Luqman 31:26

Luqman · from ayah 26

31:26

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۟لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِىُّ الۡحَمِيۡدُ

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) خدا ہی کا ہے۔ بیشک خدا بےپروا اور سزا وارِ حمد (وثنا) ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

To Allah belongs whatever is in the heavens and earth. Indeed, Allah is the Free of need, the Praiseworthy.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 3 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Luqman

All translations of 31:26

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، بے شک اللہ بے نیاز اور آپ سے آپ محمود ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) خدا ہی کا ہے۔ بیشک خدا بےپروا اور سزا وارِ حمد (وثنا) ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے وه سب اللہ ہی کا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بڑا بے نیاز اور سزاوار حمد وﺛنا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بیشک اللہ ہی ہے جو سب سے بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے بیشک اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اﷲ ہی کا ہے، بیشک اﷲ ہی بے نیاز ہے (اَز خود) سزاوارِ حمد ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بیشک اللہ ہی سب سے بےپروا، بےحد خوبیوں والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ ہی کا ہے۔ بلاشبہ اللہ ہی بےنیاز اور لائق حمد و ثنا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے۔ بیشک اللہ ہی بےنیاز و ستودہ صفات ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے بیشک اللہ ہی ہے غنی (و بےنیاز ہر کسی سے اور ہر اعتبار سے اور) ہر خوبی (و کمال) والا

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ بھی آسمانوں میں ہے اور زمین میں بیشک اللہ ہی بےنیاز ہے ستودہ صفات ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے یقیناً اللہ ہی غنی ہے بہت خوبیوں والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے، بیشک اللہ بےپرواہ اور سزا و ار حمد وثنا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

All that is in the heavens and the earth belongs to Allah. Verily He is All-Sufficient, Immensely Praiseworthy.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

To Allah belongs what is in the heavens and the earth. Surely, it is Allah who is free of all needs, worthy of every praise.

— Muhammad Taqi Usmani

To Allah belongs what is in the heavens and the earth. Surely, it is Allah who is free of all needs, worthy of every praise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

To Allah belongs whatsoever is in the heavens and the earth. Verily, Allah, He is Al-Ghani, Worthy of all praise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Unto Allah belongeth whatsoever is in the heavens and the earth. Lo! Allah, He is the Absolute, the Owner of Praise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

To Allah belongs whatever is in the heavens and earth. Indeed, Allah is the Free of need, the Praiseworthy.

— Saheeh International

To God belongs all that is in the heavens and the earth. He is Self-sufficient and Praiseworthy.

— Muhammad Sarwar

What is in the heavens and the earth is Allah's; surely Allah is the Self-sufficient, the Praised.

— Muhammad Habib Shakir

Allah's is whatsoever is in the heavens and the earth. Verily Allah! He is the Self-sufficient, the Praiseworthy.

— Abdul Majid Daryabadi

To Allah belong all things in heaven and earth: verily Allah is He (that is) free of all wants, worthy of all praise.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 31:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–27

حمد و ثنا کا حق ادا کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں اللہ رب العلمین اپنی عزت کبریائی بڑائی جلالت اور شان بیان فرما رہا ہے اپنی پاک صفتیں اپنے بلند ترین نام اور اپنے بیشمار کلمات کا ذکر فرما رہا ہے جنہیں نہ کوئی گن سکے نہ شمار کرسکے نہ ان پر کسی کا احاطہ ہو نہ ان کی حقیقت کو کوئی پاسکے۔ سید البشر ختم الانبیاء ﷺ فرمایا کرتے تھے (لا احصی ثناء علیک کما اثنیت علی نفسک) اے اللہ میں تیری تعریفوں کا اتنا شمار بھی نہیں کرسکتا جتنی ثناء تو نے اپنے آپ فرمائی ہے۔ پس یہاں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ اگر روئے زمین کے تمام تر درخت قلمیں بن جائیں اور تمام سمندر کے پانی سیاہی بن جائیں اور ان کیساتھ ہی سات…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة لُقْمٰن 46 یعنی حقیقت صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ زمین اور آسمانوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے بلکہ درحقیقت وہی ان سب چیزوں کا مالک بھی ہے جو زمین و آسمانوں میں پائی جاتی ہیں۔ اللہ نے اپنی یہ کائنات بنا کر یوں ہی نہیں چھوڑ دی ہے کہ جو چاہے اس کا، یا اسکے کسی حصے کا مالک بن بیٹھے۔ اپنی خلق کا وہ آپ ہی مالک ہے اور ہر چیز جو اس کائنات میں موجود ہے وہ اس کی ملک ہے۔ یہاں اس کے سوا کسی کی بھی یہ حیثیت نہیں ہے کہ اسے خداوندانہ اختیارات حاصل ہوں۔ سورة لُقْمٰن 47 اس کی تشریح 19 میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–26

خلاصہ تفسیر کیا تم لوگوں کو (مشاہدہ دلائل سے) یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو (بواسطہ یا بلاواسطہ) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے جو کچھ آسمانوں میں (موجود) ہیں اور جو کچھ زمین میں (موجود) ہیں اور اس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اور باطنی پوری کر رکھی ہیں (ظاہری وہ کہ آنکھ کان وغیرہ سے معلوم ہوں اور باطنی وہ جو کہ عقل سے سمجھی جائیں، اور مراد نعمتوں سے وہ نعمتیں ہیں جو تسخیر سموات و ارض پر مرتب ہوتی ہیں پس اس سے سب مخاطبین کا مشرف باسلام ہونا لازم نہیں ہوتا) اور باوجودیکہ (اس دلیل سے توحید ثابت ہوتی ہے مگر) بعضے آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں (یعنی اس کی توحید میں)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

للہ فی السموات والارض ط ان اللہ ھو الغنی الحمید (26) یہ اصل حقیقت کا اظہار ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب اسی کی مخلوق و مملوک اور سب اسی کے دروازے کے سائل و متحاج ہیں۔ بےنیاز اور ستو وہ صفات صرف اسی کی ذات ہے۔ اس وجہ سے شکر کا سزاوار حقیقی تنہا وہی ہے، اس کے سوا کسی کا بھی یہ درجہ و مرتبہ نہیں ہے کہ اس کے اس حق میں وہ شریک قراردیا جاسکے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

26-1یعنی ان کا خالق بھی وہی ہے، مالک بھی وہی اور مدبر و متصرف کائنات کا محتاج بھی وہی۔ 26-2بےنیاز ہے اپنے ماسوائے یعنی ہر چیز اس کی محتاج ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ 26-3اپنی تمام پیدا کردہ چیزوں میں۔ پس اس نے جو کچھ پیدا کیا اور جو احکام نازل فرمائے، اس پر آسمان و زمین میں سزاوار حمد و ثنا صرف اسی کی ذات ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 25–34

14: یعنی الحمد للہ ! ان لوگوں نے اس حقیقت کا تو اعتراف کرلیا کہ اس کائنات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس سے جو کھلا ہوا نتیجہ نکالنا چاہیے تھا کہ جب یہ کائنات تنہا اسی نے پیدا کی ہے تو عبادت کے لائق بھی تنہا وہی ہے، اس کے نتیجے تک پہنچنے کے لیے انہوں نے سمجھ سے کام نہیں لیا، اور اپنے باپ دادوں کی تقلید میں شرک اختیار کیے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 25–26

ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔ ھو الغنی الحمید (25 – 26) ” ۔ ۔ کوئی معقول انسان جب خود اپنے دل سے پوچھے کہ آخر اس کائنات عظیم کا خلاق کون ہے تو وہ یہی جواب پائے گا کہ اللہ۔ یہ جواب ہر شخص اپنی فطرت میں پاتا ہے۔ یہ زمین اور یہ افلاک ہماری نظروں کے سامنے قائم ہیں ، ان کے حالات ، ان کے حجم ، ان کی حرکات ، ان کی دوریاں ، ان کے خواص اور ان کی صفات سب کے سب اندازہ کیے ہوئے ، صحیح اور متعین اور باہم نظم اور نسق میں پروئے ہوئے۔ پھر یہ مخلوق ہیں اور کوئی مدعی بھی نہیں ہے کہ ان کا وہ خالق ہے۔ نہ یہ کوئی دعویٰ کرسکتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے ان کا اور یہ بھی عقلا ممکن نہیں ہے کہ یہ عظیم کائنات خود بخود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی جس طرح آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا اللہ ہے ایسے ہی آسمان و زمین میں جو چیزیں موجود ہیں سب بلا شرکت غیرے اسی کی مخلوق و مملوک اور اسی کی طرف محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں، کیونکہ وجود اور توابع وجود یعنی جملہ صفات کمالیہ کا مخزن و منبع اسی کی ذات ہے۔ اس کا کوئی کمال دوسرے سے مستفاد نہیں۔ وہ بالذات سب عزتوں اور خوبیوں کا مالک ہے۔ پھر اسے کسی کی کیا پروا ہوتی ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 26 لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط ” لفظ اللہ کے ساتھ یہاں ”لام تملیک“ آیا ہے۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی ملکیت ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ” وہ بےنیاز ہے ‘ اسے کوئی احتیاج نہیں ‘ وہ خود اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

33 پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت کا ذکر تھا اور اس پہلو سے شرک کے بطلان پر دلیل پیش کی گئی تھی۔ اس آیت میں اللہ کے ہر چیز کا مالک ہونے کا ذکر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کائنات کو پیدا کرکے کہیں علیحدہ نہیں جا بیٹھا۔ بلکہ وہ اس کے سر پر آن موجود ہے۔ وہ ان چیزوں پر کنٹرول رکھے ہوئے ہے۔ ان پر قابض ہے۔ اور جس طرح ان چیزوں میں چاہے تصرف بھی کرسکتا ہے اور کر رہا ہے اور اس کی ساری مخلوق اس کی مملوک بھی ہے۔ کسی مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی اس ملکیت میں سے کسی چیز پر بھی شاہانہ اختیارات حاصا نہیں ہیں۔ بلکہ اگر اللہ نے کوئی چیز کسی کی ملک میں کردی ہے تو وہ اس میں اسی حد تک تصرف کرسکتا ہے یا اس سے فائدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

27۔ (آیت) ” الغنی “۔ بےنیاز ہے اپنی ذات کے لحاظ سے اور (آیت) ” الحمید “۔ جامع تمام خوبیوں کا اپنی صفات کے لحاظ سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 20–30

آیت نمبر 20 تا 30 ترجمہ : اے مخاطبو ! کیا تم اس بات کو نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں یعنی سورج اور چاند اور ستارے تاکہ تم ان سے فائدہ حاصل کرو اور ان چیزوں کو جو زمین میں ہیں، پھل اور نہریں اور جانور (وغیرہ) اور تم کو اپنی ظاہری نعمتیں اور وہ حسن صورت اور تناسب اعضاء وغیرہ وغیرہ ہیں، اور باطنی (نعمتیں) (اور) وہ معرفت (الہٰی) وغیرہ ہے بھر پور دے رکھی ہیں اور کچھ لوگ یعنی اہل مکہ ایسے بھی ہیں کہ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور رسول کی جانب سے بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے کہ جس کو اللہ نے نازل کیا ہو، جھگڑتے ہیں بلکہ تقلید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اللہ ما فی السموت والارض . اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔ یعنی اللہ ہی سب کا خالق اور مالک ہے اس لئے معبود ہونے کا مستحق بھی اس کے سوا کوئی نہیں۔ ان اللہ ھو الغنی الحمید . یہ سچی حقیقت ہے کہ ہر (تعریف کرنے والے کی) تعریف سے اللہ بےنیاز ہے اور وہ (فی نفسہٖ ) ہر حمد کا مستحق ہے (خواہ کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے) ۔ ابن اسحاق نے عطاء بن یسار کے حوالہ سے بیان کیا اور بغوی نے بھی یہ ہی ذکر کیا ہے کہ آیت وَمَا اُوْتِیْتُمْ مِّنْ الْعِلْمِ الاَّ قَلِیْلاً مکہ میں نازل ہوئی ‘ پھر جب رسول اللہ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو علمائے یہود نے حاضر ہو کر دریافت کیا کہ ہم کو اطلاع ملی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جو کچھ آسمان و زمین میں ہے وہ سب اللہ ہی کی ملکیت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ مخلوق سے بےنیاز اور قابل تعریف ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ : یہ پہلی آیت ہی کا نتیجہ ہے کہ جب آسمانوں کا اور زمین کا خالق اللہ تعالیٰ ہے تو ظاہر ہے کہ ان کا مالک بھی وہی ہے، اور جب مالک وہ ہے تو ثابت ہوا کہ چیز اپنے وجود اور بقا میں اس کی محتاج ہے اور وہ سب سے غنی ہے، کسی کا محتاج نہیں اور ہر حمد کا مالک ہے۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (12)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 26–27

جب مشرکین کے خلاف استدلال کیا ہے جس کے ساتھ استدلال کیا ہے تو اس امر کو واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ سبحانہ کے کلام کے معانی ختم نہیں ہوں گے ان کی کوئی انتہا نہیں۔ قفال نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے اس امر کو ذکر کیا کہ اس ذات پاک نے ان کے لیے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب کو ان کے لیے مسخر کردیا ہے اور ان پر اپنی نعمتیں بہائی ہیں تو اس مر پر بھی آگاہ کیا کہ اگر درخت قلمیں ہوتے اور سمندر روشنائی ہوتی اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفت کے عجائبات کو لکھا جاتا جو عجائبات اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتے تو وہ عجائبات ختم نہ ہوتے۔ قشیری نے کہا : ان کلمات کے معنی کو مقدورات کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–26

ظاہری اور باطنی نعمتیں 1۔ البیہقی نے شعب الایمان میں عطاء (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا یہ مجھ پر مخفی خزانوں میں سے ہے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا ظاہری نعمت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری صورت کو درست کیا اور باطنی نعمت وہ ہیں جو اس نے چھپایا ہے تیری شرم گاہ کو اور اگر اس کو ظاہر فرمادیتے تو البتہ تیرے گھر والے اور دوسرے تجھ پر ناراض ہوجاتے۔ 2۔ ابن مردویہ والبیہقی والدیلمی وابن النجار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لِلّٰهِ [اللہ ہی کا ہے ] مَا [ وہ جو ] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [آسمانوں اور زمین میں ہے ] اِنَّ اللّٰهَ [یقینا اللہ ] هُوَ الْغَنِيُّ [ہی بےنیاز ہے ] الْحَمِيْدُ [حمد کیا ہوا ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 26–27

کلمات سے کیا مراد ہے ؟ بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی صفت قدیم کلام نفسی مراد ہے، اور بعض حضرات نے اس سے اللہ تعالیٰ کی معلومات اور مقدورات مراد لی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی معلومات اور مقدورات غیر متناہی ہیں، جتنے بھی قلم تیار کرلیے جائیں اور جتنے بھی سمندروں کی روشنائی بنالی جائے پھر قلموں سے اللہ تعالیٰ کی معلومات و مقدورات کو لکھا جائے تو یہ معلومات و مقدورات ختم نہیں ہوسکتیں، ان کا احصاء نہیں ہوسکتا۔ اور بعض حضرات نے اس سے اللہ تعالیٰ کی صفات کمالیہ مراد لی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے کمالات کو لکھا جائے تو کبھی ختم نہیں ہوسکتے، ان کو لکھتے لکھتے بےانتہاء کروڑوں قلم اور کروڑوں بڑے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–32

ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

25:۔ للہ ما فی السموت الخ، یہ توحید پر چوتھی عقلی دلیل ہے۔ ساری کائنات کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور اس کا مالک اور اس میں متصرف بھی وہی ہے اور پھر وہ سب سے بےنیاز بھی اور تمام صفات کمال سے متصف بھی۔ لہذا عبادت اور پکار کے لائق بھی وہی ہے اور کوئی نہیں۔ للہ ما فی السموات والارض خلقا و ملکا و تصرفا لیس لاحد سواہ عز وجل استقلالا ولا شرکۃ فلا یستحق العبادۃ فیھما غیرہ سبحانہ وتعالیٰ بوجہ من الوجوہ (روح ج 21 ص 96) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–30

اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر اللہ تعالیٰ کی توحید اور ب عث بعد الموت کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے ، چناچہ سورة کے آغاز میں قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت اور ا اس کے واحی الٰہیہونے کا بیان تھا۔ پھر حضرت لقمان (رح) کی بعض نصیحتوں کا ذکر ہوا جن میں سرفہرست شرک کی تردید ہے ، اس کے بعد توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے ، نیز یہ بھی کہ مشرکوں کے پاس نہ کوئی عقلی دلیل ہے ، نہ کسی نبی یا بزرگ کا قول اور نہ کوئی روشن کتاب ہے جس سے وہ کفر یہ اور شرکیہ عقائد کو ثابت کرسکیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا ذکر ہوا ،۔ اور یہ بھی کہ شیطان لوگوں کو گمراہ کرتا ہے ۔ اکثر لوگ اپنے ابائو اجداد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ ہُوَالْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ۝ 26 سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

للہ مافی السموات والارض آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں تو ان کا حصہ ہے ہی نہیں آسمانوں اور زمین کے اندر کی چیزیں بھی اللہ کی ہیں، ان میں بھی کوئی حصہ نہیں، پھر اللہ کی عبادت و ستائش نہیں کرتے۔ ان اللہ ھو الغنی الحمید اللہ کو کچھ پروا نہیں اس کی تعریف خود بخود ہورہی ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط اِنَّ اللّٰہَ ھُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ (لقمان : 26) (آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، بیشک اللہ بےنیاز اور آپ سے آپ محمود ہے۔ ) سابقہ حقیقت کی مزید وضاحت اس آیت کریمہ میں سابقہ آیت میں بیان کردہ حقیقت کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ بات صرف اتنی نہیں ہے کہ زمین اور آسمانوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے بلکہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب اسی کی مخلوق و مملوک اور سب اسی کے دروازے کے سائل و محتاج ہیں۔ سب اسی کی طوعاً و کرھاً غلامی اور بندگی کررہے ہیں۔ کوئی جسامت میں پہاڑوں سے بڑا ہو اور کوئی اپنے پھیلائو اور وسعت میں سمندروں پر محیط ہو،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–26

فہم القرآن ربط کلام : کفرو شرک اختیار کرنے والوں سے ایک سوال۔ جو لوگ دنیا کی مختصر مدّت اور قلیل فائدے کی خاطر کفرو شرک اختیار کرتے ہیں۔ اس حقیقت کا وہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ جن کو ہم اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں ان کا زمین و آسمان کی تخلیق میں کوئی حصہ نہیں یہ ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف نبی اکرم ﷺ کے بدترین دشمن بھی کیا کرتے تھے۔ اس لیے آپ کو حکم ہوا کہ ان سے استفسار فرمائیں کہ بتاؤ کہ زمینوں آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ کفار مکہ کا جواب یہی ہوتا تھا کہ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے۔ اس طرح وہ ” اللہ “ کے خالق ہونے کا اقرار کرنے پر مجبور تھے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ اے نبی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

26: لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِنَّ اللّٰہَ (اور اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ) ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ (وہی بےنیاز خوبیوں والا ہے) الغنی یعنی تعریف کرنے والوں کی حمد سے بےنیاز۔ الحمیدؔ حمد کا حقدار ہے۔ خواہ وہ اس کی تعریف نہ بھی کریں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 24–26

24، نمتعھم قلیلا، ہم ان کو مہلت دیں گے تاکہ ان سے دنیا کی زندگی میں نعمت حاصل کریں تھوڑی سی اپنی مدت مقررہ پوری ہونے تک ۔ ، ثم نضطر ھم ، پھر ان سے ملیں گے اور آخرت کی طرف ان کو لوٹا دیں گے۔ ، الی عذاب غلیظ، اس سے مراد آگ کا عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 21–26

21 تا 26۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی سب ضرورت کی چیزیں پیدا کیں اس پر بعضے ناشکر لوگ نادانی سے اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے میں بغیر سند کے جھگڑتے ہیں ان آیتوں میں اس بےسند جھگڑنے کا ذکر فرمایا کہ ان مشرکوں سے جب اللہ کے حکم پر چلنے کو کہا جاتا ہے تو یہ نادان کہتے ہیں کہ جن تبوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ہم بھی انہیں کو پوجیں گے اور ان کا ہی طریقہ اختیار کریں گے اسکا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ کیا یہ لوگ باپ دادا کی چال چلیں گے اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو مطلب یہ ہے کہ ان کہ باپ دادا شیطان کے پیرو اور گمراہ ہوں تو کیا جب بھی یہ ان کا طریقہ اختیار کریں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 25–28

آیت نمبر : 25 ۔ 28 اگر آپ حق کو جھٹلانے والے ان مشرکین سے پوچھیں (من خلق السموٰت والارض) ” آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ “ تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ ان کے بتوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ بول اٹھتے کہ اللہ اکیلے نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے (قل) ان کو الزامی جواب دیتے اور ان کے اس اقرار کو ان کے انکار کے خلاف حجت بناتے ہوئے کہہ دیجیے ! (الحمدللہ) ” ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے “ جس نے نور کو واضح کردیا اور خود تمہاری ہی طرف سے دلیل کو ظاہر کردیا۔ اگر وہ جانتے ہوتے تو انہیں یقین ہوتا کہ وہ ہستی جو کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے وہ استحقاق عبادت اور توحید میں بھی متفرد…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 20–33

آخرت میں نسب کی بجائے عمل کام آئے گا قول باری ہے (واخسوا یوما لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا۔ اور اس دن کا خوف رکھو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ ہوسکے گا اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی بدلہ بن سکے گا) آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی کو اس کے باپ یا نسب کے شرف کی بنا پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو چھوڑ کر کسی ایک کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔ اس مضمون میں حضور ﷺ سے روایت بھی وارد ہے۔ آپ کا ارشاد ہے (من ابطابہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ۔ جس شخص کا عمل اسے سست کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔ ) آپ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 25–26

53 سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے "۔ خلقًا بھی ملکاً بھی اور تصرفاً بھی۔ سو جس طرح بلا شرکت غیرے اس سب کا خالق وہ ہے، اسی طرح اس کا مالک بھی تنہا وہی ہے اور اس میں تصرف و حکم بھی اسی کا چلتا ہے۔ پس ہر طرح کی بندگی بھی اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کا خالق ومالک بھی تنہا وہی ہے اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے۔ اور اس کے اندر پائے جانے والے بےحد و حساب خزانوں کا مالک بھی تنہا وہی ہے۔ سب اسی کے محتاج اور سر تا پا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–30

اللہ کی ربوبیت کے کرشمے تشریح : انسان فطرتاً نیک اور مسلم پیدا ہوا ہے مگر حالات اور بدلتے ہوئے زمانے کے مطابق انسان کے عقائد، رہن سہن اور رجحانات میں تبدیلی آتی رہی اور آئندہ بھی آتی رہے گی۔ لیکن اندر سے انسان اللہ سے دور کبھی نہ ہوسکا نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی تخلیقات اس کو ہمیشہ کسی نہ کسی صورت اپنی طرف متوجہ ضرور کرتی رہتی ہیں۔ اور پھر جس میں سوجھ بوجھ پیدا ہوجائے اس کے دل میں نور ایمان بھی روشن ہوتا رہتا ہے۔ اس کی مثال ہم اس روسی خلاباز مسٹر جون ینگ (John Young) کی دے سکتے ہیں جو کہ 1981؁ء میں خلائی بس کو لمبیا خلائی سفر میں بھیجی گئی تھی تو اس کے دو مسافروں میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–30

آیات 20 تا 30 کیا تم اس بات سے بیخبر ہو کہ اللہ نے سب آسمانی اور زمینی مخلوق کو تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے اور یہ بات سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت ہے کہ جس قدر ستارے یا سیارے معلوم ہوئے سب کی توجہات کا مرکز زمین ہے اور ان کی حرکات یا روشنی و گرمی سے زمین میں مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں چاند و سورج کی روشنی و گردش بھی زمین میں حیات آفرینی کی خدمت پر مامور ہے اور یہ سب کچھ انسان کی ہی خدمت کر رہا ہے اسی طرح آسمانی فرشتے بھی کچھ امور حیات انجام دینے پہ لگے ہیں تو عبادات کرنے والے انسانوں کے لیے دعاؤں پہ مامور ہیں۔ ظاہری و باطنی نعمتیں : پھر اس نے تمام ظاہری و باطنی نعمتوں سے انسان کو نوازا ہے ظاہری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی نہ صرف خلاق ہے بلکہ مالک بھی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ تعریف بھی اسی کی ہے۔ (رازی)4 سب اس کے محتاج اور بےبس بندے ہیں۔ کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے۔ وہ بذات خود تعریف کا سزا وار ہے۔ (نیز دیکھیے آیت 12)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 24–26

(31:26) الغنی۔ بےنیاز ۔ غیر محتاج۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی میں سے ہے۔ الحمید۔ حمد سے (فعیل) کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور بمعنی مفعول یعنی محمود ہے۔ ستودہ۔ سراہا ہوا۔ تعریف کیا ہوا۔ سزاوارحمد۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 25–30

لغات القرآن آیت نمبر (25 تا 30) سالت (تو نے پوچھا۔ سوال کیا) ۔ یقولن (وہ ضرور کہیں گے) ۔ ابحر (بحر) (سمندر) ۔ کلمات اللہ (اللہ کی باتیں) ۔ مانفدت (ختم نہیں ہوئی (ختم نہ ہوں گی) ۔ بعث (دوبارہ اٹھانا) ۔ یولج (وہ داخل کرتا ہے) ۔ تشریح آیت نمبر (25 تا 30) ۔ ” جو لوگ اللہ کی ذات، صفات، قدرت اور کمالات کا انکار کرتے ہیں اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان اور ان میں بسنے والی مخلوق کو کس نے پیدا کیا ہے تو ان کے منہ سے بےساختہ یہی نکلے گا کہ اللہ نے پیدا کیا ہے۔ ضمیر کی اس سچی اور پر خلوص آواز کے باوجود جب عبادت کرنے اور سر جھکا نے کا وقت آتا ہے تو وہ کائنات کے حقیقی خالق ومالک کو چھوڑ کر بےحققیت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 23–27

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا اگر تمام روئے زمین کے درخت قلم بنائے جائیں اور ساتوں سمندر کی سیاہی بناکر اس کی معلومات کو لکھنا چاہیں جب بھی اس کی کلمات یعنی معلومات ختم نہ ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی باتیں تو بےانتہا ہیں وہ سب پر غالب ہے اور سب کو جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 25–26

[14] یعنی اکثر لوگوں کو یہ نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ کو خالق ارض و سما ماننے کے لازمی نتائج اور تقاضے کیا ہیں۔ جب ایک شخص اللہ تعالیٰ کو خالق کائنات تسلیم کرتا ہے تو لازماً اسے یہ بھی ماننا چاہئے کہ معبود بھی وہی ہے لہذا بندگی بھی اسی کی کرنی چاہئے اور دعائیں بھی اسی سے مانگنی چاہئیں۔ حاکمیت اور قانون سازی کا حق بھی صرف اسی کو پہنچتا ہے۔ خالق اللہ کو ماننا اور حاجت روا اور مشکل کشا دوسری ہستیوں کو ٹھہرانا اور ان کے آگے سر نیاز جھکانا یہ بالکل عقل کے خلاف اور متضاد بات ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: یعنی تمام کائنات کا وہ تنہا مالک ہے کوئی ذات اس کے کاموں میں اس کی شریک نہیں ہے ۔ وہ اس لئے تمام انسانوں کو پرستش اور عقائد کا مرکز ہے ۔ کہ وہ مالک اور آقا ہے بلود کی بجائے خود اسے کسی چیز کی احتیاج نہیں ۔ وہ بےنیاز ہے اور بذاتہ لائق صدگا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

26۔ جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں موجود ہے سب اللہ تعالیٰ کی ملک اور اسی کی مملوک ہے اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ بےنیاز اور تمام خوبیوں والا ہے۔ یہ دوسرے مقدمہ کی تائید اور تقریر ہے کہ مملوک مالک کی الوہیت میں کس طرح حصہ دار ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ نے کسی کا محتاج نہیں اور سب خوبیوں والا ہے آگے خوبیوں کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 23–27

ف 1۔ اللہ کی باتیں یعنی وہ کلمات جن سے اللہ تعالیٰ کے کمالات کی حکایت ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ‘ وہ غنی ہے تعریف کیا گیا : 26۔ آسمانوں کو بلند کرنے والا اور زمین کو بچھانے والا اللہ ہے تو بلاشبہ جو کچھ ان آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے ان کا خالق ومالک بھی وہی ہے اور ان میں جو کچھ ہے اس کا خالق ومالک بھی وہی ہے کوئی زبان قال سے مانے یا نہ مانے زبان حال سے ہر ایک اس بات کا اقراری ہے اور اس کی ثناء میں ہرچیز بزبان حال مصروف ہے بلاشبہ وہ غنی ہے اسے کسی کی ضرورت نہیں لیکن سب کو اس کی ضرورت ہے ۔ اس تعلیم کی پوری وضاحت سورة اخلاص میں کردی گئی ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–27

This has been stated in the verse: وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْ‌ضِ مِن شَجَرَ‌ةٍ أَقْلَامٌ (27) through a similitude. Says the similitude: 'If all trees that are on the earth were to be pens (or pens were to be made of all branches on them) and the ocean (converted into ink) is supported by seven seas following it, the words of Allah would (still) not come to an end.' The expression: کلمات اللہ (kalimatul-lah, i.e. the words of Allah) means His knowledge and wisdom (Ruh ul-Maani and Mazhari) which includes the manifestations of Divine power and Divine blessings. Then, the 'seven seas',…

Read the full tafseer →