Explained with ayahs 30–31
طوفان میں کون یاد آتا ہے ؟
اللہ کے حکم سے سمندروں میں جہاز رانی ہو رہی ہے اگر وہ پانی میں کشتی کو تھامنے کی اور کشتی میں پانی کو کاٹنے کی قوت نہ رکھتا تو پانی میں کشتیاں کیسے چلتیں ؟ وہ تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھارہا ہے مصیبت میں صبر اور راحت میں شکر کرنے والے ان سے بہت کچھ عبرتیں حاصل کرسکتے ہیں۔ جب ان کفار کو سمندروں میں موجیں گھیر لیتی ہیں اور ان کی کشتی ڈگمگانے لگتی ہیں اور موجیں پہاڑوں کی طرح ادھر سے ادھر ادھر سے ادھر کشتیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگتی ہیں تو اپنا شرک کفر سب بھول جاتے ہیں اور گریہ وزاری سے ایک اللہ کو پکارنے لگتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 52
یعنی حقیقی فاعل مختار ہے، خلق و تدبیر کے اختیارات کا اصل مالک ہے۔
سورة لُقْمٰن 53
یعنی وہ سب محض تمہارے تخیلات کے آفریدہ خدا ہیں۔ تم نے فرض کرلیا ہے کہ فلاں صاحب خدائی میں کوئی دخل رکھتے ہیں اور فلاں حضرت کو مشکل کشائی و حاجت روائی کے اختیارات حاصل ہیں۔ حالانکہ فی الواقع ان میں سے کوئی صاحب بھی کچھ نہیں بنا سکتے۔
سورة لُقْمٰن 54
یعنی ہر چیز سے بالا تر جس کے سامنے سب پست ہیں، اور ہر چیز سے بزرگ جس کے سامنے سب چھوٹے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
(آیت) ولو ان ما فی الارض من شجرة اقلام، اس آیت میں حق تعالیٰ نے اپنی معلومات اور اپنی قدرت کے تصرفات اور اپنی نعمتوں کی ایک مثال دی ہے کہ وہ غیر متناہی ہیں۔ نہ کسی زبان سے، وہ سب ادا ہو سکتے ہیں نہ کسی قلم سے سب کو لکھا جاسکتا ہے۔ مثال یہ فرمائی کہ ساری زمین میں جتنے درخت ہیں اگر ان سب شاخوں کے قلم بنا لئے جائیں اور ان کے لکھنے کے لئے سمندر کو روشنائی بنادیا جائے اور یہ سب قلم حق تعالیٰ کی معلومات اور تصرفات قدرت کو لکھنا شروع کریں تو سمندر ختم ہوجائے گا اور معلومات و تصرفات ختم نہ ہوں گے۔ اور ایک سمندر نہیں اس جیسے سات سمندر اور بھی شامل کردیئے جائیں، جب بھی سب سمندر ختم ہوجائیں گے لیکن اللہ…
Read the full tafseer →ذلک بان اللہ ھو الحق وان ما یدعون من دونہ الباطل وان اللہ ھو العلی الکبیر (30)
یعنی اس نظام کائنات کے اندر یہ باقاعدگی، یہ پابندی اور یہ افادیت و ربوبیت جو پائی جاتی ہے کہ اس وجہ سے پائی جاتی ہے کہ معبودِ حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے اور اس تمام کائنات کی باگ تنہا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اس کے سوا کچھ دوسرے الہٰ بھی اس کے خلق و تدبیر میں دخہل ہوتے تو یہ سارا نظام جیسا کہ فرمایا ہے لوکان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا درہم برہم ہوجاتا ہے۔ اس وہج سے وہ سارے معبود بالکل بےحقیقت اور باطل ہیں جن کی یہ لوگ پرستش کر رہے ہیں۔ وان اللہ ھو العلی الکبیر یعنی یہ نظام کائنات جس طرح خدا کی یکتائی پر شاہد ہے اسی…
Read the full tafseer →30-1یعنی یہ انتظامات یا نشانیاں، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ظاہر کرتا ہے تاکہ تم سمجھ لو کہ کائنات کا نظام چلانے والا صرف ایک اللہ ہے، جس کے حکم اور مشیت سے سب کچھ ہو رہا ہے، اور اس کے سوا سب باطل ہے یعنی کسی کے پاس کوئی بھی اختیار نہیں ہے بلکہ اس کے محتاج ہیں کیونکہ سب اس کی مخلوق اور اس کے ماتحت ہیں، ان میں سے کوئی بھی ایک ذرے کو بھی ہلانے کی قدرت نہیں رکھتا ہے (ابن کثیر)
30-2اس سے برتر شان والا کوئی ہے نہ اس سے بڑا کوئی۔ اس کی عظمت شان، علوم مرتبہ اور بڑائی کے سامنے ہر چیز حقیر اور پست ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–34
14: یعنی الحمد للہ ! ان لوگوں نے اس حقیقت کا تو اعتراف کرلیا کہ اس کائنات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس سے جو کھلا ہوا نتیجہ نکالنا چاہیے تھا کہ جب یہ کائنات تنہا اسی نے پیدا کی ہے تو عبادت کے لائق بھی تنہا وہی ہے، اس کے نتیجے تک پہنچنے کے لیے انہوں نے سمجھ سے کام نہیں لیا، اور اپنے باپ دادوں کی تقلید میں شرک اختیار کیے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
الم تر ان اللہ ۔۔۔۔۔۔ وان اللہ ھو العلی الکبیر (29 – 30)
رات کا دن میں داخل ہونا اور دن کا رات میں داخل ہونا ، ان کا باہم متضاد ہونا اور مختلف موسموں میں ان کا لمبا اور چھوٹا ہونا ایک عجیب منظر ہے۔ لیکن سالوں سے اسے دیکھتے چلے جانا اور بار بار ایسا ہونا انسانوں کو اس سے مانوس کردیتا ہے اور اکثریت اس اعجوبے کو دیکھتے ہوئے بھی اس کو محسوس نہیں کرتی۔ حالانکہ وہ نہایت ہی باریکی کے ساتھ اور کڑے نظم کے ساتھ واقعہ ہو رہا ہے اور اس میں سیکنڈ کا فرق بھی نہیں آتا۔ اس میں کوئی خلل نہیں آتا۔ کبھی ایک بار بھی۔ یہ مسلسل دوران زمین اور دوران کر ات ، جس میں کوئی کرہ اپنے مدار سے نہ ادھر ادھر ہوتا ہے اور نہ…
Read the full tafseer →3 یعنی حق تعالیٰ کی یہ شؤون عظیمہ اور صفات قاہرہ اس لئے ذکر کی گئیں کہ سننے والے سمجھ لیں کہ ایک خدا کو ماننا اور صرف اس کی عبادت کرنا ہی ٹھیک راستہ ہے۔ اس کے خلاف جو کچھ کہا جائے یا کیا جائے باطل اور جھوٹ ہے۔ یا یہ مطلب ہو کہ اللہ تعالیٰ کا موجود بالذات اور واجب الوجود ہونا جو " بان اللہ ھو الحق " سے سمجھ میں آتا ہے اور دوسروں کا باطل وہالک الذات ہونا اس کو مستلزم ہے کہ اکیلے اسی خدا کے واسطے یہ شؤون وصفات ثابت ہوں پھر جس کے لئے یہ شؤن وصفات ثابت ہوں گی وہ ہی معبود بننے کا مستحق ہوگا۔
4 لہذا بندہ کی انتہائی پستی اور تذلل (جس کا نام عبادت ہے) اسی کے لئے ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →آیت 30 ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْحَقُّ وَاَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الْبَاطِلُلا ”
لغوی اعتبار سے ہر وہ چیز ”باطل“ ہے جو اگرچہ نظر تو آرہی ہو مگر اس کا وجود حقیقی نہ ہو۔ جیسے ”سراب“ کہ دور سے دیکھنے پر پانی نظر آتا ہے مگر اصل میں وہ پانی نہیں ہوتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے سوا جس کسی کو بھی کوئی معبود سمجھ کر پکارتا ہے وہ محض دھوکہ اور سراب ہے۔
Read the full tafseer →40 یعنی اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کی دلیل تو یہ ہے کہ اس نے رات اور دن کا نظام قائم کیا اور یہ نظام اس قدر پیچیدہ ہے جس کے مطالعہ سے از خود یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایسا نظام کوئی کمال درجے کی مقتدر اور حکیم ہستی ہی قائم کرسکتی ہے اور سورج اور چاند بھی اسی نظام کا ایک حصہ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اللہ کے سوا جن چیزوں کو لوگوں نے معبود بنا رکھا ہے اور انھیں پکارتے ہیں۔ انہوں نے کیا بنایا ہے کہ انھیں بھی الوہیت کا مستحق اور حصہ دار بنایا جائے ؟ اور اس کا جواب نفی میں ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ معبود سراسر باطل ہیں۔
41 یعنی کائنات کی ہر چیز سے اس کی شان بھی بلند اور بڑائی میں بھی کائنات کی…
Read the full tafseer →32۔ (اور وہی اکیلا معبودیت کا مستحق) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی مذکورہ بالادلائل وواقعات۔ اشارۃ الی الذی ذکر من سعۃ العلم وشمول القدرۃ و عجائب الصنع واختصاص الباری بھا (بیضاوی) واجب الوجود صرف اسی کی ذات، وجود حقیقی صرف اسی کا، صفات علو وکبریائی سے صرف وہی متصف، معبودیت والوہیت کا صرف وہی مستحق۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
آیت نمبر 20 تا 30
ترجمہ : اے مخاطبو ! کیا تم اس بات کو نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں یعنی سورج اور چاند اور ستارے تاکہ تم ان سے فائدہ حاصل کرو اور ان چیزوں کو جو زمین میں ہیں، پھل اور نہریں اور جانور (وغیرہ) اور تم کو اپنی ظاہری نعمتیں اور وہ حسن صورت اور تناسب اعضاء وغیرہ وغیرہ ہیں، اور باطنی (نعمتیں) (اور) وہ معرفت (الہٰی) وغیرہ ہے بھر پور دے رکھی ہیں اور کچھ لوگ یعنی اہل مکہ ایسے بھی ہیں کہ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور رسول کی جانب سے بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے کہ جس کو اللہ نے نازل کیا ہو، جھگڑتے ہیں بلکہ تقلید…
Read the full tafseer →ذلک بان اللہ ھو الحق وان مایدعون من دونہ الباطل . یہ (ان کی علمی وسعت ‘ احاطہ قدرت اور
ندرت صنعت) اس سبب سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے (یعنی اس کا وجود اور تمام صفات کمالیہ محقق اور ثابت ہیں یا اس کی الوہیت ثابت شدہ ہے) اور اللہ کے سوا جن معبودوں کو وہ پکارتے ہیں وہ باطل ہیں (یعنی معدوم الاصل ہیں یا ان کی الوہیت کا دعویٰ بےحقیقت ہے) ۔
وان اللہ ھو العلی الکبیر . اور (اس سبب سے ہے) کہ اللہ ہی سب سے بالا اور غالب ہے اور بزرگی والا ہے۔
اس کی بزرگی اور عظمت ظاہر ہے اور جس ذات کی یہ عظمت ہے یقیناً اس کے علم وقدرت کے احاطہ سے کوئی چیز باہر نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →اور یہ قدرت کا اظہار اس لیے کیا تاکہ تم جان جاؤ کہ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت برحق ہے اور جن چیزوں کی یہ لوگ اللہ کے علاوہ عبادت کر رہے ہیں وہ بالکل بیہودہ اور جھوٹی ہیں اور اللہ ہی عالی شان اور سب سے بڑا ہے۔
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ : یعنی یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس لیے بیان فرمایا ہے کہ تم جان لو کہ وہی حق ہے جو حقیقی فاعل و مختار ہے، کیونکہ وہ ازلی و ابدی ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اپنے وجود میں وہ کسی کا محتاج نہیں۔
وَاَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ : اور اس کے سوا مشرک جس کی بھی عبادت کرتے ہیں سب باطل ہیں، ان کا کہیں وجود ہی نہیں۔ یہاں نہ کوئی لات ہے، نہ منات، نہ داتا، نہ دستگیر، نہ گنج بخش، نہ غریب نواز۔ سب ان مشرکوں کے خیال اور وہم کی تخلیق ہیں اور انھوں نے اپنے پاس سے فرض کرلیا ہے کہ فلاں صاحب خدائی میں کوئی دخل رکھتے ہیں اور انھیں مشکل کشائی اور حاجت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
الم تر ان الفلک، فلک سے مراد کشتیاں ہیں۔ تجری یہ جملہ خبر بن رہا ہے۔ فی البحر بنعمت اللہ تم پر جو وہ مہربانی فرماتا ہے اور تم پر جو رحمت فرماتا ہے کہ تمہیں اس سے خلاصی عطا فرماتا ہے۔ ابن ہرمز نے بنعمات اللہ قراءت کی۔ یہ نعمۃ کی جمع ہے اس کا معنی سلامتی ہے۔ اصل یہ تھا کہ عین کو حرکت دی جاتی پھر اسے ساکن کردیا گیا۔ لیریکم من ایاتہ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی جو نشانیاں تم دیکھتے ہو۔ نقاش نے کہا : اللہ تعالیٰ انہیں جو رزق عطا فرماتا ہے (1) ۔ حضرت حسن بصری نے کہا : سمندر کی چابیاں کشتیاں ہیں اور زمین کی چابی راستے ہیں اور آسمان کی چابی دعا ہے (2) ۔
آیت ان فی ذلک لایت لکل صبار شکورجو آدمی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ماخلقکم ولا بعثکم ال اکنفس واحدۃ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے فرمائیں گے ہوجا پس وہ ہوجائے گا تھوڑا ہو یا زیادہ۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ماخلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا پہلی بار سارے لوگوں کا پیدا کرنا اور ان کا دوبارہ زندہ کرنا ایک جان کے پیدا کرنے اور اس کو دوبارہ زندہ کرنے کی طرح ہے اور فرمایا آتی الم تر ان اللہ یولج الیل کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ داخل کرتا ہے رات کو دن یعنی رات کا کم ہونا اور دن کا زیادہ ہونا آیت…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ [یہ اس سبب سے کہ اللہ ] هُوَ الْحَقُّ [ہی حق ہے ] وَاَنَّ [اور یہ کہ ] مَا [جس کو ] يَدْعُوْنَ [یہ لوگ پکارتے ہیں ] مِنْ دُوْنِهِ [اس کے علاوہ ] الْبَاطِلُ ۙ [وہ ہی باطل ہے ] وَاَنَّ اللّٰهَ [اور یہ کہ اللہ ] هُوَ الْعَلِيُّ [ہی بلند ہے ] الْكَبِيْرُ [بڑا ہے ] ۔
Read the full tafseer →(ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْحَقُّ ) (الآیۃ) یہ اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے اس کا وجود حقیقی ہے اور اس کا معبود ہونا بھی برحق ہے لہٰذا اسی کی عبادت کرنا لازم ہے (وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الْبَاطِلُ ) (اور مشرک لوگ جو اس کے علاوہ دوسروں کی عبادت کر رہے ہیں وہ باطل ہیں، نہ وہ معبود ہیں نہ معبود ہونے کے قابل ہیں) (وَ اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ ) (اور بلاشبہ اللہ عالیشان ہے اور بڑا ہے) کوئی اس کے برابر و ہمسر نہیں لہٰذا اس کے علاوہ کوئی بھی مستحق عبادت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–32
ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…
Read the full tafseer →ٖف 29:۔ ذلک الخ، یہ دلائل مذکورہ کا تفصیلی ثمرہ ہے۔ بان کا متعلق محذوف ہے ای ذلک البیان بالا۔۔۔ لتستیقنوا بان اللہ الخ۔ یہ تمام دلائل واضحہ اس لیے ذکر کیے گئے ہیں تاکہ تمہیں یقین ہوجائے کہ معبود برحق اور حاجات میں غائبانہ پکارے جان کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اللہ کے سوا مشرکین جن معبودوں کو پکارتے ہیں ان کی عبادت اور پکار باطل ہے اور وہ پکار کے لائق نہیں ہیں اللہ تعالیٰ جو اپنی صفات میں برتر اور ذات میں سب سے بڑا ہے وہی عبادت کے لائق ہے یعنی ذلک الذی ھو قادر علی ھذہ الاشیاء التی ذکرت ھو الحق المستحق للعبادۃ (و ان ما یدعون من دونہ الباطل) یعنی لا یستحق العبادۃ (وان اللہ ھو العلی) یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر اللہ تعالیٰ کی توحید اور ب عث بعد الموت کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے ، چناچہ سورة کے آغاز میں قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت اور ا اس کے واحی الٰہیہونے کا بیان تھا۔ پھر حضرت لقمان (رح) کی بعض نصیحتوں کا ذکر ہوا جن میں سرفہرست شرک کی تردید ہے ، اس کے بعد توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے ، نیز یہ بھی کہ مشرکوں کے پاس نہ کوئی عقلی دلیل ہے ، نہ کسی نبی یا بزرگ کا قول اور نہ کوئی روشن کتاب ہے جس سے وہ کفر یہ اور شرکیہ عقائد کو ثابت کرسکیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا ذکر ہوا ،۔ اور یہ بھی کہ شیطان لوگوں کو گمراہ کرتا ہے ۔ اکثر لوگ اپنے ابائو اجداد…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّ اللہَ ہُوَالْحَقُّ وَاَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الْبَاطِلُ 0 ۙ وَاَنَّ اللہَ ہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 30 ۧ
حقَ
أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة .
والحقّ يقال علی أوجه :
الأول :
يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] .
والثاني :
يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا…
Read the full tafseer →ذلک یہ کہ وہ ایسا قادر اور ایسا عالم ہے اس لیے ہے بان اللہ ھو الحق اللہ ہی برحق اور واجب الوجود ہے۔ وان مایدعون من دونہ الباطل اور اس کے سوا جس کو وہ پکارتے ہیں وہ غلط ہے۔ فانی الذات ہے، وان اللہ ھو العلی الکبیر اور یہ کہ اللہ ہی سب سے بالا دست اور سب سے بڑا ہے، اس کے سوا کوئی قابل پرستش نہیں۔ یہ دلائل کا نتیجہ ہے، جس پر مخاطبین کو متنبہ کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ھُوَالْحَقُّ وَاَنَّ مَایَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الْبَاطِلُ لا وَاَنَّ اللّٰہَ ھُوَالْعَلِیُّ الْـکَبِیْرُ ۔ (لقمان : 30)
(یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور اسے چھوڑ کر جن دوسری چیزوں کو جو لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں، اور بیشک اللہ ہی برتر اور عظیم ہے۔ )
کائنات میں نظم و ترتیب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہے
کائنات کے نظام میں جو نظم و ترتیب باقاعدگی، پابندی، افادیت اور رفاہیت پائی جاتی ہے اس کا سبب صرف یہ ہے کہ معبودِحقیقی صرف ایک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور ہر چیز کا سررشتہ اس کے ہاتھ میں ہے۔ پوری کائنات پر اس کی مرضی اور اس کا حکم نافذ ہے۔ تکوینی معاملات…
Read the full tafseer →(فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ ) [ یونس : 32]
” سو اللہ ہی تمہارا سچا رب ہے۔ پھر سچ کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے ؟ بس تم کہاں پھیرے جاتے ہو۔ “
مسائل
1۔ ” اللہ “ ہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا اور نکالتا ہے۔
2۔ ” اللہ “ ہی نے سورج اور چاند کو پیدا کیا اور وہی انہیں مقررہ وقت پر چلائے جا رہا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے سوا باقی تمام معبود باطل ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کے شرک سے بلندوبالا اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
مشرک جن معبودوں کو پکارتے ہیں ان کی حقیقت :
1۔ کیا تم ایسے لوگوں کو معبود مانتے ہو…
Read the full tafseer →اللہ عزوجل ہستی میں کامل ہے :
30: ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْحَقُّ (اور یہ اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہستی میں کامل ہے) وَاَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ (اور جن چیزوں کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں) ۔
قراءت : یدعون یاء کے ساتھ سوائے ابوبکر کے باقی عراقی قراء نے پڑھا ہے۔
الْبَاطِلُ وَاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ (وہ باطل ہے اور بیشک اللہ وہی عالی شان و بڑا ہے) ۔ یعنی یہ صفت جو اس کی بیان کی گئی ہے یہ اس کی قدرت کے عجائبات اور اس کی ایسی حکمت میں سے ہے جس سے زندہ لوگ جن کو کچھ قدرت و علم بھی حاصل ہے۔ وہ بھی عاجز ہیں تو وہ جماد بت جن کو یہ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں ان کو…
Read the full tafseer →30، ذلک بان اللہ ھوالحق ، یہ جو کچھ ذکر کیا گیا یہ حق ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات برحق ہے ۔ ، وان ما یدعون من دونہ الباطل وان اللہ ھو العلی الکبیر،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
28 تا 32۔ مطلب یہ ہے کہ ساری مخلوقات کا پیدا کرنا اور بعد مرنے کے پھر اس کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ کی قدرت کے سامنے کچھ مشکل نہیں ہے بلکہ اس کی ایسی مثال ہے جیسا کہ ایک جان پیدا کرنا اور جلانا ہے کس لیے کہ سب کا موجود کرنا فقط کن کے کہنے سے ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا انما امرہٗ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قادر مطلق جب ارادہ کرتا ہے کسی شے کا تو فرماتا ہے ہوجا وہ ہوجاتی ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ سننے والا ہے سب کے قولوں کا اور دیکھنے والا ہے سب کے عملوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ حشر کے منکر جو باتیں کرتے ہیں اور حشر کو جھٹلا کر جس طرح کے کاموں میں مصروف ہیں ان سب کی اللہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
آیت نمبر : 30 ۔ 29
اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے اپنے تصرف و تدبیر میں متفرد ہونے ‘ رات کو دن میں داخل کرنے اور دن کو رات میں داخل کرنے میں اپنی قدرت و اختیار کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب دن اور رات میں سے کوئی داخل ہوتا ہے تو دوسرا چلا جاتا ہے۔ وہ سورج اور چاند کو مسخر کرنے میں بھی متفرد ہے۔ سورج اور چاند اس کی تدبیر اور نظام کے تحٹ چل رہے ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے ‘ ان میں خلل واقع نہیں ہوا۔۔۔ تاکہ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ دین و دنیا سے متعلق اپنے بندوں کے مصالح و منافع کو پورا کرے ‘ جس سے اس کے بندے عبرت حاصل کرتے اور فائدہ حاصل کرتے ہیں۔
(کل) ” ہر ایک “ یعنی سورج اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–33
آخرت میں نسب کی بجائے عمل کام آئے گا
قول باری ہے (واخسوا یوما لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا۔ اور اس دن کا خوف رکھو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ ہوسکے گا اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی بدلہ بن سکے گا) آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی کو اس کے باپ یا نسب کے شرف کی بنا پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو چھوڑ کر کسی ایک کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔
اس مضمون میں حضور ﷺ سے روایت بھی وارد ہے۔ آپ کا ارشاد ہے (من ابطابہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ۔ جس شخص کا عمل اسے سست کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔ ) آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
61 سمندر میں چلتے بحری جہازوں اور کشتیوں میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تم نے غور نہیں کیا کہ یہ کشتیاں اور بحری جہاز کس طرح رواں دواں ہیں سمندر میں اللہ کے فضل و کرم سے ؟ "۔ کہ جس پانی کی سطح پر ایک چھوٹا سا کنکر بھی نہیں ٹک سکتا اس پر ہزاروں ٹن وزن کے یہ دیوہیکل جہاز کس طرح رواں دواں ہیں ؟ اور اتنے وزن کا لوہا کس طرح پانی پر دوڑے چلا جا رہا ہے ؟ پہاڑوں جیسی طوفان خیز موجوں کو کس طرح دبایا اور زیر کیا جاتا ہے ؟ کیسے کیسے طوفانوں سے سابقہ پڑتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور جس ذات نے انسان ضعیف البنیان کو اس قدر عقل و خرد، سمجھ بوجھ اور قوت و طاقت سے نوازا وہ کس قدر وہاب و کریم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
اللہ کی ربوبیت کے کرشمے
تشریح : انسان فطرتاً نیک اور مسلم پیدا ہوا ہے مگر حالات اور بدلتے ہوئے زمانے کے مطابق انسان کے عقائد، رہن سہن اور رجحانات میں تبدیلی آتی رہی اور آئندہ بھی آتی رہے گی۔ لیکن اندر سے انسان اللہ سے دور کبھی نہ ہوسکا نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی تخلیقات اس کو ہمیشہ کسی نہ کسی صورت اپنی طرف متوجہ ضرور کرتی رہتی ہیں۔ اور پھر جس میں سوجھ بوجھ پیدا ہوجائے اس کے دل میں نور ایمان بھی روشن ہوتا رہتا ہے۔ اس کی مثال ہم اس روسی خلاباز مسٹر جون ینگ (John Young) کی دے سکتے ہیں جو کہ 1981ء میں خلائی بس کو لمبیا خلائی سفر میں بھیجی گئی تھی تو اس کے دو مسافروں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
آیات 20 تا 30
کیا تم اس بات سے بیخبر ہو کہ اللہ نے سب آسمانی اور زمینی مخلوق کو تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے اور یہ بات سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت ہے کہ جس قدر ستارے یا سیارے معلوم ہوئے سب کی توجہات کا مرکز زمین ہے اور ان کی حرکات یا روشنی و گرمی سے زمین میں مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں چاند و سورج کی روشنی و گردش بھی زمین میں حیات آفرینی کی خدمت پر مامور ہے اور یہ سب کچھ انسان کی ہی خدمت کر رہا ہے اسی طرح آسمانی فرشتے بھی کچھ امور حیات انجام دینے پہ لگے ہیں تو عبادات کرنے والے انسانوں کے لیے دعاؤں پہ مامور ہیں۔
ظاہری و باطنی نعمتیں :
پھر اس نے تمام ظاہری و باطنی نعمتوں سے انسان کو نوازا ہے ظاہری…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی انہوں نے اپنی خام خیالی اور وہم پرستی سے انہیں معبود بنا لیا ہے حالانکہ وہ معبود نہیں ہیں۔
11 سب اس کے مقابلے میں پست و حقیر اور اس کے تابع فرمان ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(31:30) ذلک۔ مندرجہ بالا صفات یعنی دن اور رات کا سلسلہ ۔ چاند اور سورج کی اپنے اپنے متعین مدار میں گردش۔
بان اللہ۔ یہ مظاہر اسی سبب سے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات برحق ہے۔ بالفاظ صاحب تفسیر ماجدی۔ واضب الوجود صرف اسی کی ذات ۔ وجود حقیقی صرف اسی ذات کا صفات علو و کبر یائی سے متصف صرف وہی ۔ معبودیت والوہیت کا مستحق صرف وہی۔
العلی : علو سے مشتق ہے العلو کسی چیز کے بلند ترین حصہ کو کہتے ہیں یہ سفل کی ضد ہے۔ علا یعلو علو (باب نصر) بلند ہونا۔ عالی (صفت فاعلی) بلند۔ علا (فعل) کا استعمال زیادہ تر کسی جگہ کے یا جسم کے بلند ہونے پر ہوتا ہے۔ مثلاً عالیہم ثیاب سندس (76:21) ان کے بدنوں پر دیبا کے کپڑے ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
لغات القرآن آیت نمبر (25 تا 30)
سالت (تو نے پوچھا۔ سوال کیا) ۔ یقولن (وہ ضرور کہیں گے) ۔ ابحر (بحر) (سمندر) ۔ کلمات اللہ (اللہ کی باتیں) ۔ مانفدت (ختم نہیں ہوئی (ختم نہ ہوں گی) ۔ بعث (دوبارہ اٹھانا) ۔ یولج (وہ داخل کرتا ہے) ۔
تشریح آیت نمبر (25 تا 30) ۔ ” جو لوگ اللہ کی ذات، صفات، قدرت اور کمالات کا انکار کرتے ہیں اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان اور ان میں بسنے والی مخلوق کو کس نے پیدا کیا ہے تو ان کے منہ سے بےساختہ یہی نکلے گا کہ اللہ نے پیدا کیا ہے۔ ضمیر کی اس سچی اور پر خلوص آواز کے باوجود جب عبادت کرنے اور سر جھکا نے کا وقت آتا ہے تو وہ کائنات کے حقیقی خالق ومالک کو چھوڑ کر بےحققیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
توحید کابیان۔
(ف 1) اس آیت میں فرمایا دریا میں کشتیاں چلتی ہیں تاکہ تم اپنی قدرت کی نشانی دکھائے کہ دریا کہ تمہارا تابعدار بنادیا ہے یہ اس کی مہربانی ہے اگر اللہ تعالیٰ پانی میں یہ طاقت پیدا نہ کرتا کہ کشتی اٹھائے تو کبھی پانی پر کشتیاں نہ چلتیں، پھر فرمایا اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے، شکر کرنے والے کے لیے ، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کے شکرگزار ہیں اور خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور تکلیف پر صبر کرتے ہیں تو یہ صفتیں مومن کی ہیں ، ایسوں کے لیے اللہ کی قدرت کی باتوں میں بڑی نشانیاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
[15] یہ مضمون سورة کہف آیت 109 صفحہ 690 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
سمندر بہت بڑی نعمت ہے
1: سمندر پہلے صرف پانی کا ایک اٹھاہ ذخیرہ تھا اس کے بعد اس میں کشتیاں چلنے لگیں اور تجارت کے غیر معلوم دروازے کھلے اور پھر اس کو اقتصادی دنیا میں بہت بڑی اہمیت حاصل ہوگئی ۔ چناچہ آج جس کے پاس بحری قوت زیادہ ہے ۔ وہ سب سے زیادہ خوشحال ہے اور سب سے زیادہ مضبوط ہے قرآن حکیم نے آج سے چودہ سو سال پیشتر سمندر کی سیاسی اور اقتصادی اہمیت کا ان الفاظ میں ذکر کیا ہے کہ ان فی ذالک لایات لکل صبار شکور کو سمندر کے فوائد ان لوگوں پر ظاہر ہوں گے جو مصائب کو برداشت کرینگے اس کی مواج اور متلاطم لہروں سے متصادم ہوجانے کی سکت رکھتے ہوں ۔ اس کی گہرائیوں اور وسعتوں سے ڈر نہ جائیں جو اس کے…
Read the full tafseer →30۔ عالم علوی کے یہ سب تصرفات اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ثابت اور حق ہے اور جن چیزوں کی یہ مشرک عبادت کرتے ہیں اور جن کو پکارتے ہیں وہ سراسر باطل اور لچر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے عالی شان اور سب سے بڑا ہے۔ یعنی وہی حق اور واجب الوجود ہے اور جن چیزوں کی اس کی الوہیت میں شریک کیا جا رہا ہے وہ سراسر پوچ اور لچر ہیں اور ان تمام تصرفات میں اسکا کوئی شریک نہیں ہے اور وہی سب سے بلند اور بڑا ہے آگے اور اس کی توحید اور اس کی قدرت کی نشانیاں مذکور ہیں۔
Read the full tafseer →ف 4۔ اس لئے یہ سب تصرفات اس کے ساتھ مختص ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ کی پکار حق ہے اور غیر اللہ کی باطل ‘ اللہ ہی کی ذات العلی الکبیر ہے :
30۔ اللہ تعالیٰ ہی کی وہ ذات ہے جس کا علم محیط ‘ قدرت کامل ‘ اس کی حکمت بالغہ اور اس کی رحمت بےپایاں اور اس کی فکر بہت عمیق ہے اور بلاشبہ اس کی جلوہ طرازیاں اس بات کی تصدیق کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات حق ہے ‘ اس کی قدرت حق ہے ‘ اس کی کبریائی اور عظمت وبڑائی حق ہے ‘ اس کی دانش وفکر حق ہے اور صرف وہی معبود حق ہے اور اس کی ذات کے علاوہ لوگ جس جس کو بھی الہ اور معبود ‘ حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہیں اور جس جس کی بھی وہ عبادت کرتے ہیں ‘ جس جس کو بھی ملجاوماوی سمجھتے ہیں وہ بلاشبہ باطل ہے جس کے لئے کوئی دلیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
Commentary
In the first of the two verses cited above, the address is to common people, believing and disbelieving both. They have been served with a notice that they will face Allah and be accountable before Him for their deeds on the day of Judgment and that they should be prepared for it. It was said: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ( O people, fear your Lord - 33). At this place, the text has not gone by the name of Allah Ta'ala or His some other attribute. Instead of that, it has elected to mention the attribute of Rabb (master, sustainer of all, usually translated as Lord with…
Read the full tafseer →52 That is, the real Sovereign is Allah. He alone is the real Owner of power and authority over the creation and its disposal.
53 That is, "They are figments of your own imagination. You have yourselves presumed that so-and-so has got a share in Godhead, and so-and-so has been given the powers to remove hardships and fulfil needs, whereas in fact none of them has any power to make or un-make anything."
54 That is, 'He is the Highest of aII before Whom everything is low, and He is the Greatest of aII before Whom everything is small".
Read the full tafseer →