Ayahs 31:1–2(31:2) تلک۔ اسم اشارہ ہے ۔ مفرد ۔ مؤنث کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اصل میں اشارہتی ہے ل اس پر زیادہ کیا گیا ہے ک حرف خطاب ہے جس کء حسب احوال مخاطب تذکیر و تانیث اور جمع و تثنیہ میں گردان ہوتی رہتی ہے۔
ایت مشار الیہ ہے اور تلک ایت سے مراد وہ آیات :۔
(1) جو اس سورة میں آگے آرہی ہیں۔ (2) جملہ آیات قرآن مجید۔
ایت الکتب الحکم : ایت مضاف۔ الکتب موصوف الحکیم صفت صفت موصوف مل کر مضاف الیہ ۔ پر حکمت کتاب کی آیتیں۔ الحکیم : ای ذی الحکمۃ۔ حکمت و دانش سے پر اس کا ایک معنی محکم بھی ہیں یعنی اس میں کسی قسم کا خلل یا تناقض نہیں ہے۔ ای لاخلل فیہ ولا تناقض۔
Ayah 31:3(31:3) ھدی۔ (اسم ومصدر بمعنی ہدایت کرنا یا ہدایت) ورحمۃ (اسم ومصدر بمعنی بخشش، مہربانی ، احسان۔ فضل، انعام، رحم کرنا) دونوں منصوب بوجہ حال ہونے کے ایت سے۔ یعنی یہ سراسر ہدایت و رحمت ہے (محسنین کے لئے)
محسنین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ احسان کرنے والے۔ نیکو کار مرد۔
Ayah 31:4(31:4) آیت ہذا محسنین کی تعریف ہے۔
Ayah 31:5(31:5) اولئک علی ھدی۔ مبتداء خبر۔ من ربھم۔ ھدی کی صفت۔
واولئک ہم المفلحون : جملہ معطوف ۔ جس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ہم کی تکرار کلام کی تاکید اور زور کلام کے لئے ہے۔ اور یہی لوگ فلاح یافتہ ہیں۔
Ayah 31:6(31:6) ومن الناس : ای بعض من الناس اور لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں۔
من یشتری : من موصولہ بمعنی الذی ہے یشتری مضارع واحد مذکر غائب اشتراء (افتعال) مصدر۔ جو خریدتے ہیں۔ اختیار کرتے ہیں۔ راغب ہوتے ہیں۔
لہم الحدیث : لھو مضاف الحدیث مضاف الیہ۔ لیکن اجافت بتقدیر من ہے۔ اصل میں لہوا من الحدیث تھا۔ فضول بیہودہ۔ بےسروپا قصوں کا کھیل تماشہ۔
الکشاف میں ہے الاضافۃ بمعنی من (تبعیضیہ) کانہ قیل : ومن الناس من یشتری بعض الحدیث الذی ھواللھو منہ۔ اور لوگوں میں بعض ایسے ہیں کہ خرید کرتے ہیں بعض ایسی (بےہودہ اور بےسروپا) باتیں جو محض کھیل تماشہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مفسرین اس آیت کے شان نزول کے متعلق لکھتے ہیں :۔
کہ مکہ میں ایک شخص نضر بن حارث تھا جو اپنے کاروبار کے سلسلہ میں ایران۔ عراق۔ شام وغیرہ اکثر جایا کرتا تھا۔ وہاں سے وہ رستم واسفند یار کے قصے۔ ایران کے بادشاہوں کی جنگوں کی کہانیاں ، بہادروں کے افسانے اور حیرہ کے بادشاہوں کے قصے وغیرہ لے آتا تھا۔ اور جب نبی اکرم ﷺ اللہ کا کلام پڑھ کر سنانے لگتے تو یہ بالمقابل اپنی مجلس جما لیتا اور کہتا کہ ان چیزوں میں دل کے لئے شراب و کباب کی پیش کش بھی کرتا ۔ جاہل اور علمی سند سے خالی لوگ نفس پرستی کے دام میں آکر ادھر لگ جاتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی
لیضل میں لام تعلیل کا ہے یضل مضارع (منصوب بوجہ لام تعلیل) واحد مذکر غائب اضلال (افعال) مصدر۔ تاکہ گمراہ کر دے (دوسروں کو) اس میں ضمیر فاعل وہی ہے جو یشتری میں ہے۔
سبیل اللہ : اللہ کا دین۔ یا تلاوت قرآن مجید۔
بغیر علم۔ بغیر کسی علمی سند کے یہ یشتری سے متعلق ہے۔ ای یشتری ذلک بغیر علم۔ یعنی اس فعل یا تجارت کے نتائج سے بیخبر ہوکر۔
یتخذھا۔ مضارع منصوب بوجہ عطف علی یضل ، یضل کا معطوف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب سبیل کے لئے ہے جو مذکر و مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔
ھزوا۔ مصدر بمعنی اسم فعول مھزا وہ جس کا مذاق اڑایا جائے۔
ویتخذھا ھزوا اور اللہ کے دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔
اولئک یہ لوگ جو اللہ کے راستے سے غافل کردینے والا سودا کرتے ہیں، دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں اور اللہ کی دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ مھین۔ اسم فاعل واحد مذکر اھانۃ مصدر (افعال) سے ھون مادہ۔ ذلیل کرنے والا۔
تتلی۔ مضارع مجہول ۔ واحد مؤنث غائب تلاوۃ مصدر تلو مادہ۔ پڑھی جاتی ہے۔ یہاں آیات کے لئے فعل آیا ہے بمعنی پڑھی جاتی ہیں۔
علیہ۔ اس میں ہ ضمیر واھد مذکر غائب کا مرجع اسم موصول من ہے۔ ومن الناس من یشتری۔ بعض نے اس کا ترجمہ کیا ہے لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو خریدتے ہیں۔ اور پھر اسی رعایت سے یشتری ۔ یضل ۔ یتخذھا میں ضمیر فاعل واحد مذکر غائب کو بمعنی جمع لیا ہے۔ اس لحاظ سے واذا تتلی علیہ ایتنا کا ترجمہ ہوگا اور جب انہیں ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ اسی طرح اس آیت میں بھی ضمیر واحد مذکر غائب کو جمع کے معنی میں لیا جائے گا۔
بعض نے ومن الناس من یشتری کا ترجمہ کیا ہے :۔ اور لوگوں میں وہ بھی ہے جو خرید کرتا ہے :۔۔ اور ہر آیت کے آخر تک یہی صیغہ اختیار کیا ہے اس صورت میں علیہ میں ہ ضمیر اس کی ظاہری صورت میں واحد مذکر غائب کے لئے ہوگی اور واذی تتلی علیہ ایتنا کا ترجمہ ہوگا اور جب اس کو ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ۔
ولی۔ ماضی واحد مذکرغائب تولیۃ (تفعیل) مصدر۔ پیٹھ دے کر۔ یا منہ موڑ کر بھاگنا۔ یہاں ماضی بمعنی حال آیا ہے۔ وہ منہ موڑ لیتا ہے۔ مستکبرا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ منصوب استکبار (استفعال) مصدر اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والا۔ سرکشی کرنے والا۔ نصب بوجہ ولی سے حال ہونے کے ہے۔
کان لم یسمعھا : یشبہ حالہ فی ذلک حال من لم یسمعھا۔ اس کا اس شخص جیسا ہے جس نے اسے سنا ہی نہیں ہے۔ یہ جملہ ولی سے حال ہے یا ضمیر مستکبرا سے کانہ سے اور ضمیر ہ ضمیر شان ہے۔ جیسے اس نے سنا ہی نہیں۔
کان فی اذنیہ وقرا : کان حرف مشبہ بفعل۔ اذنی تثنیہ اذن واحد مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ اس کے دونوں کانوں میں۔ وقرا۔ ثقل، بوجھ گرانی۔ بہرہ پن۔ الوقر۔ کان میں بھاری پن۔ وقرت اذنہ کان میں ثقل ہونا۔ وقر۔ محض بوجھ کو بھی کہتے ہیں ای الحمل الثقیل بھاری بوجھ۔
گدھے یا خچر کے ایک بوجھ کو بھی وقر کہتے ہیں ۔ (a donkey load)
جیسا کہ اونٹ کے ایک بوجھ کو وسق کہتے ہیں۔ (a cameload) الوقار کے معنی سنجیدگی اور حلم کے ہیں۔ وقرا منصوب بوجہ اسم کان کے ہے۔ ای کان وقرا فی اذنیہ۔ گویا کہ اس کے دونوں کانوں میں بوجھ ہے یعنی وہ دونوں کانوں سے بہرا ہے یہ جملہ ضمیر لم یسمعھا سے حال ہے یا اس سے بدل ہے (بدل کل)
Ayahs 31:7–8(31:8) جنت النعیم۔ مضاف مضاف الیہ۔ نعمت و راحت کی جنتیں اصل میں جنتوں کی نعمتیں اور راحتیں تھا۔ کیونکہ جنت جگہ ہی نعمت و راحت کی ہے مبالغہ کے لئے الٹ دیا ہے۔
Ayah 31:9(31:9) وعد اللہ : وعدا مصدر مؤکد لنفسہ ۔ لہم جنت النعیم کے معنی ہیں کہ :۔ وعدہم اللہ جنت النعیم۔ اس وعدہ کی تاکید میں مصدر مؤکدہ لایا گیا ہے چونکہ یہ وعدہ لفظا موجود نہیں صرف معنی ہے اس تاکید کو تاکید معنوی کہتے ہیں اور مصدر مؤکدہ لنفسہ کہلائے گا۔ اس کی مثال 30:6 میں ملاحظہ ہو۔
حقا بھی مصدر مؤکدہ ہے وعدہ کی تاکید کے لئے آیا ہے لہٰذا ہر دو عد اور حقا وعدہ لہم جنت النعیم کی تاکید کے لئے ہیں۔ دونوں مصدر مؤکدہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں ۔
العزیز۔ غالب ۔ زبردست۔ قوی۔ گرامی قدر۔ عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمنعی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے۔
الحکیم۔ ذوالحکمۃ۔ حکمت والا۔ جس کا ہر کام حکمت اور مصلحت پر مبنی ہو۔
Ayah 31:10(31:10) عمد۔ ستون۔ ومعد اور عماد کی جمع۔ ترونھا۔ تردن مضارع جمع مذکر حاضر۔ رؤیۃ مصدر (باب فتح) ہا ضمیر واحد مذکر غائب کے دو مرجع ہوسکتے ہیں :۔
(1) آسمان۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا ۔ اور تم دیکھ رہے یو کہ آسمان ستونوں کے بغیر پیدا کئے ہیں۔
(2) عمد۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا۔ کہ اس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے پیدا فرمایا۔
جنہیں تم دیکھ سکو۔ یعنی اگر ہوں تو ضرور نطر آئیں۔ یا اس نے آسمانوں کو پیدا کیا ایسے ستونوں کے بغیر جنہیں تم دیکھ سکو۔ یعنی ہوسکتا ہے کہ ستون ہوں لیکن اگر وہ ہوں تو ایسے ہیں کہ تم دیکھ نہیں سکتے ۔
رواسی : راسیۃ کی جمع ہے بمعنی بوجھ۔ پہاڑ۔ رواسی کا استعمال ٹھہرے ہوئے پہاڑوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
ان تمید بکم ای لئلا تمید بکم تاکہ تمہیں لے کر وہ ڈولتی نہ رہے تمید مضارع واحد مؤنث غائب وہ ہلتی ہے وہ جھکتی ہے مید مصدر (باب ضرب) کسی بڑی چیز کا ہلنا ۔ یا جھکنا۔
بث۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے بکھیرا۔ اس نے پھیلایا۔ بث مصدر (باب ضرب ، نصر)
دابۃ۔ جانور۔ پاؤں پر چلنے والے۔ رینگنے والے جانور۔ اسم فاعل کا صیغہ ہے دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
فیہا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الارض کے لئے ہے۔
زوج کریم۔ موصوف وصفت۔ شریف و کثیر المنفعت اقسام یا جوڑے۔ اس میں حیوانات، نباتات، جمادات سب شامل ہے۔
Ayah 31:11(31:11) بل۔ حرف اضراب ہے ماقبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لئے آیا ہے۔ یعنی ان کے معبود ان باطل نے کچھ بھی تخلیق نہیں کیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں (مبتلا) ہیں۔
Ayah 31:12(31:12) ان اشکر اللہ۔ اس میں ان تفسیریہ ہے ای وقلنا لہ ان اشکر اللہ اور ہم نے اسے کہا کہ شکر ادا کر اللہ کا۔
Ayah 31:13(31:13) وھو یعظہ میں واؤ حالیہ ہے۔ اور وہ اسے نصیحت کر رہا تھا۔ یا اس نے اسے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔ (31:13) یبنی۔ یا حرف نداء ہے۔ بنی مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر منادی۔ بنی ۔ ابن سے اسم تصغیر ہے جو یہاں پیارا اور محبت کے لئے ہے۔ یبنی میرے پیارے بیٹے۔ میرے چھوٹے سے بیٹے۔ بنی کی ی اور یائے متکلم کو اضافت کی وجہ سے مدغم کیا گیا۔
Ayah 31:14(31:14) وصینا۔ ماضی جمع متکلم توصیۃ (تفعیل) ہم نے حکم دیا۔ جیسا کہ آیت ولقد وصینا الانسان (29:18) میں بدیں معنی آیا ہے۔ یعنی ۔ اور ہم نے انسان کو حکم دیا۔ الوصیۃ واقعہ پیش آنے سے قبل کسی کو ناصحانہ انداز میں ہدایت کرنا۔ اوصاہ (افعال) اور وصاہ (تفعیل) بمعنی وصیت کرنے کے بھی ہیں۔ جیسے من بعد وصیۃ یوصی بھا او دین (4:10) وصیت کی تعمیل کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے۔ وصی ب کسی کام کا عہد لینا۔ کسی کام کا حکم دینا۔
ووصینا الانسان بوالدیہ۔ اور ہم انسان کو حکم دیا اس کے ماں باپ کے متعلق (ان کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنے کا)
وھنا۔ اسم مصدر۔ (باب ضرب) کمزوری و کمزور ہونا۔ منصوب بوجہ امہ کے حال ہونے کے۔ (بہ تقدیر مضاف ای ذات وھن) یا یہ فعل محذوف سے مفعول مطلق ہے ۔ ای نھن وھنا اس صورت میں یہ جملہ امہ سے حال ہوگا۔ وھنا علی وھن کمزوری پر کمزوری ، شدت پر شدت۔ ضعف پر ضعف (مدت حمل میں متعلقہ دشوایاں، پیدائش کا مرحلہ اور اس سے متعلقہ تکالیف۔ رضاعت کا زمانہ اور ماں کا اپنا خون جگر پلانا۔ ابتدائی پرورش اور ماں کی قربانیاں)
فصالہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ فصال بچہ کا دودھ چھڑانا۔ باب مفاعلہ سے مصدر ہے اس کے اصل معنی باہ جدا ہوجانا۔ ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجانا ہیں۔ کیونکہ بچہ کا دودھ جب چھڑایا جاتا ہے تو وہ اپنی ماں سے اس قدر وابستہ نہیں رہتا جیسا پہلے تھا اور ایک گونہ ماں اور بچہ میں جدائی واقعہ ہوجاتی ہے نیز بچہ شیر مادر سے اور شیر مادر بچہ سے علیحدہ کردیا جاتا ہے۔ اس لئے بچہ کے دودھ چھڑانے کو فصال سے تعبیر کیا گیا۔
الفصل کے اصل معنی ہیں دو چیزوں میں سے ایک کو دوسری سے اس طرح علیحدہ کردینے کے ہیں کہ ان کے درمیان فاصلہ ہوجائے اور یہ اقوال و اعمال دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔
ان اشکرلی ولوالدیک : ان تفسیر یہ ہے اور جملہ وصینا کی تفسیر ہے ای وصینا الانسان بشکرنا وبشکر والدیہ۔ یعنی ہم نے انسان کو حکم دیا کہ وہ شکر گزاری کرے ہماری اور اپنے والدین کی بھی۔
درمیانی عبارت حملتہ امہ وھنا علی وھن وفصالہ فی عاملینجملہ معترضہ ہے اشکر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تو شکر کر
الی المصیر : الی ، الی حرف جار ی ضمیر واحد متکلم مجرور۔ میری طرف۔
المصیر۔ اسم ظرف مکان ومصدر۔ صیر مادہ لوٹنے کی جگہ ۔ ٹھکانا۔ قرار گاہ ۔ والی المصیر۔ اور میری طرف ہی واپسی ہے یہ تعلیل ہے خدائی احکام کے بجالانے کے وجوب کی۔
Ayah 31:15(31:15) وان جاھدک۔ ان شرطیہ ہے جھدک فعل ماضی تثنیہ مذکر غائب ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ جاھد یجاھد مجاھدۃ (مفاعلہ) (اگر) وہ دونوں (تم سے) جہاد کریں یعنی جھگڑیں لڑیں ۔ تم پر زور دیں ۔ تم پر کوشش کریں۔
ان تشرک میں ان مصدریہ ہے۔
ما لیس لک بہ علم۔ میں ما بمعنی الذی ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما موصولہ ہے۔ جس کا تجھے رلم نہیں۔ جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں۔
فلا تطعھما۔ جواب شرط۔ تو ان دونوں کا کہنا نہ مان۔ ان کی اطاعت مت کر۔
صاحبھما۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ھما ضمیر تثنیہ مذکر غائب ۔ مفعول ۔ تو ان کی مصاحبت کر۔ تو ان کے ساتھ رہ۔ تو ان کے ساتھ زندگی گزار۔
معروفا : ای صحابا معروفا۔ اچھی مصاحبت۔ اچھے سلوک کے ساتھ۔
اتبع۔ فعل امر۔ واحد ۔ مذکر حاضر۔ تو اتباع کر۔ تو پیروی کر۔
من اناب الی : من موصولہ بمعنی الذی اناب ینیب انابۃ (افعال) رجوع کرنا انابت الی اللہ کے معنی اخلاص عمل اور دل سے اللہ کی طرف رجوع کرنا اور توبہ کرنا۔ سبیل مضاف من اناب الی مضاف الیہ۔ جو میری طرف صدق دل سے رجوع کرے اس کی راہ کی پیروی کر۔ مرجعکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہارا لوٹنا۔
انبئکم۔ مضارع واحد متکلم کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں تم کو خبر کروں گا۔ میں تم کو بتاؤں گا۔
قائدہ : آیات 14 اور 15 بطور جملہ معترضہ ہیں اگلی آیت 16 سے پھر حضرت لقمان (علیہ السلام) کا کلام شروع ہوتا ہے۔
Ayah 31:16(31:16) انھا ان تک : ھا ضمیر قصہ ہے جو مابعد کے جملہ کی طرف عائد ہے۔ ان تک ان شرطیہ ہے تک کون سے مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے اصل میں تکون تھا۔ ان شرطیہ کے آنے سے واؤ حذف ہوگیا اور نون کو بھی خلاف قیاس حرف علت کے مشابہ مان کر حذف کردیا گیا۔ ان تک اگر وہ ہو وے۔
مثقال اسم مفرد۔ ہم وزن۔ حبۃ۔ دانہ۔ اناج کے دانہ کو حبۃ یا حب کہتے ہیں ۔
خردل۔ رائی۔ مثقال حبۃ من خردل۔ رائی کے دانہ کے برابر۔ رائی کے دانہ کے ہموزن۔ انھا ان تک ۔۔ خردل قصہ یہ ہے کہ اگر کوئی (شے یا عمل) رائی کے دانہ کے برابر (بھی چھوٹا) ہو۔
فتکن۔ مضارع مجزوم واحد مؤنث غائب کون سے مضارع۔ دراصل تکون تھا حرف جازم (ان) داخل ہونے سے اجتماع ساکنین کی بناء پر واؤ ساقط ہوا۔ ترجمہ : پھر وہ ہو وے۔
صخرۃ۔ بڑا اور سخت پتھر۔ صخر وصخور جمع فی صخرۃ کسی بڑے سخت بھاری پتھر کے اندر۔
Ayah 31:17(31:17) اقم۔ فعل امر۔ صیغہ واحد مذکر۔ اقامۃ (افعال) مصدر تو قائم رکھ۔ تو سیدھا کر۔ اقیم الصلوۃ تو نماز پڑھ۔ تو نماز قائم رکھ۔
وامر۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ امر مصدر (باب نصر) تو حکم دے۔ یعنی اپنی ذات کی تکمیل و تربیت کے لئے ہمیشہ نماز پڑھا کر اور دوسروں کی تربیت اور تکمیل ذات کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرارہ۔ وامر بالمعروف تو نیکی کا حکم دیا کر۔
انہ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر نہی مصدر سے (باب فتح) تو منع کر۔ تو منع کرتا رہ۔ المنکر۔ اسم مفعول واحد مذکر انکار مصدر۔ وہ قول یا فعل جس کو شرع نے ممنوع قرار دیا ہو۔ وانہ عن المنکر اور برائی سے روکتے رہو۔
ما اصابک۔ ما موصولہ ہے اصاب ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اصابۃ (افعال) مصدر سوب مادہ۔ پہنچنا۔ آلینا۔ آپڑنا۔ پالینا۔ اسی سے مصیبۃ ہے آلینے والی۔ آپڑنے والی۔ تکلیف ، سختی۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ جو مصیبت تمہیں پہنچے۔
ذلک۔ یہ ۔ یہی۔ اسم اشارہ واحد مذکر کرکے لئے آتا ہے اس صورت میں اس کا مشار الیہ صبر ہے یا اس کا اشارہ جملہ امور و صیت کے متعلق ہے یعنی اقامت صلوٰۃ۔ امر بالعروف ونہی عن المنکر واصبر علی ما اصابک) ان سب کو وصیت کے ضمن میں لاکر اشارہ مفرد استعمال کیا گیا ہے ای الذی وصیتک بہ۔
عزم الامور : العزم العزیمۃ کسی کام کو قطعی اور حتمی طور پر کرنے کا ارادہ کرنا ۔ قرآن مجید میں ہے فاذا عزمت فتوکل علی اللہ۔ (3:159) جب کسی کام کا مصمم ارادہ کرلو۔ تو خدا پر بھروسہ رکھو۔ عزم مصدر ہے عزم یعزم (ضرب) لیکن یہاں عزم بمعنی معزوم لیا گیا ہے (یعنی جس امر کا پختہ ارادہ کیا گیا ہو) اس کو تسمیۃ المفعول باسم المصدرکہتے ہیں اس طرح عزم الامور بمعنی معزومات الامور ہے یہ اضافت صفت کی موصوف کی طرف ہے بیشک یہ ہمت کے کاموں سے ہے یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکرکے سلسلہ میں جو سختیاں اور تکالیف پیش آئیں ان کو تحمل اور اولوا العزمی سے برداشت کر۔ تکالیف سے گھبرا کر ہمت ہار دینا بہادروں کا کام نہیں
Ayah 31:18(31:18) ولاتصعر۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تصعیر (تفعیل) مصدر۔ تو (تکبر و نخوت کی وجہ سے) منہ نہ موڑ۔ الصعر کے اصل معنی گردن میں کجی کے ہیں اور اونٹوں کی ایک بیماری کا نام بھی ہے جب یہ لگتی ہے تو اونٹ کی گردن ٹیڑھی ہوجاتی ہے الصعرداء یاخذ البیعر فیکوی منہ عنقہ ویمیلہ۔ صعر ایک بیماری ہے جو اونٹ کو لگتی ہے تو اس سے اس کی گردن ٹیڑھی ہو کر جھک جاتی ہے۔
اسی بنا پر جب کوئی شخص غرور و نخوت سے اپنا منہ لوگوں کی طرف سے موڑ لیتا ہے تو عرب کہتے ہیں قد صعر خدہ اس مفہوم کی تائید میں عمرو بن جنی التغلبی کا شعر ہے۔
وکنا اذا الجبار صعر خدہ اقمنالہ من میلہ فتقوما
(جب کوئی جابر شخص ازراہ تکبر اپنا رخسار پھیر لیتا ہے تو ہم (بزور شمشیر) اس کی کجی کو دور کردیتے ہیں اور وہ درست ہوجاتا ہے)
خدک۔ مضاف مضاف الیہ۔ تیرا رخسار۔ خدود جمع۔ ولا تصعر خدک للناس اور تو لوگوں سے اپنا منہ مت پھیر۔ ای ولا تتکبر علیہم ان سے تکبر سے مت پیش آ۔
لاتمش۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ مشی (باب ضرب) مصدر۔ تمش اصل میں تمشی تھا۔ لاء نہی جازم فعل کی وجہ سے ی گرگئی۔ تو مت چل۔
مرحا۔ مرح یمرح (باب سمع) سے مصدر ہے۔ بہت زیادہ اور شدت کی خوشی سے اترانا۔ ناز سے چلنا۔ بوجہ حال منصوب ہے
مختال۔ اسم فاعل واحد مذکر حاضر اختیال (افتعال) مصدر خیل مادہ ناز سے چلنے والا۔ مغرور ۔ متکبر ، الخیلاء وہ تکبر جو کسی ایسی فضیلت کے تخیل پر مبنی ہو جو انسان اپنے اندر خیال کرتا ہو اور وہ دراصل اس میں نہ ہو۔
فخور : الفخر (باب نصر) کے معنی ان چیزوں پر اترانے کے ہیں جو انسان کے ذاتی جوہر سے خارج ہوں مثلا مال و جاہ وغیرہ اور اسے فخر بھی کہتے ہیں اور فخر کرنے والے کو فاخر کہا جتا ہے۔ فخور و فخیر مبالغہ کے صیغے ہیں بہت زیادہ اترانے والا۔
Ayah 31:19(31:19) اقصد : قصد یقصد (ضرب) قصد مصدر سے فعل امر واحد مذکر حاضر تو میانہ روی اختیار کر۔ تو اعتدال اختیار کر۔
مشیک مضاف مضاف الیہ۔ تیری چال۔
اغضض۔ فعل امر واحد مذکر حاضر غض یغض غض (نصر) مصدر سے۔ الغض کے معنی کمی کرنے کے ہیں خواہ نظر اور صورت میں ہو یا کسی برتن میں سے کچھ کم کرنے کی صورت میں ہو۔ واغضض من صوتک اور (برائے وقت) آواز نیچی رکھ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم (24:30) مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں۔
انکر۔ بہت زیادہ برا۔ بہت زیادہ قبیح۔ بہت زیادہ وحشیانہ۔ وحشت ناک۔ نکر۔ سے اسم تفضیل۔
لصوت الحمیر۔ میں لام تاکید کے لئے ہے۔ حمیر حمار کی جمع ہے گدھے (یہاں حضرت لقمان کا بیان ختم ہوا)
Ayah 31:20(31:20) الم تروا۔ ہمزہ استفہامیہ ہے۔ لم تروا مضارع نفی جحد بلم۔ کیا تم نے نہیں دیکھا۔
سخر۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ اس نے تابع کردیا۔ اس نے کام میں لگا دیا۔ کسی چیز کو جبرا وقہرا کسی خاص مقصد کے لئے مصروف کردینے کو تسخیر کہتے ہیں ۔ جیسے کذلک سخرنھا لکم لعلکم تشکرون (22:36) ہم نے یوں ان (جانوروں) کو تمہارے بس میں کردیا ہے۔ سخر تسخیر (تفعیل) مصدر۔ مسخر وہ ہے جسے کسی کام پر مجبور کرکے لگایا جائے۔ سخر مادہ۔ لیکن اسی مادہ سے باب سمع (سحر یسخر) سے ٹھٹھا کرنا کے معنی میں آتا ہے جیسے ان تسخروا منا فانا نسخر منکم کما تسخرون (11:38) اگر (آج) تم ہم پر ہنستے ہو تو جس طرح تم (ہم پر) ہنستے ہو (اسی طرح) ہم (ایک دن) تم پر ہنسیں گے۔
اسبغ۔ ماضی واحد مذکر غائب (سباغ (افعال) مصدر۔ اس نے مکمل کیا۔ اس نے پورا کردیا۔ درع سابغ پوری اور وسیع زرد جیسے ان اعمل سبغت (34:11) کشادہ اور پوری پوری زرہیں بناؤ۔ اس سے استعارہ کے طور پر اسباغ الوضوء (پورا وضو کرنا۔ اور اسباغ النعم (پورا پورا انعام کرنا) کا محاورہ استعمال ہوتا ہے۔
آیت ہذا میں اسبغ علیکم نعمہ اس نے تم پر اپنی نعمتیں تمام کردی ہیں۔
ظاہرۃ وباطنۃ۔ یعنی ظاہری و باطنی۔ محسوسہ و غیر محسوسہ۔ معروف وغیر معروف منصوب بوجہ نعمہ سے حال ہونے کے۔
ومن الناس۔ میں واؤ حالیہ ہے اور جملہ ضمیر اللہ تعالیٰ ماقبل سے موضع حال میں ہے ۔ ای الم تروا ان اللہ سبحانہ فعل ما فعل من الامور الدالۃ علی وحدۃ سبحانہ وتعالیٰ وقدرتہ عزوجل والحال من الناس من ینازع یخاصم فی اللہ۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ سبحانہ نے مختلف النوع نعمتیں عطا کیں جو اس کی قدرت و وحدت پر دلالت کرتی ہیں اور حال یہ ہے کہ لوگوں میں وہ شخص بھی جو نزاع اور جھگڑا کرتا ہے اللہ کے بارے میں (یعنی) اس کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے) فی اللہ ای فی توحیدہ۔
یجادل۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ مجادلۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ جدال بھی اس کا مصدر ہے۔ جھگڑا کرتا ہے۔
بغیر علم ولا ھدی ولا کتب منیر قاعدہ ہے کہ غیر کے بعد مستثنیٰ مجرور ہوتا ہے جیسے بغیر علم۔ اور جب فقرہ میں غیر کی تکرار درکار ہو تو اس کی بجائے لا استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اس کے بعد بھی مستثنیٰ مجرور ہوگا۔ جیسے ولا ھدی ولا کتب منیرہ۔ منیر صفت ہے کتب کی اور اپنے اعراب میں موصوف کے تابع ہوگی۔
اس کی ایک اور مثال قرآن مجید میں : غیر المغضوب علیہم ولا الضالین (1:7) ایک اور مثال : اعرفہ غیر حسود ولا ظلوم : میں اسے جانتا ہوں نہ یہ حاسیہ ہے اور نہ ظالم۔
منیر۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ انارۃ (افعال) مصدر۔ نور مادہ۔ باب افعال کے خواص میں سے تعدیہ ہے یعنی فعل کو متعدی بنانے کی صفت۔ جیسے خرج (وہ نکلا) سے اخرج (اس نے نکالا) اور دیگر خاصیت تعبیر ہے یعنی کسی چیز کو صاحب ماخذ بنانا۔
لہٰذا پہلی صورت میں منیر کا مطلب ہوگا روشن کرنے والا۔ اور دوسری صورت میں روشنی والا۔ خود روشن۔ لہٰذا منیرخود روشن ، روشن کرنے والی۔
Ayah 31:21(31:21) اولو کان الشیطن یدعوہم الی عذاب السعیر۔ ہمزہ استفہامیہ ہے ای ایتبعونہ (کیا وہ پھر بھی پیروی کرتے رہیں گے) واؤ حالیہ ہے اور جملہ لوکان ۔۔ السعیر۔ جملہ حالیہ ہے۔ یعنی کیا وہ پھر بھی اس کی پیروی کرتے رہیں گے درآں حالیکہ وہ شیطان ان کو بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کی طرف بلا رہا ہو۔ یدعوھم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب کی دو صورتیں ہیں :۔
(1) اگر اس کا مرجع وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں بل نتبع ما وجدوا علیہ اباء نا تو مطلب یہ ہوگا کہ شیطان ان کو اپنے آباء و اجداد کے مذہب کی طرف مائل کرکے عذاب جہنم کی طرف لے جا رہا ہے۔
(2) اور اگر اس کا مرجع آباء ہے تو مطلب ہوگا کہ کیا اس حال میں بھی کہ شیطان ان کے آباء و اجداد کو عذاب دوزخ کی طرف بلا رہا ہو وہ اپنے آباو اجداد کی پیروی کریں گے (ای ایتبعونھم) ۔
Ayah 31:22(31:22) من یسلم : من شرطیہ ہے۔ جو تابع کر دے۔
یسلم مضارع مجزوم بالشرط۔ اسلام مصدر۔ یہاں اسلام بمعنی تفویض ہے یعنی اپنے تمام امور کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کردینا۔ یعنی قضا و قدر الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کر دے جیسا کہ اور جگہ ہے اذ قال لہ ربہ اسلم قال اسلمت لرب العلمین۔ (2:121) جب اس سے اس کے پروردگار نے کہا کہ جھک جاؤ تو اس نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سرتسلیم خم کرتا ہوں۔
ومن یسلم وجھہ الی اللہ اور جو اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردے۔ یعنی جو اپنے تمام امور اس کو تفویض کردے۔
وھو محسن۔ جملہ حالیہ ہے۔ درآں حالیکہ وہ محسن ہو۔ محسن احسان سے اسم فاعل واحد مذکر ہے۔ فریضہ سے زیادہ ادا کرنے والا۔ ہر قسم کی خوبی پیدا کرنے والا۔
احسان کی تعریف حدیث جبرئیل میں ہے الاحسان ان تعبد اللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک۔ یعنی احسان اس کیفیت کو کہتے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرو گویا تم اس کے نور جمال کا مشاہدہ کر رہے ہو اور اگر تمہاری اس منزل پر رسائی نہیں تو کم از کم اتنا تصور تو پختہ ہو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ (ضیاء القرآن)
فقد استمسک میں فاء جواب شرط کے لئے ہے۔ استمسک ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب استتمساک (استفعال) مصدر۔ کسی چیز کو پکڑنا اور تھامے رکھنا۔ پس اس نے مضبوطی سے پکڑ لیا۔ یا تھام لیا۔
العروۃ الوثقی۔ موصوف وصفت۔ العروۃ ہر وہ چیز جسے پکڑ کر کوئی لٹک جائے کڑا۔ حلقہ۔ کسی چیز کا قبضہ یا دستہ۔ اس کی جمع عری ہے۔ عرو یا عری مادہ۔ اس مادہ سے مختلف مشتقات مختلف معانی میں آئے ہیں۔
الوثقی۔ اسم تفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے الاوثق واحد وثاقۃ مصدر (باب کرم) بمعنی بہت مضبوط۔ العروۃ الوثقی بہت مضبوط حلقہ یا کڑا۔ مطلب یہ ہے کہ جس نے قضا و قدر الٰہی کے سامنے سرتسلیم خم کردیا ۔ اور اپنے قلبن و قالب کو اس کے احکام کے آگے سرافگندہ کردیا۔ اور حسن عمل سے اس کی تائید بھی کی گویا اس نے ایک نہایت مضبوط حلقہ کو پکڑ لیا۔ اور تھام لیا۔ جس کے ٹوٹنے کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ دوسری جگہ فرمایا :۔
فمن یکفر بالطاغوت ویؤمن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقی (2:256) تو جو کوئی طاغوت سے کفر کرے اور اللہ پر ایمان لے آئے اس نے ایک بڑا مضبوط حلقہ تھام لیا۔
عاقبۃ الامور۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمام کاموں کا انجام۔
Ayah 31:23(31:23) لایحزنک۔ فعل نہی واحد مذکر غائب ک ضمیر واحد مذکر حاضر ۔ حزن سے باب نصر۔ وہ تجھے رنج نہ پہنچائے۔ وہ تجھے غمگین نہ کرے۔
مرجعہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا لوٹنا۔ رجوع کرنا۔
فننبئہم۔ فاء ترتیب کا ہے۔ ننبی مضارع جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ سو ہم ان کو ضرور بتلادیں گے۔
علیم بڑا دانا۔ خوب جاننے والا۔ علم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
ذات الصدور۔ ایسی بات۔ امر جس کا تعلق سینوں سے ہو ، بمعنی راز۔ بھید۔ فکر ۔ علیم بذات الصدور۔ سینے کے اندر چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والا۔ ذات ، ذو کا مؤنث ہے ہمیشہ بطور مضاف استعمال ہوتا ہے۔
نمتعھم۔ مضارع جمع متکلم تمتیع (تفعیل) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ ہم ان کو فائدہ پہنچاتے ہیں (دنیاوی زندگی میں) متع مادہ اس سے متاع ہے۔ یعنی وہ سامان جو کام میں آتا ہے جس سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔
قلیلا۔ صفت مشبہ۔ کم (مدت کے لئے) تھوڑے (دنوں کے لئے)
نضطرہم۔ مضارع جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اضطرار (افتعال) مصدر۔ ضرر مادہ۔ باب افتعال میں کلمہ کی ت کو ط سے بدلا گیا ہے۔ الاضطرار کے اصل معنی کسی کو نقصان دہ کام پر مجبور کرنے کے ہیں۔ ثم نضطرہم الی عذاب غلیظ پھر ہم ان کو عذاب شدید کی طرف مجبور کرکے لے جائیں گے۔ یا ان کو عذاب شدید بھگتنیکے لئے مجبور کردیں گے۔ نا چار کردیں گے۔
عذاب غلیظ۔ غلیظ غلظۃ سے صفت مشبہ ہے۔ سخت۔ شدید۔ الغلظۃ کے اصل معنی موٹاپا یا گاڑھا پن کے ہیں لیکن استعارہ کے طور پر بمونی سخت یا شدید میں استعمال ہوتا ہے مثلاً جاھد الکفار والمنفقین واغلظ علیہم (9:73) کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو۔
Ayahs 31:24–26(31:26) الغنی۔ بےنیاز ۔ غیر محتاج۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی میں سے ہے۔
الحمید۔ حمد سے (فعیل) کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور بمعنی مفعول یعنی محمود ہے۔ ستودہ۔ سراہا ہوا۔ تعریف کیا ہوا۔ سزاوارحمد۔
Ayah 31:27(31:27) لو ان ما فی الارض من شجرۃ اقلام والبحر یمدہ من بعدہ سبعۃ ابحر۔ لو حرف شرط۔ ان مشبہ بفعل ما موصولہ فی الارض صلہ۔ صلہ اور موصول مل کر اسم ان ۔ اقلام خبر۔ من شجرۃ بیان ما۔ واؤ حالیہ البحر مبتداء (اس میں الف لام عہد کا) یا خبر کے لئے بھی ہوسکتا ہے۔ یمدہ فعل ہ ضمیر مفعول جس کا مرجع البحر ہے۔ سبعۃ ابحر عدد معدود مل کر یمدہ کا فاعل ۔ فعل فاعل مفعول مل کر مبتداء کی خبر من بعدہ متعلق خبر۔ مکمل جملہ حال ہے موصول کا بعدہ میں ہ ضمیر کا مرجع البحر ہے۔ لیکن اس کے بعد سے مراد ہے اس کے ختم ہوجانے کے بعد۔
یمدہ۔ مضارع واحد مذکر غائب ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب مد یمد مدا دوات میں روشنائی ڈالنا۔ زیادہ کرنا۔ یعنی سات دوسرے سمندر۔ پہلے کے ختم ہوجانے کے بعد اس میں روشنائی بھر دیں۔
ترجمہ یوں ہوگا :۔ اور اگر زمین میں جتنے درخت ہیں قلمیں بن جائیں اور سمندر سیاہی بن جائیں (اور اس کے ختم ہونے پر) اور سات سمندر اس کو (مزید) سیاہی مہیا کریں تو پھر بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی۔
یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ سبعۃ ابحر (سات سمندر) کثرت کو ظاہر کرنے کے لئے ہے نہ کہ اس سے مخصوص تعداد مقصود ہے یعنی اگر کئی ایسے سمندر اور بھی شامل ہوجائیں تو پھر بھی کلمات اللہ ختم نہ ہوں۔
ما نفدت کلمت اللہ۔ یہ جواب شرط ہے لو کے جواب میں۔ ما نافیہ ہے نفدت ماضی کا صیغہ واحد ت مؤنث غائب ہے۔ نفاذ مصدر (باب سمع) ختم نہ ہوں۔ کلمت اللہ مضاف مضاف الیہ۔ کلمات سے مراد معلومات الٰہیہ، عجائب قدرت و حکمت۔
Ayah 31:28(31:28) ما بعثکم و۔ مضاف مضاف الیہ ۔ تمہارا زندہ کرنا۔ تمہارا جلانا۔ تمہارا اٹھانا۔ موت کے بعد دوبارہ زندہ اٹھا کھڑا کرنا۔
کنفس واحدۃ۔ کاف تشبیہ کے لئے ہے ایک نفس کی مانند۔ یعنی تم سب کو پیدا کرنا۔ اور مارنے کے بعد پھر زندہ کرنا۔ اللہ کے نزدیک ایک نفس کے پیدا کرنے اور مارنے اور زندہ کرنے کے برابر ہے۔ قلت و کثرت، واحد و جمع، صغرو کبرسب اس کے سامنے برابر ہیں
یولج۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ایلاج (افعال) مصدر وہ داخل کرتا ہے۔ ولج مادہ۔ الولوج۔ ولج یلج (باب ضرب) کے معنی کسی تنگ جگہ میں داخل ہونے کے ہیں۔ مثلا قرآن مجید میں آیا ہے حتی یلج الجمل فی سم الخیاط (7:40) یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے (نہ) نکل جائے۔
سخر۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے تسخیر کر رکھا ہے۔ اس نے کام میں لگا رکھا ہے۔
کل : ای کل واحد من الشمس والقمر۔ سورج اور چاند میں سے ہر ایک ۔
یجری۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ جری مصدر (باب ضرب) چل رہا ہے۔
الی اجل مسمی۔ ایک مقررہ وقت تک۔ الی وقت معلوم۔ اس وقت تک جو اس ذات کو معلوم ہے۔
وان اللہ بما تعملون خبیر۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب عملوں کی پوری طرح خبر رکھتا ہے۔ اس جملہ کا عطف وان اللہ ۔۔ القمر پر ہے۔ یعنی اور کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب عملوں کی پوری خبر رکھتا ہے۔
Ayahs 31:29–30(31:30) ذلک۔ مندرجہ بالا صفات یعنی دن اور رات کا سلسلہ ۔ چاند اور سورج کی اپنے اپنے متعین مدار میں گردش۔
بان اللہ۔ یہ مظاہر اسی سبب سے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات برحق ہے۔ بالفاظ صاحب تفسیر ماجدی۔ واضب الوجود صرف اسی کی ذات ۔ وجود حقیقی صرف اسی ذات کا صفات علو و کبر یائی سے متصف صرف وہی ۔ معبودیت والوہیت کا مستحق صرف وہی۔
العلی : علو سے مشتق ہے العلو کسی چیز کے بلند ترین حصہ کو کہتے ہیں یہ سفل کی ضد ہے۔ علا یعلو علو (باب نصر) بلند ہونا۔ عالی (صفت فاعلی) بلند۔ علا (فعل) کا استعمال زیادہ تر کسی جگہ کے یا جسم کے بلند ہونے پر ہوتا ہے۔ مثلاً عالیہم ثیاب سندس (76:21) ان کے بدنوں پر دیبا کے کپڑے ہوں گے۔
یا یہ عموما مذموم معنوں میں آیا ہے۔ مثلاً ان فرعون علا فی الارض (28:4) فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔ لیکن علی یعلی علاء (باب سمع) سے مستحسن معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ العلی۔ علی یعلی سے مشتق ہے اور فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں بلند مرتبت۔ رفیع القدر۔ جب یہ اللہ تعالیٰ کی صفت واقع ہو تو اس باب سے آتا ہے۔ العلی اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی میں سے ہے۔
الکبیر۔ کبر یکبر (کرم) سے فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بہت بڑا ۔ بڑے بلند مرتبے والا۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی سے ہے۔ یہ واحد ہے اس کی جمع کبائر ہے۔
Ayah 31:31(31:31) صبار : صبر سے فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بڑا صبر کرنے والا۔ بڑا تحمل کرنے والا۔
شکور۔ بڑا شکر گزار۔ بڑا احسان ماننے والا۔ شکر سے فعول کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ جب اس کا استعمال خدا تعالیٰ کی صفات میں ہو تو اس کے معنی ہوں گے ! بڑا قدردان تھوڑے کام پر زیادہ ثواب دینے والا۔ شکر یشکر (نصر) سے مصدر بھی ہے شکور
یہاں مومن کی صفت میں سبار شکور آیا ہے کہ وہی صفات صبروشکر میں کامل ہوتا ہی ان دو صفات کی تخصیص اس پر موقعہ پر اس لئے ہے کہ بحری سفر و سیاحت میں ان دونوں صفات کے ظہور کا موقع خوب ہوتا ہے (الماجدی)
Ayah 31:32(31:32) غشیہم : غشی یغشی (سمع) غشاء وغشاوۃ وغشیان مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اس نے ان کو ڈھانپ لیا۔ وہ ان پر چھا گیا۔ یا ان پر اپڑا ۔ ضمیر فاعل موج کے لئے ہے (اور جب سمندر کی موج ان کو ڈھانپ لیتی ہے) ۔
کا لظلل۔ کاف تشبیہ ہا ہے الظلل الظللۃ کی جمع ہے۔ الظلال بھی جمع ہے شامیانہ۔ سایہ دار۔ چھاؤں۔ ظل سایہ ۔ پرچھائیں۔ ظل سے بھی جمع ظلال ہے۔
موج : ماج یموج موج سے مصدر بھی ہے اور اسم مفرد بھی۔ لہر۔ اس کی جمع امواج ہے۔
واذا غشیہم موج کا لظلل۔ جب (سمندر کی) موجیں ان کو سائبانوں کی طرح ڈھانپ لیتی ہیں۔
دعوا : دعاء سے ماضی جمع مذکر غائب۔ دعو اصل میں دعو وا تھا۔ واؤ متحرک ماقبل اس کا مفتوح واؤ کو الف سے بدلا۔ اب الف اور واؤ دو ساکن جمع ہوگئے اس لئے الف حذف ہوگیا۔ اور دعوا رہ گیا۔ انہوں نے پکارا ۔ (وہ پکارنے لگتے ہیں) ۔
مخلصین اخلاص سے۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب بوجہ۔ ضمیر فاعل دعوا سے حال ہونے کے۔ اخلاص کے لگوی معنی ہیں کسی چیز کو ہر ممکن ملاوٹ سے پاک و صاف کردیتا۔ اور اصطلاح شرع میں اخلاص کے معنی یہ ہیں کہ محض خداوند تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے عمل کیا جائے اور اس کے علاوہ کسی اور جذبہ کی اس میں آمیزش نہ ہو۔
الدین۔ اطاعت، شریعت کی پابندی۔ منصوب بوجہ مخلصین کے مفعول ہونے کے لہ میں ضمیر واحد مذکر غائب اللہ کی طرف راجع ہے۔ مخلصین لہ الدین۔ اپنی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرتے ہوئے یعنی خالصۃ اللہ تعالیٰ کے ہی اطاعت گزار ہو کر اس کو پکارتے ہیں۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے الا الذین تابوا واصلحوا واعتصموا باللہ واخلصوا دینھم للہ فاولئک مع المؤمنین (4:146) مگر جنہوں نے توبہ کی اور اپنی حالت کو درست کیا اور خدا کی رسی کو مضبوط پکڑا۔ اور خالص خدا کے اطاعت گزار ہوئے تو ایسے لوگو مؤمنوں کے زمرہ میں ہوں گے۔
نجہم : نجی ینجی تنجیۃ (تفعیل) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہمضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اسنے ان کو نجات بخشی۔
منھم میں من تبعیضیہ ہے یعنی ان میں سے بعض۔ ان میں سے کچھ۔
مقتصد۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اقتصاد (افتعال) مصدر۔ قصد مادہ۔ اعتدال کی راہ پر چلنے والا۔ میانہ رو۔ متوسط۔ راہ راست پر چلنے والا۔ القصد قصد یقصد (ضرب) راستہکا سیدھا ہونا۔ محاورہ ہے قصدت قصدہ میں اس کی طرف سیدھا گیا۔ واقصد فی مشیک (31:19) اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔
اقتصاد کنایۃ ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے جو نہ بالکل محمود ہو اور نہ بالکل مذموم ہو بلکہ ان کے درمیان ہو۔ مثلا فمنہم ظالم لنفسہ ومنھم مقتصد (35:32) تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور کچھ درمیانہ رو ہیں۔
یہاں مراد یہ ہے کہ جب طوفان میں گھرے ہو خالصۃ اللہ کو مدد کے لئے پکارتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو ساحل سمندر پر بامن و امان لے آتا ہے تو ان میں سے بعض تو راست روی پر قائم رہتے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک تسلیم کرتے ہیں اور مشکل کشا ماننے میں ثابت قدم رہتے ہیں لیکن بعض دوسرے اپنے قول سے پھرجاتے ہیں اور شرک کی طرف عود کر جاتے ہیں۔
وما یجحد۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ جحد وجحود مصدر (باب فتح) وہ انکار نہیں کرتا ہے۔
کل ختار کفور : کل اسم ہے اور مضاف استعمال ہوتا ہے اور مضاف الیہ کے تمام افراد کے استغراق کے لئے آتا ہے مثلا کل نفس ذائقۃ الموت (3:185) یا آیۃ ہذا۔ کل ختار۔ ختر یختر (ضرب) ختر مصدر سے بروزن فعال مبالغہ کا صیغہ ہے۔ ختر۔ سخت بےوفائی کرنا۔ بری طرح عہد شکنی کرنا۔
ختار عہد شکن۔ قول کا جھوٹا۔ مجرور بوجہ مضاف الیہ ہے۔ کفرر : کفر یکفر (باب نصر) کفر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ ناشکرا۔ کافر۔ منکر یہاں ناشکرا مراد ہے۔
Ayah 31:33(31:33) اتقوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ اتقی یتقی اتقاء (افتعال) مصدر سے ۔ وقی مادہ۔ تم ڈرو۔ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ تم تقوی اختیار کرو۔
اخشوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ خشی یخشی (سمع) خشیۃ مصدر تم ڈرو۔
لایجزی۔ مضارع منفی۔ واحد مذکر غائب۔ وہ بدلہ نہ دے سکے گا۔ جزی یجزی (ضرب) جزاء مصدر۔ کسی کا بدلہ دینا۔ جزی مادہ۔
والد عن ولدہ (نہ بدلہ دے سکے گا) (اس دن) کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے۔
مولود۔ اسم مفعول ۔ مذکر ۔ واحد۔ ولادۃ مصدر۔ باب ضرب۔ جنا ہوا۔ بیٹا یا بیٹی
جاز جزاء سے اسم فاعل واحد مذکر۔ کفایت کرنے والا۔ بدلہ دینے والا۔ کام آنے والا۔
شیئا۔ کوئی چیز۔ (یعنی کچھ بھی بدلہ نہ دے سے گا) ۔
لا تغرنکم۔ فعل نہی بانون ثقیلہ۔ صیغہ واحد مؤنث غائب۔ (جس کا مرجع الحیوۃ الدنیا ہے) تم کو بہکا نہ دے۔ تم کو دھوکہ نہ دے۔ تم کو فریب میں نہ ڈالے۔ تم کو غلط طمع نہ دلائے غر یغر غرور (باب نصر) ۔
باللہ : ای فی امر اللہ۔ اللہ کے باب میں اللہ کے بارے میں ۔ اللہ کے معاملہ میں۔ مثلا کسی کو گناہ پر اس امید پر ورغلانا کہ خدا غفور الرحیم ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
الغرور۔ صیغہ صفت دھوکہ دینے والا۔ جھوٹی امید دلانے والا یہ مال ہو یا دنیا۔ خواہش نفس ہو یا شیطان۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ال ۔ یہاں جنس کا ہو اور افراد کے خصائص کا استغراق کرنے کے واسطے لایا گیا ہے۔ اور یہ کل کا قایم مقام ہے یعنی وہ دھوکہ باز جو فریب دہی کے تمام رموز میں کامل ہے یعنی شیطان۔ اس کی مثال قرآن مجید میں ذلک الکتب (2:2) ہوسکتی ہے۔ یعنی وہ کتاب جو ہدایت میں کامل اور تمام نازل شدہ کتابوں کی صفتوں اور خصوصیتوں کی جامع ہے۔
صاحب تفہیم القرآن فرماتے ہیں۔ کہ الغرور سے مراد شیطان بھی ہوسکتا ہے۔ کوئی انسان یا انسانوں کا گروہ بھی ہوسکتا ہے۔ انسان کا اپنا نفس بھی وہسکتا ہے ۔ اور کوئی دوسری چیز بھی ہوسکتی ہے۔ ۔۔ جس شخص نے بھی خاص طور پر جس ذریعہ سے بھی وہ اصل فریب کھایا ہو ۔ جس کے اثر سے اس کی زندگی کا رخ صحیح سمت سے غلط سمت میں مڑ گیا۔ وہی اس کے لئے الغرور ہے۔
Ayah 31:34(31:34) الساعۃ : ای القیامۃ۔
ینزل۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ نزل ینزل تنزیل (تفعیل) سے وہ نازل کرتا ہے۔ وہ اتارتا ہے (وہ برساتا ہے) ۔
الغیث۔ بارش۔ مینہ۔ غاث یغیث (ضرب) فعل متعدی ہے۔ غاثنی اس نے مجھ پر بارش کی یہ غیث سے ہے جو اجوف یائی ہے اس کے مشابہ لفظ غوث ہے (مددگار) جو اجوف وادی ہے۔ مادہ غوث ہے ماضی و مضارع اغاث یغیث اغاثۃ آتا ہے (باب افعال) اور باب استفعال میں غیث اور غوث کی ظاہری شکل ایک طرح کی ہوجاتی ہے استغاث اس نے مدد چاہی۔ یا اس نے پانی مانگا
امام راغب نے لکھا ہے :۔ کہ آیت ان یستغیثوا یغاثوا بماء کالمھل (18:29) میں دونوں معنی کا احتمال ہے۔ یعنی جب دوزخی مدد طلب کریں گے۔ یا پانی مانگیں گے تو پگھلے ہوئے تانبے کا پانی دے کر ان کی فریاد رسی کی جائے گی۔ یا پگھلے ہوئے تانبے کا پانی ان کو دیا جائے گا۔
ما تدری۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب دری یدری درایۃ (باب ضرب) مصدر سے بمعنی جاننا۔ وہ نہیں جانتی۔ ضمیر فاعل نفس کی طرف راجع ہے۔ کوئی شخص نہیں جانتا۔
ماذا۔ کیا چیز ہے۔ کیا ہے یہ۔ کیا۔ اس کی لفظی ساخت میں اختلاف ہے :۔
(1) بعض کے نزدیک یہ بسیط ہے۔ اور ماذا پورا اسم جنس ہے یا موصول ہے اور الذی کا ہم معنی ہے۔
(2) دوسرے اسے مرکب کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک ۔ ما استفہام اور ذا موصولہ سے مرکب ہے۔
(3) ما استفہامیہ ہے اور ذا اسم اشارہ ہے۔
(4) ما زائدہ اور ذا اسم اشارہ ہے۔
(5) ما استفہامیہ اور ذا زائدہ ہے۔
تکسب : کسب یکسب (ضرب) کسب سے مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ وہ کماتی ہے۔ وہ کمائے گی۔