Explained with ayahs 28–29
اس کے سامنے پر چیز حقیر وپست ہے
رات کو کچھ گھٹا کر دن کو کچھ بڑھانے والا اور دن کو کچھ گھٹاکر رات کو کچھ بڑھانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جاڑوں کے دن چھوٹے اور راتیں بڑی گرمیوں کے دن بڑے اور راتیں چھوٹی اسی کی قدرت کا ظہور ہے سورج چاند اسی کے تحت فرمان ہیں۔ جو جگہ مقرر ہے وہیں چلتے ہیں قیامت تک برابر اسی چال چلتے رہیں گے اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہوسکتے۔ بخاری ومسلم میں ہے حضور ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ سے دریافت کیا کہ جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ نے فرمایا یہ جاکر اللہ کے عرش کے نیچے سجدے میں گرپڑتا ہے اور اپنے رب سے اجازت چاہتا ہے قریب ہے کہ ایک…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 49
یعنی وہ بیک وقت ساری کائنات کی آوازیں الگ الگ سن رہا ہے اور کوئی آواز اس کی سماعت کو اس طرح مشغول نہیں کرتی کہ اسے سنتے ہوئے وہ دوسری چیزیں نہ سن سکے۔ اسی طرح وہ بیک وقت ساری کائنات کو اس کی ایک ایک چیز اور ایک ایک واقعہ کی تفصیل کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور کسے چیز کے دیکھنے میں اس کی بینائی اس طرح مشغول نہیں ہوتی کہ اسے دیکھتے ہوئے وہ دوسری چیزیں نہ دیکھ سکے۔ ٹھیک ایسا ہی معاملہ انسانوں کے پیدا کرنے اور دوبارہ وجود میں لانے کا بھی ہے۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک جتنے آدمی بھی پیدا ہوئے ہیں اور آئندہ قیامت تک ہوں گے ان سب کو وہ ایک آن کی آن میں پھر پیدا کرسکتا ہے۔ اس کی قدرت تخلیق ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
(آیت) ولو ان ما فی الارض من شجرة اقلام، اس آیت میں حق تعالیٰ نے اپنی معلومات اور اپنی قدرت کے تصرفات اور اپنی نعمتوں کی ایک مثال دی ہے کہ وہ غیر متناہی ہیں۔ نہ کسی زبان سے، وہ سب ادا ہو سکتے ہیں نہ کسی قلم سے سب کو لکھا جاسکتا ہے۔ مثال یہ فرمائی کہ ساری زمین میں جتنے درخت ہیں اگر ان سب شاخوں کے قلم بنا لئے جائیں اور ان کے لکھنے کے لئے سمندر کو روشنائی بنادیا جائے اور یہ سب قلم حق تعالیٰ کی معلومات اور تصرفات قدرت کو لکھنا شروع کریں تو سمندر ختم ہوجائے گا اور معلومات و تصرفات ختم نہ ہوں گے۔ اور ایک سمندر نہیں اس جیسے سات سمندر اور بھی شامل کردیئے جائیں، جب بھی سب سمندر ختم ہوجائیں گے لیکن اللہ…
Read the full tafseer →ما خلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ ط ان اللہ سمیع بصیر (28)
یہ اوپر کے تمام مقدمات کا نتیجہ اور خلاصہ سامنے رکھ دیا گیا ہے کہ جب اس کائنات کی ہر چیز شاہد ہے کہ اس کا خالق عزیز بھی ہے اور سکیم بھی تو اس امر میں کسی شک کی گنجائش کہاں باقی رہی کہ ایک دن اللہ تعالیٰ سب کو ازسرنو پیدا کرکے قبروں سے اٹھائے گا۔ وہ عزیز ہے اس وجہ سے اس کے لئے یہ کام ذرا بھی مشکل نہیں ہے اور حکیم ہے اس وجہ سے یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ ایسا کرے۔ اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو وہ عزیز نہیں رہتا اور اگر کرسکنے کے باوجود نہ کرے تو یہ اس کی حکمت کے مناف ہے اس لئے کہ قیامت کے بغیر یہ دنیا ایک بازیچہ اطفا بن کے رہ جاتی ہے۔ اس…
Read the full tafseer →28-1یعنی اس کی قدرت اتنی عظیم ہے کہ تم سب کا پیدا کرنا یا قیامت والے دن زندہ کرنے یا پیدا کرنے کی طرح ہے۔ اس لئے وہ جو چاہتا ہے لفظ کُنْ سے پلک جھپکتے میں معرض وجود میں آجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–34
14: یعنی الحمد للہ ! ان لوگوں نے اس حقیقت کا تو اعتراف کرلیا کہ اس کائنات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس سے جو کھلا ہوا نتیجہ نکالنا چاہیے تھا کہ جب یہ کائنات تنہا اسی نے پیدا کی ہے تو عبادت کے لائق بھی تنہا وہی ہے، اس کے نتیجے تک پہنچنے کے لیے انہوں نے سمجھ سے کام نہیں لیا، اور اپنے باپ دادوں کی تقلید میں شرک اختیار کیے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ولو ان ما فی الارض ۔۔۔۔۔۔۔ ان اللہ سمیع بصیر (27 – 28)
یہ ایک ایسا منظر ہے جو انسانوں کی معلومات اور ان کے محدود مشاہدات سے لیا گیا ہے تاکہ اللہ کی مشیت کے لامحدود کارناموں کو ان کے تصور کے قریب کردیا جائے۔ اس تمثیل اور مجسم انداز کے بغیر انسانی تصور اس کا ادراک ہی نہیں کرسکتا تھا۔
انسان اپنے علم کو لکھتے ہیں اور اپنے اقوال کا ریکارڈ کرتے ہیں ، اپنے احکام کو نافذ کرتے ہیں اور قلموں کے ذریعے وہ لکھتے ہیں۔ یہ قلمیں جنگلوں اور کلک سے بناتے ہیں اور پھر سیاسی بنا کر اس سے لکھتے ہیں۔ یہ سیاہی ایک شیشی یا ایک دوات میں ہوتی ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے کہ پوری زمین کے درختوں سے قلمیں بنا دی جائیں اور تمام…
Read the full tafseer →9 یعنی سارے جہاں کا پیدا کرنا اور ایک آدمی کا پیدا کرنا خدا تعالیٰ کے لئے دونوں برابر ہیں۔ نہ اس میں کچھ دقت نہ اس میں کچھ تعب۔ ایک " کن " سے جو چاہے کرڈالے اور لفظ " کن " کہنے پر بھی موقوف نہیں۔ یہ ہم کو سمجھانے کا ایک عنوان ہے بس ادھر ارادہ ہوا ادھر وہ چیز موجود۔
10 یعنی جس طرح ایک آواز کا سننا اور بیک وقت تمام جہان کی آوازوں کو سننا، یا ایک چیز کا دیکھنا اور بیک وقت تمام جہان کی چیزوں کو دیکھنا، اس کے لئے برابر ہیں۔ ایسے ہی ایک آدمی کا مارنا، جلانا، اور سارے جہان کا مارنا اور جلانا اس کی قدرت کے سامنے یکساں ہے پھر دوبارہ جلانے کے بعد بیک وقت تمام اولین و آخرین کے اگلے پچھلے اعمال کا رتی…
Read the full tafseer →آیت 28 مَا خَلْقُکُمْ وَلَا بَعْثُکُمْ اِلَّا کَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ط ”
پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی وسعت و عظمت کا تذکرہ تھا۔ اب اس وسیع و عریض کائنات کے انتظام و انصرام اور رنگا رنگ مخلوق کے معاملات کی نگرانی کا ذکر ہے کہ ان تمام امور کی نگہداشت اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔ جیسے آیت الکرسی سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہوا : وَلاَ یَءُوْدُہٗ حِفْظُہُمَاج وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ”اور اس پر گراں نہیں گزرتی ان دونوں زمین و آسمان کی حفاظت ‘ اور وہ بلند وبالا ہے ‘ بڑی عظمت والا۔“
Read the full tafseer →36 اس کی مثال یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ اربوں انسانوں کی پکار بیک وقت سن لیتا ہے۔ ایک انسان کی دعا سننا اسے دوسروں کی دعا سننے سے غافل یا قاصر نہیں بنا سکتا۔ اس کے لئے ایک انسان کی ایک وقت میں دعا سننا اور اربوں انسانوں کی اسی وقت میں دعا سننا برابر ہے۔ پھر اس کی مخلوق صرف انسان ہی نہیں۔ لاکھوں انواع میں اور اربوں کھربوں کی تعداد میں ہیں۔ وہ ان سب کی وہ دعا و فریاد سنتا ہے۔ اور ایک چیونٹی کی بھی فریاد اسی طرح سنتا ہے جیسے ایک انسان کی۔ پھر معاملہ صرف سننے تک محدود نہیں۔ بلکہ انہی کمالات کے ساتھ وہ اپنی ساری مخلوق کو دیکھ بھی رہا ہے۔ ان کے ظاہری اور باطنی حالات سے واقف بھی ہے۔ انھیں رزق بھی…
Read the full tafseer →30۔ اس کے نزدیک جیسے ایک کا جلانا ایسے سب کا جلااٹھانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
آیت نمبر 20 تا 30
ترجمہ : اے مخاطبو ! کیا تم اس بات کو نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں یعنی سورج اور چاند اور ستارے تاکہ تم ان سے فائدہ حاصل کرو اور ان چیزوں کو جو زمین میں ہیں، پھل اور نہریں اور جانور (وغیرہ) اور تم کو اپنی ظاہری نعمتیں اور وہ حسن صورت اور تناسب اعضاء وغیرہ وغیرہ ہیں، اور باطنی (نعمتیں) (اور) وہ معرفت (الہٰی) وغیرہ ہے بھر پور دے رکھی ہیں اور کچھ لوگ یعنی اہل مکہ ایسے بھی ہیں کہ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور رسول کی جانب سے بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے کہ جس کو اللہ نے نازل کیا ہو، جھگڑتے ہیں بلکہ تقلید…
Read the full tafseer →ما خلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ ان اللہ سمیع بصیر . تم سب کو پیدا کرنا اور سب کو
(قیامت کے دن زندہ کر کے) اٹھانا (ا اللہ کے لئے) بس ایک شخص (کے پیدا کرنے اور اٹھانے) کی طرح ہے۔ بلاشبہ اللہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔
یعنی اللہ کے نزدیک تم سب کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ اٹھانا ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص کو پیدا کرنا اور اٹھانا۔ اس کی ذاتی قدرت سے جب اس کے ارادہ کا تعلق ہوجائے تو سب کو پیدا کرنے اور اٹھانے کے لئے بس یہی کافی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک کام میں مشغول ہونے کے وقت دوسرے کام سے غافل ہوجائے۔ آن کی آن میں جس طرح ایک کی تخلیق اس کے ارادے سے ہوجاتی ہے ‘ اسی طرح ایک پل میں سب کی تخلیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
اور جتنے درخت زمین بھر میں ہیں اگر وہ سب قلم بن جائیں اور یہ جو سمندر ہیں ان کے علاوہ سات سمندر روشنائی کی جگہ اور ہوجائیں اور ان سے کلمات خداوندی اور علم خداوندی کو لکھا جائے تب بھی کلام اور علم خدا ختم نہ ہو، بیشک اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہت و سلطنت میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے۔
شان نزول : وَلَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ (الخ)
ابن جریر نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ اہل کتاب نے رسول اکرم ﷺ سے روح کے بارے میں دریافت کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ویسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلا۔ اس پر یہودی بولے کہ آپ…
Read the full tafseer →مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ : اللہ تعالیٰ کے کمال علم و قدرت کے بیان کے بعد کفار کی اس بات کی تردید فرمائی کہ ہم دوبارہ کیسے زندہ کیے جائیں گے ؟ چناچہ فرمایا، تم سب کو پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کرنے کی طرح ہی ہے، کیونکہ وہ تمام چیزوں کو کلمہ ”کُنْ“ سے موجود کردیتا ہے، پھر تمہیں دوبارہ زندہ کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟ دیکھیے سورة یٰس (22 اور 79)۔
اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ : ان دو صفات کی مناسبت یہاں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اربوں انسانوں کی پکار بیک وقت سن لیتا ہے۔ ایک انسان کی دعا سننا اسے دوسرے کی دعا…
Read the full tafseer →ضحاک نے کہا : تم سب کی تحقیق ایک نفس کی تخلیق کی طرح ہی ہے اور قیامت کے روز تمہارا اٹھانا ایک نفس کے اٹھانے کی طرح ہوگا۔ نحاس نے کہا : نحویوں نے یہی مقدر کیا ہے کہ تم سب کو پیدا کرنا ایک نفس کے پیدا کرنے کی طرح ہوگا، یعنی لفظ خلق مقدر ہے جس طرح اس ارشاد میں ہے : وسئل القریۃ (یوسف : 82) مجاہد نے کہا : کیونکہ وہ قلیل اور کثیر کے لیے فرماتا ہے کن فیکون (الانعام : 73) ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے (1) ۔ یہ آیت ابی بن خلف، ابی السدین، منبہ اور نبیہ جو حجاج بن سباق کے بیٹے تھے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا : اللہ تعالیٰ نے ہمیں مختلف مراحل سے گزار کر پیدا کیا پہلے نطفہ، پھر جما ہوا خون، پھر گوشت کا لوتھڑا پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ماخلقکم ولا بعثکم ال اکنفس واحدۃ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے فرمائیں گے ہوجا پس وہ ہوجائے گا تھوڑا ہو یا زیادہ۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ماخلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا پہلی بار سارے لوگوں کا پیدا کرنا اور ان کا دوبارہ زندہ کرنا ایک جان کے پیدا کرنے اور اس کو دوبارہ زندہ کرنے کی طرح ہے اور فرمایا آتی الم تر ان اللہ یولج الیل کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ داخل کرتا ہے رات کو دن یعنی رات کا کم ہونا اور دن کا زیادہ ہونا آیت…
Read the full tafseer →مَا [نہیں ہے ] خَلْقُكُمْ [تم لوگوں کا پید کرنا ] وَلَا بَعْثُكُمْ [اور نہ ہی تمہارا اٹھانا ] اِلَّا [مگر ] كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ [ایک جان (کو پیدا کرنے اور اٹھانے) کی مانند ] اِنَّ اللّٰهَ [یقینا اللہ ] سَمِيْعٌۢ [سننے والا ] بَصِيْرٌ [سیکھنے والا ہے ] ۔
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (مَا خَلْقُکُمْ وَلَا بَعْثُکُمْ اِلَّا کَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ) (تمہارا پہلی بار پیدا کرنا اور موت دے کر دوبارہ زندہ فرمانا یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک جان کو پیدا کرنا) یعنی سارے انسانوں کو دوبارہ زندہ فرمانا اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے، جس نے کثیر تعداد میں جانیں پیدا فرما دیں وہی دوبارہ ان سب کو زندہ اٹھا دے گا، ابتداً پیدا کرنا اور ایک جان کو پیدا کرنا اور بہت بھاری تعداد میں جانوں کا پیدا کرنا اور ان سب کو موت دے کر دوبارہ زندہ فرمانا اس قادر مطلق کے لیے یکساں ہے، لہٰذا بعث کا انکار کرکے اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ (اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ) (بےشک اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–32
ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…
Read the full tafseer →27:۔ ما خلقکم الخ، یہ تخویف اخروی ہے۔ تم سب کو پہلے پیدا کرنا اور پھر دوبارہ پیدا کرنا اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ ساری مخلوق کی پیدائش یا بعث اور ایک جان کی پیدائش یا بعث اللہ کے لیے یکساں ہے اس لیے وہ ضرور سب کو دوبارہ پیدا کرے گا اور ہرا یک کو اس کے اعمال کی جزاء سزا دے گا۔ ان اللہ سمیع بصیر یہ ما قبل کے لیے علت ہے یعنی جس طرح وہ ہر بات کو سنتا اور ہر چیز کو دیکھتا ہے اسی طرح اس کی قدرت کاملہ ہر کام پر حاوی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر اللہ تعالیٰ کی توحید اور ب عث بعد الموت کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے ، چناچہ سورة کے آغاز میں قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت اور ا اس کے واحی الٰہیہونے کا بیان تھا۔ پھر حضرت لقمان (رح) کی بعض نصیحتوں کا ذکر ہوا جن میں سرفہرست شرک کی تردید ہے ، اس کے بعد توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے ، نیز یہ بھی کہ مشرکوں کے پاس نہ کوئی عقلی دلیل ہے ، نہ کسی نبی یا بزرگ کا قول اور نہ کوئی روشن کتاب ہے جس سے وہ کفر یہ اور شرکیہ عقائد کو ثابت کرسکیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا ذکر ہوا ،۔ اور یہ بھی کہ شیطان لوگوں کو گمراہ کرتا ہے ۔ اکثر لوگ اپنے ابائو اجداد…
Read the full tafseer →مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ 0 ۭ اِنَّ اللہَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے
بعث
أصل…
Read the full tafseer →ماخلقکم ولابعثکم الخ یہاں سے اپنے بعض عجائبِ قدرت کا اظہار اس لیے فرماتا ہے کہ اس کے منکرین سخت منکر تھے۔ فرماتا ہے سب کا پیدا کرنا اور پھر زندہ کرنا اس کے نزدیک ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کرنے کے برابر ہے، کس لیے کہ جس طرح ایک سے علم وقدرت کا تعلق ہے، اسی طرح سب سے پھر کیوں تعجب کرتے ہو کہ تمام خلائق کی یادداشت کس طرح کرسکے گا ؟ ان اللہ سمیع وہ ہر ایک کی بات سنتا دلی ارادت سے خبر رکھتا ہے، بصیر ہر چیز کو دیکھتا ہے۔
Read the full tafseer →مَاخَلْقُکُمْ وَلاَ بَعْثُکُمْ اِلاَّ کَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ط اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ م بَصِیْرٌ۔ (لقمان : 28)
(اور تم کو پیدا کردینا اور پھر دوبارہ جِلا اٹھانا بس ایسا ہی ہے جسے ایک متنفس کو پیدا کردینا اور جِلا اٹھانا، بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ )
اس سے پہلے جو دلائل دیے گئے ہیں اور جس دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے شواہد پیش کیے گئے ہیں یہ مختصر آیت کریمہ ان تمام دلائل اور اس کے مقدمات کا خلاصہ بلکہ اس کا منطقی نتیجہ ہے۔ اس نتیجے کو سمیٹتے ہوئے فرمایا کہ تمہاری ذہنی خرابی کا اصل سبب یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی قدرت کی وسعتوں سے ناآشنا ہو۔ اس لیے قیامت کا وقوع تمہیں مستبعداز عقل محسوس ہوتا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس اللہ نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا۔ وہی پوری کی پوری کائنات کا مالک اور بادشاہ ہے اس کی تعریفات ختم ہونے والی نہیں وہی دوبارہ پیدا کرنے اور مارنے والا ہے۔
قرآن مجید نے تخلیق انسان کا بڑی تفصیل کے ساتھ تذکرہ کیا اور بتایا ہے کہ اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا فرما کر پھر بیشمار مرد اور عورتیں پھیلا دیے۔ اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔ “ [ النساء : 1] کفار کا سوال تھا کہ انسان مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے تو پھر اسے کس…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کو ایک شان ‘ دوسری شان سے غافل نہیں کرتی :
28: مَاخَلْقُکُمْ وَلَا بَعْثُکُمْ اِلَّا کَنَفْسٍ وَّ احِدَۃٍ (تمہارا پیدا کرنا اور اٹھایا جانا ایک جان کی طرح ہے) ای الَّا کَخْلق نفس واحدۃ خلق کا لفظ حذف کردیا گیا کیونکہ وہ معلوم و معروف ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے قلیل و کثیر کا فرق نہیں اس کو ایک شان دوسری شان سے غافل نہیں کرسکتی۔ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ (بیشک اللہ ہر بات کو سننے والے ہیں) جو مشرکین کہہ رہے ہیں کہ بعث بعد الموت نہیں ہے۔ بَصِیْر ( اور ہر چیز کو دیکھنے والے ہیں) جو اعمال وہ کرتے ہیں پس وہ ان کا بدلہ انہیں دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
تفسیر 28۔ ، ماخلقکم ولا بعشکم الاکنفس واحدۃ، یعنی تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا اور اسی سے پیدا کیا اس پر کوئی چیز متعذ ر نہیں ۔ ، ان اللہ سمیع بصیر،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
28 تا 32۔ مطلب یہ ہے کہ ساری مخلوقات کا پیدا کرنا اور بعد مرنے کے پھر اس کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ کی قدرت کے سامنے کچھ مشکل نہیں ہے بلکہ اس کی ایسی مثال ہے جیسا کہ ایک جان پیدا کرنا اور جلانا ہے کس لیے کہ سب کا موجود کرنا فقط کن کے کہنے سے ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا انما امرہٗ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قادر مطلق جب ارادہ کرتا ہے کسی شے کا تو فرماتا ہے ہوجا وہ ہوجاتی ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ سننے والا ہے سب کے قولوں کا اور دیکھنے والا ہے سب کے عملوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ حشر کے منکر جو باتیں کرتے ہیں اور حشر کو جھٹلا کر جس طرح کے کاموں میں مصروف ہیں ان سب کی اللہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
آیت نمبر : 25 ۔ 28
اگر آپ حق کو جھٹلانے والے ان مشرکین سے پوچھیں (من خلق السموٰت والارض) ” آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ “ تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ ان کے بتوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ بول اٹھتے کہ اللہ اکیلے نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے (قل) ان کو الزامی جواب دیتے اور ان کے اس اقرار کو ان کے انکار کے خلاف حجت بناتے ہوئے کہہ دیجیے ! (الحمدللہ) ” ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے “ جس نے نور کو واضح کردیا اور خود تمہاری ہی طرف سے دلیل کو ظاہر کردیا۔ اگر وہ جانتے ہوتے تو انہیں یقین ہوتا کہ وہ ہستی جو کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے وہ استحقاق عبادت اور توحید میں بھی متفرد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–33
آخرت میں نسب کی بجائے عمل کام آئے گا
قول باری ہے (واخسوا یوما لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا۔ اور اس دن کا خوف رکھو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ ہوسکے گا اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی بدلہ بن سکے گا) آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی کو اس کے باپ یا نسب کے شرف کی بنا پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو چھوڑ کر کسی ایک کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔
اس مضمون میں حضور ﷺ سے روایت بھی وارد ہے۔ آپ کا ارشاد ہے (من ابطابہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ۔ جس شخص کا عمل اسے سست کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔ ) آپ نے…
Read the full tafseer →56 بعث بعد الموت کے بارے میں قدرت کے ایک نمونے کا ذکر وبیان : سو بعث بعد الموت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ سب لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنا ایک جان کے پیدا کرنے کی طرح ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم سب لوگوں کو پیدا کرنا اور دوبارہ اٹھانا محض ایک شخص کی طرح ہے "۔ کہ اس قادر مطلق کے یہاں صرف حکم کرنے کی دیر ہوتی ہے اور بس ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جب اس قادر مطلق کی عظمت شان کا یہ عالم ہے تو پھر اس کیلئے سب لوگوں کا دوبارہ زندہ کرکے اٹھانا کچھ بھی مشکل نہیں ہوسکتا۔ اور جب وہ عزیز کے ساتھ حکیم بھی ہے تو اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ تم کو دوبارہ اٹھائے۔ سو سب لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنے کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
اللہ کی ربوبیت کے کرشمے
تشریح : انسان فطرتاً نیک اور مسلم پیدا ہوا ہے مگر حالات اور بدلتے ہوئے زمانے کے مطابق انسان کے عقائد، رہن سہن اور رجحانات میں تبدیلی آتی رہی اور آئندہ بھی آتی رہے گی۔ لیکن اندر سے انسان اللہ سے دور کبھی نہ ہوسکا نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی تخلیقات اس کو ہمیشہ کسی نہ کسی صورت اپنی طرف متوجہ ضرور کرتی رہتی ہیں۔ اور پھر جس میں سوجھ بوجھ پیدا ہوجائے اس کے دل میں نور ایمان بھی روشن ہوتا رہتا ہے۔ اس کی مثال ہم اس روسی خلاباز مسٹر جون ینگ (John Young) کی دے سکتے ہیں جو کہ 1981ء میں خلائی بس کو لمبیا خلائی سفر میں بھیجی گئی تھی تو اس کے دو مسافروں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
آیات 20 تا 30
کیا تم اس بات سے بیخبر ہو کہ اللہ نے سب آسمانی اور زمینی مخلوق کو تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے اور یہ بات سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت ہے کہ جس قدر ستارے یا سیارے معلوم ہوئے سب کی توجہات کا مرکز زمین ہے اور ان کی حرکات یا روشنی و گرمی سے زمین میں مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں چاند و سورج کی روشنی و گردش بھی زمین میں حیات آفرینی کی خدمت پر مامور ہے اور یہ سب کچھ انسان کی ہی خدمت کر رہا ہے اسی طرح آسمانی فرشتے بھی کچھ امور حیات انجام دینے پہ لگے ہیں تو عبادات کرنے والے انسانوں کے لیے دعاؤں پہ مامور ہیں۔
ظاہری و باطنی نعمتیں :
پھر اس نے تمام ظاہری و باطنی نعمتوں سے انسان کو نوازا ہے ظاہری…
Read the full tafseer →ف 7 اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کا کمال بیان کرنے کے بعد اب حشر کے استبعاد کو باطل فرمایا (کبیر) یعنی اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کو کلمہ کن سے موجود کردیتا ہے۔ پھر تمہارا اعادہ اس کے لئے کیا مشکل ہے۔ (دیکھیے یسین :82)8 یعنی جب وہ اپنے سمع، بصر سے تمہارے تمام اقوال و افعال کا احاطہ کئے ہوئے ہے تو دوبارہ زندہ کرنا، اس کے لئے کیا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →(31:28) ما بعثکم و۔ مضاف مضاف الیہ ۔ تمہارا زندہ کرنا۔ تمہارا جلانا۔ تمہارا اٹھانا۔ موت کے بعد دوبارہ زندہ اٹھا کھڑا کرنا۔
کنفس واحدۃ۔ کاف تشبیہ کے لئے ہے ایک نفس کی مانند۔ یعنی تم سب کو پیدا کرنا۔ اور مارنے کے بعد پھر زندہ کرنا۔ اللہ کے نزدیک ایک نفس کے پیدا کرنے اور مارنے اور زندہ کرنے کے برابر ہے۔ قلت و کثرت، واحد و جمع، صغرو کبرسب اس کے سامنے برابر ہیں
یولج۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ایلاج (افعال) مصدر وہ داخل کرتا ہے۔ ولج مادہ۔ الولوج۔ ولج یلج (باب ضرب) کے معنی کسی تنگ جگہ میں داخل ہونے کے ہیں۔ مثلا قرآن مجید میں آیا ہے حتی یلج الجمل فی سم الخیاط (7:40) یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے (نہ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
لغات القرآن آیت نمبر (25 تا 30)
سالت (تو نے پوچھا۔ سوال کیا) ۔ یقولن (وہ ضرور کہیں گے) ۔ ابحر (بحر) (سمندر) ۔ کلمات اللہ (اللہ کی باتیں) ۔ مانفدت (ختم نہیں ہوئی (ختم نہ ہوں گی) ۔ بعث (دوبارہ اٹھانا) ۔ یولج (وہ داخل کرتا ہے) ۔
تشریح آیت نمبر (25 تا 30) ۔ ” جو لوگ اللہ کی ذات، صفات، قدرت اور کمالات کا انکار کرتے ہیں اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان اور ان میں بسنے والی مخلوق کو کس نے پیدا کیا ہے تو ان کے منہ سے بےساختہ یہی نکلے گا کہ اللہ نے پیدا کیا ہے۔ ضمیر کی اس سچی اور پر خلوص آواز کے باوجود جب عبادت کرنے اور سر جھکا نے کا وقت آتا ہے تو وہ کائنات کے حقیقی خالق ومالک کو چھوڑ کر بےحققیت…
Read the full tafseer →(ف 1) مطلب یہ ہے کہ ساری مخلوقات کا پیدا کرنا اور بعد مرنے کے پھر اس کا زندہ کرنا اللہ کی قدرت کے سامنے کچھ مشکل نہیں ہے بلکہ اس کی ایسی مثال ہے جیسا کہ ایک جان کا پیدا کرنا اور جلانا ہے کس لیے کہ سب کا موجود کرنا فقط کن کے کہنے سے ہوجاتا ہے وہ قادر مطلق ہے جب ارادہ کرتا ہے کسی شے کا تو فرماتا ہے ہوجا، وہ ہوجاتی ہے اللہ تعالیٰ سننے والا ہے ، اور سب کے عملوں کو دیکھنے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ حشر کے منکر جو باتیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سننے والا ہے ۔ اور حشر کو جھٹلاکرجس طرح کے کاموں میں مصروف ہیں ان سب کی اللہ کو خبر ہے حاصل کلام یہ ہے کہ جب ایک کلمہ کن کے ساتھ ہی یہ حشر کے جھٹلانے والے دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
[15] یہ مضمون سورة کہف آیت 109 صفحہ 690 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
سمندر بہت بڑی نعمت ہے
1: سمندر پہلے صرف پانی کا ایک اٹھاہ ذخیرہ تھا اس کے بعد اس میں کشتیاں چلنے لگیں اور تجارت کے غیر معلوم دروازے کھلے اور پھر اس کو اقتصادی دنیا میں بہت بڑی اہمیت حاصل ہوگئی ۔ چناچہ آج جس کے پاس بحری قوت زیادہ ہے ۔ وہ سب سے زیادہ خوشحال ہے اور سب سے زیادہ مضبوط ہے قرآن حکیم نے آج سے چودہ سو سال پیشتر سمندر کی سیاسی اور اقتصادی اہمیت کا ان الفاظ میں ذکر کیا ہے کہ ان فی ذالک لایات لکل صبار شکور کو سمندر کے فوائد ان لوگوں پر ظاہر ہوں گے جو مصائب کو برداشت کرینگے اس کی مواج اور متلاطم لہروں سے متصادم ہوجانے کی سکت رکھتے ہوں ۔ اس کی گہرائیوں اور وسعتوں سے ڈر نہ جائیں جو اس کے…
Read the full tafseer →28۔ تم سب کا ابتدائی پیدا کرنا اور مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا اور زندہ کرنا بس ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص کا پیدا کرنا اور مرنے کے بعد جلانا یقینا اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ سب کا زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے ایک آدمی کو پیدا کرنا اور ایک آدمی کو مرنے کے بعد زندہ کرلینا نہ سب کو پیدا کرنے اور دوبارہ زندہ کرنے میں کچھ تعب اور نہ ایک کو پیدا کرنے اور دوبارہ زندہ کرنے میں کوئی آسانی اور سہولت ! حضرت حق کے ارادے کا جہاں تعلق ہوا اور چیز موجود ہوئی ہر ایک کی سنتا اور ہر ایک کو دیکھتا ہے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ پس جو لوگ باوجود ان دلائل کے بعث کا انکار کر رہے ہیں اور اس جرات پر فسق و فجور کرتے ہیں، ان سب کو سن رہا ہے دیکھ رہا ہے۔
Read the full tafseer →ساری دنیا کے انسانوں کو پیدا کرنا ایسا ہی ہے جیسے ایک فرد کا پیدا کرنا :
28۔ منکرین قیامت کا اثبات نہایت مشکل ہے انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اربوں آتی کہ اربوں سال گزرنے کے بعد ان سارے مردوں کو کس طرح زندہ کردیا جائے گا ؟ ایک طرف تو ان کو یہ تعجب ہے اور دوسری طرف وہ گننے لگتے ہیں کہ دیکھو عیسیٰ (علیہ السلام) نے کتنے مردے زندہ کئے اور فلاں پیر اور فلاں بزرگ نے فلاں انسان کو ‘ فلاں بچے کو فلاں فلاں انسانوں کو اس طرح زندہ کیا اور بارہ برس کے بعد زندہ کرنے والے کا زکر تو ہر خاص وعام کی زبان پر ہے ایک طرف ان کی یہ حالت ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا دوبارہ انسانوں کو پیدا کردینا ان پر نہایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
Commentary
In the first of the two verses cited above, the address is to common people, believing and disbelieving both. They have been served with a notice that they will face Allah and be accountable before Him for their deeds on the day of Judgment and that they should be prepared for it. It was said: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ( O people, fear your Lord - 33). At this place, the text has not gone by the name of Allah Ta'ala or His some other attribute. Instead of that, it has elected to mention the attribute of Rabb (master, sustainer of all, usually translated as Lord with…
Read the full tafseer →49 That is, 'He is hearing every sound in the universe distinctly at one and the same time, and no sound can absorb his hearing so completely that He may hear no other sound. Likewise, He is seeing the whole universe in each of its details as to thing and event at one and the same time and nothing can absorb His sight so completely that He may see nothing else. The same precisely is the case concerning the creation of men and their re-creation also. He can re-create instantaneously aII the men who have been born since the beginning of the creation and will be born till the end of time, His…
Read the full tafseer →