31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsسراج البیان

Ayahs 31:1–2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں

سورة لقمان اس سورة کو قرآن کے تعارف سے شروع کیا ہے کہ یہ آیتیں کتاب حکیم سے تعلق رکھتی ہیں ان میں دانائی اور رشدوہدایت ہے ۔ ان میں دلائل کا استحکام ہے ان میں اللہ کے اوامر ہیں ۔ اور یہ ان لوگوں کو ہدایت کے اعلیٰ ترین مراتب تک پہنچاتی ہے جو مقام احسان پر فائز ہیں ۔ جو نماز کو پوری شرائط اور مضولیت کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں ۔ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ! اور دنیائے داروی کی دلچسپیوں پر نہ رکھتے ہیں ۔
Ayahs 31:3–6

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

نیکوں کے لئے ہدایت اور رحمت

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

اور جو نماز پڑھتے اور نہ زکوٰۃ دیتے اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

وہی اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور آدمیوں میں کوئی ہے کہ کھیل کی بات خریدتا ہے ، تاکہ خدا کی راہ سے بےسمجھے (ف 2) گمراہ کرے اور اسے ٹھٹھے میں اڑائے ایسوں ہی کو ذلت (ف 1) کا عذاب ہوگا

لھوالحدیث قرآن حکیم وہ کتاب ہے جس پر انسانیت کی فلاح و بہبود موقوف ہے جو رشدوہدایت ہے جو اللہ کی رحمتوں کی کفیل ہے ۔ تمام مشکلات میں تنہاراہنما ہے ۔ سراپا خیر و برکت ہے ۔ لوگوں کے لئے قیامت تک آخری دستورالعمل ہے ۔ حضور ﷺ جب اس مجموعہ پاک کو سناتے اور چاہتے کہ مکہ کے مشرک اس کی روشنی سے اپنے تاریک سینوں کو منور کریں ۔ اور اپنے اعمال کو سنواریں ۔ تو کچھ بدبخت لوگ ایسی گمراہ کن باتوں میں عوام الناس کو الجھا دیتے کہ وہ ان لغویات کو سن کر قرآن کو نہ سنتے ۔ چناچہ نصرین حارث ان کو عجم کو جھوٹے اور غلط افسانے سناتا ۔ رستم واسفند یار کے قصے تو ان مسیع لگا کر بیان کرتا اور وہ مزے سے ان خرافات کو سنتے ۔ حالانکہ ان میں کوئی بات بھی ان کے لئے رز دیا ۔ علم و حکمت کا باعث نہ ہوتی ۔ ارشاد ہے کہ ایسے لوگوں کو عذاب الیم کی خوشخبری سنا دیجئے ۔ جو قرآن حکیم کی آیات کو نہیں سنتے اور غرور نخوت سے گردن پھیر کر چل دیتے ۔ حل لغات :۔ ھدی ۔ یعنی مراتب علیا تک راہ نمائی ۔ مطلقاً راہ نمائی مقصود نہیں ۔ لھوالحدیث ۔ افسانے ۔ حکائیتیں ۔ نغمہ راگ ۔ اور اسی نوع کی چیزیں ۔ وہ باتیں جو انسان کو حق وصداقت سے بازرکھیں ۔ 1: مقصد یہ ہے کہ یہ مکہ والے مسلمانوں کو حقیر نہ جانیں ۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے ۔ کہ آخرت کی سعادتیں انہیں کے مقدر میں آئینگے ۔ کیونکہ انہوں نے ایمان اور تقویٰ کی آواز کو سنا اور اس لئے کہ اللہ کا سچا وعدہ ہے ۔
Ayahs 31:7–10

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو غرور کے سارے پیٹھ پھیرلیتا ہے گویا ان کو سنا ہی نہیں گویا ان کے دونوں کان بہرے ہیں پس تو انہیں دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کے لئے نعمت کے باغ ہیں

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔ وعدہ ہوچکا اللہ کا سچا اور وہ زبردست حکمت والا ہے

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے پیدا کیا کہ تم انہیں دیکھ رہے ہو اور زمین میں پہاڑ (بطور) بوجھ ڈال (ف 1) دیئے ۔ تاکہ وہ (زمین) تمہیں لے کر جھک نہ پڑے اور ہر طرح کے جانور اس میں پھیلائے اور آسمان سے ہم نے پانی اتارا ۔ پھر اس میں ہر قسم کے نفیس جوڑے اگائے

ف 2: ان تمیدبکم سے ایک ایسے نظریہ کی طرف اشارہ ہے جس آج ہم نے معلوم کرلیا ہے اور وہ یہ ہے کہ زمین جو برابر آفات کے گرد گھوم رہی ہے ! اور کسی وقت بھی اپنے خطوط ادوار سے نہیں ہٹتی تو اس کی وجہ کیا ہے ۔ کیوں آفتاب کی کشش اس کو اپنی طرف نہیں کھینچ لیتی ؟ اور کیوں یہ کرہ ارض ایک متناسب فاصلہ پر سورج کے گرد چکر لگا رہا ہے ۔ قرآن کہتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ ہم نے اس میں پہاڑوں کی وج سے ایسا ثقل پیدا کردیا ہے ۔ کہ اب اس میں غیر طبعی حرکت نہیں پیدا ہوسکتی ۔ پہاڑ کشش اور جذب میں توازن برقرار رکھتے ہیں ۔ اور اس طرح یہ کرہ ارض گھومتا ہے ۔ اور ہمارے لئے دن رات اور موسموں کے اختلاف کا باعث ہوتا ہے ۔ حل لغات :۔ وقرا ۔ بوجھ ۔ ثقل کریم ۔ عمدہ ۔ نفیس ۔ مفید غنی ۔ بےنیاز ۔ یعنی جمال و کمال کا وہ نقطہ ارتقاء جو ہر ستائش سے بالا اور بےپروا ہو ۔
Ayah 31:11

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ اللہ کی پیدائش ہے بس اب تم مجھے دکھاؤ کہ اوروں نے جو اللہ کے سوا ہیں کیا پیدا کیا ہے ؟ بلکہ ظاہر صریح گمراہی (ف 1) میں ہیں

ف 1: مکہ کے مشرکوں اور بت پرستوں سے قرآن پوچھتا ہے کہ اے بتوں اور شخصیتوں کے پوجنے والو ۔ یہ آسمان تو ہم نے پیدا کئے اور پہاڑوں کو بھی ہم نے زمین پر رکھا ۔ تاکہ توازن درست رہے ۔ بارش بھی ہم بھیجتے ہیں بتاؤ اس کائنات میں تمہارے معبودوں نے کیا کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں ۔ انہوں نے کون سی دنیا بسائی ہے ۔ کس عالم کو ایجاد کیا ہے وہ کس آسمان و زمین کے مالک ہیں ۔ قرآن کا مطالبہ ہے ۔ کہ ان کی مصنوعات کو ہمارے سامنے پیش کرو ۔ ورنہ اس صریح ظلم سے توبہ کرو ۔ اور اس کھلی گمراہی کو چھوڑ دو ۔ اور کہہ دو کہ اللہ کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں ۔ وہ تنہا ساری کائنات کا مالک اور پروردگار ہے ۔
Ayah 31:12

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور ہم نے لقمان کو عقل مندی دی کہ اللہ کا شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع کے لئے شکر کرتا ہے اور جو کوئی کفر کرتا ہے اللہ بےپرواہ قابل تعریف (ف 2) ہے

حضرت لقمان 2: معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لقمان پیغمبر نہیں تھے مگر ایک ضاع اور دانشمند آدمی تھے ۔ اور جہاں تک اس وقت کے عربوں کا تعلق ہے ۔ ان میں ان کے حکیمانہ اقوال کا کافی چرچا تھا ۔ یہی وجہ ہے ۔ قرآن حکیم نے ان کا تذکرہ اس طرح کیا ہے ۔ کہ گویا پہلے سے مخاطبین انہیں جانتے ہیں ۔ حکمت کے معنے لغت میں کسی چیز کی حقیقت پہچاننے کے ہیں اور اصلاح میں دانائی اور درست کرداری سے تعبیر ہے ۔ اور اس کی اعلیٰ ترین قسم وہ ہے جس میں دنیا کے کے معاشری عقدوں سے بحث کی جائے ۔ اور یہ بتایا جائے ۔ کہ کن اصولوں کے ماتحت ایک انسان انسانی ہیئت اجتماعیہ کا بہترین رکن بن سکتا ہے ! اور کس طرح اس کا وجوہ اپنے ابنائے جنس کے لئے باعث رحمت و برکت ہوسکتا ہے ۔ قرآن حکیم فرماتا ہے ۔ کہ لقمان کو سب سے بڑی حکیمانہ باتیں عطا کی گئی تھیں ۔ وہ یہی تھیں ۔ کہ وہ شاکر تھے ۔ یعنی وہ یہ جانتے تھے کہ اللہ کے انعامات مادی وروحانی کو استعمال کفر اور ان کو ظاہر کرنا ، یہ سب سے بڑی فضیلت ہے ان کو یہ معلوم تھا کہ کون حق احاطہ شکر میں داخل ہیں ۔ اور جن کو مان کر انسان بہترین معاشری فضائل کو حاصل کرسکتا ہے ۔ اور یہ بھی جانتے تھے کہ یہ سب قول ، عمل ، عقیدہ اور اللہ نعمتوں کا اقرار ، انسان کے اپنے فائدے کے لئے ہے ۔ اللہ مطلقاً حمد کو ستائش سے بےنیاز ہے وہ فی نفیسہٖ لائق حمد اور قابل تعریف ہے ۔ چناچہ ان کی بات سے یہ سب چیزیں واضح ہیں ۔
Ayah 31:13

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے وقت اس سے کہا کہ بیٹے اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہرا بیشک شرک البتہ بڑا ظلم ہے

سب سے پہلے جس چیز کو حضرت لقمان نے قابل اعتناء سمجھا ہے ۔ وہ مسئلہ توحید ہے ۔ اس لئے اپنے بیٹے سے یہی کہتے ہیں ۔ کہ دیکھو اس سے بڑھ کر انسانیت کی اور حق تلفی نہیں ہوسکتی کہ انسان اپنی فطری عظمت کھوبیٹھے ۔ اور اپنے ابنائے جنس کے سامنے جھکے ۔ یاس مخلوق کے سامنے سربسجود ہو ۔ جو مرتبہ کے لحاظ سے اس سے کہیں فروتر ہے ۔ یہ شرک ہے ۔ ظلم عظیم ہے ۔ اور بہت بڑا گناہ اس کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی ہے ۔ کیونکہ کنبے بھر میں یہ رشتہ سب سے زیادہ محترم ہے ۔ اور سب سے زیادہ جاذب توجہ ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ ان بزرگ ترین افراد کی عزت و حرمت اس لئے ضروری ہے ۔ تاکہ جذبہ ربوبیت کو ہم چھوٹے پیمانے پر والدین کی شفقتوں میں دیکھ سکیں اور اس سے اندازہ کرسکیں ۔ کہ وہ ربوبیت کبریٰ کس درجہ ہم پر مہربان ہوگی ۔ جس کا یہ ادنیٰ کرشمہ ہے ۔ والدین کے احترام کے ساتھ اس چیز کی تصریح فرمادی ہے ۔ کہ یہ احترام اسی حدتک واجب ہے ۔ جس حد تک اللہ کے احکام کی نافرمانی نہیں ہوتی لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق ۔ اور جہاں یہ والدین اپنی بزرگی کا ناجائز استعمال کرنا چاہیں اور اپنے بچوں کو شرک وبدعات پر مجبور کریں ۔ اس وقت سعادت مندی یہ ہے کہ وہ بچے صاف طور پر انکار کردیں ۔ کیونکہ حق اور صداقت تمام تعلقات سے زیادہ واجب الاحترام ہے ۔ تیسری بات حضرت لقمان نے جو اپنے بیٹے کو بتائی ۔ وہ یہ ہے کہ عمل کبھی ضائع نہیں ہوتا ۔ حقیر سے حقیر اقدام ۔ اور ادنیٰ سے ادنیٰ حرکت بھی نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہے اور اللہ کا علم کامل ہے ۔ کوئی شخص اسے دھوکہ نہیں دے سکتا ۔ عزیمت و استقامت
Ayahs 31:14–16

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے بارہ میں نصیحت کی ۔ اس کی ماں نے تھک تھک کر اسے پیٹ میں اٹھایا اور اس کا دودھ چھڑانا دو برس میں ہے ، (سوائے انسان تاکید سے) کہ میرا اور اپنے والدین کا شکر کر ۔ آخر میری ہی طرف لوٹ (ف 1) کر آنا ہے

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ دونوں تجھ سے اس بات پر اڑیں کہ جس کا تجھ کو علم نہیں اس کو میرا شریک کرے ۔ تو تو ان کا حکم نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح رہ اور جو میری بات رجوع ہوا اس کی پیروی کر پھر تم کو میری طرف آنا ہے سو میں تمہیں بتاؤں گا جو تم کرتے تھے

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

اے میرے بیٹے ! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر بھی ہو ۔ پھر وہ کسی پتھر یا آسمانوں یا زمین ہو اسے بھی اللہ موجود کرے گا ۔ بیشک اللہ باریک بین خبردار ہے

حل لغات : خردل ۔ رائی فتکن ۔یہاں اجتماع کے لئے ہے ۔ یعنی گو وہ صغیر و حقیر عمل ہوا اور انتہائی خطا میں بھی ہو ۔
Ayah 31:17

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

بیٹے نماز (ف 2) پڑھا کر اور بھلائی کا حکم دے ۔ اور برائی سے منع کرو اور جو تجھ پر پڑے اس پر صبر کر بیشک یہ ہمت کے کام ہیں

ف 2: حضرت لقمان کی چوتھی نصیحت یہ ہے کہ بیٹا دل کو ذکر اور صلوٰۃ کی برکات سے معمور رکھو ۔ اور دنیا میں برائیوں کے خلاف جہاد کرو ۔ اور خود تقویٰ وصلاح کا نمونہ بنو ۔ اور اس سلسلہ تبلیغ و اشاعت میں جس قدر بھی مصیبتیں پیش آئیں ، برداشت کرو ۔ کیونکہ یہ عزیمت و استقامت کی باتیں ہیں ۔ غرض یہ ہے کہ ساری کائنات انسانی کو اللہ کی چوکھٹ پر جھکا دے ۔ سب کے دلوں میں اللہ کی محبت پیدا کردے ۔ اور سب کو نماز کا پابند بنادے مسلمان کی زندگی کا نصب العین یہ ہے ۔ کہ وہ ہر نیکی اور تقویٰ کی بات کو پھیلائے ۔ اور ہر برائی کو روکے ۔ وہ دنیا میں خدا کی حقانیت کا سب سے بڑا داعی اور رساعی ہے اس کے ایمان کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ وہ ہر مصیبت کو جو اللہ کی راہ میں آئے بختدہ پیشانی برداشت کرے ۔
Ayah 31:18

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور مت موڑ اپنے گال واسطے لوگوں کے اور زمین پر اترا (ف 1) کر نہ چل بیشک اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا

ف 1: چونکہ حضرت لقمان کی خواہش یہ ہے کہ ان کا بیٹا ہر طو پر زیور اخلاق سے آراستہ ہو ۔ اور صحیح معنوں میں وہ لوگوں میں صداقت کو پھیلا سکے ۔ اس لئے آخری میں اس کو یہ بھی بتایا ہے ۔ کہ عام بول چال میں ایسا نہ ہو ۔ کہ لوگ تم میں کبرونخوت کے خیالات کو محسوس کریں چال ڈھال میں میانہ روی اختیار کرنا ۔ نہ تو اتنا آہستہ آہستہ اور اکڑ کر چلنا ۔ کہ غرور ٹپکے ۔ اور نہ اتنا جلدی جلدی کر متالت و وقار کے منافی ہو ۔ آواز کو بھی پست رکھنا لازم ہے ۔ گدھے کی طرح اونچی آواز برترین آواز اور سراسر انسانی علم وقار کے خلاف بلکہ انسانیت کے منافی ہے ۔ 2: مکہ والے بہت زیادہ جاہل اور کج بحث تھے ۔ چناچہ ان آیتوں میں یہی بتایا ہے کہ اگر تم کائنات پر بنظر تعمق غور کرو ۔ اور سوچو تو تمہیں معلوم ہوگا ۔ کہ آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کو اللہ نے تمہارے لئے مسخر کردیا ہے ۔ اور تمہیں ہر نوع کی نعمتوں سے نوازا ہے جو ظاہر بھی ہیں ۔ اور باطن بھی مگر تم ہو کہ ابھی تک اللہ کی نعمتوں کو نہیں مانتے ۔ اور بتوں کے سامنے جھکتے ہو ۔ خدا نے توہ ساری کائنات کو تمہارے قبضہ واختیار میں دے دیا ہے ۔ کہ اس سے استفادہ کرو ۔ لیکن تم نے ان میں سے بعض کی پرستش شروع کردی ۔ نوٹ : اس سے آگے صفحہ پر (ف 1) ملاحظہ فرماویں حل لغات :۔ تصعو ۔ تصعیر سے مشتق ہے ۔ غرور سے منہ پھیرلینا ۔ یعنی بےتوجہی یا تنکیر سے پیش آنا حا ۔ غیر موزوں نشاط ۔ حد سے زیادہ خوش ہونا مختال ۔ مغرور ۔ متکبر مخور ۔ نہایت ناز کرنا ، اترانا واقصد ۔ قصد سے مشتق ہے ۔ میانہ روی ۔ اعتدال ۔
Ayahs 31:19–21

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور میانہ چال چل اور اپنی آواز نیچی رکھ بیشک تمام آوازوں سے بری گدھے کی ہے

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ۔ اس کو اللہ نے تمہارا مسخر کیا ہے ۔ اور اس نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر پوری کی ہیں ۔ اور باوجود (اس کے) آدمیوں میں بعض وہ ہیں کہ بغیر علم اور بغیر ہدایت اور بغیر روشن کتاب کے خدا کے بارہ میں جھگڑتے ہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو خدا نے نازل کیا ہے اس کے حکم پر چلو تو کہتے ہیں کہ نہیں ہم تو اسی پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے ۔ بھلا اور جو شیطان نہیں دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو تو بھی ؟

پھر جب تمہیں نیکی اور وحدانیت کی طرف دعوت دی جاتی ہے ۔ تو تم نہایت ہی نکمے پن سے بحث کرنے لگتے ہو جس میں نہ علم کی کوئی بات ہوتی ہے نہ عقل کی ۔ اور نہ تائید میں تم کسی الہام کو پیش کرسکتے ہو ۔ نہ روشن کتاب کو ۔ اور اس پر بھی تمہیں خیال ہے کہ تم صداقت پر ہو تم سے کہا جاتا ہے کہ دیکھو صرف اللہ کے حکموں کو مانو ۔ اور سواما انزل اللہ کے اور کسی بات پر کان نہ دھرو ۔ مگر تم بدستور تقلید وجہالت کی الجھنوں میں پھنسے رہو اور یہی کہتے چلے جاتے ہو ۔ کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے مسلک کہ نہ چھوڑیں گے ۔ تو کیا تم نے طے کرلیا ہے کہ ہم بہرحال آباؤ اجداد کے مذہب ہی کی پیروی کریں گے ۔ چاہے وہ گمراہ ہوں اور ہم کو جہنم ہی میں کیوں نہ پھینک دیں غرض یہ ہے کہ مشرکین مکہ محض قدامت پرست ہیں ۔ ان میں یہ استعداد نہیں ہے ۔ کہ حقائق پر غور کرسکیں ۔ اور غلط و صحیح بات میں امتیاز کرسکیں ۔ ان کے نزدیک حق وصداقت کا معیار صرف یہ ہے ۔ کہ ان کے باپ داد اس پر عمل پیرا تھے اور بس ۔
Ayahs 31:22–23

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جس نے اپنا منہ اللہ کی طرف متوجہ کیا اور وہ نیک ہے تو اس نے مضبوط کڑا پکڑ لیا اور ہر کام کا انجام خدا کی ہی طرف ہے

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جو کوئی کافر ہوا تو اس کا کفر تجھے غمگین نہ کرے اور انہیں ہماری طرف پھر آنا ہے ۔ پھر جو وہ کرتے تھے ہم انہیں بتائیں گے بیشک جو دلوں میں ہے اللہ (ف 2) جانتا ہے

عروۃ الوثقیٰ 2: اس سے قبل کی آیات میں فرمایا تھا ۔ کہ جو شخص فکر خیال سے لے کر حرکت وعمل تک سب چیزوں کو بر بنائے اخلاص وعقیدت اللہ کے تابع کردیتا ہے ۔ وہ عقائد کے مضبوط ترین حلقے کو تھام لیتا ہے ۔ اس مقام بلند پر فائز ہونے کے بعد اس کے لئے رسوائی اور ضلالت کا کوئی اندیشہ باقی نہیں رہتا ۔ جو شخص یہ سمجھ لے کہ میری سمجھ بوجھ میرے جذبات اور میری خواہشات نفس سب کی سب اللہ کے ارادہ اور اس کی منشاء کے ماتحت ہیں ۔ اس کی رضا میں میری نجات ہے اس کی خوشی میری زندگی کا نصب العین ہے ۔ اور اس کی مرضی پر میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہوں ۔ ایسا شخص فکروعقیدہ کی ایسی مضبوط چٹان پر کھڑا ہے کہ تزلزل کا کوئی مکان ہی باقی نہیں رہتا ۔ اور اس کے برخلاف جس کو اپنی عقل پر ناز ہے جس کی خواہشات نفس اس پر مسلط ہیں ۔ جو اللہ کے حکموں کی پرواہ نہیں کرتا ! اور حقائق کا منکر ہے ۔ وہ گمراہ ہے ۔ ان آیتوں میں فرمایا ہے ۔ کہ ایسے آدمی کے لئے آپ کیوں دکھ برداشت کریں ۔ وہ شخص جو عمداً ہدایت بےاعراض کرتا ہے قطعاً آپ کی شفقتوں کا مستحق نہیں ہے ان کے لئے ذرہ برابر فکر مند نہ ہوں ۔ فلا یحن نک کفرۃ سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ حضور ﷺ بالطیع کفر سے منتفر تھے اور آپ کو بڑی کوفت معلوم ہوتی تھی ۔ جب کوئی شخص اپنے لئے گمراہی کو پسند کرلیتا تھا ۔ آپ کے دل میں اس درجہ انسانیت سے ہمدردی تھی کہ آپ مخالفین کو بھی غلط راستے پر دیکھ کر بےقرار ہوجاتے تھے ۔ دل سے چاہتے تھے ۔ کہ وہ کفر کو چھوڑ رشدوہدایت کی برکتوں کامل ہوجائے ۔ فرمایا ہے کہ ان سب لوگوں کو ہمارے پاس آنا ہے ۔ انہیں بتائیں گے کہ انہوں نے کیا کیا کارہائے نمایاں دنیا میں کئے ہیں ۔ ہم ان کے تمام اسرار سے آگاہ ہیں ۔ ان کو دنیا میں تو موقع دینگے وہاں کی نعمتوں سے بہرہ مند ہولیں ۔ مگر بالآخر ان کے لئے عذاب مقدر ہے ۔ حل لغات :۔ بالعروہ ۔ ہر چیز کا کنارہ اور راستہ ۔
Ayahs 31:24–25

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم انہیں تھوڑا فائدہ دیں گے ۔ پھر سخت عذاب کی طرف ہم انہیں پکڑ بلائیں گے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور جو تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا ؟ تو کہیں گے کہ اللہ نے تو کہہ سب تعریف اللہ کے لئے ہے ۔ پر ان میں بہت لوگ نہیں جانتے

ف 1: اس حقیقت کی طرف اسارہ ہے کہ توحید فطرت انسانی کے عین مطابق ہے اور ہر شخص جس کو عقیل سلیم سے بہرہ وافر ملا ہے ۔ مجبور ہے اس سوال کا یہی جواب دے ۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ اکثریت ایسے کی ہے جو دل کی اس سچی آواز کو نہیں سنتے ! اور جن کو فطرت کے قانون سے آگاہی نہیں ہے ۔
Ayah 31:26

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ کا ہے ۔ بیشک اللہ ہی بےپروا قابل تعریف (ف 2) ہے

ف 2: یعنی تمام کائنات کا وہ تنہا مالک ہے کوئی ذات اس کے کاموں میں اس کی شریک نہیں ہے ۔ وہ اس لئے تمام انسانوں کو پرستش اور عقائد کا مرکز ہے ۔ کہ وہ مالک اور آقا ہے بلود کی بجائے خود اسے کسی چیز کی احتیاج نہیں ۔ وہ بےنیاز ہے اور بذاتہ لائق صدگا ہے ۔
Ayah 31:27

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اور زمین میں جتنے درخت ہیں اگر سب قلم بن جائیں اور سمندر اس کی سیاہی ہو ۔ اس کے بعد سات سمندر اور اس کی مدد کریں تو بھی اللہ کی باتیں تمام نہ ہونگی بیشک اللہ غالب حکمت (ف 3) والا ہے

عجائب فطرت 3: خدا کے عجائب قدرت اور غرائب و فطرت کی بوقلمونی اور کثرت کا تذکرہ ہے کہ وہ غیر محدود اور لا متناہی ہیں ۔ انسانی عقل ان تک رسائی حاصل نہیں کرسکتی ۔ اگر دنیا کے تمام درخت قلم کی صورت اختیار کرلیں ۔ اور تمام سمندرروشنائی بن جائیں اور پھر آدم سے لے کر آخری انسان تک نہیں بلکہ ہر ذی روح تک کو حکم دیا جائے ۔ کہ اللہ کی صفات اور شیؤن کو لکھتے چلے جاؤ۔ تو کئی زمانے ختم ہوجائیں گے ۔ کئی نسلیں تمام ہوجائیں گی ۔ سمندر خشک ہوجائیں گے ۔ اور درخت بہت گھس گھسا کر برابر ہوجائینگے اور ہنوز حسن ازل کے بیشمار پہلو ایسے رہ جائینگے جو ضبط تحریر میں نہیں آئے اور جو کچھ لکھا جائیگا اس کی حیثیت محض یہ ہوگی جیسے کوئی بچہ سمندر کے کنارے بالو کو اپنی دلچسپیوں کی تمام دنیا فرض کرکے کھیلنے لگتا ہے اور سمندر اپنی وسعتوں کے ساتھ اس کے سامنے متلاطم ہے ؎ دفتر تمام گشت بیاباں رسید عمر اسچنان در اول وصف تو ماندہ ایم انسانی علم کی بےمانگی ۔ اللہ کے مقبالہ میں کسی درجہ واضح ہے غور فرمائیے ۔ اللہ تعالیٰ نے کتنے خوبصورت انداز میں اپنی لاتعداد قدرتوں کا اظہار فرمایا ہے ۔ ہمارے صدیوں کے تجربے ہماری عقلی کاوشیں ۔ کیا ہم کو حقیقت کے کچھ بھی قریب کرچکی ہیں ؟ کیا اس وقت بھی ہم جہالت کے اسی نقطے پر نہیں ہیں ؟ جہاں آج سے کئی ہزار برس پہلے تھے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب یہ جہالت پہلے سے زیادہ وسیع اور پہلے سے زیادہ تحیرزا ہوگئی ہے ۔ حل لغات :۔ تضطرھم ۔ کشاں کشاں لاتے ہیں کہ یہ اقتصار ہے کہ جس طرح یہ لوگ جہنم کی طرف لپک لپک کر جارہے ہیں ۔ اللہ کو سب کچھ معلوم ہے ۔ اور وہ خوب جانتا ہے کہ یہ کیونکر عذاب شدید کو اپنے لئے پسند کرلیں گے سبعۃ ایحم ۔ کئی سمندر ، سبع کا عدہ تکمیل کے لئے ہوتا ہے ۔
Ayahs 31:28–32

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

تمہارا پیدا کرنا اور مرے پیچھے تمہارا جلا اٹھانا ایسا ہی ہے جیسے ایک جی کا پیدا کرنا اور جلا اٹھانا بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

کیا تونے نہیں دیکھا کہ اللہ دن میں رات اور رات میں دن داخل کرتا ہے اور اس نے سورج اور چان کو مسخر کیا ہے ۔ ہر ایک ایک وقت معین تک چلتا ہے اور یہ کہ جو تم کرتے ہو اللہ کو (اس کی ساری) خبر ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ اللہ جو ہے وہی حق ہے اور جنہیں وہ اس کے سوا پکارتے ہیں باطل ہیں ۔ اور اللہ جو ہے وہی سب سے برتر بڑا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

کیا تونے نہیں دیکھا ؟ کہ سمندر میں جہاز خدا کی نعمت لے کر چلتے ہیں کہ وہ تمہیں کچھ اپنی قدرتیں دکھائے بیشک اس میں ہر ایک صبر کرنے والے شکر گزار کے لئے نشانیاں ہیں

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جبکہ ان کی مثل سائبانوں (ف 1) کے موج ڈھانپتی ہے تو وہ اللہ کو خالص اسی کی عبادت کرتے ہوئے پکارتے ہیں ۔ پھر جب وہ انہیں نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو کوئی ان میں بیچ کی چال پر ہوتا ہے اور ہماری آیتوں کا انکار صرف قول کے جھوٹے ناشکری (ف 1) ہی کرتے ہیں

سمندر بہت بڑی نعمت ہے 1: سمندر پہلے صرف پانی کا ایک اٹھاہ ذخیرہ تھا اس کے بعد اس میں کشتیاں چلنے لگیں اور تجارت کے غیر معلوم دروازے کھلے اور پھر اس کو اقتصادی دنیا میں بہت بڑی اہمیت حاصل ہوگئی ۔ چناچہ آج جس کے پاس بحری قوت زیادہ ہے ۔ وہ سب سے زیادہ خوشحال ہے اور سب سے زیادہ مضبوط ہے قرآن حکیم نے آج سے چودہ سو سال پیشتر سمندر کی سیاسی اور اقتصادی اہمیت کا ان الفاظ میں ذکر کیا ہے کہ ان فی ذالک لایات لکل صبار شکور کو سمندر کے فوائد ان لوگوں پر ظاہر ہوں گے جو مصائب کو برداشت کرینگے اس کی مواج اور متلاطم لہروں سے متصادم ہوجانے کی سکت رکھتے ہوں ۔ اس کی گہرائیوں اور وسعتوں سے ڈر نہ جائیں جو اس کے سینے پر کشتیاں کھیلنا اور جہاز چلانا جانتے ہوں یعنی جنہیں معلوم ہو ۔ کہ سمندر کن بیشمار فوائد کا حاصل ہے ۔ اور جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے استفادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ مسلمان جب زندہ تھے ۔ اس وقت ان کے بحری بیڑے دور ودرازسمندروں میں رواں دواں رہتے ۔ اور وہ قرآن کی اس آیت کو خوب سمجھتے تھے ۔ آج وہ غلام ہیں ۔ اس لئے سمندر کی تمام برکات سے محروم ہیں ۔ اب مسلمان صرف حقیر قسم کا ملاح ہے ۔ مچھیرا ہے ۔ ! اور جال بنتا ہے تاکہ جب مسلمان قرآن کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔ غلامی کے ذلیل لوگ عذاب میں گرفتار ہے ۔ حل لغات :۔ سخر الشمس ۔ شان کے علوئے مرتبت کی طرف اشارہ ہے کہ سورج ایسی چیز بھی انسانی مفاد کے لئے ہے الظلال ۔ ظللۃ کی جمع ہے ۔ بمعنی شائبان ۔ 1: قرآن حکیم میں یہ خوبی ہے کہ وہ نہایت خوش اسلوبی سے ایک مضمون سے دوسرے مضمون کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اس آیت میں سمندر کی کیفیت کی طرف اشارہ ہے کہ جب توحید کے یہ منکرین سمندر کا سفر کرتے ہیں ۔ اور جب طوفان ان کو گھیر لیتا ہے ۔ اور موجیں سائبانوں کی طرح ان پر چھا جاتی ہیں ۔ تو یہ مارے ڈر کے صرف ایک خدا کو جاننے لگتے ہیں ۔ اور اس وقت اپنے تمام معبودان باطل کو بھی بھول جاتے ہیں پھر جب ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیا جاتا ہے ۔ تو کچھ لوگوں کے سوا اکثر بھر شرک و انکار کی لعنتوں میں گرفتار ہوجاتے ہیں ۔ یعنی صرف مصیبت کے وقت یہ لوگ فطرت کی آواز کو سننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جہاں آسودگی اور تنعم کا دور شروع ہوا ۔ اور یہ پھر بھولے ۔
Ayah 31:33

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

لوگوں اپنے رب سے ڈرو اور اس دن سے ڈرو کہ نہ کوئی بات اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آئیگا ۔ بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے سو تمہیں دنیا کی زندگی فریب نہ دے اور خدا (کے نام) سے تمہیں وہ دغاباز (بھی) دھوکا (ف 2) نہ دے

ف 2: یعنی ہر شخص کو چاہیے ۔ کہ وہ اپنی ذاتی ذمہ داری کو محسوس کرے ۔ کیونکہ مکافات عمل کے دن کوئی شخص کسی کی مصیبتوں کو برداشت نہیں کریں گا ۔ نہ کوئی باپ اپنی اولاد کو گرفت سے بچا سکے گا اور نہ اولاد اپنے باپ کے کام آسکیں گی ۔ ہر شخص براہ راست خود اپنے اعمال کے لئے خدا کے سامنے جوابدہ ہوگا ۔
Ayah 31:34

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی ہے جس کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینہ برساتا ہے او جو ماں کے پیٹ میں ہے وہ جانتا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے (ف 3) گا ۔ بیشک اللہ ہی جاننے والا خبردار ہے

ف 3: اسلام کہانت اور عیب گوئی ختم کرنے کے لئے آیا ہے اس لئے اس کا دعویٰ ہے کہ کوئی شخص اٹکل سے غیب کی باتوں کو نہیں بناسکتا ۔ کسی شخص میں یہ قوت نہیں ہے کہ وہ اپنے اختیار سے جب چاہے سب کچھ معلوم کرلے ۔ چناچہ ارشاد ہے کہ قیامت کا صحیح علم صرف خدا تعالیٰ کو ہوے وہی جانتا ہے کہ کب بارش ہوگی اسی کو علم ہے کہ رحم مادر میں کیا مستشر ہے وہی بتا سکتا وے کہ کل کیا ہونے والا ہے اور کون شخص کہا مرے گا ! خصوصیت کے ساتھ ان چیزوں کو اس لئے بیان فرمایا ہے کہ عرب کے کاہن عموماً انہی چیزوں کے متعلق پیشگوئیاں کرتے تھے اور اس طرح قوم میں اپنی روحانیت کی ڈھاک بٹھاتے تھے ۔ حل لغات :۔ مقتصد ۔ معتدل ۔ ختار ۔ غدار ، بدعہد الغرور ۔ فریٹ لینے والا ۔ فعول کے وزن پر ہے ۔ غلا شیطان ۔