوں کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کفار عرب ان کی عقل مندیوں کی داستانیں تو بیان کرتے ہیں لیکن وہ اللہ کی توحید کے کس طرح قائل تھے اور ان کو کفر و شرک سے کس قدر نفرت تھی اس کو بیان نہیں کرتے۔ حالانکہ ان کی عزت و عظمت کا تقاضایہ تھا کہ کفار مکہ بھی کفر و شرک سے اسی طرح نفرت کرتے جس طرح لقمان جیسے آدمی کرتے تھے۔ حضرت لقمان اور ان کی نصیحتوں کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو اس طرف رغبت دلائی ہے کہ وہ بھی ان کی طرح توحید و رسالت کو مان کر اپنی آخرت سنوار لیں۔ (پورے جزیرۃ العرب میں نضرابن حارث وہ پہلا شخص تھا جس نے ایران کے بادشاہوں اور رستم و سہراب کے قصوں کہانیوں سے عرب والوں کو آشنا کیا اور دین اسلام سے نفرت پیدا کرنے کے لیے اس نے نہ صرف قصے کہانیوں کو رواج دیا بلکہ ناچنے گانے والی ایک لونڈی کو خرید کر اس سے ناچ گانے کو رواج دیا۔ مقصد صرف یہ تھا کہ نوجوان گانے، ناچ اور قصوں میں لگ جائیں تاکہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حق وصداقت کی آواز کو نہ سن سکیں۔ ) اسی سورة میں نضر ابن حارث جیسے شخص کا بھی نام لیے بغیر ذکر کیا ہے جس نے ایران کے بادشاہوں اور رستم و سہراب کے قصے کہانیاں لا کر مکہ کے تمام نوجوانوں اور عرب معاشرہ کے بوڑھے جوانوں کو اسلام مے نفرت دلانے کے لیے جھوٹے قصے، کہانیوں اور ناچ رنگ میں لگا دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان اور نضر ابن حارث دونوں کا ایک جگہ ذکر کر کے کفار مکہ پر سخت طنز کیا ہے کہ ایک شخص جو نہایت پرہیز گار، عقل مند آدمی ہے جو اپنے بیٹے کو توحید خالص کی تعلیم دے رہا ہے جس کے قصے نہایت ادب احترام سے سنے اور سنائے جاتے ہیں اس کی توحید کی تعلیم پر توجہ نہیں دی جاتی۔ اس کی اتباع اور پیروی سے دور بھاگتے ہیں اور وہ نضر ابن حارث جو صرف مال و دولت اکٹھا کرنے اور دین اسلام کی تعلیم سے نفرت دلانے کے لیے قصے کہانیوں اور ناچ رنگ میں پوری قوم کو مبتلا کر رہا ہے یہ اس کے پیچھے گے ہوئے ہیں اور اپنے آخرت برباد کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں حضرت لقمان کی ان نصیحتوں کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو نہایت پیار و محبت اور شفقت سے کی ہیں تاکہ وہ دنیا کی اونچ نیچ اور آخرت کے سچے عقیدے کو اپنا کر اپنی دنیا اور دین کو سنوار سکے۔ حضرت لقمان سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں کیونکہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا سب سے بڑی سعادت ہے اور کفر و شرک سے بچنا بڑی نیکی ہے۔ جو لوگ کفروشرک میں مبتلا ہوتے ہیں وہ در حقیقت ایک بہت بڑا ظلم کرتے اور بےانصافی سے کام لیتے ہیں۔ اسی بات کی انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی کہ وہ ہمیشہ شرک سے بچتا رہے کیونکہ شرک کرنا سب سے بڑا ظلم ہے۔ دوسری نصیحت یہ فرمائی کہ ماں باپ کا ادب و احترام اور ہر حال میں ان کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے خاص طور پر ماں جو بوجھ پر بوجھ اٹھا کر اس کی پرورش کرتی ہے اس کے ساتھ بھی حسن سلوک کیا جائے لیکن اگر وہی ماں باپ کفر اور شرک پر چلنے کرلیے کہیں تو اس سے صاف انکار کردینا چاہیے کیونکہ معصیت اور گناہ میں کسی کی اطاعت کرنا حرام ہے۔ لہٰذا اس سب کے باوجود والدین کے ادب و احترام میں تو کوئی کمی نہ کی جائے لیکن کفروشرک میں ان کی ایک بات بھی نہ مانی جائے۔ تیسری نصیحت یہ فرمائی کہ انسان کا اس بات پر پکا یقین ہونا چاہیے کہ انسان جو کچھ بھی کرتا ہے اللہ اس سے پوری طرح واقف ہے۔ اگر کوئی آدمی ہزارپردوں میں چھپ کر بھی گناہ کرتا ہے تو وہ اس سے نہ چھپ سکتا ہے نہ چھپا سکتا ہے۔ چوتھی نصیحت یہ فرمائی کہ نماز ایک اہم ترین عبادت ہے اس کو قائم کرنے کی جدہ جہد کرتے رہنا۔ پانچویں نصیحت یہ فرمائی کہ میرے پیارے بیٹے ! تم خود بھی نیکیوں پر ثابت قدم رہو اور ہر طرح کی برائیوں اور گناہوں سے اپنا دامن بچائے رہو اور دوسروں کو بھی نیکیوں پر لانے اور گناہ بھری زندگی سے بچانے کی کوشش اور جدو جہد کرتے رہو اور اگر اس راہ حق و صداقت میں تکلیفیں آئیں تو ان کا ہمت و جرات اور بھر پور حوصلے کے ساتھ مقابلہ کرو اور عزم و ہمت کے ساتھ سچائی پر ڈٹے رہو کیونکہ سچائی پر قائم رہنا بہت بڑے عزم کی بات ہے۔ چھٹی نصیحت یہ فرمائی کہ لوگوں سے غرور وتکبر سے پیش مت آنا۔ اترانا اور خود پسندی کا مظاہرہ کرنا اللہ کو سخت ناپسند ہے کیونکہ جو لوگ ذرا ذرا سی باتوں پر اتراتے اور خود اپنے منہ سے اپنی پڑائیاں کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگوں پر ان کا رعب جم جائے تو ایسے لوگ بڑے پن کا نہیں بلکہ اپنی گھٹیا ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہیں جو اللہ کو اور اس کے بندوں کو بھی سخت ناگوار گذرتی ہے۔ ساتویں نصیحت یہ فرمائی کہ اپنی چال میں اعتدال قائم رکھنا کیونکہ اکڑ کر چلنا اور غرور وتکبر کا انداز اختیار کرنا اللہ کو پسند نہیں ہے اللہ کے بندے جب زمین پر چلتے ہیں تو وہ بڑے وقار اور دھیمے پن سے چلتے ہیں۔ ان کی چال میں اکڑ اور تکبر نہیں ہوتا۔ آٹھویں نصیحت یہ فرمائی کہ جب کسی سے بات کی جائے تو اس میں سنجیدگی، متانت اور سلیقہ کا خیال رکھا جائے۔ گفتگو میں آواز کو بلند کرنا، چلا چلا کر بولنا اور جاہلوں کا جیسا انداز اختیار کرنا نہ تو اللہ کو پسند ہے اور نہ اس کے بندے ہی پسند کرتے ہیں۔ گدھا جو بہت زور سے چلاتا ہے اس کا چلانا اور آواز نکالنا کس کو پسند ہے وہ آوازوں میں بد ترین آواز ہے جس پر بچے بھی ہنس پڑتے ہیں۔ فرمایا کہ آواز میں مناسب دھیما پن اور سنجیدگی ہونی چاہیے۔ یہ ہیں وہ نصیحتیں جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو فرمائیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یہ اللہ کی قدرت ہے کہ اس نے کائنات کی ہر چیز کو انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے اور اس طرح اللہ نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں سے انسان کو نواز رکھا ہے جس پر ہر آن اللہ کا شکر ادا کرنا واجب ہے مگر اکثرلوگ وہ ہیں جو اس کی ناشکری کرتے ہیں اور اس کا ساتھ عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ جب ایسے لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے سوا کسی کو نہ پکاریں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں معلوم۔ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی راستے پر چلتے دیکھا ہے اور ہم بھی اسی راستے پر قائم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سوال فرمایا ہے کہ اچھا یہ بتائو کہ اگر تمہارے باپ دادا کو شیطان نے گمراہ کر کے غلط راستے پر ڈال دیا تھا کیا پھر بھی تم ان ہی کی پیروی کرو گے ؟ اگر تمہارے باپ دادا نے جہنم کا گڑھا کھودا تھا تو کیا تم بھی اسی گڑھے میں جا کر گرو گے ؟ اس سوال کا مشرکین و کفار کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ فرمایا اس کے برعکس وہ لوگ جو محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے اسی کی عبادت و بندگی کرتے ہیں وہ در حقیقت ایک ایسی مضبوط گرہ کو پکڑ لیتے ہیں جو ان کو گمراہی اور جہنم کی آگ میں گرنے سے بچا لیتی ہے اور ان کو قیامت میں بہترین انجام تک پہنچائے گی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جاں نثار صحابہ کرام (رض) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آج یہ کفارو مشرکین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اور آپ کے لائے ہوئے قرآن کریم کی تعلیمات کا مذاق اڑا رہے ہیں تو آپ اس سے رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ ان سب کو آخر کار میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے پھر میں ان کو بتاؤں گا کہ وہ دنیا میں کیا کرتے رہے ہیں اور جس سامان زندگی پر وہ اترا رہے ہیں وہ سب ان سے ختم ہوجائے گا اور یہ لوگ ایک برے انجام سے دوچار ہو کر رہیں گے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ زمین و آسمان اور اس کے درمیان جو کچھ ہے وہ سب کا سب اسی کے تابع ہے اور اسی کے حکم سے ہر چیز چل رہی ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے اس کو چلاتا ہے وہ اس کے چلانے میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔
الٓمّٓۚ Open ayah 31:1 in the Quran reader
الۗمّۗ
تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader
یہ حکمت سے پھر پور کتاب کی آیات ہیں۔
هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader
نیکیاں کرنے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔
الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader
وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں
اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader
یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader
ان میں سے کوئی تو ایسا (بد نصیب ہے) جو بےہودہ اور غافل کرنے والی چیزیں خرید کر لاتا ہے تاکہ وہ کم علم لوگوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکادے۔ اور اسے ہنسی مذاق سمجھتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے ذلت والا عذاب ہے۔
وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader
اور جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ تکبر سے اس طرح منہ پھیر کر چل دیتا ہے جیسے اس نے سنا ہی نہیں یا جیسا کہ اس کے کانوں میں بہراپن ہے۔ (اے نبی ﷺ ! ) آپ اس کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجئے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader
بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے تو ان کے لئے نعمتوں سے پھر پور جنتیں ہیں۔
خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader
جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور وہ زبردست ہے اور غالب حکمت والا ہے۔
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader
وہ اللہ جس نے بغیر ستوں کے ان سات آسمانوں کو بنایا جنہیں تم (ہر روز) دیکھتے ہو۔ اسی نے زمین پر پہاڑ (بوجھ بنا کر) رکھ دیئے تاکہ وہ (زمین) تمہیں ایک طرف لے کر ڈھلک نہ جائے۔ اسی نے زمین میں ہر طرح کے جان داروں کو پھیلا دیا۔ اور ہم نے ہی آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے ہی عمدہ قسم کی چیزیں اگائیں۔
هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader
یہ تو اللہ کی تخلیق ہے (آپ ﷺ کہئے کہ) مجھے دکھائو جو اللہ کے سوا (من گھڑت) معبود ہیں کہ انہوں نے کیا کچھ پیدا کیا ہے ؟ بلکہ (در حقیقت) ظالم لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader
اور یقینا ہم نے لقمان کو حکمت و دانائی عطا کی تھی ( اور کہا تھا کہ) تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ اور جو شخص شکت کرتا ہے وہ اپنے ہی بھلے کے لئے کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے (اس کا وبال اسی پر ہے) بیشک اللہ تو بےنیاز ہے اور تمام تعریفوں کا مستحق ہے۔
وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader
اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا اے میرے بیٹے ! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا کیونکہ شرک کرنا بہت بڑا ظلم (بےانصافی) ہے۔ “
وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader
اور ہم نے انسان کو تاکید کی ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ (حسن سلوک کرے) اس کی ماں نے دکھ پر دکھ جھیل کر اس کو اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑایا۔ اور تم میر اور اپنے ماں باپ کا شکر ادا کرنا۔ اور تم سب کو میری ہی طرف لوٹنا ہے۔
وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader
اور اگر وہ دونوں (ماں باپ) تم پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تم اللہ کے ساتھ شرک کرو جس کا تمہیں علم نہیں ہے تو ان دونوں (ماں باپ) کی اطاعت مت کرنا لیکن دنیا کے معاملات میں ان سے حسن سلوک کرتے رہنا۔ اور تم اس راستے کی پیروی کرنا جو تمہیں میر طرف پھیر دے۔ بہر حال تمہیں میری طرف ہی لوٹنا ہے۔ پھر میں بتائوں گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔
یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader
اے میرے بیٹے ! اگر (برائی) رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگی پھر وہ کسی سخت پتھر کی چٹان کے اندر یا اسمانوں اور زمین میں (کسی جگہ بھی چھپی ہوئی ہوگی) تو اللہ اس کو (باہر نکال) لائے گا۔ بیشک اللہ تمام چھپی ہوئی چیزوں کو جانتا ہے اور خبر رکھتا ہے۔
یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader
اے میرے بیٹے ! نماز قائم کر، اچھے کاموں کا حکم دے، برائیوں سے روکنے کی کوشش کر اور جو حالات پیش آئیں ان پر صبر کر۔ بیشک یہ بڑے عزم و ہمت کے کاموں میں سے ہے ۔
وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader
اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر۔ نہ زمین پر اکڑ کر چل۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر اترانے والے اور مغرور آدمی کو پسند نہیں کرتا۔
وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader
اپنے چلنے میں (رفتار میں) اعتدال پیدا کر اور اپنی آواز کو پست رکھ۔ بیشک آوازوں میں سب سے زیادہ ناپسند یدہ آواز گدھے کی ہے۔
اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس کو اللہ نے تمہارے لئے مسخر (تابع) کردیا ہے۔ اور تمہیں ظاہری اور پوشیدہ بھر پور نعمتیں عطا کی ہیں۔ اور کو گوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو بغیر علم، بغیر ہدایت اور بغیر روشن کتاب کے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ (فرمایا کہ اچھا بتائو تو سہی) اگر شیطان نے ان کو دوزخ کی طرف بلایا ہو (کیا پھر بھی وہ اس کی پیروی کریں گے) ؟
وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader
اور جس نے اپنے چہرے کو اللہ کی طرف جھکا دیا۔ اور وہ نیکوکار بھی ہے تو یقینا اس نے ایک مضبوط گرہ کو پکڑ لیا۔ اور (یاد رکھو) اللہ ہی کی طرف تمام کاموں کی انتہا ہے۔
وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ جو شخص کفر کرتا ہے تو آپ اس سے رنجیدہ نہ ہوں۔ ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہے۔ پھر ہم انہیں ضرور بتائیں گے کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے۔ بیشک اللہ دلوں کے بھید کو بھی جانتا ہے۔
نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader
ہم انہیں (دنیا کا ) تھوڑا سا تھوڑاسا زندگی گزارنے کا سامان دیں گے۔ پھر ہم انہیں ایک سخت ترین عذاب کی طرف کھینچ لائیں گے۔
وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ اگر آپ ان (منکرین حق سے) پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ کہیں گے کہ اللہ نے۔ آپ کہہ دیجئے الحمدللہ (تمام تعریفوں کا مستحق اللہ ہی ہے) ۔ اکثر لوگ وہ ہیں جو (اس حقیقت کو) جانتے نہیں ہے۔
لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ ہی کا ہے بیشک وہ بےنیاز اور تمام تعریفوں کا مستحق ہے۔
وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader
(اور اگر ایسا ہو کہ ) زمین میں جتنے بھی درخت ہیں وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر (لکھنے کی) سیاہی بن جائیں اور مزید سات سمندر اور ہوں (جو سیاہی بن جائیں اور ان سے لکھا جائے) تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ بیشک اللہ زبردست اور غالب حکمت والا ہے۔
مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader
تم سب کا پیدا کرنا اور دوبارہ جی اٹھنا ایسا ہے جیسے ایک شخص کا پیدا کرنا۔ بیشک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے۔ ان میں سے ہر ایک مقرر مدت تک (قیامت تک) چلتا رہے گا اور بلا شبہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader
یہ سب اس لئے ہے کہ بیشک اللہ ہی برحق ہے اور اس کو چھوڑ کر جن چیزوں کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ سب باطل اور جھوٹ ہیں۔ اور بیشک اللہ نہایت بلندو برتر اور عظمتوں والا ہے۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader
(اے مخاطب) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے فضل و کرم سے کشتی ( جہاز) دریا میں چلتی ہے تاکہ وہ تمہیں اپنی بعض نشانیاں دکھائے۔ بیشک ان میں ہر صبر و شکر کرنے والے شخص کے لئے نشانیاں موجود ہیں۔
وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader
اور جب (اس دریا کی) موج ان پر سائبان کی طرح چھا جاتی ہے تو وہ خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر لے آتا ہے تو بعض تو ان میں سے اعتدال اور تو ازن اختیار کرتے ہیں اور سوائے عہد شکن اور نا شکرے لوگوں کے کوئی ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتا۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader
اے لوگو ! تم اپنے پروردگار کے غضب سے بچو ! اور اس سے ڈرو جب کوئی باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا اور نہ بیٹا باپ کے کام آسکے گا بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تمہیں دنیا کی زندگی ہر گز دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ کوئی دھو کے باز تمہیں اللہ کے معاملے میں فریب میں ڈال دے
اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader
بیشک قیامت کا علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے وہی بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے (کیا پرورش پا رہا ہے) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ (آئندہ کل) کیا کمائی کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین پر مرے گا بیشک اللہ ہی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔