Explained with ayahs 28–29
اس کے سامنے پر چیز حقیر وپست ہے
رات کو کچھ گھٹا کر دن کو کچھ بڑھانے والا اور دن کو کچھ گھٹاکر رات کو کچھ بڑھانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جاڑوں کے دن چھوٹے اور راتیں بڑی گرمیوں کے دن بڑے اور راتیں چھوٹی اسی کی قدرت کا ظہور ہے سورج چاند اسی کے تحت فرمان ہیں۔ جو جگہ مقرر ہے وہیں چلتے ہیں قیامت تک برابر اسی چال چلتے رہیں گے اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہوسکتے۔ بخاری ومسلم میں ہے حضور ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ سے دریافت کیا کہ جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ نے فرمایا یہ جاکر اللہ کے عرش کے نیچے سجدے میں گرپڑتا ہے اور اپنے رب سے اجازت چاہتا ہے قریب ہے کہ ایک…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 50
یعنی رات اور دن کا پابندی اور باقاعدگی کے ساتھ آنا خود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ سورج اور چاند پوری طرح ایک ضابطہ میں کسے ہوئے ہیں۔ سورج اور چاند کا ذکر یہاں محض اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ دونوں عالم بالا کی وہ نمایاں ترین چیزیں ہیں جن کو انسان قدیم زمانے سے معبود بناتا چلا آ رہا ہے اور آج بھی بہت سے انسان انہیں دیوتا مان رہے ہیں۔ ورنہ درحقیقت زمین سمیت کائنات کے تمام تاروں اور سیاروں کو اللہ تعالیٰ نے ایک اٹل ضابطے میں کس رکھا ہے جس سے وہ یک سر مو ہٹ نہیں سکتے۔
سورة لقمن حاشیہ 51
یعنی ہر چیز کی جو مدت عمر مقرر کردی گئی ہے اسی وقت تک وہ چل رہی ہے۔ سورج ہو یا چاند، یا کائنات کا کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
(آیت) ولو ان ما فی الارض من شجرة اقلام، اس آیت میں حق تعالیٰ نے اپنی معلومات اور اپنی قدرت کے تصرفات اور اپنی نعمتوں کی ایک مثال دی ہے کہ وہ غیر متناہی ہیں۔ نہ کسی زبان سے، وہ سب ادا ہو سکتے ہیں نہ کسی قلم سے سب کو لکھا جاسکتا ہے۔ مثال یہ فرمائی کہ ساری زمین میں جتنے درخت ہیں اگر ان سب شاخوں کے قلم بنا لئے جائیں اور ان کے لکھنے کے لئے سمندر کو روشنائی بنادیا جائے اور یہ سب قلم حق تعالیٰ کی معلومات اور تصرفات قدرت کو لکھنا شروع کریں تو سمندر ختم ہوجائے گا اور معلومات و تصرفات ختم نہ ہوں گے۔ اور ایک سمندر نہیں اس جیسے سات سمندر اور بھی شامل کردیئے جائیں، جب بھی سب سمندر ختم ہوجائیں گے لیکن اللہ…
Read the full tafseer →الم تران اللہ یولج الیل فی النھار ویولج النھار فی الیل وسخر الشمس والقمر کل یجری الی اجل مسمی وان اللہ بما تعملون خبیر (29)
اوپر آیت 20 میں ’ الم تروا ‘ جمع کے صیغہ سے اپنی آیات کی طرف توجہ دلائی تھی یہاں ’ الم تر ‘ واحد کے صیغہ سے توجہ دلائی ہے۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ ’ الم تر ‘ کا خطاب جمع کے لئے بھی آتا ہے۔ اس صورت میں گویا مخاطب گروہ کے ایک ایک شخص کو فرداً فرداً توجہ دلائی جاتی ہے اور اس میں جمع کے مقابل میں زیادہ زور ہوتا ہے۔
فرمایا کہ یہ خدا ہی کی قدرت و حکمت ہے کہ وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنا، تصویر ہے یکے بعد…
Read the full tafseer →29-1یعنی رات کا کچھ حصہ لے کر دن میں شامل کردیتا ہے، جس سے دن بڑا اور رات چھوٹی ہوجاتی ہے جیسے گرمیوں میں ہوتا ہے، اور پھر دن کا کچھ حصہ لے کر رات میں شامل کردیتا ہے، جس سے رات بڑی اور دن چھوٹا ہوجاتا ہے جیسے سردیوں میں ہوتا ہے۔
29-2' مقررہ وقت تک ' سے مراد قیامت تک ہے یعنی سورج اور چاند کے طلوع و غروب کا نظام، جس کا اللہ نے ان کو پابند کیا ہوا ہے قیامت تک یوں ہی قائم رہے گا۔ دوسرا مطلب ہے کہ ایک متعینہ منزل تک، یعنی اللہ نے ان کی گردش کے لیے ایک منزل اور ایک دائرہ متعین کیا ہوا ہے جہاں ان کا سفر ختم ہوتا ہے اور دوسرے روز پھر وہاں سے شروع ہو کر پہلی منزل پر آکر ٹھہر جاتا ہے ایک حدیث سے بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–34
14: یعنی الحمد للہ ! ان لوگوں نے اس حقیقت کا تو اعتراف کرلیا کہ اس کائنات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس سے جو کھلا ہوا نتیجہ نکالنا چاہیے تھا کہ جب یہ کائنات تنہا اسی نے پیدا کی ہے تو عبادت کے لائق بھی تنہا وہی ہے، اس کے نتیجے تک پہنچنے کے لیے انہوں نے سمجھ سے کام نہیں لیا، اور اپنے باپ دادوں کی تقلید میں شرک اختیار کیے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
الم تر ان اللہ ۔۔۔۔۔۔ وان اللہ ھو العلی الکبیر (29 – 30)
رات کا دن میں داخل ہونا اور دن کا رات میں داخل ہونا ، ان کا باہم متضاد ہونا اور مختلف موسموں میں ان کا لمبا اور چھوٹا ہونا ایک عجیب منظر ہے۔ لیکن سالوں سے اسے دیکھتے چلے جانا اور بار بار ایسا ہونا انسانوں کو اس سے مانوس کردیتا ہے اور اکثریت اس اعجوبے کو دیکھتے ہوئے بھی اس کو محسوس نہیں کرتی۔ حالانکہ وہ نہایت ہی باریکی کے ساتھ اور کڑے نظم کے ساتھ واقعہ ہو رہا ہے اور اس میں سیکنڈ کا فرق بھی نہیں آتا۔ اس میں کوئی خلل نہیں آتا۔ کبھی ایک بار بھی۔ یہ مسلسل دوران زمین اور دوران کر ات ، جس میں کوئی کرہ اپنے مدار سے نہ ادھر ادھر ہوتا ہے اور نہ…
Read the full tafseer →1 " مقرر وقت " سے قیامت مراد ہے یا چاند سورج میں سے ہر ایک کا دورہ کیونکہ ایک دورہ پورا ہونے کے بعد گویا از سر نو چلنا شروع کرتے ہیں۔
2 یعنی جو قوت رات کو دن اور دن کو رات کرتی اور چاند سورج جیسے کرّات عظیمہ کو ادنیٰ مزدور کی طرح کام میں لگائے رکھتی ہے۔ اسے تمہارا مرے پیچھے زندہ کردینا کیا مشکل ہوگا۔ اور جب ہر ایک چھوٹے بڑے عمل سے پوری طرح باخبر ہے تو حساب کتاب میں کیا دشواری ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 29 اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ ”
اس مفہوم کے اعتبار سے اس کی مثال تسبیح کے دانوں کی سی ہے ‘ یعنی قدرت الٰہی سے دن اور رات کی ترتیب ایک ڈوری میں پروئے گئے سیاہ اور سفید رنگ کے دانوں کی سی ہے کہ ایک سیاہ اور ایک سفید دانہ باری باری چلے آ رہے ہیں۔ ان الفاظ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں۔ یعنی دن جب گھٹتا ہے تو رات اس کے کچھ حصے پر قابض ہوجاتی ہے گویا وہ اس میں داخل ہوجاتی ہے۔ اور اسی طرح جب رات گھٹتی ہے تو اس کے کچھ حصے پر دن قبضہ encroachment کرلیتا ہے۔
Read the full tafseer →37 اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کا ذکر فرمایا تو ساتھ ہی سورج اور چاند کا بھی ذکر فرما دیا۔ سورج کا تعلق دن کے اوقات سے ہے اور چاند کا رات کے اوقات سے اور یہی دو سیرے ہیں جو اہل زمین کو سب سے زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔ اور اکثر ادوار میں ان دونوں کی ہی پوجا اور عبادت کی جاتی رہی ہے۔ اور ان دونوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسے کام پر لگا دیا ہے جس سے وہ سرمو سرتابی نہیں کرسکتے۔ قابل غور و فکر بات یہ ہے کہ اللہ کی جو مخلوق اپنے کام میں اس طرح جکڑی ہوئی ہو۔ کیا وہ معبود ہونے کی اہلیت رکھتی ہے ؟ جو چیز اپنے اختیار سے نہ ایک لمحہ آگے پیچھے رہ سکتی ہے اور نہ ایک انچ ادھر ادھر سرک سکتی ہے، ایسی بےاختیار مخلوق…
Read the full tafseer →31۔ یعنی تصرفات تکوینی تمامتر اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اور علم بھی اس کا کامل، محیط وہمہ گیر ہے۔ (آیت) ” الی اجل مسمی “۔ یعنی یوم قیامت تک۔ یہاں گویا ضمنا بھی بتلادیا کہ دنیا کے موجودہ نظام تکوینی کی مدت عمر قیامت تک ہے۔ اس کے بعد ایک دوسرے ہی نظام کا دور شروع ہوگا (آیت) ” یولج ..... القمر “۔ سیاہ رات اور روشن دن اور سورج اور چاند سب اسی قادر مطلق کی مخلوق ومصنوع ہیں اور ان سب کے تصرفات اسی کے حکم ومشیت کے محکوم ہیں، پھر یہ کیسی حماقت وسفاہت ہے کہ انہیں کو دیوی، دیوتا قرار دے کر معبود فرض کرلیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
آیت نمبر 20 تا 30
ترجمہ : اے مخاطبو ! کیا تم اس بات کو نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں یعنی سورج اور چاند اور ستارے تاکہ تم ان سے فائدہ حاصل کرو اور ان چیزوں کو جو زمین میں ہیں، پھل اور نہریں اور جانور (وغیرہ) اور تم کو اپنی ظاہری نعمتیں اور وہ حسن صورت اور تناسب اعضاء وغیرہ وغیرہ ہیں، اور باطنی (نعمتیں) (اور) وہ معرفت (الہٰی) وغیرہ ہے بھر پور دے رکھی ہیں اور کچھ لوگ یعنی اہل مکہ ایسے بھی ہیں کہ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور رسول کی جانب سے بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے کہ جس کو اللہ نے نازل کیا ہو، جھگڑتے ہیں بلکہ تقلید…
Read the full tafseer →الم تر ان اللہ یولج الیل فی النھار ویولج النھار فی الیل وسخر الشمس والقمر کل یجری
الی اجل مسمی . کیا آپ کو نہیں معلوم کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور سورج و چاند کو اس نے فرماں بردار بنا رکھا ہے ‘ ہر ایک مقررہ وقت تک چلتا رہے گا۔ یعنی روز قیامت تک۔
وان اللہ بما تعملون خبیر . اور (کیا تم کو نہیں معلوم) کہ اللہ بلاشبہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔
Read the full tafseer →اے مخاطب کیا تم یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن سے بڑا کرتا ہے کہ رات پندرہ گھنٹے کی ہوجاتی ہے اور دن صرف نو ہی گھنٹے کا ہوتا ہے اور دن کو رات سے بڑا کرتا ہے کہ دن پندرہ گھنٹے کا اور رات نو گھنٹے کی ہوجاتی ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے ہر ایک وقت مقررہ تک اپنی مقررہ منزلوں میں چلتا رہے گا اور جو کچھ تم نیکی یا برائی کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کی پوری خبر رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُوْ لِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (27) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے تمام انسانوں کو پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک جان کو پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا۔ تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ جب دن بڑھنے لگتے ہیں تو ہر روز رات کا ایک حصہ دن میں شامل ہوجاتا ہے، پھر سردیوں کی آمد کے ساتھ دن کا وہی حصہ رات میں شامل ہوتا جاتا ہے۔ دن کو رات اور رات کو دن کا حصہ بنا دینے والے کے لیے تمہاری موت کے بعد حیات بالکل معمولی بات ہے۔ یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ وہ رات کی تاریکی کو دن کی روشنی پر اور دن کی روشنی کو…
Read the full tafseer →آیت الم تر ان اللہ الخ اس بارے میں گفتگو سورة الحج اور سورة آل عمران میں گزرچکی ہے۔ وسخر الشمس والقمر اوقات کا اندازہ لگانے اور منافع کی تکمیل کے لیے طلوع و غروب کے ساتھ انہیں مسخر کرایا (2) ۔ کل یجری الی اجل مسمی حضرت حسن بصری نے کہا : مراد یوم قیامت ہے (3) ۔ قتادہ نے کہا : اجل مسمی سے مراد اس کے طلوع و غروب کا وقت ہے نہ اس سے تجاوز کرتا ہے اور نہ اس سے پہلے طلوع و غروب ہوتا ہے (4) ۔ وان اللہ بماتعملون خبیر یعنی جو ان چیزوں پر قادر ہے تو ضروری ہے کہ وہ ان چیزوں کو جاننے والا ہو اور ان اشیاء کو جاننے والا تمہارے اعمال کا جاننے والا ہو۔ عام قراءت تعلمون تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ ہے۔ سلمی، نصر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ماخلقکم ولا بعثکم ال اکنفس واحدۃ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے فرمائیں گے ہوجا پس وہ ہوجائے گا تھوڑا ہو یا زیادہ۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ماخلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا پہلی بار سارے لوگوں کا پیدا کرنا اور ان کا دوبارہ زندہ کرنا ایک جان کے پیدا کرنے اور اس کو دوبارہ زندہ کرنے کی طرح ہے اور فرمایا آتی الم تر ان اللہ یولج الیل کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ داخل کرتا ہے رات کو دن یعنی رات کا کم ہونا اور دن کا زیادہ ہونا آیت…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ [کیا تو نے غور نہیں کیا ] اَنَّ اللّٰهَ [کہ اللہ ] يُوْ لِجُ [گھساتا ہے ] الَّيْلَ فِي النَّهَارِ [رات کو دن میں ] وَيُوْ لِجُ [اور وہ گھساتا ہے ] النَّهَارَ فِي الَّيْلِ [دن کو رات میں ] وَسَخَّــرَ [اور اس نے مسخر کیا ] الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۡ [سورج کو اور چاند کو ] كُلٌّ [سب کے سب ] يَّجْرِيْٓ [رواں رواں ہیں ] اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى [ایک معین (خاتمے کے) وقت کی طرف ] وَّاَنَّ اللّٰهَ [اور یہ کہ اللہ ] بِمَا [اس سے جو ] تَعْمَلُوْنَ [تم کرتے ہو ] خَبِيْرٌ [باخبر ہے ] ۔
نوٹ۔ 1: الی اجل مسمی کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کی جو مدت عمر مقرر کردی گئی ہے اس وقت تک وہ چل رہی ہے۔ سورج ہو یا…
Read the full tafseer →اس کے بعد ارشاد فرمایا (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ ) (الآیۃ) اے مخاطب کیا تو اس کو نہیں دیکھتا کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے (یہ سب نظروں کے سامنے ہے) اور اس کے علاوہ کسی کو بھی اس تصرف پر قدرت نہیں ہے اور اسی نے چاند اور سورج کو مسخر کیا ہے ان دونوں کو جس کام میں لگایا ہے اس کے کرنے پر مجبور ہیں، ان کے لیے جو محور مقرر فرمایا ہے اسی پر چلتے رہتے ہیں ایک سرمواس سے ہٹ نہیں سکتے، ان کے لیے جو اللہ تعالیٰ نے ایک اجل مقرر فرما دی ہے اسی اجل تک چل رہے ہیں، اپنی ذات میں ان کا اپنا ذاتی کوئی تصرف نہیں۔ (وَّ اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ) (اور تم جو کچھ عمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–32
ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…
Read the full tafseer →28:۔ الم تر الخ، یہ توحید پر چھٹی دلیل ہے۔ یعنی یہ حقیقت اس قدر واضح اور روشن ہے کہ اسے ہر کس و ناکس جانتا ہے کہ یہ سارا نظام عالم (نظام شمسی) اللہ کے اختیار و تصرف میں ہے۔ دن کے بعد رات، رات کے بعد دن، دن رات میں کمی بیشی، سورج اور چاند کا طلوع و غروب ہر ایک کا ایک معین اور مقرر پروگرام کے مطابق چلنا یہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے جب سارا نظام کائنات اس کے تصرف میں ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر بھی ہے اور کوئی چیز اس کے تصرف و اختیار اور اس کے علم سے باہر نہیں تو لامحالہ اس کے سوا کارساز اور معبود بھی کوئی نہیں وہ سارے جہان کا کارساز ہے اور ہر قسم کی عبادت اور دعاء کا مستحق بھی وہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر اللہ تعالیٰ کی توحید اور ب عث بعد الموت کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے ، چناچہ سورة کے آغاز میں قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت اور ا اس کے واحی الٰہیہونے کا بیان تھا۔ پھر حضرت لقمان (رح) کی بعض نصیحتوں کا ذکر ہوا جن میں سرفہرست شرک کی تردید ہے ، اس کے بعد توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے ، نیز یہ بھی کہ مشرکوں کے پاس نہ کوئی عقلی دلیل ہے ، نہ کسی نبی یا بزرگ کا قول اور نہ کوئی روشن کتاب ہے جس سے وہ کفر یہ اور شرکیہ عقائد کو ثابت کرسکیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا ذکر ہوا ،۔ اور یہ بھی کہ شیطان لوگوں کو گمراہ کرتا ہے ۔ اکثر لوگ اپنے ابائو اجداد…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّہَارِ وَيُوْلِجُ النَّہَارَ فِي الَّيْلِ وَسَخَّــرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ 0 ۡكُلٌّ يَّجْرِيْٓ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّاَنَّ اللہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ 29
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ […
Read the full tafseer →الم تر ان اللہ یہاں سے اپنی قدرت کاملہ اور علم پر اور دلیل قائم کرتا ہے کہ وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں گھسا دیتا ہے۔ آفتاب اور ماہتاب اس کے حکم پر چلتے ہیں اور وہ تمہارے سب کاموں سے واقف ہے،
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ وَسَخَّرَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ز کُلٌّ یَّجْرِیْٓ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّاَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ (لقمان : 29)
(کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ ہی ہے جو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے، ہر ایک گردش کرتا ہے ایک مقررہ وقت تک، اور یہ کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ )
چند مزید نشانیوں کی طرف اشارہ
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی مزید چند نشانیوں کو ذکر فرمایا گیا ہے اور اس کے لیے استفہامیہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جو ” اللہ “ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا اور نکالتا ہے کیا وہ انسان کو مٹی سے دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟
اللہ تعالیٰ انسان کو باربار اپنی قدرتوں کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اے انسان دیکھ اور غور کر کہ جس زمین پر تیرا بسیرا اور جس آسمان کے نیچے تیرا ڈیرہ ہے۔ جس لیل ونہار پر تیری زندگی کا انحصا رہے اور جس شمس وقمر کے آنے جانے پر تیری زندگی کے رات دن بنتے ہیں۔ غور کر کہ کبھی رات کا کچھ حصہ دن میں ضم ہوجاتا ہے اور کبھی دن رات میں کئی کئی گھنٹے گم ہوجاتی ہے۔ سورج کو دیکھ کہاں سے نکلتا ہے اور کہاں غروب ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ اب چاند پر توجہ کر کہ وہ پندرہ راتیں کہاں غائب…
Read the full tafseer →29: اَلمْ تَرَانَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِیْ النَّہَارِ (اے مخاطب کیا تجھے یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے) رات کی ظلمت کو ضوئِ نہار میں داخل کردیتا ہے جبکہ رات آتی ہے۔ وَ یُوْلِجُ النَّہَارَ فِیْ الَّیْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ (اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے اور اس نے شمس و قمر کو کام میں لگا دیا) بندوں کے منافع کیلئے۔ کُلّ (سورج و چاند میں سے ہر ایک) یَّجْرِیْ (اپنے مدار میں چل رہا ہے) اور اس کو طے کر رہا ہے۔ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی (ایک مدت مقررہ کیلئے) قیامت کے دن تک یا وقت معلوم تک جیسے سورج سال بھر کیلئے اور چاند ہر مہینہ کے آخر تک وَّ اَنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
تفسیر 28۔ ، ماخلقکم ولا بعشکم الاکنفس واحدۃ، یعنی تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا اور اسی سے پیدا کیا اس پر کوئی چیز متعذ ر نہیں ۔ ، ان اللہ سمیع بصیر،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
28 تا 32۔ مطلب یہ ہے کہ ساری مخلوقات کا پیدا کرنا اور بعد مرنے کے پھر اس کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ کی قدرت کے سامنے کچھ مشکل نہیں ہے بلکہ اس کی ایسی مثال ہے جیسا کہ ایک جان پیدا کرنا اور جلانا ہے کس لیے کہ سب کا موجود کرنا فقط کن کے کہنے سے ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا انما امرہٗ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قادر مطلق جب ارادہ کرتا ہے کسی شے کا تو فرماتا ہے ہوجا وہ ہوجاتی ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ سننے والا ہے سب کے قولوں کا اور دیکھنے والا ہے سب کے عملوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ حشر کے منکر جو باتیں کرتے ہیں اور حشر کو جھٹلا کر جس طرح کے کاموں میں مصروف ہیں ان سب کی اللہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
آیت نمبر : 30 ۔ 29
اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے اپنے تصرف و تدبیر میں متفرد ہونے ‘ رات کو دن میں داخل کرنے اور دن کو رات میں داخل کرنے میں اپنی قدرت و اختیار کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب دن اور رات میں سے کوئی داخل ہوتا ہے تو دوسرا چلا جاتا ہے۔ وہ سورج اور چاند کو مسخر کرنے میں بھی متفرد ہے۔ سورج اور چاند اس کی تدبیر اور نظام کے تحٹ چل رہے ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے ‘ ان میں خلل واقع نہیں ہوا۔۔۔ تاکہ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ دین و دنیا سے متعلق اپنے بندوں کے مصالح و منافع کو پورا کرے ‘ جس سے اس کے بندے عبرت حاصل کرتے اور فائدہ حاصل کرتے ہیں۔
(کل) ” ہر ایک “ یعنی سورج اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–33
آخرت میں نسب کی بجائے عمل کام آئے گا
قول باری ہے (واخسوا یوما لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا۔ اور اس دن کا خوف رکھو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ ہوسکے گا اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی بدلہ بن سکے گا) آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی کو اس کے باپ یا نسب کے شرف کی بنا پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو چھوڑ کر کسی ایک کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔
اس مضمون میں حضور ﷺ سے روایت بھی وارد ہے۔ آپ کا ارشاد ہے (من ابطابہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ۔ جس شخص کا عمل اسے سست کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔ ) آپ نے…
Read the full tafseer →58 رات اور دن کے ادل بدل میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تم نے دیکھا اور غور نہیں کیا کہ اللہ داخل فرماتا ہے رات کو دن میں اور دن کو رات میں "۔ اور دن رات کا یہ ادلنا بدلنا ہمیشہ تمہارے سامنے رہتا ہے جس میں تمہارے لئے طرح طرح کے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں مگر تم لوگ غور و فکر سے کام نہیں لیتے۔ سو ذرا سوچو کہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے کا یہ عمل جو تمہارے سامنے لگاتار ہو رہا ہے، جسکے نتیجے میں کبھی رات بڑی کبھی دن اور کبھی اس کے برعکس۔ اور یہ عمل نہایت ہی باریکی اور انتہائی پر حکمت طریقے سے مسلسل اور لگاتار جاری ہے۔ آخر یہ کون کر رہا ہے ؟ سو رات اور دن کی آمد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
اللہ کی ربوبیت کے کرشمے
تشریح : انسان فطرتاً نیک اور مسلم پیدا ہوا ہے مگر حالات اور بدلتے ہوئے زمانے کے مطابق انسان کے عقائد، رہن سہن اور رجحانات میں تبدیلی آتی رہی اور آئندہ بھی آتی رہے گی۔ لیکن اندر سے انسان اللہ سے دور کبھی نہ ہوسکا نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی تخلیقات اس کو ہمیشہ کسی نہ کسی صورت اپنی طرف متوجہ ضرور کرتی رہتی ہیں۔ اور پھر جس میں سوجھ بوجھ پیدا ہوجائے اس کے دل میں نور ایمان بھی روشن ہوتا رہتا ہے۔ اس کی مثال ہم اس روسی خلاباز مسٹر جون ینگ (John Young) کی دے سکتے ہیں جو کہ 1981ء میں خلائی بس کو لمبیا خلائی سفر میں بھیجی گئی تھی تو اس کے دو مسافروں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
آیات 20 تا 30
کیا تم اس بات سے بیخبر ہو کہ اللہ نے سب آسمانی اور زمینی مخلوق کو تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے اور یہ بات سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت ہے کہ جس قدر ستارے یا سیارے معلوم ہوئے سب کی توجہات کا مرکز زمین ہے اور ان کی حرکات یا روشنی و گرمی سے زمین میں مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں چاند و سورج کی روشنی و گردش بھی زمین میں حیات آفرینی کی خدمت پر مامور ہے اور یہ سب کچھ انسان کی ہی خدمت کر رہا ہے اسی طرح آسمانی فرشتے بھی کچھ امور حیات انجام دینے پہ لگے ہیں تو عبادات کرنے والے انسانوں کے لیے دعاؤں پہ مامور ہیں۔
ظاہری و باطنی نعمتیں :
پھر اس نے تمام ظاہری و باطنی نعمتوں سے انسان کو نوازا ہے ظاہری…
Read the full tafseer →ف 9 اور جب قیامت آئے گی تو سب فنا ہوجائیں گے ان میں کوئی چیز ازلی اور ابدی نہیں ہے۔ ” ٹھہری ہوئی مدت “ سے مراد ان کے طلوع و غروب کا وقت بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ حضرت ابوذر کی روایت میں ہے کہ سورج جا کر اللہ کی عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور پھر اسے اجازت دی جاتی ہے کہ جہاں سے آئے ہو وہیں پلٹ جائو اجل مسمی کے یہ دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(31:30) ذلک۔ مندرجہ بالا صفات یعنی دن اور رات کا سلسلہ ۔ چاند اور سورج کی اپنے اپنے متعین مدار میں گردش۔
بان اللہ۔ یہ مظاہر اسی سبب سے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات برحق ہے۔ بالفاظ صاحب تفسیر ماجدی۔ واضب الوجود صرف اسی کی ذات ۔ وجود حقیقی صرف اسی ذات کا صفات علو و کبر یائی سے متصف صرف وہی ۔ معبودیت والوہیت کا مستحق صرف وہی۔
العلی : علو سے مشتق ہے العلو کسی چیز کے بلند ترین حصہ کو کہتے ہیں یہ سفل کی ضد ہے۔ علا یعلو علو (باب نصر) بلند ہونا۔ عالی (صفت فاعلی) بلند۔ علا (فعل) کا استعمال زیادہ تر کسی جگہ کے یا جسم کے بلند ہونے پر ہوتا ہے۔ مثلاً عالیہم ثیاب سندس (76:21) ان کے بدنوں پر دیبا کے کپڑے ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
لغات القرآن آیت نمبر (25 تا 30)
سالت (تو نے پوچھا۔ سوال کیا) ۔ یقولن (وہ ضرور کہیں گے) ۔ ابحر (بحر) (سمندر) ۔ کلمات اللہ (اللہ کی باتیں) ۔ مانفدت (ختم نہیں ہوئی (ختم نہ ہوں گی) ۔ بعث (دوبارہ اٹھانا) ۔ یولج (وہ داخل کرتا ہے) ۔
تشریح آیت نمبر (25 تا 30) ۔ ” جو لوگ اللہ کی ذات، صفات، قدرت اور کمالات کا انکار کرتے ہیں اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان اور ان میں بسنے والی مخلوق کو کس نے پیدا کیا ہے تو ان کے منہ سے بےساختہ یہی نکلے گا کہ اللہ نے پیدا کیا ہے۔ ضمیر کی اس سچی اور پر خلوص آواز کے باوجود جب عبادت کرنے اور سر جھکا نے کا وقت آتا ہے تو وہ کائنات کے حقیقی خالق ومالک کو چھوڑ کر بےحققیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
توحید کابیان۔
(ف 1) اس آیت میں فرمایا دریا میں کشتیاں چلتی ہیں تاکہ تم اپنی قدرت کی نشانی دکھائے کہ دریا کہ تمہارا تابعدار بنادیا ہے یہ اس کی مہربانی ہے اگر اللہ تعالیٰ پانی میں یہ طاقت پیدا نہ کرتا کہ کشتی اٹھائے تو کبھی پانی پر کشتیاں نہ چلتیں، پھر فرمایا اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے، شکر کرنے والے کے لیے ، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کے شکرگزار ہیں اور خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور تکلیف پر صبر کرتے ہیں تو یہ صفتیں مومن کی ہیں ، ایسوں کے لیے اللہ کی قدرت کی باتوں میں بڑی نشانیاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
[15] یہ مضمون سورة کہف آیت 109 صفحہ 690 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
سمندر بہت بڑی نعمت ہے
1: سمندر پہلے صرف پانی کا ایک اٹھاہ ذخیرہ تھا اس کے بعد اس میں کشتیاں چلنے لگیں اور تجارت کے غیر معلوم دروازے کھلے اور پھر اس کو اقتصادی دنیا میں بہت بڑی اہمیت حاصل ہوگئی ۔ چناچہ آج جس کے پاس بحری قوت زیادہ ہے ۔ وہ سب سے زیادہ خوشحال ہے اور سب سے زیادہ مضبوط ہے قرآن حکیم نے آج سے چودہ سو سال پیشتر سمندر کی سیاسی اور اقتصادی اہمیت کا ان الفاظ میں ذکر کیا ہے کہ ان فی ذالک لایات لکل صبار شکور کو سمندر کے فوائد ان لوگوں پر ظاہر ہوں گے جو مصائب کو برداشت کرینگے اس کی مواج اور متلاطم لہروں سے متصادم ہوجانے کی سکت رکھتے ہوں ۔ اس کی گہرائیوں اور وسعتوں سے ڈر نہ جائیں جو اس کے…
Read the full tafseer →29۔ اے مخاطب کیا تجھ کو یہ بات معلوم نہیں اور تو نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے اور مسخرکر رکھا ہے کہ ان میں سے ہر ایک مقررہ وقت تک چلتا رہے گا اور نیز یہ بات کہ جو کام تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان تمام کاموں سے با خبر ہے۔ یعنی رات کے اجزاء کو دن بنا دیتا ہے اور دن کے اجزاء کو رات میں داخل کردیتا ہے جس سے سردی اور گرمی ہوتی ہے ، سورج اور چاند دونوں مسخر ہیں اور کام میں لگے ہوئے ہیں اور ان کی تسخیر اور ان کا چلنا ایک مقررہ وقت رہے گا یہ دلیل بھی توحید کی ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) نے الی اجل…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی قیامت تک۔
Read the full tafseer →وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے والا ہے ‘ کائنات میں اسی کا تصرف ہے :
29۔ اے مخاطب ! کیا تو نے نہیں دیکھا اور کبھی غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح دن کو رات میں اور رات کو دن میں داخل کرتا رہتا ہے اور ان دونوں کو گھٹاتا بڑھاتا رہتا ہے اور پھر ان کا کم وبیش ہونا ساری دنیا کے اندر یکساں بھی نہیں ہوتا ‘ موسموں میں تغیر وتبدل بھی ہوتا ہے اور پوری دنیا میں موسموں کی یکسانیت بھی نہیں ہوتی اور پھر یہ کمی بیشی بدستور ایک جیسی ہے اس میں ذرا فرق نہیں آتا اتنی بڑی زمین اور زمین سے کئی گنا بڑا سورج لیکن اس کمی بیشی کی مقدار پر غور کرو کہ وہ ہر روز کس مقدار سے ہے پھر اس مقدار میں کبھی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
Commentary
In the first of the two verses cited above, the address is to common people, believing and disbelieving both. They have been served with a notice that they will face Allah and be accountable before Him for their deeds on the day of Judgment and that they should be prepared for it. It was said: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ( O people, fear your Lord - 33). At this place, the text has not gone by the name of Allah Ta'ala or His some other attribute. Instead of that, it has elected to mention the attribute of Rabb (master, sustainer of all, usually translated as Lord with…
Read the full tafseer →50 That is, "The appearance and alternation of the day and night consistently and regularly by itself shows that the sun and the moon have been subjected to a system. " The sun and the moon have been mentioned here in particular because both these are the most prominent bodies of the heaven, which man has been worshipping as deities since the earliest times, and which many people worship as gods even today. The fact, however, is that Allah has bound aII the stars and planets of the universe including the earth into an unalterable system from which they cannot deviate even by an inch.
51 That…
Read the full tafseer →