Explained with ayahs 23–25
حاکم اعلی وہ اللہ ہے
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ یہ مشرک اس بات کو مانتے ہوئے سب کا خالق اکیلا اللہ ہی ہے پھر بھی دوسروں کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ انکی نسبت خود جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور اس کے ماتحت ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ خالق کون ہے ؟ تو انکا جواب بالکل سچا ہوتا ہے کہ اللہ ! تو کہہ کہ اللہ کا شکر ہے اتنا تو تمہیں اقرار ہے۔ بات یہ ہے کہ اکثر مشرک بےعلم ہوتے ہیں۔ زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز اللہ کی پیدا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے وہ سب سے بےنیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں وہی سزاوار حمد ہے وہی خوبیوں والا ہے۔ پیدا کرنے میں بھی احکام مقرر کرنے میں بھی وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
سورة لقمن حاشیہ 44
یعنی شکر ہے تم اتنی بات تو جانتے ہو اور مانتے ہو۔ لیکن جب حقیقت یہ ہے تو پھر حمد ساری کی ساری صرف اللہ ہی کے لیے ہونی چاہیے۔ دوسری کوئی ہستی حمد کی مستحق کیسے ہو سکتی ہے جبکہ تخلیق کائنات میں اس کا کوئی حصہ ہی نہیں ہے۔
سورة لُقْمٰن 45
یعنی اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ اللہ کو خالق کائنات ماننے کے لازمی نتائج اور تقاضے کیا ہیں، اور کونسی باتیں اس کی نقیض پڑتی ہیں۔ جب ایک شخص یہ مانتا ہے کہ زمین اور آسمانوں کا خالق صرف اللہ ہے تو لازماً اس کو یہ بھی ماننا چاہیے کہ الٰہ اور رب بھی صرف اللہ ہی ہے، عبادت اور طاعت و بندگی کا مستحق بھی تنہا وہی ہے، تسبیح وتحمید بھی اس کے سوا کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
خلاصہ تفسیر
کیا تم لوگوں کو (مشاہدہ دلائل سے) یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو (بواسطہ یا بلاواسطہ) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے جو کچھ آسمانوں میں (موجود) ہیں اور جو کچھ زمین میں (موجود) ہیں اور اس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اور باطنی پوری کر رکھی ہیں (ظاہری وہ کہ آنکھ کان وغیرہ سے معلوم ہوں اور باطنی وہ جو کہ عقل سے سمجھی جائیں، اور مراد نعمتوں سے وہ نعمتیں ہیں جو تسخیر سموات و ارض پر مرتب ہوتی ہیں پس اس سے سب مخاطبین کا مشرف باسلام ہونا لازم نہیں ہوتا) اور باوجودیکہ (اس دلیل سے توحید ثابت ہوتی ہے مگر) بعضے آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں (یعنی اس کی توحید میں)…
Read the full tafseer →ولئن سالتھم من خلق السموات والارض لیقولن اللہ ط قل الحمد اللہ ط بل اکثر ھم لا یعلمون (25)
یہ خدا کی شکر گزاری کی وہ دلیل بیان ہوئی ہے جس کے بنیادی مقدمہ کا اعتراف خود مخالفوں کو بھی ہے۔ فرمایا کہ اگر ان سے پوچھھو کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کس نے کیا ہے تو اس کا جواب وہ یہی دیں گے کہ اللہ نے۔ ان سے کہو کہ جب تم تمام چیزوں کو خالق خدا ہی کو مانتے ہو تو پھر شکر کا حق دار بھی وہی ہوا، آخر یہ بات کس قاعدے سے جائز ہوسکتی ہے کہ خالق تو تنہا وہ ہو لیکن شکر کے سزاوار دوسرے بھی بن جائیں، جن کا نہ اس کائنات کے خلق میں کوئی حصہ اور نہ اس کی تدبیر میں !
’ بل اکثرھم لا یعلمون ‘۔ یعنی یہ بات نہیں ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →25-1یعنی ان کو اعتراف ہے کہ آسمانوں و زمین کا خالق اللہ ہے نہ کہ وہ معبود جن کی وہ عبادت کرتے ہیں۔
25-2اس لئے کہ ان کے اعتراف سے ان پر حجت قائم ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–34
14: یعنی الحمد للہ ! ان لوگوں نے اس حقیقت کا تو اعتراف کرلیا کہ اس کائنات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس سے جو کھلا ہوا نتیجہ نکالنا چاہیے تھا کہ جب یہ کائنات تنہا اسی نے پیدا کی ہے تو عبادت کے لائق بھی تنہا وہی ہے، اس کے نتیجے تک پہنچنے کے لیے انہوں نے سمجھ سے کام نہیں لیا، اور اپنے باپ دادوں کی تقلید میں شرک اختیار کیے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔ ھو الغنی الحمید (25 – 26) ” ۔ ۔
کوئی معقول انسان جب خود اپنے دل سے پوچھے کہ آخر اس کائنات عظیم کا خلاق کون ہے تو وہ یہی جواب پائے گا کہ اللہ۔ یہ جواب ہر شخص اپنی فطرت میں پاتا ہے۔ یہ زمین اور یہ افلاک ہماری نظروں کے سامنے قائم ہیں ، ان کے حالات ، ان کے حجم ، ان کی حرکات ، ان کی دوریاں ، ان کے خواص اور ان کی صفات سب کے سب اندازہ کیے ہوئے ، صحیح اور متعین اور باہم نظم اور نسق میں پروئے ہوئے۔ پھر یہ مخلوق ہیں اور کوئی مدعی بھی نہیں ہے کہ ان کا وہ خالق ہے۔ نہ یہ کوئی دعویٰ کرسکتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے ان کا اور یہ بھی عقلا ممکن نہیں ہے کہ یہ عظیم کائنات خود بخود…
Read the full tafseer →6 یعنی الحمد للہ اتنا تو زبان سے اعتراف کرتے ہو کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنا بجز اللہ کے کسی کا کام نہیں، پھر اب کونسی خوبی رہ گئی جو اس کی ذات میں نہ ہو۔ کیا ان چیزوں کا پیدا کرنا اور ایک خاص محکم نظام پر چلانا بدون اعلیٰ درجہ کے علم و حکمت اور زور قدرت کے ممکن ہے ؟ لا محالہ " خالق السموات والارض " میں تمام کمالات تسلیم کرنے پڑیں گے۔ اور یہ بھی اسی کی قدرت کا ایک نمونہ ہے کہ تم جیسے منکرین سے اپنی عظمت کا اقرار کرا دیتا ہے۔ جس کے بعد تم ملزم ٹھہرتے ہو کہ جب تمہارے نزدیک خالق تنہا وہ ہے تو معبود دوسرے کیونکر بن گئے۔ بات تو صاف ہے پر بہت لوگ نہیں سمجھتے اور یہاں پہنچ کر اٹک جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آیت 24 نُمَتِّعُہُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّہُمْ اِلٰی عَذَابٍ غَلِیْظٍ ”
ہم نے انہیں دنیوی زندگی کی صورت میں تھوڑی سی مہلت دی ہے ‘ جس میں وہ دنیا کے سازوسامان کو کام میں لاتے ہوئے مزے لوٹ لیں۔ پھر ہم انہیں پکڑ کر بہت سخت عذاب کی طرف دھکیل دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
32 یعنی اللہ کی تعریف اس بات پر ہے کہ انہوں نے یہ تو خود ہی تسلیم کرلیا کہ آسمانوں اور زمین یعنی کل کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ اب ان کے اس اعتراف کا جو لازمی نتیجہ نکلتا ہے اس سے یہ لوگ بیخبر ہیں یا بیخبر رہنا چاہتے ہیں۔ اور ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو ان کے اس اعتراف کی عین ضد ہیں۔ مثلاً ایک شخص جب یہ اعتراف کرتا ہے کہ زمین و آسمان کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے تو پھر اسے لازماً یہ بھی تسلیم کرلینا چاہئے کہ الٰہ اور رب بھی صرف اللہ ہی ہوسکتا ہے۔ بندگی اور عبادت کا مستحق بھی وہی ہوسکتا ہے۔ اپنی مخلوق کا حاکم وہی اور شاعر بھی وہی ہوسکتا ہے۔ دعاء اور فریاد بھی صرف اسی سے کرنا چاہئے۔ عقلی لحاظ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
25۔ (کہ دلیل کا ایک اہم مقدمہ تو تمہیں بھی تسلیم ہے) (آیت) ” السموت والارض “۔ سے مراد ساری کائنات اور اس کے اعظم ترین قوی ہیں۔ استدلال کی منطقی شکل حسب ذیل ہوگی : یہ عالم ومافی العالم کی کوئی بھی چیز رب و معبود بننے کے قابل نہیں۔
26۔ (کہ جب سب کو مخلوق ومصنوع تسلیم کرلیا۔ تو پھر ان کی الوہیت یا شرک الوہیت کی معنی) ہندوستان کے مشرکین میں بھی بکثرت ایسے ہیں جو ایک طرف ایک خالق اکبر، ایک رب اعظم کے قائل ہیں۔ لیکن ساتھ ہی بہتوں کو ارباب اصغر کی طرف اس کا شریک بھی مانتے جاتے ہیں۔ اور توحید کے مضمرات پر کبھی غور ہی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
آیت نمبر 20 تا 30
ترجمہ : اے مخاطبو ! کیا تم اس بات کو نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں یعنی سورج اور چاند اور ستارے تاکہ تم ان سے فائدہ حاصل کرو اور ان چیزوں کو جو زمین میں ہیں، پھل اور نہریں اور جانور (وغیرہ) اور تم کو اپنی ظاہری نعمتیں اور وہ حسن صورت اور تناسب اعضاء وغیرہ وغیرہ ہیں، اور باطنی (نعمتیں) (اور) وہ معرفت (الہٰی) وغیرہ ہے بھر پور دے رکھی ہیں اور کچھ لوگ یعنی اہل مکہ ایسے بھی ہیں کہ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور رسول کی جانب سے بغیر ہدایت کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے کہ جس کو اللہ نے نازل کیا ہو، جھگڑتے ہیں بلکہ تقلید…
Read the full tafseer →ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیقولن اللہ . اگر آپ ان (کافروں) سے دریافت
کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو بلاشبہ کہیں گے کہ اللہ نے (ان سب کو پیدا کیا) ۔
یعنی دوسروں کی طرف خلاقیت کی نسبت کرنے سے روکنے والی اتنی واضح دلیلیں موجود ہیں کہ جن کی روشنی میں ان کو صرف اللہ کی خلاقیت کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔
قل الحمد اللہ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ سزاوار ستائش ہے (ا اللہ کا شکر ہے) جس نے تم سے تمہارے عقیدے کے خلاف اقرار کرنے پر مجبور کردیا۔
بل اکثرھم لا یعلمون . بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے (کہ اللہ کی توحید کا اقرار ان پر لازم ہے اور جب ان کو متنبہ کیا جاتا ہے تو متنبہ نہیں ہوتے) ۔
Read the full tafseer →اور اگر آپ ان سے آسمان و زمین کے پیدا کرنے کے بارے میں دریافت کریں تو کفار مکہ جواب میں یہی کہیں گے کہ اللہ نے پیدا کیا ہے۔
تو آپ کہیے الحمدللہ تم سب بھی شکر کرو مگر ان میں اکثر توید الہی کو نہیں جانتے اور نہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ : اس سے پہلے مشرکین کے اللہ تعالیٰ کے متعلق مجادلہ کا ذکر فرمایا، اب ان کے مسکت جواب کا ذکر ہے کہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ان آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے، تو وہ یقیناً یہی کہیں گے کہ انھیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ اب اس اقرار کے بعد ان کے پاس جھگڑنے کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ ”أَلْمَرْءُ یُؤْخَذُ بِإِقْرَارِہِ“ ”آدمی اپنے اقرار کے ساتھ پکڑا جاتا ہے۔“
قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ : آپ فرمائیں کہ جب تم نے مان لیا کہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، جس میں تمہارے بنائے معبود بھی شامل ہیں، تو تمام حمد اور ہر خوبی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
لیقولن اللہ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے تو وہ اس کے علاوہ کسی اور کی کیوں عبادت کرتے ہیں ؟
قل الحمد للہ اس نے ہماری جو اپنے دین کی طرف راہنمائی کی اس پر الحمد للہ اس ذات کے علاوہ کسی اور کے لیے حمد نہیں۔ بل اکثرھم لا یعلمون وہ نظروفکر نہیں کرتے اور تدبر نہیں کرتے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب ملکیت اور خلق کے اعتبار سے اسی کا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات اپنی مخلوق سے اور ان کی عبادت سے غنی ہے اور بےنیاز ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تاکہ بندوں کو نفع پہنچائے۔ وہ اپنی صفت پر حمد کے لائق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
ظاہری اور باطنی نعمتیں
1۔ البیہقی نے شعب الایمان میں عطاء (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا یہ مجھ پر مخفی خزانوں میں سے ہے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا ظاہری نعمت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری صورت کو درست کیا اور باطنی نعمت وہ ہیں جو اس نے چھپایا ہے تیری شرم گاہ کو اور اگر اس کو ظاہر فرمادیتے تو البتہ تیرے گھر والے اور دوسرے تجھ پر ناراض ہوجاتے۔
2۔ ابن مردویہ والبیہقی والدیلمی وابن النجار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت…
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ [اور بیشک اگر ] سَاَلْتَهُمْ [آپ ﷺ پوچھیں ان سے ] مَّنْ [کس نے ] خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ] لَيَقُوْلُنَّ [تو یہ لوگ لازما کہیں گے ] اللّٰهُ ۭ [اللہ نے ] قُلِ [آپ ﷺ کہیے ] الْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ [تمام شکر و سپاس اللہ کے لئے ہے ] بَلْ اَكْثَرُهُمْ [بلکہ (لیکن) ان کی اکثریت ] لَا يَعْلَمُوْنَ [جانتی نہیں ہے ] ۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور تسخیر اور تصرفات تکوینیہ کا تذکرہ (کلمات اللہ غیر متناہی ہیں)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت اور قدرت اور شان بےنیازی اور محمودیت اور عزت و حکمت اور سمع و بصر اور علم اور برتری اور کبریائی کو بیان فرمایا ہے۔ اول تو یہ فرمایا ہے کہ اگر آپ مشرکین سے دریافت فرمائیں کہ بتاؤ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے، آپ فرما دیجیے کہ سب تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، جب تمہارے اقرار سے خالق وہی ہے جس نے اتنے بڑے آسمانوں کو اور زمین کو وجود بخشا تو یہ بھی سمجھ لینا کہ سب تعریفوں کا مستحق بھی وہی ہے، جب یہ بات ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–32
ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
24:۔ ولئن سالتھم الخ، یہ توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ یعنی مشرکین کو خود اس بات کا اعتراف ہے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیی ہے جب ہر چیز کا خالق اللہ ہے تو لا محالہ ہر چیز میں متصرف اور سب کا کارساز بھی وہی ہوگا۔ قل الحمد للہ یہ دلائل مذکورہ کا ثمرہ ہے یعنی دلائل مذکورہ سے ثابت ہوا کہ تمام صفات کارسازی کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی کارساز اور متصرف و مختار نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق ہے لیکن مشرکین کی جہالت و نادانی کا یہ عالم ہے کہ وہ اس حقیقت سے سراسر جاہل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر اللہ تعالیٰ کی توحید اور ب عث بعد الموت کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے ، چناچہ سورة کے آغاز میں قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت اور ا اس کے واحی الٰہیہونے کا بیان تھا۔ پھر حضرت لقمان (رح) کی بعض نصیحتوں کا ذکر ہوا جن میں سرفہرست شرک کی تردید ہے ، اس کے بعد توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے ، نیز یہ بھی کہ مشرکوں کے پاس نہ کوئی عقلی دلیل ہے ، نہ کسی نبی یا بزرگ کا قول اور نہ کوئی روشن کتاب ہے جس سے وہ کفر یہ اور شرکیہ عقائد کو ثابت کرسکیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا ذکر ہوا ،۔ اور یہ بھی کہ شیطان لوگوں کو گمراہ کرتا ہے ۔ اکثر لوگ اپنے ابائو اجداد…
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللہُ 0 ۭ قُلِ الْحَمْدُ لِلہِ 0 ۭ بَلْ اَكْثَرُہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 25
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ترکیب : اقلام جمع قلم خبر ان ‘ ما موصولہ فی الارض صل تھا والجملۃ اسم ان من شجرۃ بیان ماو البحر رفعہ للعطف علی محل ان و معمولھا ویمدہ سبعۃ ابحر الجملۃ مع الفعل یمدو فاعلہ سبعۃ ابحرحال اویقال والبحر المبتداء یمدہ الجملۃ خبرہ۔
تفسیر : ولئن سالتہم الخ یعنی گو وہ دلائل پر غور و فکر نہیں کرتے، محض تقلیدِ آبائی میں گرفتار ہیں، لیکن باایں ہمہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور خالق ہونے کا اور نیز قادر ومالک آسمان و زمین ہونے کا فطری طور پر ایسا علم ہے کہ اگر تو ان سے دریافت کرے گا کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا ہے تو یہی کہیں گے کہ اللہ نے اس میں کسی کی بھی شرکت نہ بتلائیں گے۔ قل الحمد للہ تو کہہ الحمدللہ…
Read the full tafseer →وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ط قُلِ الْحَمْدُلِلّٰہِ ط بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (لقمان : 25)
(اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا، تو وہ ضرور کہیں گے، اللہ نے۔ کہئے، الحمدللہ۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ )
مسلمات سے اتمامِ حجت
اس سے پہلے تقلیدِآباء کے حوالے سے مشرکین کی جہالت اور حماقت کو واضح فرمایا گیا ہے، اب اسی طرح کی ایک مثال سے اسی مضمون کو مزید مبرہن کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ لوگوں کی جہالت اور ہٹ دھرمی کا عالم یہ ہے کہ جن حقائق کا یہ خود اعتراف کرتے ہیں اور وہ ان کے عقیدہ کا حصہ بھی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
فہم القرآن
ربط کلام : کفرو شرک اختیار کرنے والوں سے ایک سوال۔
جو لوگ دنیا کی مختصر مدّت اور قلیل فائدے کی خاطر کفرو شرک اختیار کرتے ہیں۔ اس حقیقت کا وہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ جن کو ہم اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں ان کا زمین و آسمان کی تخلیق میں کوئی حصہ نہیں یہ ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف نبی اکرم ﷺ کے بدترین دشمن بھی کیا کرتے تھے۔ اس لیے آپ کو حکم ہوا کہ ان سے استفسار فرمائیں کہ بتاؤ کہ زمینوں آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ کفار مکہ کا جواب یہی ہوتا تھا کہ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے۔ اس طرح وہ ” اللہ “ کے خالق ہونے کا اقرار کرنے پر مجبور تھے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ اے نبی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →25: ولَپنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ (اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کس نے آسمان و زمین) وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ (کو پیدا کیا تو وہ ضروریہی جو اب دیں گے اللہ تعالیٰ نے) آپ کہہ دیجئے الحمد للہ یہ الزام بطور اقرار ہے کہ وہ ذات جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا وہی اللہ وحدہ لاشریک ہے اسی ہی کیلئے حمدو شکر واجب ہے۔ اور لازم ہے کہ اس کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کی جائے۔ پھر فرمایا۔
بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (بلکہ ان کی اکثریت جانتی نہیں) کہ یہ بھی ان پر لازم ہے۔ اور جب ان کو خبردار کیا جاتا ہے تو خبردار نہیں ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
24، نمتعھم قلیلا، ہم ان کو مہلت دیں گے تاکہ ان سے دنیا کی زندگی میں نعمت حاصل کریں تھوڑی سی اپنی مدت مقررہ پوری ہونے تک ۔ ، ثم نضطر ھم ، پھر ان سے ملیں گے اور آخرت کی طرف ان کو لوٹا دیں گے۔ ، الی عذاب غلیظ، اس سے مراد آگ کا عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
21 تا 26۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی سب ضرورت کی چیزیں پیدا کیں اس پر بعضے ناشکر لوگ نادانی سے اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے میں بغیر سند کے جھگڑتے ہیں ان آیتوں میں اس بےسند جھگڑنے کا ذکر فرمایا کہ ان مشرکوں سے جب اللہ کے حکم پر چلنے کو کہا جاتا ہے تو یہ نادان کہتے ہیں کہ جن تبوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ہم بھی انہیں کو پوجیں گے اور ان کا ہی طریقہ اختیار کریں گے اسکا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ کیا یہ لوگ باپ دادا کی چال چلیں گے اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو مطلب یہ ہے کہ ان کہ باپ دادا شیطان کے پیرو اور گمراہ ہوں تو کیا جب بھی یہ ان کا طریقہ اختیار کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
آیت نمبر : 25 ۔ 28
اگر آپ حق کو جھٹلانے والے ان مشرکین سے پوچھیں (من خلق السموٰت والارض) ” آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ “ تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ ان کے بتوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ بول اٹھتے کہ اللہ اکیلے نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے (قل) ان کو الزامی جواب دیتے اور ان کے اس اقرار کو ان کے انکار کے خلاف حجت بناتے ہوئے کہہ دیجیے ! (الحمدللہ) ” ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے “ جس نے نور کو واضح کردیا اور خود تمہاری ہی طرف سے دلیل کو ظاہر کردیا۔ اگر وہ جانتے ہوتے تو انہیں یقین ہوتا کہ وہ ہستی جو کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے وہ استحقاق عبادت اور توحید میں بھی متفرد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–33
آخرت میں نسب کی بجائے عمل کام آئے گا
قول باری ہے (واخسوا یوما لا یجزی والد عن ولدہ ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا۔ اور اس دن کا خوف رکھو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ بدلہ ہوسکے گا اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی بدلہ بن سکے گا) آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک کسی کو اس کے باپ یا نسب کے شرف کی بنا پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو چھوڑ کر کسی ایک کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔
اس مضمون میں حضور ﷺ سے روایت بھی وارد ہے۔ آپ کا ارشاد ہے (من ابطابہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ۔ جس شخص کا عمل اسے سست کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔ ) آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
53 سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے "۔ خلقًا بھی ملکاً بھی اور تصرفاً بھی۔ سو جس طرح بلا شرکت غیرے اس سب کا خالق وہ ہے، اسی طرح اس کا مالک بھی تنہا وہی ہے اور اس میں تصرف و حکم بھی اسی کا چلتا ہے۔ پس ہر طرح کی بندگی بھی اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کا خالق ومالک بھی تنہا وہی ہے اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے۔ اور اس کے اندر پائے جانے والے بےحد و حساب خزانوں کا مالک بھی تنہا وہی ہے۔ سب اسی کے محتاج اور سر تا پا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
اللہ کی ربوبیت کے کرشمے
تشریح : انسان فطرتاً نیک اور مسلم پیدا ہوا ہے مگر حالات اور بدلتے ہوئے زمانے کے مطابق انسان کے عقائد، رہن سہن اور رجحانات میں تبدیلی آتی رہی اور آئندہ بھی آتی رہے گی۔ لیکن اندر سے انسان اللہ سے دور کبھی نہ ہوسکا نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی تخلیقات اس کو ہمیشہ کسی نہ کسی صورت اپنی طرف متوجہ ضرور کرتی رہتی ہیں۔ اور پھر جس میں سوجھ بوجھ پیدا ہوجائے اس کے دل میں نور ایمان بھی روشن ہوتا رہتا ہے۔ اس کی مثال ہم اس روسی خلاباز مسٹر جون ینگ (John Young) کی دے سکتے ہیں جو کہ 1981ء میں خلائی بس کو لمبیا خلائی سفر میں بھیجی گئی تھی تو اس کے دو مسافروں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
آیات 20 تا 30
کیا تم اس بات سے بیخبر ہو کہ اللہ نے سب آسمانی اور زمینی مخلوق کو تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے اور یہ بات سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت ہے کہ جس قدر ستارے یا سیارے معلوم ہوئے سب کی توجہات کا مرکز زمین ہے اور ان کی حرکات یا روشنی و گرمی سے زمین میں مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں چاند و سورج کی روشنی و گردش بھی زمین میں حیات آفرینی کی خدمت پر مامور ہے اور یہ سب کچھ انسان کی ہی خدمت کر رہا ہے اسی طرح آسمانی فرشتے بھی کچھ امور حیات انجام دینے پہ لگے ہیں تو عبادات کرنے والے انسانوں کے لیے دعاؤں پہ مامور ہیں۔
ظاہری و باطنی نعمتیں :
پھر اس نے تمام ظاہری و باطنی نعمتوں سے انسان کو نوازا ہے ظاہری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ف 1” کہ میری صداقت اور تمہارا ہونا ثابت ہوگیا اور تم نے خود ہی اعتراف کرلیا۔ “ (ابن کثیر، کبیر) یا مس موقع پر ’ دشکر خدا کا “ کہنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب تم مانتے ہو کہ زمین و آسمان کو دا ہی نے بنایا ہے۔ تو شکر بھی اسی کا بجا لائو، دوسروں کے سامنے ماتھے کیوں رگڑتے پھرتے ہو۔2 یعنی یہ نہیں سمجھتے کہ جب خدا کو زمین و آسمان کا خلاق مان لیا تو ضروری ہے کہ بندگی بھی صرف اسی کی کی جائے۔ (شوکانی )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
(31:26) الغنی۔ بےنیاز ۔ غیر محتاج۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی میں سے ہے۔
الحمید۔ حمد سے (فعیل) کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور بمعنی مفعول یعنی محمود ہے۔ ستودہ۔ سراہا ہوا۔ تعریف کیا ہوا۔ سزاوارحمد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
لغات القرآن آیت نمبر (25 تا 30)
سالت (تو نے پوچھا۔ سوال کیا) ۔ یقولن (وہ ضرور کہیں گے) ۔ ابحر (بحر) (سمندر) ۔ کلمات اللہ (اللہ کی باتیں) ۔ مانفدت (ختم نہیں ہوئی (ختم نہ ہوں گی) ۔ بعث (دوبارہ اٹھانا) ۔ یولج (وہ داخل کرتا ہے) ۔
تشریح آیت نمبر (25 تا 30) ۔ ” جو لوگ اللہ کی ذات، صفات، قدرت اور کمالات کا انکار کرتے ہیں اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان اور ان میں بسنے والی مخلوق کو کس نے پیدا کیا ہے تو ان کے منہ سے بےساختہ یہی نکلے گا کہ اللہ نے پیدا کیا ہے۔ ضمیر کی اس سچی اور پر خلوص آواز کے باوجود جب عبادت کرنے اور سر جھکا نے کا وقت آتا ہے تو وہ کائنات کے حقیقی خالق ومالک کو چھوڑ کر بےحققیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا اگر تمام روئے زمین کے درخت قلم بنائے جائیں اور ساتوں سمندر کی سیاہی بناکر اس کی معلومات کو لکھنا چاہیں جب بھی اس کی کلمات یعنی معلومات ختم نہ ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی باتیں تو بےانتہا ہیں وہ سب پر غالب ہے اور سب کو جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
[14] یعنی اکثر لوگوں کو یہ نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ کو خالق ارض و سما ماننے کے لازمی نتائج اور تقاضے کیا ہیں۔ جب ایک شخص اللہ تعالیٰ کو خالق کائنات تسلیم کرتا ہے تو لازماً اسے یہ بھی ماننا چاہئے کہ معبود بھی وہی ہے لہذا بندگی بھی اسی کی کرنی چاہئے اور دعائیں بھی اسی سے مانگنی چاہئیں۔ حاکمیت اور قانون سازی کا حق بھی صرف اسی کو پہنچتا ہے۔ خالق اللہ کو ماننا اور حاجت روا اور مشکل کشا دوسری ہستیوں کو ٹھہرانا اور ان کے آگے سر نیاز جھکانا یہ بالکل عقل کے خلاف اور متضاد بات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ف 1: اس حقیقت کی طرف اسارہ ہے کہ توحید فطرت انسانی کے عین مطابق ہے اور ہر شخص جس کو عقیل سلیم سے بہرہ وافر ملا ہے ۔ مجبور ہے اس سوال کا یہی جواب دے ۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ اکثریت ایسے کی ہے جو دل کی اس سچی آواز کو نہیں سنتے ! اور جن کو فطرت کے قانون سے آگاہی نہیں ہے ۔
Read the full tafseer →25۔ اور اے پیغمبر اگر آپ ان دین حق کے منکروں سے دریافت فرمائیں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے بنایا ہے اور کس نے پیدا کیا تو وہ لوگ ضرور جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ فرمایئے الحمد للہ اصل بات یہ ہے کہ ان میں کہ اکثر لوگ اتنا بھی نہیں جانتے ۔ یعنی ایک بات تو تسلیم کرلی اور اس کا اعتراف کرلیا اس پر آپ الحمد للہ کہئے ۔ دوسری بات جو یہ نہیں مانتے وہ بالکل ہی ظاہر ہے کہ جو مخلوق اور مصنوع ہو وہ مستحق الوہیت نہیں ہوا کرتا یہ وصف خالقت تو اللہ تعالیٰ کا تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کی مخلوق کو اور اس کے مصنوع کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک کرتے ہیں بلکہ اکثر تو ان میں کے ان باتوں کو جانتے ہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
ف 1۔ اللہ کی باتیں یعنی وہ کلمات جن سے اللہ تعالیٰ کے کمالات کی حکایت ہو۔
Read the full tafseer →اگر آپ ان سے آسمان کے بارے میں سوال کریں کہ کس نے بنایا ہے تو کہیں گے اللہ نے :
25۔ یہ لوگ جو اپنی حاجات ومشکلات میں غیر اللہ کو پکارتے ہیں اور کبھی کسی کو اپنا حاجت روا قرار دیتے ہیں اور کبھی کسی کو اپنا مشکل کشا کہتے ہیں اور اسی طرح چھوٹی چھوٹی باتوں میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں اور اس طرح کفر وشرک میں مگن یہ خرمستیاں کر رہے ہیں اگر آپ ان خدا فراموشوں سے پوچھو کہ آسمان کا خالق کون ہے ؟ زمین کو کس نے پیدا کیا اور اس طرح تمہارے فائدہ کے لئے بچھا دیا ہے ؟ کیا ان معبودوں اور حاجت رواؤں نے اور مشکل کشاؤں نے جن کو تم اللہ کے سوا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہو تو اس وقت یہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
This has been stated in the verse: وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ (27) through a similitude. Says the similitude: 'If all trees that are on the earth were to be pens (or pens were to be made of all branches on them) and the ocean (converted into ink) is supported by seven seas following it, the words of Allah would (still) not come to an end.' The expression: کلمات اللہ (kalimatul-lah, i.e. the words of Allah) means His knowledge and wisdom (Ruh ul-Maani and Mazhari) which includes the manifestations of Divine power and Divine blessings. Then, the 'seven seas',…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
44 That is, "Thank God that you at least know this and believe in this. But if this be the reality, all praise should then belong to AIIah alone. How can any other being deserve praise when it has no share whatever in the creation of the universe?"
45 That, is, Most of the people do not know what are the inevitable results and demands of accepting Allah as the Creator of the universe, and what contradicts it. When a person acknowledges Allah as the Creator of the earth and the heavens. He should also acknowledge that Allah alone is the Deity and Lord: that He alone is worthy of worship and…
Read the full tafseer →