Explained with ayahs 26–27
حمد و ثنا کا حق ادا کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں
اللہ رب العلمین اپنی عزت کبریائی بڑائی جلالت اور شان بیان فرما رہا ہے اپنی پاک صفتیں اپنے بلند ترین نام اور اپنے بیشمار کلمات کا ذکر فرما رہا ہے جنہیں نہ کوئی گن سکے نہ شمار کرسکے نہ ان پر کسی کا احاطہ ہو نہ ان کی حقیقت کو کوئی پاسکے۔ سید البشر ختم الانبیاء ﷺ فرمایا کرتے تھے (لا احصی ثناء علیک کما اثنیت علی نفسک) اے اللہ میں تیری تعریفوں کا اتنا شمار بھی نہیں کرسکتا جتنی ثناء تو نے اپنے آپ فرمائی ہے۔ پس یہاں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ اگر روئے زمین کے تمام تر درخت قلمیں بن جائیں اور تمام سمندر کے پانی سیاہی بن جائیں اور ان کیساتھ ہی سات…
Read the full tafseer →سورة لُقْمٰن 48
اللہ کی باتوں سے مراد ہیں اس کے تخلیقی کام اور اس کی قدرت و حکمت کے کرشمے۔ یہ مضمون اس سے ذرا مختلف الفاظ میں سورة کہف آیت 109 میں بھی بیان ہوا ہے۔ بظاہر ایک شخص یہ گمان کرے گا شاید اس قول میں مبالغہ کیا۔ لیکن اگر آدمی تھوڑا سا غور کرے تو محسوس ہوگا کہ درحقیقت اس میں ذرہ برابر مبالغہ نہیں ہے۔ جتنے قلم اس زمین کے درختوں سے بن سکتے ہیں اور جتنی روشنائی زمین کے موجودہ سمندر اور ویسے ہی سات مزید سمندر فراہم کرسکتے ہیں، ان سے اللہ کی قدرت و حکمت اور اس کی تخلیق کے سارے کرشمے تو درکنار، شائد موجودات عالم کی مکمل فہرست بھی نہیں لکھی جاسکتی۔ تنہا اس زمین پر جتنی موجودات پائی جاتی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
(آیت) ولو ان ما فی الارض من شجرة اقلام، اس آیت میں حق تعالیٰ نے اپنی معلومات اور اپنی قدرت کے تصرفات اور اپنی نعمتوں کی ایک مثال دی ہے کہ وہ غیر متناہی ہیں۔ نہ کسی زبان سے، وہ سب ادا ہو سکتے ہیں نہ کسی قلم سے سب کو لکھا جاسکتا ہے۔ مثال یہ فرمائی کہ ساری زمین میں جتنے درخت ہیں اگر ان سب شاخوں کے قلم بنا لئے جائیں اور ان کے لکھنے کے لئے سمندر کو روشنائی بنادیا جائے اور یہ سب قلم حق تعالیٰ کی معلومات اور تصرفات قدرت کو لکھنا شروع کریں تو سمندر ختم ہوجائے گا اور معلومات و تصرفات ختم نہ ہوں گے۔ اور ایک سمندر نہیں اس جیسے سات سمندر اور بھی شامل کردیئے جائیں، جب بھی سب سمندر ختم ہوجائیں گے لیکن اللہ…
Read the full tafseer →ولو ان فی الارض من شجرۃ اقلام والبحر یمدہ من بعدہ سبعۃ البحرما نفدت کلمت اللہ ان اللہ عزیز حکیم (27)
سورة کہف میں یہی مضمون بدیں الفاظ گزرا ہے :
قل لو کان البحر مدادا لکلمت ربی النفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی ولو جئنا بمثلہ مدادا (109)۔
ان سے کہہ دو کہ اگر میرے رب کی نشانیوں کو قلم بند کرنے کے لئے سمندر بھی روشنائی بن جائے تو میرے رب کی نشانیوں کے قلم بندہونے سے پہلے سمندر خشک ہوجائے گا اگرچہ اسی کے برابرہم اور روشنائی فراہم کرلیں۔
’ کلمنت ‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ نشانیاں ہیں جو اس کی ذات وصفات اور اس کی قدرت و حکمت پر گواہی دیتی ہیں۔ چونکہ ہر نشانی اللہ کے کلمہ کن کا مظہر ہے اور ہر نشانی…
Read the full tafseer →27-1اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی، جلالت شان، اس کے اسمائے حسنٰی اور صفات عالیہ اور اس کی عظمتوں کا بیان ہے کہ وہ اتنے ہیں کہ کسی کے لئے ان کا احاطہ یا ان سے آگاہی یا ان کی حقیقت تک پہنچنا ممکن ہی نہیں اگر ان کا شمار کرنا حیطہ تحریر میں لانا چاہے، تو دنیا بھر کے درختوں کے قلم گھس جائیں، سمندروں کے پانی سے بنائی ہوئی سیاہی ختم ہوجائے، لیکن اللہ کی معلومات، اس کی تخلیق و صنعت کے عجائبات اور عظمت و جلالت کے مظاہر کو شمار نہیں کیا جاسکتا۔ سات سمندر بطور مبالغہ ہے، حصر مراد نہیں (ابن کثیر) اس لیے کہ اللہ کی آیات و کلمات کا حصر و احصاء ممکن ہی نہیں ہے۔ اسی مفہوم کی ایک آیت سورة کہف کے آخر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–34
14: یعنی الحمد للہ ! ان لوگوں نے اس حقیقت کا تو اعتراف کرلیا کہ اس کائنات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس سے جو کھلا ہوا نتیجہ نکالنا چاہیے تھا کہ جب یہ کائنات تنہا اسی نے پیدا کی ہے تو عبادت کے لائق بھی تنہا وہی ہے، اس کے نتیجے تک پہنچنے کے لیے انہوں نے سمجھ سے کام نہیں لیا، اور اپنے باپ دادوں کی تقلید میں شرک اختیار کیے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ولو ان ما فی الارض ۔۔۔۔۔۔۔ ان اللہ سمیع بصیر (27 – 28)
یہ ایک ایسا منظر ہے جو انسانوں کی معلومات اور ان کے محدود مشاہدات سے لیا گیا ہے تاکہ اللہ کی مشیت کے لامحدود کارناموں کو ان کے تصور کے قریب کردیا جائے۔ اس تمثیل اور مجسم انداز کے بغیر انسانی تصور اس کا ادراک ہی نہیں کرسکتا تھا۔
انسان اپنے علم کو لکھتے ہیں اور اپنے اقوال کا ریکارڈ کرتے ہیں ، اپنے احکام کو نافذ کرتے ہیں اور قلموں کے ذریعے وہ لکھتے ہیں۔ یہ قلمیں جنگلوں اور کلک سے بناتے ہیں اور پھر سیاسی بنا کر اس سے لکھتے ہیں۔ یہ سیاہی ایک شیشی یا ایک دوات میں ہوتی ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے کہ پوری زمین کے درختوں سے قلمیں بنا دی جائیں اور تمام…
Read the full tafseer →8 یعنی اگر تمام دنیا کے درختوں کو تراش کر قلم بنالیں اور موجودہ سمندر کی سیاہی تیار کی جائے، پھر پیچھے سے سات سمندر اور اس کی کمک پر آجائیں اور فرض کرو تمام مخلوق اپنی اپنی بساط کے موافق لکھنا شروع کرے، تب بھی ان باتوں کو لکھ کر تمام نہ کرسکیں گے جو حق تعالیٰ کے کمالات اور عظمت و جلال کو ظاہر کرنیوالی ہیں، لکھنے والوں کی عمریں تمام ہوجائیں گی۔ قلم گھس گھس کر ٹوٹ جائیں گے، سیاہی ختم ہوجائے گی پر اللہ کی تعریفیں اور اس کی خوبیاں ختم نہ ہوں گی، بھلا محدود و متناہی قوتوں سے لا محدود اور غیر متناہی کام سرانجام کیونکر ہو۔ " اللہم لا احصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک۔ "
Read the full tafseer →آیت 27 وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَامٌ ”
قرآن مجید کے اس اسلوب کی طرف پہلے بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ اہم مضامین کم از کم دو مرتبہ ضرور دہرائے جاتے ہیں۔ چناچہ یہی مضمون سورة الکہف میں اس طرح بیان ہوا ہے : قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِءْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ اگر سمندر سیاہی بن جائے میرے رب کی باتوں کے لکھنے کے لیے تو یقیناً سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں اگرچہ ہم اسی کی طرح اور سمندر بھی مدد کے لیے لے آئیں“۔ سورة الکہف کی اس آیت…
Read the full tafseer →35 اللہ کے کلمات سے مراد اس کے تخلیقی کارنامے، اس کے عجائبات اور کرشمے اور اس کی خوبیاں ہیں۔ اور ان کے بیشمار پہلو ہیں۔ مثلاً انسان کے اندر کی دنیا کے عجائبات اور بیرونی دنیا کے عجائبات۔ انسان کی عقل اور علم ان دونوں میں کسی کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔ اور جو کچھ وہ جانسکا ہے اسے بھی ضابطہ تحریر میں لانا ناممکن ہے اور نہ بیان کیا جاسکتا ہے۔ جہاں انسان کی عقل اور اس کا علم خود ہی ورطہ حیرت میں پڑجاتے اسے وہ لکھے گا کیا اور بیان کیا کرسکتا ہے۔ پھر یہ ایک نوع انسان ہی کی بات نہیں جو اربوں کی تعداد میں دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ حیوانات کی تقریباً دس لاکھ انواع ایسی ہیں جو انسان کے علم میں آچکی ہیں۔ ان…
Read the full tafseer →28۔ (چنانچہ ایک ایک درخت سے ہزار ہا ہزار قلم تیار ہونے لگیں)
29۔ وہ قدرت میں بھی کامل ہے اور علم و حکمت میں بھی، اس کی قدرت اور حکمت کی شانیں لاانتہاء ہیں۔ انسان اپنی سمجھ کے لائق بس یہ فرض کرلے، کہ روئے زمین کے جنگلوں میں، باغوں میں، کھیتوں میں، مکانوں میں، راہوں اور سڑکوں پر جو بیشمار درخت ہیں، یہ سب بھی اگر بےگشتی قلموں میں تبدیل ہوجائیں، اور دنیا کے سمندری پانی کا موجودہ ذخیرہ کئی گنا بڑھ کر روشنائی کے سمندر مل کر بھی اللہ کی قدرت و حکمت کو احاطہ میں لانے میں کافی نہیں ہوسکتے۔ (آیت) ” عزیز حکیم “۔ قدرت اور علم یہ وہ دو صفتیں ہیں جو تمام صفات وافعال سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس لیے عموم کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
آیت نمبر 20 تا 30
ترجمہ : اے مخاطبو ! کیا تم اس بات کو نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں یعنی سورج اور چاند اور ستارے تاکہ تم ان سے فائدہ حاصل کرو اور ان چیزوں کو جو زمین میں ہیں، پھل اور نہریں اور جانور (وغیرہ) اور تم کو اپنی ظاہری نعمتیں اور وہ حسن صورت اور تناسب اعضاء وغیرہ وغیرہ ہیں، اور باطنی (نعمتیں) (اور) وہ معرفت (الہٰی) وغیرہ ہے بھر پور دے رکھی ہیں اور کچھ لوگ یعنی اہل مکہ ایسے بھی ہیں کہ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور رسول کی جانب سے بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے کہ جس کو اللہ نے نازل کیا ہو، جھگڑتے ہیں بلکہ تقلید…
Read the full tafseer →ولو ان ما فی الارض من شجرۃ اقلام والبحر یمدہ من بعدہ سبعۃ ابحر ما نفدت کلمت
ا اللہ . اور اگر زمین میں جتنے درخت ہیں ‘ سب قلم ہوجائیں اور (محیط کل) سمندر کو اس کے پیچھے سے مزید سات سمندر مدد پہنچائیں (یعنی سب سیاہی بن جائیں اور اللہ کے معلومات لکھے جائیں تو قلم گھس کر ختم ہوجائیں گے اور روشنائی تمام ہوجائے گی مگر) اللہ کے کلمات (معلومات) ختم نہیں ہوں گے۔
یَمُدُّہٗ یعنی اس محیط کل سمندر میں پیچھے سے مزید سات سمندر روشنائی بڑھائیں اور اس میں آکر گریں۔ یَمُدُّہٗ مَدَّالدَّوَات سے مشتق ہے۔ دوات میں روشنائی پڑنے کو مددوات کہتے ہیں۔
کَلِمٰتُ اللہ یعنی ان کی معلومات (غیر متناہی ہیں ‘ کتنے ہی قلم ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
اور جتنے درخت زمین بھر میں ہیں اگر وہ سب قلم بن جائیں اور یہ جو سمندر ہیں ان کے علاوہ سات سمندر روشنائی کی جگہ اور ہوجائیں اور ان سے کلمات خداوندی اور علم خداوندی کو لکھا جائے تب بھی کلام اور علم خدا ختم نہ ہو، بیشک اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہت و سلطنت میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے۔
شان نزول : وَلَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ (الخ)
ابن جریر نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ اہل کتاب نے رسول اکرم ﷺ سے روح کے بارے میں دریافت کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ویسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلا۔ اس پر یہودی بولے کہ آپ…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ۔۔ : ”کلمت“ ”کَلِمَۃٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی کلام ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَاۗىِٕلُهَا) [ المؤمنون : 100 ] ”یہ تو ایک بات ہے جسے وہ کہنے والا ہے۔“ مراد اللہ تعالیٰ کے دوسرے کلام کے ساتھ ساتھ کلمہ ”کُنْ“ بھی ہے۔ یہ اس خیال کا رد ہے جو ذہن میں پیدا ہوسکتا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا مالک ہے اور وہ غنی ہے، مگر یہ سب کچھ ختم بھی تو ہوسکتا ہے اور جو غنی ہے وہ محتاج بھی تو ہوسکتا ہے۔ اس خیال کے رد میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں کبھی کمی نہیں ہوسکتی اور نہ وہ کبھی محتاج ہوسکتا ہے، کیونکہ وہ جب کسی چیز کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
جب مشرکین کے خلاف استدلال کیا ہے جس کے ساتھ استدلال کیا ہے تو اس امر کو واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ سبحانہ کے کلام کے معانی ختم نہیں ہوں گے ان کی کوئی انتہا نہیں۔ قفال نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے اس امر کو ذکر کیا کہ اس ذات پاک نے ان کے لیے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب کو ان کے لیے مسخر کردیا ہے اور ان پر اپنی نعمتیں بہائی ہیں تو اس مر پر بھی آگاہ کیا کہ اگر درخت قلمیں ہوتے اور سمندر روشنائی ہوتی اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفت کے عجائبات کو لکھا جاتا جو عجائبات اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتے تو وہ عجائبات ختم نہ ہوتے۔
قشیری نے کہا : ان کلمات کے معنی کو مقدورات کی…
Read the full tafseer →1۔ ابن اسحاق وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہود کے علماء نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ میں کہا اے محمد ﷺ آپ اپنے اس قول آیت لو ان مافی الارض من شجرۃ اقلام کے بارے میں بتائیے آیا اس سے مراد ہم ہیں یا آپ کی قوم سب مراد ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں تو انہوں نے کہا تم اس میں تلاوت نہیں کرتے جو آپ کے پاس پیغام آیا ہے کہ ہم کو تورات عطا کی گئی اور اس میں ہر چیز کا بیان ہے آپ نے فرمایا بلاشبہ اللہ کے علم میں جو ہے اس کے مقابلے میں تورات کا علم بہت تھوڑا ہے تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا آیت لو ان ما فی الارض من شجرۃ اقلام۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّ [اور اگر یہ (ہوتا) کہ ] مَا [جو ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] مِنْ شَجَـرَةٍ [(از قسم) درخت میں سے ہے وہ ] اَقْلَامٌ [قلم ہوتے ] وَّالْبَحْرُ [اور سمندر (روشنائی ہوتا)] يَمُدُّهٗ [بڑھاتے اس کو ] مِنْۢ بَعْدِهٖ [اس کے بعد ] سَبْعَةُ اَبْحُرٍ [سات سمندر ] مَّا نَفِدَتْ [تو ختم نہیں ہوں گے ] كَلِمٰتُ اللّٰهِ ۭ [اللہ کے فرمان ] اِنَّ اللّٰهَ [یقینا اللہ ] عَزِيْزٌ [بالادست ہے ] حَكِيْمٌ [حکمت والا ہے ] ۔
ترکیب : (آیت۔ 27) لو شرطیہ ہے۔ ما فی الارض سے سبعۃ ابحر تک شرط ہے اور ما نفدت کلمت اللہ جواب شرط ہے۔ شرط میں ما فی الارض من شجرۃ صلہ موصول مل کر مبتدا ہے اور اقلام اس کی خبر ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
کلمات سے کیا مراد ہے ؟ بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی صفت قدیم کلام نفسی مراد ہے، اور بعض حضرات نے اس سے اللہ تعالیٰ کی معلومات اور مقدورات مراد لی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی معلومات اور مقدورات غیر متناہی ہیں، جتنے بھی قلم تیار کرلیے جائیں اور جتنے بھی سمندروں کی روشنائی بنالی جائے پھر قلموں سے اللہ تعالیٰ کی معلومات و مقدورات کو لکھا جائے تو یہ معلومات و مقدورات ختم نہیں ہوسکتیں، ان کا احصاء نہیں ہوسکتا۔ اور بعض حضرات نے اس سے اللہ تعالیٰ کی صفات کمالیہ مراد لی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے کمالات کو لکھا جائے تو کبھی ختم نہیں ہوسکتے، ان کو لکھتے لکھتے بےانتہاء کروڑوں قلم اور کروڑوں بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–32
ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…
Read the full tafseer →26:۔ ولو ان الخ، یہ توحید پر پانچویں عقلی دلیل ہے اور اس سے نفی شرک فی العلم مقصود ہے یعنی جس طرح سب کچھ کرنے والا اللہ تعالیی ہے اسی طرح سب کچھ جاننے والا بھی وہی ہے۔ لو شرطیۃ، ما فی الارض اسم ان، من شجرۃ بیان ما، اقلام خبر ان، والبھر مبتدا، یمدہ الخ جملہ خبر، یہ جملہ ما موصولہ سے یا فی الارض کے متعلق مقدر کے فاعل سے حال ہے۔ ما نفدت الخ لو کا جواب ہے۔ اور ما نفدت الخ لو کا جواب ہے اور ما نفدت سے پہلے کلام مقدر ہے۔ ای وکتبت بتلک الاقلام وبذلک المداد کلمات اللہ ما نفدت الخ (الکل من الروح) یہاں اللہ تعالیٰ کے معلومات کے لا محدود اور غیر متناہی ہونے کا بیان ہے یعنی دنیا کے تمام درختوں کی قلمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر اللہ تعالیٰ کی توحید اور ب عث بعد الموت کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے ، چناچہ سورة کے آغاز میں قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت اور ا اس کے واحی الٰہیہونے کا بیان تھا۔ پھر حضرت لقمان (رح) کی بعض نصیحتوں کا ذکر ہوا جن میں سرفہرست شرک کی تردید ہے ، اس کے بعد توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے ، نیز یہ بھی کہ مشرکوں کے پاس نہ کوئی عقلی دلیل ہے ، نہ کسی نبی یا بزرگ کا قول اور نہ کوئی روشن کتاب ہے جس سے وہ کفر یہ اور شرکیہ عقائد کو ثابت کرسکیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا ذکر ہوا ،۔ اور یہ بھی کہ شیطان لوگوں کو گمراہ کرتا ہے ۔ اکثر لوگ اپنے ابائو اجداد…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَۃٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ يَمُدُّہٗ مِنْۢ بَعْدِہٖ سَبْعَۃُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللہِ 0 ۭ اِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 27
شجر
الشَّجَرُ من النّبات : ما له ساق، يقال : شَجَرَةٌ وشَجَرٌ ، نحو : ثمرة وثمر . قال تعالی: إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ الفتح/ 18] ، وقال : أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها [ الواقعة/ 72] ، وقال : وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ [ الرحمن/ 6] ، لَآكِلُونَ مِنْ شَجَرٍ مِنْ زَقُّومٍ [ الواقعة/ 52] ، إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ [ الدخان/ 43] . وواد شَجِيرٌ: كثير الشّجر، وهذا الوادي أَشْجَرُ من ذلك، والشَّجَارُ…
Read the full tafseer →ولو ان ما فی الارض الخ یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ اس کی قدرت وکبریائی کا حال تو معلوم ہوگیا، اب اس کے علم اور دیگر صفات و شیون کا حال سنو کہ دنیا بھر کے تمام درختوں کے قلم بنائے جائیں اور سات سمندروں کی سیاہی بناکر اس کے اوصاف اور شیون اور معلومات کو لکھا جاوے تو وہ کم ہوجاویں گے، مگر وہ کلمات کہ جن سے اس کے معلومات اور شیون کو تعبیر کیا جاوے ہرگز کم نہ ہوں گے۔ ان اللہ عزیز حکیم کس لیے کہ اللہ زبردست ہے، اس کے عجائبات قدرت اس حد تک نہیں پہنچ سکتے کہ ان کے بعد پھر وہ کچھ اور عجائبِ قدرت پیدا نہ کرسکے۔ حکیم ہے کوئی شے اس کے علم سے باہر نہیں نہ اس کے اسرار حکمت کا احاطہ کرسکتا ہے۔ الغرض بےانتہا…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلاَ مٌ وَّالْبَحْرُیَمُدُّہٗ مِنْ م بَعْدِہٖ سَبْعَۃُ اَبْحُرٍمَّا نَفِدَتْ کَلِمٰتُ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔ (لقمان : 27)
(اور اگر زمین میں جو درخت ہیں قلم بن جائیں اور سمندر سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں اللہ کی باتیں لکھنے سے ختم نہیں ہوں گی، بیشک اللہ غالب اور حکیم ہے۔ )
بیشمار نشانیاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی صفات پر دلالت کرتی ہیں
اللہ تعالیٰ کی ذات حواس کے ادراک سے ماورا ذات ہے نہ اسے دیکھا جاسکتا ہے نہ اسے سنا جاسکتا ہے اور نہ عقل اس کا کماحقہ ادراک کرسکتی ہے۔ اس لیے بعض لوگوں کو اس کی ذات میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جو ” اللہ “ زمین و آسمانوں کا مالک اور تعریف کے لائق ہے یاد رکھو کہ اس کی حمدوستائش کی انتہا نہیں۔
اس سے پہلی آیت میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ حمدوثنا کے لائق ہے اگر کافر اور مشرک اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا نہیں کرتے تو اسے اس کی کوئی پروا نہیں کیونکہ وہ اس قدر اَن گنت تعریفات کا مالک اور حق دار ہے کہ اگر کائنات کے تمام درختوں کی قلمیں بنالی جائیں اور سات سمندر سیاہی بنا دئیے جائیں۔ جن و انس، ملائکہ اور ہر جاندار چیز اپنے رب کی حمد لکھنے بیٹھ جائے تو ساتوں سمندر ختم ہوجائیں، قلمیں گھس گھس کر اپنا وجود کھو بیٹھیں سب کو سات گنا اور بڑھا لیاجائے تو پھر بھی آپ کے رب کی حمدوثنا…
Read the full tafseer →27: مشرکین نے کہا یہ وحی عنقریب ختم ہوجائے گی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر بتلادیا کہ اللہ تعالیٰ کا کلام ختم نہیں ہوسکتا۔ وَلَوْاَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَامٌ (اور اگر جتنے درخت زمین میں ہیں قلمیں بن جائیں) ۔ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّ ہٗ مِنْ بَعْدِہٖ سَبْعَۃُ اَبْحُرٍمَّا نَفِدَتْ (اور یہ سمندر اور اس کے ساتھ سات اور سمندر شامل ہوجائیں) ۔ کَلِمٰتُ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے کلمات ختم نہ ہوں) ۔
قراءت : ابوعمرو اور یعقوب نے البَحَر کو فتحہ سے پڑھا ہے۔ ان کے اسم پر عطف کیا ہے۔ اور وہ ماؔ ہے اور بقیہ قراء جنہوں نے رفع پڑھا ہے نمبر 1۔ انہوں نے ان ؔ کے محل اور معمول پر عطف کیا ہے تقدیر…
Read the full tafseer →آیت ولو ان مافی الارض کا شان نزول
27، ولوان مافی الارض من شجرۃ اقلام، مفسرین کا قول ہے کہ اس کا نزول مکہ میں ہوا کہ جب اہل کتاب (یہودیوں) نے رسول اللہ ﷺ سے روح کے متعلق دریافت کیا تو آیت، ویسئلوک نک عن الروح ، سے آخر آیت ، ومااوتیتم من العلم الا قلیلا، تک نازل ہوئی ۔ پس جب نبی کریم ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی یہود کے بڑے بڑے سردار آئے اور کہنے لگے اے محمد ! کہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ایسا ایسا کہتے ہیں کہ ، وما اوتیتم من العلم الا قلیلا، کہ کیا اس سے مراد آپ کی قوم ہے یا ہماری ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب لوگ مراد ہیں ۔ تو وہ کہنے لگے کیا وہ کلام جو تمہارے پاس آیا ہے اس میں یہ بات نہیں…
Read the full tafseer →27۔ تفسیر ابن جریر تفسیر ابن ابی حاتم اور مغازی ابن اسحاق وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 2 ؎ سے جو شان نزول آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب آیت وما اوتیتم من العلم الا قلیلا نازل ہوئی تو یہود نے آنحضرت ﷺ سے یہ بحث اور تکرار کی کہ جن کو کم علم اللہ کی طرف سے دیا گیا ہے وہ کون لوگ ہیں اگر وہ قریش ہیں تو خیر مضائقہ نہیں اگر ہم یہود لوگوں کو تم کم علم بتلاتے ہو تو تم جس کلام کو قرآن اور کلام الٰہی کہتے ہو اس میں تو رات کی یہ صفت تم ہی بیان کرتے ہو کہ توراۃ میں ہر طرح کا علم ہے اور یہ تم کو معلوم ہے کہ توراۃ کا علم ہم لوگوں میں ہے پھر ہم کم علم ہم لوگوں میں ہے پھر ہم کم علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
آیت نمبر : 25 ۔ 28
اگر آپ حق کو جھٹلانے والے ان مشرکین سے پوچھیں (من خلق السموٰت والارض) ” آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ “ تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ ان کے بتوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ بول اٹھتے کہ اللہ اکیلے نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے (قل) ان کو الزامی جواب دیتے اور ان کے اس اقرار کو ان کے انکار کے خلاف حجت بناتے ہوئے کہہ دیجیے ! (الحمدللہ) ” ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے “ جس نے نور کو واضح کردیا اور خود تمہاری ہی طرف سے دلیل کو ظاہر کردیا۔ اگر وہ جانتے ہوتے تو انہیں یقین ہوتا کہ وہ ہستی جو کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے وہ استحقاق عبادت اور توحید میں بھی متفرد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–33
آخرت میں نسب کی بجائے عمل کام آئے گا
قول باری ہے (واخسوا یوما لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا۔ اور اس دن کا خوف رکھو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ ہوسکے گا اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی بدلہ بن سکے گا) آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی کو اس کے باپ یا نسب کے شرف کی بنا پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو چھوڑ کر کسی ایک کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔
اس مضمون میں حضور ﷺ سے روایت بھی وارد ہے۔ آپ کا ارشاد ہے (من ابطابہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ۔ جس شخص کا عمل اسے سست کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔ ) آپ نے…
Read the full tafseer →55 اللہ پاک کی بےمثال عظمت شان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمام روئے زمین کے درخت قلمیں بن جائیں اور ان میں سات سمندر اور بھی شامل کردیے جائیں تو بھی اس کی باتیں ختم نہ ہونگی "۔ کہ یہ سب چیزیں بہرحال محدود ہیں اور اس کی باتیں یعنی اس کی مقدورات و معلومات لامحدود ۔ جل شانہ و عز برھانہ ۔ اور کلمات سے مراد اس کی وہ نشانیاں ہیں جو اس کی ذات وصفات اور اس کی قدرت و حکمت پر دلالت کرتی ہیں۔ چونکہ اس کی ہر نشانی اس کے کلمہ " کن " کی مظہر ہے اور وہ اپنی زبان حال سے اس کی قدرت و عظمت کی ناطق بھی ہے اس لیے اس کو " کلمات " سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ سو کس قدر اندھے اور اوندھے اور کتنے ظالم ہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
اللہ کی ربوبیت کے کرشمے
تشریح : انسان فطرتاً نیک اور مسلم پیدا ہوا ہے مگر حالات اور بدلتے ہوئے زمانے کے مطابق انسان کے عقائد، رہن سہن اور رجحانات میں تبدیلی آتی رہی اور آئندہ بھی آتی رہے گی۔ لیکن اندر سے انسان اللہ سے دور کبھی نہ ہوسکا نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی تخلیقات اس کو ہمیشہ کسی نہ کسی صورت اپنی طرف متوجہ ضرور کرتی رہتی ہیں۔ اور پھر جس میں سوجھ بوجھ پیدا ہوجائے اس کے دل میں نور ایمان بھی روشن ہوتا رہتا ہے۔ اس کی مثال ہم اس روسی خلاباز مسٹر جون ینگ (John Young) کی دے سکتے ہیں جو کہ 1981ء میں خلائی بس کو لمبیا خلائی سفر میں بھیجی گئی تھی تو اس کے دو مسافروں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
آیات 20 تا 30
کیا تم اس بات سے بیخبر ہو کہ اللہ نے سب آسمانی اور زمینی مخلوق کو تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے اور یہ بات سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت ہے کہ جس قدر ستارے یا سیارے معلوم ہوئے سب کی توجہات کا مرکز زمین ہے اور ان کی حرکات یا روشنی و گرمی سے زمین میں مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں چاند و سورج کی روشنی و گردش بھی زمین میں حیات آفرینی کی خدمت پر مامور ہے اور یہ سب کچھ انسان کی ہی خدمت کر رہا ہے اسی طرح آسمانی فرشتے بھی کچھ امور حیات انجام دینے پہ لگے ہیں تو عبادات کرنے والے انسانوں کے لیے دعاؤں پہ مامور ہیں۔
ظاہری و باطنی نعمتیں :
پھر اس نے تمام ظاہری و باطنی نعمتوں سے انسان کو نوازا ہے ظاہری…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی اس کی صفات و معلومات یا اس کی عظمت اور قدرت و حکمت کے کرشمے۔6 یعنی وہ ضبط تحریر میں نہ لائی جاسکیں۔ (نیز دیکھیے کہف :109) حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ یہ آیت یہودی علما کے جواب میں نازل ہوئی انہوں نے ایک مرتبہ آنحضرت سے دریافت کیا کہ آیت وما اوتیتم من العلم الاقلیلاً اور تمہیں تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ ) سے مراد ہم میں یا آپ کی قوم (عرب) آپ نے فرمایا :” تم بھی اور وہ بھی “ انہوں نے کہا ” توراۃ میں ہر چیز کا علم موجود ہے۔ “ فرمایا ” اللہ کے علم کے مقابلے میں بہت تھوڑا ہے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ یہ آیت مدنی ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(31:27) لو ان ما فی الارض من شجرۃ اقلام والبحر یمدہ من بعدہ سبعۃ ابحر۔ لو حرف شرط۔ ان مشبہ بفعل ما موصولہ فی الارض صلہ۔ صلہ اور موصول مل کر اسم ان ۔ اقلام خبر۔ من شجرۃ بیان ما۔ واؤ حالیہ البحر مبتداء (اس میں الف لام عہد کا) یا خبر کے لئے بھی ہوسکتا ہے۔ یمدہ فعل ہ ضمیر مفعول جس کا مرجع البحر ہے۔ سبعۃ ابحر عدد معدود مل کر یمدہ کا فاعل ۔ فعل فاعل مفعول مل کر مبتداء کی خبر من بعدہ متعلق خبر۔ مکمل جملہ حال ہے موصول کا بعدہ میں ہ ضمیر کا مرجع البحر ہے۔ لیکن اس کے بعد سے مراد ہے اس کے ختم ہوجانے کے بعد۔
یمدہ۔ مضارع واحد مذکر غائب ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب مد یمد مدا دوات میں روشنائی ڈالنا۔ زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
لغات القرآن آیت نمبر (25 تا 30)
سالت (تو نے پوچھا۔ سوال کیا) ۔ یقولن (وہ ضرور کہیں گے) ۔ ابحر (بحر) (سمندر) ۔ کلمات اللہ (اللہ کی باتیں) ۔ مانفدت (ختم نہیں ہوئی (ختم نہ ہوں گی) ۔ بعث (دوبارہ اٹھانا) ۔ یولج (وہ داخل کرتا ہے) ۔
تشریح آیت نمبر (25 تا 30) ۔ ” جو لوگ اللہ کی ذات، صفات، قدرت اور کمالات کا انکار کرتے ہیں اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان اور ان میں بسنے والی مخلوق کو کس نے پیدا کیا ہے تو ان کے منہ سے بےساختہ یہی نکلے گا کہ اللہ نے پیدا کیا ہے۔ ضمیر کی اس سچی اور پر خلوص آواز کے باوجود جب عبادت کرنے اور سر جھکا نے کا وقت آتا ہے تو وہ کائنات کے حقیقی خالق ومالک کو چھوڑ کر بےحققیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا اگر تمام روئے زمین کے درخت قلم بنائے جائیں اور ساتوں سمندر کی سیاہی بناکر اس کی معلومات کو لکھنا چاہیں جب بھی اس کی کلمات یعنی معلومات ختم نہ ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی باتیں تو بےانتہا ہیں وہ سب پر غالب ہے اور سب کو جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
[15] یہ مضمون سورة کہف آیت 109 صفحہ 690 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →عجائب فطرت
3: خدا کے عجائب قدرت اور غرائب و فطرت کی بوقلمونی اور کثرت کا تذکرہ ہے کہ وہ غیر محدود اور لا متناہی ہیں ۔ انسانی عقل ان تک رسائی حاصل نہیں کرسکتی ۔ اگر دنیا کے تمام درخت قلم کی صورت اختیار کرلیں ۔ اور تمام سمندرروشنائی بن جائیں اور پھر آدم سے لے کر آخری انسان تک نہیں بلکہ ہر ذی روح تک کو حکم دیا جائے ۔ کہ اللہ کی صفات اور شیؤن کو لکھتے چلے جاؤ۔ تو کئی زمانے ختم ہوجائیں گے ۔ کئی نسلیں تمام ہوجائیں گی ۔ سمندر خشک ہوجائیں گے ۔ اور درخت بہت گھس گھسا کر برابر ہوجائینگے اور ہنوز حسن ازل کے بیشمار پہلو ایسے رہ جائینگے جو ضبط تحریر میں نہیں آئے اور جو کچھ لکھا جائیگا اس کی حیثیت محض یہ…
Read the full tafseer →27۔ اور جتنے درخت روئے زمین پر ہیں اگر ان سب کی قلمیں بن جائیں اور موجود ہ سمندر کی سیاہی ہو اور اس میں موجود سمندر کے بعد اس میں اور سات سمندر شامل ہوں تب بھی اللہ کی باتیں تمام اور ختم نہ ہوں بلا شبہ اللہ تعالیٰ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ کہتے ہیں آیت کا تعلق یہود کے بعض شبہات سے ہے کہ وہ توریت کے بعد یہ خیال کرتے تھے کہ اب کوئی مزید علم نہیں ہے۔
بہر حال ! آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلمات اور اس کی خوبیاں اس قدر بےحد و حساب ہیں کہ اگر تمام روئے زمین کے درختوں کی اقلام بنا لی جائیں اور موجود ہ سمندر کے ساتھ اور سات سمندر ملا کر ان کی سیاہی بنا لی جائے اور اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
ف 1۔ اللہ کی باتیں یعنی وہ کلمات جن سے اللہ تعالیٰ کے کمالات کی حکایت ہو۔
Read the full tafseer →زمین کے درخت قلمیں بنا دی جائیں اور سمندر سیاہی تو بھی اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوسکتے :
27۔ زمین پر جتنے درخت ہیں سب کی قلمیں بنائی جائیں اور سمندر کے پانی سیاہی ہوجائیں اور مزید سات سمندر بھی ساتھ ملا لئے جائیں یا سارے سمندروں کو اکٹھا کریں اور اتنے اتنے بڑے سات سمندر اور بھی ساتھ مل جائیں اور سب کی سیاہی بن جائے پھر سارے جن وانس اور ملائکہ مل کر اللہ تعالیٰ کے کلمات کو لکھنا شروع کردیں تو اس کے علم کی وسعت ‘ اس کی قدرت کے کرشموں ‘ حکمت کی باتوں کو تحریر کرنا شروع کردیا جائے جو کچھ بھی ہے یہ سب کا سب ختم ہوجائے اور اللہ کی باتیں ختم نہیں ہو سکتیں اور نہ ہی ان کا احاطہ تحریر میں لایا جا ساتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
This has been stated in the verse: وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ (27) through a similitude. Says the similitude: 'If all trees that are on the earth were to be pens (or pens were to be made of all branches on them) and the ocean (converted into ink) is supported by seven seas following it, the words of Allah would (still) not come to an end.' The expression: کلمات اللہ (kalimatul-lah, i.e. the words of Allah) means His knowledge and wisdom (Ruh ul-Maani and Mazhari) which includes the manifestations of Divine power and Divine blessings. Then, the 'seven seas',…
Read the full tafseer →48 "Allah's Words": Allah's creative works and the manifestations of His power and wisdom. This very theme has been presented in Surah AI-Kahf: l<) above a little differently. A person might think there is exaggeration in this. but if one considers the matter a little deeply, one will feel that there is in tact no exaggeration whatever in it. AII the pens that can be made from the trees of the world and aII the ink that can be provided by the oceans of the world, which are replenished by seven more oceans, cannot perhaps help prepare a complete list of aII the reations in the universe, not to…
Read the full tafseer →