Ayah 31:2تلک ایت الکتب الحکیم . یہ حکمت والی کتاب کی آیات ہیں۔ حَکِیْمِ حکمت والی ‘ یا حقیقت میں حکیم اللہ ہے اور کتاب کی طرف اس کی نسبت مجازاً کی گئی ہے۔
Ayah 31:3ھدی ورحمۃ للمحسنین۔ جو کہ ہدایت و رحمت ہے نیکوکاروں کے لئے
Ayah 31:4الذین یقیمون الصلٰوۃ ویؤتون الزکوٰۃ وھم بالاخرۃ ھم یوقنون . جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ‘ ایسی حالت میں کہ آخرت پر وہ پورا پورا یقین رکھتے ہیں۔
اَلَّذِیْنَ سے آخر تک احسان کا بیان ہے ‘ یا یوں کہا جائے کہ اقامت صلوٰۃ ‘ ادائے زکوٰۃ اور یقین آخرت احسان کی اہم شاخیں ہیں اس لئے صراحت کے ساتھ خاص طور پر ان کا ذکر کردیا۔
ھُمْ ضمیر کی تکرا رمفید تاکید ہے۔
Ayah 31:5اولئک علی ھدی من ربم واولئک ھم المفلحون . یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے (نازل
شدہ) ہدایت پر ہیں اور یہ ہی (کامل طور پر ‘ مترجم) کامیاب ہونے والے ہیں کیونکہ ان کے عقائد بھی صحیح ہیں اور اعمال بھی صالح ہیں۔
جویبر نے حضرت ابن عباس کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ نضر بن حارث نے ایک مغنیہ خریدی تھی ‘ جب وہ سنتا کہ کوئی شخص مسلمان ہونے کا خواہشمند ہے تو جا کر اس کو مغنیہ کے پاس لے آتا اور باندی سے کہتا کہ اس کو کھلا پلا اور گانا سنا ‘ پھر اس شخص سے کہتا کہ محمد تو تم کو نماز پڑھنے ‘ روزہ رکھنے اور اپنی ہمراہی میں لڑنے کا حکم دیتے ہیں اور اسی کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ چیزیں (جن کی دعوت میں تم کو دے رہا ہوں) اس کی دعوت سے بہتر ہیں۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 31:6ومن الناس من یشتری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم . اور بعض آدمی ایسا
بھی ہے جو اللہ سے غافل بنا دینے والی باتوں کو خریدتا ہے تاکہ اللہ کی راہ سے بےسمجھے بوجھے گمراہ کر دے۔
لَھْوَ الْحَدِیْثِ یعنی بےاصل ‘ غلط سلط قصے ‘ غیر معتبر داستانیں ‘ بےہودہ باتیں اور ہنسانے والا لغو کلام جو مفید باتوں سے باز رکھتا ہے۔ لَھْوَ الْحَدِیْثِ میں اگر حدیث سے مراد ہو بری بات تو اضافت بیانہ ہوگی ‘ اور اگر حدیث سے عام باتیں مراد ہوں ‘ اچھی ہوں یا بری تو اضافت تبعیضیہ ہوگی۔
ابن جریر نے بروایت عوفی حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول ایک قریشی شخص کے حق میں ہوا جس نے ایک مغنیہ باندی خریدی تھی۔
بغوی نے حضرت ابو سلمہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : گانے والے عورتوں کو (گانے کی) تعلیم دینا جائز نہیں اور ان کی قیمت حرام ہے (یعنی ان کو فروخت کرنا ناجائز ہے) اور ایسے ہی شخص کی بابت آیت وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ الخ نازل ہوئی ہے۔ جو آدمی گانے کے لئے آواز اٹھاتا ہے ‘ اللہ دو شیطان اس پر مسلط کردیتا ہے ‘ ایک اس مونڈھے پر اور دوسرے اس مونڈھے پر بیٹھے اپنی لاتیں اس وقت تک اس پر مارتے رہتے ہیں جب تک وہ خود ہی خاموش نہ ہوجائے۔ ترمذی وغیرہ نے حضرت ابوامامہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : گانے والی باندیوں کو نہ بیچو ‘ نہ خرید۔ ان کی تجارت میں کوئی بھلائی نہیں ‘ ان کی قیمت حرام ہے اور ایسے ہی شخص کی بابت آیت وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ نازل ہوئی۔
بغوی نے مقاتل اور کلبی کا بیان نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول نضر بن حارث بن کلدہ کے حق میں ہوا۔ نضر تجارت کرتا تھا ‘ حیرہ کو جاتا اور وہاں سے عجمیوں کے افسانے خرید کر لاتا اور قریش سے بیان کرتا اور کہتا کہ محمد تم سے عاد وثمود کے قصے بیان کرتے ہیں اور میں رستم و اسفندیار کے قصے اور شاہان ایران کی حکایتیں بیان کرتا ہوں۔ لوگ اس کی باتیں مزے لے لے کر سنتے تھے اور قرآن سننا چھوڑ دیتے تھے ‘ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس کی روایت سے اسی طرح نقل کیا ہے۔
مجاہد نے کہا : لَھْوَ الْحَدِیْثِ سے مراد ہیں گانے والی عورتیں اور مرد۔ اس صورت میں لَھْوَ سے پہلے مضاف محذوف ہوگا ‘ یعنی کچھ لوگ لَھْوَ والیاں اور لَھْوَ والے (گانے والیاں اور گانے والے) خریدتے ہیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ کچھ لوگ قرآن چھوڑ کر گانے بجانے کے آلات اور گانے کو پسند کرتے ہیں (اس مطلب پر خریدنے سے مراد ہوگا ترجیح دینا) مکحول کا قول ہے کہ جس نے گانے بجانے کی غرض سے کسی گانے بجانے والی باندی کو خریدا اور اس پر مرتے دم تک قائم رہا ‘ اس کے جنازے کی نماز نہیں پڑھوں گا ‘ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ ۔
حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عباس ‘ حسن ‘ عکرمہ اور سعید بن جبیر کے نزدیک لَھْوَ الْحَدِیْثِ سے گانا سننا مراد ہے اور غناہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ ابو الصھباء بکری کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن مسعود سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا تو حضرت ابن عباس نے تین بار فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! یہ (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) غناء ہے۔ ابن جریج کے نزدیک لَھْوَ الْحَدِیْثِ سے طبل (ڈھول ‘ طبلہ) مراد ہے۔
میں کہتا ہوں : مورد نزول اگرچہ کوئی خاص چیز ہو ‘ غناء (گانا سننا) ہو یا عجمی قصے ‘ داستانیں لیکن الفاظ عام ہیں اور عموم الفاظ ہی قابل اعتبار ہیں اسی لئے قتادہ نے کہا کہ آیت میں ہر لہو و لعب مراد ہے اور ضحاک کے نزدیک شرک مراد ہے۔
مسئلہ : باتفاق فقہا ہر قسم کا باجا ‘ طبلہ ‘ ڈھول وغیرہ خواہ بغیر تار کے بجایا جائے یا تار کے ساتھ ‘ بہرحال حرام ہے۔ 1 حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے کتے کی قیمت اور بانسری اور بین کی کمائی سے منع فرمایا ہے ‘ رواہ البغوی۔ حضرت ابو مالک اشعری کا بیان ہے : میں نے خود سنا ہے کہ رسول اللہ فرما رہے تھے : میری امت کے کچھ لوگ شرابیں پیئیں گے اور ان کا نام کچھ اور رکھ دیں گے (عرق مقوی ‘ آب حیات ‘ سیرپ وغیرہ۔ مترجم) ان کے سامنے باجے بجائے جائیں گے اور گانے والیاں گائیں گی۔ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے گا اور بعض کو بندر اور سور بنا دے گا ‘ رواہ ابن ماجۃ۔ ابن حبان نے اس کو صحیح قرار دیا ہے ‘ اس کی اصل صحیح بخاری میں موجود ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جب میری امت پندرہ باتیں کرے گی تو اس پر مصائب کا نزول ہوگا۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کیا باتیں ہیں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا :
(1) جب مال غنیمت کو دولت سمجھ لیا جائے گا (یعنی لوگ مال غنیمت کمانے کے لئے جہاد کریں گے۔ مترجم) ۔
(2) جب امانت کے مال کو غنیمت کا مال سمجھا جائے گا۔
(3) جب زکوٰۃ کو ڈانڈ سمجھا جائے گا۔
(4) جب مرد اپنی بیوی کا فرماں بردار بن جائے گا۔
(5) اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے گا۔
(6) اور دوست سے اچھا سلوک کرے گا۔
(7) اور باپ پر ظلم کرے گا۔
(8) اور جب مسجدوں میں آوازیں اٹھنے لگیں گی۔
(9) اور سب سے رذیل آدمی قوم کا سردار بن جائے گا۔
(10) اور (شریر) آدمی کی عزت اس لئے کی جائے گی کہ اس کے شر سے حفاظت ہوجائے۔
(11) اور شراب پی جائے گی۔
(12) اور ریشمی کپڑے پہنے جائیں گے (یعنی مرد پہننے لگیں گے۔ مترجم) ۔
(13) اور گانے والیاں رکھی جائیں گی۔
(14) اور باجے ‘ ڈھولک ‘ طلبہ استعمال کئے جائیں گے۔
(15) اور پیچھے آنے والے لوگ اسلاف پر لعنت بھیجیں گے۔ ایسے وقت میں لوگوں کو سرخ آندھی اور زمین میں دھنسائے جانے کا انتظار کرنا چاہئے (ایسا ضرور ہو کر رہے گا) رواہ الترمذی وقال غریب۔
مسئلہ : فقہاء نے کہا : اس آیت کی رو سے اور دوسرے احادیث کی وجہ سے گانا سننا حرام ہے۔
صوفیاء کا قول ہے کہ جس شخص کا دل یاد الٰہی میں ہر وقت مشغول ہو ‘ ذکر خداوندی سے اس کو اطمینان حاصل ہو ‘ غیر کی طرف التفات بھی نہ ہو ‘ مجلس اغیار سے خالی ہو ‘ نماز وغیرہ کا وقت بھی نہ ہو اور گانے والا محل شہوت بھی نہ ہو ( یعنی عورت اور امراد ‘ زنانہ وغیرہ نہ ہو) ایسے شخص کے لئے نہ فقط سماع جائز ہے بلکہ مستحب ہے۔ صوفی کے دل میں چھپی ہوئی افسردہ آتش محبت سماع سے بھڑک اٹھی ہے اسی لئے لوگوں کے لئے سماع حرام ہے۔ ان کی محبت کا مرکز عورتیں ہیں یا امرد لڑکے۔ سماع سے ان کی یہ (شہوانی) محبت تیز ہوجاتی ہے اور یاد خدا سے مزید غفلت پیدا ہوجاتی ہے۔ ان لوگوں کے لئے حقیقت میں سماع لہو الحدیث ہے۔ لیکن جس کے دل میں ہر وقت محبت مولیٰ کی لو لگی ہو ‘ دل کا گوشہ غیر اللہ کی محبت سے خالی ہو اس کے لئے تو سماع محبت الٰہی کی آگ کو اور مشتعل کردیتا ہے ‘ اس لئے اس کے لئے مستحب ہے۔ 1 غناء کی ممانعت کی جو نصوص آئی ہیں ان کا جواب یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں لہو الحدیث کی حرمت آئی ہے اور صوفیاء کا سماع لہو الحدیث نہیں ہوتا۔ رہیں وہ احادیث جن سے حرمت غناء ظاہر ہوتی ہے تو وہ مخصوص البعض ہیں کیونکہ بعص دوسری احادیث میں جو از غناء آیا ہے (اس سے معلوم ہوا کہ بعض قسم کے غناء حرام ہیں اور بعض سماع جائز ہیں) اس لئے ہم کہتے ہیں کہ حرمت سماع والی حدیثوں کا مطلب لہو الحدیث والے سماع کی ممانعت ہے جو دعوت گناہ دے رہا ہو ‘ شرعی غرض کے لئے نہ ہو۔
من جملہ ان احادیث کے جن سے غماء کا جواب بلکہ دف بجانے کی بھی اباحت ظاہر ہو رہی ہے ‘ ایک وہ حدیث ہے جس کی راوی ربیع بنت معوذ بن عفراء ہیں۔ حضرت ربیع کا بیان ہے کہ میری شادی کے دن رسول اللہ تشریف لائے اور اس طرح میرے ساتھ بیٹھ گئے جیسے تم میرے قریب بیٹھے ہو۔ کچھ لڑکیاں دف بنا کر ان لوگوں کا مرثیہ گانے لگیں جو بدر کے دن مقتول ہوئے تھے۔ ایک لڑکی نے یہ مصرعہ گایا : وَفِیْنَا نَبِیٌ یَعلَمُ مَا فِی غَدٍ ہمارے اندر ایک ایسا نبی ہے جو آنے والے کل کی باتیں جانتا ہے۔ حضور ﷺ نے اس لڑکی سے فرمایا : اس کو چھوڑ ‘ جو کہہ رہی تھی وہی کہہ ‘ رواہ البخاری۔ ابن ماجہ کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس کوئی لہو (گانا بجانا) نہیں ہے ‘ ان کو لہو پسند ہوتا ہے۔ رواہ البخاری۔
حضرت عائشہ روای ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : اس نکاح کا اعلان کیا کرو اور مسجدوں میں کرو اور اس پر دف بجاؤ (یعنی خوب شہرت دو ) رواہ الترمذی وقال ہذا حدیث غریب۔
حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ میرے پاس ایک انصاری لڑکی تھی ‘ میں نے اس کا نکاح کرا دیا۔ رسول اللہ نے فرمایا : عائشہ ! کیا کوئی غناء نہیں ہے ‘ انصاریوں کا یہ قبیلہ تو غناء کو پسند کرتا ہے ‘ رواہ ابن حبان فی صحیح۔۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ نے اپنی کسی قرابتدار لڑکی کا کسی انصاری سے نکاح کرا دیا ‘ رسول اللہ اندر تشریف لائے تو فرمایا : کیا تم نے لڑکی کو رخصت کردیا ؟ حاضرین نے عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : کیا تم نے اس کے ساتھ کسی گانے والے یا گانے والی کو بھیجا ہے ؟ حضرت عائشہ نے کہا : نہیں۔ فرمایا : انصاری لوگوں کے اندر تغزل ہے (یعنی ان کو غناء پسند ہے) اگر تم لڑکی کے ساتھ کسی کو یہ گانے کے لئے بھیج دیتے اتینا کم اتینا کم فحینا وحیاکم (تو بہتر ہوتا) ہم تمہارے پاس آگئے ‘ اللہ ہم کو بھی مبارک کرے اور تم کو بھی۔ رواہ ابن ماجہ۔
عامر بن سعد راوی ہیں کہ ایک شادی میں ‘ میں شریک ہوا ‘ وہاں حضرت قرظ بن کعب اور حضرت ابو مسعود انصاری بھی موجود تھے اور لڑکیاں گا رہی تھیں۔ میں نے عرض کیا : اے رسول اللہ کے صحابہ اور اے اہل بدر ! تمہارے سامنے یہ کیا کیا جا رہا ہے ؟ دونوں نے جواب دیا : اگر تم چاہو تو بیٹھ جاؤ اور ہمارے ساتھ تم بھی سنو۔ اور اگر جانا چاہتے ہو تو چلے جاؤ ‘ ہم کو شادی میں لہو (گانا سننے) کی اجازت دے دی گئی ہے۔ حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ میرے پاس حضرت ابوبکر تشریف لائے ‘ حج (یعنی عید) کا زمانہ تھا۔ میرے پاس دو لڑکیاں بیٹھی دف بجا رہی تھیں اور رسول اللہ چہرے پر کپڑا ڈالے (لیٹے) ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر نے لڑکیوں کو جھڑکا ‘ حضور ﷺ نے چہرہ کا کپڑا کھول دیا اور فرمایا : ابوبکر ! ان کو رہنے دو ‘ یہ عید کے دن ہیں ‘ رواہ البخاری۔ ابن ماجہ کی رویت میں اتنا زائد ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ہر قوم کا تہوار ہوتا ہے اور ہمارا یہ تہوار ہے۔
حضرت عمرو بن شعیب کے دادا کی روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے نذر مانی تھی کہ (جب آپ تشریف لے آئیں گے تو اس خوشی میں) آپ کے سر پر دف بجاؤں گی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اپنی منت پوری کرلو ‘ رواہ ابو داؤد۔
اور یہ بات طے شدہ ہے کہ حضور ﷺ نے ہی فرمایا : ان کی نافرمانی کی نذر کو پورا نہ کیا جائے (اگر دف بجانا معصیت ہوتا تو آپ اجازت نہ دیتے) رواہ مسلم۔۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ جب رسول اللہ مدینہ تشریف لائے اور بنی نجار کے محلہ میں فروکش ہوئے تو بنی نجار کی لڑکیاں یہ شعر گانے اور کہنے لگیں۔
نحن حوارلنا بنی نجار یا حبذا محمدا من جار
(ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں ‘ محمد بہترین مہمان ہیں) رواہ ابن ماجہ عن انس۔
اسی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے جواب میں فرمایا : اللہ واقف ہے کہ میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔
بیہقی نے حضرت عائشہ کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ جب مدینہ تشریف لائے تو عورتیں ‘ لونڈیاں اور بچے یہ شعر گانے لگے : طلع البدر علینا من ثتیات الوداع وجب الشکر علینا مادع اللہ داع۔
وداع کی گھاٹیوں سے چودھویں کا چاند نکل آیا ہم پر اس کا شکر ادا کرنا ہمیشہ واجب ہے
اے نبی ﷺ مبعوث آپ واجب التعمیل احکام لے کر آئے۔
امام احمد نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ جب مدینہ میں تشریف لائے تو حضور ﷺ کی آمد کی خوشی میں حبشیوں نے چھوٹے چھوٹے برچھوں کا کھیل کیا۔
محمد بن حاطب جمحی راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : گانا اور نکاح میں دف بجانا حلال و حرام میں امتیاز (کی علامت) ہے ‘ رواہ احمد والترمذی ابن ماجہ و النسائی۔ 1
تقریر مذکور بالا سے ظاہر ہوگیا کہ گانا سننا اور گانا وہ حرام ہے جو گناہ کی دعوت دے رہا ہو اور اللہ کی یاد سے غافل بنا رہا ہو ‘ اگر ایسا نہ ہو تو حلال ہے حرام نہیں ہے۔ ہاں یہ بات الگ ہے کہ رسول اللہ یا صحابہ کا گانا سننا اور قربت الٰہی کے حصول کا ذریعہ قرار دینا ثابت نہیں ہے اسی لئے اکابر نقشبندیہ گانا نہیں سنتے لیکن اس کی تردید بھی نہیں کرتے۔
بِغَیْرِ عِلْمٍ (علم کا مفعول محذوف ہے ‘ مترجم) یعنی وہ نہیں جانتا کہ جس چیز کو خرید رہا ہے وہ کیسی ہے ‘ یا تجارت کی کیفیت نہیں جانتا کہ اس نے قرأت قرآن کے عوض لہو کو اختیار کیا۔ قتادہ نے کہا : یہ آدمی کی بڑی گمراہی ہے کہ حدیث حق کو چھوڑ کر وہ کلام باطل کو پسند کرے۔
ویتخذھا ھزوًا . اور اللہ کی آیات کو مذاق کی چیز بنا لے۔
اولئک لھم عذاب مھین . انہی لوگوں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
Ayah 31:7واذا علیہ ایتنا ولی مستکبرا کان لم یسمعھا کان فی اذنیہ وقرا . اور جب اس کے سامنے
ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو غرور سے پشت پھیر لیتا ہے (ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرتا) گویا اس نے آیات کو سنا ہی نہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس کے کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے۔ ڈاٹ سے مراد ہے ثقل سماعت گراں گوشی جو سننے سے روکتی ہے۔
فبشرہ بعذاب الیم . آپ اس کو دردناک عذاب کی خبر دے دیجئے۔ عَذَابٍ اَلْیمٍ کی اطلاع خوش خبری نہیں ہوتی بطور استہزا اس کو بشارت فرمایا ( مطلب یہ کہ ہر بشارت سے محروم ہے ‘ کسی بشارت کا مستحق نہیں۔ اگر اس کے لئے بشارت ہے تو بس یہی کہ وہ دردناک عذاب میں مبتلا ہوگا ‘ مترجم) ۔
Ayah 31:8ان الذین امنو وعملوا الصلحت لھم جنت النعیم۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کے لئے بلاشبہ راحت کے باغ ہوں گے جن کے اندر ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 31:9خلدین فیھا وعد اللہ حقا وھو العزیز الحکیم . اللہ نے یہ پکا وعدہ کرلیا ہے اور وہی غالب ‘ حکمت والا ہے۔
وَھُوَ الْعَزِیْزُ یعنی وہ ہی سب پر غالب ہے وعدہ ثواب اور وعید عذاب پورا کرنے سے اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔
الْحَکِیْمُ حکمت والا ہے ‘ یعنی جیسا اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے ویسا ہی کرتا ہے ‘ خلاف حکمت کچھ نہیں کرتا۔
Ayah 31:10خلق السموت بغیر عمد ترونھا والقی فی الارض رواسی ان تمیدبکم . اللہ نے آسمان
بنائے بغیر ستونوں کے جو تم کو دکھائی دیتے ہوں اور زمین میں ڈال دئیے پہاڑ کہ وہ تم کو لے کر ڈانواں ڈول نہ ہونے لگے۔ رواسی زمین میں گڑے ہوئے پہاڑ۔
وبث فیھا من کل دابۃ وانزلنا من السماء ماء فانبتنا فیھا من کل زوج کریم . اور اس میں
ہر قسم کے جانور پھیلا رکھے ہیں اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا اور پھر اس (زمین) میں ہر طرح کے عمدہ اقسام اگائے۔
Ayah 31:11ھذا خلق اللہ فارونی ماذا خلق الذین من دونہ . یہ تو اللہ کی بنائی ہوئی چیز ہیں ‘ اب تم مجھ کو دکھاؤ کہ اللہ کے سوا جو ہیں انہوں نے کیا چیز پیدا کی۔
یعنی جو کچھ تم کو دکھائی دے رہا ہے وہ تو خدا کا پیدا کردہ ہے ‘ پھر بتاؤ کہ دوسرے معبودوں نے کیا پیدا کیا کہ وہ مستحق عبادت قرار پا گئے۔
بل الظلمون فی ضلل مبین . (اور کوئی وجہ نہیں) بلکہ یہ کافر کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔
ترونھا ‘ عمد کی صفت ہے۔ ستون دکھائی نہ دینے کی دو صورتیں ہیں (1) آسمانوں کو تھامنے والا۔ کوئی سہارا ہو اور دکھائی نہ دیتا ہو (2) کوئی ستون ہی نہ ہو۔ دونوں صورتوں میں جملہ صحیح ہے۔
اللہ نے آسمانوں کی بلاستون تخلیق ‘ زمین میں پہاڑوں کے ثبات ‘ آسمان کی طرف سے بارش کے نزول اور پانی سے ہر عمدہ سبزہ کی روئیدگی کو ظاہر کر کے اپنی قدرت کاملہ اور ہمہ گیر علم پر استدلال کیا اور اس کو دعویٰ توحید کے ثبوت میں پیش کیا ‘ پھر دوسرے معبودوں کا عجز عن التخلیق ظاہر کر کے توحید کو ثابت کیا اور آخر میں مشرکوں کے گمراہ ہونے پر مہر ثبت کردی۔
Ayah 31:12ولقد اتینا لقمن الحکمۃ . اور ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی۔
بغوی نے لکھا ہے : لقمان بن باعور بن ناخور بن تارخ۔ تارخ ہی کو آزر کہا جاتا ہے۔ وہب بن منبہ نے کہا : لقمان حضرت ایوب کے بھانجے تھے۔ مقاتل نے کہا : خالہ کے بیٹے تھے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : لقمان حضرت داؤد کے زمانہ تک زندہ تھے اور فتویٰ دیا کرتے تھے لیکن حضرت داؤد کی بعثت کے بعد فتویٰ دینا چھوڑ دیا اور فرمایا : اب میری ضرورت نہیں پھر کیوں فتویٰ دینے سے باز نہ رہوں۔ واقدی نے کہا : لقمان بنی اسرائیل کے قاضی تھے۔ تفسیر در منثور میں ہے کہ ابن ابی شیبہ کی روایت ہے اور امام احمد نے الزہد میں بھی اس کو بیان کیا ہے اور کتاب المملوکین میں ابن ابی الدنیا نے بھی یہی لکھا ہے۔ نزی ابن جریر ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم کا بھی بیان ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : لقمان ایک حبشی غلام تھے ‘ جو بڑھئی کا پیشہ کرتے تھے۔ بغوی نے خالد ربعی کی روایت سے بھ یہ ہی لکھا ہے۔ مجاہد نے کہا : لقمان حبشی غلام تھے ‘ ہونٹ بڑے بڑے تھے اور قدم پھٹے ہوئے تھے۔ سعید بن مسیب نے کہا : درزی تھے۔ بعض کا قول ہے کہ بھیڑیں بکریاں چرایا کرتے تھے۔
حکمت کا اطلاق انصاف ‘ علم ‘ حلم نبوت ‘ قرآن اور انجیل سب پر ہوتا ہے ‘ کذا فی القاموس۔ حدیث ان من الشعر الحکمۃ میں حکمت سے مراد ہے علم۔ اور حدیث الاوفی راسہ حکمۃ میں حکمت سے مراد عقل ہے۔ آیت مذکورہ میں سب معنی مراد ہوسکتے ہیں۔
عکرمہ تنہا لقمان کی نبوت کے قائل تھے۔ ابن ابی حاتم کا بیان ہے کہ وہب بن منبہ سے دریافت کیا گیا۔۔ کیا لقمان نبی تھے ؟ وہب نے کہا : نہیں۔ ان کے پاس وحی نہیں آئی تھی ‘ ہاں دانشمند آدمی تھے۔ ابن جریر نے مجاہد کا بھی یہی قول بیان کیا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت لقمان کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ نبوت پسند کرلیں یا حکمت۔۔ لقمان نے حکمت کو پسند کرلیا۔ بغوی نے لکھا ہے : لقمان دوپہر کو سو رہے تھے ‘ خواب میں ہاتف نے ندا دی : لقمان ! کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ تم کو زمین میں اپنا خلیفہ بنا دے اور لوگوں پر تم صحیح حکومت کرتے رہو ؟ خواب ہی میں لقمان نے ہاتف کو جواب دیا : اگر میرے رب نے مجھے اختیار دیا ہے تو مجھے عافیت پسند ہے (میں حکومت کے جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہتا) اور اگر یہ اللہ کا قطعی حکم ہے تو بسر و چشم ‘ کیونکہ میں خوب جانتا ہوں کہ جب اللہ کا یہ قطعی حکم میرے لئے ہوگا تو وہی فیصلہ کرنے میں میری مدد بھی کرے گا اور غلطی سے مجھے محفوظ رکھے گا۔ ہاتف نے پردۂ غیب سے آواز دی : لقمان ! ایسا تم نے کیوں اختیار کیا ؟ (یعنی عافیت کو کیوں پسند کیا) لقمان نے کہا : سخت ترین اور الجھے ہوئے غیر واضح مقامات میں فیصلہ پر ہر طرف سے تاریکی چھائی ہوتی ہے ‘ ایسے مقام پر اگر لقمان کا فیصلہ صحیح پڑگیا تو وہ نجات کا مستحق ہے اور اس سے فیصلہ میں غلطی ہوگئی تو جنت کا راستہ کھو گیا۔ دنیا میں نیچا رہنا ‘ سردار ہونے سے بہتر ہے۔ جو شخص آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتا ہے ‘ اس کے ہاتھ سے دنیا بھی جاتی ہے اور آخرت بھی ہاتھ نہیں آتی۔ ملائکہ کو لقمان کی خوش گفتاری پر تعجب ہوا۔ اس کے بعد لقمان کو کسی روز سوتے میں اللہ کے حکمت عطا فرمادی اور بیدار ہونے کے بعد آپ ہر بات پر حکمت کرنے لگے۔
حضرت داؤد کو اس کے بعد (عطاء حکمت یا اختیار حکمت کی) غیبی ہاتف نے ندا دی تو حضرت داؤد نے بلاشرط اس کو قبول کرلیا۔ اسی کا نتیجہ ہوا کہ آپ کئی مرتبہ غلطی میں پڑگئے مگر ہر مرتبہ اللہ نے معاف فرما دیا۔ حضرت لقمان اپنی حکمت سے حضرت داؤد کی مدد کرتے تھے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں حکمت سے مراد عدل اور انصاف کے ساتھ کا فیصلہ کرنا نہیں ہے (کیونکہ حضرت لقمان نے اس بار کو اٹھنے سے تو انکار ہی کردیا تھا) ۔
جرری نے نہایہ میں کیا خوب کہا ہے کہ سب سے اعلیٰ چیز کا سب سے اعلیٰ علم حکمت ہے۔ میں کہتا ہوں : سب سے اعلیٰ اور افضل چیز اللہ کی ذات ہے ‘ کوئی چیز اس کی طرح نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْیءٌ۔ دوسری جگہ فرمایا : اَیُّ شَیْیءٍ اَکْبَرُ شَھَادَۃً قُلِ اللہ (یعنی شئی کا اطلاق اللہ کی ذات پر ہوتا ہے۔ اللہ سب سے بڑی شئے ہے۔ گویا شئی بمعنی موجود کے ہے اور موجود دو طرح کا ہے۔ مخلوق اور خالق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شئی مصدر ہے شاء یشاء شیاء مستعمل ہے اور مصدر کبھی اسم فاعل کے معنی میں آتا ہے ‘ کبھی اسم مفعول کے معنی میں۔ اول صورت میں شئی کا اطلاق اللہ پر ہوگا اور دوسری صورت میں تمام ممکنات پر۔ بعض علماء نے شئی کی تعریف میں کہا ہے : ما یمکن ان یعلم ویخبر عنہ۔ شئی وہ ہے جس کو جاننا اور اس کی حالت بیان کرنا ممکن ہو ‘ مترجم) اور سب سے اعلیٰ علم جس پر غفلت کا پردہ نہیں پڑ سکتا ‘ علم حضوری ہے۔ علم حصولی غفلت سے خالی نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں اللہ کی ذات کا علم حصولی ممکن بھی نہیں ہے ‘ علم حصولی نام ہے کسی چیز کی تصور کا ذہن میں آجانے کا۔ اور اللہ کی نہ کوئی صورت ہے ‘ نہ وہ کسی حیّز اور ہیت میں آسکتا ہے بلکہ اللہ کی ذات کا علم تو علم حضوری سے بھی بالاتر ہے۔ علم حضوری جو کسی عالم کو ہوتا ہے اس کی نسبت ذات الٰہی کے علم کی طرف تو ایسی ہے جیسے علم حضوری سے علم حصولی کی نسبت۔ حصولی علم میں ذہن کے آئینہ میں صرف صورت ہوتی ہے اور حضوری علم میں ذہن کے سامنے نفس شئی ہوتی ہے۔ مبدء انکشاف نفس شئی ہوتی ہے عکس اور صورت کا حصول علم کا ناقص درجہ ہے اور نفس شئی اگر ذہن کے سامنے حاضر ہو جیسے ہر سخص اپنی ذات کو جانتا ہے اور سمجھتا ہے میں ! میں ہوں ‘ یہ علم کا کامل درجہ ہے لیکن اللہ تو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ‘ اس کا علم تو علم حضور کے مقابلہ میں کامل نہیں ‘ اکمل ہے ‘ اعلیٰ اور افضل ہے کیونکہ علم حصولی ہو یا حضوری دونوں کا تعلق دماغ اور ذہن سے ہے اور ذات خداوندی کو جاننے کا تعلق قلب سے ہے۔ اسی لئے ایک حدیث قدسی میں آیا ہے کہ مجھے زمین و آسمان اپنے اندر نہیں سما سکتے ‘ مگر مؤمن بندے کا دل مجھے اپنے اندر سما لیتا ہے۔
ذات الٰہی کا علم بہت ہی خاص خاص لوگوں کو ہوتا ہے۔ حاکم نے اور شعب الایمان میں بیہقی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ لقمان حضرت داؤد کے غلام تھے۔ حضرت داؤد زرہیں بنتے تھے لیکن حضرت لقمان حضرت داؤد سے اس کی بابت کوئی سوال نہیں کرتے۔ جب حضرت داؤد نے زرہ بنا لی اور اس کو پہن لیا تو فرمایا : یہ بہترین جنگی لباس ہے۔ اس پر حضرت لقمان نے فرمایا : خاموش رہنا حکمت ہے (بغیر دریافت کئے زرہ بنانے کی حکمت اور غرض حضرت لقمان کو معلوم ہوگئی) لیکن ایسا کرنے والے کم ہیں۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت لقمان سے دریافت کیا گیا : سب سے برا کون آدمی ہے ؟ فرمایا : وہ آدمی سب سے برا ہے جو اس بات کی پرواہ بھی نہیں کرتا کہ لوگ مجھے گناہ کرتے دیکھ رہے ہیں (یعنی علیٰ الاعلان بدکار) ۔
ابن ابی شیبہ ‘ امام احمد اور ابن جریر نے خالد ربعی کا قول نقل کیا ہے کہ لقمان حبشی غلام تھے ‘ بڑھئی تھے۔ ایک بار آقا نے حکم دیا کہ ایک بکری ذبح کر کے اس کی بہترین دو بوٹیاں لے آ۔ حضرت لقمان نے زبان اور دل لے جا کر حاضر کردیا۔ کچھ دنوں کے بعد آقا نے دوبارہ حکم دیا کہ ایک بکری کو ذبح کر کے اس کے دو بدترین پارچے لے آ۔ حضرت لقمان نے پھر زبان اور دل لا کر حاضر کر دئیے۔ آقا نے اس کی وجہ دریافت کی تو حضرت لقمان نے فرمایا : اگر یہ دونوں پاکیزہ رہیں تو سارے اعضاء سے بہتر ہیں اور اگر گندے ہوں تو سب سے زیادہ برے بھی یہی ہیں۔
ان اشکر اللہ . کہ اللہ کا شکر کر۔ یعنی ہم نے لقمان کو حکمت دی اور کہا کہ اس عطیۂ حکمت کا شکر ادا کر۔ اکثر اہل تفسیر
نے اَن کو مفسرہ قرار دیا ہے ‘ کیونکہ عطائے حکمت میں قول کا معنی آجاتا ہے۔ میں کہتا ہوں : عطائے حکمت کا مطلب ہے حکمت سکھانا اور تعلیم حکمت۔ اکثر قول ہی کے ذریعہ سے ہوتی ہے ‘ اس صورت میں حکمت دینے کا معنی ہوگا شکرگزاری کا حکم دینا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکمت ہی شکر ہے اور حکمت ادا کرنے کا معنی ہی شکر ادا کرنے کا حکم دینا ہے۔
آیت میں امر سے مراد ہے تکوینی (تخلیقی ‘ فطری) حکم۔ کیونکہ تکلیفی (اور تشریعی) حکم تو سب ہی لوگوں کو دیا گیا ہے ‘ لقمان ہی کی خصوصیت نہیں پھر شکرگزاری کا حکم دینا (یعنی تکلیفی حکم دینا اس بات کا قطعاً موجب نہیں کہ ہر شخص ادا کرنے پر مجبور ہو اور ضرور ہی شکر کرے۔ البتہ تکوینی امر کے لئے مامور بہ کا وجود ضروری ہے ‘ اگر امر تکوینی مراد ہو تو پھر شکرگزاری لازم ہوگی۔ جس طرح عطائے حکمت کے بعد حصول حکمت لازم ہے ‘ اسی طرح شکر کے امر تکوینی کے بعد لقمان کا شکرگزار ہوجانا ضروری ہے۔
حکمت سے مراد لینا بطور مجاز ہے کیونکہ شکر حکمت کے لئے لازم ہے اور ملزوم سے لازم یا لازم سے ملزوم مراد ہوسکتا ہے۔
شکر کا معنی ہے منعم کی نعمت کا (اقرار) اظہار اور کفران کا معنی ہے منعم کی نعمت پر پردہ ڈال دینا ‘ چھپا دینا (منعم کو منعم نہ قرار دینا) ۔
صاحب قاموس نے لکھا ہے : شکر کا معنی ہے احسان شناسی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لفظ شکر اصل میں کشر تھا۔ کشر کے حرف کو مقدم مؤخر کر کے شکر کردیا گیا۔ کشر کا معنی ہے کھول دینا ‘ شکر کا معنی بھی نعمت کو ظاہر کرنا ہے۔
شکر کی تین قسمیں ہیں :
(1) دل سے شکر کرنا یعنی منعم کے انعام کا تصور کرنا۔
(2) زبان سے شکر کرنا یعنی منعم کی نعمت پر اس کی ثناء کرنا۔
(3) اعضاء جسم سے شکر کرنا یعنی نعمت کے بدلہ میں منعم کی اطاعت کرنا۔ بعض علماء کا قول ہے کہ لفظ شکر عینٌ شَکرٌ (بھر ہو اچشمہ) سے ماخوذ ہے ‘ اس قول پر شکر کا معنی ہوگا منعم کی نعمتوں کی یاد سے بھر جانا۔ اسی بنیاد پر اللہ نے فرمایا ہے : وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ ۔ قرآن مجید میں اللہ نے دو شخصوں کو شکر گزار بندہ فرمایا ہے ‘ ایک حضرت ابراہیم جن کے متلق فرمایا ہے :
شَاکِرًا لّاَِ نْعُمِہٖ دوسرے حضرت نوح جن کے متعلق فرمایا ہے : اِنَّہٗ کَانَ عَبْدًا شَکُوْرًا۔
نہایہ میں جزری نے لکھا ہے : نعمت کے مقابلہ میں شکر زبان سے بھی ہوتا ہے اور عمل سے بھی اور نیت سے بھی۔ زبان سے بھی منعم کی تعریف کرنی چاہئے اور اپنے اعضاء کو بھی ہمیشہ اس کی اطاعت میں لگا دیا جائے اور یقین رکھا جائے کہ منعم ہی میرا مولیٰ ہے۔ لفظ شکر شَکَرْ الاِبلْ شکرًا (اونٹ خوب چر کر موٹے ہوگئے) سے ماخوذ ہے۔
ومن یشرک فانما یشکر لنفسہ . جو شکر کرے گا وہ صرف اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرے گا۔
شکر کرنے سے موجودہ اور حاصل شدہ نعمت زوال سے محفوظ ہوجاتی ہے اور آئندہ مزید نعمت حاصل ہوجاتی ہے اور اللہ کے قرب اور دوامی جنت کا حصول ہوجاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : لَءِنْ شَکَرْتُمْ لَاَ زِیْدَنَّکُمْ ۔
ومن کفر فان اللہ غنی حمید . اور جو (ان کی نعمت کی) ناشکری کے گا تو (ناشکری کا وبال اسی پر پڑے گا) اللہ
تو کسی کے شکر کا ضرورت مند اور محتاج نہیں ہے اور (بہرحال) وہ مستحق ستائش ہے ‘ خواہ ناشکرا اس کی حمد نہ کرے۔ تمام مخلوق بزبان حال اس کی شکرگزار ہے۔
Ayah 31:13واذ قال لقمن لابنہ وھو یعظہ یبنی لا تشرک باللہ ان الشکر لظلم عظیم . اور یاد کرو
جب لقمان نے اپنے بیٹے سے اس کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا : میرے پیارے بیٹے ! اللہ کا کسی کو ساجھی مت قرار دیا ‘ شرک بڑا ظلم ہے۔
لقمان کے بیٹے کا نام انعم یا اشکم یا ماثان تھا۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ لقمان کا بیٹا مشرک تھا پھر باپ کی نصیحت کی وجہ سے مؤمن ہوگیا۔ ظلم کا معنی ہے کسی چیز کو اس کے مخصوص (مناسب) مقام کے علاوہ کسی دوسری جگہ رکھ دینا خواہ اس میں کمی کردی جائے یا بیشی یا مکان میں تغیر کردیا جائے یا وقت بدل دیا جائے۔ ظلم کا اطلاق حق سے تجاوز کرنے پر بھی ہوتا ہے۔ تجاوز تھوڑا ہو یا بہت اسی لئے چھوٹے گناہ کو ظلم کہا جاتا ہے اور بڑے گناہ کو بھی اور ظاہر ہے کہ شرک (بڑا گناہ ہے اس لئے) بڑا ظلم ہے۔ جس میں معبود ہونے کی صلاحیت نہ ہو اس کی عبادت کرنا یقیناً حق سے تجاوز عظم ہے۔ حقیقی منعم کو اس کس کے ساتھ برابر قرار دینا جو منعم ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا ‘ بڑا ظلم (اور بڑی بےجا حرکت) ہے۔
Ayah 31:14ووصینا الانسان بوالدیہ . اور ہم نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کا شکر ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ لقمان کے قول کے درمیان (ا اللہ کا قول) بطور جملہ معترضہ آگیا ہے۔
حملتہ امہ وھنا علی وھن . اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا۔ ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی اس جملہ میں مؤکد ہدایت ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : میرے حسن معاشرت (یعنی حسن سلوک) کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟ فرمایا : تیری ماں ‘ پھر تیری ماں ‘ پھر تیری ماں ‘ پھر تیرا باپ ‘ اس کے بعد اقارب حسب درجہ (متفق علیہ) ۔
حضرت مغیرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ نے تمہارے لئے ماؤں کی نافرمانی حرام کردی ہے (متفق علیہ) ۔ حضرت ابن عباس نے وَھْنًا عَلٰی وَھْنٍ کا ترجمہ سختی پر سختی کیا ہے۔ ضحاک نے ضعف بالائے ضعف اور مجاہد نے مشقت بر مشقت۔ جب عورت حاملہ ہوجاتی ہے تو اس پر کمزوری اور مشقت طاری ہوجاتی ہے۔ حمل کا ضعف ‘ خون چھوٹنے (وضع حمل) کا ضعف اور دودھ پلانے کا ضعف (اس طرح ضعف پر ضعف بڑھتا جاتا ہے) ۔
وفصلہ فی عامین . اس کی دودھ چھڑائی دو سالوں (کے اختتام) میں ہے۔ اس آیت سے امام شافعی ‘ امام ابویوسف اور امام محمد نے استدلال کیا ہے کہ دودھ پلانے کی (زیادہ سے زیادہ) مدت دو سال ہے۔ ہم نے سورة بقرہ کی آیت والْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ اَوْلاَدَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ الخ کی تفسیر کے ذیل میں مسئلہ رضاعت کو مفصل بیان کردیا ہے۔
ان اشکرلی والدیک . کہ میرا شکر ادا کر اور اپنے ماں باپ کا۔
اس آیت کی تفسیر میں سفیان بن عیینہ نے کہا : جس نے پانچوں نماز پڑھ لیں ‘ اس نے اللہ کا شکر ادا کردیا اور جس نے نمازوں کے بعد ماں باپ کے لئے دعائے خیر کی ‘ اس نے ماں باپ کا شکر کیا۔
الی المصیر . میری ہی طرف لوٹنا ہے۔ اس فقرہ میں وعدہ بھی ہے اور وعید بھی یعنی میں شکر اور ناشکری دونوں کا
بدلہ دوں گا۔
Ayah 31:15وان جاھدک علی ان تشرک بی ما لیس لک بہ علم فلا تطعھما . اور اگر وہ دونوں تجھ
پر زور ڈالیں کہ میرے ساتھ (عبادت میں) اس چیز کو شریک ٹھہرا جس کی تیری پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو ان کا کہنا نہ مان۔
لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ یعنی جس معبود باطل کے شریک الوہیت ہونے کا تجھے علم بھی نہ ہو ‘ اس کو اللہ کی معبودیت میں شریک بنانے پر اگر ماں باپ حکم دیں تو ان کا کہا نہ مان۔ چہ جائیکہ ادلہ قطعیہ سے شرک ہونا جب تجھے معلوم ہے تو ایسی حالت میں ماں باپ کا حکم نہ ماننا تو بدرجہ اولیٰ لازم ہے۔ اللہ کا حق ہر مخلوق کے حق پر غالب ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : خالق کی نافرمانی (کی صورت) میں مخلوق کا حکم ناقابل اطاعت ہے۔ رواہ احمد والحاکم عن عمران والحکیم ابن عمرو الغفاری حاکم نے اس روایت کی تصیح کی ہے۔ صحیحین ‘ سنن ابو داؤد اور نسائی میں ایسی ہی حدیث حضرت علی کی روایت سے آئی ہے۔
وصاحبھما فی الدنیا معروفا . اور دنیا میں ماں باپ کے ساتھ اچھے طور پر (جو عقلاً اور شرعاً پسندیدہ ہو) رہو۔
مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ ماں باپ خواہ کافر ہوں لیکن اگر صاحب احتیاج ہیں تو ان کی مالی مدد کرنی اور قرابتداری کو نہ توڑنا واجب ہے۔
حضرت ابوبکر کی صاحبزادی حضرت اسماء کا بیان ہے کہ میرے پاس میری ماں آئی ‘ اس زمانہ میں وہ مشرک تھی ‘ قریش کے حلقہ میں داخل تھی۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میری ماں آئی ہے اور (مدد کی) خواہشمند ہے۔ کیا میں اس کے ساتھ قرابتداری کا سلوک کرسکتی ہوں ؟ فرمایا : ہاں ‘ اس سے قرابت کا تعلق جوڑے رکھو (متفق علیہ) ۔
تفسیر سورة عنکبوت میں بیان کیا جا چکا ہے کہ یہ دونوں آیات حضرت سعد بن ابی وقاص اور ان کی والدہ کے متعلق نازل ہوئی تھیں۔
واتبع سبیل من اناب الی . اور اسی کی راہ پر چلنا جو میری طرف رجوع ہو۔
سَبِیْلَ سے مراد دین ہے اور مَنْ اَنَابَ سے مراد ہیں رسول اللہ اور صحابہ کرام۔ عطاء نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ سے مراد حضرت ابوبکر کی ذات ہے۔ واقعہ یوں ہوا کہ جب حضرت ابوبکر اسلام لے آئے تو حضرت عثمان ‘ طلحہ ‘ زبیر ‘ سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمن بن عوف ؓ نے آکر حضرت ابوبکر سے پوچھا : کیا آپ (مسلمان ہوگئے اور) اس شخص پر ایمان لائے اور اس کو سچا سمجھ لیا ؟ حضرت ابوبکر نے جواب دیا : ہاں ‘ وہ سچے ہیں ‘ تم بھی ان پر ایمان لے آؤ۔ پھر آپ سب کو ساتھ لے کر رسول اللہ کی خدمت میں پہنچے اور یہ حضرات بھی مسلمان ہوگئے۔ یہ ہی لوگ اسلام کے پیش رو جو حضرت ابوبکر کی راہنمائی سے ہوئے ‘ اللہ نے حضرت ابوبکر ہی کے متعلق فرمایا : وَاتَّبِعْ سَبِیْل مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ۔
123
مسئلہ : اگر والدین فریضۂ خداوندی کو ترک کرنے یا فعل حرام کا ارتکاب کرنے کا حکم دیں تو ان کا کہا ماننا ناجائز ہے۔ اللہ کے حکم کی تعمیل کے ساتھ ساتھ اس کے مخالف مخلوق کو ماننا شرک معنوی ہے۔ ہم حدیث مبارک نقل کرچکے ہیں کہ خالق کی نافرمانی ہوتی ہو تو مخلوق کے حکم کو ماننا ناجائز ہے ‘ ہاں والدین کے حکم کو ماننا اس وقت واجب ہے جب وہ کسی ایسے مباح کا حکم دیں جو خلاف عقل و شرح نہ ہو۔
اگر والدین کثرت ذکر و نوافل کو روکیں یا ضرورت سے زائد مال کمانے کا حکم دیں تو کیا ان کی بات ماننی واجب ہے ؟
میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ ایسے حکم کو ماننا واجب نہیں ہے ‘ کیونکہ اصحاب انابت کی راہ پر چلنے کا اللہ نے اس آیت میں حکم دیا ہے اور نوافل کی کثرت ترک کردینا اور اللہ کے سوا سب کو ترک اور ہر وقت اللہ سے لو لگانا اہل انابت کا طریقہ ہے۔ یہ حقیقت ناقابل انکار ہے کہ صحابہ کرام نے اپنا وطن چھوڑا ‘ ہجرت کی اور ماں باپ کی مرضی کے خلاف راہ خدا میں اپنی جانی اور مالی قربانی دی۔ اللہ نے فرمایا ہے : قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ الخ آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہار ماں باپ اور بیٹے اور بھائی اور بیبیاں اور کنبہ والے اور کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کے بگڑ جانے کا تم کو اندیشہ ہو اور تمہارے وہ مکانات جن کو تم پسند کرتے ہو ‘ تمہاری نظر میں اللہ کے رسول اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہوں تو منتظر رہو کہ اللہ اپنا حکم لے آئے (اس سے معلوم ہوا کہ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے ترک کل نہ فقط جائز ہے بلکہ فرض ہے) پھر اللہ کی راہ میں شیطان اور نفس امارہ سے ‘ ماں باپ کے کہنے سے جہاد ترک کردینا (یعنی نوافل و ذکر کی کثرت چھوڑ دینا اور ضرورت سے زائد کمائی کی طرف راغب ہونا ‘ مترجم) کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
حاکم نے بوساطت عامر ابن عبد اللہ حضرت عبد اللہ بن زبیر کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت زبیر نے فرمایا : ابو قحافہ (حضرت ابوبکر کے والد) نے حضرت ابوبکر سے کہا : میں دیکھ رہا ہوں کہ تم کمزور باندی غلاموں کو آزاد کرتے ہو ‘ اگر طاقتو غلاموں کو آزاد کرتے تو بہتر ہوتا کہ وہ تمہاری حفاظت کرسکتے اور تمہاری طرف سے (دشمنوں کے مقابلہ میں) کھڑے ہوسکتے۔
حضرت ابوبکر نے فرمایا : ابا ! میں اس ثواب کا طلبگا ہوں جو اللہ کے پاس ہے۔ آیت وَسَیُجَنَّبُھَا الْاَتْقّٰی الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی نازل ہوئی۔ یہ واقعہ اس زمانہ کا ہے جب حضرت ابوبکر نے حضرت بلال ‘ حضرت عامر بن فہیر ‘ حضرت ام عمیس اور حضرت زبیر وغیرہ کو (خرید کر) آزاد کیا تھا۔
حضرت ابوبکر نے چار ہزار درہم ساتھ لے کر رسول اللہ کے ہم رکاب ہجرت کی تھی ‘ گھر والوں کے لئے کچھ بھی چھوڑ کر نہیں گئے تھے اور یہ بات باپ کی مرضی کے خلاف تھی۔ سورة توبہ کی آیت اِنْ لاَّ تَنْصُرُوْا فَقَدْ نَصَرَہُ اللہ الخ کی تفسیر میں ہم نے ہجرت کی تفصیل لکھ دی ہے۔
ثم الی مرجعکم . اور تم سب کی آمد (یعنی تمہاری اور تمہارے والدین کی) میری ہی طرف ہوگی۔
فانبئکم بما کنتم تعملون . پھر تم جو کچھ کرتے رہے تھے میں تم کو بتادوں گا۔ یعنی بدلہ دوں گا تم کو اسلام کی جزا
اور تمہارے والدین کو کفر کی سزا دوں گا۔
حضرت لقمان کے قصہ میں یہ دونوں جملے بطور معترضہ ذکر کر دئیے گئے ہیں۔ والدین کے کہنے سے شرک کی ممانعت کا حکم بطور مبالغہ کیا گیا ہے۔ اللہ کے بعد ماں باپ سب سے زیادہ تعظیم و اطاعت کے مستحق ہیں لیکن شرک میں ان کی اطاعت بھی حرام ہے ‘ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔
Ayah 31:16یبنی انھا ان تک مثقال حبۃ من خردل فتکن فی صخرۃ او فی السموت او فی الارض
یات بھا اللہ . اے میرے پیارے بیٹے ! بلاشبہ اگر رائی کے دانہ کے وزن کے برابر کوئی حرکت ہوگی اور وہ کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں یہ زمین میں ہوگی تو اللہ اس کو لا حاضر کرے گا۔
اِنَّھَا یعنی کوئی خصلت ‘ کوئی بات اچھی ہو یا بری ‘ بھلائی کی ہو یا برائی کی۔ قتادہ نے کہا : اِنَّھَا کی ضمیر خطا کی طرف راجع ہے کیونکہ حضرت لقمان کے بیٹے نے حضرت لقمان سے کہا تھا : اے میرے باپ ! اگر میں چھپ کر کوئی گناہ کروں کہ کسی کو اطلاع نہ ہو تو اس کو خدا کیسے جان لے گا ؟ اس کے جواب میں اِنَّھَا اِنْ تَکُ حضرت لقمان نے فرمایا : جس کو اللہ نے اس جگہ نقل فرما دیا۔
حَبَّہُ خَرْدَل سے مراد ہے حقیر ترین مقدار۔ پتھر یا آسمان یا زمین کے اندر ہونے سے مراد ہے پوشیدہ ترین ‘ انتہائی محفوظ مقام میں ہونا۔ جیسے پتھر کا جوف یا سب سے اونچا مقام آسمان یا زمین کی انتہائی پست ترین گہرائی۔
قتادہ نے کہا : صَخْرَۃٍ (پتھر) سے مراد ہے پہاڑ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : صَخْرَۃٍ سے مراد وہ پتھر ہے جو ساتوں زمینوں کے نیچے ہے جس میں کافروں اور بدکاروں کے اعمال کا اندراج ہوتا ہے۔ آسمان کی نیل گونی اسی کے عکس کی وجہ سے ہے۔ سدی نے کہا : اللہ نے زمین کو مچھلی کے اوپر پیدا کیا ‘ یہ مچھلی وہی نون (مچھلی) ہے جو آیت نٓ وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوْنَ میں مذکور ہے۔ یہ مچھلی پانی کے اندر پتھر کی ایک چٹان کے اوپر ہے اور چٹان ایک فرشتے کی پشت پر رکھی ہوئی ہے اور فرشتہ ایک پتھر پر قائم ہے۔ یہ وہی پتھر ہے جس کا ذکر حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرنے کے ذیل میں کیا ہے۔ یہ پتھر نہ آسمان میں ہے نہ زمین میں بلکہ ہوا پر ہے۔
یَأْتِ بِھَا اللہ اللہ اس کو لا حاضر کر دے گا یعنی اس کی حساب فہمی کرے گا۔
ان اللہ لطیف خبیر . اس میں شک نہیں کہ اللہ باریک بین ‘ باخبر ہے۔ یعنی اس کے علم کی رسائی و احاطہ سے کوئی پوشیدہ دقیق ترین چیز بھی خارج نہیں ‘ ہر چیز کی حقیقت کو خوب جانتا ہے۔
حسن نے کہا : آیت میں ہر چھوٹی بڑی چیز کا کامل احاطہ مراد ہے (یعنی ہر چیز کو چھوٹی ہو یا بڑی ‘ اللہ گھیرے ہوئے ہے) ۔
بغوی نے لکھا ہے : کتابوں میں آیا ہے کہ حضرت لقمان کے یہ آخری الفاظ تھے ‘ اس جملہ کے زبان سے نکلتے ہی ان پر ایسی دہشت اور ہیبت طاری ہوئی کہ پتہ پھٹ گیا۔
Ayah 31:17یبنی اقم الصلٰوۃ وامر بالمعروف وانہ عن المنکر . اے میرے پیارے بیٹے ! (اپنے نفس کی تکمیل
کے لئے) نماز قائم کر اور دوسروں کی درستی کے لئے نیک باتوں کا حکم دے اور بری باتوں کی ممانعت کر۔
واصبر علی ما اصابک . اور (امر و نہی کے راستہ میں) تجھ کو جو دکھ پہنچے (اور تکلیف اٹھانی پڑے) اس پر صبر رکھ۔
ان ذلک من عزم الامور . بلاشبہ یہ (ثبات و صبر) فرائض میں سے ہے۔ یعنی ان امور میں سے ہے جو اللہ نے فرض کر دئیے ہیں۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : خَیْرُ الْاَمُوْرِ عَوازِمُھَا یعنی بہترین امور وہ ہیں جن کا کرنا اللہ نے فرض کردیا ہے۔
لغت میں عزم کا معنی ہے کسی کام کو کرنے کا اٹل ارادہ۔ اس تشریح پر آیت میں عزم (مصدر) بمعنی معزوم (اسم مفعول) کے ہوگا۔
Ayah 31:18ولا تصعرخدک للناس . اور اپنے گال لوگوں کے لئے نہ پھلا۔ یعنی ان سے رخ نہ موڑ ‘ لوگوں سے اعراض نہ کر۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی غرور نہ کر ‘ دوسروں کو حقیر نہ سمجھ کہ وہ تجھ سے بات کریں اور تو ان کی طرف سے منہ پھیر لے۔
ولا تمش فی الارض مرحا . اور زمین پر اترا کر نہ چل۔
ان اللہ لا یحب کل مختال فخور . بلاشبہ اللہ کسی اترا کر چلنے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔
مُخْتَالٍ اترا کر چلنے والا۔
فَخُوْرٍ دوسرے لوگوں پر فخر کرنے والا۔
Ayah 31:19واقصد فی مشیک . اور اپنی چال درمیانی رکھو۔ یعنی نہ رینگتے چلو کہ یہ غرور کی علامت ہے اور اہل غرور کی چال ہے ‘ نہ بہت لپک کر چلو کہ یہ چھچھو وں کی چال ہے ‘ وقار کو زائل کرتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سرعت رفتار مؤمن کے وقار کو زائل کردیتی ہے۔ اخرجہ ابن عدی و ابونعیم فی الحلیۃ عن ابی ہریرہ (واخرجہ ابن عدی من حدیث ابی سعید وابن عمر) ۔
جس تیز رفتاری کی ممانعت کی گئی ہے اس سے مراد وہ سرعت رفتار ہے جو طبعی چال سے بڑھ کر کوشش کر کے اختیار کی جائے۔ معمولی تیز رفتار جس کی عادت ہو وہ تو مستحب ہے۔ ابن سعد نے حضرت یزید بن مرچد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ جب چلتے تھے تو اتنی تیزی سے چلتے تھے کہ آپ ﷺ کے پیچھے لپکنے والا آپ ﷺ تک پہنچ نہ سکتا تھا۔ طبرانی اور بیہقی نے حضرت ابو موسیٰ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : وقار کو (چال میں) قائم رکھو اور جنازے لے جانے میں میانہ روی کو اختیار کرو۔ صحاح ستہ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : جنازے کو تیز لے جاؤ کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو پہلے پہنچا دو گے اور اگر بد ہے تو اپنے کندھوں سے (جلد) اتار دو گے۔ ان تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رفتار کی تیزی حسب عادت قبیح نہیں ہے اور قصد سے مراد تیزی رفتار ہی ہے جو دوڑ سے کم درجہ کی ہو۔
واعضض من صوتک ان انکر الا صوات لصوت الحمیر . اور اپنی آواز نیچی رکھ۔ بلاشک و شبہ
بڑی ناگوار آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے۔
مقاتل نے اُغْضُضْ کا ترجمہ کیا ہے پست رکھ یعنی گدھوں کی آواز بہت ہی مکروہ ہوتی ہے ‘ بالکل پھٹی ہوئی۔ دوزخیوں کی آواز بھی گدھوں کی آواز کی طرح ہوگی۔ ابتداء میں زفیر اور اختتام پر شہیق (سینہ کے اندر ہی اندر گڑگڑ کی آواز) ۔
سفیان ثوری نے آیت مذکورہ کی تشریح میں کہا : اس سے مراد چھینک کی دہشت ناک قبیح آواز ہے۔ وہب نے کہا : لقمان نے اپنے کلام میں حکمت کے بارہ ہزار دروازے کھول دئیے (یعنی بارہ ہزار پر حکمت مقولے لقمان کے ہیں) جن کو لوگوں نے اپنے کلام اور معاملات میں شامل کرلیا ہے۔
Ayah 31:20الم تروا ان اللہ سخر لکم ما فی السموت وما فی الارض . کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو کچھ
آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اللہ نے تمہارے کام پر لگا رکھا ہے۔
مَا فِی السَّمٰوٰتِیعنی اللہ نے تمہارے کام پر چاند ‘ سورج اور ستاروں اور پہاڑوں کو لگا دیا ہے۔ وَمَا فِی الْاَرْضِاور زمین میں جو کچھ ہے اس کو بھی تمہارے کام پر لگا دیا ہے۔ موجودات ارضی سے مراد ہیں کانیں ‘ نباتات اور حیوانات ان سب کو اللہ نے براہ راست یا بالواسطہ انسانوں کے کام پر لگا دیا ہے یعنی انسانوں کو یہ قدرت عطا فرما دی ہے کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ ان سے فائدہ اندوز ہوں۔
واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ . اور اس نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم کو پوری دے رکھی ہیں۔
ظاہری نعمتوں سے مراد ہیں محسوس نعمتیں یعنی خوبصورتی ‘ اعضاء کی درستی ‘ رزق ‘ عافیت اور دوسری دنیوی نعمتیں۔ ان کے علاوہ دشمنوں پر غلبہ ‘ اسلام ‘ رسول ‘ قرآن ‘ ضوابطہ شریعت کا ثقیل نہ ہونا ‘ اتباع رسول کی توفیق ‘ اسلام کا غلبہ وغیرہ یہ سب بھی ظاہری نعمتوں میں شامل ہیں۔
باطنی نعمتوں سے مراد ہے دل ‘ باطنی حواس ‘ حسن اخلاق ‘ اعتقاد حق ‘ دل میں صحیح اعتقاد ڈال دینا ‘ گناہوں کی فوری پکڑ نہ ہونا ‘ ملائکہ کے ذریعہ سے مدد پہنچانا ‘ معرفت الٰہی کا نور ‘ اللہ اور اللہ کے رسول کی محبت ‘ رسول کی شفاعت وغیرہ۔
ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم ولا ھدی ولا کتب منیر اور بعض لوگ اللہ کے بارے
میں بےدلیل اور بغیر (پیغمبر کی) رہنمائی کے اور بدون کسی روشن کتاب کے جھگڑا کرتے ہیں۔
یُجَادِلُ یعنی اللہ کے رسول سے جھگڑا کرتے ہیں۔
فِیْ اللہ اللہ کی توحید اور صفات کے بارے میں۔
بِغَیْرِ عِلْمٍکسی استدلال سے حاصل شدہ علم کے بغیر۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول نضر بن حارث اور ابی بن خلف اور ان جیسے لوگوں کے حق میں ہوا۔
وَلاَ ھُدًی اور رسول کی ہدایت کے بغیر۔
وَلاَ کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ اور بغیر کسی روشن کتاب کے جو اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہو۔ غرض یہ کہ ان کے جھگڑے کی بناء محض باپ دادا کی پیروی پر ہے (نہ ان کو عقلی علم حاصل ہے نہ نقلی) ۔
Ayah 31:21واذا قیل لھم اتبعوا ما انزل اللہ قالوا بل نتبع ما وجدنا علیہ اباء نا اور جب ان سے کہا
جاتا ہے کہ اس چیز کا اتباع کرو جو اللہ نے نازل فرمائی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ (نہیں) ہم تو اس پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو (چلتے) پایا۔
یعنی ہم اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کی پیروی نہیں کریں گے بلکہ جس (دین) پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا اسی پر ہم چلیں گے۔ آیت میں اصول دین میں تقلید کی ممانعت ہے ( فروعی اجتہادی مسائل میں تقلید کی ممانعت نہیں ہے) ۔
اولو کان الشیطن یدعدھم الی عذاب السعیر . کیا اگر شیطان ان (کے باپ دادا) کو بھڑکتی آگ
کے عذاب کی طرف بلا رہا ہو (تب بھی یہ لوگ باپ دادا کے پیچھے چلے جائیں گے) ۔
عذاب دوزخ کی دعوت یہ ہے کہ شیطان تقلید یا شرک کی خوبیاں ان کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ سوال انکاری تعجبی ہے۔
Ayah 31:22ومن یسلم وجھ الی اللہ وھو محسن فقد استمسک بالعوۃ الوثقی والی اللہ عاقبۃ الامور
اور جو شخص اپنا رخ اللہ کی طرف جھکا دے اور مخلص بھی ہو تو اس نے بڑا مضبوط قبضہ تھام لیا اور اخیر سب کاموں کا اللہ ہی کی طرف پہنچے گا۔
وَمَنْ یُّسْلِمْ وَجْھَہٗ یعنی جو اپنی توجہ اللہ کی طرف کر دے اور کامل طور پر ہمہ تن اللہ کا ہوجائے ‘ اپنے تمام کام اللہ کے سپرد کر دے ‘ ہر کام کو کرنے یا نہ کرنے میں اللہ کی خوشنودی کا حصول اس کے پیش نظر ہو۔
وَھُوَ مُحْسِنٌ اور اپنے اعمال میں مخلص ہو۔ رسول اللہ نے فرمایا : احسان (اعمال کی خوبی) یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا (عبادت کے وقت وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے اور) تم اس کو دیکھ رہے ہو یعنی کامل حضور قلب کے ساتھ۔
فَقَدِ اسْتَمْسَکَ یعنی اس نے مضبوط ترین قبضہ پکڑ لیا اور ایسا محکم ذریعہ اپنی گرفت میں لے لیا جس کے ٹوٹنے کا احتمال نہ ہو۔ یہ نہایت لطیف تشبیہ ہے ‘ متوکل کو اس شخص سے تشبیہ دی ہے جس نے کوئی مضبوط قبضہ پکڑ رکھا ہو۔
ہر کام کا اخیر انجام اللہ ہی کی طرف ہے یعنی سب کو آخر میں اللہ ہی کے پاس جانا ہے۔
Ayah 31:23ومن کفر فلا یحزنک کفرہ الینا مرجعھم فننبءھم بما عملوا ان اللہ علیم بذات الصدور
اور جو شخص (ا اللہ کی طرف اپنا رخ نہ کرے اور) انکار کر دے تو اس کے انکار سے آپ کو رنجیدہ نہ ہونا چاہئے۔ ان سب کی واپسی ہماری ہی طرف ہوگی ‘ پھر ہم ان کو ان کے کئے ہوئے اعمال بتائیں گے (یعنی عذاب دیں گے) بیشک اللہ دلوں کی باتوں سے واقف ہے۔
فَلَا یَحْزُنْکَ کُفْرہٌ پورا کلام اس طرح تھا جو شخص کفر کرے گا وہ اپنا نقصان خود کرے گا۔ آپ کو کچھ ضرر نہ پہنچا سکے گا ‘ نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔ عدم ضرر ‘ عدم حزن کا موجب ہے اس لئے بجائے عدم ضرر کے عدم حزن کا ذکر کیا۔
عَلِیْمٌ مبِذَات الصَّدُوْرِ یعنی دلوں کے اندر کے چھپے ہوئے عقائد اور اندرونی خیالات سے اللہ بخوبی واقف ہے ‘ ظاہر کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ ہر شخص کے عقیدے اور عمل کے مطابق بدلہ دے گا۔
Ayah 31:24نمتعھم قلیلا . ہم ان کو کچھ مدت تک (یعنی اجل مقرر آنے تک یا کسی قدر تھوڑے سے) مزے اڑانے دیں گے۔ یعنی تھوڑی مدت تک ان کو مہلت دیں گے۔
ثم نضطرھم الی عذاب غلیظ . پھر ہم مجبور کر کے ان کو بھاری عذاب کی طرف لے جائیں گے۔ یعنی دوزخ کے عذاب کی طرف۔
عذاب غلیظ ‘ بھاری عذاب ‘ زیادہ بھاری چیزوں کا جس طرح دباؤ پڑتا ہے ‘ سخت عذاب کا بھی ایسا ہی بھاری بار ان پر پڑے گا۔
Ayah 31:25ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیقولن اللہ . اگر آپ ان (کافروں) سے دریافت
کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو بلاشبہ کہیں گے کہ اللہ نے (ان سب کو پیدا کیا) ۔
یعنی دوسروں کی طرف خلاقیت کی نسبت کرنے سے روکنے والی اتنی واضح دلیلیں موجود ہیں کہ جن کی روشنی میں ان کو صرف اللہ کی خلاقیت کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔
قل الحمد اللہ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ سزاوار ستائش ہے (ا اللہ کا شکر ہے) جس نے تم سے تمہارے عقیدے کے خلاف اقرار کرنے پر مجبور کردیا۔
بل اکثرھم لا یعلمون . بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے (کہ اللہ کی توحید کا اقرار ان پر لازم ہے اور جب ان کو متنبہ کیا جاتا ہے تو متنبہ نہیں ہوتے) ۔